72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

الجن اس سورت کا نام بھی ہے اور اس کے مضامین کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں جنوں کے قرآن سن کر جانے اور اپنی قوم میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

بخاری اور مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چند اصحاب کے ساتھ بازار عکاظ تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں نخلہ کے مقام پر آپ نے صبح کی نماز پڑھائی، اس وقت جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گذر رہا تھا، تلاوت کی آواز سن کر ٹھہر گیا اور غور سے قرآن سنتا رہا۔ اسی واقعے کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس روایت کی بنا پر یہ سمجھا ہے کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشہور سفر طائف کا واقعہ ہے جو ہجرت سے تین سال پہلے 10 نبوی میں پیش آیا تھا لیکن یہ قیاس متعدد وجوہ سے صحیح نہیں ہے۔ طائف کے اس سفر میں جنوں کے قرآن سننے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کا قصہ سورة احقاف آیات 29 – 32 میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس موقع پر جو جن قرآن مجید سن کر ایمان لائے تھے وہ پہلے سے حضرت موسیٰ اور سابق کتب آسمانی پر ایمان رکھتے تھے۔ اس کے برعکس اس سورت کی آیات 2 – 7 میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقع پر قرآن سننے والے جن مشرکین اور منکرین آخرت و رسالت میں سے تھے۔ پھر یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ طائف کے اس سفر میں حضرت زید بن حارثہ (رض) کے سوا اور کوئی حضور کے ساتھ نہ تھا۔ بخلاف اس کے اس سفر کے متعلق ابن عباس فرما رہے ہیں کہ اس میں چند صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔ مزید برآں روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس سفر میں جنوں نے قرآن اس وقت سنا تھا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے مکہ واپس تشریف لاتے ہوئے نخلہ میں ٹھہرے تھے۔ اور اس سفر میں ابن عباس کی روایت کے مطابق جنوں کے قرآں سننے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ مکہ سے عکاظ تشریف لے جا رہے تھے۔ ان وجوہ سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورة احقاف اور سورة جن میں ایک ہی واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ دو الگ واقعات تھے جو دو مختلف سفروں میں پیش آئے تھے۔ جہاں تک سورة احقاف کا تعلق ہے، اس میں جس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں روایات متفق ہیں کہ وہ 10 نبوی میں سفر طائف میں پیش آیا تھا۔ اب رہا یہ سوال کہ یہ دوسرا واقعہ کس زمانے میں پیش آیا، اس کا کوئی جواب ہمیں ابن عباس (رض) کی روایت سے نہیں ملتا، نہ کسی اور تاریخی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ کے بازار میں کب تشریف لے گئے تھے۔ البتہ اس سورت کی آیات 8 – 10 پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ نبوت کے ابتدائی دور کا واقعہ ہی ہوسکتا ہے۔ ان آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے جن عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے کے لیے آسمان میں سن گن لینے کا کوئی نہ کوئی موقع پالیتے تھے، مگر اس کے بعد یکایک انہوں نے دیکھا کہ ہر طرف فرشتوں کے سخت پہرے لگ گئے ہیں اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے جس کی وجہ سے کہیں ان کو ایسی جگہ نہیں ملتی جہاں ٹھہر کر وہ کوئی بھنک پاسکیں۔ اس سے ان کو یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ زمین میں ایسا کیا واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کے لیے یہ سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ غالباً اسی وقت سے جنوں کے بہت سے گروہ اس تلاش میں پھرتے رہے ہوں گے اور ان میں سے ایک گروہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے قرآن سن کر یہ رائے قائم کی ہوگی کہ یہی وہ چیز ہے جس کی خاطر جنوں پر عالم بالا کے تمام دروازے بند کردیے گئے ہیں۔

جن کی حقیقت

اس سورت کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ جنوں کی حقیقت کیا ہے تاکہ ذہن کسی الجھن کا شکار نہ ہوں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جن کسی حقیقی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ یہ بھی پرانے زمانے کے اوہام اور خرافات میں سے ایک بےبنیاد خیال ہے۔ یہ رائے انہوں نے کچھ اس بنا پر قائم نہیں کی ہے کہ کائنات کی ساری حقیقتوں کو وہ جان چکے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ جن کہیں موجود نہیں ہیں۔ ایسے علم کا دعویٰ وہ خود بھی نہیں کرسکتے مگر انہوں نے بلا دلیل یہ فرض کرلیا ہے کہ کائنات میں بس وہی کچھ موجود ہے جو ان کو محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ انسان کے محسوسات کا دائرہ اس عظیم کائنات کی وسعت کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہیں رکھتا جو سمندر کے مقابلے میں قطرے کی نسبت ہے۔ یہاں جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ محسوس نہیں ہے وہ موجود نہیں ہے اور جو موجود ہے اسے لازماً محسوس ہونا چاہیے، وہ دراصل خود اپنے ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے۔ یہ طرز فکر اختیار کرلیا جائے تو ایک جن ہی کیا، انسان کسی ایسی حقیقت کو بھی نہیں مان سکتا جو براہ راست اس کے تجربے اور مشاہدے میں نہ آتی ہو اور اس کے لیے خدا تک کا وجود قابل تسلیم نہیں ہے کجا کہ وہ کسی اور غیر محسوس حقیقت کو تسلیم کرے۔ مسلمانوں میں جو لوگ اس طرز فکر سے متاثر ہیں، مگر قرآن کا انکار بھی نہیں کرسکتے، انہوں نے جن اور ابلیس اور شیطان کے متعلق قرآن کے صاف صاف بیانات کو طرح طرح کی تاویلات کا تختۂ مشق بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد کوئی ایسی پوشیدہ مخلوق نہیں ہے جو اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہو، بلکہ کہیں تو اس سے مراد انسان کی اپنی بہیمی قوتیں ہیں جنہیں شیطان کہا گیا ہے، اور کہیں اس سے مراد وحشی اور جنگلی اور پہاڑی قومیں ہیں، اور کہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو چھپ چھپ کر قرآن سنا کرتے تھے۔ لیکن قرآن مجید کے ارشادات اس معاملے میں اس قدر صاف اور صریح ہیں کہ ان تاویلات کے لیے ان کے اندر کوئی ادنٰی سی گنجائش بھی موجود نہیں ہے۔ قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر جن اور انسان کا ذکر اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ یہ دو الگ الگ قسم کی مخلوقات ہیں۔ سورة اعراف آیت 38، ہود آیت 119، حم السجدہ آیات 25 – 29، الاحقاف آیت 18، الذاریات آیت 56، الناس آیت 6 اور سورة رحمان تو پوری کی پوری اس پر ایسی صریح شہادت دیتی ہے کہ جنوں کو انسانوں کی کوئی قسم سمجھنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی۔ سورۂ اعراف آیت 12، سورة حجر آیات 26 – 27 اور سورة رحمان آیات 14 – 15 میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ انسان کا مادۂ تخلیق مٹی ہے اور جنوں کا مادۂ تخلیق آگ۔ سورۂ حجر آیت 27 میں صراحت کی گئی ہے کہ جن انسان سے پہلے پیدا کیے گئے تھے۔ اسی بات پر قصۂ آدم و ابلیس شہادت دیتا ہے جو قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق کے وقت ابلیس موجود تھا۔ نیز سورة کہف آیت 50 میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے ہے۔ سورۂ اعراف آیت 27 میں بالفاظ صریح یہ کہا گیا ہے کہ جن انسانوں کو دیکھتے ہیں مگر انسان ان کو نہیں دیکھتے۔ سورۂ حجر آیات 16 – 17، سورة صافات آیات 6 – 10 اور سورة ملک آیت 5 میں بتایا گیا ہے کہ جن اگرچہ عالم بالا کی طرف پرواز کرسکتے ہیں، مگر ایک حد سے آگے نہیں جاسکتے۔ اس سے اوپر جانے کی کوشش کریں اور ملاء اعلٰی کی باتیں سننا چاہیں تو انہیں روک دیا جاتا ہے۔ چوری چھپے سن گن لیں تو شہاب ثاقب ان کو مار بھگاتے ہیں۔ اس سے مشرکین عرب کے اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ جن غیب کا علم رکھتے ہیں یا خدائی کے اسرار تک انہیں کوئی رسائی حاصل ہے۔ اسی غلط خیال کی تردید سورة سبا آیت 14 میں بھی کی گئی ہے۔ سورۂ بقرہ آیات 30 – 34 اور سورة کہف آیت 50 سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی خلافت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اور انسان جنوں سے افضل مخلوق ہے۔ اگرچہ بعض غیر معمولی طاقتیں جنوں کو بھی بخشی گئی ہیں جن کی ایک مثال ہمیں سورة نمل آیت 7 میں ملتی ہے، لیکن اسی طرح بعض طاقتیں حیوانات کو بھی انسان سے زیادہ ملی ہیں، اور وہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہیں کہ جانوروں کو انسان پر فضیلت حاصل ہے۔ قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جن انسان کی طرح ایک با اختیار مخلوق ہے اور اس کو طاعت و معصیت اور کفر و ایمان کا ویسا ہی اختیار دیا گیا ہے جیسا انسان کو دیا گیا ہے۔ اس پر ابلیس کا قصہ اور سورة احقاف اور سورة جن میں بعض جنوں کے ایمان لانے کا واقعہ صریح دلالت کرتا ہے۔ قرآن میں بیسیوں مقامات پر یہ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ ابلیس نے تخلیق آدم کے وقت ہی یہ عزم کرلیا تھا کہ وہ نوع انسانی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اسی وقت سے شیاطینِ جن انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں، مگر وہ اس پر مسلط ہو کر زبردستی اس سے کوئی کام کرا لینے کی طاقت نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں، اس کو بہکاتے ہیں اور بدی و گمراہی کو اس کے سامنے خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات : النساء 117 تا 120، الاعراف 11 تا 17، براہیم 22، الحجر 30 تا 42، النحل 98 تا 100، بنی اسرائیل 61 تا 65 ۔ قرآں مجید میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مشرکین عرب زمانۂ جاہلیت میں جنوں کو خدا کا شریک ٹھہراتے تھے، ان کی عبادت کرتے تھے، اور ان کا نسب خدا سے ملاتے تھے۔ ملاحظہ ہو الانعام، آیت 100، سبا آیات 40 – 41، الصافات 158 ۔ ان تفصیلات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جن اپنا ایک مستقل خارجی وجود رکھتے ہیں اور وہ انسان سے الگ ایک دوسری ہی نوع کی پوشیدہ مخلوق ہے۔ ان کی پراسرار صفات کی وجہ سے جاہل لوگوں نے ان کی ہستی اور ان کی طاقتوں کے متعلق بڑے مبالغہ آمیز تصورات قائم کر رکھے ہیں، حتٰی کہ ان کی پرستش تک کر ڈالی گئی، مگر قرآن نے ان کی اصل حقیقت پوری طرح کھول کر بیان کردی ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔

موضوع اور مباحث

اس سورت میں پہلی آیت سے لے کر آیت 15 تک یہ بتایا گیا ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن مجید سن کر اس کا کیا اثر لیا اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کے دوسرے جنوں سے کیا کیا باتیں کہیں۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری گفتگو نقل نہیں کی ہے، بلکہ صرف وہ خاص خاص باتیں نقل فرمائی ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ اسی لیے طرز بیان ایک مسلسل گفتگو کا سا نہیں ہے، بلکہ ان کے مختلف فقروں کو اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا اور یہ کہا۔ جنوں کی زبان سے نکلے ہوئے ان فقروں کو اگر آدمی بغور پڑھے تو با آسانی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے ایمان لانے کے اس واقعے اور اپنی قوم کے ساتھ ان کی اس گفتگو کا ذکر قرآن میں کس غرض کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت 16 سے 18 تک لوگوں کو فہمائش کی گئی ہے کہ وہ شرک سے باز آجائیں اور راہ راست پر ثابت قدمی کے ساتھ چلیں تو ان پر نعمتوں کی بارش ہوگی ورنہ اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت سے منہ موڑنے کا انجام یہ ہوگا کہ وہ سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔ پھر آیت 19 سے 23 تک کفار مکہ کو اس بات پر ملامت کی گئی ہے کہ جب اللہ کا رسول دعوت الی اللہ کی آواز بلند کرتا ہے تو وہ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، حالانکہ رسول کا کام صرف اللہ کے پیغامات پہنچا دینا ہے، وہ اس بات کا مدعی نہیں ہے کہ لوگوں کو نفع یا نقصان پہنچا دینا اس کے اختیار میں ہے۔ پھر آیات 24 – 25 میں کفار کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آج وہ رسول کو بےیارو مددگار دیکھ کر اسے دبا لینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایک وقت آئے گا جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اصل میں بےیارو مددگار کون ہے۔ وہ وقت دور ہے یا قریب، رسول کو اس کا علم نہیں ہے، مگر بہرحال اسے آنا ضرور ہے۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ رسول کو صرف وہ علم حاصل ہے جو اللہ اسے دینا چاہتا ہے۔ یہ علم ان امور سے متعلق ہوتا ہے جو فرائض رسالت کی انجام دہی کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور یہ علم ایسے محفوظ طریقے سے دیا جاتا ہے جس میں کسی بیرونی مداخلت کا امکان نہیں ہوتا۔

