Al-Qiyaama 75:14

Al-Qiyaama · from ayah 14

75:14

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِهٖ بَصِیْرَةٌ ۟ۙبَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰى نَفۡسِهٖ بَصِيۡرَةٌ

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Rather, man, against himself, will be a witness,

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qiyaama

All translations of 75:14

بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بلکہ انسان خود اپنے آپ سے اچھی طرح واقف ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ اِنسان اپنے (اَحوالِ) نفس پر (خود ہی) آگاہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ انسان اپنے آپ کو خود خوب دیکھنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان اپنے آپ کو خود ہی اچھی طرح جانتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(بلکہ) اصل یہ ہے کہ انسان خود ہی اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا کہ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ انسان تو اپنے نفس کے احوال پر خود ہی خوب بصیرت رکھتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

But lo, man is well aware of himself,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Rather, man will be a witness against himself,

— Muhammad Taqi Usmani

Rather, man will be a witness against himself,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! Man will be well informed about himself,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Oh, but man is a telling witness against himself,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Rather, man, against himself, will be a witness,

— Saheeh International

In fact, people are well-aware of their own soul

— Muhammad Sarwar

Nay! man is evidence against himself,

— Muhammad Habib Shakir

Aye! man against himself shall be an enlightenment.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 75:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–15

ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة الْقِیٰمَة 9 اصل میں الفاظ ہیں بما قدم و اخر۔ یہ بڑا جامع فقرہ ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدتہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اسے کرنا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اس نے کر ڈالا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–18

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ 14؀ۙوَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ بصیر اور بصیرة کے معنے دیکھنے والے کے بھی آتے ہیں اور بصیرة کے معنے حجت کے بھی آتے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے قد جائکم بصائر من ربکم اسمیں بصائر بصیرة کی جمع ہے اور معنی اسکے حجت کے ہیں اور معاذیر معذار بمعنے عذر کی جمع ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ عدالت کے ضابطہ کی رو سے انسان کے سارے اعمال محشر میں اس کو ایک ایک کرکے بتلائے جاویں گے مگر درحقیقت اس کو اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ اپنے اعمال کو خوب جانتا ہے خود اس کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کیا کام کئے، نیز یہ کہ محشر میں تمام اپنے اعمال نیک وبد کا مشادہ بھی اس کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے: یہ اسی بات کی وضاحت دوسرے الفاظ میں ہے جو اوپر ’بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ‘ کے الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ وہاں مخالفین قیامت کے سوال ’یَسْئَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ‘ کے تعلق سے کلام کا رخ تصویر قیامت کی طرف مڑ گیا تھا۔ اس کے بعد اصل سلسلۂ کلام پھر عود کر آیا اور بات پوری کر دی گئی۔ فرمایا کہ انسان قیامت سے گریز کے لیے کتنے ہی بہانے بنائے لیکن وہ اپنے نفس پر خود حجت اور گواہ ہے۔ ’بَصِیْرَۃٌ عَلٰی نَفْسِہٖ‘ کے معنی ہوں گے ’شَاھِدٌ عَلٰی نَفْسِہٖ‘ (وہ اپنے اوپر خود گواہ ہے)۔ اس کی دلیل اوپر بیان ہو چکی ہے کہ انسان کے اندر اس کا نفس لوامہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی اس کے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–14

4: یعنی کونسے کام وہ دنیا میں کر آیا ہے اور وہ اس کے اعمال نامے میں پہنچ چکے ہیں، اور کون سے کام وہ چھوڑ آیا ہے کہ اسے کرنے چاہیے تھے، لیکن اس نے نہیں کیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–15

بل الانسان ................ معاذیرہ (75:15) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 14–15

16 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے (اور یہ کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا، یہ سب بہانے ہیں۔ " لیکن اکثر مفسرین نے اس کا تعلق (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) 75 ۔ القیامۃ :13) سے رکھا ہے یعنی جتلانے پر بھی موقوف نہیں۔ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا گو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے۔ " وَاللّٰہُ رَبَّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ " بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا ہو اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے۔ گو دوسروں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } ”بلکہ انسان تو اپنے نفس کے احوال پر خود ہی خوب بصیرت رکھتا ہے۔“ قیامت کے دن تو کسی کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہر انسان کو خود ہی معلوم ہوگا کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ دنیا سے وہ کیا کچھ لے کر آیا ہے اور یہ کہ وہ کیسے سلوک کا مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–14

