70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

تیسری آیت کے لفظ ذی المعارج سے ماحوذ ہے۔

زمانہ نزول

اس کے مضامین شہادت دیتے ہیں کہ اس کا نزول بھی قریب قریب انہی حالات میں ہوا ہے جس میں سورة الحاقہ نازل ہوئی تھی۔

موضوع اور مضمون

اس میں ان کفار کو تنبیہ اور نصیحت کی گئی ہے جو قیامت اور آخرت اور دوزخ اور جنت کی خبروں کا مذاق اڑاتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چیلنج دیتے تھے کہ اگر تم سچے ہو اور تمہیں جھٹلا کر ہم عذاب جہنم کے مستحق ہوچکے ہیں تو لے آؤ وہ قیامت جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اس سورت کی ساری تقریر اسی چیلنج کے جواب میں ہے۔ ابتدا میں ارشاد ہوا ہے کہ مانگنے والا عذاب مانگتا ہے۔ وہ عذاب انکار کرنے والوں پر ضرور واقع ہو کر رہے گا اور جب وہ واقع ہوگا تو اسے کوئی دفع نہ کرسکے گا، مگر وہ اپنے وقت پر واقع ہوگا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے مذاق اڑانے پر صبر کرو۔ یہ اسے دور دیکھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ پھر بتایا گیا ہے کہ قیامت، جس کے جلدی لے آنے کا مطالبہ یہ لوگ ہنسی اور کھیل کے طور پر کر رہے ہیں کیسی سخت چیز ہے اور جب وہ آئے گی تو ان مجرمین کا کیسا برا حشر ہوگا۔ اس وقت یہ اپنے بیوی بچوں، اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں تک کو فدیہ میں دے ڈالنے کے لیے تیار ہوجائیں گے تاکہ کسی طرح عذاب سے بچ نکلیں، مگر نہ بچ سکیں گے۔ اس کے بعد لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اس روز انسانوں کی قسمت کا فیصلہ سراسر ان کے عقیدے اور اخلاق و اعمال کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں حق سے منہ موڑا ہے اور مال سمیٹ سمیٹ کر اور سینت سینت کر رکھا ہے وہ جہنم کے مستحق ہوں گے۔ اور جنہوں نے یہاں خدا کے عذاب کا خوف کیا ہے، آخرت کو مانا ہے، نماز کی پابندی کی ہے، اپنے مال سے خدا کے محتاج بندوں کا حق ادا کیا ہے، بدکاریوں سے دامن پاک رکھا ہے، امانت میں خیانت نہیں کی ہے، عہد و پیمان اور قول وقرار کا پاس کیا ہے اور گواہی میں راست بازی پر قائم رہے ہیں وہ جنت میں عزت کی جگہ پائیں گے۔ آخر میں مکہ کے ان کفار کو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ کر آپ کا مذاق اڑانے کے لیے چاروں طرف سے ٹوٹے پڑتے تھے، خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تم نہ مانو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین کی گئی ہے کہ ان کے تمسخر کی پروا نہ کریں، یہ اگر قیامت ہی کی ذلت دیکھنے پر مُصِر ہیں تو انہیں اپنے بیہودہ مشغلوں میں پڑا رہنے دیں، اپنا برا انجام یہ خود دیکھ لیں گے۔

Ayahs 70:1–2

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگنے والےنے عذاب مانگا ہے، 1 (وہ عذاب)جو ضرور واقع ہونے والا ہے

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں کے لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں

سورة الْمَعَارِج 1 اصل الفاظ ہیں سال سآئل۔ بعض مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب، جس کی ہمیں خبردی جا رہی ہے، کس پر واقع ہوگا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع ہوگا۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال کو مانگنے اور مطالبہ کرنے کے معنی میں لیا ہے۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ نے کہا تھا اللھم ان کان ھذا ہو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوئتنا بعذاب الیم۔ (الانفال، آیت 32) " خدایا اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ "۔ اس کے علاوہ متعدد مقامات پر قرآن مجید میں کفار مکہ کے اس چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں یونس، آیات 46 تا 48، الابنیاء 36 تا 41، النمل، 67 تا 72، سبا، 26 تا 30، یسین، 45 تا 52۔ الملک، 24 تا 27۔
Ayah 70:3

