67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلے فقرے تبارک الذی بیدہ الملک کے لفظ الملک کو اس سورت کا نام قرار دیا گیا ہے۔

زمانہ نزول

کسی معتبر روایت سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کس زمانے میں نازل ہوئی ہے، مگر مضامین اور انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔

موضوع اور مضمون

اس میں ایک طرف مختصر طریقے سے اسلام کی تعلیمات کا تعارف کرایا گیا ہے اور دوسری طرف بڑے مؤثر انداز میں ان لوگوں کو چونکایا گیا ہے جو غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ یہ مکۂ معظمہ کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیت ہے کہ وہ اسلام کی ساری تعلیمات اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقصد بعثت کو پیش کرتی ہیں، مگر تفصیل کے ساتھ نہیں بلکہ اختصار کے ساتھ، تاکہ وہ بتدریج لوگوں کے ذہن نشین ہوتی چلی جائیں۔ اس کے ساتھ ان میں زیادہ زور اس بات پر صرف کیا جاتا ہے کہ لوگوں کی غفلت دور کی جائے، ان کو سوچنے پر مجبور کیا جائے، اور ان کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا جائے۔ پہلی پانچ آیتوں میں انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ وہ جس کائنات میں رہتا ہے وہ ایک انتہائی منظم اور محکم سلطنت ہے جس میں ڈھونڈے سے بھی کوئی عیب یا نقص یا خلل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلطنت کو عدم سے وجود میں بھی اللہ تعالیٰ ہی لایا ہے اور اس کی تدبیر و انتظام اور فرمانروائی کے تمام اختیارات بھی بالکلیہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور اس کی قدرت لامحدود ہے۔ اس کے ساتھ انسان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس انتہائی حکیمانہ نظام میں وہ بےمقصد پیدا نہیں کردیا گیا ہے بلکہ یہاں اسے امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے اور اس امتحان میں وہ اپنے حسن عمل ہی سے کامیاب ہوسکتا ہے۔ آیت 6 سے 11 تک کفر کے وہ ہولناک نتائج بیان کیے گئے ہیں جو آحرت میں نکلنے والے ہیں اور لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو بھیج کر تمہیں اس دنیا میں ان نتائج سے خبردار کردیا ہے۔ اب اگر یہاں تم انبیاء کی بات مان کر اپنا رویہ درست نہ کرو گے تو آخرت میں تمہیں خود اعتراف کرنا پڑے گا کہ جو سزا تم کو دی جا رہی ہے فی الواقع تم اس کے مستحق ہو۔ آیت 12 سے 14 تک یہ حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بیخبر نہیں ہو سکتا۔ وہ تمہاری ہر کھلی اور چھپی بات، حتٰی کہ تمہارے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔ لہٰذا اخلاق کی صحیح بنیاد یہ ہے کہ انسان اس اَن دیکھے خدا کی بازپرس سے ڈر کر برائی سے بچے، خواہ دنیا میں کوئی طاقت اس پر گرفت کرنے والی ہو یا نہ ہو اور دنیا میں اس سے کسی نقصان کا امکان ہو یا نہ ہو یہ طرز عمل جو لوگ اختیار کریں گے وہی آخرت میں بخشش اور اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔ آیت 15 سے 23 تک ان پیش پا افتادہ حقیقتوں کی طرف، جنہیں انسان دنیا کے معمولات سمجھ کر قابل توجہ شمار نہیں کرتا، پے در پے اشارے کر کے ان پر سوچنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اس زمین کو دیکھو جس پر تم اطمینان سے چل پھر رہے ہو اور جس سے اپنا رزق حاصل کر رہے ہو۔ خدا ہی نے اسے تمہارے لیے تابع کر رکھا ہے، ورنہ کسی وقت بھی اس زمین میں ایسا زلزلہ آسکتا ہے کہ تم پیوند خاک ہوجاؤ، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہیں تہس نہس کر کے رکھ دے۔ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو دیکھو۔ خدا ہی تو ہے جو انہیں فضا میں تھامے ہوئے ہے۔ اپنے تمام ذرائع و وسائل پر نگاہ ڈال کر دیکھو۔ خدا اگر تمہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو کون تمہیں اس سے بچا سکتا ہے اور خدا اگر تمہارے لیے رزق کے دروازے بند کر دے تو کون انہیں کھول سکتا ہے ؟ یہ ساری چیزیں تمہیں حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے موجود ہیں۔ مگر انہیں تم حیوانات کی طرح دیکھتے ہو جو مشاہدات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور اس سماعت و بینائی اور ان سوچنے سمجھنے والے دماغوں سے کام نہیں لیتے جو انسان ہونے کی حیثیت سے خدا نے تمہیں دیے ہیں۔ اسی وجہ سے راہ راست تمہیں نظر نہیں آتی۔ آیت 24 سے 27 تک بتایا گیا ہے کہ آخر کار تمہیں لازماً اپنے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔ نبی کا کام یہ نہیں ہے کہ تمہیں اس کے آنے کا وقت اور تاریخ بتائے۔ اس کا کام بس یہ ہے کہ تمہیں اس آنے والے وقت سے پیشگی خبردار کردے۔ تم آج اس کی بات نہیں مانتے اور مطالبہ کرتے ہو کہ وہ وقت لا کر تمہیں دکھا دیا جائے۔ مگر جب وہ آجائے گا اور تم آنکھوں سے اسے دیکھ لو گے تو ہمارے ہوش اڑ جائیں گے۔ اس وقت تم سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جسے جلد لے آنے کا تم مطالبہ کر رہے تھے۔ آیت 28 اور 29 میں کفار مکہ کی ان باتوں کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کے خلاف کرتے تھے۔ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کو ستے تھے اور آپ کے لیے اور اہل ایمان کے لیے ہلاکت کی دعائیں مانگتے تھے۔ اس پر فرمایا گیا کہ تمہیں راہ راست کی طرف بلانے والے خواہ ہلاک ہوں یا اللہ ان پر رحم کرے، اس سے آخر تمہاری قسمت کیسے بدل جائے گی ؟ تم اپنی فکر کرو کہ خدا کا عذاب اگر تم پر آجائے تو کون تمہیں بچائے گا ؟ جو لوگ خدا پر ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اس پر توکل کیا ہے، انہیں تم گمراہ سمجھ رہے ہو۔ ایک وقت آئے گا جب یہ بات کھل جائے گی کہ حقیقت میں گمراہ کون تھا۔ آخر میں لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھ دیا گیا ہے اور اسی پر سوچنے کے لیے انہیں چھوڑ دیا گیا ہے کہ عرب کے صحراؤں اور پہاڑی علاقوں میں، جہاں تمہاری زندگی کا سارا انحصار اس پانی پر ہے جو کسی جگہ زمین سے نکل آیا ہے، وہاں اگر یہ پانی زمین میں اتر کر غائب ہوجائے تو خدا کے سوا کون تمہیں یہ آب حیات لا کر دے سکتا ہے ؟

