Ayah 72:1قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن . نَفَرٌ تین سال سے دس تک کی جماعت ‘ روایت میں آیا ہے کہ نصیبین کے نو جن تھے یا سات تھے۔ جن ‘ دوسرے حیوانوں کی طرح جسم بھی رکھتے ہیں اور جان بھی۔ ان کو انسانوں کی طرح عقل بھی حاصل ہے مگر انسانوں کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں ‘ اسی لیے ان کو جن کہا جاتا ہے (جَنٌّ چھپانا ‘ جِنٌّ پوشیدہ) جن کو آگ سے بنایا گیا ہے جیسے آدم کو مٹی سے ‘ آیت میں آیا ہے : والجان خلقنٰہ من قبل من نار السموم۔ جنات میں توالد و تناسل ہوتا ہے ‘ ان میں نر بھی ہوتے ہیں اور مادہ بھی۔ ظاہر یہ ہے کہ شیاطین جنات ہی کی ایک قسم ہے۔ ملائکہ مذکر ‘ مؤنث (نر و مادہ) نہیں ہوتے۔ جنات ‘ شیاطین اور ملائکہ کا وجود شرعاً ثابت ہے۔ فلسفی کسی کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے (یونانی) فلاسفہ جن دس عقول کے قائل ہیں وہ اسلامی ملائکہ نہیں ہیں۔ 1 کیونکہ فلاسفہ کی نظر میں عقول عشرہ غیر جسمانی ہیں اور اسلام جن ملائکہ کا قائل ہے ‘ ان کے جسم بھی ہیں اور روحیں بھی۔
آیت کی رفتار سے بطور اقتضاء ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنات کو نہیں دیکھا تھا ‘ کسی وقت حضور ﷺ : قراءت ِ قرآن
..............
1 ملائکۃٌ مَلَکٌ کی جمع ہے ملک کا لفظ ملاک سے بنا ہے یا الوکۃٌ سے ‘ ملاک کا معنی ہے دارومدار اور الوکۃٌ کا معنی ہے پیام رسانی۔ شرعی مصنوعات سے ثابت ہے کہ کائنات کے انتظام پر اللہ نے ملائکہ کو مقرر کردیا ہے۔ ملائکہ ارض اس زمین کا انتظام کرتے ہیں اور ملائکہ آسمان علویات سماویہ کا۔ بارش کا ہر قطرہ ایک فرشتہ لے کر اترتا ہے۔ گویا نظم کائنات کا مدار ملائکہ پر ہے مگر ملائکہ خود مختار نہیں ‘ اللہ کے زیر حکم ہیں کچھ ملائکہ حامل عرش ہیں اور کچھ تسبیح ‘ رکوع ‘ سجود ‘ تہلیل اور تکبیر میں غرق ہیں لیکن یہ بھی ثابت ہے کہ ہر ذرۂ کائنات کو حرکت یا سکون کا حکم اللہ کی طرف سے پہنچتا ہے ‘ کوئی ذرّہ بھی بلا حکم حرکت نہیں کرسکتا ‘ نہ ساکن رہ سکتا ہے اور براہ راست حکم الٰہی کو برداشت کرنے کی قابلیت ہر ذرّہ میں ہے نہ ہر انسان میں ‘ اس لیے جو حکم خداوندی کسی ذرّہ کو پہنچتا ہے یا انسان کو وہ فرشتہ کی وساطت سے ہوتا ہے الا ماشاء اللہ۔ پس ملائکہ اللہ کا پیام اس کائنات کو پہنچانے والے بھی ہوئے۔ یہ اسلامی نظریہ ہے لیکن یونان کے دماغ زدہ فلسفی کہتے ہیں کہ واجب تعالیٰ نے صرف عقل اوّل کو پیدا کیا یا نمودار کیا یا یوں کہو کہ ارادۂ الٰہیہ کو عقل اوّل کے اظہار میں بھی کوئی دخل نہیں بلکہ شعاع اوّل کی طرح ذات واجب سے عقل اوّل نمودار ہوئی جو مادہ سے مجرد تھی مگر ذات کے اعتبار سے واجب کی محتاج تھی۔ اسی لیے اس کو ممکن کہا جاتا ہے پس واجب سے عقل اوّل نمودار ہوئی اور عقل اوّل سے عقل دوم اور فلک اول کا ظہور ہوا پھر عقل دوم سے عقل سوم اور فلک دوم کا ظہور ہوا اور اسی طرح ترتیب وار نویں عقل سے دسویں عقل اور نویں آسمان کی پیدائش ہوئی اور آخر میں دسویں عقل (جس کو مبدء فیاض اور عقل فعال بھی کہا جاتا ہے) نے عالم اجسام عنصریہ بنایا۔ فلاسفہ کی نظر میں ہر جسم مادی ہوتا ہے اور مادہ کی دو قسمیں ہیں فلکی اور عنصری ‘ لہٰذا افلاک بھی مادی ہیں اور عناصر بھی اور عناصر کے مرکبات بھی۔ مگر عقول غیر مادی ہیں ‘ نہ ان کا مادہ فلکی ہے نہ عنصری۔ اس لیے غیر جسمانی ہیں لیکن اہل اسلام کی نظر میں مادہ کا حصر صرف فلکی اور عنصری میں نہیں بلکہ مادہ نوری بھی ہوتا ہے اور نور بذات خود بےرنگ اور بےشکل ہوتا ہے مگر مختلف الوان و اشکال کو قبول کرسکتا ہے۔ فرشتوں کی تخلیق اسی نوری مادہ سے ہوئی اور ان کے اجسام نوری ہیں جو مختلف اشکال میں بدلتے رہتے ہیں۔ ہاں توالد و تناسل کے لیے جسم عنصری ہونا ضروری ہے اور فرشتوں کے اجسام عنصری نہیں اس لیے ان میں توالد و تناسل نہیں ‘ واللہ اعلم بالصواب۔
کر رہے تھے ‘ اتفاقاً جنات بھی آگئے اور انہوں نے قراءت سن لی۔ اس واقعہ کی اطلاع وحی کے ذریعے سے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو دیدی اور قصہ بیان کردیا۔ بخاری و مسلم اور ترمذی وغیرہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنات کے سامنے نہ قرآن پڑھا ‘ نہ ان کو دیکھا (بلکہ واقعہ یہ ہوا کہ) بازار عکاظ کو جانے کے ارادہ سے صحابہ کے ساتھ آپ ﷺ (مکہ سے) چلے تھے اس وقت شیطانوں سے آسمان کی خبریں روک دی گئی تھیں اور (خبر لینے کے لیے آسمان کی طرف چڑھنے والے) شیطانوں کو انگاروں سے مارا جاتا تھا۔ جنات نے (آپس میں) کہا اس کی تو کوئی خاص وجہ ضرور ہے (کوئی نئی بات ضرور پیدا ہوئی ہے) مشرق و مغرب میں جا کر دیکھو ‘ نئی بات کیا ہوئی ہے۔ یہ طے کر کے جنات تلاش کرنے چل دیئے اور ایک گروہ تہامہ کی طرف بھی آگیا۔ یہی گروہ رسول اللہ ﷺ کی طرف مڑ گیا ‘ آپ ﷺ اس وقت نخلہ میں ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنات نے قرآن سنا تو متوجہ ہو کر سننے لگے اور بولے : بخدا ! اسی سے تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ چناچہ واپس جا کر اپنی قوم سے انہوں نے کہا : قوم والو ! ہم نے عجیب قرآن سنا ‘ الخ۔
اسی قول کو اللہ تعالیٰ نے آیت : قل اوحی الی انہ استمع ...... میں بیان فرمایا۔ اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے جب ابو طالب کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ تنہا طائف کو چل نکلے۔ مقصد یہ تھا کہ اپنی قوم کے خلاف قبیلہ ثقیف سے کچھ امداد اور طاقت حاصل کریں۔ محمد بن اسحاق نے بروایت یزید بن زیاد ‘ محمد بن کعب قرظی کا قول بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے طائف میں پہنچ کر ثقیف کے کچھ لوگوں کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔ وہ لوگ بنی ثقیف کے سردار اور امراء تھے۔ یہ تینوں عمیر کے بیٹے اور اپس میں بھائی ‘ بھائی تھے۔ ان کے نام تھے : عبدیالیل ‘ مسعود اور حبیب۔ اس وقت ان کے پاس ایک قریش کی عورت بھی تھی جو قبیلہ بنی جمع کی شاخ میں سے تھی۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس جا کر بیٹھے اور جس کام کے لیے ان کے پاس گئے تھے یعنی اسلام کے سلسلہ میں طلب امداد اور قوم والوں کے خلاف نصرت کی خواہش ‘ اس کے متعلق ان سے گفتگو کی۔ ایک بولا : اگر خدا نے تجھے پیغمبر بنایا ہو تو میں غلاف کعبہ کے کپڑے بنا کر پہنوں ‘ دوسرے نے کہا : کیا اللہ کو تیرے سوا کوئی اور پیغمبر بنانے کے لیے نہیں ملا۔ تیسرا کہنے لگا : خدا کی قسم ! میں تجھ سے بات نہیں کروں گا ‘ جیسا تو کہہ رہا ہے اگر واقعی تو اللہ کا پیغمبر ہے تب تو تیرا مرتبہ میری طرف سے جواب دینے سے بہت بڑا ہے اور اگر تو خدا پر دروغ بندی کر رہا ہے تو تجھ سے کلام کرنا میرے لیے مناسب ہی نہیں ہے۔ یہ جواب سن کر رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور قبیلہ ثقیف کی ہر بھلائی سے ناامید ہوگئے اور فرمایا جو کچھ تم نے سلوک کیا ‘ کیا لیکن اب میری طرف سے (اس درخواست کے) واقعہ کو ظاہر نہ کرنا۔ حضور پرنور ﷺ کو یہ بات پسند نہ تھی کہ اس واقعہ کی اطلاع قوم والوں کو پہنچ جائے اور اس سے ان کی بےباکی اور بڑھ جائے۔ ثقیف والوں نے اس بات کی بھی تعمیل نہیں کی۔ بلکہ قبیلہ کے بےعقل لوگوں اور غلاموں کو بھڑکایا۔ وہ حضور ﷺ کو گالیاں دینے اور چیخنے لگے۔ یہاں تک کہ عتبہ اور شبیہ کے باغ میں پناہ گیر ہونے پر مجبور کردیا۔