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔ 2

سورة الْمَعَارِج 2 اصل میں لفظ ذی المعارج استعمال ہوا ہے۔ معارج، معرج کی جمع ہے جس کے معنی زینے، یا سیڑھی، یا ایسی چیز کے ہیں جس کے ذریعے سے اوپر چڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو معارج والا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات بہت بالا و برتر ہے اور اس کے حضور باریاب ہونے کے لیے فرشتوں کو پے درپے بلندیوں سے گزرنا ہوتا ہے، جیسا کہ بعد والی آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayah 70:4

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

ملائکہ اور رُوح 3 اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں 4 ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ 5

سورة الْمَعَارِج 3 روح سے مراد جبریل ؑ ہیں اور ملائکہ سے الگ ان کا ذکر ان کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ سورة شعراء میں فرمایا گیا ہے کہ نزل بہ الروح الامین علی قلبک (اس قرآن کو روح امین لے کر تمہارے دل پر نازل ہوئے ہیں)۔ اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک (کہو کہ جو شخص جبریل کا اس لیے دشمن ہو کہ اس نے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔۔۔) ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ روح سے مراد جبریل ہی ہیں۔ سورة الْمَعَارِج 4 یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کیے جاسکتے۔ ہم نہ فرشتوں کی حقیقت جانتے ہیں، نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں، نہ یہ بات ہمارے ذہن کی گرفت میں آسکتی ہے کہ وہ زینے کیسے ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بھی یہ تصور نہیں کیا سکتا کہ وہ کسی خاص مقام پر رہتا ہے، کیونکہ اس کی ذات زمان و مکان کی قیود سے منزہ ہے۔ سورة الْمَعَارِج 5 سورة حج، آیت 47 میں ارشاد ہوا ہے " یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ "۔ سورة السجدہ، آیت 5 میں فرمایا گیا ہے " وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، پھر (اس کی روداد) اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے "۔ اور یہاں عذاب کے مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی گئی ہے کہ جو لوگ مذاق کے طور پر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی باتوں پر صبر کریں اور اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ان سب ارشادات پر مجموعی نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ اپنے ذہن اور اپنے دائرہ فکر و نظر کی تنگی کے باعث خدا کے معاملات کو اپنے وقت کے پیمانوں سے ناپتے ہیں اور انہیں سو پچاس برس کی مدت بھی بڑی لمبی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایک اسکیم ہزار ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے۔ اور یہ مدت بھی محض بطور مثال ہے، ورنہ کائناتی منصوبے لاکھوں اور کروڑوں اور اربوں سال کے بھی ہوتے ہیں۔ انہیں منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ وہ ہے جس کے تحت زمین پر نوع انسانی کو پیدا کیا گیا ہے اور اس کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا ہے کہ فلاں ساعت خاص تک یہاں اس نوع کو کام کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا کہ یہ منصوبہ کب شروع ہوا، کتنی مدت اس کی تکمیل کے لیے طے کی گئی ہے، کون سی ساعت اس کے اختتام کے لیے مقرر کی گئی ہے جس پر قیامت برپا کی جائے گی، اور کون سا وقت اس غرض کے لیے رکھا گیا ہے کہ آغاز آفرینش سے قیامت تک پیدا ہونے والے سارے انسانوں کو بیک وقت اٹھا کر ان کا حساب لیا جائے۔ اس منصوبے کے صرف اس حصے کو ہم کسی حد تک جانتے ہیں جو ہمارے سامنے گزر رہا ہے یا جس کے گزشتہ ادوار کی کوئی جزوی سی تاریخ ہمارے پاس موجود ہے۔ رہا اس کا آغاز و انجام، تو اسے جاننا تو درکنار، اسے سمجھنا بھی ہمارے بس سے باہر ہے، کجا کہ ہم ان حکمتوں کو سمجھ سکیں جو اس کے پیچھے کام کر رہی ہیں۔ اب جو لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس منصوبے کو ختم کر کے اس کا انجام فوراً ان کے سامنے لے آیا جائے، اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اسے اس بات کی دلیل قرار دیتے کہ انجام کی بات ہی سرے سے غلط ہے، وہ درحقیقت اپنی ہی نادانی کا ثبوت پیش کرتے ہیں (مزیدتشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، الحج، حواشی 92۔ 93۔ جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ 9)۔
Ayahs 70:5–6

