Al-Jinn 72:9

Al-Jinn · from ayah 9

72:9

وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ؕ— فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا ۟ۙوَّاَنَّا كُنَّا نَقۡعُدُ مِنۡهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمۡعِ‌ ؕ فَمَنۡ يَّسۡتَمِعِ الۡاٰنَ يَجِدۡ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And we used to sit therein in positions for hearing, but whoever listens now will find a burning flame lying in wait for him.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jinn

All translations of 72:9

اور یہ کہ "پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے، مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان میں جگہ جگہ بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اب جو بھی کان لگاتا ہے وه ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ : ہم پہلے سن گن لینے کے لیے آسمان کی کچھ جگہوں پر جا بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن اب جو کوئی سننا چاہتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ ایک شعلہ اس کی گھات میں لگا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ ہم پہلے آسمان میں سننے کے لیے کچھ موقعوں پر بیٹھا کرتے تھے، پھر اب جو کوئی سنے وہ اپنی تاک میں آگ کا لُوکا (لپٹ) پائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ ہم (پہلے آسمانی خبریں سننے کے لئے) اس کے بعض مقامات میں بیٹھا کرتے تھے، مگر اب کوئی سننا چاہے تو وہ اپنی تاک میں آگ کا شعلہ (منتظر) پائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک ہم اس کی کئی جگہوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے تو جو اب کان لگاتا ہے وہ اپنے لیے ایک چمکدار شعلہ گھات میں لگا ہوا پاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ کہ : ہم سننے کے لئے آسمان کے ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے مگر اب جو سننے کو کان لگائے تو وہ اپنے لیے ایک شہاب کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں کچھ سن گن لینے کو بیٹھا کرتے تھے پر اب جو بیٹھے گا تو وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم آسمان کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے (وہاں کی خبروں کے بارے میں) کچھ سن گن لینے کے لئے مگر اب (یہ حال ہے کہ) جو بھی کوئی سننے کے لئے کان دھرتا ہے تو وہ پاتا ہے اپنے لئے ایک شعلہ گھات میں لگا ہوا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم آسمان کے موقعوں پر جا بیٹھا کرتے تھے (خبریں) سننے کے لئے سو جو کوئی اب سننا چاہتا ہے اپنے لئے ایک تیار شعلہ پاتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے کچھ سن گن لینے کے لیے۔ لیکن اب اگر کسی نے کچھ سننے کی کوشش کی تو وہ پائے گا اپنے واسطے ایک انگارہ گھات میں لگا ہوا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات پر خبریں سننے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and that “we would take up stations in the heaven to try to hear but anyone who now attempts to listen finds a shooting meteor in wait for him”;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that we used to sit at places therein to listen; but if one will (try to) listen now, he will find a flame in ambush for him,

— Muhammad Taqi Usmani

and that we used to sit at places therein to listen; but if one will (try to) listen now, he will find a flame in ambush for him,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`And verily, we used to sit there in stations, to (steal) a hearing, but any who listens now will find a flaming fire watching him in ambush.'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And we used to sit on places (high) therein to listen. But he who listeneth now findeth a flame in wait for him;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And we used to sit therein in positions for hearing, but whoever listens now will find a burning flame lying in wait for him.

— Saheeh International

We used to sit near by and try to listen to the heavens, but shooting flames now await those who try to do that.

— Muhammad Sarwar

And that we used to sit in some of the sitting-places thereof to steal a hearing, but he who would (try to) listen now would find a flame lying in wait for him:

— Muhammad Habib Shakir

And we were wont to sit on seats therein to listen; but whosoever listeneth now findeth for him a dartin meteor in wait.

— Abdul Majid Daryabadi

'We used, indeed, to sit there in (hidden) stations, to (steal) a hearing; but any who listen now will find a flaming fire watching him in ambush.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 72:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–10

بعثت نبوی ﷺ سے پہلے جنات آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں پر جاتے کسی جگہ بیٹھتے اور کان لگا کر فرشتوں کی باتیں سنتے اور پھر آ کر کاہنوں کو خبر دیتے تھے اور کاہن ان باتوں کو بہت کچھ نمک مرچ لگا کر اپنے ماننے والوں سے کہتے، اب جب حضور ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان پر زبردست پہرے بٹھا دیئے گئے اور ان شیاطین کو پہلے کی طرح وہاں جا بیٹھنے اور باتیں اڑا لانے کا موقعہ نہ رہا، تاکہ قرآن کریم اور کاہنوں کا کلام خلط ملط نہ ہوجائے اور حق کے متلاشی کو دقت واقع نہ ہو۔ یہ مسلمان جنات اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم آسمان پر جا بیٹھتے تھے مگر اب تو سخت پہرے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجِنّ 9 یہ ہے وہ وجہ جس کی بنا پر یہ جن اس تلاش میں نکلے تھے کہ آخر زمین پر ایسا کیا معاملہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کی خبروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس قدر سخت انتظامات کیے گئے ہیں کہ اب ہم عالم بالا میں سن گن لینے کا کوئی موقع نہیں پاتے اور جدھر بھی جاتے ہیں مار بھگائے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

(آیت) وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا لفظ سماء عربی لغت میں جس طرح آسمان کے لئے بولا جاتا ہے اسی طرح بادل پر بھی لفظ سماء کا اطلاق عام اور معوف ہے۔ یہاں بظاہر سماء سے مراد یہی بادل ہے۔ جنات آسمانی خبریں سننے کے لئے صرف بادلوں تک جاتے تھے آسمان تک نہیں۔ اور جنات و شیاطین کا آسمانی خبریں سننے کے لئے آسمان تک جانے کا مطلب یہی ہے کہ بادلوں تک جاتے تھے اور وہاں سے آسمانی خبریں سنتے تھے۔ اور دلیل اس کی حضرت صدیقہ عائشہ کی حدیث جو صحیح بخاری میں بالفاظ ذیل آئی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ فرشتے عنان سماء میں اترتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 8–9

ایک نئے تجربے کا حوالہ: یہ انھوں نے اپنے ایک خاص تجربہ کا حوالہ دیا جو اس کتاب کے نزول کے دور میں بالکل پہلی بار اس کائنات کے نظام میں ان کو ہوا۔ انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ اس دوران میں ہم نے آسمان کا جائزہ لیا تو یہ دیکھا کہ آسمان زیریں پہرہ داروں اور شہابوں سے بھر دیا گیا ہے اور ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں عالم بالا کے اسرار کی کچھ سن گن لینے کے لیے جو بیٹھا کرتے تھے تو اب اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی اب اس کی کوشش کرے گا تو ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان فرمائی گئی ہے کہ شیاطین جن عالم غیب کی باتیں اچکنے کے لیے جب گھات لگاتے ہیں تو ان پر شہاب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 اور آسمانی باتوں کی کچھ گن سن پا کر کاہنوں کو بتلا دیا کرتے تھے جس میں وہ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیا کرتے تھے۔ 9۔ 2 لیکن بعثت محمدیہ کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا، اب جو بھی اس نیت سے اوپر جاتا ہے، شعلہ اس کی تاک میں ہوتا ہے اور ٹوٹ کر اس پر گرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

6: یہ وہی بات ہے جس کا ذکر حاشیہ نمبر 1 میں اوپر گذرا ہے کہ جنات کو آسمان کے قریب پہنچنے سے بھی روک دیا گیا ہے، اور اس غرض سے فرشتوں کو پہرے پر مقرر کردیا گیا ہے جو چوری چھپے فرشتوں کی باتیں سننے والے کو شعلے پھینک کر مار بھگاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

وانا لمسنا ............................ ربھم رشدا یہ واقعات جو جنوں کے ذریعہ قرآن نے نقل کیے ہیں ، بتاتے ہیں کہ اس آخری رسالت سے قبل کے زمانے میں ، جس میں رسول نہ تھا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے دور میں ، جنوں کا یہ مشغلہ تھا کہ وہ عالم بالا کی طرف جاتے تھے اور عالم بالا میں اس زمین اور کائنات کے بارے میں جو احکام صادر ہوئے تھے یا فرشتوں کے درمیان زیر بحث آتے تھے ، مثلاً اللہ تعالیٰ فرشتوں کو جو احکام برائے نفاذ صادر کرتا تھا ، یہ جن عالم بالا میں بعض مقامات تک پہنچ کر گن سن لے لیتے تھے اور پھر ان سچی معلومات کے ساتھ بہت سی غلط معلومات جمع کرکے ، یہ جن دنیا میں کاہنوں ، قیافہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–9

