72. Surah Al-Jinn
الجنThe Jinn · 28 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
الجن اس سورت کا نام بھی ہے اور اس کے مضامین کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں جنوں کے قرآن سن کر جانے اور اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
زمانہ نزول
بخاری اور مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چند اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں نخلہ کے مقام پر آپ نے صبح کی نماز پڑھائی، اس وقت جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گذر رہا تھا، تلاوت کی آواز سن کر ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا۔ اسی واقعے کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس روایت کی بنا پر یہ سمجھا ہے کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشہور سفر طائف کا واقعہ ہے جو ہجرت سے تین سال پہلے 10 نبوی میں پیش آیا تھا لیکن یہ قیاس متعدد وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ طائف کے اس سفر میں جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کا قصہ سورة احقاف آیات 29 – 32 میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس موقع پر جو جن قرآن مجید سن کر ایمان لائے تھے وہ پہلے سے حضرت موسیٰ اور سابق کتب آسمانی پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے برعکس اس سورت کی آیات 2 – 7 میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرکین اور منکرین آخرت و رسالت میں سے تھے۔ پھر یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ طائف کے اس سفر میں حضرت زید بن حارثہ (رض) کے سوا اور کوئی حضور کے ساتھ نہ تھا۔ بخلاف اس کے اس سفر کے متعلق ابن عباس فرما رہے ہیں کہ اس میں چند صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔ مزید برآں روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس سفر میں جنوں نے قرآن اس وقت سنا تھا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے مکہ واپس تشریف لاتے ہوئے نخلہ میں ٹھہرے تھے۔ اور اس سفر میں ابن عباس کی روایت کے مطابق جنوں کے قرآں سننے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ مکہ سے عکاظ تشریف لے جا رہے تھے۔ ان وجوہ سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورة احقاف اور سورة جن میں ایک ہی واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ دو الگ واقعات تھے جو دو مختلف سفروں میں پیش آئے تھے۔ جہاں تک سورة احقاف کا تعلق ہے، اس میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں روایات متفق ہیں کہ وہ 10 نبوی میں سفر طائف میں پیش آیا تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ دوسرا واقعہ کس زمانے میں پیش آیا، اس کا کوئی جواب ہمیں ابن عباس (رض) کی روایت سے نہیں ملتا، نہ کسی اور تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ کے بازار میں کب تشریف لے گئے تھے۔ البتہ اس سورت کی آیات 8 – 10 پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ نبوت کے ابتدائی دور کا واقعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جن عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے کے لیے آسمان میں سن گن لینے کا کوئی نہ کوئی موقع پالیتے تھے، مگر اس کے بعد یکایک انہوں نے دیکھا کہ ہر طرف فرشتوں کے سخت پہرے لگ گئے ہیں اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے جس کی وجہ سے کہیں ان کو ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں ٹھہر کر وہ کوئی بھنک پاسکیں۔ اس سے ان کو یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ زمین میں ایسا کیا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کے لیے یہ سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ غالباً اسی وقت سے جنوں کے بہت سے گروہ اس تلاش میں پھرتے رہے ہوں گے اور ان میں سے ایک گروہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے قرآن سن کر یہ رائے قائم کی ہوگی کہ یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر جنوں پر عالم بالا کے تمام دروازے بند کردیے گئے ہیں۔
جن کی حقیقت
اس سورت کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ جنوں کی حقیقت کیا ہے تاکہ ذہن کسی الجھن کا شکار نہ ہوں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جن کسی حقیقی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بھی پرانے زمانے کے اوہام اور خرافات میں سے ایک بےبنیاد خیال ہے۔ یہ رائے انہوں نے کچھ اس بنا پر قائم نہیں کی ہے کہ کائنات کی ساری حقیقتوں کو وہ جان چکے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ جن کہیں موجود نہیں ہیں۔ ایسے علم کا دعویٰ وہ خود بھی نہیں کرسکتے مگر انہوں نے بلا دلیل یہ فرض کرلیا ہے کہ کائنات میں بس وہی کچھ موجود ہے جو ان کو محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ انسان کے محسوسات کا دائرہ اس عظیم کائنات کی وسعت کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جو سمندر کے مقابلے میں قطرے کی نسبت ہے۔ یہاں جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ محسوس نہیں ہے وہ موجود نہیں ہے اور جو موجود ہے اسے لازماً محسوس ہونا چاہیے، وہ دراصل خود اپنے ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے۔ یہ طرز فکر اختیار کرلیا جائے تو ایک جن ہی کیا، انسان کسی ایسی حقیقت کو بھی نہیں مان سکتا جو براہ راست اس کے تجربے اور مشاہدے میں نہ آتی ہو اور اس کے لیے خدا تک کا وجود قابل تسلیم نہیں ہے کجا کہ وہ کسی اور غیر محسوس حقیقت کو تسلیم کرے۔ مسلمانوں میں جو لوگ اس طرز فکر سے متاثر ہیں، مگر قرآن کا انکار بھی نہیں کرسکتے، انہوں نے جن اور ابلیس اور شیطان کے متعلق قرآن کے صاف صاف بیانات کو طرح طرح کی تاویلات کا تختۂ مشق بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد کوئی ایسی پوشیدہ مخلوق نہیں ہے جو اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہو، بلکہ کہیں تو اس سے مراد انسان کی اپنی بہیمی قوتیں ہیں جنہیں شیطان کہا گیا ہے، اور کہیں اس سے مراد وحشی اور جنگلی اور پہاڑی قومیں ہیں، اور کہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو چھپ چھپ کر قرآن سنا کرتے تھے۔ لیکن قرآن مجید کے ارشادات اس معاملے میں اس قدر صاف اور صریح ہیں کہ ان تاویلات کے لیے ان کے اندر کوئی ادنٰی سی گنجائش بھی موجود نہیں ہے۔ قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر جن اور انسان کا ذکر اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ یہ دو الگ الگ قسم کی مخلوقات ہیں۔ سورة اعراف آیت 38، ہود آیت 119، حم السجدہ آیات 25 – 29، الاحقاف آیت 18، الذاریات آیت 56، الناس آیت 6 اور سورة رحمان تو پوری کی پوری اس پر ایسی صریح شہادت دیتی ہے کہ جنوں کو انسانوں کی کوئی قسم سمجھنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی۔ سورۂ اعراف آیت 12، سورة حجر آیات 26 – 27 اور سورة رحمان آیات 14 – 15 میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ انسان کا مادۂ تخلیق مٹی ہے اور جنوں کا مادۂ تخلیق آگ۔ سورۂ حجر آیت 27 میں صراحت کی گئی ہے کہ جن انسان سے پہلے پیدا کیے گئے تھے۔ اسی بات پر قصۂ آدم و ابلیس شہادت دیتا ہے جو قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کے وقت ابلیس موجود تھا۔ نیز سورة کہف آیت 50 میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے ہے۔ سورۂ اعراف آیت 27 میں بالفاظ صریح یہ کہا گیا ہے کہ جن انسانوں کو دیکھتے ہیں مگر انسان ان کو نہیں دیکھتے۔ سورۂ حجر آیات 16 – 17، سورة صافات آیات 6 – 10 اور سورة ملک آیت 5 میں بتایا گیا ہے کہ جن اگرچہ عالم بالا کی طرف پرواز کرسکتے ہیں، مگر ایک حد سے آگے نہیں جاسکتے۔ اس سے اوپر جانے کی کوشش کریں اور ملاء اعلٰی کی باتیں سننا چاہیں تو انہیں روک دیا جاتا ہے۔ چوری چھپے سن گن لیں تو شہاب ثاقب ان کو مار بھگاتے ہیں۔ اس سے مشرکین عرب کے اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ جن غیب کا علم رکھتے ہیں یا خدائی کے اسرار تک انہیں کوئی رسائی حاصل ہے۔ اسی غلط خیال کی تردید سورة سبا آیت 14 میں بھی کی گئی ہے۔ سورۂ بقرہ آیات 30 – 34 اور سورة کہف آیت 50 سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی خلافت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اور انسان جنوں سے افضل مخلوق ہے۔ اگرچہ بعض غیر معمولی طاقتیں جنوں کو بھی بخشی گئی ہیں جن کی ایک مثال ہمیں سورة نمل آیت 7 میں ملتی ہے، لیکن اسی طرح بعض طاقتیں حیوانات کو بھی انسان سے زیادہ ملی ہیں، اور وہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہیں کہ جانوروں کو انسان پر فضیلت حاصل ہے۔ قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جن انسان کی طرح ایک با اختیار مخلوق ہے اور اس کو طاعت و معصیت اور کفر و ایمان کا ویسا ہی اختیار دیا گیا ہے جیسا انسان کو دیا گیا ہے۔ اس پر ابلیس کا قصہ اور سورة احقاف اور سورة جن میں بعض جنوں کے ایمان لانے کا واقعہ صریح دلالت کرتا ہے۔ قرآن میں بیسیوں مقامات پر یہ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ ابلیس نے تخلیق آدم کے وقت ہی یہ عزم کرلیا تھا کہ وہ نوع انسانی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اسی وقت سے شیاطینِ جن انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں، مگر وہ اس پر مسلط ہو کر زبردستی اس سے کوئی کام کرا لینے کی طاقت نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں، اس کو بہکاتے ہیں اور بدی و گمراہی کو اس کے سامنے خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات : النساء 117 تا 120، الاعراف 11 تا 17، براہیم 22، الحجر 30 تا 42، النحل 98 تا 100، بنی اسرائیل 61 تا 65 ۔ قرآں مجید میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مشرکین عرب زمانۂ جاہلیت میں جنوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے تھے، ان کی عبادت کرتے تھے، اور ان کا نسب خدا سے ملاتے تھے۔ ملاحظہ ہو الانعام، آیت 100، سبا آیات 40 – 41، الصافات 158 ۔ ان تفصیلات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جن اپنا ایک مستقل خارجی وجود رکھتے ہیں اور وہ انسان سے الگ ایک دوسری ہی نوع کی پوشیدہ مخلوق ہے۔ ان کی پراسرار صفات کی وجہ سے جاہل لوگوں نے ان کی ہستی اور ان کی طاقتوں کے متعلق بڑے مبالغہ آمیز تصورات قائم کر رکھے ہیں، حتٰی کہ ان کی پرستش تک کر ڈالی گئی، مگر قرآن نے ان کی اصل حقیقت پوری طرح کھول کر بیان کردی ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔
موضوع اور مباحث
اس سورت میں پہلی آیت سے لے کر آیت 15 تک یہ بتایا گیا ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن مجید سن کر اس کا کیا اثر لیا اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کے دوسرے جنوں سے کیا کیا باتیں کہیں۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری گفتگو نقل نہیں کی ہے، بلکہ صرف وہ خاص خاص باتیں نقل فرمائی ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ اسی لیے طرز بیان ایک مسلسل گفتگو کا سا نہیں ہے، بلکہ ان کے مختلف فقروں کو اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا اور یہ کہا۔ جنوں کی زبان سے نکلے ہوئے ان فقروں کو اگر آدمی بغور پڑھے تو با آسانی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے ایمان لانے کے اس واقعے اور اپنی قوم کے ساتھ ان کی اس گفتگو کا ذکر قرآن میں کس غرض کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت 16 سے 18 تک لوگوں کو فہمائش کی گئی ہے کہ وہ شرک سے باز آجائیں اور راہ راست پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں تو ان پر نعمتوں کی بارش ہوگی ورنہ اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت سے منہ موڑنے کا انجام یہ ہوگا کہ وہ سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔ پھر آیت 19 سے 23 تک کفار مکہ کو اس بات پر ملامت کی گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول دعوت الی اللہ کی آواز بلند کرتا ہے تو وہ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، حالانکہ رسول کا کام صرف اللہ کے پیغامات پہنچا دینا ہے، وہ اس بات کا مدعی نہیں ہے کہ لوگوں کو نفع یا نقصان پہنچا دینا اس کے اختیار میں ہے۔ پھر آیات 24 – 25 میں کفار کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آج وہ رسول کو بےیارو مددگار دیکھ کر اسے دبا لینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اصل میں بےیارو مددگار کون ہے۔ وہ وقت دور ہے یا قریب، رسول کو اس کا علم نہیں ہے، مگر بہرحال اسے آنا ضرور ہے۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ رسول کو صرف وہ علم حاصل ہے جو اللہ اسے دینا چاہتا ہے۔ یہ علم ان امور سے متعلق ہوتا ہے جو فرائض رسالت کی انجام دہی کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور یہ علم ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کا امکان نہیں ہوتا۔
