69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

سورت کے پہلے ہی لفظ کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

یہ بھی مکہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے اور اس کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت تو شروع ہوچکی تھی، مگر اس نے ابھی زیادہ شدت اختیار نہ کی تھی۔ مسند احمد میں حضرت عمر فاروق (رض) کی روایت ہے کہ اسلام لانے سے پہلے ایک روز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ستانے کے لیے گھر سے نکلا مگر آپ مجھ سے پہلے مسجد حرام میں داخل ہوچکے تھے۔ میں پہنچا تو آپ نماز میں سورة الحاقہ پڑھ رہے تھے۔ میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور سننے لگا۔ قرآن کی شان کلام پر میں حیران ہو رہا تھا کہ میرے دل میں یکایک خیال آیا کہ یہ شخص ضرور شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں۔ فوراً ہی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے ” یہ ایک رسول کریم کا قول ہے، کسی شاعر کا قول نہیں “ میں نے اپنے دل میں کہا شاعر نہیں تو پھر کاہن ہے۔ اسی وقت زبان مبارک پر یہ الفاظ جاری ہوئے ” اور نہ کسی کاہن کا قول ہے۔ تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “ یہ سن کر اسلام میرے دل میں گہرا اتر گیا۔ حضرت عمر (رض) کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت ان کے قبول اسلام سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی، کیونکہ اس واقعے کے بعد بھی ایک مدت تک وہ ایمان نہیں لائے تھے اور وقتاً فوقتاً متعدد واقعات ان کو اسلام سے متاثر کرتے رہے تھے، یہاں تک کہ اپنی بہن کے گھر میں ان کے دل پر وہ آخری ضرب لگی جس نے ان کو ایمان کی منزل پر پہنچا دیا۔ (مزید دیکھیے : سورة مریم اور سورة واقعہ)

موضوع اور مضمون

اس کا پہلا رکوع آخرت کے بیان میں ہے، اور دوسرا رکوع قرآن کے منزل من اللہ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول برحق ہونے کے بارے میں۔ پہلے رکوع کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ قیامت کا آنا اور آخرت کا برپا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو ضرور پیش آ کر رہنی ہے۔ پھر آیت 4 سے 12 تک یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا ہے وہ آخرکار خدا کے عذاب کی مستحق ہو کر رہی ہے۔ اس کے بعد آیت 17 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہ کس طرح برپا ہوگی۔ پھر آیت 18 سے 37 تک وہ اصل مقصد بیان کیا گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد نوع انسانی کے لیے ایک دوسری زندگی مقدر فرمائی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس روز تمام انسان اپنے رب کی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ان کا کوئی راز چھپا نہ رہ جائے گا۔ ہر ایک کا نامۂ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی تھی کہ ایک دن انہیں اپنے رب کو حساب دینا ہے، اور جنہوں نے دنیا کی زندگی میں نیک عمل کر کے اپنی آخرت کی بھلائی کے لیے پیشگی سامان کرلیا تھا، وہ اپنا حساب پاک دیکھ کر خوش ہوجائیں گے اور انہیں جنت کا ابدی عیش نصیب ہوگا۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے خدا کا حق مانا نہ بندوں کا حق ادا کیا، انہیں خدا کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ دوسرے رکوع میں کفار مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اس قرآن کو ایک شاعر اور کاہن کا کلام کہتے ہو، حالانکہ یہ اللہ کا نازل کردہ کلام ہے جو ایک رسول کریم کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ رسول اس کلام میں اپنی طرف سے ایک لفظ گھٹانے یا بڑھانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر وہ اس میں اپنی من گھڑت کوئی چیز شامل کر دے تو ہم اس کی رگ گردن (رگ دل) کاٹ دیں۔ یہ ایک یقینی برحق کلام ہے اور جو لوگ اسے جھٹلائیں گے انہیں آخر کار پچھتانا پڑے گا۔

Ayah 69:1

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

ہونی شُدنی! 1

سورة الْحَآقَّة 1 اصل میں لفظ الحاقہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ واقعہ جس کو لازماً پیش آ کر رہنا ہے، جس کا آنا برحق ہے، جس کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قیامت کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا اور پھر کلام کا آغاز ہی اس سے کرنا خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو اس کے آنے کو جھٹلا رہے تھے۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس چیز کی تم تکذیب کر رہے ہو وہ ہونی شدنی ہے، تمہارے انکار سے اس کا آنا رک نہیں جائے گا۔
Ayahs 69:2–3

