Explained with ayahs 1–15
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں
یہ کئی دفعہ بیان ہوچکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے لا کا کلمہ نفی کی تائید کے لئے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہوگی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی، حضرت حسن تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج کی قرأت آیت (لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ) 75۔ القیامة :1) ہے اس سے بھی حضرت حسن کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
سورة الْقِیٰمَة 8
یہ قیامت کے پہلے مرحلے میں نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے کی کیفیت کا ایک مختصر بیان ہے۔ چاند کے بےنور ہوجانے اور سورج کے مل کر ایک ہوجانے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صرف چاند کی روشنی ختم نہ ہوگی جو سورج سے ماخوذ ہے بلکہ خود سورج بھی تاریک ہوجائے گا اور بےنور ہوجانے میں دونوں یکساں ہوجائیں گے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین یکایک الٹی چل پڑے گی اور اس دن چاند اور سورج دونوں بیک وقت مغرب سے طلوع ہوں گے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ چاند یک لخت زمین کی گرفت سے چھوٹ کر نکل جائے گا اور سورج میں جا پڑے گا۔ ممکن ہے اس کا کوئی اور مفہوم بھی ہو جس کو آج ہم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۙوَخَسَفَ الْقَمَرُ ۙوَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ
یہ قیامت کے حالات کا بیان ہے برق بفتح البا و کسر را کے معنی آنکھ خیرہ ہوگی کہ دیکھ نہ سکیں۔ قیامت کے روز سب کی نگاہیں خیرہ ہوجائیں گی، نگاہ جما کر کسی چیز کو نہ دیکھ سکیں گی۔ خسف القمر خسوف سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی ختم ہو کر تاریکی ہوجانے کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ چاند بےنور ہوجائے گا۔ آگے وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ میں یہ بتلایا کہ صرف چاند ہی بےنور نہیں ہوگا بلکہ آفتاب بھی بےنور ہوجائے گا جس کے متعلق دنیا کے فلاسفہ کا یہ کہنا ہے کہ اصل روشنی آفتاب میں ہے۔ چاند کی روشنی بھی آفتاب کی شعاعوں سے مستفاد ہے۔ حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
یہ جواب ہو گا ان کے قول ’اَیْنَ الْمَفَرُّ‘ کا۔ یعنی وہ پکاریں گے کہ اب کہاں بھاگیں! ان کو جواب ملے گا کہ ہرگز نہیں، اب کوئی ٹھکانا اور بھاگنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف سب کا ٹھکانا ہوگا۔ دوسری تمام راہیں فرار کی اس دن بند ہو جائیں گی۔
Read the full tafseer →12۔ 1 جہاں وہ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی اللہ کی اس عدالت سے چھپ جائے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
3:۔ یعنی آخرت کی زندگی کا انکار یہ لوگ کسی علمی دلیل کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ آئندہ بھی وہ بےخوف و خطر گناہ کرتے رہیں، اور آخرت کا تصور ان کے لیے اپنی نفسانی خواہشات پوری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
کلا لا .................... المسقر (75:12) ” ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا “۔
اس دن یہ صورت حالات نہ ہوگی جو انسان چاہتا ہے کہ بلا حساب و کتاب وہ فسق وفجور کے راستے پر آگے بڑھے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ اس دن تو پورا پورا محاسبہ ہوگا اور اس نے اپنے جو اعمال بھولے ہوں گے ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اور جب وہ یاد کرے گا تو پھر جزاء وسزا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
14 یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے۔ اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہوگا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی، نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اسی کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جس کے حق میں جو کچھ فیصلہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 9{ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ۔ } ”اور سورج اور چاند یکجا کردیے جائیں گے۔“
اس وقت سورج چاند سمیت تمام اجرامِ فلکی کشش ثقل کے قانون کے تحت اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نظام ڈھیلا پڑے گا تو تمام ُ کرے ّآپس میں ٹکرا جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
9 یعنی آج تو انسان یہ پوچھتا ہے کہ قیامت آئے گی کب ؟ لیکن جب قیامت فی الواقع آجائے گی تو اس وقت اس سے بچ جانے کی اور بھاگ کھڑا ہونے کی صورت سوچے گا اور دوسروں سے پوچھے گا مگر اس میں اسے سخت ناکامی ہوگی۔ نہ کوئی فرار کا راستہ ملے گا اور نہ پناہ کی جگہ اور انسان اس بات پر مجبور ہوگا کہ سیدھا اپنے پروردگار کے حضور پیش ہوجائے۔ اس کے علاوہ اس کے لیے کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
5۔ یہ جتلانا اس معنی میں ہوگا کہ ایک بیخبر اور ناواقف کو باخبر اور واقف کیا جارہا ہے بلکہ یہ جتلانا بطور اتمام حجت وقطع جواب کے ہوگا۔ (آیت) ” بما قدم “۔ اس سے مراد وہ عمل خیر ہے جو انسان دنیا میں کر گزرا ہے۔ (آیت) ” واخر “۔ اس سے مرا د اس عمل سے لی گئی ہے جو انسان نہ کرپایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–12
نفس امارہ، لوامہ، مطمئنہ :
حضرات صوفیائے کرام نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ نفس اپنی جبلت اور فطرت کے اعتبار سے (امارۃ بالسوء) ہوتا ہے مگر ایمان اور عمل صالح اور ریاضت و مجاہدہ سے یہ ” نفس لو امہ “ بن جاتا ہے مگر برائی سے بالکلیہ اس کا انقطاع نہیں ہوتا، آگے عمل صالح میں ترقی اور قرب حق کے حصول میں کوشش کرتے کرتے جب اس کا یہ حال ہوجائے کہ شریعت اس کی طبیعت ثانیہ بن جائے اور خلاف شرع کام سے طبعی نفرت بھی ہونے لگے تو اس نفس کا لقب ” مطمئنہ “ ہوجاتا ہے۔
یکایک سلسلہ کلام کو موقوف کر کے آیت 16 سے 19 تک جملہ معترضہ کے طور پر آپ ﷺ نے فرمایا جاتا ہے کہ اس وحی کو یاد کرنے کے لئے آپ ﷺ اپنی زبان مبارک کو…
Read the full tafseer →الی ربک یومئذ المستقر . مستقر ‘ جائے رجوع ‘ لوٹنے کی جگہ۔ یعنی اللہ کی مشیت اور حکم کی طرف ان کو
لوٹنا ہوگا۔ اللہ کا حکم ہی ان کی قرار گاہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
(10۔ 12) تو دوزخ کے دیکھنے کے بعد عدی اور اس کے ساتھی ہوں گے اب کہاں بھاگوں اور کس جگہ پناہ لوں ہرگز کوئی پہاڑ اس کو دوزخ سے بچانے والا نہ ہوگا، کہتے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ سے بچنے کے لیے کوئی اس کی رکاوٹ اور جائے پناہ نہ ہوگی قیامت کے دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس جانے کا ٹھکانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
یقول الانسان یومئذ …: یہ انسان جو آج پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا، اس دن ایسا حیران اور خوف زدہ ہوگا کہ بھگانے کے لئے جگہ تلاش کرے گا، مگر اس دن کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور سب لوگوں کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
Read the full tafseer →الی ربک یومئذ المستقر۔ مستقر کا معنی منتہی ہے، یہ قتادہ کا قول ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وان الی ربک المنتھی، النجم) اس کی انتہاء تیرے رب کے پاس ہے، حضرت ابن مسعود نے فرمایا، اس کا معنی ہے تیرے رب کی طرف لوٹنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے آخرت میں قرارگاہ وہ ہوگی جہاں اللہ تعالیٰ اسے ٹھہرائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ان کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا یہ انسان کے قول کی حکایت ہے جو وہ اپنے بارے میں کہے گا جب وہ جان لے گا کہ اس کے لیے کوئی فرار کی جگہ نہیں تو وہ اس وقت اپنے آپ سے یہ کہے گا، کلا لاوزر۔ الی ربک یومئذ المستقر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
34۔ عبد بن حمید وابن ابی الدنیا فی کتاب الاہوال وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” لاوزر “ سے مراد ہے کہ کوئی قلعہ اور پناہ کی جگہ نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی محفوظ جگہ نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ کوئی پہاڑ نہیں۔
35۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لا وزر کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ الوزر سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عمرو بن کلثوم کو نہیں سنا۔ کہ وہ کہتا ہے
لعمرک ما ان لہ صخرۃ لعمرک ما ان لہ من…
Read the full tafseer →[اِلٰى رَبِكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرُّ : تیرے رب کی طرف ہی اس دن ٹھہرنے کا ٹھکانہ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
﴿فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ007 وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ008 وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ009﴾ (سو جس وقت آنکھیں حیران رہ جائیں گی اور چاند بےنور ہوجائے گا اور سورج اور چاند ایک حالت کے ہوجائیں گے) ۔ ﴿ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ0010﴾ (اس دن انسان کہے گا کہاں ہے بھاگنے کی جگہ) یعنی میں کہاں بھاگوں اور کیا کروں ﴿ كَلَّا لَا وَزَرَؕ0011﴾ (اللہ پاک کی طرف سے جواب ملے گا کہ ہرگز بھی کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے) ﴿ اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّؕ0012﴾ (آج کے دن تیرے رب ہی کے پاس ٹھکانا ہے) نہ بھاگنے کی جگہ ہے نہ بھاگنا فائدہ دے سکتا ہے، اللہ تعالیٰ جس حال میں رکھے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–40
احوال روز قیامت مع ذکر مناظر محشر وشدت کرب بوقت مرگ انسانی و حسرت وملال برمحرومی از ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بیوم القیمۃ ........ الی ............. الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی “۔
(ربط) گذشتہ سورت مدثر میں قیامت کے ظاہری احوال کا ذکر تھا اور یہ کہ قیامت کے قریب کیا کیا واقعات پیش آئیں گے اور قیامت کس طرح برپا ہوگی اب اس سورت میں قیامت کے باطنی احوال بیان کئے جارہے ہیں اور یہ کہ قیامت قائم ہونے پر انسان پر کیا کیفیات گزریں گی وہ کس طرح بےچین وبدحواس ہوگا نامہ اعمال کی پیشی نہایت ہی ہیبت ناک اور ہوش وحواش معطل کردینے والا مرحلہ ہوگا اور اس وقت نافرمان اور فاجر و بدکار انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
6:۔ ” کلا “ حرف ردع ہے قیامت کے عذاب سے بچنے کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔ (کلا) ردع عن طلب المفر (لاوزر) لا ملجا (مدارک) ۔ الی ربک یومئذ المستقر، اس دن صرف تیرے پروردگار ہی کی ذات جائے پناہ ہوگی اس کے سوا کوئی ملجا و ماوی نہ ہوگا ای لا ملجا وماوی نہ ہوگا ای لا ملجا و منجی لھم غیرہ عز وجل (روح) ۔
Read the full tafseer →اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرُّ 12 ۭ
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : لا اقسم قیل لازائدہ کمازیدت فی قولہ لئلایعلم۔ وقیل لیست بزائدۃ وحینئذ فی معناھاوجھان احدھما انہ نفی القسم بھا لوضوح الامرو الثانی ان ل اور لکلام مقدر لانھم قالوا انت مفترایحسب الھمزۃ للاستفہام الانکاری وان مخففۃ المثقلۃ واسمھا ضمیر الشان محذوف و جواب القسم محذوف یدل علیہ ھذہ الجملۃ ای لیجمعن العظام۔ بلی ایجاب لمابعد النفی المنسحب الیہ الاستفہام والوقف علیہ حسن۔ ویبتدی الکلام بقولہ قادرین وانتصابہ علی الحال من الفاعل ای نجمعھا قادرین وقیل المعنی بل نجمعہا نقدر قادرین بنان جمع اواسم جمع لبنانۃ لیفجر اللام زائدۃ وناصبہ ان مقدرۃ ای ان یکذب امامہ ظرف ای لیکفرفیما یستقبل یسل تفسیر لیفجر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
کَلاَّ لاَ وَزَرَ ۔ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمُسْتَقَرُّ ۔ (القیامۃ : 11، 12)
