68. Surah Al-Qalam
القلمThe Pen · 52 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
نام
اس کا نام سورة ن بھی ہے اور القلم بھی۔ دونوں الفاظ سورت کے آغاز ہی میں موجود ہیں۔
زمانہ نزول
زمانۂ نزول یہ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر اس کے مضمون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی۔
موضوع اور مضمون
اس میں تین مضامین بیان ہوئے ہیں۔ مخالفین کے اعتراضات کا جواب ان کو تنبیہ اور نصیحت، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر و استقامت کی تلقین۔ آغاز کلام میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد ہوا ہے کہ یہ کفار تم کو دیوانہ کہتے ہیں، حالانکہ جو کتاب تم پیش کر رہے ہو اور اخلاق کے جس اعلٰی مرتبے پر تم فائز ہو وہ خود ان کے اس جھوٹ کی تردید کے لیے کافی ہے۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب سب ہی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون تھا اور فرزانہ کون۔ لہٰذا مخالفت کا جو طوفان تمہارے خلاف اٹھایا جا رہا ہے اس کا دباؤ ہرگز قبول نہ کرو۔ دراصل یہ ساری باتیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ تم کسی نہ کسی طرح دب کر ان سے مصالحت (compromise) کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ پھر عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے نام لیے بغیر مخالفین میں سے ایک نمایاں شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے جسے اہل مکہ خوب جانتے تھے۔ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاکیزہ اخلاق بھی سب کے سامنے تھے، اور ہر دیکھنے والا یہ بھی دیکھ سکتا تھا کہ آپ کی مخالفت میں مکہ کے جو سردار پیش پیش ہیں ان میں کس سیرت و کردار کے لوگ شامل ہیں۔ اس کے بعد آیت 17 سے 33 تک ایک باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے جنہوں نے اللہ سے نعمت پاکر اس کی ناشکری کی اور ان کے اندر جو شخص سب سے بہتر تھا اس کی نصیحت بروقت نہ مانی، آخرکار وہ اس نعمت سے محروم ہوگئے اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب ان کا سب کچھ برباد ہوچکا تھا۔ یہ مثال دے کر اہل مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے تم بھی اسی آزمائش میں پڑگئے ہو جس میں وہ باغ والے تھے۔ اگر ان کی بات نہ مانو گے تو دنیا میں بھی عذاب بھگتو گے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ پھر آیت 34 سے 47 تک مسلسل کفار کو فہمائش کی گئی ہے جس میں کہیں تو خطاب براہ راست ان سے ہے اور کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے دراصل تنبیہ ان کو کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی لازماً انہی لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کے ساتھ زندگی بسر کی ہے۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فرمانبرداروں کا انجام وہ ہو جو مجرموں کا ہونا چاہیے۔ کفار کی یہ غلط فہمی قطعی بےبنیاد ہے کہ خدا ان کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جو وہ خود اپنے لیے تجویز کرتے ہیں، حالانکہ اس کے لیے انہیں کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے۔ جن لوگوں کو دنیا میں خدا کے آگے جھکنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ اس سے انکار کرتے ہیں، قیامت کے روز وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو بھی نہ کرسکیں گے اور ذلت کا انجام انہیں دیکھنا پڑے گا۔ قرآن کو جھٹلا کر وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ انہیں جو ڈھیل دی جا رہی ہے اس سے وہ دھوکے میں پڑگئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تکذیب کے باوجود جب ان پر عذاب نہیں آ رہا ہے تو وہ صحیح راستے پر ہیں، حالانکہ وہ بیخبر ی میں ہلاکت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ ان کے پاس رسول کی مخالفت کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک بےغرض مبلغ ہے، اپنی ذات کے لیے ان سے کچھ نہیں مانگ رہا ہے، اور وہ یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتے کہ انہیں اس کے رسول نہ ہونے اور اس کی باتوں کے غلط ہونے کا علم حاصل ہے۔ آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا فیصلہ آنے تک جو سختیاں بھی تبلیغ دین کی راہ میں پیش آئیں ان کو صبر کے ساتھ برداشت کرتے چلے جائیں اور اس بےصبری سے بچیں جو یونس (علیہ السلام) کے لیے ابتلا کا موجب بنی تھی۔
نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader
ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں، 1
مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader
تم اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو۔ 2
وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ 3
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader
اور بےشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔ 4
فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader
عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader
تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader
لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ
وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader
یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔ 5
وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader
ہر گز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے، 6
هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے
مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader
بھلائی سے روکتا ہے، 7 ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے، 8
عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader
اور اِن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے، 9
اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے۔ 10
اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں
سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader
عنقریب ہم اُس کی سُونڈ پر داغ لگائیں گے۔ 11
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader
ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، 12 جب اُنہوں نے قسم کھائی کے صبح و سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے
وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader
اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔ 13
فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader
رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی
فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا
اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader
کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ 14
فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader
چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے
اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader
کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے
وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader
وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی 15 اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر)قادر ہیں
فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader
مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں
بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader
نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے۔“ 16
قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader
اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟“ 17
قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader
و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے
فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader
پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔ 18
قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader
آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے
عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader
بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"
كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader
ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے
اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader
19 یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے ربّ کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں
اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟
مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟ 20
اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے 21 جس میں تم یہ پڑھتے ہو
اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟
اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader
یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟
سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟ 22