Ayah 67:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

نہایت بزرگ و برتر ہے 1 وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، 2 اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 3

سورة الْمُلْک 1 تبارک برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ برکت میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات کے مفہومات شامل ہیں۔ اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تبارک بنایا جائے تو اسکے معنی ہوتے ہیں کہ وہ بےانتہا بزرگ و عظیم ہے، اپنی ذات وصفات و افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے با لا تر ہے، بےحدو حساب بھلائیوں کا فیضان اس کی ذات سے ہو رہا ہے، اور اس کے کمالات لازوال ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 43۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 14۔ الفرقان، حواشی 19)۔ سورة الْمُلْک 2 الملک کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں میں نہیں لیا جاسکتا۔ لا محالہ اس سے مراد تمام موجودات عالم پر شاہانہ اقتدار ہی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے ہاتھ میں اقتدار ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی ہاتھ رکھتا ہے، بلکہ یہ لفظ محاورہ کے طور پر قبضہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ عربی کی طرح ہماری زبان میں بھی جب یہ کہتے ہیں کہ اختیارات فلاں کے ہاتھ میں ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی سارے اختیارات کا مالک ہے، کسی دوسرے کا اس میں دخل نہیں ہے۔۔ سورة الْمُلْک 3 یعنی وہ جو کچھ چاہے کرسکتا ہے کوئی چیز اسے عاجز کرنے والی نہیں ہے۔ کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ کرسکے۔
Ayah 67:2

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، 4 اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ 5