Ayah 72:1

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

اے نبیؐ ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے غور سے سُنا 1 پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا:”ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سُنا ہے 2

سورة الْجِنّ 1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن اس وقت رسول اللہ ﷺ کو نظر نہیں آ رہے تھے اور آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ وہ قرآن سن رہے ہیں، بلکہ بعد میں وحی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس قصے کو بیان کرتے ہوئے صراحت فرماتے ہیں کہ " رسول اللہ ﷺ نے جنوں کے سامنے قرآن نہیں پڑھا تھا، نہ آپ نے ان کو دیکھا تھا "۔ (مسلم۔ ترمذی۔ مسند احمد۔ ابن جریر)۔ سورة الْجِنّ 2 اصل الفاظ ہیں قرانا عجبا۔ قرآن کے معنی ہیں " پڑھی جانے والی چیز " اور یہ لفظ غالباً جنوں نے اسی معنی میں استعمال کیا ہوگا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اس کلام سے متعارف ہوئے تھے اور شاید اس وقت ان کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ جو چیز وہ سن رہے ہیں ان کا نام قرآن ہی ہے۔ عجب مبالغہ کا صیغہ ہے اور یہ لفظ عربی زبان میں بہت زیادہ حیرت انگیز چیز کے لیے بولا جاتا ہے۔ پس جنوں کے قول کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک ایسا کلام سن کر آئے ہیں جو اپنی زبان اور اپنے مضامین کے اعتبار سے بےنظیر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن نہ صرف یہ کہ انسانوں کی باتیں سنتے ہیں بلکہ ان کی زبان بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام جن انسانی زبانیں جانتے ہوں۔ ممکن ہے کہ ان میں سے جو گروہ زمین کے جس علاقے میں رہتے ہوں اسی علاقے کے لوگوں کی زبان سے وہ واقف ہوں۔ لیکن قرآن کے اس بیان سے بہرحال یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنہوں نے اس وقت قرآن سنا تھا وہ عربی زبان اچھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس کلام کی بےمثل بلاغت کو بھی محسوس کیا اور اس کے بلند پایہ مضامین کو بھی خوب سمجھ لیا۔
Ayah 72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔“ 3

سورة الْجِنّ 3 اس سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ جن اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے رب ہونے کے منکر نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں بھی مشرکین پائے جاتے ہیں جو مشرک انسانوں کی طرح اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے ہیں، چناچہ جنوں کی یہ قوم جس کے افراد قرآن سن کر گئے تھے مشرک ہی تھے۔ تیسرے یہ کہ نبوت اور کتب انسانی آسمانی کے نزول کا سلسلہ جنوں کے ہاں جاری نہیں ہوا، بلکہ ان میں سے جو جن بھی ایمان لاتے ہیں وہ انسانوں میں آنے والے انبیاء اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ہی ایمان لاتے ہیں۔ یہی بات سورة احقاف آیات 29۔ 31 سے بھی معلوم ہوتی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ وہ جن جنہوں نے اس وقت قرآن سنا تھا، حضرت موسیٰ کے پیرو وں میں سے تھے اور انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کو دعوت دی تھی کہ اب جو کلام خدا کی طرف سے پچھلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ سورة رحمان بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اس کا پورا مضمون ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مخاطب انسان اور جن دونوں ہیں۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ”ہمارے ربّ کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔“ 4

سورة الْجِنّ 4 اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ جن یا تو عیسائی جنوں میں سے تھے۔ یا ان کا کوئی اور مذہب تھا جس میں اللہ تعالیٰ کو بیوی بچوں والا سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ نماز میں قرآن پاک کا کوئی حصہ پڑھ رہے تھے جسے سن کر ان کو اپنے عقیدے کی غلطی معلوم ہوگئی اور انہوں نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ کی بلندو برتر ذات کی طرف سے بیوی بچوں کو منسوب کرنا سخت جہالت اور گستاخی ہے۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ”ہمارےنادان لوگ 5 اللہ کے بارے میں بہت خلافِ حق باتیں کہتے رہے ہیں۔“

سورة الْجِنّ 5 اصل میں لفظ سفیھنا استعمال کیا گیا ہے جو ایک فرد کے لیے بھی بولا جاسکتا ہے اور ایک گروہ کے لیے بھی۔ اگر اسے ایک نادان فرد کے معنی میں لیا جائے تو مراد ابلیس ہوگا۔ اور اگر ایک گروہ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جنوں میں بہت سے احمق اور بےعقل لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ”ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔“ 6

سورة الْجِنّ 6 یعنی ان کی غلط باتوں سے ہمارے گمراہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم کبھی یہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ انسان یا جن اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنے کی جرات بھی کرسکتے ہیں، لیکن اب یہ قرآن سن کر ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ فی الواقع وہ جھوٹے تھے۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ”انسانوں میں سے کچھ لوگ جِنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جِنّوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔“ 7

سورة الْجِنّ 7 ابن عباس ؓ کہتے کہ جاہلیت کے زمانے میں جب عرب کسی سنسان وادی میں رات گزارتے تھے تو پکار کر کہتے " ہم اس وادی کے مالک جن کی پناہ مانگتے ہیں "۔ عہد جاہلیت کی دوسری روایات میں بھی بکثرت اس بات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلا اگر کسی جگہ پانی اور چارہ ختم ہوجاتا تو خانہ بدوش بدو اپنا ایک آدمی کوئی دوسری جگہ تلاش کرنے کے لیے بھیجتے جہاں پانی اور چارہ مل سکتا ہو، پھر اس کی نشان دہی پر جب یہ لوگ نئی جگہ پہنچتے تو وہاں اترنے سے پہلے پکار پکار کر کہتے " کہ ہم اس وادی کے رب کی پناہ مانگتے ہیں تاکہ یہاں ہم ہر آفت سے محفوظ رہیں "۔ ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہر غیر آباد جگہ کسی نہ کسی جن کے قبضے میں ہے اور اس سے پناہ مانگے بغیر وہاں کوئی ٹھہر جائے تو وہ جن یا تو خود ستاتا ہے یا دوسرے جنوں کو ستانے دیتا ہے۔ اسی بات کی طرف یہ ایمان لانے والے جن اشارہ کر رہے ہیں۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ جب زمین کے خلیفہ انسان نے الٹا ہم سے ڈرنا شروع کردیا اور خدا کو چھوڑ کر وہ ہم سے پناہ مانگنے لگا تو ہماری قوم کے لوگوں کا دماغ اور زیادہ خراب ہوگیا، ان کا کبر و غرور اور کفر و ظلم اور زیادہ بڑھ گیا، اور وہ گمراہی میں زیادہ جری ہوگئے۔
Ayahs 72:7–8

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ”انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمھارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسُول بنا کر نہ بھیجے گا۔“ 8

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"

سورة الْجِنّ 8 اصل الفاظ ہیں ان لن یبعث اللہ احدا۔ اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ " اللہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے گا "۔ چونکہ الفاظ جامع ہیں اس لیے ان کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی رسالت اور آخرت دونوں کا انکار پایا جاتا تھا۔ لیکن آگے کے مضمون کی مناسبت سے پہلا مفہوم ہی زیادہ قابل ترجیح ہے، کیونکہ اس میں یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارا خیال غلط نکلا کہ اللہ کسی رسول کو مبعوث کرنے والا نہیں، آسمانوں کے دروازے ہم پر اسی وجہ سے بند کیے گئے ہیں کہ اللہ نے ایک رسول بھیج دیا ہے۔
Ayah 72:9

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ”پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھُپے سُننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہابِ ثاقب لگا ہوا پاتا ہے۔“ 9

سورة الْجِنّ 9 یہ ہے وہ وجہ جس کی بنا پر یہ جن اس تلاش میں نکلے تھے کہ آخر زمین پر ایسا کیا معاملہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے جس کی خبروں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس قدر سخت انتظامات کیے گئے ہیں کہ اب ہم عالم بالا میں سن گن لینے کا کوئی موقع نہیں پاتے اور جدھر بھی جاتے ہیں مار بھگائے جاتے ہیں۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ”ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی بُرا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا ربّ اُنہیں راہِ راست دکھانا چاہتا ہے۔“ 10