7 یعنی ہم اڑ کر آسمان کے قریب تک پہنچے تو دیکھا کہ آجکل بہت سخت جنگی پہرے لگے ہوئے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے نہیں دیتے اور جو شیطان ایسا ارادہ کرتا ہے اس پر انگارے برستے ہیں اس سے پیشتر اتنی سختی اور روک ٹوک نہ تھی جن اور شیاطین آسمان کے قریب گھات میں بیٹھ کر ادھر کی کچھ خبر سن کر آیا کرتے تھے۔ مگر اب اس قدر سخت ناکہ بندی اور انتظام ہے کہ جو سننے کا ارادہ کرے فوراً شہاب ثاقب کے آتشیں گولے سے اس کا تعاقب کیا جاتا ہے۔ اس کی بحث پہلے سورة " حجر " وغیرہ میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

آیت 10{ وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ } ”اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے“ { اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا۔ } ”یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔“ جنات کی اس بات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ تورات کے عالم تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کے دو امکانی نتائج میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آتا ہے۔ یا تو متعلقہ قوم اپنے رسول پر ایمان لا کر ہدایت کے راستے پر چل پڑتی ہے یا اس کا انکار کر کے تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 ایام جاہلیت میں کہانت کا کاروبار :۔ دور نبوی میں کہانت کا کاروبار خاصا چلتا تھا۔ اس کاروبار کی بنیاد یہ تھی کہ ان کاہنوں کا تعلق شیطانوں سے ہوتا تھا۔ چناچہ ایک دفعہ صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ کاہنوں کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا : ان کی باتیں محض لغو ہیں۔ صحابہ نے کہا : کبھی تو ان کی بات سچ بھی نکل آتی ہے۔ فرمایا : یہ وہ بات ہوتی ہے جو کاہن کو شیطان کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے اور شیطان یہ خبر ملاء اعلیٰ سے اڑا لیتا ہے، پھر کاہن اس خبر میں سو جھوٹ ملالیتا ہے۔ (بخاری۔ باب الکہانۃ) رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد آسمان کے پہرے سخت کردیئے گئے۔ تاکہ کوئی شیطان آسمان کے قریب بھی نہ پھٹکنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 7–9

5۔ فضائے آسمانی کے آتشیں تیروں اور گرزوں اور شہاب ثاقب پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔ سورة الصافات (پ 23) وغیرہ کے ذیل میں۔ (آیت) ” الان “۔ یعنی نزول قرآن اور ظہور محمدی ﷺ کے بعد۔ اے بعد البعث (مدارک) (آیت) ” فوجدنھا ..... شھبا “۔ یعنی اب دفع التباس کے لئے باب کہانت بالکل بند ہوگیا ہے۔ (آیت) ” نقعد منھا مقاعد “۔ آسمانوں کے موقعوں سے مرا دفضائے آسمانی ہے۔ نفس آسمان کا جسم اس سے لازم نہیں آتا۔ جنات ناری مخلوق ہیں۔ انہیں اپنی لطافت وعدم ثقل کے باعث فضائے آسمانی کو اپنا مستقر بنالینا خاکی مخلوق کے مقابلہ میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ جیسے پرندوں کو بمقابلہ چرندوں اور درندوں کے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–20

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے محمد ﷺ ! لوگوں کو بتائیے کہ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بات بتائی گئی ہے (یعنی) وحی کے ذریعہ اللہ کی طرف سے مجھے خبر دی گئی ہے کہ نصیبین کے جنوں کی ایک جماعت نے میری قرأت سنی اور یہ واقعہ بطن نخلہ میں جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے فجر کی نماز میں پیش آیا اور یہ جن وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” واذ صرفنا الیک نفرا من الجن “ میں کیا گیا ہے، تو انہوں نے اپنی قوم کے پاس واپس جا کر کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے کہ اس کی (لفظی) فصاحت اور (معنوی) بلاغت وغیرہ سے تعجب ہوتا ہے جو راہ راست (اور) ایمان کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع . ہم اس سے پہلے آسمان یعنی ابر میں ان جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے جو چوکیداروں اور شہابوں سے خالی ہوتی تھیں اور اس قابل ہوتی تھیں کہ تاک لگا کر وہاں سنا جاسکے۔ فمن یستمع الا یجد لہ شھابا رصدا . لیکن اب بعثت کے بعد جو سنتا ہے وہ اپنی تاک میں کسی شہاب کو پاتا ہے اور شعلہ باری اس کو سننے سے روک دیتی ہے یا شہاب سے مراد ہے شہاب والے (ملائکہ) اور صد جمع ہے راصد کی۔ مطلب یہ کہ وہ شہاب والے ملائکہ کو تاک میں پاتا ہے ‘ جنات کے حق میں رسول اللہ ﷺ کا یہ معجزہ تھا ‘ اسی وجہ سے وہ ایمان لائے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور رسول اکرم کی بعثت سے پہلے ہم آسمان کی خبریں سننے کے لیے جا بیٹھا کرتے تھے تو حضور کی بعثت کے بعد اب اگر کوئی سننا چاہتا ہے تو اپنے لیے تیار شعلہ اور محافظ فرشتوں کو پاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–9

