73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsبیان القرآن

Ayahs 73:1–9

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کپڑوں میں (ف 6) لپٹنے والے۔

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو (نماز میں) کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات۔

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

(یعنی) نصف رات (کہ اس میں قیام نہ کرو بلکہ آرام کرو) یا اس (نصف) سے کسی قدر کم کردو۔

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس (نصف) سے کچھ بڑھادو اور قرآن کو خوب صاف صاف پڑھو (کہ ایک ایک حرف الگ الگ ہو) ۔

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم تم پر ایک بھاری کلام ڈالنے کو ہیں (مراد قرآن ہے ) ۔

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کے اٹھنے میں دل اور زبان کا خوب میل ہوتا ہے اور بات خوب ٹھیک نکلتی ہے۔

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بیشک تم کو دن میں بہت کام رہتا ہے (دنیوی بھی دینی بھی ) ۔

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو اور سب سے قطع کرکے اسی کی طرف متوجہ رہو۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہ مشرق ومغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں تو اسی کو اپنے کام سپرد کردینے کے لئے قرار دئے رہو۔

ف 6۔ وجہ اس عنوان سے خطاب کرنے کی یہ ہے کہ ابتدائے نبوت میں قریش نے دار الندوہ میں جمع ہو کر آپ کے بارے میں مشورہ کیا کہ آپ کی حالت کے مناسب کوئی لقب تجویز کرنا چاہئے کہ اس پر سب متفق رہیں، کسی نے کہا کہ کاہن ہیں، پھر ائے قرار پائی کہ کاہن نہیں ہیں، کسی نے مجنون کہا، پھر اس کو بھی سب نے غلط قرار دیا، پھر ساحر کہا، پھر بعض نے اس کو بھی رد کیا، لیکن پھر کہنے لگے کہ ساحر اس لئے ہیں کہ حبیب کو حبیب سے جدا کردیتے ہیں، آپ کو یہ خبر پہنچ کر رنج ہوا اور رنج کی حالت میں کپڑوں میں لپٹ گئے جیسا اکثر سوچ اور غم میں مغموم آدمی اس طرح کرلیتا ہے۔ پس تانیس و ملاطفت کے لئے اس عنوان سے خطاب فرمایا کہ صفت موجودہ سے اشتقاق کرنا اسم کا عادة موجب ملاطفت ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی ؓ کو ابو تراب فرمایا تھا، غرض آپ کو خطاب ہے کہ ان باتوں کا رنج نہ کرو بلکہ حق تعالیٰ کی طرف دوام و زیادت کے ساتھ توجہ رکھو۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہوجاؤ۔ (ف 1)

ف 1۔ الگ ہونا یہ کہ کوئی تعلق نہ رکھو، اور خوبصورتی سے یہ کہ ان کی شکایت و انتقام کی فکر میں نہ پڑو۔
Ayahs 73:11–16

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھ کو اور ان جھٹلانے والوں ناز ونعمت میں رہنے والوں کو (حالت موجودہ پر) چھوڑ دو (یعنی رہنے دو ) اور ان لوگوں کو تھوڑے دنوں اور مہلت دے دو ۔ (ف 2)

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے یہاں بیڑیاں ہیں اور دوزخ ہے۔

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب ہے۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس روز کہ زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ (ریزہ ریزہ ہوکر) ریگ رواں کے ٹیلے ہوجاوینگے۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بیشک ہم نے تمہارے پاس ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تم پر (قیامت کے روز) گواہی دینگے جیسا ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا۔

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر فرعون نے اس رسول کا کہنانہ مانا تو ہم نے اسکو سخت پکڑنا پکڑا۔

ف 2۔ یہ کنایہ ہے صبر و انتظار سے یعنی چندے اور صبر کرلیجئے، عنقریب ان کو سزا ہونے والی ہے۔
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

سو اگر تم (بھی بعد پہنچنے رسول کے نافرمانی اور) کفر کروگے تو اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردے گا۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی شدت اور درازی کی وجہ سے۔
Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

جس میں آسمان پھٹ جائے گا (بےشک) اس کا وعدہ (ضرور) ہو کر رہے گا۔ (ف 4)

ف 4۔ پس یہ بھی احتمال نہیں ہے کہ وہ وقت ٹل جاوے۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

(یہ تمام مضمون) ایک (بلیغ) نصیحت ہے سو جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کی طرف رستہ اختیار کرے۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی اس تک پہنچنے کے لئے دین کا رستہ قبول کرے۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

آپ کے رب کو معلوم ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ والوں میں سے بعضے آدمی (کبھی) دوتہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں اور رات اور دن کا پورا اندازہ اللہ ہی کرسکتا ہے اس کو معلوم ہے کہ تم اس (تقدیر وقت) کو ضبط نہیں کرسکتے تو اس نے تمارے حال پر عنایت کی سو (اب) تم لوگ جتنا قرآن آسانی سے پڑھاجاسکے پڑھ لیا کرو (ف 6) اس کو معلوم ہے کہ بعضے آدمی تم میں بیمار ہونگے اور بعضے تلاش (علیہ السلام) معاش کے لئے ملک میں سفر کریں گے اور بعضے اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے (اس لئے بھی اس حکم کو منسوخ کردیا) سو (اس لئے بھی تم کو اجازت ہے کہ اب) تم لوگ جتنا اس (قرآن) میں سے آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو اور نماز (فرض) کی پابندی رکھو اور زکوٰة دیتے رہو اور اللہ کو اچھی طرح (یعنی اخلاص سے) قرض دو اور جو نیک عمل اپنے لئے آگے (ذخیرہٴ آخرت بناکر) بھیجدوگے اسکو اللہ کے پاس (پہنچ کر اس سے) اچھا اور ثواب میں بڑا پاؤگے (ف 1) ۔ اور اللہ سے گناہ معاف کراتے رہو بیشک اللہ غفوررحیم ہے۔

ف 6۔ مراد اس قرآن پڑھنے سے تہجد پڑھنا ہے کہ اس میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور یہ امر ندب کے لئے ہے، مطلب یہ کہ تہجد کی فرضیت منسوخ ہوگئی، اب جس قدر وقت تک آسان ہو بطور ندب کے اگر چاہو پڑھ لیا کرو۔ 1۔ یعنی دنیوی اغراض میں خر کرنے سے جو عوض اور نفع مرتب ہوتا ہے اس سے بہتر اور اعظم نفقات خیر پر ملے گا۔