سورة الْجِنّ 10 اس سے معلوم ہوا کہ عالم بالا میں اس قسم کے غیر معمولی انتظامات دو ہی حالتوں میں کیے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر کوئی عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا ہوا اور منشائے الہی یہ ہو کہ اس کے نزول سے پہلے جن اس کی بھنک پا کر اپنے دوست انسانوں کو خبردار نہ کردیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے زمین میں کسی رسول کو مبعوث فرمایا ہو اور تحفظ کے ان انتظامات سے مقصود یہ ہو کہ رسول کی طرف جو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں ان میں نہ تو شیاطین کسی قسم کی خلل اندازی کرسکیں اور نہ قبل از وقت یہ معلوم کرسکیں کہ پیغمبر کو کیا ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پس جنوں کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم نے آسمان میں جو چوکی پہرے دیکھے اور شہابوں کی اس بارش کا مشاہدہ کیا تو ہمیں یہ معلوم کرنے کی فکر لاحق ہوئی کہ ان دونوں صورتوں میں سے کون سی صورت درپیش ہے۔ آیا اللہ تعالیٰ نے زمین میں کسی قوم پر یکایک عذاب نازل کردیا ہے ؟ یا کہیں کوئی رسول مبعوث ہوا ہے ؟ اسی تلاش میں ہم نکلے تھے کہ ہم نے وہ حیرت انگیز کلام سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں معلوم ہوگیا کہ اللہ نے عذاب نازل نہیں کیا ہے بلکہ خلق کو راہ راست دکھانے کے لیے ایک رسول مبعوث فرما دیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الحجر، حواشی 8 تا 12۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 7۔ جلد ششم، الملک، حاشیہ 11)۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ”ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فرو تر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔“ 11

سورة الْجِنّ 11 یعنی اخلاقی حیثیت سے بھی ہم میں اچھے اور برے دونوں طرح کے جن پائے جاتے ہیں، اور اعتقادات میں بھی ہمارا کوئی ایک مذہب نہیں ہے بلکہ مختلف گروہوں میں منقسم ہیں۔ یہ بات کہہ کر یہ ایمان لانے والے جن اپنی قوم کے جنوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ ہم راہ راست معلوم کرنے کے یقیناً محتاج ہیں ؟ اس سے ہم بےنیاز نہیں ہو سکتے۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ”ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔“ 12

سورة الْجِنّ 12 مطلب یہ ہے کہ ہمارے اسی خیال نے ہمیں نجات کی راہ دکھا دی۔ ہم چونکہ اللہ سے بےخوف نہ تھے اور ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے اس کی نافرمانی کی تو اس کی گرفت سے کسی طرح بچ نہ سکیں گے، اس لیے جب وہ کلام ہم نے سنا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہ راست بتانے آیا تھا تو ہم یہ جرات نہ کرسکے کہ حق معلوم ہوجانے کے بعد بھی انہی عقائد پر جمے رہتے جو ہمارے نادان لوگوں نے ہم میں پھیلا رکھے تھے۔
Ayahs 72:13–14

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ”ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سُنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے ربّ پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا۔“ 13

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی

سورة الْجِنّ 13 حق تلفی سے مراد یہ ہے کہ اپنی نیکی پر وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ اور ظلم یہ ہے کہ اسے نیکی کا کوئی اجر نہ دیا جائے اور جو قصور اس سے سرزد ہوں ان کی زیادہ سزا دے ڈالی جائے۔ یا بلا قصور ہی کسی کو عذاب دے دیا جائے۔ کسی ایمان لانے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قسم کی کسی بےانصافی کا خوف نہیں ہے۔
Ayah 72:15

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنّم کا ایندھن بننے والے ہیں۔“ 14

سورة الْجِنّ 14 سوال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی رو سے جن تو خود آتشیں مخلوق ہیں۔ پھر جہنم کی آگ سے ان کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کی رو سے تو آدمی بھی مٹی سے بنا ہے۔ پھر اگر اسے مٹی کا ڈھیلا کھینچ کر مارا جائے تو اس کو چوٹ کیوں لگتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا پورا جسم اگرچہ زمین کے مادوں سے بنا ہے، مگر جب ان سے گوشت پوست کا زندہ انسان وجود میں آجاتا ہے تو وہ ان مادوں سے بالکل مختلف چیز بن جاتا ہے اور انہی مادوں سے بنی ہوئی دوسری چیزیں اس کے لیے اذیت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جن بھی اگرچہ اپنی ساخت کے اعتیار سے آتشیں مخلوق ہیں، لیکن آگ سے جب ایک زندہ اور صاحب احساس مخلوق وجود میں آجاتی ہے تو وہی آگ اس کے لیے تکلیف کی موجب بن جاتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الرحمن، حاشیہ 15)۔
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

