71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 71:1–14

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ بیشتر اس کے کہ ان پر درد دینے والا عذاب نازل ہو اپنی قوم کو ہدایت کر دو

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیو ! میں تمہیں کھلے طور پر نصیحت کرتا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور موت کے مقررہ وقت تک تم کو مہلت دے گا جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ اے رب میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

لیکن میرے بلانے سے وہ اور زیادہ گریز کرتے رہے۔

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

جب میں نے ان کو بلایا کہ توبہ کرو اور تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لیے اڑ گئے اور بڑا غرور کیا

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا۔

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے مینہ برسائے گا

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لیے نہریں بہا دے گا

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح کی حالتوں میں پیدا کیا ہے۔

سیدنانوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مقصد تشریح :۔ جیسا کہ کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک جتنے بھی نبی انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے سب نے توحید ہی کی تعلیم دی کیونکہ توحید ہی ایسا عقیدہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے شر و فساد اور شیطان کے قبضہ سے نکال کر امن و سکون اور اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ معمول کے مطابق توحید کی تعلیمات آہستہ آہستہ مٹتی گئیں اور بت پرستی بڑھتی گئی تب اللہ تعالیٰ نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو ہدایت دینے کے لیے نبی بنا کر انکی قوم کی طرف بھیجا۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تین باتوں کی تعلیم دی۔ پہلی اللہ کی بندگی دوسری تقویٰ اور تیسری رسول کی اطاعت۔ اور پھر خوب اچھی طرح بتا دیا کہ جو ہوچکا اس کے لیے اس زندگی میں معافی مانگ لو کیونکہ مرنے کے بعد یا قیامت کے وقت توبہ اور معافی کی گنجائش ختم ہوجائے گی۔ مگر وہ قوم جو مدتوں سے کفر وشکر میں ڈوب کر غیر انسانی زندگیاں گزار رہی تھی وہ بھلا نبی کی بات کو کیا اہمیت دیتی۔ سیدنانوح (علیہ السلام) نے ان کو ظاہر، پوشیدہ اور ہر قسم کے دلائل دے کر ہدایت پر چلنے کی تلقین کی پورے خلوص، محبت محنت اور جانفشانی سے دن رات ایک طویل عرصہ تک ان کو ایمان اور توحید کی طرف موڑنے کی کوشش کی مگر ان لوگوں پر ایک ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا اور نہ ہی وہ اپنی حرکتوں سے باز آئے۔ پھر انکو اللہ کی بیشمار نعمتوں کا لالچ دیا اور ان کی حیات کے معجزانہ انداز کے بارے میں بتایا کہ کس طرح تمہارا وجود اس دنیا میں آنے کے لیے تیار کیا گیا اور پھر کس خوش اسلوبی سے تم دنیا مـیں آتے ہو اور عمر کے مختلف مراحل طے کرتے ہو تو اس تمام کاریگری سے تم کو اپنے کاریگر کو پہچان لینا چاہیے اور پھر تمہیں یہ یقین کرنے میں بھی کوئی دقت نہ ہوگی کہ یہ کمال تو صرف خدائے واحد کا ہی ہوسکتا ہے اور کوئی یہ کمال نہیں دکھا سکتا۔ مگر قوم نوح نے تو گویا قسم کھا رکھی تھی ایمان نہ لانے کی، پھر ان کو کائناتی کمالات کی طرف توجہ دلائی۔
Ayahs 71:15–28

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا آپ نے نہـیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں زمین کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھہرایا ہے

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دے گا اور اسی سے تم کو نکال کھڑا کرے گا

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ رستوں پر چلو پھرو

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

) (اس کے بعد) نوح (علیہ السلام) نے عرض کی کہ میرے رب ! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ودّ ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا۔

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

پروردگار انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا تو تو ان کو اور گمراہ کر دے

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

آخر وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرق کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے اللہ کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور پھر نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا کی کہ میرے رب کسی کافر کو روئے زمین پر بستانہ رہنے دے

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو ان کو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے رب مجھے اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا

اللہ کی نعمتیں تشریح : کائنات کی ترتیب اس کا نظام سب کا سب حیرت انگیز پر آسائش اور ناقابل فہم ہے۔ گو کہ سائنس دان تحقیق و جستجو میں لگے رہتے ہیں اور جو قرآنی آیات کی روشنی میں تحقیق کرتے ہیں وہی مسلم سائنس دان زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علم الافلاک فزکس، حیاتیات، بیالوجی وغیرہ وغیرہ تاریخ کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ تمام علوم کی جڑیں مکمل طور پر مسلم سائنس دانوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے نکلتی ہیں۔ مثلاً ابن عربی، جابر خراسانی، ابن سینا وغیرہ ایک عام انسان کے لئے اور ایک خاص انسان کے لیے آسمانوں کا ذکر چاند، سورج اور زمین کا ذکر انسان کی پیدائش، مرجانا زمین میں دفن ہوجانا پھر دوبارہ جی اٹھنا، زمین کو فرش کی طرح استعمال کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ اللہ کے وجود اس کی حاکمیت، خلاقیت، عظمت اور قدرت کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ عام آدمی ان سب کچھ سے فائدے اٹھاتا ہے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اسی کو اپنا مالک و خالق سمجھ کر اس کا حکم مانتا ہے اور یوں سرخ رو ہوجاتا ہے۔ خاص بندے بھی یہی سب کچھ کرتے ہیں مگر وہ ان اشارات کو جو قرآن پاک میں اکثر دیئے گئے ہیں ان پر تفکر و تدبر، تحقیق و جستجو کرتا ہے نئی نئی علم کی راہیں نکالتا ہے اور ایمان کی دولت سے اور بھی زیادہ مالا مال ہوجاتا ہے۔ دوسروں کو بھی اپنے علم کے فائدے پہنچاتا ہے اور خود اس طرح اللہ کا مقبول بندہ بن جاتا ہے۔ لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو دیکھتے ہیں جانتے ہیں مگر پھر بھی اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں ان کو نہ مظاہر قدرت جگا سکتے ہیں نہ رسول نہ کتاب بلکہ وہ کفر وشرک کے اندھیروں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا کی ابتدا سے موجود رہے موجود ہیں اور ہمیشہ موجود رہیں گے کبھی تعداد کم ہوگئی کبھی درمیانی اور کبھی بہت زیادہ یہ کمی زیادتی ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ ایسے ہی نافرمان، ضدی اور ہٹ دھرم لوگ سیدنانوح (علیہ السلام) کے پلے پڑے کہ جو صدیوں کی تعلیم و تربیت کے بعد بھی راہ خدا پر چلنے کو تیار نہ ہوئے یہاں تک کہ سیدنانوح (علیہ السلام) نے عاجز آکر اللہ سے یہ دعا کی کہ اے میرے رب ! یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے جن کو ان کے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا۔ اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے۔ اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ اور ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ( یہ سب کفار کے بنائے ہوئے مشہور بتوں کے نام ہیں) کو کبھی ترک نہ کرنا۔ پروردگار ! انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا ہے۔ (آیات 24, 23, 22, 21) اس دعا کے جواب میں رب العزت نے ان کو پانی کے طوفان کا عذاب دیا جو مسلسل کئی دن رات آسمان سے برستا رہا اور زمین میں سے پھوٹتا رہا۔ اس عذاب کے آنے سے پہلے خالق العٰلمین نے سیدنانوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ کشتی بناؤ اور اس میں نیک مردوں، عورتوں اور جانوروں پرندوں کے ایک ایک جوڑے کو سوار کرلو۔ سو ایسا ہی کیا۔ صرف یہی لوگ اور جانور بچے باقی سب دنیا کے لوگ ڈوب کر فنا ہوگئے۔ اور یوں دنیا خبیث فطرت شیطان کے دوستوں سے پاک صاف ہوگئی اور سیدنانوح (علیہ السلام) پھر سے افزائش نسل اور پیداوار بڑھانے میں مصروف ہوگئے۔ اور اپنا مقرر کردہ کردار اور عمر ختم ہونے پر دنیا سے رخصت ہوگئے آپ کے بعد پھر جس قوم نے عروج حاصل کیا وہ قوم عاد ہے۔ پھر قوم ثمود۔ یہ زبردست قومیں تھیں مگر بد اعمالیوں کی وجہ سے نیست و نابود ہوگئیں۔ یہ فطرت کا دستور ہے قوموں کا عروج وزوال ہوتا چلا آیا ہے۔ پھر کئی پیغمبر آئے اور قومیں برباد ہوگئیں۔ آخر میں آخری نبی ﷺ آخری دین اور آخری کتاب لے کر دنیا میں آئے۔ جنہوں نے ایک ایسا دستور حیات دنیا کو دیا جو کسی خاص قوم، عہد یا ملک کے لیے نہیں بلکہ یہ عالمگیر دستور حیات ہے۔ جس میں مندرجہ ذیل قوانین کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ عالمگیر معاشرہ مساوات۔ انسانی حقوق کی حفاظت، عدل و انصاف، تمام دنیا کے تنازعات کا پر سکون حل، معاشی و معاشرتی اصلاح، پوری دنیا کے امن کا لحاظ، معاہدات کی پابندی، سفیروں سے بہترین معاملات کی راہیں صلح اور جنگ کے بین اقوامی اصول اوراقتصادی امداد، خوف خدا کی تشہیر اور انسانیت کا احترام۔ جو قوم ان تمام بہترین اصول و ضوابط کی پابند ہوگی۔ دنیا میں سر فہرست رہے گی۔ جیسا کہ اسلام کے عالمی سفر کی ابتدا جناب رسول اللہ ﷺ سے ہوئی باوجود مالی کمی اور مضبوط مخالفت اور افرادی کمی کے آپ ﷺ کو بہت قلیل عرصہ میں بہت عظیم کامیابی ہوئی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم پچھلی قوموں کے عروج وزوال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بچا لیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ بس صرف ہر شخص مسلم بن جائے اور قرآن وسنت کی طرف پوری توجہ، یقین اور محنت سے قدم بڑھائے ایسے ہی پر اعتماد بندوں کی اللہ مدد فرماتا ہے۔ یہ اس کا وعدہ ہے۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۃ بقرہ) ( اے محمد ﷺ ! ) ہم نے تم کو فتح دی، فتح بھی صریح و صاف تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے رستے پرچلائے اور اللہ تمہاری زبردست مدد کرے۔ وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے۔ آسمانوں اور زمین کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ (سورۃ الفتح آیات 1 تا 4) اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کے چھٹے سال حدیبیہ سے لوٹ کر مدینہ تشریف لائے تو اللہ نے آپ ﷺ کو فتح خیبر کا وعدہ دیا۔ اسی طرح کئی واقعات اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ جو لوگ مومن ہیں اللہ سے ڈرتے ہیں اس کے لیے رکوع و سجود کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد ضرور کرتا ہے اور ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ مگر گناہگار نافرمان کفار اور مشرکین اس کے عذاب سے ہرگز بچ نہیں سکتے۔ ان کو اپنی مشرکا نہ حرکات کی سزا اس دنیا میں بھی ضرور ملتی ہے اور آخرت میں بھی وہ کبھی بھی عذاب سے بچ نہ سکیں گے۔ جیسا حال قوم نوح (علیہ السلام) کا ہوا۔ قرآن میں آیا ہے۔ آخر وہ اپنے گناہوں کے سبب پہلے غرق کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے۔ (سورۃ النوح) خلاصہ سورة النوح سورۃ النوح بڑی سبق آموز ہے۔ صرف ان لوگوں کے لیے جو عقل سمجھ رکھتے ہیں اور اپنے نفس پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں۔ کیونکہ یہ دنیا انسان کو چاروں طرف سے دنیاوی لذات، خواہشات اور مکروہات سے گھیرے ہوئے ہے۔ ان تمام کو مناسب طریقہ سے اور اللہ کی بتائی ہوئی حدود میں رہ کر استفادہ حاصل کرنا ہی انسا نِ کامل ہونے کا ثبوت ہے۔ سیدنانوح (علیہ السلام) کی قوم ان تمام حدود سے نکل چکی تھی اور اس قدر بگڑ چکی تھی کہ کسی طرح بھی سدھرنے کا ارادہ نہ رکھتی تھی تو ان کے نبی بھی عاجز آگئے تو ان کی تباہی کی دعا انہوں نے اللہ سے کی اور وہ قبول ہوگئی۔ اللہ بےحد رحیم و کریم، غفورر حیم اور الحق الوکیل (سچا کارساز) ہے اس کو اپنے بندوں سے بےحد پیار ہے۔ لیکن جب اس کے بندے اس کے پیار اور مہربانی سے ناجائز فائدہ اٹھائیں۔ اس کو بھول جائیں اس سے دوری اختیار کریں اور کسی راہبر کی آواز کو بھی نہ سنیں بلکہ الٹا اسی کا مذاق اڑائیں تو پھر وہ بری طرح ناراض ہوجاتا ہے اور یاد رکھنا چاہیے اس کا غصہ بڑا سخت اور اس کی سزا بڑی درد ناک ہے۔ اس کی سزا نہ صرف آخرت میں ہی ملے گی بلکہ دنیا میں بھی مل جاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک کے مطابق قوم نوح (علیہ السلام) ، عاد، ثمود اور بیشمار قوموں کی تباہی عذاب کی صورت میں ہوئی۔ جبکہ ماضی قریب میں بیشمار ایسے تاریخی واقعات ہمیں سمجھانے کے لیے ملتے ہیں مثلاً مولانا وحیدالدین خان صاحب لکھتے ہیں چین کے صوبہ شنسی کا زلزلہ جو 1556 ء میں آیا اس میں آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح یکم نومبر 1755 ء کو پرتگال میں زلزلہ آیا جس نے لزبن کا پورا شہر تباہ کردیا، اس زلزلہ میں چھ منٹ کے اندر تیس ہزار آدمی ہلاک ہوگئے، تمام عمارتیں مسمار ہوگئیں۔ اسی نوعیت کا ایک شدید زلزلہ 1897 ء میں آسام میں آیا تھا جو دنیا کے پانچ بڑے زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سے شمالی آسام میں ہولناک تباہی آئی، اس زلزے نے دریائے برہم پتر کا رخ بدل دیا اور ایورسٹ کی چوٹی ابھر کر سو فٹ اوپر چلی گئی۔ وہ دہشت ناک منظر جو زلزلہ کی تباہی کے بعد منظر عام پر آتا ہے وہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے۔ کہ قیامت کیسے آئے گی اور انسان کس قدر بےبس ہے اور زمین کا مالک کس طرح زمین کے موجودہ نظام کو توڑنے پر پوری طرح قادر ہے۔ (از مذہب اور جدید چیلنج) یہ سب تو ہمیں جگانے کے لیے کہ اللہ قادر مطلق ہے اور بندہ عاجز و بےبس ہے، کافی ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں مذہبی اور اخلاقی کردار کا عمل تو نہیں بہرحال یہ اللہ کے غضب کا شکار ضرور ہوئے ہمیں بھی محتاط رہنے کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ خود بھی نیکی کریں اور دوسروں کو بھی نیکی کی ہدایت کریں تاکہ اللہ کی رحمت، بخشش اور انعام کے حقد ار بنیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔ نہیں پہنچتی کوئی تکلیف سوائے اللہ کے حکم کے اور جو کوئی یقین لائے اللہ پرتو اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ (تغابن : 11) غرض بندے کا اللہ سے غافل ہونا کسی صورت بھی اس کے لیے فائدہ مند نہیں نہ اس دنیا میں نہ آخرت کی دنیا میں۔ یا اللہ ہمیں گناہوں سے بچا اور ہم سے درگزر کر۔ ( آمین ) ۔ ( الحمد اللہ سورة نوح مکمل ہوئی )