Al-Qiyaama 75:15

Al-Qiyaama · from ayah 15

75:15

وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗ ۟ؕوَّلَوۡ اَلۡقٰى مَعَاذِيۡرَهٗؕ

اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Even if he presents his excuses.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:15

چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چاہے وہ کتنے بہانے بنائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لا ڈالے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگرچہ وہ اپنے تمام عذر پیش کرے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگرچہ وہ اپنے بہانے پیش کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

خواہ وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگرچہ کتنی ہی بہانے پیش کرے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگرچہ وہ کتنے ہی بہانے (کیوں نہ) پیش کرے

— مولانا اسحاق مدنی

اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگرچہ عذر و معذرت کرتا رہے

— محترمہ رفعت اعجاز

even though he might make up excuses.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

even though he may offer his excuses.

— Muhammad Taqi Usmani

even though he may offer his excuses.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Though he may put forth his excuses.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Even if he presents his excuses.

— Saheeh International

even though they make excuses.

— Muhammad Sarwar

Though he puts forth his excuses.

— Muhammad Habib Shakir

Although he may put forth his pleas.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 75:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقِیٰمَة 10 یعنی آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھنے کی غرض در حقیقت یہ نہیں ہوگی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے، بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہوگا کہ انصاف کے تقاضے بر سر عدالت جرم ثبوت پیش کیے بغیر پورے نہیں ہوتے۔ ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے۔ اپنے آپ کو جاننے کے لیے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ کیا ہے۔ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایک چور لاکھ حیلے اپنی چوری چھپانے کے لیے اختیار کرسکتا ہے، مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے۔ ایک گمراہ آدمی ہزار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ 14؀ۙوَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ بصیر اور بصیرة کے معنے دیکھنے والے کے بھی آتے ہیں اور بصیرة کے معنے حجت کے بھی آتے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے قد جائکم بصائر من ربکم اسمیں بصائر بصیرة کی جمع ہے اور معنی اسکے حجت کے ہیں اور معاذیر معذار بمعنے عذر کی جمع ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ عدالت کے ضابطہ کی رو سے انسان کے سارے اعمال محشر میں اس کو ایک ایک کرکے بتلائے جاویں گے مگر درحقیقت اس کو اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ اپنے اعمال کو خوب جانتا ہے خود اس کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کیا کام کئے، نیز یہ کہ محشر میں تمام اپنے اعمال نیک وبد کا مشادہ بھی اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’مَعَاذِیْرَہٗ‘ جمع ہے ’مَعْذِرَۃٗ‘ کی۔ یہ دراصل ’مَعَاذِرُ‘ ہے۔ اس میں ’ی‘ زیادہ ہو گئی ہے جس طرح ’مناکیر‘ میں زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کے معنی جھوٹے عذرات اور لاطائل بہانوں کے ہیں۔ عربی میں مثل ہے ’اَلمعَاذِرُ مکاذب‘ بعضوں نے اس کو ’معذار‘ کی جمع بتایا ہے جس کے معنی اہل یمن کی بولی میں پردہ کے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ رائے صحیح نہیں ہے۔ قرآن قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے، اہل یمن کی بولی میں نہیں اترا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک بہانہ کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اس کے لئے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: مطلب یہ ہے کہ انسان خود بھی جانتا ہے کہ اس نے کیا گناہ کیے ہیں، اگرچہ وہ ان کا جواز تلاش کرنے کے لیے بہانوں اور تاویلوں کا سہارا لے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–15

16 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے (اور یہ کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا، یہ سب بہانے ہیں۔ " لیکن اکثر مفسرین نے اس کا تعلق (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) 75 ۔ القیامۃ :13) سے رکھا ہے یعنی جتلانے پر بھی موقوف نہیں۔ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا گو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے۔ " وَاللّٰہُ رَبَّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ " بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا ہو اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے۔ گو دوسروں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ۔ } ”اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔“ ظاہر ہے دنیا میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چرب زبان شخص خود ساختہ عذر پیش کر کے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے ممکن ہے وہ وقتی طور پر متعلقہ لوگوں کو مطمئن کرلے لیکن اس کا ضمیر اس کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اب آئندہ آیات میں خطاب کا رخ حضور ﷺ کی طرف ہوگیا ہے اور ساتھ ہی کلام کا صوتی آہنگ بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ ان آیات کے آخر میں قُــرْاٰنَــہٗ ‘ بَیَانَہٗ جیسے الفاظ آرہے ہیں۔ جیسے کہ آغاز میں ذکر ہوا تھا ‘ یہ سورت اپنے اسلوب اور صوتی آہنگ کے اعتبار سے چھوٹے چھوٹے کئی حصوں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