سورة الْمُلْک 4 یعنی دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس نے اس لیے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے اور یہ دیکھے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ اول یہ کہ موت اور حیات اسی کی طرف سے ہے، کوئی دوسرا زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق، جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے، اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ تیسرے یہ کہ اسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کر کے اپنی اچھائی یا برائی کا ا ظہار کرسکے اور عملاً یہ دکھا دے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ چوتھے یہ کہ خالق ہی دراصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا۔ لہذا جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اسے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ممتحن کے نزدیک حسن عمل کیا ہے۔ پانچواں نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کا جیسا عمل ہوگا اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی، کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔ سورة الْمُلْک 5 اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بےانتہا زبردست اور سب پر پوری طرح غالب ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کے حق میں رحیم و غفور ہے، ظالم اور سخت گیر نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ برے عمل کرنے والوں کو سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی سزا سے بچ سکے۔ مگر جو نادم ہو کر برائی سے باز آجائے اور معافی مانگ لے اس کے ساتھ وہ در گزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔
Ayahs 67:3–4

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

س نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے۔ 6 تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاوٴ گے۔ 7 پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ 8

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی

سورة الْمُلْک 6 تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 34۔ جلد دوم، الرعد، حاشیہ 2۔ الحجر، حاشیہ 8۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ 113۔ المومنون، حاشیہ 15۔ جلد چہارم، الصافات، حاشیہ 5، المومن، حاشیہ 90۔ سورة الْمُلْک 7 اصل میں تفاوت کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں، عدم تناسب۔ ایک چیز کا دوسری چیز سے میل نہ کھانا۔ انمل بےجوڑ ہونا۔ پس اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں تم کہیں بد نظمی، بےترتیبی اور بےربطی نہ پاؤ گے۔ اللہ کی پیدا کردہ اس دنیا میں کوئی چیز انمل بےجوڑ نہیں ہے۔ اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں اور ان میں کمال درجے کا تناسب پایا جاتا ہے۔ سورة الْمُلْک 8 اصل میں لفظ فطور استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں دراڑ، شگاف، رخنہ، پھٹا ہوا ہونا، ٹوٹا پھوٹا ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات کی بندش ایسی چست ہے، اور زمین کے ایک ذرے سے لے کر عظیم الشان کہکشانوں تک ہر چیز ایسی مربوط ہے کہ کہیں نظم کائنات کا تسلسل نہیں ٹوٹتا۔ تم خواہ کتنی ہی جستجو کرلو، تمہیں اس میں کسی جگہ کوئی رخنہ نہیں مل سکتا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة ق، حاشیہ 8۔
Ayah 67:5

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان 9 کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے 10 اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ 11 اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کر رکھی ہے

سورة الْمُلْک 9 قریب کے آسمان سے مراد وہ آسمان ہے جس کے تا روں اور سیاروں کو ہم برہنہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس سے آگے جن چیزوں کے مشاہدے کے لیے آلات کی ضرورت پیش آتی ہو وہ دور کے آسمان ہیں۔ اور ان سے بھی زیادہ دور کے آسمان وہ ہیں جن تک آلات کی رسائی بھی نہیں ہے۔ سورة الْمُلْک 10 اصل میں لفظ " مصابیح " نکرہ استعمال ہوا ہے اور اس کے نکرہ ہونے سے خود بخود ان چراغوں کے عظیم الشان ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات ہم نے اندھیری اور سنسان نہیں بنائی ہے بلکہ ستاروں سے خوب مزین اور آراستہ کیا ہے جس کی شان اور جگمگاہٹ رات کے اندھیروں میں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ سورة الْمُلْک 11 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں، اور یہ مطلب بھی نہیں کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بےحد و حساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ گھومتے رہتے ہیں، اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جاسکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب انہیں مار بھگاتے ہیں۔ اس چیز کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ عرب کے لوگ کاہنوں کے متعلق یہ خیال رکھتے تھے اور یہی خود کاہنوں کا دعویٰ بھی تھا، کہ شیاطین ان کے تابع ہیں، یا شیاطین سے ان کا رابطہ ہے، اور ان کے ذریعہ سے انہیں غیب کی خبریں حاصل ہوتی ہیں اور وہ صحیح طور پر لوگوں کی قسمتوں کا حال بتاسکتے ہیں۔ اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین کے عالم بالا میں جانے اور وہاں سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حواشی 9 تا 12۔ الصافات، حواشی 6، 7۔ رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات جدید ترین دور تک انسان کے علم آئے ہیں، اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں، ان کی بناء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظریہ یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آ کر ادھر کا رخ کرلیتے ہیں (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، ایڈیشن 1967 ء۔ جلد 15۔ لفظ (Meteorites)۔
Ayah 67:6