اس وقت باغ میں عتبہ اور شبیہ موجود تھے ‘ جن لوگوں نے حضور ﷺ کا پیچھا کیا تھا وہ سب لوٹ گئے۔ آپ ﷺ انگور کے درختوں کے گھنے سایہ میں جا کر بیٹھ گئے۔ عتبہ اور شیبہ اس واقعہ کو دیکھ رہے تھے اور ثقیف کے احمقوں سے جو دکھ حضور ﷺ نے پایا تھا وہ بھی ان کے سامنے ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات اس عجمی عورت سے بھی ہوئی تھی اور حضور ﷺ نے اس سے فرمایا تھا : تیرے دیوروں (سسرالی رشتہ داروں) سے ہم کو کیسا دکھ پہنچا۔ غرض اطمینان حاصل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے دعا کی : الٰہی ! میں اپنی قوت کی کمزوری ‘ تدبیر کی کمی اور لوگوں کے سامنے ذلیل ہونے کا تجھ سے شکوہ کرتا ہوں ‘ تو ارحم الراحمین ہے ‘ تو کمزوروں کا رب ہے ‘ تو میرا بھی رب ہے ‘ تو مجھے کس کے سپرد کر رہا ہے ‘ کیا کسی ایسے اجنبی کے سپرد کر رہا ہے جو میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آتا ہے یا کسی دشمن کے سپرد کر رہا ہے جس کے ہاتھ میں تو نے میرے معاملات کردیئے ہیں ‘ اگر مجھ پر تیرا غضب نہ ہو تو (ان مصائب کی) مجھے پروا نہیں لیکن تیری طرف سے میرے لیے عافیت کی تو بہت گنجائش ہے۔ میں تیری ذات کے نور کی جس سے تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں اور دنیا و آخرت کے ٹھیک ہونے کا اسی پر مدار ہے ‘ پناہ مانگتا ہوں۔ اس بات سے کہ کہیں تیرا غضب مجھ پر نازل ہوجائے یا تیری ناراضگی مجھ پر اتر پڑے۔ جب تک تو ہی راضی نہ ہوجائے تیری ناراضگی رہے گی اور تیری مدد کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوّ ت۔
ربیعہ کے دونوں بیٹوں (شیبہ اور عتبہ) نے یہ حالت دیکھی تو ان کے جذبۂ رحم میں حرکت پیدا ہوئی۔ اپنے عیسائی غلام کو جس کا نام عداس تھا ‘ بلا کر کہا : ایک رکابی میں انگور کا یہ خوشہ رکھ کرلے جا کر اس شخص کو کھانے کے لیے دیدے۔ عداس نے حکم کی تعمیل کی اور انگور لا کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیئے۔ وہ رکھ چکا تو رسول اللہ ﷺ نے بسم اللہ پڑھ کر انگوروں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کھانے لگے۔ عداس چہرۂ مبارک کی طرف دیکھتا رہا اور کہنے لگا : اس شہر کے رہنے والے تو ایسی بات نہیں کہتے ہیں (یعنی بسم اللہ نہیں پڑھتے ہیں) حضور ﷺ نے فرمایا : تم کہاں کے رہنے والے ہو اور تمہارا مذہب کیا ہے ؟ عداس نے جواب دیا : میں عیسائی ہوں اور نینوا کا باشندہ ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا مرد صالح یونس بن متی کی بستی کے رہنے والے ہو ؟ عداس نے کہا : آپ یونس بن متی کو کیا جانیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ میرا بھائی تھا ‘ نبی تھا۔ میں بھی نبی ہوں۔ یہ سن کر عداس جھک گیا اور حضور ﷺ کے دست و پائے مبارک کو چومنے لگا۔ ادھر ربیعہ کے بیٹوں نے آپس میں کہا : اس شخص نے تمہاے غلام کو بگاڑ دیا۔ جب عداس واپس آیا تو شیبہکتبہ نے اس سے کہا : ارے عداس ! تجھے کیا ہوگیا تھا تو اس شخص کا سر اور ہاتھ ‘ پاؤں کیوں چوم رہا تھا۔ عداس نے کہا : میرے آقا اس شخص سے بہتر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ‘ مجھے اس نے ایسی بات کی اطلاع دی جس کو سوائے نبی کے کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا : اے عداس ! کہیں یہ شخص تجھے تیرے مذہب سے نہ پھیر دے۔ تیرا مذہب اس کے مذہب سے بہتر ہے۔ غرض بنی ثقیف کے واقعہ سے ناامید ہو کر رسول اللہ ﷺ طائف سے مکہ کو لوٹے۔ اثنائے راہ میں بمقام نخلہ وسط رات میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ نصیبین کے کچھ جن ادھر سے گزرے اور انہوں نے قرآن مجید سنا۔ جب حضور اکرم ﷺ نماز پڑھ چکے تو جنات نے واپس جا کر اپنی قوم کو اطلاع دی۔ خود بھی ایمان لے آئے اور دعوت پر لبیک کہی اور قوم کو بھی جا کر ڈرایا۔ جنات کے اس واقعہ کا بیان آیات مذکورۃ الصدر میں اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔
کتاب العفوۃ میں ابن جو ری (رح) نے اپنی سند سے حضرت سہل ؓ بن عبداللہ کا قول نقل کیا ہے۔ سہل ؓ نے بیان کیا میں اطراف وزاعا میں تھا۔ وہاں میں نے ایک شہر سنگین دیکھا (یعنی سنگستان کے اندر آبادی تھی ‘ پتھروں کو کھود کر ان میں مکان تراش لیے تھے) شہر کے وسط میں پتھر کا ایک محل تھا ‘ جہاں جنات رہتے تھے۔ محل میں ایک گراں ڈیل بوڑھا آدمی کعبہ کی طرف منہ کیے نماز پڑھ رہا تھا لیکن جو اونی جبّہ وہ پہنے تھا وہ بالکل نیا تھا۔ مجھے اس کے گراں ڈیل ہونے سے اتنا تعجب نہیں ہوا جتنا جبہ کی صفائی کو دیکھ کر ہوا۔ میں نے اس کو سلام کیا ‘ اس نے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا : سہل ! بدنی استعمال سے کپڑے پرانے نہیں ہوتے۔ کپڑوں کو بوسیدہ کرنے والی چیز گناہوں کی بدبو اور حرام غذا ہے۔ یہ جبہ سات سو برس سے میں پہنے ہوں۔ اسی کو پہنے ہوئے میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ سے ملاقات کی تھی اور دونوں پر ایمان لایا تھا۔ میں نے کہا : آپ کون ہیں ؟ اس نے جواب دیا : میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کے سلسلے میں آیت : قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن نازل ہوئی تھی۔
ایک گروہ (علماء) کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکمدیا گیا تھا کہ آپ ﷺ جنات کو اسلام کی دعوت دیں اور اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان کو قرآن سنائیں۔ چناچہ نینوا سے جنات کی ایک جماعت حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجی گئی ‘ جب وہ جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ساتھیوں سے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آج رات کو جنات کو قرآن سنائیں ‘ تم میں سے کون میرے ساتھ چلے گا۔ سب نے سن کر سر جھکا لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر ساتھ لے جانے کی خواہش کی تو عبداللہ بن مسعود ؓ ساتھ ہولئے۔ حضرت عبداللہ کا بیان ہے کہ میرے سوا اور کوئی ساتھ نہیں گیا۔ ہم چل دیئے ‘ بالاء مکہ میں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ ایک گھاٹی میں داخل ہوگئے جس کا نام شعب الحجون تھا اور میرے گردا گرد ایک لکیر (حصار) کھینچ کر حکم دیا کہ اس کے اندر بیٹھے رہنا ‘ جب تک میں نہ بلاؤں باہر نہ نکلنا۔ یہ حکم دے کر چل دیئے اور کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کردیا۔ میں نے دیکھا کہ گدھوں کی طرح کچھ (جانور) تیزی کے ساتھ اترتے آ رہے ہیں ‘ اسی کے ساتھ مجھے سخت شور و غل بھی سنائی دیا۔ مجھے حضور ﷺ کے متعلق فکر ہوئی۔ پھر بکثرت پرچھائیاں حضور اکرم ﷺ کے آس پاس چھا گئیں اور حضور ﷺ سے میری آڑ ہوگئی کہ آپ ﷺ کی آواز بھی مجھے سنائی نہ دیتی تھی۔ کچھ دیر کے بعد بادل کے ٹکڑوں کی طرح ٹکڑیاں بنا کر جانا شروع ہوگئے اور فجر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ فارغ ہو کر میرے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا : کیا تم سو گئے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! ﷺ خدا کی قسم ! (میں نہیں سویا) کئی مرتبہ میرا ارادہ ہوا کہ لوگوں کو مدد کے لیے پکاروں مگر لاٹھی کھٹکھٹا کر میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ‘ بیٹھ جاؤ (تو مجھے کچھ اطمینان ہوا) فرمایا : اگر تم (حصار سے) باہر نکل آتے تو ڈر تھا کہ ان میں سے کوئی تم پر جھپٹا مار دیتا۔
