69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 69:41–42

وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 69:41 in the Quran reader

کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ 23

وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 69:42 in the Quran reader

اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو

سورة الْحَآقَّة 23 " کم ہی ایمان لاتے ہو " کا ایک مطلب عربی محاورے کے مطابق یہ ہوسکتا ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن کو سن کر کسی وقت تمہارا دل خود پکار اٹھتا ہے کہ یہ انسانی کلام نہیں ہو سکتا، مگر پھر تم اپنی ضد پر اڑ جاتے ہو اور اس پر ایمان لانے سے انکار کردیتے ہو۔
Ayahs 69:43–46

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 69:43 in the Quran reader

یہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ 24

وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ Open ayah 69:44 in the Quran reader

اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی

لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ Open ayah 69:45 in the Quran reader

تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ Open ayah 69:46 in the Quran reader

اور اِس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

سورة الْحَآقَّة 24 حاصل کلام یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں نظر آتا ہے اور جو کچھ تم کو نظر نہیں آتا، اس سب کی قسم میں اس بات پر کھاتا ہوں کہ یہ قرآن کسی شاعر یا کاہن کا کلام نہیں ہے بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے جو ایک ایسے رسول کی زبان سے ادا ہو رہا ہے جو کریم (نہایت معزز اور شریف) ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ قسم کس معنی میں کھائی گئی ہے۔ جو کچھ لوگوں کو نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ (1) اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النفس ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ ان کی قوم کا بہترین آدمی ہے۔ ایسے شخص سے تو یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اتنا بڑا جھوٹ لے کر اٹھ کھڑا ہوگا کہ خدا پر بہتان باندھے اور اپنے دل سے ایک بات گھڑ کر اسے خداوند عالم کی طرف منسوب کر دے۔ (2) وہ یہ بھی علانیہ دیکھ رہے تھے کہ اس کلام کو پیش کرنے میں اپنا کوئی ذاتی مفاد اس شخص کے پیش نظر نہیں ہے، بلکہ یہ کام کر کے تو اس نے اپنے مفاد کو قربان کردیا ہے۔ اپنی تجارت کو برباد کیا۔ اپنے عیش و آرام کو تج دیا۔ جس معاشرے میں اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا، اسی میں گالیاں کھانے لگا۔ اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بال بچوں تک کو ہر قسم کے مصائب میں مبتلا کرلیا۔ ذاتی مفاد کا خواہشمند ان کانٹوں میں اپنے آپ کو کیوں گھسیٹتا ؟ (3) ان کی آنکھیں یہ بھی دیکھ رہی تھیں کہ انہی کے معاشرے میں سے جو لوگ اس شخص پر ایمان لا رہے تھے ان کی زندگی میں یک لخت انقلاب برپا ہوجاتا تھا۔ کسی شاعر یا کاہن کے کلام میں یہ تاثیر آخر کب دیکھی گئی ہے کہ وہ لوگوں میں ایسی زبردست اخلاقی تبدیلی پیدا کر دے اور اس کے ماننے والے اس کی خاطر ہر طرح کے مصائب و آلام برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجائیں ؟ (4) ان سے یہ بات بھی چھپی ہوئی نہ تھی کہ شعر کی زبان کیا ہوتی ہے اور کاہنوں کا کلام کیسا ہوتا ہے۔ ایک ہٹ دھرم آدمی کے سوا کون یہ کہہ سکتا تھا کہ قرآن کی زبان شاعری یا کہانت کی زبان ہے (اس پر مفصل بحث ہم تفہیم القرآن، جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 7۔ جلد چہام، الشعراء حواشی 142 تا 145۔ اور جلد پنجم، الطور حاشیہ 22 میں کرچکے ہیں)۔ (5) یہ بات بھی ان کی نگاہوں کے سامنے تھی کہ پورے عرب میں کوئی شخص ایسا فصیح وبلیغ نہ تھا جس کا کلام قرآن کے مقابلے میں لایا جاسکتا ہو۔ اس کے برابر تو درکنا، اس کے قریب تک کسی کی فصاحت و بلاغت نہیں پہنچتی تھی۔ (6) ان سے یہ بات بھی پوشیدہ نہ تھی کہ خود محمد ﷺ کی زبان بھی اپنی ادبی شان کے لحاظ سے قرآن کی ادبی شان سے بہت مختلف تھی۔ کوئی اہل زبان حضور ﷺ کی اپنی تقریر، اور قرآن کو سن کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کلام ہیں۔ (7) قرآن جن مضامین اور علوم پر مشتمل تھا، دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے تک بھی مکہ کے لوگوں نے کبھی وہ باتیں محمد ﷺ کی زبان سے نہ سنی تھیں، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ آپ کے پاس نہیں ہے۔ اسی وجہ سے آپ کے مخالفین اگر یہ الزامات لگاتے بھی تھے کہ آپ کہیں سے خفیہ طریقے پر یہ معلومات حاصل کرتے ہیں تو مکہ میں کوئی شخص ان کو باور کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا (اس کی تشریح ہم تفہیم القرآن جلد دوم، النحل حاشیہ 107۔ اور جلد سوم الفرقان، حاشیہ 12 میں کرچکے ہیں)۔ (8) زمین سے لے کر آسمان تک اس عظیم الشان کارخانہ ہستی کو بھی اپنی آنکھوں سے چلتا ہوا دیکھ رہے تھے جس میں ایک زبردست حکیمانہ قانون اور ہمہ گیر نظم و ضبط کار فرما نظر آ رہا تھا۔ اس کے اندر کہیں اس شرک اور انکار آخرت کے لیے کوئی شہادت نہیں پائی جاتی تھی جس کے اہل عرب معتقد تھے، بلکہ ہر طرف توحید اور آخرت ہی کی صداقت کے شواہد ملتے تھے جسے قرآن پیش کر رہا تھا۔ یہ سب کچھ تو وہ دیکھ رہے تھے۔ اور جو کچھ وہ نہیں دیکھ رہے تھے وہ یہ تھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات کا خالق ومالک اور فرمانروا ہے، کائنات میں سب بندے ہی بندے ہیں، خدا اس کے سوا کوئی نہیں ہے، قیامت ضرور برپا ہونے والی ہے، محمد ﷺ کو واقعی اللہ تعالیٰ ہی نے اپنا رسول مقرر کیا ہے، اور ان پر اللہ ہی کی طرف سے یہ قرآن نازل ہو رہا ہے۔ ان دونوں قسم کے حقائق کی قسم کھا کر وہ بات کہی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں ارشاد ہوئی ہے۔
Ayah 69:47

فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ Open ayah 69:47 in the Quran reader

پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اِس کام سے روکنے والا نہ ہوتا۔ 25

سورة الْحَآقَّة 25 اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ نبی کو اپنی طرف سے وحی میں کوئی کمی بیشی کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور اگر وہ ایسا کرے تو ہم اس کو سخت سزا دیں۔ مگر اس بات کو ایسے انداز سے بیان کیا گیا ہے جس سے آنکھوں کے سامنے یہ تصویر کھنچ جاتی ہے کہ ایک بادشاہ کا مقرر کردہ افسر اس کے نام سے کوئی جعلسازی کرے تو بادشاہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کا سر قلم کر دے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ غلط استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، اس کی رگ دل یا رگ گردن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً نہ کاٹ ڈالی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کا ثبوت ہے۔ حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹے مدعیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوے کرتے ہیں اور زمین پر مدتوں دندناتے پھرتے ہیں۔ یہ ان کی صداقت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس مسئلے پر مفصل بحث ہم تفہیم القرآن، جلد دوم، تفسیر سورة یونس حاشیہ 23 میں کرچکے ہیں۔
Ayahs 69:48–49

وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 69:48 in the Quran reader

درحقیقت یہ پرہیز گار لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ 26

وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ Open ayah 69:49 in the Quran reader

اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں

سورة الْحَآقَّة 26 یعنی قرآن ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو غلط روی اور اس کے برے نتائج سے بچنا چاہتے ہیں (تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 3)۔
Ayahs 69:50–52

وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 69:50 in the Quran reader

ایسے کافروں کے لیے یقیناً یہ موجبِ حسرت ہے۔ 27

وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ Open ayah 69:51 in the Quran reader

اور یہ بالکل یقینی حق ہے

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 69:52 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو

سورة الْحَآقَّة 27 یعنی آخر کار انہیں اس بات پر پچھتانا پڑے گا کہ انہوں نے کیوں اس قرآن کی تکذیب کی۔