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کفر کیا ہے 12 ان کے لیے جہنّم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے

سورة الْمُلْک 12 یعنی انسان ہوں، یا شیطان، جن لوگوں نے بھی اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کا یہ انجام ہے (رب سے کفر کرنے کے مفہوم کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 121، النساء، حاشیہ 178، جلد سوم، الکہف، حاشیہ 39، جلد چہارم، المومن، حاشیہ، 3۔
Ayah 67:7

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دَھاڑنے کی ہولناک آوازیں سُنیں گے 13 اور وہ جوش کھا رہی ہوگی

سورة الْمُلْک 13 اصل میں لفظ شھیق استعمال ہوا ہے۔ جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آ رہی ہوگی جہاں ان لوگوں سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورة ہود کی آیت 106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ " ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے "۔ اور پہلے مفہوم کی تائید سورة فرقان آیت 12 سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہوگا اور جہنمیوں کا بھی۔
Ayah 67:8

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

شِدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے”کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟“ 14

سورة الْمُلْک 14 اس سوال کی اصل نوعیت سوال کی نہیں ہوگی کہ جہنم کے کارندے ان لوگوں سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہوں کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خبردار کرنے والا آیا تھا یا نہیں، بلکہ اس سے مقصود ان کو اس بات کا قائل کرنا ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال کر ان کے ساتھ کوئی بےانصافی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس لیے وہ خود ان کی زبان سے یہ اقرار کرانا چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیخبر نہیں رکھا تھا، ان کے پاس انبیاء بھیجے تھے، ان کو بتادیا تھا کہ حقیقت کیا ہے اور راہ راست کونسی ہے، اور ان کو متنبہ کردیا تھا کہ اس راہ راست کے خلاف چلنے کا نتیجہ اسی جہنم کا ایندھن بننا ہوگا جس میں اب وہ جھونکے گئے ہیں، مگر انہوں نے انبیاء کی بات نہ مانی لہذا اب جو سزا انہیں دی جا رہی ہے وہ فی الواقع اس کے مستحق ہیں۔ یہ بات قرآن مجید میں بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس امتحان کے لیے دنیا میں انسان کو بھیجا ہے وہ اس طرح نہیں لیا جا رہا ہے کہ اسے بالکل بیخبر رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہو کہ وہ خود راہ راست پاتا ہے یا نہیں، بلکہ اسے راہ راست بتانے کا جو معقول ترین انتظام ممکن تھا وہ اللہ نے پوری طرح کردیا ہے، اور وہ یہی انتظام ہے کہ انبیاء بھیجے گئے ہیں اور کتابیں نازل کی گئیں ہیں۔ اب انسان کا سارا امتحان اس امر میں ہے کہ وہ انبیاء علیم السلام اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کو مان کر سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے یا ان سے منہ موڑ کر خود اپنی خواہشات اور تخیلات کے پیچھے چلتا ہے۔ اس طرح نبوت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی وہ حجت ہے جو اس نے انسان پر قائم کردی ہے، اور اسی کے ماننے یا نہ ماننے پر انسان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ انبیاء کے آنے کے بعد کوئی شخص یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ ہم حقیقت سے آگاہ نہ تھے، ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہم کو اتنے بڑے امتحان میں ڈال دیا گیا، اور اب ہمیں بےقصور سزا دی جا رہی ہے۔ اس مضمون کو اتنی بار اتنے مختلف طریقوں سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا شمار مشکل ہے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، آیت 213، حاشیہ 230، النساء آیات 41۔ 42، حاشیہ 64۔ آیت 165، حاشیہ 208۔ الانعام، آیات 130۔ 131، 98 تا 100 جلد دوم، بنی اسرائیل، آیت 15، حاشیہ 17۔ جلد سوم طٰہٰ ، آیت 134۔ القصص، آیت 47، حاشیہ 66، آیت 59، حاشیہ 83۔ آیت 65۔ جلد چہارم، فاطر، آیت 37، المومن، آیت 50 حاشیہ 66۔
Ayah 67:9

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے”ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا ، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔“ 15

سورة الْمُلْک 15 یعنی تم بھی بہکے ہوئے ہو اور تم پر ایمان لانے والے لوگ بھی سخت گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 67:10

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے ”کاش ہم سُنتے اور سمجھتے 16 تو آج اِس بھَڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے۔“

سورة الْمُلْک 16 یعنی ہم نے طالب حق بن کر انبیاء کی بات کو توجہ سے سنا ہوتا، یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو وہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہاں سننے کو سمجھنے پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم کو توجہ سے سننا (یا اگر وہ لکھی شکل میں ہو تو طالب حق بن کر اسے پڑھنا) ہدایت پانے کے لیے شرط اول ہے۔ اس پر غور کر کے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کا مرتبہ اس کے بعد آتا ہے نبی کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل سے بطور خود کام لے کر انسان براہ راست حق تک نہیں پہنچ سکتا۔
Ayah 67:11

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

اس طرح وہ اپنے قصورکا 17 خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر

سورة الْمُلْک 17 قصور کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اصل قصور جس کی بنا پر وہ جہنم کے مستحق ہوئے رسولوں کا جھٹلانا اور ان کی پیروی سے انکار کرنا ہے۔ باقی سارے گناہ اسی کی فرع ہیں۔
Ayah 67:12

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

جو لوگ بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں، 18 یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔ 19

سورة الْمُلْک 18 یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے۔ کسی کا برائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ برائی ہے، یا دنیا اسے برا سمجھتی ہے، یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے، یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیاد ہے۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو برا اور ایک بری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے۔ دنیا کے معیار خیر و شر اول تو یکساں نہیں ہیں، پھر وہ وقتاً فوقتا بدلتے بھی رہتے ہیں، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیار دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے۔ دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی اخلاق کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ جو شخص برائی سے اس لیے بچتا ہو کہ وہ دنیا میں اس کی ذات پر مترتب ہونے والے کسی نقصان سے ڈرتا ہے وہ ایسی حالت میں اس کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا جبکہ اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی طرح کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ بھی وہ چیز نہیں ہے جو انسان کو ایک شریف انسان بنا سکتی ہو۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب و الشہادہ نہیں ہے۔ بہت سے جرائم اس کی نگاہ سے بچ کر کیے جاسکتے ہیں۔ اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بیشمار تدبیریں ممکن ہیں۔ پھر کسی دنیوی طاقت کے قوانین بھی تمام برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اس ان دیکھے خدا سے ڈر کر برائی سے اجتناب کیا جائے جو ہر حال میں انسان کو دیکھ رہا ہے، جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جاسکتا جس نے خیر و شر کا ایک ہمہ گیر، عالمگیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے۔ اسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑتا اور نیکی اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابل قدر ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا، یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں ان کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ ہوں گے، کیونکہ ان کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو۔ سورة الْمُلْک 19 یعنی خدا سے بالغیب ڈرنے کے دو لازمی نتائج ہیں۔ ایک یہ کہ جو قصور بھی بشری کمزوریوں کی بنا پر آدمی سے سر زد ہوگئے ہوں وہ معاف کردیے جائیں گے، بشرطیکہ ان کی تہ میں خدا سے بےخوفی کار فرما نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جو نیک اعمال بھی انسان اس عقیدے کے ساتھ انجام دے گا اس پر وہ بڑا اجر پائے گا۔
Ayah 67:13

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

تم خواہ چُپکے سے بات کرو یا اُونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ 20

سورة الْمُلْک 20 یہ بات تمام انسانوں کو خطاب کر کے فرمائی گئی ہے، خواہ وہ مومن ہوں یا کافر۔ مومن کے لیے اس میں یہ تلقین ہے کہ اسے دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہر وقت یہ احساس اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہیے کہ اس کے کھلے اور چھپے اقوال و اعمال ہی نہیں، اس کی نیتیں اور اس کے خیالات تک اللہ سے مخفی نہیں ہیں۔ اور کافر کے لیے اس میں تنبیہ ہے کہ وہ اپنی جگہ خدا سے بےخوف ہو کر جو کچھ چاہے کرتا رہے، اس کی کوئی بات اللہ کی گرفت سے چھوٹی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 67:14

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ 21 حالانکہ وہ باریک بیں 22 اور باخبر ہے

سورة الْمُلْک 21 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا وہ اپنی مخلوق ہی کو نہ جانے گا " ؟ اصل میں من خلق استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی " جس نے پیدا کیا ہے " بھی ہو سکتے ہیں، اور " جس کو اس نے پیدا کیا ہے " بھی۔ دونوں صورتوں میں مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ یہ دلیل اس بات کی جو اوپر کے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بیخبر ہو ؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بیخبر ہو سکتی ہے، مگر خالق اس سے بیخبر نہیں ہو سکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔ تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہوا ہے۔ تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔ تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کر رہا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی بات کیسے چھپی رہ سکتی ہے ؟ سورة الْمُلْک 22 اصل میں لفظ " لطیف " استعمال ہوا ہے جس کے معنی غیر محسوس طریقے سے کام کرنے والے کے بھی ہیں اور پوشیدہ حقائق کو جاننے والے کے بھی۔
Ayah 67:15

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاوٴ خدا کا رزق، 23 اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔ 24

سورة الْمُلْک 23 یعنی زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہوگیا، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زندگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کرہ ایسا پرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خوان نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے لیے زندگی بسر کرنے کا بےحدو حساب سرو سامان موجود ہے۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کردینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ 81۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 29۔ 32۔ المومن، حواشی 90۔ 91۔ الزخرف، حاشیہ 7۔ الجاثیہ، حاشیہ 7۔ جلد پنجم قٓ، حاشیہ 18۔ سورة الْمُلْک 24 یعنی اس زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اس بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔
Ayah 67:16

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے 25 تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جَھکو لے کھانے لگے؟

سورة الْمُلْک 25 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے، بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ کسی آفت کے موقع پر سہاروں سے مایوس ہوتا ہے تو آسمان کا رخ کر کے خدا سے فریاد کرتا ہے۔ کوئی ناگہانی بلا آپڑتی ہے تو کہتا ہے یہ اوپر سے نازل ہوئی ہے۔ غیر معمولی طور پر حاصل ہونے والی چیز کے متعلق کہتا ہے یہ عالم بالا سے آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی یا کتب آسمانی کہا جاتا ہے۔ (ابو داؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ ایک شخص ایک کالی لونڈی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھ پر ایک مومن غلام آزاد کرنا واجب ہوگیا ہے، کیا میں اس لونڈی کو آزاد کرسکتا ہوں ؟ حضور ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا، حضور ﷺ نے پوچھا اور میں کون ہوں ؟ اس نے پہلے آپ کی طرف اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کیا، جس سے اس کا یہ مطلب واضح ہو رہا تھا کہ آپ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا۔ اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے (اسی سے ملتا جلتا قصہ موطا، مسلم اور نسائی میں بھی روایت ہوا ہے)۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے متعلق حضرت عمر نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا، یہ وہ خاتون ہیں جن کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی (تفسیر سورة مجادلہ حاشیہ 2 میں ہم اس کی تفصیل نقل کرچکے ہیں)۔ ان ساری باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن نیچے زمین کی طرف نہیں بلکہ اوپر آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اسی کو ملحوظ رکھ کر یہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق من فی السماء (وہ جو آسمان میں ہے) کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہوسکتا ہے جبکہ اسی سورة ملک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے کہ الذی خلق سبع سموات طباقا (جس نے تہ بر تہ سات آسمان پیدا کیے) اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے، فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ (پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرف اللہ کا رخ ہے)۔
Ayah 67:17

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراوٴ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ 26 پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔ 27

سورة الْمُلْک 26 مراد یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اس زمین پر تمہارا بقا اور تمہاری سلامتی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔ اپنے بل بوتے پر تم یہاں مزے سے نہیں دندنا رہے ہو۔ تمہاری زندگی کا ایک ایک لمحہ جو یہاں گزر رہا ہے، اللہ کی حفاظت اور نگہبانی کا رہین منت ہے۔ ورنہ کسی وقت بھی اس کے ایک اشارے سے ایک زلزلہ ایسا آسکتا ہے کہ یہی زمین تمہارے لیے آغوش مادر کے بجائے قبر کا گڑھا بن جائے، یا ہوا کا ایسا طوفان آسکتا ہے جو تمہاری بستیوں کو غارت کر کے رکھ دے۔ سورة الْمُلْک 27 تبیہ سے مراد وہ تنبیہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک کے ذریعہ سے کفار مکہ کو کی جا رہی تھی کہ اگر کفر و شرک سے باز نہ آؤ گے اور اس دعوت توحید کو نہ مانو گے جو تمہیں دی جا رہی ہے تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Ayah 67:18

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

ن سے پہلے گُزرے ہوئے لوگ جُھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو میری گرفت کیسی تھی۔ 28

سورة الْمُلْک 28 اشارہ ہے ان قوموں کی طرف جو اپنے ہاں آنے والے انبیاء کو جھٹلا کر اس سے پہلے مبتلائے عذاب ہوچکی تھیں۔
Ayah 67:19

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اپنے اُوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمٰن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ 29 وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ 30

سورة الْمُلْک 29 یعنی ایک ایک پرندہ جو ہوا میں اڑ رہا ہے، خدائے رحمن کی حفاظت میں اڑ رہا ہے۔ اسی نے ہر پرندے کو وہ ساخت عطا فرمائی جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا۔ اسی نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا۔ اسی نے ہوا کو ان قوانین کا پابند کیا جن کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں کا اس میں اڑنا ممکن ہوا۔ اور وہی ہر اڑنے والے کو فضا میں تھامے ہوئے ہے، ورنہ جس وقت بھی اللہ اپنی حفاظت اس سے ہٹا لے وہ زمین پر آ رہے۔ سورة الْمُلْک 30 یعنی کچھ پرندوں ہی پر موقوف نہیں، جو چیز بھی دنیا میں موجود ہے اللہ کی نگہبانی کی بدولت موجود ہے وہی ہر شے کے لیے وہ اسباب فراہم کر رہا ہے جو اس کے وجود کے لیے درکار ہیں، اور وہی اس بات کی نگرانی کر رہا ہے کہ اس کی پیدا کردہ ہر مخلوق کو اس کی ضروریات بہم پہنچیں۔
Ayahs 67:20–21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بتاوٴ، آخر وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمٰن کے مقابلے میں تمہارے مدد کر سکتا ہے؟ 31 حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سر کشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں

سورة الْمُلْک 31 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " رحمان کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکر بنا ہوا تمہاری دستگیری کرتا ہو "۔ ہم نے متن میں جو ترجمہ کیا ہے وہ آگے کے فقرے سے مناسبت رکھتا ہے، اور اس دوسرے ترجمہ کی مناسبت پچھلے سلسلہ کلام سے ہے۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو 32 وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اُٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟

سورة الْمُلْک 32 یعنی جانوروں کی طرح منہ نیچا کیے ہوئے اسی ڈگر پر چلا جا رہا ہو جس پر کسی نے اسے ڈال دیا ہو۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سُننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ 33

سورة الْمُلْک 33 یعنی اللہ نے تو تمہیں انسان بنایا تھا، جانور نہیں بنایا تھا۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑو اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جا رہے ہو وہ صحیح بھی ہے یا نہیں۔ یہ کان تمہیں اس لیے تو نہیں دیے گئے تھے کہ جو شخص تمہیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرے اس کی بات سن کر نہ دو اور جو غلط سلط باتیں پہلے سے تمہارے دماغ میں بیٹھی ہوئی ہیں انہیں پر اڑے رہو۔ یہ آنکھیں تمہیں اس لیے تو نہیں دی گئی تھیں کہ اندھے بن کر دوسروں کی پیروی کرتے رہو اور خود اپنی بینائی سے کام لے کر یہ نہ دیکھو کہ زمین سے آسمان تک ہر طرف جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ آیا اس توحید کی شہادت دے رہی ہیں جسے خدا کا رسول پیش کر رہا ہے یا یہ شہادت دے رہی ہیں کہ سارا نظام کائنات بے خدا ہے یا بہت سے خدا اس کو چلا رہے ہیں۔ اسی طرح یہ دل و دماغ بھی تمہیں اس لیے نہیں دیے گئے تھے کہ تم سوچنے سمجھنے کا کام لے کر یہ سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہ کرو کہ وہ غلط ہے یہ صحیح۔ اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے دی تھیں۔ تم ناشکری کر رہے ہو کہ ان سے اور سارے کام تو لے لیتے ہو مگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی 72۔ 73۔ جلد سوم، المومنون، حواشی 75۔ 76۔ جلد چہارم، السجدہ، حواشی 17۔ 18۔ الاحقاف، حاشیہ 31)۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاوٴ گے۔ 34

