Explained with ayahs 1–15
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں
یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة الْقِیٰمَة 9
اصل میں الفاظ ہیں بما قدم و اخر۔ یہ بڑا جامع فقرہ ہے جس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدتہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اسے کرنا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اس نے کر ڈالا۔…
Read the full tafseer →يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ
یعنی اس روز انسان کو جتلا دیا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا کیا پیچھے چھوڑا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس نے فرمایا کہ جو نیک کام اپنی موت سے پہلے کرلیا وہ آگے بھیج دیا، اور جو نیک یا بد مفید یا مضر کوئی طریقہ کوئی رسم ایسی چھوڑی کہ اسکے بعد لوگ اس پر عمل کریں وہ پیچھے چھوڑا (اسکا ثواب یا عذاب اس کو ملتا رہے گا) اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ماقدم سے مراد وہ عمل صالح ہے جو اپنی زندگی میں کر گزرا اور مآخر سے مراد وہ عمل صالح ہے جس کو کرسکتا تھا مگر نہ کیا اور فرصت ضائع کردی۔
Read the full tafseer →قیامت کی غایت:
یہ مقصد بیان ہوا ہے اس دن کے آنے کا۔ فرمایا کہ اس دن ہر شخص کو آگاہ کیا جائے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ آگاہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ اس دن اس کے سارے اعمال کے نتائج سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ دنیا کی زندگی میں جو بدیاں اس نے کمائیں وہ بھی اس کے سامنے آ جائیں گی اور جن نیکیوں سے منہ موڑا ان کے نتائج بھی سامنے آ جائیں گے۔ قرآن میں جا بجا یہ تصریح ہے کہ اس دن آخرت سے غافل رہنے والے اپنے سر پیٹیں گے کہ کاش! ہم نے آج کے دن کے لیے فلاں اور فلاں کام کر لیے ہوتے اور یہ بھی کہیں گے کہ کاش! ہم نے رسولوں کے انذار سے انحراف نہ کیا ہوتا بلکہ ان کی دعوت پر ایمان لائے ہوتے۔…
Read the full tafseer →3 1۔ 1 یعنی اس کے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا قدیم ہو یا جدید، اول ہو یا آخر چھوٹا ہو یا بڑا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
4: یعنی کونسے کام وہ دنیا میں کر آیا ہے اور وہ اس کے اعمال نامے میں پہنچ چکے ہیں، اور کون سے کام وہ چھوڑ آیا ہے کہ اسے کرنے چاہیے تھے، لیکن اس نے نہیں کیے۔
Read the full tafseer →ینبؤ ................ واخر (75:13) ” اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا “۔ یعنی وہ اعمال جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کہے اور وہ آثار جو اس نے مرنے کے بعد چھوڑے۔ خواہ اچھے آثار ہوں یا برے آثار ہوں کیونکہ انسان کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار باقی رہتے ہیں اور وہ اس کے اعمال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
پھر وہاں انسان جو عذرات بھی پیش کرے گا ، اس کا کوئی عذر بھی قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ نفس انسانی کو اللہ نے خیروشر کی ہدایت کردی ہے۔ اگر نفس انسان کو خیر تک لے جائے تو اچھا انجام ہوگا اور اگر شر تک لے جائے تو اس کا محاسہ ہوگا۔
Read the full tafseer →15 یعنی سب اگلے پچھلے اعمال نیک ہوں یا بد، اس کو جتلا دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 13{ یُـنَـبَّـؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍم بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ۔ } ”جتلا دیا جائے گا انسان کو اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہوگا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہوگا۔“
تقدیم و تاخیر کے اس فلسفے کو یوں سمجھیں کہ ہمارے اچھے برے اعمال کے بدلے کا ایک حصہ تو ہماری زندگیوں میں ہی آخرت کے لیے ہمارے اعمال نامے میں جمع credit ہوتا رہتا ہے ‘ جبکہ ان اعمال کا ایک دوسراحصہ اچھے یا برے اثرات کی صورت میں اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ یہ ”اثرات“ اس دنیا میں جب تک موجود رہتے ہیں ‘ ان کے بدلے میں بھی ثواب یا گناہ متعلقہ شخص کے اعمال نامے میں متواتر شامل ہوتا رہتا ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10 مرنے کے بعد اعمالنامہ میں درج ہونے والے اعمال :۔ اس دن ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس سے اسے از خود یہ معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں کون کون سے اچھے یا برے اعمال کما کر اپنے ساتھ لایا ہے اور کون کون سے اچھے یا برے اعمال دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ جن کا اچھا یا برا بدلہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : جس شخص نے اسلام میں کوئی نیک بات جاری کی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس بات پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس نے اسلام میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
5۔ یہ جتلانا اس معنی میں ہوگا کہ ایک بیخبر اور ناواقف کو باخبر اور واقف کیا جارہا ہے بلکہ یہ جتلانا بطور اتمام حجت وقطع جواب کے ہوگا۔ (آیت) ” بما قدم “۔ اس سے مراد وہ عمل خیر ہے جو انسان دنیا میں کر گزرا ہے۔ (آیت) ” واخر “۔ اس سے مرا د اس عمل سے لی گئی ہے جو انسان نہ کرپایا۔
Read the full tafseer →ینبوا الانسان یومئذ بما قدم واخر، یہ ایک بڑا جامع فقرہ ہے، اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اپنی آخرت کے لئے آگے بھیجی تھی ؟ اور یہ حساب بھی اس کے آگے رکھ دیا جائے گا کہ اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدتہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ اسے وہ سب کچھ بتادیا جائے گا جو اسے کرنا چاہیے تھا مگر اس نے نہیں کیا اور جو کچھ نہ کرنا چاہیے تھا مگر اس نے کر ڈالا، تیسرے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ اس نے پہلے…
Read the full tafseer →ینبو الانسان یومئذ بما قدم واخر . حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : مَا قَدَّمَ سے
مراد ہیں وہ اچھے ‘ برے عمل جو مرنے سے پہلے انسان کرتا ہے اور مَا اَخَّرَ سے مراد ہیں وہ اچھے ‘ برے طریقے جن کی بنیاد ڈال کر دنیا میں چھوڑ آتا ہے۔ قتادہ نے کہا : آگے کرنے سے مراد ہے اللہ کی اطاعت کرنا اور پیچھے ڈال دینے سے مراد ہے ‘ طاعت کو ضائع کردینا۔ مجاہد نے کہا : مقدم و مؤخر عمل سے مراد ہے اوّل عمل اور اخیر عمل۔ زید بن اسلم نے کہا : اوّل سے مراد وہ مال ہے جو (راہ خدا میں) اپنے فائدہ کے لیے انسان خرچ کردیتا ہے اور دوسرے سے مراد ہے وہ مال جو وارثوں کے لیے پیچھے چھوڑ آتا ہے۔ بعض نے کہا کہ ما قدم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(13۔ 15) قیامت کے دن انسان کو سب اس کی اگلی پچھلی نیکیاں جتلا دے گا بلکہ عدی بن ربیع خود اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ اپنے بارے میں خوب بہانے یا معذرتیں پیش کرے یا یہ کہ اپنی حالت سے غافل اور دوسروں کی حالت سے واقف ہوگا۔
Read the full tafseer →ینبوا الانسان یومئذ …:”جو آگے بھیجا“ سے مراد وہ اعمال ہیں جو اس نے موت سے پہلے کئے اور ”جو پیچھے چھوڑا“ سے مراد وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اذا مات الانسان انفطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ الا من صدقۃ جاریۃ او علم ینفع بہ او ولد صالح یدعو لہ) (مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ : 1631، عن ابی ہریرہ ؓ)”جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل جاری رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔“ اور فرمایا :(من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فعمل بھا بعدہ کتب لہ…
Read the full tafseer →ینبئوالانسان یومئذ بماقدم واخر۔ انسان نیک ہو یا بدا سے بتایاجائے گا جو اس نے برایا اچھا عمل آگے بھیجا اچھی یابری سنت پیچھے چھوڑی جس پر بعد میں عمل کیا جاتا رہا حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود نے یہ کہا منصور نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ اس کے پہلے اور آخری عمل کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا، یہ امام نخعی کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ بھی فرمایا، اس نے معصیت میں سے جو چیز آگے بھیجی اور اطاعت میں سے جو پیچھے چھوڑی، یہ قتادہ کا بھی قول ہے۔ ابن زید نے کہا، بماقدم سے مراد اس کے وہ اموال ہیں جو اس نے اپنے لیے خرچ کیے اور اخر سے مراد وہ مال ہے جو اس نے وارثوں کے لیے پیچھے چھوڑا، ضحاک نے کہا،…
Read the full tafseer →46۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد و ابراہیم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤ ا الانسان یوئمئذ بما قدم واخر یعنی انسان کو اس کی ابتداء اور اس کی انتہا کے بارے میں بتادیا جائے گا۔
47۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ انسان نے جو کچھ آگے بھیجا گناہوں اور شر اور خطاؤں میں ہے۔ اور جو کچھ چھوڑ آیا نیک کاموں میں سے اس کو سب بتادیا جائے گا۔
48۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا النسان یومئذ بما قدم واخر سے مراد ہے کہ انسان نے اپنے اعمال میں سے جو آگے بھیجے اور جو اچھا یا برا طریقہ چھوڑا جس کے مطابق اس…
Read the full tafseer →[يُنَبَّؤُا الْانسَان يَوْمَىِٕذٍۢ: جتلا دیا جائے گا انسان کو اس دن ] [بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ : وہ جو اس نے آگے بھیجا اور (جو) اس نے پیچھے چھوڑا ]
نوٹ 5: آیت۔ 13 ۔ میں ہے بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ۔ یہ بڑا جامع فقرہ ہے جس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کو اس روز یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اپنی دنیا کی زندگی میں مرنے سے پہلے کیا نیکی یا بدی کما کر اس نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجی تھی۔ اور یہ حساب بھی اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا کہ اپنے اچھے یا برے اعمال کے کیا اثرات وہ اپنے پیچھے دنیا میں چھوڑ آیا تھا جو اس کے بعد مدت ہائے دراز تک آنے والی نسلوں میں چلتے رہے۔…
Read the full tafseer →﴿ يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ0013﴾ (اس روز انسان کو سب کچھ اگلا پچھلا جتلا دیا جائے گا) دنیا میں جو بھی اعمال کیے تھے پہلے کیے ہوں یا بعد میں سب اس کے سامنے کردیئے جائیں گے اور اعمال نامے سب کچھ بتادیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
7:۔ ” ینبؤ الانسان “ ماقدم، جو کچھ اس نے کیا ہے اور اپنے لیے آگے بھیجا ہے۔ اچھا ہو یا برا۔ واخر، جو اس نے ترک کیا، خیر ہو یا شر۔ یا وہ طریقہ حسنہ یا سیئہ جو اس نے جاری کیا جس پر اس کی موت کے بعد بھی عمل ہوتا رہا (قرطبی، بیضاوی، کبیر) ۔ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال حسنہ وسیئہ سے آگاہ کردیا جائے گا۔ ” بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے یعنی اس دن کسی کو اس کے اعمال کی خبر دینے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی، بلکہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود بخود عالم اور ان پر شاہد ہوگا۔ اگرچہ وہ ہر معذرت اور اپنے بچاؤ کا ہر بہانہ بھی پیش کردے یعنی ہر ممکن طریق سے اپنے بچاؤ کی کوشش کرنے کے باوجود…
Read the full tafseer →يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍؚبِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13 ۭ
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…
Read the full tafseer →یُنَبـُّـؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ م بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ۔ (القیامۃ : 13)
(اس دن انسان کو بتادیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا ہے اور جو پیچھے چھوڑا ہے۔ )
قیامت کا مقصد
اس جامع فقرے میں قیامت کے آنے کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کا آنا کوئی رسمی کارروائی نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی زندگی کا تقاضا اور اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا اظہارِ کامل ہے۔ یوں تو اس فقرے کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں لیکن جو بات خودبخود اس جملے سے نکلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر انسان کے اعمال جو اس نے زندگی میں انجام دیئے وہ ان کے نتائج سمیت اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ اس نے جو نیکیاں کیں وہ بھی اس کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہو رہا ہے اس دن لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔
پہلی مرتبہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اس دن زمین و آسمانوں کو بدل دے گا۔ ( ابراہیم : 48) اسرافیل کے دوسری مرتبہ صورپھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر فرد محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائے گا جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ (یٰس : 51)
رب ذوالجلال کی تشریف آوری سے پہلے جنتیوں اور جہنمیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا، ملائکہ جہنمیوں کو بڑی بڑی زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر محشر کے میدان میں لاکھڑا کریں گے۔…
Read the full tafseer →13 : یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍم (اس دن انسان کو بتلایا جائے گا۔ ) خبر دی جائے گی۔ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ (سب اگلا پچھلا) یعنی جو عمل اس نے کرلیا وہ بما قدمؔ اور جو اس نے چھوڑ دیا ہے وہ اخرؔ ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” الی ربک یومئذ المستقر “ یعنی مخلوق کا ٹھکانہ ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوٹنے اور رجوع کی جگہ۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” الی ربک الرجعی “ ہے۔ ” والی اللہ المصیر “ اور سدی (رح) فرماتے ہیں انتہا ہے اس کی نظیر ” وان الی ربک المنتھی “ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرُّ ) اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانہ ہوگا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ وہ چھپ سکیں یا اس جگہ سے بھاگ سکے۔ اسے وہاں ضرور ٹھہرایاجائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا وسزا دی جائے، اس لیے فرمایا (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا کہ جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔ انسان کو اس کے اول وقت اور آخر وقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کردیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →14 قیام قیامت کے مقصد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز انسان کو اس کا کیا کرایا سب بتادیا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے رکھا۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی کی حیات مستعار ‘ اور فرصت محدود میں ‘ خواہ وہ نیک اعمال کی صورت میں ہو ‘ خواہ اعمال بد کی شکل میں والعیاذ باللہ یعنی اس کی زندگی بھر کے کیے کرائے کے وہ آثار اور نتائج وثمرات جو یہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا ‘ اور جو اس کی موت کے بعد بھی زمانہ دراز تک پچھلی نسلوں میں چلتے رہے ‘ نیک ہوں تو بھی اور بد ہوں تو بھی ‘ نیز اس کو یہ بھی بتادیا جائے گا کہ اس کو کیا کرنا چاہیے تھا مگر اس نے غفلت و لاپرواہی کی بناء پر نہیں کیا ‘ اور کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
قیامت کا منظر
تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1 یعنی جو اچھے برے اعمال کر کے اس نے بطور توشہ آخرت آگے بھیجے
Read the full tafseer →(75:13) ینبئوا الانسان یومئذ : ینبؤا مضارع مجہول واحد مذکر غائب ینبئۃ (تفعیل) مصدر۔ اسے بتادیا جائے گا۔ اسے خبر دی جائے گی۔ ن ب ء مادہ۔
یومئذ : یوم اسم ظرف، منصوب اذ مضاف الیہ، اس دن ، ایسے واقعات کے دن، مفعول فیہ۔ (اس روز) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا۔ بما قدم واخر : ب، ساتھ، متعلق، ما موصولہ قدم ماضی واحد مذکر غائب۔ تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اس نے آگے بھیجا۔ اخر ماضی واحد مذکر غائب تاخیر (تفعیل) مصدر سے۔ اس نے پیچھے چھوڑا۔