(ہرگز نہیں، کوئی پناہ نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف ٹھکانہ ہوگا۔ )
گزشتہ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے پہلے مرحلے میں جب ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی تو پریشانی کا عالم یہ ہوگا کہ انسان بھاگے پھریں گے اور چیختے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ اب بھاگ کر کہاں جائیں۔ کوئی جائے پناہ معلوم ہو تو ہمیں بھی اس کی خبر دو ۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہرگز نہیں، اب کہیں کوئی جائے پناہ نہیں۔ اب تو تمہارا ٹھکانہ صرف تمہارے رب کے پاس ہے۔ اور تم اپنے رب کو اپنے کرتوتوں سے ناراض کرچکے ہو۔ تمہیں آج کے دن کا ویسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
فہم القرآن
ربط کلام : جس قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر ہو رہا ہے اس دن لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔
پہلی مرتبہ اسرافیل کے صور پھونکنے پر چاند اور سورج بےنور ہوجائیں گے اور کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اللہ تعالیٰ اس دن زمین و آسمانوں کو بدل دے گا۔ ( ابراہیم : 48) اسرافیل کے دوسری مرتبہ صورپھونکنے پر لوگ اپنے اپنے مدفن سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہر فرد محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائے گا جس طرح تیر اپنے نشانے پر جاتا ہے۔ (یٰس : 51)
رب ذوالجلال کی تشریف آوری سے پہلے جنتیوں اور جہنمیوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے گا، ملائکہ جہنمیوں کو بڑی بڑی زنجیروں کے ساتھ کھینچ کر محشر کے میدان میں لاکھڑا کریں گے۔…
Read the full tafseer →2 1 : اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِ الْمُسْتَقَرُّ (اس دن صرف آپ ہی کے رب کے پاس ٹھکانہ ہے) بندوں کے قرار کی جگہ نمبر 2۔ ان کے قرار کی جگہ جنت یا نار۔ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے سپرد ہیں۔ جس کو چاہے جنت میں داخل فرما دے۔ اور جس کو چاہے دوزخ میں داخل کر دے۔
Read the full tafseer →11 ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” کلا لا وزر “ نہ قلعہ ہے اور نہ کوئی جائے حفاظت اور نہ جائے پناہ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کوئی پہاڑ نہیں اور وہ جب خوفزدہ ہوتے تھے تو پہاڑ میں پناہ لیتے تھے تو اس کے ذریعے بچائو کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس دن کوئی پہاڑ نہ ہوگا جو ان کو بچائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1۔ 15۔ عربی زبان کے محاورہ کے موافق ایسی قسم کھانے کی جگہ پر لا زائد بڑھا دیا جاتا ہے جیسے لا واللہ۔ اکثر سلف کے نزدیک نفس لوامہ میں وہ نفس ہے جو اپنی خطا پر خود اپنے آپ کو ملامت کرے اور اس طرح کا نفس آدمی کے ایماندار ہونے کی نشانی ہے چناچہ مسند 3 ؎ امام احمد میں ابی امامہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا۔ حضرت آدمی کے ایماندار ہونے کی کیا نشانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو نیکی کرکے خوش ہو اور برائی کرکے پچھتائے تو یہی ایمانداری کی نشانی ہے شرح جامع الصغیر میں اس حدیث کو صحیح بتایا ہے۔ ایحسب الانسان سے علی ان نسوی بنانہ تک قسم کے جواب کا مضمون ہے۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمُسْتَــقَرُّ ) اس روز تمام بندوں کا تیرے رب کے پاس ٹھکانہ ہوگا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ وہ چھپ سکیں یا اس جگہ سے بھاگ سکے۔ اسے وہاں ضرور ٹھہرایاجائے گا تاکہ اسے اس کے عمل کی جزا وسزا دی جائے، اس لیے فرمایا (يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ ) اس دن انسان کو بتادیا جائے گا کہ جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔ انسان کو اس کے اول وقت اور آخر وقت کے تمام اچھے برے اعمال کے بارے میں اس کو آگاہ کردیا جائے گا اور اس کو ایسی خبر سے آگاہ کیا جائے گا جس کا وہ انکار نہیں کرسکے گا۔