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader
اے نبیؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا 1 پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا:”ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے 2
یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader
راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“ 3
وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader
اور یہ کہ”ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“ 4
وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader
اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ 5 اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader
اور یہ کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔“ 6
وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader
اور یہ کہ”انسانوں میں سے کچھ لوگ جِنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جِنّوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔“ 7
وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader
اور یہ کہ”انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمھارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسُول بنا کر نہ بھیجے گا۔“ 8
وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader
اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"
وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader
اور یہ کہ”پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھُپے سُننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہابِ ثاقب لگا ہوا پاتا ہے۔“ 9
وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader
اور یہ کہ”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی بُرا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا ربّ اُنہیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“ 10
وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader
اور یہ کہ”ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فرو تر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔“ 11
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader
اور یہ کہ”ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔“ 12
وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader
اور یہ کہ”ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سُنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے ربّ پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا۔“ 13
وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی
وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader
جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنّم کا ایندھن بننے والے ہیں۔“ 14
وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader
15 اور (اے نبیؐ) کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے، 16
لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader
تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں۔ 17 اور جو اپنے ربّ کے ذکر سے منہ موڑے گا 18 اس کا ربّ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا
وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ 19
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader
اور یہ کہ جب اللہ بندہ 20 اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹُوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے
قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader
اے نبیؐ ، کہو کہ”میں تو اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔“ 21
قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader
کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"
قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader
کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں
اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader
میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔ 22 اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنّم کی آگ ہے اور ویسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ 23
حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔ 24
قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader
کہو”میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سےکیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے۔ 25
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader
وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلّع نہیں کرتا، 26
اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader
سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، 27 تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ 28
لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader
تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیے، 29 اور اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔“ 30