72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 72:1–15

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) لوگوں سے کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے اس کتاب کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے رب کی عظمت، شان بہت بڑی ہے وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد۔

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف اللہ کے بارے میں جھوٹ افترا کرتے ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن اللہ کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے اس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی۔

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ اللہ کسی کو نہیں جلائے گا۔

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات پر خبریں سننے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے۔

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے رب نے ان کے لئے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں خواہ کہیـں ہوں اللہ کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور جب ہم نے ہدایت کی کتاب سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے رب پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے، نہ ظلم کا

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض نافرمان گناہ گار ہیں تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

جنوں پر تلاوت قرآن کا اثر تشریح : جیسا کہ قرآن پاک کی عظمت کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے۔ قرآن پاک میں کوئی زیر زبر پیش، حرف، لفظ آیت اور سورت ایسی نہیں کہ جو کسی خاص مقصد خاص پیغام یا موضوع سے خالی ہو۔ اس کا ہر ہر حرف حکمت و ہدایت کا منبع ہے۔ اسی طرح سورت جن کا سب سے بڑا مقصد بھی اس بہترین کتاب ہدایت، بہترین ادبی کتاب ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ کیونکہ جنوں کے جس گروہ نے قرآن نبی پاک ﷺ کی زبان سے سنا وہ اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً ایمان لے آیا اور پھر اپنی جنوں کی جماعت میں جاکر اس کی تبلیغ بھی کی۔ اور انہوں نے بہترین الفاظ میں اسلام اور کتاب آخر کی تعریف کی۔ جس کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب مقدس ایک بہترین آئین زندگی اور دستور حیات ہے یہ ایک نور ہے جس کی روشنی میں ارض و سموات کے تمام ظاہر اور پوشیدہ راز کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور قرآن پاک کا انداز بیان اتنا خوبصورت اور پر اثر ہے کہ گویا غور سے سنو تو کفر و شرک کی ظلمت خود بخود دور ہوجائے نیکی اور ہدایت کا راستہ واضح ہوجائے۔ حق و باطل کا فرق عیاں ہوجائے اور معبود حقیقی اپنی پوری عظمت وکبریائی کے ساتھ انسان کے سامنے آموجود ہو۔ کونسا ایسا علم ہے جو اس میں بیان نہیں کیا گیا اور کون سی ایسی چیز ہے، حکمت ہے جو اس میں موجود نہیں۔ سیدناسفیان بن عینیہ ؓ کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا لفظ یا تو تلاوت سے یا جمعیت سے مشتق (نکلا) ہے۔ اسی طرح مشہور لغوی ابوالحسن علی بن حازم الحیافی کا قول ہے۔ کہ قرآن قراء سے مشق ہے، اس کے معنی پڑھنے اور تلاوت کرنے کے ہیں۔ یہ کتاب ہر وقت پڑھنی چاہیے تاکہ دل کو سکون اور آنکھوں کو علم و عرفان کی روشنی ملتی رہے۔ قرآن پاک نے انسان کو اس کی حقیقت اور زندگی کا مقصد سمجھایا ہے۔ اس کو حق و ناحق دکھا کر ارادہ کی اجازت اور قدرت عطا کردی تاکہ آخرت کے لیے سامان کرسکے یہ کتاب حکمت اللہ ذوالجلال علیم و حکیم، رب العٰلمین، سمیع وبصیر کی طرف سے وحی کے ذریعہ انسان کامل جناب رسول اللہ ﷺ پر لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی گئی۔ یہ اتنی بہترین کتاب ہے کہ جب ایک گروہ جنات نے جو کہ غیر مسلم تھے سنی تو فورا ایمان لے آئے۔ اب ذرا جنات کی بات ہوجائے یہ انسان کی طرح مخلوق خدا ہے۔ کیونکہ یہ بھی اختیار و ارادہ کی آزادی رکھتے ہیں۔ یہ بھی مختلف عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر ان میں نہ رسول آئے نہ کتاب دی گئی۔ بلکہ وہ انسانی مذاہب کو مان لیتے ہیں۔ فرشتے عالم باطن کی مخلوق ہیں جب کہ جن اور انسان عالم ظاہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنات عالم باطن میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں کیونکہ ان کی قوت پرواز اور قوت بصیرت انسان سے کئی درجے زیادہ ہے۔ اچھے اور نیک لوگوں کی مدد اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کرتا ہے اور بد فطرت انسان کیونکہ شیطان سے دوستی رکھتے ہیں تو شیطان ان کو پوشیدہ رازوں سے باخبر کرتا ہے تاکہ وہ بڑی کامیابی سے برے اور غلط کام انجام دے کر بد امنی اور ظلم و فساد پھیلائیں یہ جن شیاطین اپنے بد کردار انسانوں کو طرح طرح سے سبق سکھاتے رہتے ہیں کبھی ظاہر ہو کر اور کبھی غیبی شکل میں اور وہ ان کی مدد سے بھولے بھالے لوگوں کو الٹے سیدھے کرتب دکھا کر گمراہیوں کی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ اس لیے قرآن پاک میں آیا ہے کہ اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ لیتے تھے، جس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی ( سورة جن :6) انسان کی فضیلت جنوں پر پکی اور سچی بات ہے۔ کیونکہ شیطان جن صرف ان انسانوں پر ہی غلبہ حاصل کرسکتے ہیں جو کمزور علم و ارادے کے مالک ہوتے ہیں۔ نیک، متقی اور مضبوط علم و ارادہ اور یقین رکھنے والے انسانوں سے تو جن خود بھی ڈرتے ہیں۔ مسلم جن مسلم انسان کی مدد بھی کرتے ہیں آیات 8 تا 10 کی وضاحت ہم اس حدیث شریف سے کرتے ہیں حضور ﷺ فرماتے ہیں ” اللہ کی جانب سے جو حکم ہوتا ہے ایک آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان کے فرشتوں کو وہ حکم بتا دیتے ہیں۔ اس وقت شیطان اس خبر کو خفیہ طور پر سن کرلے بھاگتے ہیں اور اپنے دوست کاہنوں سے جا کر کہہ دیتے ہـیں اور اس میں سو جھوٹ اور ملا دیتے ہیں۔ (بخاری) بہرحال قرآن پاک کے ذریعہ جنوں کی یہ بات بتائی گئی ہے کہ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انسانوں کی طرح وہ بھی نیک اور بد فطرت رکھتے ہیں مگر قرآن پاک کا سن لینا ان کے لیے واقعی ہدایت کا باعث بنا اور انہوں نے اللہ کی عظمت وقدرت کا اعتراف کرتے ہوئے یوں کہا جو شخص اپنے رب پر ایمان لے آتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا۔ تو جو فرمانبردار بنے وہ سیدھے رستے پر چلے اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ (آیات 15-14-13) تو ظاہر ہوا کہ مشرک انسان اور مشرک جن سب ہی دوزح میں ڈالے جائـیں گے اور جو نیک انسان اور جن ہوں گے ان کو انعامات ملیں گے۔ تو شیطان سے ہر وقت اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو، بلاشبہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے (حم السجدہ :36) اس طرح حدیث میں آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے۔ (بخاری، مسلم) اسلام، قرآن، خالق کائنات اور سیدنامحمد ﷺ یہ سب اپنی اپنی جگہ بہترین صدق و سچائی کا نمونہ ہیں۔ مولانا وحید الدین صاحب بڑے خوبصورت انداز میں لکھتے ہیں ملاحظہ ہو۔ انگریز مصنف ٹامس کا رلائل پہلا قابل ذکر مذہبی شخص تھا جس نے 1840؁ء میں بتا کید عوامی طور پر کہا کہ محمد ﷺ یقینا سنجیدہ تھے کیونکہ یہ فرض کرنا بالکل مضحکہ خیز ہے کہ ایک فریبی (نعوذ باللہ ) آدمی ایک عظیم مذہب کا بانی ہوسکتا ہے۔ اس نے مغربی پروپیگنڈے کی تردید میں مثال دی۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح انسان اپنے کردار سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص پیغمبر اسلام ﷺ کا کلام پڑھے جو دیکھے کہ روز شب آپ ﷺ کن سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ کے اثر سے کس قسم کی تحریک برپا ہوئی، وہ ہرگز یقین نہیں کرسکتا کہ یہ سب نعوذ باللہ ایک فریبی انسان کا کارنامہ ہے۔ ایک شخص جس کے کلام میں تعمیر انسانیت کی باتیں ہوں، جس کا لہجہ درد و سوز سے بھرا ہوا ہو، جس کے مشن سے لوگوں کی زندگیوں میں صالح انقلاب آرہا ہو، وہ کبھی فریبی انسان نہیں ہوسکتا، فریبی انسان ایک فریبی تحریک اٹھا سکتا ہے نہ کہ ایک صالح ربانی تحریک۔ (دین انسانیت :312) یہاں جو بیان کیا گیا ہے وہ تو جنوں کے بارے میں بیان ہوا کہ وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ایمان لے آئے صرف رسول اللہ ﷺ کی زبانی تلاوت کلام سن کر۔ تو اس کی تاثیر انسان تو انسان جن بھی لیے بغیر نہ رہ سکے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے صالح متقی لوگوں میں شامل کرلے تاکہ بخش دئیے جائیں۔ آمین
Ayahs 72:16–28

