68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

اس کا نام سورة ن بھی ہے اور القلم بھی۔ دونوں الفاظ سورت کے آغاز ہی میں موجود ہیں۔

زمانہ نزول

زمانۂ نزول یہ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے، مگر اس کے مضمون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کرچکی تھی۔

موضوع اور مضمون

اس میں تین مضامین بیان ہوئے ہیں۔ مخالفین کے اعتراضات کا جواب ان کو تنبیہ اور نصیحت، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر و استقامت کی تلقین۔ آغاز کلام میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد ہوا ہے کہ یہ کفار تم کو دیوانہ کہتے ہیں، حالانکہ جو کتاب تم پیش کر رہے ہو اور اخلاق کے جس اعلٰی مرتبے پر تم فائز ہو وہ خود ان کے اس جھوٹ کی تردید کے لیے کافی ہے۔ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب سب ہی دیکھ لیں گے کہ دیوانہ کون تھا اور فرزانہ کون۔ لہٰذا مخالفت کا جو طوفان تمہارے خلاف اٹھایا جا رہا ہے اس کا دباؤ ہرگز قبول نہ کرو۔ دراصل یہ ساری باتیں اس لیے کی جا رہی ہیں کہ تم کسی نہ کسی طرح دب کر ان سے مصالحت (compromise) کرنے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ پھر عوام کی آنکھیں کھولنے کے لیے نام لیے بغیر مخالفین میں سے ایک نمایاں شخص کا کردار پیش کیا گیا ہے جسے اہل مکہ خوب جانتے تھے۔ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاکیزہ اخلاق بھی سب کے سامنے تھے، اور ہر دیکھنے والا یہ بھی دیکھ سکتا تھا کہ آپ کی مخالفت میں مکہ کے جو سردار پیش پیش ہیں ان میں کس سیرت و کردار کے لوگ شامل ہیں۔ اس کے بعد آیت 17 سے 33 تک ایک باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے جنہوں نے اللہ سے نعمت پاکر اس کی ناشکری کی اور ان کے اندر جو شخص سب سے بہتر تھا اس کی نصیحت بروقت نہ مانی، آخرکار وہ اس نعمت سے محروم ہوگئے اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلیں جب ان کا سب کچھ برباد ہوچکا تھا۔ یہ مثال دے کر اہل مکہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے تم بھی اسی آزمائش میں پڑگئے ہو جس میں وہ باغ والے تھے۔ اگر ان کی بات نہ مانو گے تو دنیا میں بھی عذاب بھگتو گے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ پھر آیت 34 سے 47 تک مسلسل کفار کو فہمائش کی گئی ہے جس میں کہیں تو خطاب براہ راست ان سے ہے اور کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے دراصل تنبیہ ان کو کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جو باتیں ارشاد ہوئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کی بھلائی لازماً انہی لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے دنیا میں خدا ترسی کے ساتھ زندگی بسر کی ہے۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فرمانبرداروں کا انجام وہ ہو جو مجرموں کا ہونا چاہیے۔ کفار کی یہ غلط فہمی قطعی بےبنیاد ہے کہ خدا ان کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جو وہ خود اپنے لیے تجویز کرتے ہیں، حالانکہ اس کے لیے انہیں کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے۔ جن لوگوں کو دنیا میں خدا کے آگے جھکنے کی دعوت دی جا رہی ہے اور وہ اس سے انکار کرتے ہیں، قیامت کے روز وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو بھی نہ کرسکیں گے اور ذلت کا انجام انہیں دیکھنا پڑے گا۔ قرآن کو جھٹلا کر وہ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ انہیں جو ڈھیل دی جا رہی ہے اس سے وہ دھوکے میں پڑگئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تکذیب کے باوجود جب ان پر عذاب نہیں آ رہا ہے تو وہ صحیح راستے پر ہیں، حالانکہ وہ بیخبر ی میں ہلاکت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ ان کے پاس رسول کی مخالفت کے لیے کوئی معقول وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک بےغرض مبلغ ہے، اپنی ذات کے لیے ان سے کچھ نہیں مانگ رہا ہے، اور وہ یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتے کہ انہیں اس کے رسول نہ ہونے اور اس کی باتوں کے غلط ہونے کا علم حاصل ہے۔ آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اللہ کا فیصلہ آنے تک جو سختیاں بھی تبلیغ دین کی راہ میں پیش آئیں ان کو صبر کے ساتھ برداشت کرتے چلے جائیں اور اس بےصبری سے بچیں جو یونس (علیہ السلام) کے لیے ابتلا کا موجب بنی تھی۔

Ayah 68:1

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں، 1

سورة الْقَلَم 1 امام تفسیر مجاہد کہتے ہیں کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے ذکر، یعنی قرآن لکھا جا رہا تھا۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ چیز جو لکھی جا رہی تھی اس سے مراد قرآن مجید ہے۔
Ayah 68:2

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

تم اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو۔ 2

سورة الْقَلَم 2 یہ ہے وہ بات جس پر قلم اور کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن جو کاتبین وحی کے ہاتھوں سے ثبت ہو رہا ہے، بجائے خود کفار کے اس بہتان کی تردید کے لیے کافی ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ مجنون ہیں۔ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت سے پہلے تو اہل مکہ آپ کو اپنی قوم کا بہترین آدمی مانتے تھے اور آپ کی دیانت و امانت اور عقل و فراست پر اعتماد رکھتے تھے۔ مگر جب آپ نے ان کے سامنے قرآن پیش کرنا شروع کیا تو وہ آپ کو دیوانہ قرار دینے لگے۔ اس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ہی ان کے نزدیک وہ سبب تھا جس کی بنا پر انہوں نے آپ پر دیوانگی کی تہمت لگائی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قرآن ہی اس تہمت کی تردید کے لیے کافی ثبوت ہے۔ یہ اعلی درجہ کا فصیح وبلیغ کلام، جو ایسے بلند پایہ مضامین پر مشتمل ہے، اس کا پیش کرنا تو اس بات کی دلیل ہے کہ محمد ﷺ پر اللہ کا خاص فضل ہوا ہے، کجا کہ اس امر کی دلیل بنایا جائے کہ آپ معاذ اللہ دیوانے ہوگئے ہیں۔ اسی مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہاں خطاب تو بظاہر نبی ﷺ سے ہے، لیکن اصل مقصود کفار کو ان کی تہمت کا جواب دینا ہے۔ لہذا کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہو کہ یہ آیت حضور ﷺ کو یہ اطمینان دلانے کے لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کو اپنے متعلق تو ایسا کوئی شبہ نہ تھا کہ اسے دور کرنے کے لیے آپ کو یہ اطمینان دلانے کی ضرورت ہوتی۔ مدعا کفار سے یہ کہنا ہے کہ تم جس قرآن کی وجہ سے اس کے پیش کرنے والے کو مجنون کہہ رہے ہو وہی تمہارے اس الزام کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے (مزید تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم تفسیر سورة طور، حاشیہ 22)۔
Ayah 68:3

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ 3

سورة الْقَلَم 3 یعنی آپ کے لیے اس بات پر بےحساب اور لازوال اجر ہے کہ آپ خلق خدا کی ہدایت کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں ان کے جواب میں آپ کو ایسی ایسی اذیت ناک باتیں سننی پڑ رہی ہیں اور پھر بھی آپ اپنے اس فرض کو انجام دیے چلے جا رہے ہیں۔
Ayahs 68:4–8

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بےشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔ 4

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ

سورة الْقَلَم 4 اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ آپ اخلاق کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں اسی وجہ سے آپ ہدایت خلق کے کام میں یہ اذیتیں برداشت کر رہے ہیں ورنہ ایک کمزور اخلاق کا انسان یہ کام نہیں کرسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کے علاوہ آپ کے بلند اخلاق بھی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کفار آپ پر دیوانگی کی جو تہمت رکھ رہے ہیں وہ سراسر جھوٹی ہے، کیونکہ اخلاق کی بلندی اور دیوانگی، دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ دیوانہ وہ شخص ہوتا ہے جس کا ذہنی توازن بگڑا ہوا ہو اور جس کے مزاج میں اعتدال باقی نہ رہا ہو۔ اس کے برعکس آدمی کے بلند اخلاق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ نہایت صحیح الدماغ اور سلیم الفطرت ہے اور اس کا ذہن اور مزاج غایت درجہ متوازن ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق جیسے کچھ تھے۔ اہل مکہ ان سے ناواقف نہ تھے۔ اس لیے ان کی طرف محض اشارہ کردینا ہی اس بات کے لیے کافی تھا کہ مکہ کا ہر معقول آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ وہ لوگ کس قدر بےشرم ہیں جو ایسے بلند اخلاق آدمی کو مجنون کہہ رہے ہیں۔ ان کی یہ بیہودگی رسول اللہ ﷺ کے لیے نہیں بلکہ خود ان کے لیے نقصان دہ تھی کہ مخالفت کے جوش میں پاگل ہو کر وہ آپ کے متعلق ایسی بات کہہ رہے تھے جسے کوئی ذی فہم آدمی قابل تصور نہ مان سکتا تھا۔ یہی معاملہ ان مدعیان علم و تحقیق کا بھی ہے جو اس زمانے میں رسول اللہ ﷺ پر مرگی اور جنون کی تہمت رکھ رہے ہیں۔ قرآن پاک دنیا میں ہر جگہ مل سکتا ہے، اور حضور ﷺ کی سیرت بھی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ لکھی ہوئی موجود ہے۔ ہر شخص خود دیکھ سکتا ہے کہ جو لوگ اس بےمثل کتاب کے پیش کرنے والے اور ایسے بلند اخلاق رکھنے والے انسان کو ذہنی مریض قرار دیتے ہیں وہ عداوت کے اندھے جذبے سے مغلوب ہو کر کیسی لغو بات کہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہ نے اپنے اس قول میں فرمائی ہے کہ کان خلقہ القران۔ " قرآن آپ کا اخلاق تھا "۔ امام احمد، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور ابن جریر نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ ان کا یہ قول متعدد سندوں سے نقل کیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی تھی بلکہ خود اس کا مجسم نمونہ بن کر دکھا دیا تھا۔ جس چیز کا قرآن میں حکم دیا گیا آپ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپ نے خود سب سے زیادہ اس سے اجتناب فرمایا، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضلیت قرار دیا گیا سب سے بڑھ کر آپ کی ذات ان سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں ناپسند ٹھیرایا گیا سب سے زیادہ آپ ان سے پاک تھے۔ ایک اور وایت میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ " رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی خادم کو نہیں مارا کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپ کو پہنچائی گئی ہو الا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو، اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب دو کاموں میں سے ایک کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھے، الا کہ وہ گناہ ہو، اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے " (مسند احمد)۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ " میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی ہے۔ آپ نے کبھی میری کسی بات پر اف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کیوں کیا اور کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کیوں نہ کیا "۔ (بخاری و مسلم)۔
Ayah 68:9

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔ 5

سورة الْقَلَم 5 یعنی تم اسلام کی تبلیغ میں کچھ ڈھیلے پڑجاؤ تو یہ بھی تمہاری مخالفت میں کچھ نرمی اختیار کرلیں، یا تم ان کی گمراہیوں کی رعایت کر کے اپنے دین میں کچھ ترمیم کرنے پر آمادہ ہوجاؤ تو یہ تمہارے ساتھ مصالحت کرلیں۔
Ayahs 68:10–11

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

ہر گز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے، 6

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

سورة الْقَلَم 6 اصل میں لفظ مھین استعمال ہوا ہے جو حقیر و ذلیل اور گھٹیا آدمی کے لیے بولا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ بہت قسمیں کھانے والے آدمی کی لازمی صفت ہے۔ وہ بات بات پر اس لیے قسم کھاتا ہے اسے خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور اس کی بات پر اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ قسم نہ کھائے۔ اس بنا پر وہ اپنی نگاہ میں خود بھی ذلیل ہوتا ہے اور معاشرے میں بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔
Ayah 68:12

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

بھلائی سے روکتا ہے، 7 ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے، 8

سورة الْقَلَم 7 اصل میں مناع للخیر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ خیر عربی زبان میں مال کو بھی کہتے ہیں اور بھلائی کو بھی۔ اگر اس کو مال کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ سخت بخیل اور کنجوس آدمی ہے، کسی کو پھوٹی کوڑی دینے کا بھی روادار نہیں۔ اور اگر خیر کو نیکی اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ہر نیک کام میں رکاوٹ ڈالتا ہے، اور یہ بھی کہ وہ اسلام سے لوگوں کو روکنے میں بہت سرگرم ہے۔
Ayah 68:13

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

اور اِن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے، 9

سورة الْقَلَم 8 اصل میں لفظ عتل استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو خوب ہٹا کٹا اور بہت کھانے پینے والا ہو، اور اس کے ساتھ نہایت بد خلق، جھگڑالو اور سفاک ہو۔ سورة الْقَلَم 9 اصل میں لفظ زنیم استعمال ہوا ہے۔ کلام عرب میں یہ لفظ اس ولدالزنا کے لیے بولا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ سعید بن جبیر اور شعبی کہتے ہیں کہ یہ لفظ اس شخص کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو لوگوں میں اپنے شر کی وجہ سے معروف و مشہور ہو۔ ان آیات میں جس شخص کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں اس کے بارے میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا۔ کسی نے اسود بن عبد یغوث کا نام لیا ہے۔ کسی نے اخنس بن شریق کو اس کا مصداق ٹھیرایا ہے۔ اور بعض لوگوں نے کچھ دوسرے اشخاص کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن قرآن مجید میں نام لیے بغیر صرف اس کے اوصاف بیان کردیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں وہ اپنے ان اوصاف کے لیے اتنا مشہور تھا کہ اس کا نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کی یہ صفات سنتے ہی ہر شخص سمجھ سکتا تھا کہ اشارہ کس کی طرف ہے۔
Ayahs 68:14–15

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے۔ 10

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں

سورة الْقَلَم 10 اس فقرے کا تعلق اوپر کے سلسلہ کلام سے بھی ہوسکتا ہے اور بعد کے فقرے سے بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایسے آدمی کی دھونس اس بنا پر قبول نہ کرو کہ وہ بہت مال اولاد رکھتا ہے۔ دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ بہت مال اولاد والا ہونے کی بنا پر وہ مغرور ہوگیا ہے، جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔
Ayah 68:16

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

عنقریب ہم اُس کی سُونڈ پر داغ لگائیں گے۔ 11

سورة الْقَلَم 11 چونکہ وہ اپنے آپ کو بڑی ناک والا سمجھتا تھا اس لیے اس کی ناک کو سونڈ کہا گیا۔ اور ناک پر داغ لگانے سے مراد تذلیل ہے۔ یعنی ہم دنیا اور آخرت میں اس کو ایسا ذلیل و خوار کریں گے کہ ابد تک یہ عار اس کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔
Ayah 68:17

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، 12 جب اُنہوں نے قسم کھائی کے صبح و سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

سورة الْقَلَم 12 اس مقام پر سورة کہف رکوع 5 بھی پیش نظر رہے جس میں اسی طرح عبرت دلانے کے لیے دو باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے۔
Ayahs 68:18–21

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔ 13

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا

سورة الْقَلَم 13 یعنی انہیں اپنی قدرت اور اپنے اختیار پر ایسا بھروسہ تھا کہ قسم کھا کر بےتکلف کہہ دیا کہ ہم ضرور کل اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور یہ کہنے کی کوئی ضرورت وہ محسوس نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہ کام کریں گے۔
Ayahs 68:22–24

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ 14

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

سورة الْقَلَم 14 کھیتی کا لفظ غالباً اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی تھے۔
Ayahs 68:25–26

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی 15 اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر)قادر ہیں

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں

سورة الْقَلَم 15 اصل میں الفاظ ہیں علی حرد۔ عربی زبان میں روکنے اور نہ دینے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ قصد اور طے شدہ فیصلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور سرعت کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمے میں تینوں معنوں کی رعایت ملحوظ رکھی ہے۔
Ayah 68:27

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے۔“ 16

سورة الْقَلَم 16 یعنی پہلے تو انہیں باغ کو دیکھ کر یقین نہ آیا کہ یہ انہی کا باغ ہے اور کہنے لگے شاید ہم راستہ بھول کر کسی اور جگہ آئے ہیں۔ پھر غور کیا اور معلوم ہوا کہ یہ ان کا اپنا باغ ہی ہے تو چیخ اٹھے کہ ہماری قسمت پھوٹ گئی۔
Ayahs 68:28–29

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟“ 17

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے

سورة الْقَلَم 17 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل ضرور توڑیں گے اس وقت اس شخص نے ان کو تنبیہ کی تھی کہ تم خدا کو بھول گئے۔ انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی۔ پھر جب وہ مسکینوں کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کر رہے تھے اس وقت بھی اس نے انہیں نصیحت کی کہ اللہ کو یاد کرو اور اس بری نیت سے باز آجاؤ، مگر وہ اپنی بات پر جمے رہے۔
Ayahs 68:30–33

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔ 18

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے

سورة الْقَلَم 18 یعنی ہر ایک نے دوسرے کو الزام دینا شروع کیا کہ اس کے بہکانے سے ہم اس خدا فراموشی اور بد نیتی میں مبتلا ہوئے۔
Ayahs 68:34–35

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 68:34 in the Quran reader

19 یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے ربّ کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں

اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 68:35 in the Quran reader

کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟

سورة الْقَلَم 19 مکہ کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ نعمتیں جو دنیا میں مل رہی ہیں، یہ خدا کے ہاں ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں، اور تم جس بد حالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا تم کہتے ہو، تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے اور عذاب تم پر ہوگا نہ کہ ہم پر۔ اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے۔
Ayah 68:36

مَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:36 in the Quran reader

تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟ 20

سورة الْقَلَم 20 یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا فرمانبردار اور مجرم میں تمیز نہ کرے۔ تمہاری سمجھ میں آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ کن لوگوں نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی اور برے کاموں سے پرہیز کیا اور کون لوگ تھے جو اس سے بےخوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے ؟ تم نے ایمان لانے والوں کی خستہ حالی اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور ان کے اخلاق و اعمال کا فرق نہیں دیکھا اور بےتکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں ان فرمانبرداروں کے ساتھ تو مجرموں کا سا معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں کو جنت عطا کردی جائے گی۔
Ayahs 68:37–39

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 68:37 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے 21 جس میں تم یہ پڑھتے ہو

اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ Open ayah 68:38 in the Quran reader

کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ Open ayah 68:39 in the Quran reader

یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟

سورة الْقَلَم 21 یعنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب۔
Ayah 68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ Open ayah 68:40 in the Quran reader

اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟ 22

سورة الْقَلَم 22 اصل میں لفظ زعیم استعمال ہوا ہے۔ کلام عرب میں زعیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کفیل، یا ضامن، یا کسی قوم کی طرف سے بولنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے۔