10 مرنے کے بعد اعمالنامہ میں درج ہونے والے اعمال :۔ اس دن ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس سے اسے از خود یہ معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں کون کون سے اچھے یا برے اعمال کما کر اپنے ساتھ لایا ہے اور کون کون سے اچھے یا برے اعمال دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ جن کا اچھا یا برا بدلہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : جس شخص نے اسلام میں کوئی نیک بات جاری کی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس بات پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس نے اسلام میں کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

6۔ (محض اپنے مقتضائے طبیعت سے) مطلب یہ ہوا کہ ہر انسان تو اپنی حالت پر خود گواہ ہوگا، اور بغیر جتلائے ہوئے بھی اسے اپنا حال خوب معلوم ہوگا، یہ اور بات ہے کہ حیلے اور حجت بھی اپنے بچاؤ کے تراشتا رہے۔ یہ ماجرا تو روز حشر کا بیان ہورہا ہے لیکن یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے کہ آج اور اس وقت بھی انسان حیلے حوالے کتنے ہی پیش کرتا رہے، اپنے دل میں حقیقت حال کو خوب سمجھے رہتا ہے اور اس کا ضمیر خود اس کے جرائم پر گواہ رہتا ہے۔ (آیت) ” بصیرۃ “۔ یا تو حجت کے مفہوم میں ہے اے ھو حجۃ علی نفسہ (مدارک) اے حجۃ بینۃ واقعۃ علی نفسہ (روح) (آیت) ” علی نفسہ بصیرۃ “۔ لفظ علی سے اس طرف اشارہ ہوگیا کہ اعمال سوء ہی پر مطلع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 14–15

بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ، انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا مگر اس رکھنے کی غرض درحقیقت یہ نہیں ہوگی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہوگا کہ انصاف کے تقاضے برسر عدالت جرم کا ثبوت پیش کئے بغیر پورے نہیں ہوتے ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے ؟ اپنے آپ کو جاننے کے لئے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ خود کیا ہے ؟ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکا دے سکتا ہے لیکن اسے خود کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، ایک چور لاکھ حیلے بہانے اپنی چوری چھپانے کے لئے اختیار کرسکتا ہے مگر اس کے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں کہ وہ چور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل الانسان علی نفسہ بصیرہ . یعنی دنیوی زندگی کے اعمال فقط یاد دلانے سے ہی اس کو نظر آجائیں گے۔ وہ ضرور دیکھ لے گا ‘ اطلاع دینے کی ضرورت بھی نہ ہوگی۔ بصیرۃ میں تاء مبالغہ کے لیے ہے (خواب دیکھنے والا) یہی مفہوم ہے آیت : کفٰی بنفسک الیوم علیک حسیبا کا۔ ابو العالیہ اور عطاء کا یہی قول ہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ بصیرۃ کا موصوف محذوف ہو (اور اس میں تاء مبالغہ کی نہ ہو) یعنی انسان اپنے نفس کی حالت دیکھنے کے لیے بچشم خود نگراں ہوگا۔ یا بصیرۃ کا معنی ہے ثبوت اور حجت یعنی انسان خود اپنے نفس کے خلاف شاہد اور ثبوت ہوگا۔ بصیرت بمعنی حجت آیت : قد جاء کم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–15

(13۔ 15) قیامت کے دن انسان کو سب اس کی اگلی پچھلی نیکیاں جتلا دے گا بلکہ عدی بن ربیع خود اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ اپنے بارے میں خوب بہانے یا معذرتیں پیش کرے یا یہ کہ اپنی حالت سے غافل اور دوسروں کی حالت سے واقف ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بل الانسان لعسی نفسہ بصیرۃ …:’ بصیرۃ“ ”بصر“ (ک) سے صفت کا صیغہ ہے۔ ”تائ“ مزید مبالغے کے لئے ہے، جیسے ”غلامۃ“ میں ہے، یہ تائے تانیث نہیں ہے، خوب دیکھنے والا۔”معاذیر“ ”معذرۃ“ کی جمع ہے۔ یعنی اس دن انسان کو پہلے اور پچھلے اعمال بتائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا رہا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے متعلق خوب معلوم ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے یا برا۔ پھر دوسروں کے سامنے اپنے کفر و شرک، خلاق کی نافرمانی اس کی مخلوق پر ظلم و ستم اور پانی خواہش پرستی کے جواز کے لئے مجبویر یا مصلحت کے لاکھ بہانے گھڑے، مگر خود اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور بہانہ بازی کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–15