(1) وانا لمسنا السمآء فوجدنھا ملئت …: اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت کے علاوہ ان شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بھی بنایا ہے جو آسمان کے قریب جا کر فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو ہٹانے کے لئے ہر طرف سے ان پر شہابوں (انگ اورں) کی بارش ہوتی ہے۔ (دیکھیے صافات : 6 تا 10) عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(ان الملائکۃ تنزل فی العنان وھو السحاب فتذکر الا مر قضی فی السماء فتسترق الشیاطین السمع فتسمعہ فتوحیہ الی الکھان ، فیکذبون معھا مائۃ کذبۃ من عندانفسھم) (بخاری، بدء الخق ، باب ذکر المائکۃ صولات اللہ علیھم : 3210)”فرشتے عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور (آپس میں) اس بات کا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–10

تفسیر 8 تا 10 اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لمسناالسماء یہ جنوں کا قول ہے یعنی ہم نے اس کی خبر جاننا چاہی جس طرح ہماری عادت تھی تو ہم نے اسے پایا کہ وہ فرشتوں سے بھرا ہے۔ حرس، حارس کی جمع ہے اور شھب، شھاب کی جمع ہے وہ ستاروں کاٹوٹنا ہے جو انہیں چوری چھپے باتیں سننے پر جلاتے ہیں اور اس بارے میں گفتگو سورة حجر اور صافات میں گزرچکی ہے وجد کے بارے میں یہ جائز ہے کہ اسے دو مفعولوں کی طرف متعدی مانا جائے ان دو میں سے پہلامفعول ھاضمیر ہے اور ملئت اس کے دوسرے مفعول کے محل میں ہے یہ بھی جائز ہے کہ وہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہو اور ملئت، قد کے مضمر ماننے کے ساتھ حال ہو، حرسا، ملئت کا مفعول ثانی ہونے کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

36۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانا کنا نقعد منہا مقاعد للسمع اور ہم اس کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے۔ سے مراد ہے کہ آسمان پر پہرہ لگادیا گیا جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تاکہ کوئی چوری چھپے نہ سنے۔ جنات نے اس کا انکار کیا اب ان میں سے جس نے سننے کی کوشش کی اسے دور بھگا دیا گیا۔ 37۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان سے باتیں سن لیتے تھے۔ جب آپ کی تشریف آوری ہوئی تو پہرہ لگادیا گیا۔ جس سے وہ آسمان کی باتیں نہ سن سکے وہی اپنی قوم کے پاس آئے اور ان کو کہنے لگے انہوں نے کچھ نہیں سنا۔ اور کہنے لگے آیت وانا لمسنا السماء فوجدناہا ملئت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّانا كُنَا نَقْعُدُ : اور یہ کہ ہم بیٹھا کرتے تھے ] [مِنْهَا مَقَاعِدَ : اس (آسمان) میں بیٹھنے کی جگہوں (مورچوں) پر ] [لِلسَّمْعِ : سننے کے لیے ] [فَمَنْ يَّسْتمعِ الْاٰنَ : پس جو (کوئی) سنتا ہے اب ] [يَجِدْ لَه : تو وہ پاتا ہے اپنے لیے ] [شِهَابًا رَّصَدًا : ایک گھات میں بیٹھنے والا انگارہ ] نوٹ۔ 1: یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ جنوں کی حقیقت کیا ہے تاکہ ذہن کسی الجھن کا شکار نہ ہو۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جن کسی حقیقی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بھی پرانے زمانے کے اوہام میں سے ایک بےبنیاد خیال ہے۔ مسلمانوں میں سے جو لوگ اس طرز فکر سے متاثر ہیں، مگر قرآن کا انکار بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–9

﴿وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ ﴾ (الآیات) جنات نے یہ بھی کہا کہ ہم اس سے پہلے آسمان کی طرف جایا کرتے تھے وہاں موقع دیکھ کر بیٹھتے تھے اور اوپر جو باتیں ہوتی تھیں انہیں سنا کرتے تھے اب تو حالت یہ ہے کہ ہم اوپر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آسمان سخت پہرہ سے بھرا ہوا ہے (یہ پہرہ فرشتوں کا ہے) اور اس پہرہ کے علاوہ ایک یہ بات بھی ہے کہ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو شعلوں کو تیار پاتے ہیں اب اگر کوئی اوپر کی باتوں کو سننا چاہے تو جو شعلے پہلے سے تیار ہیں ان میں سے کوئی شعلہ اسے مار دیتا ہے (اس کی تفصیل سورة ٴ حجر اور سورة ٴ صافات میں گزر چکی ہے) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–19

تاثیر حقانیت قرآن برقوم جن و قبول ایمان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن ...... الی ...... یکونون علیہ لبدا “۔ (ربط) گذشتہ سورة نوح میں یہ بیان تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کس قدر طویل مدت تک اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن بدنصیب قوم بجائے اس کے کہ ہدایت قبول کرتی اور شقاوت وبدبختی میں اضافہ ہی ہوتا رہا اب اس سورت میں قوم جن کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے کہ کس طرح ان میں سے ایک گروہ قرآن سن کر اسکی حقانیت کا گرویدہ ہوگیا کلام الہی کی معرفت نصیب ہوتی اور حق پہچان کر اس کھلے دل سے تیار ہوگئے صرف یہی نہیں کہ خود انہوں نے حق قبول کیا بلکہ وہ تو داعی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–9

7:۔ ” وانھم ظنوا “ ضمیر انس کی طرف راجع ہے۔ ” ظننتم “ خطاب جنات سے ہے اے قوم شرک کے علاوہ تم حشر و نشر کا بھی انکار کرتے تھے اس طرح بنی آدم کا بھی یہی خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ کسی کو زندہ نہیں کرے گا۔ ” وانا لمسنا السماء فملئت حرسا شدیدا “ جنات نے مزید کہا کہ پہلے ہم آسمان کی طرف جاتے تھے اور قریب ہی اطمینان سے بیٹھ کر فرشتوں کی باتیں سنتے تھے کوئی روک ٹوک نہ تھی اور نہ کوئی چوکیدار وہاں مقرر تھے، لیکن ہم اب آسمان کے قریب جاتے ہیں تو وہاں نہایت سخت پہرہ لگا ہے اور جنوں کو بھگانے کے لیے چمکتے شہا بےموجود ہیں اس لیے اب اگر کوئی آسمان کی طرف وہاں کی باتیں سننے کے لیے جائے تو شہاب ثاقب اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–15

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ۝ 0 ۭ فَمَنْ يَّسْتَمِـــعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا۝ 9 ۙ قعد القُعُودُ يقابل به القیام، والْقَعْدَةُ للمرّة، والقِعْدَةُ للحال التي يكون عليها الْقَاعِدُ ، والقُعُودُ قد يكون جمع قاعد . قال : فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ النساء/ 103] ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً [ آل عمران/ 191] ، والمَقْعَدُ : مكان القعود، وجمعه : مَقَاعِدُ. قال تعالی: فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ [ القمر/ 55] أي في مکان هدوّ ، وقوله : مَقاعِدَ لِلْقِتالِ [ آل عمران/ 121] كناية عن المعرکة التي بها المستقرّ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–10

ترکیب : رھقا وعتوا مفعول ثان لزادوا والرھق فی الاصل غشیان الشیء وانھم من کلام الجن بعضھم لبعض اواستیناف من اللہ سبحانہ ٗ و من فتح ان فیھا جعلھما من الموحی بہ ان لن الجملۃ ساومسدمفعولی ظنوا للسمع صلۃ لنقعد اوصفۃ لمقاعد۔ تفسیر : انہوں نے مان لیا جو تمہارے استاد تھے تم نہیں مانتے ‘ افسوس ہے۔ شان نزول : اس سورة کی شان نزول میں امام احمد اور ترمذی اور بخاری و مسلم وغیرہ کبار محدثین نے مختلف طرق سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب مع اس تشریح کے جو کتب سیر میں ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے برسوں قریش کو مکہ میں سمجھایا اور ان کی سختیوں کی بڑی استقلال سے برداشت کی اور بجز چند لوگوں کے ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَـآئَ فَوَجَدْنٰـھَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُھُبًا۔ وَّاَ نَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا مَقَاعِدَلِلسَّمْعِ ط فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْلَـہٗ شِھَابًارَّصَدًا۔ وَّ اَنَّا لاَ نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَبِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَبِھِمْ رَبُّھُمْ رَشَدًا۔ (الجن : 8 تا 10) (اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–15

فہم القرآن ربط کلام : جنوں کے واقعہ اور بیان کا ذکر جاری ہے۔ جنوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ نبی کے آنے کے بارے میں ہمارا اور انسانوں کا گمان اس لیے غلط ثابت ہوا کہ پہلے ہم آسمان کے قریب جاکر ملائکہ کی کوئی نہ کوئی بات سن لیا کرتے تھے لیکن اب ہم آسمان کے قریب جاتے ہیں تو اسے سخت پہرے داروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پاتے ہیں، ہم میں جو بھی سننے کے لیے آسمان کے قریب جاتا ہے تو وہ اپنے تعاقب میں بھڑکتا ہوا شعلہ پاتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رہنے والوں کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی راہنمائی کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم میں سے کچھ صالح ہیں اور باقی برے ہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شہابِ ثاقب : 9 : وَّاَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْھَا (ہم اس میں بیٹھا کرتے تھے) یعنی آسمان میں اس سے پہلے مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ (موقعوں پر سننے کیلئے) تاکہ ہم آسمان کی خبریں سنیں یعنی آسمان کے بعض موقعوں کو پہرہ داروں اور شہابوں سے آپ کی بعثت سے پہلے خالی پاتے ( تو وہاں آسمان کی خبریں سننے کیلئے بیٹھ جاتے) فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ (پس جو کوئی اب سننا چاہتا ہے) یعنی سننے کا ارادہ کرتا ہے۔ الانؔ بعثت نبوی کے بعد یَجِدْلَہٗ (تو اپنے لئے پاتا ہے) یعنی اپنی ذات کے لئے شِھَا بًا رَّصَدًا (تیار شعلہ) رصد ؔ یہ شہاب کی صفت ہے۔ اور یہ اسم فاعل الراصد کے معنی میں ہے ای شہابا راصدا لہ ولاجلہ تیار شعلہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 9–10

8 ۔” وانا “ جن کہنے لگے۔ ” لمسنا السمآء “ کلبی (رح) فرماتے ہیں آسمان دنیا ” فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا “ اس کا گھات لگایا ہے تاکہ اس کو مارے۔ ابن قتیبہ (رح) فرماتے ہیں بیشک مارنا نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا اور آپ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد سخت چوکیداری کی کوئی مشال ہی نہیں ہے اور وہ بعض حالات میں بات چرالیتے تھے، پھر جب نبی کریم ﷺ کو بھیجا گیا تو وہ اس سے بالکل روک دیئے گئے۔ پھر انہوں نے کہا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–10

8۔ 10۔ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ سے پہلے جنات بعض روایتوں کے موافق اول آسمان بعض کے موافق چوتھے آسمان تک پہنچ کر چوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن آتے تھے اور ایک بات میں نو باتیں اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر کاہن لوگوں سے کہہ دیتے تھے قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ بڑھ گیا اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے جب آسمان تک جانے کا قصد کیا تو ان پر چاروں سے طرف سے انگارے برسنے شروع ہوگئے جنات نے اس انتظام کا ذکر ابلیس سے کیا۔ اس ملعون نے ہر طرف جنات کو اس انتظام کا سبب دریافت کرنے کو بھیجا باقی ٹکڑا اس حدیث کا اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–10

(وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ) اس سے پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمانوں کے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتے تھے، ہم اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق آسمان کی خبریں حاصل کرلیتے تھے (فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا) اب اگر کوئی سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو شہاب ثاقب کو گھات میں لگے ہوئے پاتا ہے جو اس کو تلف کرنے اور جلا ڈالنے کے لیے تیار ہوتا ہے، یعنی یہ معاملہ بہت عظیم اور اس کی خبر بہت بڑی ہے، انہیں قطعی طور پر یقین ہوگیا کہ اللہ نے زمین پر ایک بڑا واقعہ وقوع پذیر کرنے کا ارادہ فرمایا ہے، اس لیے انہوں نے کہا یعنی خیر یا شر میں سے ایک لازمی امر ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