سورة الْمُلْک 34 یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے ہر گوشہ زمین سے گھیر لائے جاؤ گے اور اس کے سامنے حاضر کردیے جاؤ گے۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

یہ کہتے ہیں”اگر تم سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟ 35

سورة الْمُلْک 35 یہ سوال اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں اس کی آمد کا سال، مہینہ، دن اور وقت بتادیا جائے تو وہ اسے مان لیں گے۔ بلکہ دراصل وہ اس کے آنے کو غیر ممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے اور یہ سوال اس غرض کے لیے کرتے تھے کہ اسے جھٹلانے کا ایک بہانہ ان کے ہاتھ آئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ حشر و نشر کا یہ عجیب و غریب افسانہ جو تم ہمیں سنا رہے ہو آخر کب ظہور میں آئے گا ؟ اسے کس وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہے ؟ ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر اسے دکھا کیوں نہیں دیتے کہ ہمیں اس کا یقین آجائے ؟ اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی شخص اگر قیامت کا قائل ہوسکتا ہے تو عقلی دلائل سے ہوسکتا ہے، اور قرآن مجید میں جگہ جگہ وہ دلائل تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں، رہی اس کی تاریخ، تو قیامت کی بحث میں اس کا سوال اٹھانا ایک جاہل آدمی ہی کا کام ہوسکتا ہے کہ جب وہ تمہاری بتائی ہوئی تاریخ پر آجائے گی تو مان لوں گا، آج آخر میں کیسے یقین کرلوں کہ وہ اس روز ضرور آجائے گی (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 63، الاحزاب، حاشیہ 116۔ سبا، حواشی 5۔ 48۔ یسین، حاشیہ 45)۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

کہو”اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“ 36

سورة الْمُلْک 36 یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبردار کردینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کرلے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ کس روز مرے گا۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، 37 اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے

سورة الْمُلْک 37 یعنی ان کا وہی حال ہوگا جو پھانسی کے تختہ کی طرف لے جائے جانے والے کسی مجرم کا ہوتا ہے۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟ 38

سورة الْمُلْک 38 مکہ معظمہ میں جب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا آغاز ہوا اور قریش کے مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا تو گھر گھر حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بد دعائیں دی جانے لگیں۔ جادو ٹونے کیے جانے لگے تاکہ آپ ہلاک ہوجائیں۔ حتی کے قتل کے منصوبے بھی سوچے جانے لگے۔ اس پر یہ فرمایا گیا کہ ان سے کہو، خواہ ہم ہلاک ہوں یا خدا کے فضل سے زندہ رہیں، اس سے تمہیں کیا حاصل ہوگا ؟ تم اپنی فکر کرو کہ خدا کے عذاب سے تم کیسے بچو گے۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، 39 عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے

سورة الْمُلْک 39 یعنی ہم خدا پر ایمان لائے ہیں اور تم اس سے انکار کر رہے ہو، ہمارا بھروسا خدا پر ہے اور تمہارا اپنے جتھوں اور اپنے وسائل اور اپنے معبودان غیر اللہ پر۔ اس لیے خدا کی رحمت کے مستحق ہم ہو سکتے ہیں نہ کہ تم۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

اِن سےکہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنووٴں کا پانی زمین میں اُتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا؟ 40

سورة الْمُلْک 40 یعنی کیا خدا کے سوا کسی میں یہ طاقت ہے کہ ان سوتوں کو پھر سے جاری کر دے ؟ اگر نہیں ہے، اور تم جانتے ہو کہ نہیں ہے، تو پھر عبادت کا مستحق خدا ہے، یا تمہارے وہ معبود جو انہیں کاری کرنے کی کوئی قدرت نہیں رکھتے ؟ اس کے بعد تم خود اپنے ضمیر سے پوچھو کہ گمراہ خدائے واحد کو ماننے والے ہیں یا وہ جو شرک کر رہے ہیں ؟