73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsمفہوم القرآن

Ayahs 73:1–13

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کریں گے۔

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا نفس کو خوب کچل دیتا ہے اور بات کو بہت درست کردیتا ہے

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن میں تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے رب کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو دل آزار باتیں یہ لوگ کہتے ہیں ان کو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو۔

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولت مند ہیں سمجھ لینے دو اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

کانٹے دار کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب ہے

نماز تہجد کا حکم تشریح : یہ بابرکت سورت اس لحاظ سے بھی خاص ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو بڑے محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا ہے۔ یعنی اے کپڑوں میں لپٹنے والے (مزّمل کا مطلب ہے ہلکا کپڑا یعنی چادر) اور پھر اس برگزیدہ نیک فطرت اور متقی انسان کو اس آنے والے مشکل ترین کام کی تیاری کی خبر دی گئی اور اس کو سنبھالنے کے لیے اپنے اندر وہ جذبہ توکل صبر و ضبط اور جان نثاری پیدا کرنے کے مزید طریقے بتائے گئے جو ان کو ایک کامل آخری نبی بننے کے قابل بنا سکیں۔ اور ان میں سب سے پہلا کام جو کہا گیا وہ تھا شب بیداری یعنی رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا عبادت کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا اور اس کلام کو انتہائی دلچسپی سکون اور سمجھ کر پڑھنا جو اللہ نے ان پر نازل کیا تھا یعنی قرآن پاک کا وہ حصہ جو اس وقت نازل ہوچکا تھا۔ آپ ﷺ نے اس شب بیداری اور رات کی عبادت کے بارے میں یوں فرمایا نماز تہجد پڑھو کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ کار تھا رات کا قیام قرب خداوندی کا ذریعہ ہے کیونکہ اس سے برائیاں ختم ہوتی ہیں اور گناہ مٹ جاتے ہیں۔ 1 ۔ رات کی عبادت انسان کے اندر نفس پر قابو پانے کی طاقت بڑھا دیتی ہے۔ 2 ۔ جو خاموشی اور سکون رات کے دوران ہوتا ہے وہ بندے اور اللہ کے درمیان ربط کو بڑا مضبوط اور پر اثر بناتا ہے۔ 3 ۔ رات کا سکون بندے کے ظاہر و باطن کو مربوط کردیتا ہے یعنی وہی زبان سے نکلتا ہے جو دل کی گہرائیوں میں ہوتا ہے۔ 4 ۔ رات کی عبادت انسان کے اندر استقامت ” مضبوطی اور ثابت قدمی پیدا کرتی ہے۔ وہ ہر کام بڑی مستقل مزاجی سے کرلیتا ہے اور نفس امارہ اس کے قابو میں آجاتا ہے۔ 5 ۔ رات کی عبادت بہت بڑا مجاہدہ ہے اسی لیے اس کی بڑی فضیلت ہے۔ اور روحانی ترقی حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بھی۔ یہ تمام صفات نبی اکرم ﷺ میں پہلے سے موجود تھیں لیکن کیونکہ ان کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی جس کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اسی کام کو سنبھالنے کے لیے آپ ﷺ کو تہجد بتائی گئی ہے۔ اور پھر ساتھ ہی تلاوت قرآن کے آداب میں سے ایک ادب بھی سکھایا گیا ہے۔ قرآن کو اچھی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہر چیز سے بےنیاز ہوجاؤ سوائے اللہ کے کیونکہ اصل میں ہر چیز کا مالک و خالق تو اللہ ہی ہے جب وہ اس قدر قدرت اور طاقت رکھتا ہے اور تمہیں پورا بھروسہ اور اعتماد کرنے کا یقین دلاتا ہے تو پھر لوگوں کی ایزا رسانی اور الٹی سیدھی نکتہ چینی کی پرواہ آپ کیوں کرتے ہیں۔ آپ سب سے بےفکر ہو کر اپنے تبلیغ کے کام میں لگے رہیں کیونکہ ان لوگوں سے دل برداشتہ ہو کر جھگڑا کرنے کی نہ آپ کو ضرورت ہے اور نہ فرصت اور نہ آپ کے شایان شان ہے۔ ہم خود ان کی ہر حرکت ہر زیادتی اور ہر یا وہ گوئی کا خوب اچھی طرح ضرور بدلہ لے لیں گے۔ بس آپ ﷺ ان کو دیکھتے جائیں ہم نے بھی ان کو تھوڑی سی مہلت دے رکھی ہے تو سن لو ہم ان سے کیا کرنے والے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں اور بھڑ کتی آگ گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب۔ (آیات 13-12)
Ayahs 73:14–18

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ایسے بھر بھرے گویا ریت کے ٹیلے ہوجائیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس موسیٰ کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا اسی طرح تمہارے پاس بھی رسول بھیجے ہیں ” جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہوں گے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے ہمارے پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بڑے وبال میں پکڑ لیا

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی ان پیغمبر کو نہ مانوگے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا ” یہ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا

حساب چکانے کا دن تشریح : یہاں پھر اس خوفناک دن کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ قیامت کی تباہ کاریاں آنکھوں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اس خبر کو آج کا سائنسدان بھی مان چکا ہے واقعی ہمارے قرآن نے یہ بڑی پکی اور سچی خبر دی ہے واقعی وہ اس قدر خوفناک منظر ہوگا کہ خوف کی وجہ سے جوان بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور تمام مخلوقات مر مٹ جائے گی پھر دوبارہ تمام مخلوقات کو زندہ کیا جائے گا اور پھر اللہ کے سامنے حاضری ہوگی اور دوزخ و جنت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو ہوش دلانے کے لیے فرعون کی مثال دیتا ہے کہ ان کو اللہ اور اپنے رسول ﷺ کی نافرمانی کی سزا اس دنیا میں بھی مل گئی تھی۔ یہ واقعہ کئی سورتوں میں مفصل بیان کیا جا چکا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ کفار مکہ اور ہر زمانے کے کفار کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ دنیا میں ہمارے چاروں طرف شیطان کے جال بچھے ہوئے ہیں ان سب سے بچ بچا کر زندگی گزارنا ہی جنت کا وارث بنا سکتا ہے۔ قرآن مجید سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک غلطی پر اصرار بھی اسی طرح ہلاکت کا باعث ہے جس طرح کوئی بڑا گناہ آخرت میں تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے۔ سیدناشہر بن حوشب (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے ام سلمہ ؓ سے پوچھا اے ام المومنین ! جب رسول اللہ ﷺ آپ کے پاس ہوتے ہیں تو وہ اکثر کون سی دعا مانگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ آپ ﷺ اکثر یہ دعا مانگتے اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوط جما دے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ کفر تو خیر بہت بڑا گناہ ہے مگر ہم مسلمانوں کو بھی دین پر مضبوط رہنے کے لیے اکثر و بیشتر قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا محاسبہ سختی سے کرتے رہنا چاہیے تاکہ قیامت کی سختی اور عذاب سے بچ سکیں۔
Ayahs 73:19–20

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ قرآن تو نصیحت ہے سو جو چاہے اپنے رب تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرے

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور اللہ تورات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نبھا نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی پس جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں اور بعض اللہ کے فضل یعنی معاش کی تلاش میں ملک میں سفر کرتے ہیں اور بعض اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ تو جتنا آسانی سے ہوسکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوۃٰ ادا کرتے رہو اور اللہ کو نیک اور خلوص نیت سے قرض دیتے رہو اور جو عمل نیک تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اس کو اللہ کے ہاں بہتر اور ثواب میں زیادہ پاؤگے اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

عبادت میں سہولت اور نجات کا راستہ تشریح : تہجد کے بارے میں لوگوں کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کافی سہولت دیدی ہے بالکل اسی طرح جیسے نماز میں روزے اور حج میں سہولت دی گئی ہے۔ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ پہلے حکم کے بعد یہ دوسرا حکم ایک سال کے بعد نازل ہوا ” اور رات کا قیام فرض سے نفل کردیا گیا۔ حلال طریقہ سے روزی کمانا اور جہاد میں شامل ہونا یہ قرآن پر عمل کرنے کی صورتیں ہیں۔ پھر زکوۃٰ پر زور دیا گیا ہے اور اس کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ گویا یہ اللہ کو قرض دینے کے برابر ہے۔ حالانکہ یہ انسانی معاشرے کی اصلاح اور اکنامکس کا ایک بہت بڑا اصول ہے جو معاشی ناہمواری کو ختم کرتا ہے۔ اللہ نے ہی تو ہمیں مال دیا ہوتا ہے اسے ہمارے قرض کی کیا ضرورت ہے۔ اس بات کو ہم حدیث کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے تمہارا اپنا مال تو وہ ہے جو تم نے اپنی آخرت کے لیے آگے بھیج دیا ہے (صدقہ خیرات کیا) اور جو کچھ تم نے روک لیا ہے (جمع کرلیا ہے) وہ تو وارث کا مال ہے (صحیح بخاری) ۔ پوری سورت خزینہ ہدایات ہے اس کو مختصراً ہم یوں بیان کرسکتے ہیں۔ 1 ۔ قرآن پاک کو ٹھہر ٹھہر کر سمجھ کر پڑھنا چاہیے۔ 2 ۔ قرآن پاک اتنا ہی پڑھیں جو آسانی سے پڑھا جائے۔ 3 ۔ قرآن پاک اتنا پڑھیں جو سمجھ میں آئے اور اکتاہٹ پیدا نہ ہو۔ 4 ۔ جو پڑھیں اس پر فوراً عمل شروع کردیں تاکہ قرآن کا مقصد حاصل ہو۔ 5 ۔ خود پڑھیں سمجھیں عمل کریں اور دوسروں کو بتائیں۔ سورۃ المائدہ میں قرآن پاک کا خلاصہ بتا دیا گیا ہے۔ (اے اہل کتاب) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔ جس سے اللہ اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کا راستہ دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیروں میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے راستہ پر چلاتا ہے۔ (آیات 16-15) اللہ ہمیں اس سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے آمین۔ خلاصہ سورة المزمل اس سورت میں تہجد، نماز فرض اور زکوۃٰ کے بارے میں تاکید کی گئی ہے۔ شروع سورت میں تو نبی اکرم ﷺ کو تاکید کی گئی ہے کہ جو بڑی ذمہ داری آپ ﷺ پر پڑنے والی ہے اسکو سنبھالنے کے لیے اپنی روحانی و جسمانی قوت کو بڑھالیں اور اسکے لیے راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنا ضروری ہے۔ بعد میں انسانی ذمہ داریوں کی وجہ سے تہجد کو نفل نماز کا درجہ اور پانچ فرض نمازیں مقرر کردی گئیں پھر انسانی اصلاح کے لیے زکوۃٰ کا ادا کرنا بھی فرض کردیا گیا۔ کیونکہ یہ سورت مکی زندگی کے شروع میں نازل ہوئی تھی اس لیے باقی ارکان اسلام آہستہ آہستہ بعد میں آتے چلے گئے۔ آخر میں نیک کاموں کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ الحمد للہ سورة المزمل مکمل ہوئی۔