بل الانسان علی نفسہ بصیرہ، ولوالقی معاذیرہ۔ بل الانسان علی نفسہ بصیرہ۔ اخفش نے کہا، انسان کو خود اپنی ذات پر نظر رکھنے والابنادیا جس طرح تو خود کسی کو کہتا ہے تو اپنی ذات پر دلیل ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، بصیرہ کا معنی گواہ ہے اس سے مراد ہے کہ اس کے اعضاء اسپر گواہی دیں گے ہاتھ گواہی دیں گے جس کو اس نے ان ہاتھوں سے پکڑا ہوگا پاؤں گواہی دیں گے جن کے ساتھ وہ چل کر گیا تھا آنکھیں گواہی دیں گی جن کے ساتھ اس نے دیکھا ہوگا بصیرہ کا معنی گواہ ہے۔ فراء نے یہ شعر پڑھا : کان علی ذی العقل عینا بصیرہ، بمقعدہ او منظر ھو ناظرہ، یحاذرحتی یحسب الناس کلھم، من الخوف لاتخفی علیھم سرائرہ۔ گویا دانش مند پر آنکھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بل الانان علی نفسہ بصیرۃ۔ بلکہ انسان اپنے اوپر خود شاہد ہے۔ یعنی انسان اپنی ذات پر اکیلا گواہ ہے۔ آیت ولو القی معاذیر ہ۔ گو وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اگرچہ وہ اس دن جھوٹے عذر پیش کرے گا۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ قیامت کے رو زکفار کا عذر قبول نہ ہوگا 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اپنے اعمال پر خود گواہی دینے والا ہوگا آیت ولو القی معاذیرہ اگر اس دن جھوٹے عذر کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کچھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[بَلِ الْانسَان عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ: بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌۙ0014﴾ (بلکہ انسان اپنے نفس کو خوب جاننے والا ہے) دنیا میں بھی جانتا ہے اور وہاں بھی جانتا ہوگا کہ میں کیا کیا کر کے آیا ہوں۔ (اپنے اعمال خود بھی یاد ہوں گے اور اعضا بھی گواہی دے دیں گے) ۔ قالوا فی معنی ﴿ بَصِيْرَةٌ﴾ حجة بینة واضحة علی نفسہ شاھدة بما صدر عنہ من الاعمال السیئة۔ (ذكر صاحب الروح) وفی احکام القرآن للقرطبی قال ابن عباس بصیرة ای شاھدٌ وھو شھود جوارحہ علیہ ون اس یقولون ھذہ الھاء فی قولہ ﴿بَصِيْرَةٌ﴾ ھی التی یسمیھا اھل الاعراب ھاء المبالغة کا لھاء فی قولھم داھیة وعلامة وراویہ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–40

احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔ (ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

7:۔ ” ینبؤ الانسان “ ماقدم، جو کچھ اس نے کیا ہے اور اپنے لیے آگے بھیجا ہے۔ اچھا ہو یا برا۔ واخر، جو اس نے ترک کیا، خیر ہو یا شر۔ یا وہ طریقہ حسنہ یا سیئہ جو اس نے جاری کیا جس پر اس کی موت کے بعد بھی عمل ہوتا رہا (قرطبی، بیضاوی، کبیر) ۔ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال حسنہ وسیئہ سے آگاہ کردیا جائے گا۔ ” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے یعنی اس دن کسی کو اس کے اعمال کی خبر دینے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی، بلکہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود بخود عالم اور ان پر شاہد ہوگا۔ اگرچہ وہ ہر معذرت اور اپنے بچاؤ کا ہر بہانہ بھی پیش کردے یعنی ہر ممکن طریق سے اپنے بچاؤ کی کوشش کرنے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِہٖ بَصِيْرَۃٌ۝ 14 ۙ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 14–15

