71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

نوح اس سورت کا نام بھی ہے اور اس کے مضمون کا عنوان بھی، کیونکہ اس میں از اول تا آخر حضرت نوح (علیہ السلام) ہی کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر اس کے مضمون کی داخلی شہادت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت و تبلیغ کے مقابلہ میں کفار مکہ کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی۔

موضوع اور مضمون

اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ محض قصہ گوئی کی خاطر بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہی رویہ اختیار کر رہے ہو جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی قوم نے اختیار کیا تھا، اور اس رویے سے اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں بھی وہی انجام دیکھنا پڑے گا جو ان لوگوں نے دیکھا۔ یہ بات پوری سورت میں کہیں صاف الفاظ میں نہیں کہی گئی لیکن جس موقع پر اور جن حالات میں یہ قصہ اہل مکہ کو سنایا گیا ہے اس پس منظر میں خود بخود یہ مضمون اس سے مترشح ہوتا ہے۔ پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ نے رسالت کے منصب پر مامور فرمایا تھا اس وقت کیا خدمت ان کے سپرد کی گئی تھی۔ آیت 2 – 4 میں مختصراً یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز کس طرح کیا اور اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے کیا بات پیش کی۔ پھر مدتہائے دراز تک دعوت و تبلیغ کی زحمتیں اٹھانے کے بعد جو روداد حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور پیش کی وہ آیت 5 – 20 میں بیان کی گئی ہے۔ اس میں وہ عرض کرتے ہیں کہ کس کس طرح انہوں نے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی کوششیں کیں اور قوم نے ان کا مقابلہ کس ہٹ دھرمی سے کیا۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی آخری گزارش آیات 21 – 24 میں درج کی گئی ہے جس میں وہ اپنے رب سے عرض کرتے ہیں کہ یہ قومی میری بات قطعی طور پر رد کرچکی ہے، اس نے اپنی نکیل اپنے رئیسوں کے ہاتھ میں دے دی ہے، اور انہوں نے بہت بڑا مکر کا جال پھیلا رکھا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ان لوگوں سے ہدایت کی توفیق سلب کرلی جائے۔ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے کسی بےصبری کا مظاہرہ نہ تھا بلکہ صدیوں تک انتہائی صبر آزما حالات میں تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کے بعد جب وہ اپنی قوم سے پوری طرح مایوس ہوگئے تو انہوں نے یہ رائے قائم کی کہ اب اس قوم کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ یہ رائے ٹھیک ٹھیک اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے کے مطابق تھی۔ چناچہ اس کے متصلاً بعد آیت 25 میں ارشاد ہوا ہے کہ اس قوم پر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے خدا کا عذاب نازل ہوگیا۔ آخری آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی وہ دعا درج کی گئی ہے جو انہوں نے عین نزول عذاب کے وقت اپنے رب سے مانگی تھی۔ اس میں وہ اپنے لیے اور سب اہل ایمان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اپنی قوم کے کافروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو زمین پر بسنے کے لیے جیتا نہ چھوڑا جائے، کیونکہ ان کے اندر اب کوئی خیر باقی نہیں رہی ہے، ان کی نسل سے جو بھی اٹھے گا کافر اور فاجر ہی اٹھے گا۔ اس سورت کا مطالعہ کرتے ہوئے حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے کی وہ تفصیلات نگاہ میں رہنی چاہئیں جو اس سے پہلے قرآن مجید میں بیان ہوچکی ہیں۔ ملاحظہ ہو الاعراف (آیات 59 تا 64) یونس (آیات 71 – 73) ، ہود (آیات 25 تا 49) ، المومنون (آیات 23 تا 31) ، الشعراء (آیات 105 تا 122) ، العنکبوت (آیات 14 – 15) ، الصافات (آیات 75 تا 82) ، القمر (آیات 9 تا 16)

Ayahs 71:1–2

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ)کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دارکر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے۔ 1

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

ا س نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں

سورة نُوْح 1 یعنی ان کو اس بات سے آگاہ کر دے کہ جن گمراہیوں اور اخلاقی خرابیوں میں وہ مبتلا ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب کا مستحق بنادیں گی اگر وہ ان سے باز نہ آئے، اور ان کو بتادے کہ اس عذاب سے بچنے کے لیے انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
Ayah 71:3

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

(تم کو آگاہ کرتا ہوں)کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو، 2

سورة نُوْح 2 یہ تین باتیں تھیں جو حضرت نوح ؑ نے اپنی رسالت کا آغاز کرتے ہوئے اپنی قوم کے سامنے پیش کیں۔ ایک، اللہ کی بندگی۔ دوسرے، تقوی۔ تیسرے، رسول کی اطاعت۔ اللہ کی بندگی کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی بندگی و عبادت چھوڑ کر اور صرف اللہ ہی کو اپنا معبود تسلیم کر کے اسی کی پرستش کرو اور اسی کے احکام بجا لاؤ۔ تقوی کا مطلب یہ تھا کہ ان کاموں سے پرہیز کرو جو اللہ کی ناراضی اور اس کے غضب کے موجب ہیں، اور اپنی زندگی میں وہ روش اختیار کرو جو خدا ترس لوگوں کو اختیار کرنی چاہیے۔ رہی تیسری بات کہ " میری اطاعت کرو "، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ ان احکام کی اطاعت کرو جو اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں دیتا ہوں۔
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا 3 اور تمہیں ایک وقتِ مقرر تک باقی رکھے گا۔ 4 حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا۔ 5 کاش تمہیں اِس کا علم ہو۔“ 6

سورة نُوْح 3 اصل الفاظ یغفر لکم من ذنوبک۔ اس فقرے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تمہارے گناہوں میں سے بعض کو معاف کر دے گا، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان تین باتوں کو قبول کرلو جو تمہار سامنے پیش کی جا رہی ہیں تو اب تک جو گناہ تم کرچکے ہو ان سب سے وہ درگزر فرمائے گا۔ یہاں من تبعیض کے لیے نہیں بلکہ عن کے معنی میں ہے۔ سورة نُوْح 4 یعنی اگر تم نے یہ تین باتیں مان لیں تو تمہیں دنیا میں اس وقت تک جینے کی مہلت دے دی جائے گی جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طبعی موت کے لیے مقرر کیا ہے۔ سورة نُوْح 5 اس دوسرے وقت سے مراد وہ وقت ہے جو اللہ نے کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے مقرر کردیا ہو۔ اس کے متعلق متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بات بصراحت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی قوم کے حق میں نزول عذاب کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے اس کے بعد وہ ایمان بھی لے آئے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا۔ سورة نُوْح 6 یعنی اگر تمہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ میرے ذریعہ سے اللہ کا پیغام پہنچ جانے کے بعد اب جو وقت گزر رہا ہے۔ یہ دراصل ایک مہلت ہے جو تمہیں ایمان لانے کے لیے دی جا رہی ہے، اور اس مہلت کی مدت ختم ہوجانے کے بعد پھر خدا کے عذاب سے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے، تو تم ایمان لانے میں جلدی کرو گے اور نزول عذاب کا وقت آنے تک اس کو ٹالتے نہ چلے جاؤ گے۔
Ayah 71:5

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

7 اُس نے عرض کیا”اے میرے ربّ، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا

سورة نُوْح 7 بیچ میں ایک طویل زمانے کی تاریخ چھوڑ کر اب حضرت نوح ؑ کی وہ عرضداشت نقل کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنی رسالت کے آخری دور میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی۔
Ayah 71:6

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میری پُکار نے اُن کے فرار ہی میں اضافہ کیا۔ 8

سورة نُوْح 8 یعنی جتنا جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ دور بھاگتے چلے گئے۔
Ayahs 71:7–11

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تُو انہیں معاف کر دے، 9 انہوں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے 10 اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبّر کیا۔ 11

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

سورة نُوْح 9 اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالیٰ سے معافی مل سکتی تھی۔ سورة نُوْح 10 منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح ؑ کی بات سننا تو درکنار، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اختیار کر رہے تھے۔ سورة ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔ " دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ رسول سے چھپ جائیں۔ خبردار جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں تو اللہ ان کے کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی، وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے "۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ہود، حواشی 5۔ 6)۔ سورة نُوْح 11 تکبر سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے حق کے آگے سر جھکا دینے اور خدا کے رسول کی نصیحت قبول کرلینے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات سمجھا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھلا آدمی کسی بگڑے ہوئے شخص کو نصیحت کرے اور وہ جواب میں سر جھٹک کر اٹھ کھڑا ہو اور پاؤں پٹختا ہوا نکل جائے تو یہ تکبر کے ساتھ کلام نصیحت کو رد کرنا ہوگا۔
Ayah 71:12

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔ 12

سورة نُوْح 12 یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ خدا سے بغاوت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیا میں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کردیتی ہے، اور اس کے برعکس اگر کوئی قوم نافرمانی کے بجائے ایمان وتقوی اور احکام الہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے تو یہ آخرت ہی میں نافع نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی اس پر نعمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سورة طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے " اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے "۔ (آیت 124)۔ سورة مائدہ میں فرمایا گیا ہے " اور اگر ان اہل کتاب نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا " (آیت 66) سورة اعراف میں فرمایا " اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی روش اختیار کرتے ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے "۔ (آیت 96)۔ سورة ہود میں ہے کہ حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم کو خطاب کر کے فرمایا " اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تمہاری موجدہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا " (آیت 52)۔ خود نبی ﷺ کے ذریعہ سے بھی اسی سورة میں اہل مکہ کو مخاطب کر کے یہ بات فرمائی گئی " اور یہ کہ اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مقرر وقت تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا "۔ (آیت 3)۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے لوگوں سے فرمایا کہ " ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہوجاؤ تو عرب و عجم کے فرمانروا ہوجاؤ گے "۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، المائدہ، حاشیہ 96۔ جلد دوم، حواشی 3، 57۔ جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 105۔ جلد چہارم۔ دیباچہ سورة)۔ قرآن مجید کی اسی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ قحط کے موقع پر حضرت عمر ؓ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا، امیر المومنین آپ نے بارش کے لیے تو دعا کی ہی نہیں۔ فرمایا، میں نے آسمان کے ان دروازوں کو کھٹکھٹا دیا ہے جہاں سے بارش نازل ہوتی ہے، اور پھر سورة نوح کی یہ آیات لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں (ابن جریر و ابن کثیر)۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حسن بصری کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگ دستی کی شکایت کی، تیسرے نے کہا میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی، چوتھے نے کہا میری زمین کی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ ہر ایک کو وہ یہی جواب دیتے چلے گئے کہ استغفار کرو۔ لوگوں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکایتوں کا ایک ہی علاج بتا رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں سورة نوح کی یہ آیات سنا دیں (کشاف)۔
Ayah 71:13

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ 13

سورة نُوْح 13 مطلب یہ ہے کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ریئسوں اور سرداروں کے بارے میں تو تم یہ سمجھتے ہو کہ ان کے وقار کے خلاف کوئی حرکت کرنا خطرناک ہے، مگر خداوند عالم کے متعلق تم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ بھی کوئی باوقار ہستی ہوگا۔ اس کے خلاف تم بغاوت کرتے ہو، اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک ٹھیراتے ہو، اس کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہو، اور اس سے تمہیں یہ اندیشہ لاحق نہیں ہوتا کہ وہ اس کی سزا دے گا۔
Ayahs 71:14–16

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ 14

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا؟

سورة نُوْح 14 یعنی تخلیق کے مدارج اور اطوار سے گزارتا ہوا تمہیں موجودہ حالت پر لایا ہے۔ پہلے تم ماں اور باپ کی صلب میں الگ الگ نطفوں کی شکل میں تھے۔ پھر خدا کی قدرت ہی سے یہ دونوں نطفے ملے اور تمہارا استقرار حمل ہوا۔ پھر نو مہینے تک ماں کے پیٹ میں بتدریج نشوو نما دے کر تمہیں پوری انسانی شکل دی گئی اور تمہارے اندر تمام وہ قوتیں پیدا کی گئیں جو دنیا میں انسان کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے تمہیں درکار تھیں۔ پھر ایک زندہ بچے کی صورت میں تم بطن مادر سے باہر آئے اور ہر آن تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت تک ترقی دی جاتی رہی یہاں تک کہ تم جوانی اور کہولت کی عمر کو پہنچے۔ ان تمام منازل سے گزرتے ہوئے تم ہر وقت پوری طرح خدا کے بس میں تھے۔ وہ چاہتا تو تمہارا استقرار حمل ہی نہ ہونے دیتا اور تمہاری جگہ کسی اور شخص کا استقرار ہوتا۔ وہ چاہتا تو ماں کے پیٹ میں تمہیں اندھا، بہرا، گونگا، یا اپاہج بنا دیتا تمہاری عقل میں کوئی فتور رکھ دیتا۔ وہ چاہتا تو تم زندہ بچے کی صورت میں پیدا ہی نہ ہوتے۔ پیدا ہونے کے بعد بھی وہ تمہیں ہلاک کرسکتا تھا، اور اس کے ایک اشارے پر کسی وقت بھی تم کسی حادثے کے شکار ہو سکتے تھے۔ جس خدا کے بس میں تم اس طرح بےبس ہو اس کے متعلق تم نے یہ کیسے سمجھ رکھا ہے کہ اس کی شان میں ہر گستاخی کی جاسکتی ہے، اس کے ساتھ ہر طرح کی نمک حرامی اور احسان فراموشی کی جاسکتی ہے، اس کے خلاف ہر قسم کی بغاوت کی جاسکتی ہے اور ان حرکتوں کا کوئی خمیازہ تمہیں بھگتنا نہیں پڑے گا۔
Ayahs 71:17–21

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اُگایا، 15

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اِس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو"

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اُنہوں نے میری بات رد کر دی اور اُن (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامراد ہو گئے ہیں

سورة نُوْح 15 یہاں زمین کے مادوں سے انسان کی پیدائش کو نباتات کے اگنے سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح کسی وقت اس کرے پر نباتات موجود نہ تھیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو اگایا، اسی طرح ایک وقت تھا جب روئے زمین پر انسان کا کوئی وجود نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہاں اس کی پود لگائی۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اِن لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے۔ 16

سورة نُوْح 16 مکر سے مراد ان سرداروں اور پیشواؤں کے وہ فریب ہیں جن سے وہ اپنی قوم کے عوام کو حضرت نوح ؑ کی تعلیمات کے خلاف بہکانے کی کوشش کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ نوح تمہی جیسا ایک آدمی ہے کیسے مان لیا جائے کہ اس پر خدا کی طرف سے وحی آئی ہے (الاعراف 63۔ ہود 27)۔ نوح کی پیروی تو ہمارے اراذل نے بےسوچے سمجھے قبول کرلی ہے، اگر اس کی بات میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے اکابر اس پر ایمان لاتے (ہود 27)۔ خدا کو اگر بھیجنا ہوتا تو کوئی فرشتہ بھیجتا (المومنون 24)۔ اگر یہ شخص خدا کا بھیجا ہوا ہوتا تو اس کے پاس خزانے ہوتے، اس کو علم غیب حاصل ہوتا اور یہ فرشتوں کی طرح انسانی حاجات سے بےنیاز ہوتا (ہود 31)۔ نوح اور اس کے پیرو وں میں آخر کونسی کرامت نظر آتی ہے جس کی بنا پر ان کی فضیلت مان لی جائے (ہود 27)۔ یہ شخص دراصل تم پر اپنی سرداری جمانا چاہتا ہے (المومنون 24)۔ اس شخص پر کسی جن کا سایہ ہے جس نے اسے دیوانہ بنادیا ہے (المومنون 25) ، قریب قریب یہی باتیں تھیں جن سے قریش کے سردار نبی ﷺ کے خلاف لوگوں کو بہکایا کرتے تھے۔
Ayahs 71:23–24

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اِنہوں نے کہا ہر گز نہ چھوڑو اپنے معبُودوں کو ، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو۔ 17

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تُو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے۔“ 18

سورة نُوْح 17 قوم نوح کے معبودوں میں سے یہاں ان معبودوں کے نام لیے گئے ہیں جنہیں بعد میں اہل عرب نے بھی پوجنا شروع کردیا تھا اور آغاز اسلام کے وقت عرب میں جگہ جگہ ان کے مندر بنے ہوئے تھے۔ بعید نہیں کہ طوفان میں جو لوگ بچ گئے تھے ان کی زبان سے بعد کی نسلوں نے قوم نوح کے قدیم معبودوں کا ذکر سنا ہوگا اور جب از سرنو ان کی اولاد میں جاہلیت پھیلی ہوگی تو انہی معبودوں کے بت بنا کر انہوں نے پھر انہیں پوجنا شروع کردیا ہوگا۔ ود قبیلہ قضاعہ کی شاخ بنی کلب بن وبرہ کا معبود تھا جس کا استھان انہوں نے دومتہ الجندل میں بنا رکھا تھا۔ عرب کے قدیم کتبات میں ان کا نام ودم ابم (ود باپو) لکھا ہوا ملتا ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس کا بت ایک نہایت عظیم الجثہ مرد کی شکل کا بنا ہوا تھا۔ پر یش کے لوگ بھی اس کو معبود مانتے تھے اور اس کا نام ان کے ہاں ود تھا۔ اسی کے نام پر تاریخ میں ایک شخص کا نام عبد ود ملتا ہے۔ سواع قبیلہ ہذیل کی دیوی تھی اور اس کا بت عورت کی شکل کا بنایا گیا تھا۔ ینبوع کے قریب رہاط کے مقام پر اس کا مندر واقع تھا۔ یغوث قبیلہ طے کی شاخ انعم اور قبیلہ مذحج کی بعض شاخوں کا معبود تھا۔ مذحج والوں نے یمن اور حجاز کے درمیان جرش کے مقام پر اس کا بت نصب کر رکھا تھا جس کی شکل شیر کی تھی۔ قریش کے لوگوں میں بھی بعض کا نام عبد یغوث ملتا ہے۔ یعوق یمن کے علاہ ہمدان میں قبیلہ ہمدان کی شاخ خیوان کا معبود تھا اور اس کا بت گھوڑے کی شکل کا تھا۔ نسر حمیر کے علاقے میں قبیلہ حمیر کی شاخ آل ذوالکلاع کا معبود تھا اور بلخع کے مقام پر اس کا بت نصب تھا جس کی شکل گدھ کی تھی۔ سبا کے قدیم کتبوں میں اس کا نام نسور لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کے مندر کو وہ لوگ بیت نسور۔ اور اس کے بجاریوں کو اہل نسور کہتے تھے۔ قدیم مندروں کے جو آثار عرب اور اس کے متصل علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان میں سے بہت سے مندروں کے دروازوں پر گدھ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
Ayahs 71:25–28

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

اپنی خطاوٴں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے،19 پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔20

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اِن کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"

سورة نُوْح 19 یعنی غرق ہونے پر ان کا قصہ تمام نہیں ہوگیا، بلکہ مرنے کے بعد فوراً ہی ان کی روحیں آگ کے عذاب میں مبتلا کردی گئیں۔ یہ بعینہ وہی معاملہ ہے جو فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ کیا گیا، جیسا کہ سورة مومن، آیات 45۔ 46 میں بیان کیا گیا ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، المومن، حاشیہ 63)۔ یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جس سے برزخ کا عذاب ثابت ہوتا ہے۔ سورة نُوْح 20 یعنی اپنے جن معبودوں کو وہ اپنی حامی و مددگار سمجھتے تھے ان میں سے کوئی بھی انہیں بچانے کے لیے نہ آیا۔ یہ گویا تنبیہ تھی اہل مکہ کے لیے کہ تم بھی اگر خدا کے عذاب میں مبتلا ہوگئے تو تمہارے یہ معبود، جن پر تم بھروسا کیے بیٹھے ہو، تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