15 اور (اے نبیؐ) کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے، 16

سورة الْجِنّ 15 اوپر جنوں کی بات ختم ہوگئی۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے اپنے ا رشادات شروع ہوتے ہیں۔ سورة الْجِنّ 16 یہ وہی بات ہے جو سورة نوح میں فرمائی گئی ہے کہ اللہ سے معافی مانگو تو وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، تفسیر سورة نوح، حاشیہ 12)۔ پانی کی کثرت کو نعمتوں کی کثرت کے لیے بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ پانی ہی پر آبادی کا انحصار ہے۔ پانی نہ ہو تو سرے سے کوئی بستی بس ہی نہیں سکتی، نہ انسان کی بنیادی ضروریات فراہم ہو سکتی ہیں، اور نہ انسان کی صنعتیں چل سکتی ہیں۔
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں۔ 17 اور جو اپنے ربّ کے ذکر سے منہ موڑے گا 18 اس کا ربّ اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا

سورة الْجِنّ 17 یعنی یہ دیکھیں کہ وہ نعمت پا کر بھی شکر گزار رہتے ہیں یا نہیں، اور ہماری دی ہوئی نعمت کا صحیح استعمال کرتے ہیں یا غلط۔ سورة الْجِنّ 18 ذکر سے منہ موڑنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آدمی اللہ کی بھیجی ہوئی نصیحت کو قبول نہ کرے، اور یہ بھی کہ وہ اللہ کا ذکر سننا ہی گوارا نہ کرے، اور یہ بھی کہ وہ اللہ کی عبادت سے رو گردانی کرے۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ 19

سورة الْجِنّ 19 مفسرین نے بالعموم " مساجد " کو عبادت گاہوں کے معنی میں لیا ہے اور اس معنی کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ عبادت گاہوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ زمین پوری کی پوری عبادت گاہ ہے اور آیت کا منشا یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کہیں بھی شرک نہ کیا جائے۔ ان کا استدلال نبی ﷺ کے اس ارشاد سے ہے کہ جعلت لی الارض مسجد و طھورا۔ " میرے لیے پوری زمین عبادت کی جگہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے "۔ حضرت سعید بن جبیر نے مساجد سے مراد وہ اعضاء لیے ہیں جن پر آدمی سجدہ کرتا ہے، یعنی ہاتھ، گھٹنے، قدم اور پیشانی۔ اس تفسیر کی رو سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعضاء اللہ کے بنائے ہوئے ہیں۔ ان پر اللہ کے سوا کسی اور کے لیے سجدہ نہ کیا جائے۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب اللہ بندہ 20 اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹُوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے

سورة الْجِنّ 20 اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ ہیں۔
Ayahs 72:20–22

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

اے نبیؐ ، کہو کہ”میں تو اپنے ربّ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔“ 21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں

سورة الْجِنّ 21 یعنی خدا کو پکارنا تو کوئی قابل اعتراض کام نہیں ہے جس پر لوگوں کو اس قدر غصہ آئے، البتہ بری بات اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص خدا کے ساتھ کسی اور کو خدائی میں شریک ٹھہرائے، اور یہ کام میں نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جو خدا کا نام سن کر مجھ پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔ 22 اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنّم کی آگ ہے اور ویسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔“ 23

سورة الْجِنّ 22 یعنی میرا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی خدائی میں میرا کوئی دخل ہے، یا لوگوں کی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا کوئی اختیار مجھے حاصل ہے۔ میں تو صرف ایک رسول ہوں اور جو خدمت میرے سپرد کی گئی ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغامات تمہیں پہنچا دوں۔ باقی رہے خدائی کے اختیارات، تو وہ سارے کے سارے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کسی دوسرے کو نفع یا نقصان پہنچانا تو درکنار، مجھے تو خود اپنے نفع و نقصان کا اختیار بھی حاصل نہیں۔ اللہ کی نافرمانی کروں تو اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں پناہ نہیں لے سکتا، اور اللہ کے دامن کے سوا کوئی ملجا و ماویٰ میرے لیے نہیں ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الشوریٰ ، حاشیہ 7)۔ سورة الْجِنّ 23 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر گناہ اور معصیت کی سزا ابدی جہنم ہے، بلکہ جس سلسلہ کلام میں یہ بات فرمائی گئی ہے اس کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے توحید کی جو دعوت دی گئی ہے اس کو جو شخص نہ مانے اور شرک سے باز نہ آئے اس کے لیے ابدی جہنم کی سزا ہے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔ 24