Read the full tafseer →13 اس روز سب کا آخری ٹھکانا رب ہی طرف ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز سب کو تمہارے رب کے حضور ہی جاٹھہرنا ہوگا : اور وہاں اپنے دائمی ٹھکانے میں جانا ہوگا ‘ یا جنت کی صورت میں نیک لوگوں کیلئے " جعلنا اللہ منھم " یا دوزخ کی شکل میں مجرموں کیلئے والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح سب لوگ اہل جنت اور اہل دوزخ کے دو گروہوں میں بٹ جائیں گے ‘ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں اور دائمی طور پر پورے ہوسکیں ‘ اور اہل خیر اور اہل شر میں سے ہر گروہ اپنے حتمی اور دائمی انجام کو پہنچ جائے ‘ جیسا کہ سورة روم میں فرمایا گیا " و یوم تقوم الساعۃ یومئذ یتفرقون " (الروم :14) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
قیامت کا منظر
تشریح : یہ دن بڑا ہی خو فناک دن ہوگا۔ یعنی قیامت کا دن۔ یہ دن اچانک آئے گا اور اس کی ہیبت کا اندازہ اس طرح کرلیجئے کہ جب آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ ہمارے ایک مسلم سائنسدان نے ان آیات کی بڑی خوبصورت وضاحت کی ہے۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والا آتشین مادہ جو ہر آن سورج سے دھماکوں کے ساتھ نکلتا رہتا ہے۔ اوسطاً یہ آتشی مادے سورج کی سطح سے تقریباً دس لاکھ میل دور تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ سفر تقریباً 450 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرتے ہیں۔ اگر یہ شمسی طوفان شدت اختیار کر جائـیں تو پھر سورة دخان کی آیت 10 کے مطابق قیامت کے ایام میں شمسی فلیرز اور گرم پلازما ہماری زمین کو اپنی لپیٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة القیامہ۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قیامت کے دن کی قسم یعنی قیامت کا دن خود اپنے واقع ہونے پر گواہ ہے کہ جب پیدا کیا عقل و شعور دیا ، نبی بھیجے اور اختیار دیا تو اب ضروری ہے کہ محاسبہ بھی کرے نیز وہ نفس کہ اپنا احتساب کرتا ہے یعنی وہ لوگ بھی گواہ ہیں جو زندگی بھر پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور کفار کی طرح عیش نہیں کرتے یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حساب کتاب ضرور ہوناچاہیے۔
نفس اور اس کی اقسام۔
عناصر اربع کے ملنے سے نفس بنتا ہے چونکہ مادہ سے بنا ہے مادی لذات کی طرف کھینچتا ہے قرآن نے اسے نفس امارہ کہا ہے یعنی برائی کرنے والا کو جب ایمان نصیب ہوتا ہے اور بھلائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1 یعنی جو اچھے برے اعمال کر کے اس نے بطور توشہ آخرت آگے بھیجے
Read the full tafseer →(75:12) الی ربک یؤمئذ ن المستقر، استقرار (استفعال) سے اسم مفعول واحد مذکر (اسم ظرف مکان واحد) ٹھیرایا ہوا۔ قرار یافتہ شدہ، ٹھیرنے کی جگہ۔ مبتداء الی ربک اس کی خبر، یومئذ متعلق خبر۔
ربک میں ک ضمیر واحد مذکر، رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے اور تخصیص کے معنی کے لئے لائی گئی ہے۔ صرف آپ کے رب کے پاس ہی اس روز ٹھکانا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔
النفس اللوامۃ۔ ملامت کرنے والا نفس۔ لن نجمع۔ ہم ہرگز جمع نہ کریں گے۔ عظام۔ ہڈیاں۔ نسوی۔ ہم برابر بٹھا دیں گے۔ ٹھیک بٹھا دیں گے۔ بنانہ۔ اس کی پور پور۔ لیفجر۔ تاکہ وہ بدکاری کرے۔ امام۔ سامنے۔ ایان۔ کب۔ برق البصر۔ آنکھ کھلی کی کھلی رہ جائے گی۔ خسف القمر۔ چاند کو گہن لگ جائے گا۔ المفر۔ بھاگنے کی جگہ۔ وزر۔ پہاڑ۔ بوجھ۔ المستقر۔ ٹھکانا۔ معازیر۔ حیلے بہانے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور نفس لوامہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گلی سڑ جائی گی، چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے جسم کے تمام اجزاء اور ذرات بکھر کرنا پید ہوجائیں گے کیا ہم دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(ف 1) یعنی سب اگلے پچھلے اعمال نیک ہوں یا بد اس کو جتلادیے جائیں گے تمام عمر کے اعمال کا اس سے حساب لیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
[5] یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہیں اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہوگا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی ہے اور نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اس کی پیشی میں ٹھہرنا ہے۔ پھر وہ جس کے حق میں فیصلہ کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 2: فرمایا ۔ آج تو یہ لوگ قیامت کے نام سے متنفر ہیں ۔ اور اس کو محض ڈھکوسلا قرار دیتے ہیں ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب آنکھیں مارے حیرت کے کھلی کھلی رہ جائیں گی ۔ چاند بےنور رہ جائیگا ۔ اور آفتاب بھی اس تاریکی اور بےنوری میں اس کا شریک ہوجائیگا ۔ اس دن یہ لوگ کہیں گے ۔ کہ آج کہاں بھاگ کرجائیں ۔ اس وقت معلوم ہوگا ۔ کہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ سوائے پروردگار عالم کے حضور کے ۔ اس وقت ان کو ان کے کئے دھرے کا پتہ دیا جائیگا ۔ بلکہ یہ خود اس قابل ہونگے ۔ کہ اپنے اعمال کو کو دیکھ سکیں ۔ اور اپنے متعلق فیصلہ کرسکیں ۔ اگرچہ بتقاضائے بشریت یہ عذر اور بہانے پیش کرینگے ۔ مگر یہ واقعہ ہے ۔ کہ دل میں…
Read the full tafseer →(12) اس دن صرف آپ کے پروردگار ہی کے پاس ٹھکانہ ہوگا۔ یعنی سوائے پروردگار عالم کے اور کوئی جگہ ٹھہرائو اور قرار کی نہیں اسی کے پاس جانا ہے پھر وہ چاہے دوزخ میں بھیجے یا جنت میں جانے کا حکم دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ف 3۔ یعنی چونکہ تمام عمر معاصی و شہوات میں گزارنے کا عازم ہے اس لئے اس کو طلب حق کی نوبت ہی نہیں آتی، کہ قیامت کا ہونا اس کو ثابت ہو، اس لئے انکار پر مصر ہے اور نکار پوچھتا ہے کہ کب آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
(کہے گا انسان) یعنی تکذیب کرنے والا کافر (اس دن کہ کہاں بھاگ کر بچوں۔ ہرگز نہیں) ایسوں کے لیے (کوئی پناہ گاہ نہیں) اور (تمہارے رب ہی کی طرف) یعنی اس کے حکم کی طرف (اس دن ٹھہرنے کی جگہ ہے) یعنی حق تعالیٰ ہی اپنی مشیت سے جنتیوں اور دوزخیوں کے ٹھہرنے کی جگہ مقرر کرے گا۔ (بتا دیا جائے گا انسان اس دن جو کچھ آگے پیچھے کیا تھا) یعنی اس کے اعمال جو آگے پہنچ گئے اور اس کے اموال جو پیچھے رکھے رہ گئے۔ گناہ تو آگے بھیجتا ہے جرات کے ساتھ اور مال پیچھے رکھتا ہے حسرت کے ساتھ۔ تو چاہیے کہ گناہ کو توبہ سے نیست و نابود کردے کہ باقی نہ رہے ، اور مال صدقہ دے کر آگے بھیجے کہ ہمیشہ باقی رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ (So, when the eyes will be dazzled, and the moon will lose its light, and the sun and the moon will be joined together,...75:7-9). This describes the scenes of the Resurrection.
The verb bariqa means for the eyes 'to be dazzled and unable to see'. On the Day of Resurrection, the eyes of all will be dazzled and will not be able to see consistently. The verb khasafa is derived from khusuf which means 'to lose light and become dark'. The verse purports to say that the moon will lose its light or will be eclipsed. The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
8 This is a brief description of the chaotic condition of the system of the universe, that will prevail in the first stage of Resurrection. The darkening of the moon and the joining of the moon and the sun together can also mean that not only will the moon lose its light, which is borrowed from the sun, but the sun itself will become dark and both will become devoid of light similarly. Another meaning can be that the earth will suddenly start rotating in the reverse order and on that day both the moon and the sun will rise simultaneously in the west. And a third meaning can be that the moon…
Read the full tafseer →