پھر فرمایا : تم نے کچھ دیکھا ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! کچھ کالے رنگ کے آدمی سفید پوش دیکھے تھے۔ فرمایا : وہ نصیبین کے جنات تھے ‘ مجھ سے کھانے کی چیزیں مانگ رہے تھے۔ میں نے ان کے لیے موٹی ہڈیاں اور گوبر اور مینگنیاں مقرر کردیں۔ انہوں نے کہا : ان کو تو آدمی گندہ کردیتے ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے ہڈی اور گوبر سے استنجاء کرنے کی ممانعت فرما دی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ انکو اس سے کیا ملے گا ؟ فرمایا : کھانے کے وقت انکو ہر ہڈی پر گوشت اور ہر گوبر میں وہ دانے ملیں گے جن کو کھا کر گوبر بنتا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے سخت شور وغل سنائی دیا تھا۔ فرمایا : ایک جن کو قتل کردیا گیا تھا۔ اس کے قتل کے سلسلہ میں ان کے درمیان جھگڑا تھا۔ ایک دوسرے کو قاتل قرار دے رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے فیصلہ کی اپیل کی۔ میں نے ان کا صحیح فیصلہ کردیا۔ اس کے بعد قضاء حاجت کے لیے رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور کچھ دیر کے بعد آکر فرمایا : کیا تمہارے ساتھ پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے ساتھ لوٹا تو ہے لیکن اس میں کچھ آب کھجور ہے۔ حضور ﷺ نے اسی کو طلب فرما لیا۔ میں نے حضور ﷺ کے ہاتھوں پر آب کھجور ڈالا ‘ آپ ﷺ نے وضو کیا اور فرمایا : کھجوریں پاکیزہ اور پانی بالکل پاک۔
سلم نے بروایت علی بن محمد باسناد اسماعیل بن ابراہیم بحوالہ داؤد عامر کا قول نقل کیا ہے۔ عامر نے کہا کہ میں نے علقمہ سے دریافت کیا کہ لیلۃ الجن میں کیا حضرت ابن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھے ؟ علقمہ ؓ نے کہا : میں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ حضرات میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ؟ ابن مسعود ؓ نے فرمایا : ہم حضور ﷺ کے ہم رکاب تھے۔ ایک رات رسول اللہ ﷺ غائب ہوگئے کہ ہم نے وادیوں کے اندر اور گھاٹیوں میں جستجو کی مگر کہیں نہیں ملے۔ ہم نے کہا : کیا کوئی اڑا کرلے گیا یا کسی نے ناگہاں شہید کردیا۔ غرض وہ رات سب کے لیے بد ترین رات گزری (آخر میں جب حضور ﷺ تشریف لائے تو) فرمایا : جنات کی طرف سے بلانے والا آیا تھا۔ میں اس کے ساتھ گیا تھا اور جا کر ان کو قرآن سنایا پھر حضور ﷺ ہم کو ساتھ لے کر گئے اور جنات کے پسماندہ نشانات اور ان کی آگ کی علامات دکھائیں۔
شعبی کا قول ہے کہ وہ جنات جزیرہ کے تھے اور حضور ﷺ سے انہوں نے کھانے کی چیز کے متعلق سوال کیا تھا۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا : جس ہڈی پر بسم اللہ پڑھ لی گئی ہو اور تمہارے ہاتھ پڑجائے یا اس پر کچھ گوشت لگا ہو یا چوپایوں کے چارہ کھانے کے بعد ان کی مینگنیاں ہوں (یعنی لید نہ ہو) وہ تمہارے لیے خوراک ہے۔ اسی لیے سرکار نے ارشاد فرمایا تھا کہ ان دونوں چیزوں سے استنجاء نہ کیا کرو۔ یہ تمہارے بھائی جنات کی خوراک ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے جاٹ قوم کے کچھ لوگوں کو دیکھ کر فرمایا : یہ لیلۃ الجن والے جنات سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جب رسول اللہ ﷺ بازار عکاظ کے ارادہ سے جا رہے تھے اور طائف سے واپس ہوئے تھے اس وقت پہلی مرتبہ جنات نے قرآن سنا تھا اور آیت : قل اوحی الی انہ استمع نفر میں اللہ نے اسی واقعہ کو بیان فرمایا ہے ‘ رہا لیلۃ الجن کا واقعہ جو حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے وہ اس کے بعد کا ہے۔
بغوی نے سورة احقاف کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کر کے بیان کیا کہ فَاَسْتَجَابَ لَھُمْ سے یہ مراد ہے کہ نخلہ میں جب جنات قرآن سن کر اپنی قوم کے پاس گئے اور ان کو تبلیغ کی تو ستّر جنات کی ایک جماعت تبلیغی دعوت پر لبیک کہہ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بطحاء میں آکر حضور ﷺ سے ملی۔ حضور پرنور نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا اور امر و نہی فرمائی۔
خفاجی نے ذکر کیا ہے کہ جنات کی آمد چھ بار ہوئی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت جن و انس سب کے لیے تھی۔ مقاتل کا قول ہے کہ حضور ﷺ سے پہلے کسی نبی کی بعثت جن و انس (دونوں) کے لیے نہیں ہوئی ‘ واللہ اعلم۔
فقالوا . یعنی جنات کی جماعت جب لوٹ کر اپنی قوم کے پاس گئی تو اس نے کہا۔
انا سمعنا قرانا عجبا . کہ ہم نے نرالا قرآن سنا جو مخلوق کے کلام سے بالکل الگ ہے۔ عجب مصدر ہے (قرآن
عجیب ہے ‘ عجب نہیں) اس کو عجب کہنے سے یہ مراد ہے کہ قرآن بالکل نرالا ہے۔
Ayah 72:2یھدی الی الرشد . یہ قرآن کا وصف ہے ‘ الرشد سے مراد ہے حق و صواب یعنی توحید اور وہ احکام صحیحہ جو بتقاضاء عقل وبرہان ثابت ہیں۔
فامنا بہ . یعنی ہم قرآن پر ایمان لے آئے۔
ولن لشرک بربنا احدا . اب کبھی عبادت میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو ساجھی نہ بنائیں گے کیونکہ اللہ نے اس کی ممانعت فرما دی ہے۔
Ayah 72:3وانہ تعالیٰ جد ربنا . اَنَّہٗ میں جو ضمیر شان کی ہے ‘ رب کی طرف لوٹتی ہے۔ جَدّ کے معنی ہیں بزرگی اور عظمت۔ مجاہد ‘ عکرمہ اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ حضرت انس کا قول ہے : کان الرجل اذا قرء بقروۃ و ال عمران جد فینا۔ یعنی جب کوئی آدمی سورة بقر اور آل عمران پڑھ لیتا ہے تو ہم میں اس کا مرتبہ بڑھ جاتا تھا۔ اس قول سے بھی تفسیر مجاہد کی تائید ہوتی ہے لیکن سدی نے جد کا معنی امر اور حسن نے غنا (بےنیازی) اور حضرت ابن عباس ؓ نے قدرت اور ضحاک نے فعل اور قرطبی نے نعمتیں اور اخفش نے حکومت و اقتدار بیان کیا ہے۔
جَدَّہٗ کی جگہ جَدُّ رَبِّنَا کہنے سے ربوبیت کا صراحۃً اظہار مقصود ہے کیونکہ ربوبیت الٰہی کا تقاضا ہے کہ اللہ کی عظمت و شان مربوب (و مخلوق) سے بلندو برتر ہو۔
ما اتخذ صاحبۃ ولا ولدا . یہ دوسری خبر ہے مگر پہلی خبر کی تاکید اور توضیح کی طرح ہے (پہلی خبر میں تھا کہ
ربّ کی شان و عظمت برتر ہے۔ اس آیت میں ہے کہ اس نے نہ بیوی اپنے لیے اختیار کی ‘ نہ اولاد) یعنی بیوی بچے ہونا مخلوق کے مناسب ہے اللہ کی شان اس سے بالا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سن کر ان کو تنبیہ ہوگئی تھی کہ عبادت میں شرک کرنے اور اللہ کے بیوی بچے ہونے کا ان کا عقیدۂ سابقہ غلط تھا۔
Ayah 72:4وانہ کان یقول سفیھنا . سفیہ سے مراد ہے نادان اور برقول قتادہ و مجاہد ابلیس اور بر قول بعض سرکش جنات۔
علیغ اللہ شططا . یعنی ایسی بات جو شان الٰہی سے بہت بعید ہے۔ شطط کا معنی ہے فیصلہ کی کجی اور حق سے دوری یا مراد ہے حد سے آگے بڑھنا۔ قاموس میں ہے : شط علید فی حکم یعنی فیصلہ میں ظلم کیا یا فیصلہ میں کجی اختیار کی اور شطّ فی سلعۃ یعنی اندازۂ مقررہ اور حد سے آگے بڑھ گیا اور حق سے دور ہوگیا۔ مطلب یہ ہوا کہ نادان لوگ اللہ کے متعلق ایسی بات کہتے تھے جو غلط اور حق سے دور تھی یعنی اللہ کے بیوی بچے مانتے تھے۔
Ayah 72:5وانا ظننا ان لن تقول الانس والجن علی اللہ کذبا . یعنی ہم پہلے خیال کرتے تھے کہ انسان اور جن اللہ پر دروغ بندی نہیں کر رہے ہیں (اور واقعی خدا کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی) حقیقت میں یہ بعض نادانوں کی پیروی کرنے کی ایک معذرت ہے کہ اس وقت ہمارا خیال ہی یہ تھا کہ یہ لوگ خدا کے متعلق غلط بات نہیں کہہ رہے ہیں۔ کِذِبٌ (جھوٹ بولنا) بولنے کی ایک قسم ہے۔ اس وقت کذبٌ مصدر ہوگا یا جھوٹی بات۔ اس وقت کذبًا مفعول ہوگا یا مفعول محذوف کی صفت یعنی قولا کذبًا مجموعۂ آیات کا یہ مطلب ہوگا کہ ہم قرآن پر ایمان لے آئے۔ یعنی قرآن کے ذریعہ سے ہم کو یقین ہوگیا کہ ہمارے نادانوں کا قول غلط اور صداقت سے دور تھا اور ہمارا جو خیال تھا کہ جن و انس (خدا کے متعلق) جھوٹ نہیں کہہ رہے ہیں ‘ یہ خیال باطل تھا۔
ایک شبہ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان کی طرف جا کر پوشیدہ مقامات سے فرشتوں کا کلام اور ان کی تسبیح و تہلیل کی آوازیں سنتے تھے پھر کیوں اپنی نوع کے احمقوں کی بات کو صحیح مانتے اور سچا جانتے تھے اور ملائکہ کا کلام سن کر بھی اللہ کی توحید پر ایمان نہیں لاتے تھے (ملائکہ کا کلام سننا تو روزانہ کا معمول تھا) اور قرآن ایک مرتبہ سنا اور ایک بار سنتے ہی مان لیا (روزانہ کلام ملائکہ سننا ایمان آفریں نہ ہوا اور قرآن ایک بار سننا ایمان بخش ہوگیا ‘ اس کی کیا وجہ) ؟
ازالۂ شبہ ایمان ایک عطیۂ الٰہی ہے ‘ عطاء خداوندی کے بغیر اس کا حصول ممکن نہیں ‘ ہادی مطلق کی ہدایت ہی سے دل میں ایمانی کیفیت پیدا ہوتی ہے لیکن یہ وجدانی تاثر (ہر شخص کے لیے براہ راست ممکن نہیں) کسی ایسے ذریعہ کا محتاج ہے جس کے دو رخ ہوں ایک رخ باطنی معنوی ‘ دوسرا رخ ظاہری صوری۔ اوّل رخ کی مناسبت اور ربط اللہ سے ہو اور دوسرے رخ کی مناسبت مخلوق سے وہ اپنی استعداد قوی اور قابلیت کاملہ کی وجہ سے بارگاہ قدس سے فیضان قبول کرلے کیونکہ صفات الٰہیہ اس کی معنوی مربی اور مبدء تمیز ہیں۔ پس اس کا معنوی رخ اللہ کی طرف ہوتا ہے اور اسی جانب سے اس کا باطنی رخ نورچیں ہوتا ہے اور چونکہ اس کا زیریں حصہ (ظاہری رخ) مخلوق کی طرف ہوتا اور اس مرتبۂ نزول میں بھی وہ کامل ہوتا ہے ‘ اس لیے مبدء اعلیٰ (بارگاہِ الٰہیہ) سے وہ نور چینی کر کے بجانب زیریں (یعنی مخلوق کی جانب) نور پاشی کرتا ہے۔ یہ گروہ انبیاء کا ہے جو اللہ اور مخلوق کے درمیان ذریعۂ فیض پاشی ہے۔ ملائکہ کو اللہ کے ساتھ معنوی مناسبت حاصل ہے (یعنی اپنی ذاتی نورانیت کی وجہ سے ذات الٰہی سے ان کا ربط اور تعلق انبیاء کی طرح ہے) لیکن ان کے سارے کمالات صعودی ہیں (یعنی ان کا ایک ہی رخ ہے وہ خالص نورانیت ہیں) انبیاء کی طرح نزول کمالات ان کو حاصل نہیں (یعنی ان کے اندر ظلمت جسمانی نہیں ‘ اس لیے جسمانیت کے کمال سے وہ بےبہرہ ہیں۔ مادی مخلوق سے ان کو کوئی مناسبت اور مشابہت حاصل نہیں) یہی وجہ ہے کہ جنات باوجود ملائکہ کا کلام سننے کے ہدایت یاب نہ ہو سکے ‘ نہ ان کے اندر تاثر ایمانی پیدا ہوا بلکہ گمراہ ‘ بیوقوف جنات کے کلام سے متاثر ہوئے۔ جنات کو جنات سے مناسبت تامہ حاصل تھی۔
سوال نوح ‘ موسیٰ ‘ عیسیٰ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) تو دونوں رخوں کے حامل تھے۔ اللہ کے ساتھ بھی ان کا ربط کامل تھا اور مخلوق کے ساتھ بھی پوری مناسبت تھی۔ پھر جنات ان کی ہدایت سے متاثر کیوں نہیں ہوئے اور کیوں دوسرے انبیاء کی بعثت جنت کے لیے نہیں کی گئی ؟
جواب دوسرے انبیاء کمال نزولی کے آخری درجہ پر فائز نہیں تھے اور سیّد الانبیاء ﷺ نزولی اور عروجی تمام کمالات کے جامع تھے (آپ ﷺ کا اعلیٰ رخ ملائکہ کی نورانیت سے زیادہ روشن اور اسفل رخ تمام خلقی کمالات کو حاوی تھا) تمام درجات عروج و نزول پر آپ ﷺ فائز تھے۔ اسی لیے آپ کی بعثت نہ صرف تمام انسانوں کے لیے بلکہ تمام جن و انس کے لیے ہوئی اور آپ کی ہدایت کی روشنی سے سارا جہان ہوش و خرد سے جگمگا گیا۔ ہاں ! جن کی عقل و بصرت اور گوش ہوش پر مہر لگ چکی تھی اور جن کی چشم خرد غلاف پوش تھی ‘ ان کے اندر قبول حق کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ وہ ہدایت نبوت سے محروم رہے ‘ اللہ نے ان کو فطری ہدایت ہی نہ دی۔ جب فطری ہدایت ہی سے وہ بےبہرہ رہے تو پھر کس طرح کوئی ان کو ہدایت کرسکتا ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ سیدھے راستہ پر ڈال دیتا ہے۔
شیخ اکبر نے فرمایا تھا کہ نوح کی دعوت لوگوں نے نہیں مانی کیونکہ وہ دعوت فرقانی تھی (یعنی دعوت نوح کو ان کے ساتھ پوری مناسبت حاصل نہ تھی ‘ ان کی طبیعت اور نوح کی دعوت میں عدم مناسبت تھی ‘ نوح کو کمال تنزلی حاصل نہ تھا ‘ ان کے آئینہ نبوت کی پشت پر کمال تخلیقی کا پورا مصالحہ چسپاں نہ تھا ‘ اس لیے نور الٰہی اور وحی کی روشنی ان کے آئینہ پر جب پڑی تو پار ہوگئی اور منعکس ہو کر کافروں کے قلوب کو متاثر نہ کرسکی) اور محمد ﷺ کی دعوت پر لوگوں نے لبیک کہی کیونکہ یہ دعوت قرآنی تھی (یعنی کمال اعلیٰ اور کمال ادنیٰ دونوں مقارن تھے ‘ آپ کو خالق سے بھی مناسبت تامہ حاصل تھی اور مخلوق سے بھی ربط کامل تھا۔ اعلیٰ کو ادنیٰ سے مربوط کرنا آپ ﷺ جانتے تھے ‘ کمالات عروجی و نزولی دونوں حاصل تھے۔ آئینہ کا ایک رخ روشن تھا ‘ تو کامل روشن اور دوسرے رخ پر بشریت خلقیہ کا مصالحہ چسپاں تھا تو کامل طور پر چسپاں تھا ‘ بالائی رخ سے جو شعائیں آئینۂ نبوت پر پڑتی تھیں وہ آئینہ سے پار نہیں نکل سکتی تھیں بلکہ آئینۂ قلب میں سمو جاتی تھیں اور پھر الٹ کر دوسرے لوگوں کے قلوب پر پڑتی تھیں جس کی وجہ سے وہ بھی روشن ہوجاتے تھے ‘ گویا آپ کو کمال نبوت تو دوسرے انبیاء کی طرح حاصل تھا ہی اور وصف رسالت (شعاعوں کی عکس ریزی) میں آپ سب پر فائق تھے ‘ آپ کو خالق اور مخلوق دونوں سے مقارنت کاملہ حاصل تھی اور مخلوق کو خالق کے مقارن بنانا اور دونوں کو مربوط کرنا بھی آتا تھا۔ 1
...........