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

کیا ہے وہ ہونی شدنی؟

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شُدنی؟ 2

سورة الْحَآقَّة 2 یکے بعد دیگرے یہ دو سوالات سامعین کو چونکانے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ وہ بات کی اہمیت کو سمجھیں اور پوری توجہ کے ساتھ آگے کی بات سنیں۔
Ayah 69:4

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

ثمود 3 اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت 4 کو جھُٹلایا

سورة الْحَآقَّة 3 کفار مکہ چونکہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اس کے آنے کی خبر کو مذاق سمجھتے تھے اس لیے پہلے ان کو خبردار کیا گیا کہ وہ تو ہونی شدنی ہے، تم چاہے مانو یا نہ مانو، وہ بہرحال آکر رہے گی۔ اس کے بعد اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ صرف اتنا سادہ سا معاملہ نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک پیش آنے والے واقعہ کی خبر کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق قوموں کے اخلاق اور پھر ان کے مستقبل سے ہے۔ تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخر کار خدا کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہوگا، وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوئی، یہاں تک کہ خدا کے عذاب نے آ کر دنیا کو اس کے وجود سے پاک کردیا۔ سورة الْحَآقَّة 4 اصل لفظ القارعہ ہے۔ قرع عربی زبان میں ٹھوکنے، کوٹنے کھڑکھڑا دینے، اور ایک چیز کو دوسری چیز پر مار دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ قیامت کے لیے یہ دوسرا لفظ اس کی ہولناکی کا تصور دلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
Ayahs 69:5–8

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

تو ثمود ایک سخت حادثہ 5 سے ہلاک کیے گئے

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اِس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے؟

سورة الْحَآقَّة 5 سورة اعراف، آیت 78 میں اس کو الرجفہ (زبردست زلزلہ) کہا گیا ہے۔ سورة ہود، آیت 67 میں اس کے لیے الصیحہ (زور کے دھماکے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورة حمٰ السجدہ، آیت 17 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کو صاعقۃ العذاب (عذاب کے کڑکے) نے آ لیا۔ اور یہاں اسی عذاب کو الطاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ) سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیان ہے۔
Ayahs 69:9–10

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تَل پٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔ 6

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا

سورة الْحَآقَّة 6 مراد ہیں قوم لوط کی بستیاں جن کے متعلق سورة ہود (آیت 82) اور سورة حجر (آیت 74) میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔
Ayah 69:11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا 7 تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا 8

سورة الْحَآقَّة 7 اشارہ ہے طوفان نوح کی طرح جس میں ایک پوری قوم اسی خطائے عظیم کی بنا پر غرق کردی گئی اور صرف وہ لوگ بچا لیے گئے جنہوں نے اللہ کے رسول کی بات مان لی تھی۔ سورة الْحَآقَّة 8 اگرچہ کشتی میں سوار وہ لوگ کیے گئے تھے جو ہزاروں برس پہلے گزر چکے تھے، لیکن چونکہ بعد کی پوری انسانی نسل انہی لوگوں کی اولاد ہے جو اس وقت طوفان سے بچائے گئے تھے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرا دیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج دنیا میں اسی لیے موجود ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس طوفان میں صرف منکرین کو غرق کیا تھا، اور ایمان لانے والوں کو بچا لیا تھا۔
Ayah 69:12

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

کہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔ 9

سورة الْحَآقَّة 9 یعنی وہ کان نہیں جو سنی ان سنی کردیں اور جن کے پردے پر سے آواز چٹ کر گزر جائے، بلکہ وہ لوگ جو اس واقعہ کو سن کر اسے یاد رکھیں، اس سے عبرت حاصل کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ آخرت کے انکار اور خدا کے رسول کی تکذیب کا انجام کیسا ہولناک ہوتا ہے۔
Ayahs 69:13–16

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

10 پھر جب ایک دفعہ صُور میں پھونک مار دی جائے گی

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی

سورة الْحَآقَّة 10 آگے آنے والی بات کو پڑھتے ہوئے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ قرآن مجید میں کہیں تو قیامت کے تین مراحل الگ الگ بیان کیے گئے ہیں جو یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں پیش آئیں گے، اور کہیں سب کو سمیٹ کر پہلے مرحلے سے آخری مرحلے تک کے واقعات کو یکجا بیان کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورة نمل آیت 87 میں پہلے نفخ صور کا ذکر کیا گیا ہے جب تمام دنیا کے انسان یک لخت ایک ہولناک آواز سے گھبرا اٹھیں گے۔ اس وقت نظام عالم کے درہم برہم ہونے کی وہ کیفیات ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آئیں گی جو سورة حج آیات 1۔ 2، سورة یٰسین آیات 49۔ 50 اور سورة تکویر آیات 1۔ 6 میں بیان ہوئی ہیں۔ سورة زمر آیات 67 تا 70 میں دوسرے اور تیسرے نفخ صور کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ایک نفخ پر سب لوگ مر کر گر جائیں گے اور اس کے بعد جب پھر صور پھونکا جائے گا تو سب جی اٹھیں گے اور خدا کی عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔ سورة طٰہٰ آیات 102 تا 112، سورة انبیاء آیات 101 تا 103، سورة یٰسین آیات 51 تا 53، اور سورة ق آیات 20 تا 22 میں صرف تیسرے نفخ صور کا ذکر ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 78۔ الحج، حاشیہ 1۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 46۔ 47)۔ لیکن یہاں اور بہت سے دوسرے مقامات پر قرآن میں پہلے نفخ صور سے لے کر جنت اور جہنم میں لوگوں کے داخل ہونے تک قیامت کے تمام واقعات کو ایک ہی سلسلے میں بیان کردیا گیا ہے۔
Ayahs 69:17–18