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس اے نبیؐ ، صبر کرو، شائستہ صبر۔ 6

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں

سورة الْمَعَارِج 6 یعنی ایسا صبر جو ایک عالی ظرف انسان کے شایان شان ہے۔
Ayah 70:7

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ 7

سورة الْمَعَارِج 7 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ یہ لوگ اسے بعید از امکان سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ قریب الوقوع ہے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کو بڑی دور کی چیز سمجھتے ہیں اور ہماری نگاہ میں وہ اس قدر قریب ہے گویا کل پیش آنے والی ہے۔
Ayah 70:8

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

(وہ عذاب اُس روز ہو گا)جس 8 روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا 9

سورة الْمَعَارِج 8 مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس فقرے کا تعلق فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ سے مانا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار سال کی مدت جس دن کی بتائی گئی ہے اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ مسند احمد اور تفسیر ابن جریر میں حضرت ابو سعید خدری سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے متعلق عرض کیا گیا کہ وہ تو بڑا ہی طویل دن ہوگا۔ اس پر آپ نے فرمایا " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے میں جتنا وقت لگتا ہے مومن کے لیے وہ دن اس سے بھی زیادہ ہلکا ہوگا "۔ یہ روایت اگر صحیح سند سے منقول ہوتی تو پھر اس کے سوا اس آیت کی کوئی دوسری تاویل نہیں کی جاسکتی تھی۔ لیکن اس کی سند میں دراج اور اس کے شیخ ابو الہثیم، دونوں ضعیف ہیں۔ سورة الْمَعَارِج 9 یعنی بار بار نگ بدلے گا۔
Ayahs 70:9–10

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون جیسے ہوجائیں گے۔ 10

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا

سورة الْمَعَارِج 10 چونکہ پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، اس لیے جب وہ اپنی جگہ سے اکھڑ کر اور بےوزن ہو کر اڑنے لگیں گے تو ایسے معلوم ہونگے جیسے رنگ برنگ کا دھنکا ہوا اون اڑ رہا ہو۔
Ayahs 70:11–17

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

حالانکہ وہ ایک دُوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ 11 مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دیدے اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

سورة الْمَعَارِج 11 یعنی ایسا نہ ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں رہے ہوں گے اس لیے نہ پوچھیں گے نہیں، ہر ایک آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں گا کہ دوسرے پر کیا بن رہی ہے اور پھر وہ اسے نہ پوچھے گا، کیونکہ اس کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔
Ayah 70:18

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا۔ 12

سورة الْمَعَارِج 12 یہاں بھی سورة الحاقہ 33۔ 34 کی طرح آخرت میں آدمی کے برے انجام کے دو وجوہ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک حق سے انحراف اور ایمان لانے سے انکار۔ دوسرے دنیا پرستی اور بخل، جس کی بنا پر آدمی مال جمع کرتا ہے اور اسے کسی بھلائی کے کام میں خرچ نہیں کرتا۔
Ayahs 70:19–21