1 حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہٗ نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ آیت : انا عرضنا الامانۃ علی السمٰوٰت والارض .... میں جو انسان کو ظلوم و جہول فرمایا ہے یہ انسان کی تنقیص نہیں بلکہ وصف امتیازی ہے۔ اس کی کامل توضیح کا تو یہ مقام نہیں۔ ہم اس کی مختصر تشریح جو حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ کے اس جگہ کے بیان سے مناسبت رکھتی ہے ‘ بیان کرتے ہیں۔
ملائکہ خالص نور ہیں ‘ ان میں مادیت نام کو بھی نہیں۔ مادیت ‘ لوازم مادیت اور متعلقات مادیت سے پاک ہیں۔ وہ خالص روشنی ہیں جس کے اندر مطلق تاریکی نہیں اور محض علم ہیں یعنی ان کا علم وہبی ہے۔ نادانی اور جہالت سے برتر ہیں۔ یعنی ان کا علم اکتسابی نہیں نہ ترتیب مقدمات کا محتاج ہے ‘ نہ ان کے علم میں نظریت ہے ‘ نہ پردۂ فکریت۔ نور قدس کی جو شعاعیں ان پر پڑتی ہیں۔ وہ ان کو روشن کردیتی ہیں اور چونکہ وہ خود شفاف ہیں اس لیے علم خداوندی کی شعاعیں چھن کر پار ہوجاتی ہیں۔ وہ نورانیت قدسیہ کو روک کر نہ اپنے اندر سمو سکتے ہیں ‘ نہ عکس پاشی کر کے دوسروں کو روشن کرسکتے ہیں۔ نور قدسی ملائکہ کے اندر سے گزر کر خود بخود مادی مخلوق تک پہنچتا ہے گویا ملائکہ کا علم اضطراری ہے۔ غیر اختیاری ‘ وہبی ہے۔ غیر اکتسابی ‘ غیر فکری ‘ غیر ارادی ‘ کسی مادی مخلوق سے ان کو تخلیقی مناسبت نہیں اور تخلیقی مناسبت کے فقدان کی وجہ سے کوئی مخلوق ان سے نورچیں اور فیض اندوز نہیں ہوسکتی۔ انسان روحانی اور ادراکی قوت کے علاوہ مادی کثیف قوتوں کا بھی حامل ہے۔ آئینۂ بشریت ایک طرف سے نہایت شفاف اور ملائکہ کی طرح روشن ہے۔ نور قدس اس پر جلوہ افگن ہوتا ہے تو اس کو جگمگا دیتا ہے لیکن اس کا دوسرا مادی رخ نہایت کثیفٗ مادیت سے آلودہٗ تاریک (ظلوم) اور نادان (جہول) ہے۔ اوّل رخ صعودی اور معنوی ہے۔ دوسرا رخ نزولی اور صوری۔ اوّل رخ کے صاف ہونے کی وجہ سے وہ نورچیں ہے ‘ فیض اندوز ہے ‘ ضیاء آگیں ہے لیکن مادیت کا پچھلا رخ چونکہ کثیف ہے اس لیے ملائکہ کی طرح اس کی خلقت میں شفافیت نہیں کہ آفتاب الوہیت کی کرنیں اس کے پار نکل جائیں اور رک نہ سکیں۔ یہ کثافت پشت ہی اس کے لیے باعث شرف اور وجہ فضیلت ہے۔ اسی مادی تاریکی کی وجہ سے وہ نوربیز نہیں ہوتا بلکہ نورچیں ہو کر نور اندوز بنتا اور انعکاسی شعاعوں سے دوسروں کو منور کرتا ہے۔ پس جس انسان کے دونوں رخ کامل ہوں گے اس کو بارگاہ قدس سے معنوی مناسبت (یعنی نور چینی کی قابلیت) اور مادی مخلوق سے صوری مناسبت کامل طور پر ہوگی اور اس میں صلاحیت ہوگی کہ بالائی رخ سے امانت الٰہیہ (ہدایت ‘ اوامرو نواہی ‘ معرفت) کو حاصل کر کے اپنے اوپر اٹھائے۔ خود اپنی ذات کو روشن کرے اور پھر روشنی (یعنی معرفت اور پیام الٰہی) کو اپنے اندر سمو کر دوسروں پر عکس پاشی کرے اور دوسری مخلوق (جن و انس) اس کی ہدایت سے فائدہ اٹھائے۔ بالائی رخ کی روشنی اور ضیاء چینی میں تو تمام انبیاء برابر ہیں۔ مگر بشریت کاملہ کا تقاضا ہے کہ زیریں رخ بھی کامل ہوتا کہ نور معرفت و ہدایت کو اپنے اندر سمو کر دوسروں پر عکس پاشی کی جاسکے۔ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ دوسرے انبیاء کو یہ زیرینی کمال حاصل نہ تھا اس لیے وہ نور پاشی کامل طور پر نہیں کرسکتے تھے۔ ان کو کمال عروجی تو حاصل تھا مگر کمال نزولی پورا حاصل نہ تھا۔ روحانیت تو کامل تھی مگر مادیت کامل نہ تھی گویا کمال نبوت تو حاصل تھا مگر مناسبت صوری میں نقص ہونے کی وجہ سے وصف رسالت کامل طور پر حاصل نہ تھا۔ اسی لیے ان کی بعثت صرف اپنی قوم یا اپنے ملک کے لیے ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کو دونوں کمال حاصل تھے اس لیے آپ ﷺ کی بعثت نہ صرف تمام انسانوں کے لیے ہوئی بلکہ جنات کے لیے بھی ہوئی۔ 12
Ayah 72:6وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن . ابن منذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الشیخ نے کروم بن السائب انصاری کا قول نقل کیا ہے۔ کروم نے کہا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ کسی کام سے مدینہ کو جانے کے لیے نکلا (وادی میں پہنچ کر رات ہوگئی اور) رات گزارنے کے لیے بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس ٹھہرنا پڑا۔ آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا بکری کے بچہ کو اٹھا کرلے گیا۔ چرواہا دوڑا اور پکارا : اے وادی کے مالک ! یہ تیری پناہ میں تھا۔ فوراً کسی منادی نے جو ہم کو نظر نہ آتا تھا ‘ پکارا ‘ بھیڑیئے ! اس کو چھوڑ دے ‘ بکری کا بچہ فوراً دوڑتا ہوا آگیا اور بکریوں میں داخل ہوگیا۔ کہیں اس کے خراش بھی نہیں لگی تھی۔ یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جب شروع شروع رسول اللہ ﷺ کا ذکر سننے میں آیا تھا۔ اس پر اللہ نے اپنے رسول پر آیت : وانہ کان رجال من الانس ..... نازل فرمائی۔
ابن سعد نے بروایت ابو رجاء عطاروی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے زمانہ میں میں اپنے گھروں کی بکریاں چراتا اور ان کے ضروری کام پورے کرتا تھا۔ جب حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تو ہم بھاگ کر (اپنے قبیلے سے) نکلے اور ایک بیابان پر پہنچ کر ہم کو شام ہوگئی۔ ہمارے قبیلہ کے شیخ کا طریقہ تھا کہ اگر (سفر میں) کہیں اس طرح شام ہوجاتی (اور جنگل میں رات بسر کرنی پڑتی) تو وہ کہتا تھا ہم آج اس جنگل کے سردار جن کی پناہ پکڑتے ہیں۔ چناچہ حسب معمول یہی الفاظ اس نے کہے (غیب سے) جواب دیا گیا۔ اس پناہ کا راستہ لا اِلٰہ الاّ اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار ہے (اسکے علاوہ کوئی راستہ نہیں) چناچہ ہم واپس آکر اسلام میں داخل ہوگئے۔ ابو رجاء نے کہا میرے خیال میں یہ آیت : وَاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ.. میرے ہی ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی۔
جزا سفی نے کتاب ہواتف الجن میں اپنی سند سے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ قبیلہ تمیم کا ایک شخص تھا جس کا نام تھا رافع بن عمیر۔ اس نے اپنے آغاز اسلام کا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ایک رات میں عالج کے ریگستان میں جا رہا تھا ‘ جب نیند سے بےقابو ہوگیا تو اونٹنی کو ٹھہرا کر ایک جگہ پڑاؤ کیا اور سو گیا لیکن سونے سے پہلے میں نے کہا کہ اس وادی کے جن سردار کی میں پناہ پکڑتا ہوں۔ خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کے ہاتھ میں چھوٹا نیزہ ہے اور وہ میری اونٹنی کے گلے میں بھالا مارنا چاہتا ہے۔ میں گھبرا کر بیدار ہوا ‘ اِدھر ادھر دیکھا ‘ کچھ نظر نہیں آیا۔ خیال کیا یہ بیہودہ خواب ہے۔ دوبارہ پھر غافل ہو کر سو گیا پھر بھی ایسا ہی خواب دیکھا اور بیدار ہو کر اونٹنی کے چاروں طرف گھوم کر دیکھا لیکن کوئی دکھائی نہ دیا البتہ اونٹنی لرز رہی تھی ‘ پھر سو گیا اور ویسا ہی خواب دیکھا ‘ بیدار ہوا تو اونٹنی کو بےقرار پایا۔ اِدھر ادھر دیکھا تو خواب والے آدمی کی طرح ایک جوان ہاتھ میں چھوٹا نیزہ لیے نظر آیا اور ایک بوڑھا آدمی جوان کے ہاتھ پکڑے اونٹنی سے اس کو روک رہا تھا۔ وہ دونوں اسی کشاکش میں تھے کہ تین نیل گائے نر نمودار ہوئے۔ بوڑھے نے جوان سے کہا اٹھ اور اس پناہ گیر آدمی کی اونٹنی کے عوض ان میں سے جس کو چاہے پکڑ لے وہ جوان اٹھا اور ایک بڑے نیل گائے کو پکڑ لیا اور واپس چلا گیا۔ میں نے بوڑھے کی طرف رخ کیا تو اس نے کہا : اے شخص جب تو کسی وادی میں فروکش ہو اور وہاں تجھے کسی دہشت کا خطرہ ہو تو یوں کہا کر ‘ میں اس اللہ کی جو محمد ﷺ کاربّہے اسوادی کے خطرہ سے پناہ مانگتا ہوں ‘ کسی جن کی پناہ نہ مانگنا ‘ ان کا کام اب تباہ ہوگیا۔ میں نے پوچھا : یہ محمد ﷺ کو نہیں ؟ بوڑھے نے کہا : عرب کے رہنے والے ایک نبی ہیں ‘ نہ مشرقی ہیں نہ مغربی۔ دو شنبہ کے دن ان کی بعثت ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا : ان کا مقام سکونت کہاں ہے ؟ اس نے کہا : نخلستان والا یثرب۔ جب صبح چمکی ‘ تو میں اونٹنی پر سوار ہو کر تیزتیز چل کر مدینہ پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھتے ہی بغیر میرے ذکر کیے میری سرگزشت بیان فرما دی اور مجھے اسلام کی دعوت دی ‘ میں مسلمان ہوگیا۔ سعید بن جبیر ؓ کہتے تھے ہم خیال کرتے تھے کہ یہ وہی شخص تھا جس کے متعلق آیت : وانہ کان رجال من الانس ..... نازل ہوئی۔
فزادوھم . یعنی جب آدمیوں نے جنات کے سرداروں کی پناہ مانگی تو انہوں نے ان کے اندر گمراہی بڑھا دی۔
رھقا . یعنی گناہ۔ ابن عباس۔ یا سرکشی ‘ مجاہد۔ یا گمراہی ‘ مقاتل۔ یا شر ‘ حسن بصری۔ یا غرور ‘ ابراہیم۔ کیونکہ آدمیوں نے جب جنات کی پناہ پکڑی تو ان کے اندر غرور بڑھ گیا ‘ وہ کہنے لگے کہ اب ہم جنات کے بھی سردار ہوگئے اور انسانوں کے بھی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جنات نے انسانوں کی گمراہی اس طرح بڑھا دی کہ انسانوں کو گمراہ کیا ‘ مجبوراً آدمیوں نے (راہ طلبی کے لیے) جنات کی پناہ مانگی (اس سے مزید گمراہ ہوگئے) لغت میں رہق کا معنی ہے کسی چیز پر چھا جانا (یا ارتکاب کرنا) اس جگہ ممنوعات اور گناہ مراد ہے۔
آیت مذکورہ میں جنات کی طرف سے اعتراف ہے کہ ہمارا عقیدہ پہلے غلط تھا۔
Ayah 72:7وانھم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث اللہ احدا . یعنی اے گروہ جناتِ جیسے تمہارا خیال تھا کہ اللہ کسی کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا ‘ تمہارے اس خیال کی طرح آدمیوں کا بھی خیال تھا۔ اگر اِنَّھُمْ بکسر ہمزہ پڑھا جائے تو یہ جنات کا قول ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ پہلے عقیدہ آدمیوں کا بھی خراب تھا ‘ وہ بھی قیامت اور حشر کے قائل نہ تھے لیکن نزول قرآن کے بعد وہ غیب پر ایمان لے آئے۔ لہٰذا تم بھی آدمیوں کی طرح حشر و نشر پر ایمان لے آؤ ‘ لیکن اگر انہم بفتح ہمزہ پڑھا جائے تو حاصل مطلب یہ ہوگا کہ اے قریش مکہ ! تمہارے خیال کی طرح جنات کا بھی خیال تھا کہ حشر و نشر نہیں ہوگا لیکن جب قرآن نازل ہوا اور جنات نے اس کو سنا تو قیامت کے قائل ہوگئے۔ لہٰذا تم بھی قیامت پر ایمان لے آؤ۔ جس طرح وہ ایمان لے آئے۔
Ayah 72:8وانا لمسنا السماء . یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ہم نے سماء کو چھونا چھاہا بظاہرا لسماء سے مراد ابر ہے کیونکہ ہر بالائی چیز کو سماء کہہ دیا جاتا ہے۔ اس تاویل پر حضرت عائشہ ؓ کی حدیث دلالت کر رہی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے خود حضور ﷺ سے سنا کہ ملائکہ عنان یعنی بادل میں اترتے ہیں اور کسی ایسے امر کا تذکرہ کرتے ہیں ‘ جس کا فیصلہ آسمان پر ہوچکا ہوتا ہے۔ شیطان چوری سے اس کو سن لیتے ہیں اور کاہنوں کے پاس پہنچ کر ان کو بتا دیتے ہیں ‘ کاہن اس ایک بات میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (بخاری)
ایک شبہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ السماء سے حقیقی آسمان مراد ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب آسمان پر اللہ کسی بات کا حکم دیتا ہے تو عجز وانقیاد کے طور پر فرشتے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں (اور ایک گنگناہٹ پیدا ہوتی ہے) جیسے کسی پتھر کی چٹان پر زنجیر لگنے سے پیدا ہوتی ہے۔ جب کلام ختم ہوجاتا ہے تو فرشتے باہم پوچھتے ہیں ‘ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے جواب دیتے ہیں جو کچھ فرمایا حق ہے۔ اللہ بزرگ و برتر ہے۔ اس بات کو چوری سے سننے والے سن لیتے ہیں اور یکے بعد دیگرے ہر اوپر والا نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے یہاں تک کہ سب سے آخر والا کاہن یا ساحر کی زبان پر اس بات کو ڈال دیتا ہے اور وہ اس کے ساتھ جھوٹ ملا دیتا ہے ‘ کبھی نیچے والے (شیطان) تک اس قول کو پہنچانے سے پہلے ہی انگارا بالائی شیطان کو آ پکڑتا ہے (اور اس طرح راز محفوظ رہتا ہے) ۔ (بخاری)
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کردہ حدیث میں آیا ہے کہ پروردگار جب کسی بات کا حکم جاری کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے ملائکہ سبحان اللہ کہتے ہیں (غلغلۂ تسبیح بلند کرتے ہیں) پھر ان سے متصل آسمان والے سبحان اللہ کہتے ہیں ‘ یہاں تک کہ اس نچلے آسمان والوں تک تسبیح کی نوبت آتی ہے ‘ عرش کو اٹھانے والے کہتے ہیں ‘ تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے بتاتے ہیں ‘ اسی طرح آسمانوں والے باہم پوچھتے اور جواب دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ بات اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے اور شیطان کچھ چوری سے سن پاتے ہیں اور اپنے دوستوں (کاہنوں ‘ ساحروں) پر لا کر مار دیتے ہیں۔ اب اگر وہ لوگ ویسا ہی بیان کردیں جیسی وہ ہوتی ہے تو وہ بات ٹھیک ہوتی ہے لیکن وہ تو اس میں مبالغہ کرتے ہیں اور کچھ بڑھا دیتے ہیں۔ (مسلم)
جواب ان دونوں حدیثوں میں بلکہ ان کے ہم معنی جو دوسری حدیثیں آئی ہیں ‘ کسی میں بھی یہ نہیں آیا کہ آسمان دنیا سے شیطان چرا لاتے ہیں بلکہ شاید یہ معنی ہے کہ آسمان دنیا تک وہ بات پہنچتی ہے ‘ پھر دنیوی آسمان والے (ملائکہ) بادل تک اترتے ہیں اور اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں ‘ یہاں جنات اس کو جھپٹ لیتے ہیں۔ اَبر سے نیچے شیاطین مسلسل قطار در قطار ہوتے ہیں اور اوپر والا نیچے والے سے وہ بات کہہ دیتا ہے اور ایسے وقت میں کوئی ٹوٹنے والا تارا اس پر انگارے کی طرح آپڑتا ہے ‘ واللہ اعلم۔
فوجدنھا ملئت حرسا شدیدا او شھبا . حرس نگراں ‘ چوکیدار۔ یہ خدم کی طرح اسم جمع ہے۔ شھبٌ‘
شہاب کی جمع ہے یعنی تاروں سے ٹوٹ کر نکلنے والا آگ کا شعلہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے سماء کو قوی نگرانوں سے یعنی ملائکہ سے جو آسمان تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور ٹوٹنے والے شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔
Ayah 72:9وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع . ہم اس سے پہلے آسمان یعنی ابر میں ان جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے جو چوکیداروں اور شہابوں سے خالی ہوتی تھیں اور اس قابل ہوتی تھیں کہ تاک لگا کر وہاں سنا جاسکے۔