ترجمہ :۔ اس روز انسان کو بتادیا جائے گا (ہر اس) عمل کے متعلق جو اس نے آگے بھیجا اور جو وہ پیچھے چھوڑ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(ف 1) یعنی سب اگلے پچھلے اعمال نیک ہوں یا بد اس کو جتلادیے جائیں گے تمام عمر کے اعمال کا اس سے حساب لیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
[5] یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہیں اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہوگا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی ہے اور نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اس کی پیشی میں ٹھہرنا ہے۔ پھر وہ جس کے حق میں فیصلہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 2: فرمایا ۔ آج تو یہ لوگ قیامت کے نام سے متنفر ہیں ۔ اور اس کو محض ڈھکوسلا قرار دیتے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کھلی رہ جائیں گی ۔ چاند بےنور رہ جائیگا ۔ اور آفتاب بھی اس تاریکی اور بےنوری میں اس کا شریک ہوجائیگا ۔ اس دن یہ لوگ کہیں گے ۔ کہ آج کہاں بھاگ کرجائیں ۔ اس وقت معلوم ہوگا ۔ کہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ سوائے پروردگار عالم کے حضور کے ۔ اس وقت ان کو ان کے کئے دھرے کا پتہ دیا جائیگا ۔ بلکہ یہ خود اس قابل ہونگے ۔ کہ اپنے اعمال کو کو دیکھ سکیں ۔ اور اپنے متعلق فیصلہ کرسکیں ۔ اگرچہ بتقاضائے بشریت یہ عذر اور بہانے پیش کرینگے ۔ مگر یہ واقعہ ہے ۔ کہ دل میں…
Read the full tafseer →(13) اس دن انسان کو اس کے تمام اگلے اور پچھلے اعمال سے آگاہ کردیا جائے گا۔
یعنی اس کو تمام اچھے برے عمل جو اس نے کئے ہوں گے جتلا دیئے جائیں گے اور جتلانے اور بتلانے پر ہی کیا موقوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
(کہے گا انسان) یعنی تکذیب کرنے والا کافر (اس دن کہ کہاں بھاگ کر بچوں۔ ہرگز نہیں) ایسوں کے لیے (کوئی پناہ گاہ نہیں) اور (تمہارے رب ہی کی طرف) یعنی اس کے حکم کی طرف (اس دن ٹھہرنے کی جگہ ہے) یعنی حق تعالیٰ ہی اپنی مشیت سے جنتیوں اور دوزخیوں کے ٹھہرنے کی جگہ مقرر کرے گا۔ (بتا دیا جائے گا انسان اس دن جو کچھ آگے پیچھے کیا تھا) یعنی اس کے اعمال جو آگے پہنچ گئے اور اس کے اموال جو پیچھے رکھے رہ گئے۔ گناہ تو آگے بھیجتا ہے جرات کے ساتھ اور مال پیچھے رکھتا ہے حسرت کے ساتھ۔ تو چاہیے کہ گناہ کو توبہ سے نیست و نابود کردے کہ باقی نہ رہے ، اور مال صدقہ دے کر آگے بھیجے کہ ہمیشہ باقی رہے۔
Read the full tafseer →يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ (Man will be informed of what he sent ahead, and what he left behind....75:13). Sayyidna ` Abdullah Ibn Masud and Ibn ` Abbas are reported to have said that 'what he sent ahead' refers to the good deeds he has sent forth before his death. The words 'what he left behind' refers to the good or bad, useful or harmful custom he invented and left behind which people follow. He will continue to receive its reward or punishment. Qatadah said that 'what he sent ahead' refers to a good deed he did in his lifetime; and 'what he left behind'…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
9 Bima qaddama wa akhkhara is a very comprehensive sentence, which can have several meanings and probably all are implied; (1) That man on that Day will be told what good or evil he had earned in his worldly life before death and sent forward for his hereafter, and also informed what effects of his good or evil acts he had left behind in the world, which continued to work and to influence the coming generations for ages after him; (2) that he will be told everything he ought to have done but which he did not do, and did what he ought not to have done; (3) that the full datewise account of…
Read the full tafseer →