Ayahs 72:1–5کوائف :
اس سورة کا نام سورة جن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق جن اس کے عقائد اور ہدایت قبول کرنے کا ذکر ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی اٹھائیس آیات ، دو رکوع ، دو صدپچاسی الفاظ اور آٹھ سو ستر حروف ہیں۔ پہلی سورة کی طرح اس کا موضوع بھی بنیادی عقائد ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ توحید ہے۔ اسکے بعد قیامت اور رسالت کا بیان ہے۔ قرآن پاک کا کلام الہٰی اور برحق ہونا بھی اس کے موضوع میں شامل ہے۔
لفظ جن کا معنیٰ :
جن کا لفظی معنی پوشیدہ یا مستور ہے۔ یعنی وہ چیز جو مستور ہو۔ اسے جن کہتے ہیں۔ جنکے مادے سے کئی ایک چیزیں مشتق ہیں۔ مثلاََ جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اپنے گنجان اور گھنے درختوں سے اس میں موجود چیزوں کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ اس کا مادہ جن ہی ہے۔ اسی طرح لفظ جنون بھی اسی مادہ سے ہے۔ یہ بھی عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ پوشیدہ کردیتا ہے۔
جنات کی حقیقت :
جن اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ نگاہوں سے مستور ہے نظر نہیں آتی ، مگر شکل تبدیل کرنے کے بعد نظر بھی آتی ہے۔ جنات چونکہ انسانوں اور حیوانات سے زیادہ لطیف ہیں اس لیے اس جہاں میں یہ پوشیدہ ہیں عالم دنیا کے اختتام پر اگلے جہاں میں یہ سب چیزیں نظر آئیں گی کیونکہ اس جہاں میں انسانی قوتوں میں بھی بہت زیادہ لطافت پیدا ہوجائیگا۔ ملائکہ تو جنوں سے بھی زیادہ لطیف مخلوق ہے۔ اگلے جہان میں ان کا بھی مشادہ ہوسکے گا۔
مخلوق کی قسمیں :
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی مختلف قسمیں ہیں ، کسی میں عقل غالب ہے تو کسی میں وہم کا مادہ زیادہ ہے۔ کسی مخلوق میں باقی صفات کی نسبت شہوت اور غضب غالب ہے۔ اور کوئی مخلوق معجون مرکب ہے کہ اس میں ساری صفات پائی جاتی ہیں۔
1۔ ملائکہ :
ملائکہ وہ مخلوق ہے جس میں دیگر صفات کی نسبت عقل غالب ہے۔ اس میں شہوت کا مادہ بال کہ نہیں۔ اگر غضب بھی ہے تو وہ مغلوب ہے۔ ا س پر عقل غالب ہے ملائکہ میں عقل و فہم اور علم کی فراوانی ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ملائکہ کی سات قسمیں ہیں۔ سب سے عالی ملائکہ حاملین عرش ہیں اسکے بعد ان فرشتوں کا نمبر ہے جو یعنی عرش الہٰی کے گرد گھومنے والے ہیں پھر وہ فرشتے ہیں جو آسمانوں کے اوپر ہیں۔ ان میں ہفت آسمان کے ملائکہ کا نمبر ہے۔ اس کے بعد فضا والے ملائکہ آتے ہیں۔ اور اس کے بعد زمین والے ان میں بھی کئی طبقات ہیں یہ ملائکہ سفلیہ کہلاتے ہیں اور عالم بالا میں رہنے والے ملاء الاعلیٰ کہلاتے ۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہے جس کا مادہ تخلیق بہت ہی لطیف ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ درجہ اول کے ملائکہ کا مادہ ایسا ہے جیسے وہ آگ جو موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے کوہ طور کے ایک درخت پر ظاہر ہوئی تھی۔ وہ نارتھی یا حجاب ناری تھا یا کیا چیز تھی۔ وہ روشن آگ کی طرح تھی مگر جلانے والی آگ نہیں تھی۔ آگ درخت پر ظاہر ہوئی ، جوں جوں وہ زیادہ روشن ہوتی جاتی تھی درخت کی سرسبزی بڑھتی جاتی تھی درجہ اول کے ملائکہ کا مادہ اس سے بھی لطیف تر نورانیت ہے۔ البتہ جو ملائکہ ان سے کم تر ہیں یعنی عالم شال کے ملائکہ تو ا ن کا مادہ تخلیق کم تر ہے۔ الغرض یہ ایسی مخلوق ہے جس پر عقل غالب ہے ۔ وہ اطاعت ہی کرتے ہیں ان میں معصیت کا مادہ ہی نہیں ہے۔ وہ ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کمال کے اندر پیدا کیا ہے۔
2۔ جنات :
دوسری قسم کی مخلوق وہ ہے جس پر باقی صفات کی نسبت زیادہ لطیف ہیں اس لیے نظر بھی نہیں آتے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ شکل تبدیل کرسکتے ہیں اسی طرح جنات بھی جس شکل میں چاہیں متشکل ہوجائیں۔ انسان کی شکل میں بھی آسکتے ہیں مادہ تخلیق کے متعلق قرآن پاک میں موجود ہے۔ اور جنوں کو شعلہ مارنے والی آگ سے پیدا کیا۔ شعلہ میں ہوا بھی شامل ہے۔ لہذا جنات کے مادہ تخلیق میں آگ اور ہوا دو چزیں شامل ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں آدم کے دور سے پہلے زمین پر جنات کا دور تھا ، جنات سے پہلے حن اور بن اللہ کی کوئی مخلوق تھی۔ ان کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ لیکن تصریح نہیں ہے۔ کہ جن اور بن کیسی کیسی مخلوقات تھیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا انسان بڑا حکیم ہوگا جو صرف ایک دور کی بات کو سمجھ سکے یعنی آدم (علیہ السلام) کے دور کی ۔ دوسرے ادوار کے حالات نہ تو کسی کتاب میں منقول ہیں نہ کسی پر ظاہر کئے گئے ہیں۔ لہذا انہیں کوئی آدمی نہیں جان سکتا۔ بہرحال اس زمین پر کوئی قوم جن اور بن آباد تھی۔ اس کے بعد جنات کا زمانہ آیا ، پھر آدم (علیہ السلام) کا دور آیا۔ جب یہ دور ختم ہوگا تو قیامت واقع ہوگی۔ الغرض جنات ایک ایسی مخلوق ہے جس پر وہم غالب ہے۔ اور وہم ایسی کمزور چیز ہے جس کی وجہ سے جنات میں چھچورہ پن اور دیگر مختلف قسم کی حرکات پائی جاتی۔
3۔ حیوانات :
حیوانات میں شہوت اور غضب کا مادہ غالب ہے۔ اور ان کی بھی مختلف قسمیں ہیں ۔ اگر غضب اور سبعیت غالب ہوگی تو درندہ ہے۔ اگر خفت ہوگی تو پرندہ ہے۔ اور اگر محض کھانے پینے اور جفتی کی صغت غالب ہے تو بہیمہ ہوگا جیسے عام جانور ہوتے ہیں۔
4۔ انسان :
اللہ تعالیٰ کی چوتھی مخلوق معجون مرکب ہے۔ اس میں ساری صفات پائی جاتی ہیں اور وہ انسان ہے۔ اس میں وہم ، عقل ، شہوت ، بہیمیت ، ملکیت سب موجود ہیں اور انسان ان تمام صفات کا جا مع ہے۔ الغرض اس سورة میں رب العزت نے جناب کی مخلوق کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ مخلوق بھی اس کی صفات کا مظہر ہے۔ اور پھر ان جنات کی بھی مختلف قسمیں ہیں جیسا کہ سورة کی بعض آیات بعض آیات سے واضح ہوتا ہے۔ اور ان کے کام بھی مختلف ہیں جنات عموماََ ہوا اور فضاء میں رہتے ہیں۔ بعض زمین پر بھی رہتے ہیں۔ اور ویسے ہی کام کرتے ہیں جیسے انسان کرتے ہیں۔ کوئی مزدوری کرتا ہے۔ کوئی کاشتکاری کرتا ہے۔ کوئی جانوروں کا سلسلہ کرتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جس طرح انسان کرتے ہیں۔
جنات بھی حضور ﷺ کے امتی ہیں :
حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت چونکہ عام ہے۔ اس لیے انسانوں کی طرح جنات بھی آپ کی امت میں داخل ہیں۔ آپ جنات کی طرف بھی مبعوث ہوئے ہیں۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مکی اور مدنی زندگی میں چھ مواقع پر آپ جنات کو تبلیغ کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ ان میں ایک واقعہ سفر کا ہے۔ ایک جنت البقیع کے قریب کا۔ بعض واقعات مکی زندگی کے ہیں بعض اوقات قرآن کریم اور دین کی تعلیم کے لیے ساری ساری رات آپ نے جنات کے ہاں گزاری۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور ﷺ مجھے ہمراہ لے گئے آپ نے ایک جگہ لکیر کھینچ کر مجھے اس کے اندر بٹھا دیا۔ اور حکم دیا کہ اس لکیر سے باہر نہیں نکلنا۔ فرمایا اس لکیر سے اندر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ جو بھی آئے گا۔ اس لکیر تک ہی آئے گا۔ اس کے اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے بعد حضور ﷺ تشریف لے گئے اور ساری رات جنات کو تلقین کرتے رہے۔ رات کے بالکل آخری حصے میں آپ واپس تشریف لائے اور پھر تھوڑی دیر کے لیے وہیں لیٹ گئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ مختلف قسم کی شکلیں آتی تھیں کوئی ایسے آدمی آتے تھے جیسے ہندوستان کے جات ہوتے ہیں۔ بالکل ویسی وضع قطع کے ۔ کوئی کسی اور شکل میں۔ اس لکیر کے گرد گھوم گھام کر چلے جاتے تھے اور میں اس لکیر کے اندر ہی رہا۔ اس قسم کے اور بھی واقعات ہیں یہاں صرف اس ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ۔ مجموعی طور پر حضور ﷺ نے چھ مرتبہ جنات کو تعلیم دی۔
سابقہ سورة سے ربط :
اس سورة کا سابقہ سورة کے ساتھ ربطہ یہ ہے کہ سورة نوح میں اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کو مخالفین کی ایذاء رسانی پر صبر کی تلقین کی تھی اور تسلی دی تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکالیف کا حال بیان کرکے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو برداشت کی نصیحت کی تھی ، نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مخالفین تباہ برباد ہوئے۔ اس کا مقصد حضور ﷺ کو یہ بتلانا تھا کہ جس طرح حضرت نوح کی قوم مخالفت کیو جہ سے تباہ ہوئی۔ اسی طرح اگر مشرکین عرب بھی آپ کی مخالفت پر ڈتے رہے۔ تو ان کا حشر بھی قوم نوح سے مختلف نہ ہوگا۔ اس طرھ گویا حضور ﷺ کو اور آپ کے ماننے والوں کو تسلی دی گئی۔ اس سورة میں جنات کا قرآن پاک سن کر ایمان لناے کے واقعہ کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات اشارہ سمجھائی ہے۔ کہ جنات غیر جنسی اور غیر قوم ہو کر جب تعصب سے خالی الذہین ہو کر کلام الہٰی کو سنتے ہیں تو وہ بھی ایمان قبول کرلیتے ہیں۔ مگر م کے والے حضور ﷺ کی قوم ، براری اور ہم زبان ہو کر قرآن کریم کو سنتے ہیں ، سمجھتے بھی ہیں۔ مگر تعصب ، ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کردیتے ہیں۔ تو گویا اس سورة کا پہلی سورة کے ساتھ ربطہ یہ ہے۔ کہ جس طرح نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی آپ کا انکار کرتی تھی۔ اللہ تعالیٰ تو قادر ہے کہ ان کو بھی ہدایت دے دے جو نہ ہم قوم ہیں۔ نہ ہم زبان ہیں ، نہ ہم جنس ایک یہ مکہ والے ہیں۔ کہ یہ بھی اگر تعصب سے الگ ہو کر اور خالی الذہن ہو کر قرآن کو سنتے تو ان کو بھی ہدایت نصیب ہوتی۔
طائف کا تبلیغی سفر :
حضور ﷺ نے 10 ن میں طائف کا تبلیغی سفر اختیار کیا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب حضور ﷺ کی روجہ مطہرہ حضرت خدیجہ ؓ وفات پاچکی تھیں۔ آپ کے چچا ابو طالب مشرک ہونے کے باوجود آپ کے ہمدرد تھے۔ اور آپ کی حمایت کرتے تھے۔ وہ بھی فوت ہوچکے تھے۔ مشرکین مکہ کی ایذائیں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ ان حالات میں آپ نے مکہ والوں سے مایوس ہو کر طائف کا سفر کیا۔ تاکہ تبلیغ دین کا فریضہ وہاں جا کر ادا کرسکیں۔ طائف میں تین بڑے سردار تھے۔ آپ نے انکو اسلام کی دعوت دی مگر وہ بدنصیب برے طریقے سے پیش آئے۔ شہر کے لچے لفنگے لوگوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔ انہوں نے پتھر مارے گالیاں دیں۔ نہایت بدسلوکی کی آپ وہاں سے چل کر ایک باغ میں درختوں کے سائے میں آبیٹھے یہ باغ مکہ کے عتبہ اور شیبہ کا تھا۔ اس سفر میں حضور ﷺ کے ہمراہ آپ کے غلام حضرت زید ؓ تھے آپ زخمی ہوگئے۔ خون بہہ رہا تھا۔ جس جگہ آپ تشریف فرما ہوئے وہاں اب درخت نہیں ہیں۔ مسجد بنی ہوئی ہے لوگ وہاں تبر کا نفل پڑھتے ہیں کچھ فاصلے پر اب بھی وہاں باغ ہے وہاں اس وقت بھی درخت موجو ہیں الغرض باغ کے مالکان شیبہ ، عتبہ وہاں موجود تھے اور یہ سارا واقعہ دیکھ رہے تھے انہوں نے پانے نصرانی غلام عداس کو انگور کا گچھا دے کر بھیجا۔ غلام عیسائی مذہب رکھتا تھا اور نینویٰ کا رہنے والا تھا۔ نینویٰ عراق میں صوبہ موصل کی ایک بستی ہے جو حضرت یونس (علیہ السلام) کا وطن ہے۔ وہاں آپ کی قبر بھی ہے۔ بہر حال غلام انگور کا گچھا تھال میں رکھ کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ اور عرض کا کیا کہ یہ میرے مالکوں نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔ آپ تناول فرمائیں۔ آپ نے انگور لیتے ہی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا۔ عداس بڑا متعجب ہوا اور عرض کیا کہ یہاں کے لوگ تو اس قسم کی بات نہیں کرتے۔ حضور ﷺ نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ عرض کیا ، نینویٰ کا ہوں آپ نے فرمایا وہ تو میرے بھائی یونس (علیہ السلام) کا گائوں ہے۔ غلام نے عرض کیا ، آپ ان کو کیسے پہنچانتے ہیں۔ فرمایا ، وہ میرا بھائی اور اللہ کا نبی تھا ، میں بھی اللہ کا نبی ہوں۔ اس بات سے عداس انتا متاثر ہوا کہ آپ کے ہاتھ پائوں چومنے لگا ، شبیہ اور عتبہ وغیر ہ مشرکین دور سے دیکھ رہے تھے جب غلام واپس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ تم اس شخص کے ہاتھ پائوں کیوں چوم رہے تھے۔ کہنے لگا کہ اس نے مجھے وہ بات بتائی ہے جو نبی کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔ کہنے لگے معلوم ہوتا ہے۔ تم پر بھی اس کا جادو چل گیا ہے۔ تو یہ طائف کا سفر بھی بظاہر ناکام ہوا ۔ طائف والوں میں سے کسی نے بھی آپ کو پناہ ن دی حالانکہ خاندان قریش کی ایک عورت بھی وہاں بیاہی ہوئی تھی۔ آپ اس کے پاس بھی تشریف لے گئے۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ آپ طائف کے تینوں سرداروں عبدیالیل ، مسعود اور حبیب کے پاس بھی گئے۔ ان کو اسلام کی دعوت دی مگر سب سے آپ سے بدسلوکی کی۔ اس طائف کے سفر کی ناکامی کے بعد آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔
جنات کا واقعہ کہاں پیش آیا :
جنات کے قرآن سننے کا وافقہ کہاں پیش آیا۔ اس کے متعلق اراء مختلف ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ جس کا ذکر سورة میں مذکور ہے کے سفر میں پیش آیا۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس موقعہ پر پیش آیا جب آپ تبلیغ دین کے لیے عکاظ کی منڈی میں تشریف لے گئے۔ یہ جگہ مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔ جہاں ہر سال پورے بیس دن تک منڈی لگتی تھی۔ اور اس میں سارے عرب کے لوگ آتے تھے۔ روایت ہے کہ حضور ﷺ صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ اس منڈی میں تشریف لا رہے تھے تو راستے میں وادی نخلہ کے مقام پر آپ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اس دوران جنوں کی ایک جماعت وہاں سے گرز رہی تھی تو انہوں نے قرآن کریم سنا یہ جن نصیبین کے مقام کے تھے جو کہ عراق اور شام کے درمیان ایک جگہ ہے۔
جنات کا قرآن پاک سن کر ایمان لانا :