فمن یستمع الا یجد لہ شھابا رصدا . لیکن اب بعثت کے بعد جو سنتا ہے وہ اپنی تاک میں کسی شہاب کو پاتا ہے اور شعلہ باری اس کو سننے سے روک دیتی ہے یا شہاب سے مراد ہے شہاب والے (ملائکہ) اور صد جمع ہے راصد کی۔ مطلب یہ کہ وہ شہاب والے ملائکہ کو تاک میں پاتا ہے ‘ جنات کے حق میں رسول اللہ ﷺ کا یہ معجزہ تھا ‘ اسی وجہ سے وہ ایمان لائے تھے۔
Ayah 72:10وانا لا ندری . اور اس سے پہلے ہم واقف نہ تھے کہ۔
اشرا ارید بمن فی الارض ام اراد بھم ربھم رشدا . امر خداوندی کو محفوظ بنا کر زمین والوں کی برائی مقصود ہے یا اللہ نے ان کو ہدایت یاب بنانا چاہا ہے لیکن اب جبکہ ہم نے قرآن سن لیا اور ہم کو اسی چیز نے آسمان کی خبریں حاصل کرنے سے روک دیا تاکہ (آسمانی خبروں کا بیان) رسول اللہ ﷺ کے لیے معجزہ ہوجائے جس کو پانے اور ظاہر کرنے سے کاہن عاجز ہوجائیں تو اب کھل گیا کہ اللہ کو اہل عالم کی ہدایت یابی مقصود ہے۔ مذکورۂ بالا تینوں جملوں میں قرآن کی صداقت اور رسول اللہ ﷺ کی حقانیت پر استدلال ہے۔
اچھائی ہو یا برائی ‘ خیر ہو یا شر ‘ سب اللہ کے ارادہ سے ہوتی ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے لیکن ادب کا تقاضا تھا کہ ارادۂ شر کی نسبت صراحۃً خدا کی طرف نہ کی جائے اور ارادۂ خیر کا فاعل صراحۃً اللہ کو قرار دیا جائے۔ اسی لیے شر کے ساتھ لفظ اُرِید بصیغۂ مجہول اور خیر کے ساتھ اراد بصیغہ معروف ذکر کیا۔
Ayah 72:11وانا منا الصلحون . الصالحون سے مراد ہیں وہ جنات جو گزشتہ انبیاء اور آسمانی کتابوں پر خصوصاً تورات پر ایمان رکھتے تھے۔
ومنا دون ذلک کنا طرائق . یعنی ہم مختلف مسلکوں والے تھے یا راستوں کی طرح مختلف الاحوال تھے۔
قددا . متفرق ‘ مختلف۔ قدد ‘ قِدۃ کی جمع ہے قِدّۃٌ کا معنی ہے ٹکڑہ۔ یہ جملہ گزشتہ جملہ یعنی منا الصلحون کی تاکید ہے۔ حسن بصری (رح) اور مہدی کا قول ہے کہ جنات تمہاری طرح ہیں ‘ ان میں قدریہ بھی ہیں اور مرجیہ بھی اور رافضی وغیرہ بھی۔
.........
1 قدریہ فرقہ قائل ہے کہ ہم اپنے اعمال کے خود خالق ہیں۔ خدا خالق شر نہیں۔ مرجیہ فرقہ کا عقیدہ ہے کہ اگر ایمان اور توحید صحیح ہو تو پھر کوئی گناہ موجب مواخذہ نہیں ‘ کسی نیک عمل کی ضرورت نہیں۔ ہر خطا کا معاف ہونا ضروری ہے۔ بعض علماء نے حنفیہ کو بھی مرجیہ میں داخل کیا ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ حنفیہ کے عقیدہ اور مرجیہ کے خیال میں بڑا فرق ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ کوئی مشرک مغفور نہیں اور کوئی غیر مشرک جنت سے محروم نہیں۔ خواہ معافی کے بعد یا عذاب پانے کے بعد ‘ گویا بد اعمال مؤمن کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے ‘ چاہے عذاب دے ‘ چاہے بخش دے۔ 12
جنات نے جو آپس میں کہا تھا : انا منا الصّٰلحون یہ حقیقت میں آگے والے قول کی تمہید ہے ‘ آگے آتا ہے : انا ظننّا ان لن نعجز اللہ ...... اور انا لما سمعنا الھدٰی ..... ان دونوں کی تمہید انا منّا الصّٰلحون ہے۔ مطلب یہ کہ توحید و بعث پر ایمان ہماری طرف سے کوئی انوکھی بات نہیں۔ پہلے جنات بھی مختلف مسالک پر تھے ‘ کچھ صالح تھے ‘ کچھ غیر صالح اور گزشتہ زمانہ میں اگرچہ ہم خفیف العقل لوگوں کے پیچھے چلتے تھے اور حدود صداقت سے ہٹی ہوئی باتیں کہتے تھے مگر جب قرآن سن لیا تو ہم کو معلوم ہوگیا کہ ہم خدا پر غالب نہیں آسکتے۔ اب ہم نے ہدایت کی بات سنی لی اور اس کو اسی طرح مان لیا جیسے ہمارے بعض اسلاف نے مان لیا تھا۔
Ayah 72:12وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض . یعنی ہم نے جان لیا اور قرآن میں جو اللہ نے تعلیم دی اور ہدایت کی ہے ‘ اس سے ہم کو یقین ہوگیا کہ اگر زمین پر خدا ہم کو خراب کردینا چاہے ‘ تو ہم اس کے قابو سے باہر نہیں ہوسکتے۔
ولن نعجزہ ھربا . اور اگر اس سے بھاگنا چاہیں تو زمین سے آسمان کی طرف بھاگ کر بھی اس کے پنجہ سے نہیں نکل سکتے۔
Ayah 72:13وانا لما سمعنا الھدی امنا بہ . الہدیٰ سے مراد ہے قرآن ‘ کیونکہ قرآن موجب ہدایت ہے یعنی
قرآن سن کر ہم ایمان لے آئے۔ پس اے گروہ جن تم ہماری قوم ہو ‘ تم بھی آیمان لے آؤ۔
فمن یومن بربہ . فاء سببی ہے۔ مَن شرط کے لیے ہے اور آئندہ کلام اس کی جزا ہے۔
فلا یخاف . مبتداء محذوف کی خبر ہے (اسی لیے مرفوع ہے ‘ مجزوم نہیں ہے) ۔
بخسا . ثواب کی کمی۔
ولا رھقا . ذلت چھا جانا یعنی جو اپنے رب پر ایمان رکھے گا اس کو نہ ثواب میں کمی ہونے کا اندیشہ ہوگا ‘ نہ
ذلت چھا جانے کا ‘ یا مطلب ہے کہ مؤمن اپنی طاعت کے نقص اور بیجا حرکات کے ارتکاب کی سزا سے بےخوف نہیں ہوتا۔ قرآن پر ایمان رکھنے کا تقاضا ہے کہ اس کا اندیشہ لگا رہے۔
Ayah 72:14وانا منا المسلمون . یعنی نیک لوگ۔
ومنا القاسطون . یعنی کجرو ‘ حق سے پھرے ہوئے اگر کسی شخص نے انصاف کیا ہو تو کہتے ہیں : قسط
الرجل (باب افعال سے) اور اگر ظلم کیا ہو تو کہتے ہیں : قسط (ثلاثی مجرد سے) اس کا اسم فاعل قاسط (ظالم) ہے۔ اس آیت کا مضمون گزشتہ آیت : وانا منا الصّٰلحون میں بھی آیا ہے لیکن غرض دونوں جگہ جدا جدا ہے۔ یہاں مقصود ہے دونوں فریقوں کے حال کی تفصیل اور گزشتہ آیت میں صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ایمان کوئی انوکھی چیز نہیں کہ پہلے نہ ہوئی ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ قرآن سننے والے جن کچھ مسلمان ہوگئے ہوں ‘ کچھ نہ ہوئے ہوں اور یہ قول ان مسلمانوں کا ہو ‘ جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گئے تو یہ بات کہی۔
فمن اسلم . یعنی اللہ اور رسول پر جو لوگ ایمان لے آئے۔
فاولئک تحروا رشدا . تو انہوں نے کامیابی کے راستہ پر چلنے کا ارادہ کیا۔
Ayah 72:15واما القاسطون فکانوا لجنھم حطبا . یعنی ان سے جہنم کی آگ جلائی جائے گی ‘ جیسے لکڑی سے معمولی
آگ روشن کی جاتی ہے۔ ساتوں جملے یعنی : وانا لمسنا السمآء سے وانا منا المسلمون تک ‘ اگر بفتح اَنَّ پڑھے جائیں تو تاویل طلب ہوں گے ان کو اقوال جنات بغیر تاویل کے نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن اگر ہر جگہ اِنَّ بالکسر پڑھا جائے تو جنات کے اقوال ہونے میں کوئی کدو رت نہ ہوگی۔
مسئلہ کافر جنات کو آگ کا عذاب ہوگا ‘ اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے ‘ آیت : واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبًا سے یہی معلوم ہو رہا ہے ‘ رہی مؤمن جنات کے ثواب کی بحث ‘ تو یہ اختلافی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جنات کے لیے ثواب صرف یہ ہے کہ وہ دوزخ سے محفوظ رہیں گے۔ آیت : یقومنا اجیبوا داعی اللہ و امنوا بہ غفر لکم من ذنوبکم و یجرکم من عذاب الیم۔ اسی کی تشریح ہے (اے قوم اللہ کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لے آؤ ‘ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور دکھ کے عذاب سے تم کو محفوظ رکھے گا) ۔