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

(اور اے پیغمبر ﷺ ! یہ بھی ان سے کہہ دو ) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تا کہ اس سے ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں خاص اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب اللہ کے بندے ( محمد ﷺ اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نفع اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

یہ بھی کہہ دو کہ اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی بچا نہیں سکتا اور میں اس کے سوا کہیں پناہ کی جگہ نہیں دیکھتا

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

ہاں اللہ کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا ہی میرے ذمہ ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ دن دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہے

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ عنقریب آنے والا ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہی غیب کی بات جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس کو غیب کی باتیں بتا دیتا ہے اس کے آگے اور اس کے پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تا کہ معلوم کرے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دئیے ہیں۔ اور یوں تو اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

نبی کے لیے اللہ کا حکم تشریح : پچھلی آیات میں جنوں کے بارے میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے اب ان آیات میں انسان اور جن سب کو ایک نبی کریم ﷺ کے ذریعہ ایک مکمل دستور حیات دیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی پیغمبر کی حیثیت اور فرائض بھی واضح کر دئیے گئے ہیں کیونکہ پچھلی قوموں نے پیغمبروں کو یا تو قتل کردیا اور یا پھر ان کو اسقدر زیادہ اہمیت دے دی کہ کسی نے ان کو پوجنا شروع کردیا کسی نے اس کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ غرض رسول کی حیثیت صرف یہ ہے کہ بہترین اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرے اور اللہ کی بیان کردہ وضع کردہ اس اصول حیات کو لوگوں کے سامنے پیش کر دے جو اللہ نے اس کو بتائے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ نہ تو رسول ﷺ غیب کا علم رکھتا ہے نہ کسی کو سزا یا جزا دینے پر قدرت رکھتا ہے اور نہ ہی کسی کی موت وحیات پر اختیار رکھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دو اللہ نے جو تمہیں پیدا کیا ہے زندگی دی ہے زندگی کی تمام نعمتیں دی ہیں یہ سب کھیل تماشہ نہیں بلکہ یہ امتحان کا ایک پرچہ ہے جو تم لکھ کر حل کررہے ہو تو اس پرچہ کو حل کرتے ہوئے اگر ان ہدایات کو یاد رکھو گے تو ضرور کامیاب ہو جاؤگے۔ ہدایات یہ ہیں۔ 1 ۔ اللہ کو ایک مانو۔ 2 ۔ مسجدوں میں صرف رکوع و سجود اور تسبیح و تقدیس کرو یعنی آداب مسجد ملحوظ رکھیں اور وہاں غیر اللہ کی پکار نہ لگائو۔ 3 ۔ رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔ 4 ۔ صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھو۔ 5 ۔ اپنی زندگی میں ظلم و ناانصافی کرنے سے بچو۔ 6 ۔ تقویٰ کی زندگی اختیار کرو۔ 7 ۔ کسی بھی مشکل میں اللہ کی مدد طلب کرو۔ 8 ۔ ہر آسائش اور راحت میں اللہ سے غافل نہ ہو بلکہ اس کا شکر ادا کرتے رہو۔ 9 ۔ آخرت پر یقین رکھے اور یہ بھی کہ اس دن کا علم سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ 10 ۔ صرف اللہ ہی عالم الغیب ہے۔ 11 ۔ اس کے علم سے کوئی چیز کوئی مخلوق پوشیدہ نہیں وہ ہر چیز کا مکمل حساب کتاب رکھے ہوئے ہے۔ جب ہم ان تمام قوانین کو غور سے دیکھتے ہیں اور عمل کرتے ہیں تو یقینا ہم بیشمار تکلیفوں زحمتوں خباثتوں ناکامیوں اور پریشانیوں سے بالکل محفوظ ہوجاتے ہیں۔ وہ یوں کہ ہم صرف سیدھی راہ نیک راہ پر کوشش اور محنت کرتے ہیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے جو بھی کرے گا ہمارے حق میں بہترین ہوگا آزمائش میں اور راحت ہر دونوں صورتوں میں اللہ کا شکر ادا کرنا ہی ہمارے سکون کا باعث ہوسکتا ہے۔ اپنے اوپر اعتماد پیدا ہوجاتا ہے اور یہ یقین ہے کہ اس راہ پر چلیں گے تو سیدھے جنت میں پہنچیں گے کیونکہ اس کا وعدہ اس عظیم و کبیر نے کیا ہے جو الہ العٰلمین ہے اور ہمارا خالق و مددگار ہے۔ اور اگر یہ سب نہ مانیں گے تو ہر وقت مال و دولت کی حفاظت ان دیکھے خدشات اور موت کی پریشانی ہماری زندگی کو ایک مستقل جہنم بنا دے گی اور پھر آخر میں جو جہنم کی سزا ملے گی وہ علیحدہ ہے۔ اب یہ سوچ لینا ہمارے اختیار میں ہے کہ کونسا رستہ ٹھیک اور کون سا غلط ہے اللہ ہمیں ٹھیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور شیطان کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمین۔ خلاصہ سورة الجن سورت الجن ایک انوکھا موضوع لیے ہوئے ہے۔ جو کہ بالآخر توحید و رسالت اور آخرت پر یقین لانے کی طرف ہی انسان کو لے کرجاتا ہے۔ اس سورت میں ہمارے انسانوں کے ساتھ ایک ایسی مخلوق کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ ہماری برابری رکھتی ہے مگر بہت سی باتوں میں وہ ہم سے بالکل علیحدہ حیثیت رکھتی ہے۔ مثلاً بناوٹ اور طاقت میں وہ ہم سے بالکل مختلف ہے۔ کیونکہ ہم انسان مٹی سے بنے ہیں جب کہ وہ آگ سے بنے ہیں۔ اسی لحاظ سے وہ ہم سے طاقت میں زیادہ مگر درجہ میں یعنی فضیلت میں کم تر ہیں۔ وہ ہم سے زیادہ تیز رفتار اور زیادہ تیز بصارت رکھتے ہیں۔ اسی لیے اپنی اس فطری بناوٹ کی وجہ سے وہ ہماری بصارت کے احاطہ میں نہیں آتے جب کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات ان میں اور ہم میں مشترک ہے یعنی علم و ارادہ کی آزادی اور نیکی و بدی میں تمیز کر کے جنت و دوزخ کا حاصل کرنا۔ اس میں ہم برابر ہیں۔ جب ہم غور کرتے ہیں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ شرک بہت بڑا گناہ ہے بلکہ ہماری پوری دنیوی زندگی اور اخروی زندگی کا دارومدار ہی شرک اور توحید کے مسئلے پر ہے تو پھر ہم شرک کو چھوڑ کر توحید کی طرف کیوں نہیں دوڑ پڑتے ؟ تو اس کی چند وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ ایک تو آبا و اجداد کی روش ہے جس کو چھوڑ دینا خاصہ مشکل کام ہے۔ جیسا کہ سورة الزخرف میں بتایا گیا ہے کہ ہر زمانے کے ہر نبی کو اپنی قوم کی طرف سے ہمیشہ یہی جواب ملا کہ ہم تو اپنے باپ داد کے ہی راستے پر چلیں گے۔ دوسری وجہ تعصب ہے۔ یہودی آپ ﷺ کی آمد سے اچھی طرح واقف تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ آخری نبی ﷺ بجائے بنی اسحاق کے بنی اسماعیل میں سے پیدا ہوا تو مارے تعصب کے وہ آپ ﷺ کو ماننے سے انکاری ہوئے جیسا کہ سیدناصفیہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے والد اور چچا بہت بڑے یہودی عالم تھے مگر آپ ﷺ کو ملنے کے بعد انہوں نے یوں گفتگو کی۔ چچا : کیا واقعی یہ وہی نبی ہیں جن کی خبر ہماری کتابوں میں دی گئی ہے ؟ والد : اللہ کی قسم ہاں ! چچا کیا تمہیں اس کا یقین ہے ؟ والد ! ہاں۔ چچا : پھر کیا ارادہ ہے ؟ والد : جب تک جان میں جان ہے۔ اس کی مخالفت کروں گا۔ اور اس کی بات چلنے نہ دوں گا۔ (ابن ہشام) تیسری وجہ جو بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ وہ ہے غرور اور تکبر۔ القرآن ! اور پھر ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا (سورۃ بقرہ :34) چوتھی اور سب سے بڑی وجہ ہے ابلیس کی دشمنی انسان کے ساتھ۔ شیطان نے اللہ سے مہلت مانگی اور کہا۔ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں پوری نسل انسانی کی بیخ کنی کر ڈالوں گا بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے۔ تو جو لوگ شیطان کی دوستی سے خود کو بچا لیتے ہیں اور اللہ اور اس کے ﷺ کے فرمانبردار بن کر تقویٰ کی زندگی گزارتے ہیں وہی فلاح دارین حاصل کریں گے۔ یہی حکم جنات کے لیے بھی ہے۔ جو شیطان کی پیروی کریں گے وہ اپنے دوست شیطان کے ساتھ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ نبی تو نے بھیجا ہے رہبر بنا کر نبی سے کوئی بڑھ کے رہبر نہیں ہے بچایا ہے تو نے بھٹکنے سے ہم کو ہمیں گمراہی کا ذرا ڈر نہیں ہے نہ ہوں جس میں تیری تمنائیں رقصاں وہ دل دل نہیں ہے وہ سر سر نہیں ہے محمد منظور الحق ڈار بفضل تعالیٰ سورة الجن مکمل ہوگئی ہے۔ الحمد للہ