سورة الْجِنّ 24 اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ اس زمانے میں قریش کے جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت الی اللہ کو سنتے ہی آپ پر ٹوٹ پڑتے تھے وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ ان کا جتھا بڑا زبردست ہے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چند مٹھی بھر آدمی ہیں اس لیے وہ بآسانی آپ کو دبا لیں گے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ آج یہ لوگ رسول کو بےیارو مددگار اور اپنے آپ کو کثیر التعداد دیکھ کر حق کی آواز کو دبانے کے لیے بڑے دلیر ہو رہے ہیں، مگر جب وہ برا وقت آجائے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو ان کو پتہ چل جائے گا کہ بےیارو مددگار حقیقت میں کون ہے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہو”میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سےکیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے۔ 25

سورة الْجِنّ 25 انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک سوال کا جواب ہے جو سوال نقل کیے بغیر دیا گیا ہے۔ غالباً اوپر کی بات سن کر مخالفین نے طنز اور مذاق کے طور پر سوال کیا ہوگا کہ وہ وقت جس کا ڈراوا آپ دے رہے ہیں آخر کب آئے گا ؟ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے کہو، اس وقت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کی تاریخ مجھے نہیں بتائی گئی۔ یہ بات اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ آیا وہ جلدی آنے و الا ہے یا اس کے لیے ایک طویل مدت مقرر کی گئی ہے۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلّع نہیں کرتا، 26

سورة الْجِنّ 26 یعنی غیب کا پورا علم اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اور یہ مکمل علم غیب وہ کسی کو بھی نہیں دیتا۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

سوائے اُس رسُول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، 27 تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔ 28

سورة الْجِنّ 27 یعنی رسول بجائے خود عالم الغیب نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جب اس کو رسالت کا فریضہ انجام دینے کے لیے منتخب فرماتا ہے تو غیب کے حقائق میں سے جن چیزوں کا علم وہ چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے۔ سورة الْجِنّ 28 محافظوں سے مراد فرشتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ سے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی نگہبانی کرنے کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنج جائے اور اس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ یہ وہی بات ہے جو اوپر آیات 8۔ 9 میں بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جنوں نے اپنے لیے عالم بالا تک رسائی کے تمام دروازے بند پائے اور انہوں نے دیکھا کہ سخت چوکی پہرے لگ گئے ہیں جن کے باعث کہیں ذرا سی سن گن لینے کا موقع بھی ان کو نہیں ملتا۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیے، 29 اور اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔“ 30

سورة الْجِنّ 29 اس کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رسول یہ جان لے کہ فرشتوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ فرشتوں نے اپنے رب کے پیغامات اس کے رسول تک صحیح صحیح پہنچا دیے ہیں۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ رسولوں نے اس کے بندوں تک اپنے رب کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے۔ آیت کے الفاظ ان تینوں معنوں پر حاوی ہیں اور بعید نہیں کہ تینوں ہی مراد ہوں۔ اس کے علاوہ یہ آیت دو مزید باتوں پر بھی دلالت کرتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ رسول کو وہ علم غیب عطا کیا جاتا ہے جو فریضہ رسالت کی انجام دہی کے لیے اس کو دینا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو فرشتے نگہبانی کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں وہ صرف اسی بات کی نگہبانی نہیں کرتے کہ رسول تک وحی محفوظ طریقے سے پہنچ جائے بلکہ اس بات کی نگہبانی بھی کرتے ہیں کہ رسول اپنے رب کے پیغامات اس کے بندوں تک بےکم وکاست پہنچا دے۔ سورة الْجِنّ 30 یعنی رسول پر بھی اور فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس طرح محیط ہے کہ اگر بال برابر بھی وہ اس کی مرضی کے خلاف جنبش کریں تو فوراً گرفت میں آجائیں۔ اور جو پیغامات اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ان کا حرف حرف گنا ہوا ہے، رسولوں اور فرشتوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ ان میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی کرسکیں۔