11 ۔ نظام کائنات میں واقع ہونے والی تبدیلی پر اظہار تردد کا ذکر وبیان : سو نظام کائنات میں واقع ہونے والی اس تبدیلی پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لئے کسی شرکا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی خیر کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس نئی اور انقلابی صورتحال سے، جواب دیکھنے میں آرہی ہے، یہاں پر ان جنوں کا حسن ادب ملاحظہ ہو کہ شر کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہیں کی، بلکہ مجہول کے صیغے کے ساتھ اشر ارید کہا جب کہ بھلائی اور خیر (رشد) کی نسبت اس کی طرف کی اور کہا ام ارادبھم ربھم رشدا کہ وہ وحدہ لاشریک حقیقتاً اور فی الواقع ہر قسم کے شر اور اس کے ہر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 گویا شہاب ثاقب کا آتشین گولا گھات میں ہے کہ جونہی کوئی جن فرشتوں کی باتیں سننے کے لئے آسمان پر پہنچے وہ اس کے تعاقب کے لئے لپکے۔ یہ مضمون سورة حجر میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ (دیکھیے اس کی آیات 18-17)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(72:9) وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع واؤ عاطفہ، انا تحقیق ہم۔ یہ کہ ہم کنا نقعد ماضی استمراری صیغہ جمع متکلم قعود (باب نصر) مصدر۔ ہم بیٹھتے تھے۔ ہم بیٹھا کرتے تھے۔ منھا : من حرف جار ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مجرور۔ کا مرجع السماء ہے۔ مقاعد جمع مقعد کی۔ بیٹھنے کی جگہ۔ اسم ظرف مکان نقعد کا مفعول ۔ قعود (باب نصر) مصدر۔ اور یہ کہ ہم (پہلے) تو آسمانوں کے بعض ٹھکانوں میں (بیٹھنے کی جگہوں پر) سننے کیلئے بیٹھ جایا کرتے تھے۔ فمن :عاطفہ، من شرطیہ جو کوئی۔ یستمع۔ مضارع مجزوم۔ مکسور بالوصل۔ واحد مذکر۔ استماع (افتعال) مصدر۔ بمعنی سننے کے لئے کوشش کرنا۔ الئن : اب۔ اسم ظرف زمان ہے مینہ برفتحہ، ال بعض کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ استمع۔ غور سے سنا۔ نفر۔ افراد۔ الرشد۔ ہدایت۔ سیدھا راستہ۔ شطط۔ حد سے بڑھئی ہوئی بات۔ یعوذون۔ پناہ مانگتے ہیں۔ رھق۔ ضد۔ سرکشی ۔ بددماغی۔ ملئت۔ بھردیا گیا۔ شھب۔ شہاب۔ انگارے۔ نقعد۔ ہم بیٹھتے ہیں۔ رصد۔ گھات میں لگا ہوا۔ قدد۔ مختلف۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ھرب۔ بھاگنا۔ بخس۔ نقصان۔ رھق۔ دبائو۔ حطب۔ ایندھن۔ تشریح : رسول اللہ ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنات آسمان کے کسی کونے تک پہنچ کر چوری چھپے کسی رکاوٹ کے بغیر فرشتوں کی اس گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے جو وہ دنیا کے کاموں کے تدبیر کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے باتیں کرتے تھے۔ یہ جنات فرشتوں کی باتیں سن کر اپنے کاہنوں کو بتا دیا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–9

جنات کا آسمان پر نہ جانے کا سبب اور حضور کی نصیحت۔ (ف 1) قرآن شریف کے نازل ہونے کے قبل زمانہ جنات بعض روایوں کے موافق اول آسمان پر پہنچ کرچوری سے آسمان پر کی کچھ خبریں سن کر آتے تھے اور ایک بات میں نوباتیں اپنی طرف سے ملاکرکاہن لوگوں کو کہہ دیتے تھے ، قرآن شریف کا نزول شروع ہوتے ہی آسمان کی خبروں کی حفاظت کا انتظام زیادہ ہوگیا، اس انتظام کے بعد پہلے کی طرح جنات نے آسمان تک جانے کا قصد کیا تو دیکھا کہ آج کل بہت سخت جنگی پہرے لگے ہوئے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے نہیں دیتے، اور جو شیطان ایسا ارادہ کرتا ہے اس پرچاروں طرف سے انگارے برستے ہیں اس سے پہلے اتنی سختی روک ٹوک نہ تھی اب اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–17