احادیث میں آتا ہے۔ کہ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان پر جاتے تھے وہاں ملائکہ کی گفتگو سنتے تھے اور اس میں انہیں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی تھی۔ حضو ر ﷺ کی بعثت کے بعد پہرے سخت ہوگئے۔ اب جو جن اوپر جاتا تھا۔ آگے سے شہاب پڑتے تھے۔ کئی ہلاک ہوجاتے تھے۔ کئی بھاگ جاتے تھے۔ فرشتوں سے با ت سن کر وہ اپنے کاہنوں کے کان میں پھونک دیتے تھے۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جب پہرے سخت ہوگئے تو جنات کو تشویش ہوئی ۔ جنات نے آپس میں مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ یعنی زمین کے مشرق و مغرب میں گھوم پھر کر دیکھو کہ کیا بات ہوئی ہے کہ اب ہم اوپر نہیں جاسکتے۔ چناچہ جنات کی مختلف جماعتوں کو زمین کے اکناف و اطراف کی طرف بھیجا گیا تاکہ معلوم کریں کہ دنیا میں کون سی نئی بات ہوئی ہے۔ تو جنات کا یہ گروہ جن کی تعداد نو یا سات تھی۔ اسی تفتیش میں وادی نخلہ سے گزر رہا تھا۔ حضور ﷺ صبح کی نماز میں تلاوت فرما رہے تھے صبح کا وقت فرشتوں کی حاضری کا وقت ہوتا ہے۔ اسی لیے فجر کی نماز میں قرأت ذرا لمبی کرنے کا حکم ہے تو اس موقع پر جب جنات نے حضور ﷺ سے قرآن پاک سنا تو سمجھ گئے کہ یہی وجہ ہے کہ ہم اوپر جانے سے روک دیے گئے ہیں۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ قرآن سن کر سارا گروہ ایمان لے آیا اور واپس چلا گیا۔ مگر حضور ﷺ کو اس کا علم نہ ہوا۔ جنات کے چلے جانے کے بعد معجزے کے طور پر وہاں کے ایک درخت نے اللہ کے حکم سے حضور ﷺ کو خبر دی کہ جنات آئے تھے اور انہوں نے کلام الہٰی سنا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آُ پر جب وحی نازل فرمائی تو اس میں جنات کا ذکر کیا۔
قرآن پاک عجیب کتاب ہے :
تو اس سورة میں یہی ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف اس بات کی وحی کی گئی ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے قرآن پاک سنا تو کہنے لگے۔ ہم نے بڑا عجیب قرآن سان ہے نفر کا اطلاق تین سے لے کر دس تک کی تعداد پر ہوتا ہے۔ یہ جنات نو تھے۔ اس لیے ان پر نفر کا لفظ استعمال کیا گیا۔ شاہ عبد العزیز (رح) لکھتے ہیں کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو پڑھی جاتی ہیں اور دوری وہ جو دیکھی جاتی ہیں۔ اور مطالعہ کی جاتی ہیں قرآن کریم اس لحاظ سے عجیب کتاب ہے۔ کہ اسمین پڑھی جانے والی کتابوں کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ اور مطالعہ کرنے والی کتابوں کی بھی پڑھی جانے والی کتابوں میں قرآن پاک آسان بھی ہے اور ورد بھی۔ کلام الہٰی کو پڑھنے کے برابر کوئی ورد نہیں۔ یہ سب سے افضل ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو خالص نیت اور حسن عقیدت سے کلام پاک پڑھتا ہے۔ میں اسے ان سے افضل دوں گا۔ جو مانگتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں یا دوسرے اور ادا کرتے ہیں اگرچہ میرا کلام پڑھنے والا نہ بھی مانگے۔ اور پھر یہ درد بھی ایسا ہے۔ کہ ایک حرف پڑھو ، تو کم از کم دس نیکیاں حاصل ہوں گی۔ الف ، لام ، میم حروف مقطعات میں سے ہیں ، فرمایا جو شخص اسکو عقیدت سے پڑھیگا۔ اسے تیس نیکیاں نصیب ہوں گی۔ کلام پاک میں ایک اور خوبی ہے۔ باقی اور اد کو جب تک آدمی سمجھ کر نہیں پڑھے گا اس کا اثر نہیں ہوگا۔ مگر کلام الہٰی ایسی چیز ہے کہ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے اس کا فائدہ ہر حالت میں ہوگا۔ نیز علمی لحاظ سے بھی یہ بہت بلند کتاب ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ بسا اوقات جب میں غور کرتا ہوں تو قرآن پاک کی ہر ہر آیت میں مجھے علم و عرفان کے اتنے وسیع خزانے نظر آتے ہیں جیسے سمندر کہ جن کی کوئی انتہا نہیں۔ حقائق و دقائع کے ایسے بحر بیکراں نظر آتے ہیں جن کا کوئی ساحل نہ ہو۔ شاہ صاحب (رح) تو بلند درجے کی روحانیت والے انسان تھے ، امام اور محدث تھے ، انہیں تو ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ قرآن پاک ایسا کلام ہے کہ اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ ابدالا بادتک قائم رہیں گے۔ یہ کلام الہٰی ہے۔ خدا کی صفت ہے چونکہ خدا غیر محدود ہے۔ اس کا کلام بھی غیر محدود ہے۔ اس کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ اس کی مہربانی ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر اتنا راضی نہیں ہوتا جتنا بندے کی زبان سے اپنا کلام سن کر تو گویا اس میں ایک تو ورد والی خصوصیت پائی جاتی ہے اور دوسرے علمی خصوصیت جس کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ نہ تو ورد والے طبقے سے ملتا ہے اور نہ مطالعہ والی اور دیکھنے والی کتاب سے ، بلکہ تمام کی خصوصیت خود اس میں پائی جاتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم نے ایک ایسا عجیب قرآن سنا جو نیکی کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم سنتے ہی اس پر ایمان لے آئے۔
اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے :
ایمان لانے کے بعد جنات نے اقرار کیا کہ ہم اپنے رب کی ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ اور بیشک ہمارے رب کی شان بلند ہے۔ جد کا لفظ مشترک ہے۔ اس کا معنی وادا بھی ہوتا ہے۔ اور کوشش بھی اسی طرح جد کا معنی بخت بھی ہوتا ہے۔ اور عظمت وبڑائی بھی۔ ایک لفظ کے کئی کئی معانی بھی ہوتے ہیں جو اپنے اپنے محل پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس موقع پر عظمت اور بڑائی مراد ہے۔ یعنی ہمارے رب کی شان اور مرتبہ بلند ہے۔ جنات نے اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت یہ بیان کی یعنی اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد ہے۔ بیوی تو ضرورت کے لیے ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ صمد ہے۔ اسے کوئی ضرورت نہیں۔ اولاد کی خواہش اس لیے ہوتی ہے۔ کہ بڑھاپے میں کام آئے گی اور میرے بعد میری قائم مقام ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ وہ غنی ہے وہ نہ حاجت مند ہے نہ محتاج۔ جنات نے مزید بیان کیا یعنی ہم میں سے بیوقوف شخص اللہ پر بڑی زیادتی کی بات کہتا ہے۔ کوئی کہتا ہے اللہ نے بیوی بنالی۔ کوئی کہتا ہے ، بیٹا بنالیا۔ کوئی اس کا شریک ٹھہراتا ہے۔ کوئی اس کا سہیم بانتا ہے۔ یہ سب بیوقوفی کی باتیں ہیں ، کیونکہ دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے۔ یعنی ملت ابراہیمی سے صرف وہی اعراض کرتا ہے جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کا شریک ہے یا اس کے بیوی بچے ہیں وہ فطرت کے خلاف گیا۔ جنات نے یہ بھی واضح کیا یعنی ہم گمان کرتے تھے کہ انسان اور جن سارے کے سارے خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بولیں گے۔ لیکن اب پتہ چلا کہ انس و جن واقعی جھوٹ بولتے ہین۔ شرک اور کفر کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ کوئی اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک ٹھہراتا ہے کوئی عبادت میں اور کوئی ستعانت میں غیروں کو شریک بناتا ہے۔ یہ سب جھوٹ بولتے ہیں۔