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ ۔ (القیامۃ : 14، 15) (بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔ اگرچہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔ ) مشکل الفاظ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ کا معنی ہے شَاہِدٌعَلٰی نَفْسِہٖ ” وہ اپنے اوپر خود گواہ ہے۔ “ مَعَاذِیْرَجمع ہے مَعَذِرَۃٍ کی۔ یہ دراصل مَعَاذِرٌ ہے۔ اس میں مناکیر کی طرح ” ی “ زیادہ ہوگئی ہے۔ اس کے معنی ہیں جھوٹے عذرات اور فضول بہانے۔ بعض لوگوں نے اس کو معذار کی جمع بتایا ہے، جس کے معنی اہل یمن کی زبان میں پردہ کے ہیں۔ لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی، کیونکہ قرآن کریم قریش کی ٹکسالی زبان میں نازل ہوا ہے، اہل یمن کی بولی میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–15

فہم القرآن ربط کلام : جس قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہو رہا ہے اس دن لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔ پہلی مرتبہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اس دن زمین و آسمانوں کو بدل دے گا۔ ( ابراہیم : 48) اسرافیل کے دوسری مرتبہ صورپھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر فرد محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائے گا جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ (یٰس : 51) رب ذوالجلال کی تشریف آوری سے پہلے جنتیوں اور جہنمیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا، ملائکہ جہنمیوں کو بڑی بڑی زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر محشر کے میدان میں لاکھڑا کریں گے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ (بلکہ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا) بصیرۃؔ کی تاء مبالغہ کیلئے ہے جیسا کہ علامہ میں ہے اور اس کا معنی شاہد ہے۔ نمبر 2۔ اس کو مؤنث لائے کیونکہ مراد انسان کے اعضاء ہیں۔ اس لئے کہ انسان کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ نمبر 3۔ وہ خود اپنے نفس پر حجت ہے۔ البصیرہؔ حجت و دلیل کے معنی میں ہے۔ جیسا اس قول میں فرمایا قد جاء کم بصائر من ربکم ] الانعام : 104[ اور محاورہ میں کہتے ہیں۔ انت حجۃ علی نفسک وبصیرۃ یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور اس کی خبر علی نفسہٖ ہے۔ جو کہ مقدم ہے اور یہ مل کر الانسان کی خبر ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ زید علی رأسہ عمامۃ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” ینبا الانسان یومئذ بما قدم واخر “ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جو موت سے نیک اور براعمل کیا اور جو موت کے بعد پیچھے اچھا طریقہ یا برا طریقہ چھوڑا جس پر عمل کیا جارہا ہو۔ عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” بما قدم “ معصیت میں سے۔ ” واخر “ طاعت میں سے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں ” بما قدم “ اللہ کی طاعت میں سے۔ ” ومااخر “ اپنی عمر کے آخر میں اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں ” بماقدم “ اپنے اموال میں سے اپنے لئے ” وما اخر “ اس کو ورثاء کے لئے پیچھے چھوڑا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–15

1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ) بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے۔ یعنی گواہ اور محاسب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

انسان اپنے بارے میں خوب جانتا ہے قول باری ہے (بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ۔ بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں کہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے۔ قیامت کے دن اس کے اعضا اس پر گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–15

15 انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے : سو ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان اپنے آپ کو خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے کہ اس کیلئے اس کے اپنے قلب و ضمیر کی اس کی اپنی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوتی ‘ سو دنیا میں بھی کہ وہ اپنے کیے سے نواقف نہیں اور قیامت میں بھی کہ اپنآ سب کچھ کیا دھرا اسے یاد بھی ہوگا ‘ اور وہاں اس کو حاضر و موجود بھی پائے گا۔ " ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا یظلم ربک احد سو انبائ " یعنی خبر دینے اور اشہاد یعنی گواہ رکھنے کی کارروائی تو ایک طرح سے ضابطے کی کارروائی کی تکمیل ہوگی ‘ ورنہ انسان کو اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ وہ اپنے کیے سے خود ہی بخوبی آگاہ اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–15