[1] اشارہ ہے اس قحط کی طرف جو مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں آپ ﷺ کی دعا سے کئی سال ان پر مسلط رہا۔ اس لئے فرمایا کہ اگر لوگ ظلم و شرارت سے باز آ کر اللہ کے راستے پر چلتے تو قحط دور ہوتا اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جاتا۔ اس میں ان کی آزمائش ہوتی کہ وہ نعمت پاکر شکر گزار ہوتے ہیں یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–17

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) پہلے ہم باتیں سننے کے لئے آسمان کے ٹھکانوں میں جا بیٹھا کرتے تھے مگر اب کوئی سننا چاہتا ہے تو وہ اپنے لئے آگ کے ایک تیز شعلے کو منتظر پاتا ہے یعنی اب حالت یہ ہے کہ کوئی آسمان کے قریب پہنچتا ہے تو وہ اپنے لئے آگ کے ایک شعلہ کو منتظر اور گھات میں لگا ہوا پاتا ہے کہ قریب پہنچے اور اس شعلے نے تعاقب کیا ورنہ اس سے پہلے تو ہم ایسے ٹھکانوں میں جا بیٹھا کرتے تھے جہاں سے کن سوئیاں کرنے اور باتیں اڑانے میں آسانی ہوتی تھی اور ہم زمین میں ایک ایک کی چار چار لگا اڑاتے تھے آسمان کے قریب جو خلا میں کوئی جگہ ایسی ہوگی جہاں یہ جنات جاکر چھپ جاتے ہوں گے۔ اب آگے اس انقلاب اور خبروں کی پابندی پر رائے زنی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ بعثت محمدیہ سے پہلے شیاطین آسمان تک پہنچ کر فرشتوں کی باتیں سننتے تھے بعد بعثت کے ان کو رمی بالشہب سے روک دیا گیا، اور اس حادثہ کی تحقیق کے ضمن میں یہ جنات آپ تک پہنچے۔ یہ مضمون رسالت کے متعلق ہوا، مطلب یہ کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رسالت دی ہے اور دفع التباس کے لئے باب کہانت بند کردیا ہے، اور اس استراق کا بند ہونا ہی سبب ہوا ان جنات کے پہنچنے کا آپ کی خدمت میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حالانکہ پہلے ہم سننے کی کوشش کرتے اور گھات میں بیٹھتے تھے لیکن اب وہ بات نہیں رہی 9 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے عمل بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں اور اس کو ہماری ہی اصل کے لوگ سنتے رہے اور وہ اس کے لئے ایسی گھات میں بیٹھے تھے کہ اس کو سنتے ہی اس میں اپنی طرف سے کچھ سچ جھوٹ ملانے میں کامیاب ہوجاتے تھے جس کی شہادت گزشتہ کتابیں آج بھی پیش کر رہی ہیں لیکن اب جو ہم نے اس کلام کو سنا ہے اس میں اپنے پاس سے لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب تو اس طرح کا کوئی ارادہ بھی کرے گا تو اس کے لئے شہایے گھات میں لگے ہوئے ہیں جو اس ذہنی تخیل کو جھٹک کر رکھ دیتے ہیں اور کوئی انسان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَ‌سًا شَدِيدًا وَشُهُبًا (...and that we sought [ to reach ] the sky, but we found it filled with stern guards and flames....72:8). The word sama' is used in two different senses: 'sky' as well as 'cloud'. It would appear that here the word is used in the latter sense. The Jinn Used to Go only up to the Clouds to Eavesdrop, Not to the Sky The Jinn and the devils used to go up to the sky means that they used to go to the 'clouds', take up positions there to sit and eavesdrop. The proof of this is found in Sahih of Bukhari on the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

8 Another meaning of this sentence can be: "Allah will not resurrect anyone after death." As the wards are comprehensive they can be taken to mean that, as among human beings, so among the jinn too there were the people who denied both the Prophethood and the Hereafter. However, in view of the theme that follows, the meaning that we have given in the text above is preferable, for according to it these believing jinn tell the people of their community: "Your view is proved wrong that AIlah will not appoint anyone as a Messenger. In fact, the gates of heavens have been closed on us only because…

Read the full tafseer →