11 یعنی یہ تحریری اعمال نامہ تو انسان کے سامنے صرف اس لیے رکھا جائے گا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے اچھے یا برے کیے ہوئے اعمال کا پورا پتا ہوتا ہے۔ اور وہ جو حیلے بہانے تراشتا ہے تو محض اس لیے کہ انسان اپنا قصور ماننے کو قطعاً تیار نہیں ہوتا۔ یہ بیسیوں باتیں بنا سکتا ہے۔ حیلے بہانے بنا سکتا ہے۔ مگر اپنا قصور ماننے سے اس کی انا مجروح ہوتی ہے اور وہ اسے موت کے مترادف سمجھتا ہے۔ دنیا میں بھی اس کا یہی حال ہے اور آخرت میں بھی بعض عادی مجرم ایسی باتیں بنانے کی کوشش کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

6۔ (محض اپنے مقتضائے طبیعت سے) مطلب یہ ہوا کہ ہر انسان تو اپنی حالت پر خود گواہ ہوگا، اور بغیر جتلائے ہوئے بھی اسے اپنا حال خوب معلوم ہوگا، یہ اور بات ہے کہ حیلے اور حجت بھی اپنے بچاؤ کے تراشتا رہے۔ یہ ماجرا تو روز حشر کا بیان ہورہا ہے لیکن یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے کہ آج اور اس وقت بھی انسان حیلے حوالے کتنے ہی پیش کرتا رہے، اپنے دل میں حقیقت حال کو خوب سمجھے رہتا ہے اور اس کا ضمیر خود اس کے جرائم پر گواہ رہتا ہے۔ (آیت) ” بصیرۃ “۔ یا تو حجت کے مفہوم میں ہے اے ھو حجۃ علی نفسہ (مدارک) اے حجۃ بینۃ واقعۃ علی نفسہ (روح) (آیت) ” علی نفسہ بصیرۃ “۔ لفظ علی سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ اعمال سوء ہی پر مطلع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–15

بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ، انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا مگر اس رکھنے کی غرض درحقیقت یہ نہیں ہوگی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہوگا کہ انصاف کے تقاضے برسر عدالت جرم کا ثبوت پیش کئے بغیر پورے نہیں ہوتے ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے ؟ اپنے آپ کو جاننے کے لئے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ خود کیا ہے ؟ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکا دے سکتا ہے لیکن اسے خود کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، ایک چور لاکھ حیلے بہانے اپنی چوری چھپانے کے لئے اختیار کرسکتا ہے مگر اس کے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں کہ وہ چور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو القی معاذیرہ . معاذیر ‘ معذار کی جمع ہے یعنی لوگ پردہ کو معذار کہتے ہیں۔ ضحاک اور سدی نے اسی لیے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ انسان خواہ اپنے اعمال کو چھپانے کے لیے پردے چھوڑ کر اور دروازے بند کر کے کوئی کام کرے ‘ سود مند نہ ہوگا ‘ اسکا نفس خود اسکے خلاف شہادت دے گا جو فرشتہ مؤکل ہے وہ بھی شاہد ہوگا اور اللہ تو ہر چیز کا حاضر و ناظر ہی ہے۔ مجاہد ‘ قتادہ اور سعید بن جبیر نے اس طرح مطلب بیان کیا کہ انسان کے اعضاء اور ملائکہ اسکے اعمال پر شہادت دینگے ‘ خواہ انسان کچھ ہی عذر پیش کرے اور کتنا ہی جھگڑے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ دوسری آیت : لا تنفع الظالمین معذرتھم کا بھی یہی مطلب ہے۔ فراء نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–15

(13۔ 15) قیامت کے دن انسان کو سب اس کی اگلی پچھلی نیکیاں جتلا دے گا بلکہ عدی بن ربیع خود اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ اپنے بارے میں خوب بہانے یا معذرتیں پیش کرے یا یہ کہ اپنی حالت سے غافل اور دوسروں کی حالت سے واقف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–19

(1) لاتحرک بہ لسانک…: ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اترتے وقت بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ)”تو اس کیساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے کہ اسے جلدی حاصل کرے۔ بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ ﷺ کا) اس کو پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔”ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔”فاذا قرانہ فاتبع قرآن ہ“ تو جب ہم اسے پڑھیں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔”ثم ان علینا بیانہ“ پھر یہ ہمارے ذمے ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

بل الانسان علی نفسہ بصیرہ، ولوالقی معاذیرہ۔ بل الانسان علی نفسہ بصیرہ۔ اخفش نے کہا، انسان کو خود اپنی ذات پر نظر رکھنے والابنادیا جس طرح تو خود کسی کو کہتا ہے تو اپنی ذات پر دلیل ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، بصیرہ کا معنی گواہ ہے اس سے مراد ہے کہ اس کے اعضاء اسپر گواہی دیں گے ہاتھ گواہی دیں گے جس کو اس نے ان ہاتھوں سے پکڑا ہوگا پاؤں گواہی دیں گے جن کے ساتھ وہ چل کر گیا تھا آنکھیں گواہی دیں گی جن کے ساتھ اس نے دیکھا ہوگا بصیرہ کا معنی گواہ ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا : کان علی ذی العقل عینا بصیرہ، بمقعدہ او منظر ھو ناظرہ، یحاذرحتی یحسب الناس کلھم، من الخوف لاتخفی علیھم سرائرہ۔ گویا دانش مند پر آنکھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

9۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو القی معاذیرہ کہ وہ اپنے عیبوں کو چھپائے گا اہل یمن کی لغت میں اس کا پردہ اور ستر ہے۔ 10۔ طیالسی (رح) واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری المصاحف والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معاً دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن نازل ہوتے وقت اس کی بڑی شدت کے ساتھ مشق کرتے تھے۔ اور آپ اپنی زبان اور ہونٹوں کو تیزی سے حرکت دیتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ کوئی لفظ اس سے چھوٹ نہ جائے۔ اور آپ ﷺ اسے حفظ یاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗؕ0015﴾ (اگرچہ حیلے بہانے پیش کرے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب معاذیر اعذار کے معنی میں ہو اور یہ معنی ﴿ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ ﴾ کے موافق ہے اور بعض حضرات نے معاذیر کا معنی مستور جمع ستر بمعنی پردہ کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان اگرچہ پردہ کے پیچھے کوئی عمل کرے اور یوں سمجھے کہ کسی نے دیکھا ہی نہیں جو میرے عمل کی گواہی دے تو یہ اس کی بیوقوفی ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ خود اپنے عمل کا گواہ بنے گا اور اس کا اقراری ہوگا۔ قال صاحب الروح قال السدی والضحاک المعاذیر الستور بلغة الیمن واحدھا معذار وحکی خلف عن الزجاج ای ولو ارخی ستورہ والمعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

7:۔ ” ینبؤ الانسان “ ماقدم، جو کچھ اس نے کیا ہے اور اپنے لیے آگے بھیجا ہے۔ اچھا ہو یا برا۔ واخر، جو اس نے ترک کیا، خیر ہو یا شر۔ یا وہ طریقہ حسنہ یا سیئہ جو اس نے جاری کیا جس پر اس کی موت کے بعد بھی عمل ہوتا رہا (قرطبی، بیضاوی، کبیر) ۔ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال حسنہ وسیئہ سے آگاہ کردیا جائے گا۔ ” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے یعنی اس دن کسی کو اس کے اعمال کی خبر دینے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی، بلکہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود بخود عالم اور ان پر شاہد ہوگا۔ اگرچہ وہ ہر معذرت اور اپنے بچاؤ کا ہر بہانہ بھی پیش کردے یعنی ہر ممکن طریق سے اپنے بچاؤ کی کوشش کرنے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَہٗ۝ 15 ۭ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ ۔ (القیامۃ : 14، 15) (بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔ اگرچہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔ ) مشکل الفاظ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ کا معنی ہے شَاہِدٌعَلٰی نَفْسِہٖ ” وہ اپنے اوپر خود گواہ ہے۔ “ مَعَاذِیْرَجمع ہے مَعَذِرَۃٍ کی۔ یہ دراصل مَعَاذِرٌ ہے۔ اس میں مناکیر کی طرح ” ی “ زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے معنی ہیں جھوٹے عذرات اور فضول بہانے۔ بعض لوگوں نے اس کو معذار کی جمع بتایا ہے، جس کے معنی اہل یمن کی زبان میں پردہ کے ہیں۔ لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ قرآن کریم قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے، اہل یمن کی بولی میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–15

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہو رہا ہے اس دن لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔ پہلی مرتبہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اس دن زمین و آسمانوں کو بدل دے گا۔ ( ابراہیم : 48) اسرافیل کے دوسری مرتبہ صورپھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر فرد محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائے گا جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ (یٰس : 51) رب ذوالجلال کی تشریف آوری سے پہلے جنتیوں اور جہنمیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا، ملائکہ جہنمیوں کو بڑی بڑی زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر محشر کے میدان میں لاکھڑا کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15 : وَّ لَوْاَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ (گو اپنے حیلے پیش لاوے) اگرچہ وہ اپنے پردے چھوڑ دے۔ المعذارؔ : پردہ۔ ایک قول : اگرچہ وہ تمام معذرتیں پیش کردے وہ اس کی طرف سے قبول نہ ہونگی اس پر وہ مقرر کردیا جائے گا۔ جو اس کے اعذار کی تکذیب کرے گا۔ نحو : المعاذیرؔ یہ جمع معذرت نہیں ہے کیونکہ اس کی جمع تو معاذر آتی ہے بلکہ یہ اسم جمع ہے اور اس کی مثال المناکیر ہے جو کہ المنکر سے اسم جمع ہے نہ کہ جمع۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

14 ۔” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ “ عکرمہ ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں اس کا معنی ہے بلکہ انسان اس کے نفس پر اس کے نفس سے نگران ہیں جو اس کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کے خلاف اس کے عمل کی گواہی دیں گے اور وہ اس کے کان اور آنکھیں اور اعضاء ہیں اور ھاء داخل ہے بصیرۃ پر اس لئے ک ہانسان سے مراد یہاں اس کے اعضاء ہیں اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا معنی ہو بلکہ انسان اس کے نفس یعنی اس کے اعضاء کے لئے دیکھنے والے ہیں۔ پس حرف جر کو حذف کردیا گیا جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم “ ہے یعنی لاولاد کم اور ممکن ہے کہ وہ صفت ہو مونث اسم کی یعنی ” بل الانسان علی نفسہ عین بصیرۃ “…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ ) ، خواہ معذرت پیش کرے۔ کیونکہ یہ ایسی معذرتیں ہوں گی جو قبول نہ ہوں گی بلکہ وہ اپنے عمل کا اقرار کرے گا اور اس سے اقرار کرایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اقرا کتابک بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ بنی اسرائیل 14) ۔ اپنا اعمال نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا محاسب کافی ہے بندہ خواہ اپنے عمل کا انکار یا اپنے عمل پر معذرت پیش کرے، اس کا انکار اور اعتذار سے کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ اس کے کان، اس کی آنکھیں اور اس کے تمام جوارح جن کے ذریعے سے وہ عمل کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے نیز رضامندی طلب کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہوگیا۔ (فیومئذ لاینفع الذین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–40

قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

15 انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے : سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان اپنے آپ کو خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے کہ اس کیلئے اس کے اپنے قلب و ضمیر کی اس کی اپنی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی ‘ سو دنیا میں بھی کہ وہ اپنے کیے سے نواقف نہیں اور قیامت میں بھی کہ اپنآ سب کچھ کیا دھرا اسے یاد بھی ہوگا ‘ اور وہاں اس کو حاضر و موجود بھی پائے گا۔ " ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا یظلم ربک احد سو انبائ " یعنی خبر دینے اور اشہاد یعنی گواہ رکھنے کی کارروائی تو ایک طرح سے ضابطے کی کارروائی کی تکمیل ہوگی ‘ ورنہ انسان کو اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ وہ اپنے کیے سے خود ہی بخوبی آگاہ اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–15