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے ربّ کا عرش اپنے اُوپر اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔ 11

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا

سورة الْحَآقَّة 11 یہ آیت متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین کرنا مشکل ہے۔ ہم نہ یہ جان سکتے ہیں کہ عرش کیا چیز ہے اور نہ یہی سمجھ سکتے ہیں کہ قیامت کے روز آٹھ فرشتوں کے اس کو اٹھانے کی کیفیت کیا ہوگی۔ مگر یہ بات بہرحال قابل تصور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوگا اور آٹھ فرشتے اس کو عرش سمیت اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ آیت میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ عرش پر بیٹھا ہوا ہوگا، اور ذات باری کا جو تصور ہم کو قرآن مجید میں دیا گیا ہے وہ بھی یہ خیال کرنے میں مانع ہے کہ وہ جسم اور جہت اور مقام سے منزہ ہستی کسی جگہ متمکن ہو اور کوئی مخلوق اسے اٹھائے۔ اس لیے کھوج کرید کر کے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو گمراہی کے خطرے میں مبتلا کرنا ہے۔ البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی حکومت و فرمانروائی اور اس کے معاملات کا تصور دلانے کے لیے لوگوں کے سامنے وہی نقشہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا میں بادشاہی کا نقشہ ہوتا ہے، اور اس کے لیے وہی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو انسانی زبانوں میں سلطنت اور اس کے مظاہر و لوازم کے لیے مستعمل ہیں، کیونکہ انسانی ذہن اسی نقشے اور انہی اصلاحات کی مدد سے کسی حد تک کائنات کی سلطانی کے معاملات کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اصل حقیقت کو انسانی فہم سے قریب تر کرنے کے لیے ہے۔ اس کو بالکل لفظی معنوں میں لے لینا درست نہیں ہے۔
Ayah 69:19

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

اُس وقت جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا 12 وہ کہے گا”لو دیکھو، پڑھو میرا نامہٴ اعمال، 13

سورة الْحَآقَّة 12 سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے گا کہ اس کا حساب بےباق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے نہیں بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں کی تقسیم کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے وقت سے میدان حشر میں حاضری تک اس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہوگا اس کی وجہ سے اس کو پہلے ہی یہ اطمینان حاصل ہوچکا ہوگا کہ میں یہاں انعام پانے کے لیے پیش ہو رہا ہوں نہ کہ سزا پانے کے لیے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے ساتھ بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح ہوجاتی ہے کہ وہ نیک بخت آدمی کی حیثیت سے دوسرے عالم میں جا رہا ہے یا بد بخت آدمی کی حیثیت سے۔ پھر موت سے قیامت تک نیک انسان کے ساتھ مہمان کا سا معاملہ ہوتا ہے اور بد انسان کے ساتھ حوالاتی مجرم کا سا۔ اس کے بعد جب قیامت کے روز دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے اسی وقت سے صالحین کی حالت و کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور کفار و منافقین اور مجرمین کی حالت و کیفیت کچھ اور (تفصیلات کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الانفال، آیت 50۔ النحل، آیات 28 و 32، مع حاشیہ 26۔ بنی اسرائیل، آیت 97۔ جلد سوم، طٰہٰ آیات 102، 103، 124 تا 126، مع حواشی 79، 80، 107۔ الانبیاء، آیت 103، مع حاشیہ 98۔ الفرقان، آیت 24، مع حاشیہ 38۔ النمل، آیت 89، مع حاشیہ 109۔ جلد چہارم، سبا، آیت 51، مع حاشیہ 72۔ یٰسین، آیات 26، 27، مع حواشی 22۔ 23۔ المومن، آیات 45، 46، مع حاشیہ 63، جلد پنجم، محمد، آیت 27 مع حاشیہ 37۔ ق، آیات 19 تا 23۔ مع حواشی 22، 23، 25۔) سورة الْحَآقَّة 13 یعنی نامہ اعمال ملتے ہی وہ خوش ہوجائے گا اور اپنے ساتھیوں کو دکھائے گا۔ سورة انشقاق، آیت 9 میں بیان ہوا ہے کہ " وہ خوش خوش اپنے لوگوں کی طرف پلٹے گا "۔
Ayahs 69:20–24

