72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے بڑے غور سے سنا تو انہوں نے (جا کر دوسرے جنات سے) کہا کہ ہم نے سنا ہے ایک بہت ہی دل کو لبھانے والا قرآن۔

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔

آیت 2{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ”جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔“ قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اس مسجد کا انتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ”منزل“ طے کرلیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ”پرکشش پیکج“ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اندازہ کیجیے ! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے ‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہوگی ؟ اب ذرا اس طرزعمل کے مقابلے میں مذکورہ جنات کے رویے ّکا تصور کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا : { وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۔ } ”اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“
Ayahs 72:3–4

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے ربّ کی شان بہت بلند ہے اس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یقینا ہمارا بیوقوف (سردار) اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔

آیت 4{ وَّاَنَّـہٗ کَانَ یَـقُوْلُ سَفِیْہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا۔ } ”اور یقینا ہمارا بیوقوف سردار اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔“ اپنے ”بیوقوف“ سے ان کا اشارہ اپنے سب سے بڑے جن عزازیل ابلیس کی طرف ہے۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔

آیت 5{ وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّـنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ } ”اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔“ وہ بدبخت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا رہا اور ہم اس خوش فہمی میں اس کی باتوں کو مانتے رہے کہ کوئی انسان یا جن اللہ کے بارے میں کبھی کوئی خلافِ حق بات نہیں کرسکتا۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے تو انہوں نے ان (جنات) کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔

آیت 6{ وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا۔ } ”اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے ‘ تو انہوں نے ان جنات کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔“ عربوں کے ہاں جنات سے پناہ طلب کرنے کا رواج عام تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر جنگل اور ہر ویرانے میں جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس لیے جب ان کا کوئی قافلہ صحرا میں کہیں پڑائو کرتا تو قافلے کا سردار بآوازِ بلند پکارتا کہ ہم اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں آتے ہیں۔ اب ظاہر ہے جنات تو انسانوں کی ایسی حماقتوں پر ہنستے ہوں گے کہ دیکھو ! آج اسی آدم علیہ السلام کی اولاد ہمیں معبود بنائے بیٹھی ہے جسے سجدہ نہ کرنے پر ہمارے جدامجد کو جنت سے نکال دیا گیا تھا۔ چناچہ انسانوں کی ایسی حرکتوں سے جنات کے غرور اور سرکشی میں اور بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔

آیت 7{ وَّاَنَّـہُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّـبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ } ”اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔“ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا ‘ یعنی بعث بعد الموت کے عقیدے میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ سورة الاحقاف میں جنات کے تذکرے کے حوالے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنات تورات سے واقف تھے اور وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ﷺ کے درمیان تقریباً چھ سو برس کا زمانہ انسانی تاریخ میں سلسلہ رسالت کے انقطاع کا طویل ترین وقفہ ہے۔ چناچہ اپنی ان معلومات کی بنیاد پر جنات یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسالت کا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے اور یہ کہ اب دنیا میں کوئی رسول نہیں آئے گا۔
Ayah 72:8

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔

آیت 8{ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ } ”اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو“ ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔ { فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا۔ } ”تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔“ ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کردیے گئے ہیں اور شہاب ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے ‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم بالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطین ِجن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے ان انسان ساتھیوں تک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جنات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہوجاتی ہو مگر نزول وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جنات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔
Ayahs 72:9–10

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے کچھ سن گن لینے کے لیے۔ لیکن اب اگر کسی نے کچھ سننے کی کوشش کی تو وہ پائے گا اپنے واسطے ایک انگارہ گھات میں لگا ہوا۔

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔

آیت 10{ وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ } ”اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے“ { اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا۔ } ”یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔“ جنات کی اس بات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ تورات کے عالم تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کے دو امکانی نتائج میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آتا ہے۔ یا تو متعلقہ قوم اپنے رسول پر ایمان لا کر ہدایت کے راستے پر چل پڑتی ہے یا اس کا انکار کر کے تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے تو اس قوم میں رسول مبعوث کر کے اتمامِ حجت ضرور کرتا ہے ‘ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : { وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَـبْعَثَ رَسُوْلًا۔ } ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کسی رسول کو نہ بھیج دیں“۔ چناچہ آسمانوں پر غیر معمولی سخت حفاظتی انتظامات دیکھ کر جنات یہ تو سمجھ گئے کہ اہل زمین کے لیے وحی و رسالت کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا ہے ‘ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سلسلے کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فیصلے سے انسانوں کی بھلائی مطلوب ہے یا اس نے اہل زمین کو قوم نوح علیہ السلام ‘ قومِ ہود علیہ السلام اور قوم صالح علیہ السلام کی طرح ایک مرتبہ پھر تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان پر عذاب بھیجنے سے پہلے رسول مبعوث کر کے وہ ان لوگوں پر اتمامِ حجت کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے نبوت و رسالت ِمحمدی ﷺ تو انسانیت کے حق میں سراسر خیر ہی خیر ہے ‘ لیکن ان جنات کو اس وقت تک اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔ ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔

آیت 1 1{ وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط } ”اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔“ یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جنات ہی کی طرف ہے ‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت تبلیغ کا اہم اصول ہے کہ برے کو بھی برا نہ کہو۔ { کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ } ”ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔“ طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّاکے معنی پھاڑنے یا کاٹنے کے ہیں۔ جیسے سورة یوسف کی آیت 25 میں آیا ہے : { قَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ } ”اس عورت نے پھاڑ دی آپ علیہ السلام کی قمیص پیچھے سے۔“
Ayahs 72:12–13

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں۔

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت (الہدیٰ) کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔

آیت 13{ وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْہُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط } ”اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت الہدیٰ کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔“ { فَمَنْ یُّؤْمِنْ مبِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا۔ } ”تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔“ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہوگا۔
Ayah 72:14

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصافی کرنے والے بھی۔ تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔

آیت 14{ وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ } ”اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصافی کرنے والے بھی۔“ قَسَطَ ثلاثی مجرد میں عدل اور ناانصافی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قَاسِط اسم فاعل کے معنی ”ناانصاف“ کے ہوتے ہیں ‘ لیکن اَقْسَطَ باب افعال میں صرف عدل و انصاف کے معنی میں مستعمل ہے۔ { فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۔ } ”تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔“
Ayah 72:15

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےانصاف ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔

آیت 15{ وَاَمَّا الْقٰاسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا۔ } ”اور جو بےانصاف ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔“ یہ تو تھا جنات کی اس تقریر کا اقتباس جو انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے تبلیغ کی غرض سے کی تھی۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کیا گیا ہے۔
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔

آیت 16{ وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰہُمْ مَّآئً غَدَقًا۔ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔“ یعنی اگر نسل انسانی کے لوگ انبیاء و رسل - کے راستے پر چلتے رہتے تو آخرت کی نجات کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دنیا میں بھی خوب نوازتے۔ یہاں پر جس مفہوم میں لفظ ”طَرِیْقَۃ“ آیا ہے عین وہی مفہوم لفظ ”شَرِیْعَۃ“ اس آیت میں ادا کر رہا ہے : { ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ } الجاثیۃ : 18 ”پھر اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو قائم کردیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ شریعت پر“۔ گویا ان دونوں الفاظ کا مفہوم تو ایک ہی ہے لیکن ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ”شریعت“ دین کے ظاہری اور قانونی پہلو کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ”طریقت“ سے دین کا باطنی پہلو مراد لیاجاتا ہے۔ مثلاً نماز کے فرائض اور واجبات کیا ہیں ؟ مختلف ارکان کی ادائیگی کا درست طریقہ کیا ہے ؟ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ یہ شریعت کا موضوع ہے۔ ظاہر ہے ایسے مسائل معلوم کرنے کے لیے آپ کو کسی فقیہہ یا مفتی سے رجوع کرنا ہوگا۔ لیکن نماز کی اصل روح کیا ہے ؟ نماز میں خشوع و خضوع اور حضور قلب کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ اور اس کے اثرات کیا ہیں ؟ اس قسم کے سوالات طریقت سے متعلق ہیں اور ان کے جوابات آپ کو کسی صوفی سے ملیں گے۔ اوّلین ادوار کے بزرگانِ دین تو جامع الصفات تھے۔ جو صوفی تھے وہ بہت بڑے عالم اور مفتی بھی ہوا کرتے تھے۔ برصغیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی - ایسی ہی ایک جامع شخصیت تھے۔ آپ مفتی ‘ مفسر اور محدث بھی تھے اور بہت بڑے صوفی اور مرشد بھی۔ آپ مرزا مظہر جانِ جاناں شہید - آپ اہل تشیع کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے کے خلیفہ تھے۔ آپ کا تعلق شیخ احمد سرہندی - کے سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ سے تھا۔ بہرحال ایسی شخصیات کی موجودگی میں تو شریعت اور طریقت کے درمیان کوئی ُ بعد نہیں تھا ‘ لیکن آج بدقسمتی سے دین کے ان دونوں پہلوئوں کو پھاڑ کر بالکل الگ الگ کردیا گیا ہے۔
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم اس (فراوانی) میں ان کی آزمائش کریں۔ اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔

آیت 17{ لِّنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ } ”تاکہ ہم اس فراوانی میں ان کی آزمائش کریں۔“ یعنی ہم لوگوں کو خوب سیراب کر کے اور انہیں مختلف النوع نعمتوں سے نواز کر ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کے انداز مختلف ہیں ‘ وہ کسی کو تونگری اور خوشحالی میں آزماتا ہے تو کسی کو فاقوں میں مبتلا کرکے اس کا امتحان لیتا ہے۔ { وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ } ”اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے“ { یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ } ”تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں ڈالے گا جس کی شدت ہر لمحہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو !

آیت 18{ وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ } ”اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ یہاں ”مساجد“ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہیں یعنی عبادت گاہیں بھی ہیں اور سجدے کے اعضاء پیشانی ‘ ناک ‘ ہاتھ ‘ پائوں ‘ گھٹنے بھی۔ یعنی تمام مساجد اور انسانوں کے اعضائے سجدہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ { فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ } ”تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو !“
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔

آیت 19{ وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ } ”اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے“ { کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔ } ”تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔“ اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین یہ کلام سننے کے لیے آپ ﷺ کے گرد بڑے تجسس سے جمع ہوجاتے تھے ‘ لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین آپ ﷺ کو نماز میں کھڑا دیکھتے تو ان کے عناد کی آگ بھڑکنے لگتی اور ان کا جی چاہتا کہ آپ ﷺ پر ہلہ ّبول دیں اور اس شمع ہدایت کو ُ گل کردیں۔
Ayahs 72:20–21

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔

آیت 21{ قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔“ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ میں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورة القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے : { اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } آیت 56 ”آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں ‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“
Ayahs 72:22–23

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ ہی میں اس کے علاوہ سر چھپانے کی کوئی جگہ پائوں گا۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

بس (میرا فرض) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔ اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

آیت 23{ اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلٰتِہٖ } ”بس میرا فرض اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔“ یعنی اگر میں نے یہ فریضہ انجام دینے میں کوتاہی کی تو میری جواب دہی ہوگی۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف کی اس آیت میں اپناقانون واضح طور پر بیان فرما دیا ہے : { فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ۔ } ”پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔“ { وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا“ { فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا۔ } ”تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔“
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔

آیت 24{ حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے“ { فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۔ } ”اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔“ سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضور ﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور ُ پررونق ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ تو نچلے طبقے کے چند غریب ‘ کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورة مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔

آیت 25{ قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا۔ } ”آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔“ مَا تُوْعَدُوْنَ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ وہ چیز جس کی تم لوگوں کو وعید یا دھمکی دی جا رہی ہے۔ وعدہ اور وعید دونوں الفاظ ایک ہی مادہ وعد سے مشتق ہیں۔ اس لحاظ سے وعید دھمکی کی حیثیت بھی گویا ایک وعدے کی سی ہے۔ اس آیت کا مضمون ملتے جلتے الفاظ میں سورة الانبیاء کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : { وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ۔ } کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں بتادیں کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا ابھی دور ہے۔
Ayahs 72:26–27

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہی ہے غیب کا جاننے والا پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔

آیت 27{ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ } ”سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے“ اس آیت میں علم غیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتادیا گیا ہے۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے رسولوں علیہ السلام میں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضور ﷺ کی ذات سے متعلق علم غیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر تو کوئی شخص علم غیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے سے ہی ملا ہے۔ حضور ﷺ کا علم بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی علم اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ ہم جیسے عام انسان بھی اپنے والدین ‘ اساتذہ اور بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے علم غیب کی درست تعریف definition طے کرنا ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ”غیب“ کا تعلق مخلوق سے ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز ”غیب“ ہے ہی نہیں ‘ ہر شے ہر آن اس کے سامنے موجود ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یا خبریں ہم انسانوں سے پوشیدہ رکھی ہیں وہ ہمارے لیے ”عالم غیب“ ہے۔ مثلاً جنت ‘ دوزخ ‘ فرشتے وغیرہ۔ اس بارے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء و رسل - کو غیب کی خبریں بھی دی جاتی ہیں اور کسی حد تک انہیں عالم غیب کا مشاہدہ بھی کرایا جاتا ہے : { وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ۔ } الانعام ”اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے“۔ حضور ﷺ کو معراج کے موقع پر جنت ‘ دوزخ اور بہت سی دوسری کیفیات کا مشاہدہ کرایا گیا ‘ بلکہ غیب سے متعلق ایسے مشاہدات آپ ﷺ کو عام معمول کی زندگی میں بھی کرائے جاتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ آپ ﷺ نمازِاستسقاء پڑھا رہے تھے تو نماز کے دوران آپ ﷺ اچانک ایک دفعہ آگے بڑھے اور پھر اسی انداز میں پیچھے ہٹے۔ بعد میں صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے اچانک جنت لے آئی گئی تو میں نے چاہا کہ اس کا پھل توڑ لوں۔ چناچہ میرا ہاتھ بےاختیار اس کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد میرے سامنے دوزخ لے آئی گئی تو اس کی تپش کی وجہ سے میں بےاختیار پیچھے ہٹ گیا۔ بہرحال علم کے اعتبار سے ایک عام انسان اور ایک نبی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے کہ نبی کو عالم غیب کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ ورنہ جہاں تک امور دنیا کے علم کا تعلق ہے اس بارے میں حضور ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ رض کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ 1 کہ دنیاداری کے اپنے معاملات کے بارے میں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔ چناچہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسل - کو جب چاہے جس قدر چاہے عالم غیب کا مشاہدہ کرا دے یا غیب کے علم میں سے جتنا علم چاہے عطا فرما دے۔ البتہ جو کوئی یہ مانے کہ نبی مکرم ﷺ کو ُ کل غیب کا علم تھا وہ کافر ہے۔ حضور ﷺ کے علم غیب کے بارے میں بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذاتی طور پر متعدد بریلوی علماء سے ملاقاتیں کیں۔ میں جتنے علماء سے ملا ان سب کو میں نے مندرجہ ذیل تین نکات پر متفق پایا : 1 حضور ﷺ کا علم ذاتی نہیں ‘ عطائی ہے ‘ یعنی اللہ کا عطا کردہ ہے۔ 2 آپ ﷺ کا علم قدیم نہیں حادث ہے۔ یعنی پہلے نہیں تھا ‘ جب اللہ نے عطا کیا تو آپ ﷺ کو علم ہوگیا۔ 3 آپ ﷺ کا علم لامحدود نہیں ‘ محدود ہے۔ دراصل ان تین نکات کے بارے میں مسلمانوں کے کسی مکتبہ فکر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ چناچہ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ سرے سے بحث طلب ہے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو علم غیب عطا فرمایا ‘ جب چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا۔ اب کیا میں اور آپ اس بارے میں بحث کریں گے کہ حضور ﷺ کو کس چیز کا علم تھا اور کس چیز کا علم نہیں تھا ؟ میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم حضور ﷺ کے علم کے بارے میں ناپ تول کریں۔ معاذ اللہ ! { فَاِنَّـہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ } ”تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔

آیت 28{ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ } ”تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حجت کے لیے حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا : اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ ؟ ”کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا ؟“ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا : نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ 1 { وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔ } ”اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔“