72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsبیان القرآن

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

آپ (ان لوگوں سے) کہئیے کہ میرے پاس اس بات کی وحی آئی ہے کہ جنّات میں سے ایک جماعت نے قرآن سنا پھر (اپنی قوم میں واپس جاکر) انہوں نے کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو راہ راست بتلاتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان (ف 1) لے آئے اور ہم (اب) اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائینگے۔

ف 1۔ قرآن ہونا تو اس کے مضمون سے معلوم ہوا اور عجیب ہونا اس سے کہ مشابہ کلام بشر کے نہیں۔
Ayahs 72:3–4

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور (انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ) ہمارے پروردگار کی بڑی شان ہے اس نے نہ کسی کو بیوی بنایا اور نہ اولاد۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور ہم میں جو احمق ہوئے ہیں وہ اللہ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی بات کہتے تھے۔ (ف 2)

ف 2۔ مراد اس سے کلمات شرک اتخاذ صاحبہ و ولد وغیرہ ہیں۔
Ayahs 72:5–8

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا (پہلے) یہ خیال تھا کہ انسان اور جنّات کبھی خدا کی شان میں جھوٹ بات نہ کہیں گے۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور بہت سے لوگ آدمیوں میں ایسے تھے کہ وہ جنات میں سے بعضے لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے سو ان آدمیوں نے ان جنات کی بد دماغی اور بڑھادی۔

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور جیسا تم نے خیال کر رکھا تھا ویسا ہی ان آدمیوں نے خیال کر رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان (کی خبروں) کی تلاشی (موافق عادت سابقہ کے) لینا چاہا سو ہم نے اس کو سخت پہروں (یعنی محافظ فرشتوں) اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی اب پہرہ ہوگیا ہے کہ کوئی جن آسمانی خبر نہ لے جانے پائے، اور جو جاوے شہاب ثاقب سے مارا جاوے۔
Ayah 72:9

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

(اور اس کے قبل) ہم آسمان (کی خبریں سننے) کے موقعوں میں (خبر) سننے کے لئے جابیٹھا کرتے تھے سو جو کوئی اب سننا چاہتا ہے تو اپنے لئے ایک تیار شعلہ پاتا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ بعثت محمدیہ سے پہلے شیاطین آسمان تک پہنچ کر فرشتوں کی باتیں سننتے تھے بعد بعثت کے ان کو رمی بالشہب سے روک دیا گیا، اور اس حادثہ کی تحقیق کے ضمن میں یہ جنات آپ تک پہنچے۔ یہ مضمون رسالت کے متعلق ہوا، مطلب یہ کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے رسالت دی ہے اور دفع التباس کے لئے باب کہانت بند کردیا ہے، اور اس استراق کا بند ہونا ہی سبب ہوا ان جنات کے پہنچنے کا آپ کی خدمت میں۔
Ayahs 72:10–12

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور ہم نہیں جانتے کہ (ان جدید پیغمبر (علیہ السلام) کے مبعوث فرمانے سے) زمین والوں کو کوئی تکلیف پہنچانا مقصود ہے یا ان کے رب نے ان کو ہدایت کرنے کا قصد فرمایا ہے۔

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور ہم میں (پہلے سے بھی) بعضے نیک (ہوتے آئے) ہیں اور بعضے اور طرح کے (ہوتے آئے) ہیں ہم مختلف طریقون پر تھے۔

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور (ہمارا طریقہ تو یہ ہے کہ) ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم زمین (کے کسی حصہ) میں (جاکر) اللہ تعالیٰ کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو ہراسکتے ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ ھرب سے مراد ھرب فی غیر الارض ہے بقرینہ مقابلہ فی الارض کے۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور ہم نے جب ہدایت کی بات سن لی تو ہم نے تو اس کا یقین کرلیا سو جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آوے گا تو اسکو نہ کسی کمی کا اندیشہ ہوگا اور نہ زیادتی کا۔ (ف 6)

ف 6۔ کمی یہ کہ اس کی کوئی نیکی لکھنے سے رہ جاوے، اور زیادتی یہ کہ کوئی گناہ زیادہ لکھ لیا جاوے۔
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور ہم میں بعضے تو مسلمان (ہوگئے) ہیں اور بعضے ہم میں (بدستور سابق) بےراہ ہیں سو جو شخص مسلمان ہوگیا انہوں نے تو بھلائی کا رستہ ڈھونڈ لیا۔

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےراہ ہیں دوزخ کے ایندھن ہیں۔ (ف 7)

ف 7۔ یہاں تک کلام جنات کا ختم ہوگیا۔
Ayahs 72:16–17

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (مجھکو ان مضامین کی بھی وحی ہوئی ہے کہ) اگر یہ ( مکہ والے) لوگ (سیدھے) رستہ پر قائم ہوجاتے تو ہم ان کو فراغت کے پانی سے سیراب کرتے۔

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس میں ان کا امتحان کریں (ف 8) اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد (یعنی ایمان وطاعت) سے روگردانی کرے گا اللہ اسکو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔

ف 8۔ اہل مکہ پر آپ کی بد دعا سے قحط ہوا تھا اور کئی سال تک رہا۔
Ayahs 72:18–20

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور جتنے سجدے ہیں وہ سب اللہ کا حق ہیں سو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت مت کرو۔

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب خدا کا (خاص) بندہ خدا کی عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو یہ (کافر) لوگ اس بندہ پر بھیڑ لگانے کو کھڑے ہوجاتے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

آپ یہ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ کوئی سجدہ اللہ کو کیا جاوے اور کوئی سجدہ غیر اللہ کو جیسا مشرکین کرتے تھے۔
Ayahs 72:21–22

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

آپ کہیئے کہ میں تمہارے نہ کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔ (ف 2)

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ (اگر خدانخواستہ میں ایسا کروں تو) مجھ کو خدا (کے غضب) سے کوئی نہیں بچاسکتا اور نہ میں اسکے سوا کوئی پناہ (کی جگہ) پاسکتا ہوں۔ (ف 3)

ف 3۔ مطلب یہ کہ نہ خود کوئی میرا بچانے والا ہوگا اور نہ میری تلاش سے مل سکے گا۔
Ayahs 72:23–24

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

لیکن خدا کی طرف سے پہنچانا اور اسکے پیغاموں کا ادا کرنا (یہ میرا کام ہے) اور جو لوگ اللہ اور اسکے رسول (علیہ السلام) کا کہنا نہیں مانتا تو یقیناً ان لوگوں کے لئے آتش دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس وقت جانیں گے کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کی جماعت کم ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی کافر ہی ایسے ہوں گے جن کے کوئی کام نہ آوے گا۔
Ayahs 72:25–28

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

آپ کہئے کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ نزدیک ہے یا میرے پروردگار نے اسکے لئے کوئی مدت دراز مقرر کر رکھی ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب کا جاننے والا (وہی) ہے سو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

ہاں مگر اپنے کسی برگزیدہ پیغمبر کو تو (اس طرح اطلاع دیتا ہے کہ) اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتے بھیجدیتا ہے۔

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

(اور یہ انتظام اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ ظاہری طور پر) اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ان (فرشتوں) نے اپنے پروردگار کے پیغام (رسول تک بحفاظت) پہنچائے اور اللہ تعالیٰ ان (پہرہ داروں) کے تمام احوال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اسکو ہر چیز کی گنتی معلوم ہے۔ (ف 5)

ف 5۔ حاصل مقام یہ کہ علم ساعت علوم نبوت سے نہیں ہے، اس لئے اس کا علم نہ ہونا قادح نبوت یا مستلزم عدم وقوع ساعت نہیں ہے، البتہ علوم نبوت عطا کئے جاتے ہیں اور وہی مقصود بعثت سے ہیں اور ان میں احتمال خطا کا نہیں ہوتا، تو ایسے علوم سے تم مستفید ہو اور زوائد کی تحقیق چھوڑو۔