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔“ 14

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

عالی مقام جنت میں

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

(ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں

سورة الْحَآقَّة 14 یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روز اسے خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنا حساب دینا ہے۔
Ayah 69:25

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

اور جس کا نامہٴ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا 15 وہ کہے گا”کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا 16

سورة الْحَآقَّة 15 سورة انشقاق میں فرمایا گیا ہے " اور جس کا نامہ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا "۔ غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ مجرم کو چونکہ پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہوگا اور وہ جانتا ہوگا کہ اس نامہ اعمال میں اس کا کیا کچا چٹھا درج ہے، اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر اسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تاکہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔ سورة الْحَآقَّة 16 یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدان حشر میں علانیہ سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی۔
Ayah 69:26

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ 17

سورة الْحَآقَّة 17 یعنی مجھے نہ بتایا جاتا کہ میں دنیا میں کیا کچھ کر کے آیا ہوں۔ دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے کبھی یہ نہ جانا تھا کہ حساب کیا بلا ہوتی ہے، مجھے کبھی یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ ایک دن مجھے اپنا حساب بھی دینا ہوگا اور میرا سب کیا کرایا میرے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
Ayahs 69:27–28

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کاش میری وہی موت (جو دُنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔ 18

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا

سورة الْحَآقَّة 18 یعنی دنیا میں مرنے کے بعد ہمیشہ کے لیے معدوم ہوگیا ہوتا اور کوئی دوسری زندگی نہ ہوتی۔
Ayahs 69:29–33

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا۔“ 19

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اِسے جہنم میں جھونک دو

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا

سورة الْحَآقَّة 19 اصل الفاظ ہیں ھلک عنی سلطٰنیہ سلطان کا لفظ دلیل و حجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اسے دلیل و حجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل بازیاں میں کیا کرتا تھا وہ یہاں نہیں چل سکتیں، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہوچکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بےبس اور لاچار بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔
Ayahs 69:34–37

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ 20

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

لہٰذا آج نہ یہاں اِس کا کوئی یار غم خوار ہے

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اِس کے لیے کوئی کھانا

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا

سورة الْحَآقَّة 20 یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔
Ayahs 69:38–39

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:38 in the Quran reader

پس نہیں، 21 میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو

وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 69:39 in the Quran reader

اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے

سورة الْحَآقَّة 21 یعنی تم لوگوں نے جو کچھ سمجھ رکھا ہے بات وہ نہیں ہے۔
Ayah 69:40

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ Open ayah 69:40 in the Quran reader

یہ ایک رسولِ کریم کا قول ہے، 22

سورة الْحَآقَّة 22 یہاں رسول کریم سے مراد محمد ﷺ ہیں اور سورة تکویر (آیت 19) میں اس سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ کسی شاعر یا کاہن کا قول نہیں ہے، اور ظاہر ہے کہ کفار مکہ جبریل کو نہیں بلکہ محمد ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے۔ بخلاف اس کے سورة تکویر میں قرآن کو رسول کریم کا قول کہنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ وہ رسول بڑی قوت والا ہے، صاحب عرش کے ہاں بلند مرتبہ رکھتا ہے، وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، وہ امانت دار ہے اور محمد ﷺ نے اس کو روشن افق پر دیکھا ہے۔ قریب قریب یہی مضمون سورة نجم آیات نمبر 5 تا 10 میں جبریل ؑ کے متعلق بیان ہوا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کو محمد ﷺ اور جبریل کا قول کس معنی میں کہا گیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگ اس کو حضور ﷺ کی زبان سے اور حضور ﷺ اسے جبریل کی زبان سے سن رہے تھے، اس لیے ایک لحاظ سے یہ حضور ﷺ کا قول تھا اور دوسرے لحاظ سے جبریل کا قول، لیکن آگے چل کر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ فی الاصل یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو محمد ﷺ کے سامنے جبریل ؑ کی زبان سے، اور لوگوں کے سامنے محمد ﷺ کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ خود رسول کا لفظ بھی اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ان دونوں کا اپنا کلام نہیں ہے بلکہ پیغام بر ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اس پیغام بھیجنے والے کی طرف سے پیش کیا ہے۔