بغوی نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) اسی طرف گئے ہیں۔ سفیان (رح) نے لیث کا قول نقل کیا ہے کہ جنات کے لیے ثواب صرف یہ ہوگا کہ ان کو دوزخ سے محفوظ رکھا جائے گا پھر ان کو بہام (چوپایوں) کی طرح مٹی کردیا جائے گا۔ ابو الزیاد کا قول ہے کہ جب اللہ انسانوں کا فیصلہ کرے گا تو مؤمن جنات سے کہا جائے گا ‘ مٹی ہوجاؤ ‘ وہ مٹی ہوجائیں گے۔ یہ دیکھ کر کافر کہے گا کاش میں بھی مٹی ہوجاتا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے (کچھ صراحت نہیں کی کہ مؤمن جنات کے ثواب کی کیا صورت ہوگی) کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس بات کو اللہ نے مبہم رکھا ہے تم بھی مبہم رکھو۔ اللہ نے کافر جنات کے عذاب کا تو ذکر کیا ہے مگر فرمانبردار جنات کے ثواب کا کچھ تذکرہ نہیں فرمایا۔ صرف اتنا فرمایا کہ ان کو دوزخ سے محفوظ رکھا جائے گا۔ کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ انسانوں کی طرح جنات کے لیے بھی نیکی کا ثواب اور بدی کا عذاب ہوگا۔ امام مالک اور ابن ابی لیلیٰ اسی قول کی طرف گئے ہیں۔
جریر ؓ نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ جنات جنت میں داخل ہوں گے اور (وہاں) کھائیں گے ‘ پئیں گے۔ ابو الشیخ نے ایک حدیث بیان کی ہے اور نقاش نے اس کو اپنی تفسیر میں ذکر کیا ہے کہ جنات جنت میں داخل ہوں گے۔ ابو الشیخ سے پوچھا گیا : کیا جنت کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ؟ شیخ نے جواب دیا : اللہ جنات کے دل میں تسبیح اور ذکر بطور الہام پیدا کر دے گا۔ وہ اس تسبیح اور ذکر میں وہ لذت محسوس کریں گے جو جنت کی نعمتوں سے انسانوں کو حاصل ہوگی۔ گویا ابو الشیخ نے مؤمن جنات کو ملائکہ کی صف میں داخل کردیا۔ ابن المنذر نے کہا : میں نے حمزہ بن حبیب ؓ سے پوچھا : کیا جنات کو ثواب ملے گا ؟ حمزہ نے کہا : ہاں ! اور یہ آیت پڑھی : لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان۔ پس انسی حوریں انسانوں کے لیے ہوں گی اور جنّی حوریں جنات کے لیے (یعنی انسانوں کے مناسب حوریں انسانوں کے لیے اور جنات کے مناسب حوریں جنات کے لیے) ۔
ابو الشیخ نے باسناد ضحاک حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ مخلوق کے تین گروہ ہوں گے۔ ایک گروہ پورا جنت میں ہوگا ‘ دوسرا گروہ دوزخ میں۔ اوّل گروہ ملائکہ کا ہے اور دوسرا گروہ شیطانوں کا۔ تیسرا گروہ (کچھ) جنت میں ہوگا اور کچھ دوزخ میں۔ یہ جنات اور انسانوں کا گروہ ہوگا ‘ ان کے لیے عذاب بھی ہے اور ثواب بھی۔
ابن وہب سے پوچھا گیا کہ جنات کے لیے عذاب وثواب ہے ؟ جواب دیا : ہاں ! اللہ نے فرمایا ہے : اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خٰسرین ولکل درجٰت مما عملوا (یعنی جن ہوں یا انس اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہر ایک کے لیے درجات ہیں) ۔
عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ مؤمن جن ‘ جنت کے آس پاس میدانوں میں ہوں گے۔ جنت کے اندر نہیں ہوں گے۔
ثواب جنات کے قائل کہتے ہیں کہ اللہ نے بغیر کسی تخصیص کے فرمایا ہے : ان الذین امنوا و عملوا الصّٰلحت کانت لھم جنّٰت الفردوس نزلا۔ اس کے علاوہ دوسری عمومی آیات ہیں ‘ پھر سورة رحمن میں جن و انس دونوں کو خطاب فرمایا ہے (مثلاً ) ولمن خاف مقام ربہٖ جنتٰن۔ فبای اٰلآء ربکما تکذبٰن۔ حورٌ مقصورٰت فی الخیام۔ فبای الآء ربکما تکذبٰن۔ لم یطمثھن انس قبلھم ولا جان۔ فبای اٰآاء ربکما تکذبن۔ حنفیہ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ عمومی خطابات سے مراد ہیں تمام انسانوں کے لیے خطابات۔ جن ان خطابات میں داخل نہیں۔ اہل عرف ان خطابات سے صرف انسانوں کے لیے عمومی خطاب ہی سمجھتے ہیں۔ رہی سورة رحمن کی آیت : فبای الآء ربکما تکذبٰن تو اس میں جن و انس دونوں کو خطاب ہے مگر اللہ کی عمومی نعمتوں کی تکذیب پر توبیخ مقصود ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اس نعمت کے انکار پر زجر مقصود نہیں ‘ جو اس سے پہلے والی آیت میں ذکر کی گئی ہے ‘ کیونکہ یہ توبیخ آیت بعض ایسی آیات کے بعد بھی ذکر کی گئی یہ جو انعامی نہیں بلکہ عقابی ہیں۔ مثلاً : یرسل علیکما شواظ من نار و نحاس فلا تنتصران فبای اٰلآت ربکما تکذبٰن۔ یعرف المجرمون بسیمٰھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام۔ فبای اٰلآء ربکما تکذبٰن اور عمومی نعمتوں میں سے کچھ نعمتیں ایسی بھی ہیں جو صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص ہیں ‘ جنات کو حاصل نہیں مگر اس خصوصی نعمت کے تذکرہ کے بعد خطاب دونوں کو کیا گیا ہے جیسے ولہ الجوار المنشات فی البحر کالاعلام۔ فبای اٰلآء ربکما تکذبٰن۔ (سمندروں میں کوہ نما جہازوں کا ‘ رواں کرنا صرف انسانوں پر احسان خداوندی ہے ‘ جنات کو جہازوں سے کوئی فائدہ نہیں مگر خطاب زجری اس کے بعد دونوں کو کیا گیا ہے) پس اسی طرح ہوسکتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انسانوں کے لیے مخصوص ہوں اور عام نعمتوں کی تکذیب و ناشکری پر خطاب توبیخی دونوں کے لیے ہو۔
میرے نزدیک جمہور کا قول صحیح ہے۔ امام ابو یوسف (رح) و امام محمد کا بھی یہی خیال ہے۔ صاحبین کا قول ہے کہ ثواب جنات کے قائل اپنے قول کی دلیل اور ثبوت رکھتے ہیں ‘ اس لیے ان کی بات مانی جائے گی اور امام اعظم کے نزدیک فقدان دلیل ہے اس لیے وہ توقف کے قائل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ و عمر بن عبدالعزیز اور دوسرے صحابہ وتابعین کے اقوال مرفوع کے حکم میں ہیں (اگرچہ مرفوع نہیں ہیں) اور بیہقی نے تو حضرت انس کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایماندار جنات کے لیے ثواب اور (غیر مؤمن جنات کے لیے) عذاب ہوگا۔ ہم نے ثواب کی کیفیت پوچھی تو فرمایا : وہ اعراف پر ہوں گے ‘ جنت میں نہیں ہوں گے۔ ہم نے دریافت کیا : اعراف کیا ہے ؟ فرمایا : جنت سے باہر جس میں دریا رواں ہوں گے اور درخت اور پھول ہوں گے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 72:16وان لو استقاموا . اس جملہ کا عطف انہ استمع نفر من الجن پر ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس اس
بات کی بھی وحی ہے کہ اگر جن و انس قائم رہیں گے۔
علی الطریقۃ . اللہ کے پسندیدہ راستہ یعنی دین اسلام اور اس فطرت پر جس پر اللہ نے سب لوگوں کی
تخلیق کی ہے (یعنی انسانی خود ساختہ رنگ آمیزی سے بچے رہیں گے) ۔
لا ستینٰھم ماء غدقا . تو ہم ان کو کثیر پانی سے سیراب کریں گے۔ مقاتل نے بیان کیا کہ سات برس تک خشک
سالی میں جب وہ لوگ مبتلا رہے تو آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ آب کثیر سے مراد وسیع رزق کیونکہ پانی حصول رزق کا سبب ہے۔ (سبب بول کر مسبّب بطور مجاز مراد لیا گیا) جس طرح رزق سے بارش اس آیت میں مراد ہے وما انزل من السمآء من رزق فاحیا بہ الارض (آسمان سے غلہ نہیں بلکہ پانی اترتا ہے جو زمین کی سرسبزی کا ذریعہ ہے) مراد یہ ہے کہ اگر وہ دین فطرت پر قائم رہے تو ہم ان کو بکثرت مال اور آرام کی زندگی عطا کریں گے۔ اس آیت کا مفہوم وہی ہے ‘ جو آیت : ولو انھم اقاموا التوراۃ والانجیل وما انزل الیھم من ربھم لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم کا ہے اور اسی مضمون کو آیت : ولو ان اھل القرٰی امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکاتٍ من السمآء میں بیان کیا گیا ہے۔