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

انسان تھُڑ دِلا پیدا کیا گیا ہے، 13

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

سورة الْمَعَارِج 13 جس بات کو ہم اپنی زبان میں یوں کہتے ہیں کہ " یہ بات انسان کی سرشت میں ہے "۔ یا " یہ انسان کی فطری کمزوری ہے "۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس طرح بیان فرماتا ہے کہ " انسان ایسا پیدا کیا گیا ہے "۔ اس مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں بکثرت مواقع پر نوع انسانی کی عام اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے والے اور راہ راست اختیار کرلینے والے لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے، اور یہی مضمون آگے کی آیات میں بھی آ رہا ہے۔ اس سے یہ حقیقت خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ پیدائشی کمزوریاں ناقابل تغیر و تبدل نہیں ہیں، بلکہ انسان اگر خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کے لیے عملاً کوشش کرے تو وہ ان کو دور کرسکتا ہے، اور اگر وہ نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دے تو یہ اس کے اندر راسخ ہوجاتی ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الانبیاء حاشیہ 41۔ جلد چہارم، الزمر حواشی 23۔ 28۔ الشوریٰ ، حاشیہ 75)۔
Ayah 70:22

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں)جو نماز پڑھنے والے ہیں، 14

سورة الْمَعَارِج 14 کسی شخص کا نماز پڑھنا لازماً یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب اور آخرت پر ایمان بھی رکھتا ہے اور اپنے اس ایمان کے مطابق عمل بھی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Ayahs 70:23–24

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں، 15

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

جن کے مالوں میں،

سورة الْمَعَارِج 15 یعنی کسی قسم کی سستی اور آرام طلبی، یا مصروفیت، یا دلچسپی ان کی نماز کی پابندی میں مانع نہیں ہوتی۔ جب نماز کا وقت آجائے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے خدا کی عبادت بجا لانے کے لیے کھڑا ہوجاتے ہیں۔ علی صلاتھم دائمون کے ایک اور معنی حضرت عقبہ بن عامر نے یہ بیان کیے ہیں کہ وہ پورے سکون اور خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ کوے کی طرح ٹھونگیں نہیں مارتے۔ مارا مار پڑھ کر کسی نہ کسی طرح نماز سے فارغ ہوجانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اور نماز کے دوران میں ادھر ادھر التفات بھی نہیں کرتے۔ عربی محاورے میں ٹھیرے ہوئے پانی کو ماء دائم کہا جاتا ہے۔ اسی سے یہ تفسیر ماخوذ ہے۔
Ayah 70:25

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے، 16

سورة الْمَعَارِج 16 سورة ذاریات آیت 19 میں فرمایا گیا ہے کہ " ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے "۔ اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ " ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے "۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مقرر حق سے مراد فرض زکوٰۃ ہے، کیونکہ اسی میں نصاب اور شرح، دونوں چیزیں مقرر کردی گئی ہیں۔ لیکن یہ تفسیر اس بنا پر قابل قبول نہیں ہے کہ سورة معارج بالاتفاق مکی ہے، اور زکوٰۃ ایک مخصوص نصاب اور شرح کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ اس لیے مقرر حق کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ یہی حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، مجاہد، شعبی اور ابراہیم نخعی نے بیان کیے ہیں۔ سائل سے مراد پیشہ ور بھیک مانگنے والا نہیں بلکہ وہ حاجت مند شخص ہے جو کسی سے مدد مانگے۔ اور محروم سے مراد ایسا شخص ہے جو بےروز گار ہو، یا روزی کمانے کی کوشش کرتا ہو مگر اس کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں، یا کسی حاد ثے یا آفت کا شکار ہو کر محتاج ہوگیا ہو، یا روزی کمانے کے قابل ہی نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے متعلق جب معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی محروم ہیں تو ایک خدا پرست انسان اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ وہ اس سے مدد مانگیں، بلکہ ان کی محرومی کا علم ہوتے ہی وہ خود آگے بڑھ کر ان کی مدد کرتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة ذاریات، حاشیہ 17)۔
Ayah 70:26

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

جو روزِ جزا کو بر حق مانتے ہیں، 17

سورة الْمَعَارِج 17 یعنی دنیا میں اپنے آپ کو غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ نہیں سمجھتے، بلکہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
Ayahs 70:27–28

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

جو اپنے ربّ کے عذاب سے ڈرتے ہیں 18

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

کیونکہ اُن کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو

سورة الْمَعَارِج 18 بالفاظ دیگر ان کا حال کفار کی طرح نہیں ہے جو دنیا میں ہر قسم کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کر کے بھی خدا سے نہیں ڈرتے، بلکہ وہ اپنی حد تک اخلاق اور اعمال میں نیک رویہ اختیار کرنے کے باوجود خدا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ اندیشہ ان کو لاحق رہتا ہے کہ کہیں خدا کی عدالت میں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ کر نہ نکلیں اور ہم سزا کے مستحق نہ قرار پاجائیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 54۔ جلد پنجم، الذاریات، حاشیہ 19)۔
Ayahs 70:29–30

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں19

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں

سورة الْمَعَارِج 19 شرم گاہوں کی حفاظت سے مراد زنا سے پرہیز بھی ہے اور عریانی سے پرہیز بھی (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 6۔ النور، حواشی 30۔ 32۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 62)۔
Ayah 70:31

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں 20

سورة الْمَعَارِج 20 تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 7۔
Ayah 70:32

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں، 21

سورة الْمَعَارِج 21 امانتوں سے مراد وہ امانتیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے سپرد کی ہیں اور وہ امانتیں بھی جو انسان کسی دوسرے انسان پر اعتماد کر کے اس کے حوالے کرتا ہے۔ اسی طرح عہد سے مراد وہ عہد بھی ہیں جو بندہ اپنے خدا سے کرتا ہے، اور عہد بھی جو بندے ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ ان دونوں قسم کی امانتوں اور دونوں قسم کے عہد و پیمان کا پاس ولحاظ ایک مومن کی سیرت کے لازمی خصائص میں سے ہے۔ حدیث میں حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے جو تقریر بھی فرماتے اس میں یہ بات ضرور ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ الا، لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا دین لمن لا عھد لہ۔ " خبر دار رہو، جس میں امانت نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جو عہد کا پابند نہیں اس کا کوئی دین نہیں "۔ (بہقی فی شعب الایمان)۔
Ayah 70:33

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں، 22

سورة الْمَعَارِج 22 یعنی نہ شہادت چھپاتے ہیں، نہ اس میں کوئی کمی بیشی کرتے ہیں۔
Ayahs 70:34–36

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ 23

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے

فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ Open ayah 70:36 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے،

سورة الْمَعَارِج 23 اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس بلند سیرت و کردار کے لوگ خدا کی جنت کے مستحق قرار دیے گئے ہیں، ان کی صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع اور اسی پر ختم کیا گیا ہے۔ نمازی ہونا ان کی پہلی صفت ہے، نماز کا ہمیشہ پابند رہنا ان کی دوسری صفت، اور نماز کی حفاظت کرنا ان کی آخری صفت۔ نماز کی حفاظت سے بہت سی چیزیں مراد ہیں۔ وقت پر نماز ادا کرنا۔ نماز سے پہلے اطمینان کرلینا کہ جسم اور کپڑے پاک ہیں۔ باوضو ہونا اور وضو میں اعضاء کو اچھی طرح دھونا۔ ارکان اور واجبات اور مستحبات نماز کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا۔ نماز کے آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھنا۔ خدا کی نافرمانیاں کر کے اپنی نمازوں کو ضائع نہ کرنا۔ یہ سب چیزیں نماز کی حفاظت میں شامل ہیں۔
Ayah 70:37

عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ Open ayah 70:37 in the Quran reader

گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں؟ 24

سورة الْمَعَارِج 24 یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور تلاوت قرآن کی آواز سن کر مذاق اڑانے اور آوازے کسنے کے لیے چاروں طرف سے دوڑ پڑتے تھے۔
Ayah 70:38

اَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ Open ayah 70:38 in the Quran reader

کیا اِن میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟ 25

سورة الْمَعَارِج 25 مطلب یہ ہے کہ خدا کی جنت تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کی صفات ابھی ابھی بیان کی جا چکی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ جو حق بات سننا تک گوارا نہیں کرتے اور حق کی آواز کو دبا دینے کے لیے یوں دوڑے چلے آ رہے ہیں، جنت کے امیدوار ہو سکتے ہیں ؟ کیا خدا نے اپنی جنت ایسے ہی لوگوں کے لیے بنائی ہے ؟ اس مقام پر سورة قلم کی آیات 34۔ 41 بھی پیش نظر رکھنی چاہییں جن میں کفار مکہ کو ان کی اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ آخرت اگر ہوئی بھی تو وہاں وہ اسی طرح مزے کریں گے جس طرح دنیا میں کر رہے ہیں اور محمد ﷺ پر ایمان لانے والے اسی طرح خستہ حال رہیں گے جس طرح آج دنیا میں ہیں۔
Ayah 70:39

كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 70:39 in the Quran reader

ہر گز نہیں۔ ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا اُسے یہ خود جانتے ہیں۔ 26

سورة الْمَعَارِج 26 اس مقام پر اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ مضمون سابق کے ساتھ اس کا تعلق مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس مادے سے یہ لوگ بنے ہیں اس کے لحاظ سے تو سب انسان یکساں ہیں۔ اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد، ظالم و عادل مجرم اور بےگناہ، سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے۔ لیکن معمولی عقل ہی یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اس کے اوصاف کے لحاظ سے پیدا ہوسکتا ہے۔ اور اگر اس فقرے کو بعد کے مضمون کی تمہید سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جو شخص انہیں ہماری پکڑ سے ڈراتا ہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ ہم ان کو دنیا میں بھی جب چاہیں عذاب دے سکتے ہیں اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے بھی جب چاہیں اٹھا سکتے ہیں۔ یہ خود جانتے ہیں کہ نطفے کی ایک حقیر سی بوند سے ان کی تخلیق کی ابتدا کر کے ہم نے ان کو چلتا پھرتا انسان بنایا ہے۔ اگر اپنی اس خلقت پر یہ غور کرتے تو انہیں کبھی یہ غلط فہمی لاحق نہ ہوتی کہ اب یہ ہماری گرفت سے باہر ہوگئے ہیں، یا ہم انہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
Ayah 70:40

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ Open ayah 70:40 in the Quran reader

پس نہیں، 27 میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، 28 ہم اِس پر قادر ہیں

سورة الْمَعَارِج 27 یعنی بات وہ نہیں ہے جو انہوں نے سمجھ رکھی ہے۔ سورة الْمَعَارِج 28 یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ مشرقوں اور مغربوں کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع اور نئے زاویے پر غروب ہوتا ہے۔ نیز زمین کے مختلف حصوں پر سورج الگ الگ اوقات میں پے درپے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان اعتبارات سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ایک دوسرے اعتبار سے شمال اور جنوب کے مقابلے میں ایک جہت مشرق ہے اور دوسری جہت مغرب۔ اس بنا پر سورة شعراء، آیت 28 اور سورة مزمل، آیت 19 میں رب المشرق و المغرب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک اور لحاظ سے زمین کے دو مشرق اور دو مغرب ہیں، کیونکہ جب زمین کے ایک نصف کرے پر سورج غروب ہوتا ہے تو دوسرے پر طلوع ہوتا ہے۔ اس بنا پر سورة رحمن، آیت 17 میں رب المشرقین و رب المغربین کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الرحمن، حاشیہ 17)۔