قیامت کا منظر تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة القیامہ۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔ نفس اور اس کی اقسام۔ عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی اس کے اپنے ہاتھ پائوں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ آدمی اپنی برائیوں اور خوبیوں کو خوب جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(75:14) بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ : بل حرف اضراب ہے۔ الانسان مبتدائ۔ بصیرۃ اس کی خبر۔ علی نفسہ متعلق خبر، بصیرۃ کی تاء مبالغہ کے لئے ہے جیسے العلامۃ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ دنیوی زندگی کے اعمال فقط یاد دہانی سے ہی اسے نظر آجائیں گے اطلاع دینے کی بھی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ ترجمہ ہوگا :۔ (انسان کو بما قدم واخر۔ پر تنبیہ کرنے کی بھی ضرورت ہی نہیں) وہ خوہ ہی اپنے آپ کے (اعمال کے تناظر میں) خوب دیکھنے اور جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

(ف 2) اکثر مفسرین نے اس کا تعلق ، ینبوء الانسان یومئذ۔ سے رکھ ا ہے یعنی جلانے پر بھی موقوف نہیں انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا تو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے اور حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے ، واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔ بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا، اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے گودوسروں کے سامنے حیلے بہانے بناکر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–14

[5] یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہیں اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہوگا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی ہے اور نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اس کی پیشی میں ٹھہرنا ہے۔ پھر وہ جس کے حق میں فیصلہ کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–23

ایک لطیف ربط 3: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ کہہ دینے سے شبہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ کہ جب اس عالم آخرت میں انسان میں ایسی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہ اس کے تمام اعمال اس کے قلب میں مرقسم ہوجائیں ۔ اور ان نفوش کو معلوم کرلے ۔ جو ان اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اور حقیقت حال پر مطلع ہوجائے ۔ تو پھر اس دنیا میں یہ کیوں ممکن نہیں ہے ۔ اور کیوں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ کہ یہاں کتاب فطرت کے درد سر کو لیں اور اس طرح وحی والہام کی ضرورت و احتیاج باقی نہ رہے ۔ فرمایا ۔ یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہاں یہ چیز ممکن نہیں ہے کہ تم اپنی دفاعی کاوش اور محنت سے کسی نظام رشدوہدایت کو معلوم کرلو ۔ چناچہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–14

ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 14–15

(بلکہ انسان اپنے اوپر خود ہی نظر رکھنے والا ہے) یعنی اپنا حال جانتا ہے اور اپنے افعال و اقوال پر گواہ ہے (گو لا دالے اپنے بہانے) یعنی ہر چند مقدور بھر گناہ پر عذر کرے اور اسے دفع کرنے کی تدببیر سوچے مگر وہی اپنے گناہ کا گواہ ہے ، اور اپنے جھوٹے عذر اور باطل حیلوں کا جاننے والا ہے ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب حضرت جبریل حضرت سید انام ﷺ پر قرآن پڑھتے ، تو حضرت بھی زبان سے ان کے ساتھ پڑھتے کہ بھول نہ جائیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ اے محبوب !۔۔۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰي نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗ (Rather, man will be a witness against himself, even though he may offer his excuses....75:14-15). One meaning of the words bash and basirah is 'to see'. Another meaning of basirah is 'evidence', as for instance in: قَدْ جَاۗءَكُمْ بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ '...There have come to you evidences 1 from your Lord_[ 6:104] ' In this verse the word basa'ir is the plural of basirah and it means 'evidence, proof, argument or insight'. The word ma` adhir is the plural of mi` dhar meaning, 'excuse'. The verse purports to say…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

9 Bima qaddama wa akhkhara is a very comprehensive sentence, which can have several meanings and probably all are implied; (1) That man on that Day will be told what good or evil he had earned in his worldly life before death and sent forward for his hereafter, and also informed what effects of his good or evil acts he had left behind in the world, which continued to work and to influence the coming generations for ages after him; (2) that he will be told everything he ought to have done but which he did not do, and did what he ought not to have done; (3) that the full datewise account of…

Read the full tafseer →