قیامت کا منظر تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا یہ بہانے میں (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:15) ولو القی معاذیرۃ : واؤ وصلیہ، لو بمعنی اگرچہ۔ خواہ ۔ القی۔ ماضی واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل الانسان کی طرف راجع ہے) القاء (افعال) مصدر بمعنی ڈالنا۔ معاذیر جمع معذرۃ واحد۔ مصدر بمعنی عذر۔ معذرت۔ عذر اور عذر ایسی بات جس سے قصور پر گرفت نہ ہو۔ عذر تین طرح کا ہوتا ہے :۔ (1) ارتکاب جرم سے انکار کردینا۔ (2) ارتکاب جرم کی کوئی ایسی وجہ بیان کرنا جس سے جرم کی سزا سے بچ جائے۔ (3) اقرار جرم کے بعد آئندہ جرم نہ کرنے کا وعدہ کرنا۔ اس تیسری شق کو تو بہ کہا جاتا ہے۔ ولو القی معازیرہ : ای ولوجاء بکل معذرۃ ماقبلت منہ (جلالین) خواہ وہ تمام عذرات پیش کرے وہ قبول نہیں کئے جائیں گے۔ خواہ وہ زبان سے ہزار…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

(ف 2) اکثر مفسرین نے اس کا تعلق ، ینبوء الانسان یومئذ۔ سے رکھ ا ہے یعنی جلانے پر بھی موقوف نہیں انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا تو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے اور حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے ، واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔ بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا، اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے گودوسروں کے سامنے حیلے بہانے بناکر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[6] یعنی اپنی دنیوی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے آخرت کے لئے بھیجی تھی اور اپنے اچھے اور برے اعمال کے کیا اثرات وہ دنیا میں چھوڑ کر آیا تھا جو اس کے مرنے کے بعد مدتوں تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ یہ جتلانا اس معنی میں نہ ہوگا کہ ایک بیخبر اور ناواقف کو واقف اور باخبر کیا جا رہا ہے بلکہ اس لئے کہ انصاف کے تقاضے برسر عدالت جرم کا ثبوت پیش کئے بغیر پورے نہیں ہوتے، ورنہ ہر انسان جانتا ہے جو کچھ اس نے کیا ہے گو دوسروں کے سامنے حیلے بہانے بنا کر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوششیں کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–23

ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) خواہ وہ اپنے کتنے ہی حیلے بہانے پیش کرے۔ یعنی یہ جتلانا اور بتلانا محض تقریع اور اتمام حجت کے طور پر ہوگا اور نہ انسان بوجہ انکشاف ضروریہ کے خود ہی اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ وہ اپنی عادت کے موافق حیلے بہانے اور عذر و معذرت کرتا رہے جیسا کہ مشرک قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے۔ بہرحال یہ جتانا اعلام کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ انسان خود بھی سب کچھ سمجھتا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے آیت کا تعلق توحید الٰہی کی دلیل سے رکھا ہے یعنی انسان خود حضرت حق کی ربوبیت اور اس کی توحید کی ایک کھلی ہوئی دلیل ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے احوال میں غورکرے تو رب کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

ف 4۔ یعنی انسان اپنے سب حال کو خوب جانتا ہوگا اس لئے جتلانا اعلام کے لئے نہ ہوگا بلکہ تفریع و اتمام حجت و قطع جواب کے لئے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 14–15

(بلکہ انسان اپنے اوپر خود ہی نظر رکھنے والا ہے) یعنی اپنا حال جانتا ہے اور اپنے افعال و اقوال پر گواہ ہے (گو لا دالے اپنے بہانے) یعنی ہر چند مقدور بھر گناہ پر عذر کرے اور اسے دفع کرنے کی تدببیر سوچے مگر وہی اپنے گناہ کا گواہ ہے ، اور اپنے جھوٹے عذر اور باطل حیلوں کا جاننے والا ہے ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب حضرت جبریل حضرت سید انام ﷺ پر قرآن پڑھتے ، تو حضرت بھی زبان سے ان کے ساتھ پڑھتے کہ بھول نہ جائیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اے محبوب !۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 That is, the object of placing man's record before him will not be to inform the culprit of his crimes, but this will be done because the demands of justice are not fulfilled unless the proof of the crime is produced before the court; otherwise everyman fully well knows what he actually is. For the sake of self- knowledge he dces not need that another one should tell him what he is. A liar can deceive the whole world but he him self knows that he lies. A thief can devise a thousand devices to conceal his crime but he himself is aware that he is a thief. A person involved in error can…

Read the full tafseer →