Ayahs 72:6–15گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایمان لانے کا ذکر کای۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے نماز کی حالت میں قرآن پاک سنا اور کہنے لگے بیشک ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لائے ہیں ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ اس کو ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور ہم میں سے بیوقوف لوگ اللہ کے بارے میں زیادتی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان اور جن خدا پر جھوٹ نہیں بولتے ہوں مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں خدا کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ سب باتیں جنوں کے اس گروہ نے کیں جو ایمان لایا۔
جنات سے استعاذہ :
اس درس کی آیت میں جانت کا کلام ہی دہرایا جار ہا ہے ، یعنی انہوں نے یہ بات بھی کی ، یعنی یہ بات بھی ہے کہ کچھ مرد انسانوں میں سے زیادہ پناہ پکڑتے تھے جنوں میں کچھ مردوں کی ساتھ پس زیادہ کیا ، ان انسانوں نے ان کے لیے سرکشی کو۔ رہو کا معنی ہے زیادتی اور اس سے مراد نافرمانی اور سرکشی ہے۔ یعنی ان آدمیوں نے ان جنات کو اور زیادہ سر کشی میں ڈال دیا۔ یا ان جنات نے ان آدمیوں کو اور زیادہ سر کشی میں مبتلا کردیا۔ تو گویا کی ضمیر جنوں اور انسانوں دونوں کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ اگر یہ انسانوں کی طرف منسوب کی جائے تو معنی یہ ہوگا کہ وہ فائدے کی بجائے زیادہ خسارے میں مبتلا ہوئے۔ جیسے خسارے میں اس وجہ سے کہ شرک میں مبتلا ہوئے۔ اوروں کے علاوہ جانت کو بھی خدا کا شریک بنایا۔ لہذا بڑے خسارے میں رہے۔ اگر کو جانت کی طرف منسوب کیا تو معنی یہ ہوگا کہ انسانوں نے جنات کے ساتھ استعاذہ پکڑ کر اور زیادہ سرکشی میں مبتلا کردیا جن اور زیادہ مغرور ہوگئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں ہمارے ساتھ استعاذہ کرتے۔ ہمارے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں۔ ہمارے نام کی نذر کرتے ہیں۔ لہذا ان میں اور زیادہ اکڑ پیدا ہوگئی۔ اور وہ اور زایدہ سر کشی میں مبتلا ہوگئے۔ اس قسم کا استعاذہ ناجائز اور شرک ہے۔ کوئی بتی وغیرہ جلا کر جنات کو بلاتے ہیں۔ اور طرح طرح کے نذر و نیاز کرتے ہیں۔ بعض لوگ مکان یا کارخانہ بناتے وقت اس کی بنیادوں میں خون ڈالتے ہیں۔ اس میں یہی تصور کار فرام ہوتا ہے کہ جنات راضی ہوں اور ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں پرانے زمانے میں عرب کے مشرکین اس قسم کا استعاذہ کرتے تھے۔ یہ سب شرک اور کفر ہے۔
استعاذہ کا باطل طریقہ :
پناہ پکڑنے کی کئی صورتیں تھیں جو آج بھی رائج ہیں۔ منجملہ ان کے جب کوئی بیمار ہوجاتا تھا۔ تو جنات سے مدد طلب کرتے تھے۔ اگر آئندہ کی کوئی بات معلوم کرنا ہوتی تو کاہنوں کے پاس جاکر جنات سے معلوم کرتے۔ گویا کہ وہ غیب دان ہیں اسی طرح سفر کے دوران اگر کسی جگہ اقامت کرتے تو اس طریقہ سے پناہ پکڑتے۔ یعنی میں اس وادی کے سردار کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں تاکہ جنات وغیرہ نقصان نہ پہنچائیں۔ گویا ہر جگہ جنات ہوتے ہیں۔ ان کا سردارہوتا ہے۔ اگر اس کی پناہ میں آجائیں گے تو شر سے محفوظ رہیں گے۔ ورنہ تکلیف ہوگی۔ مکانات کی بنیادوں میں جانوروں کا خون ڈالنا ، جانت کو قربانی پیش کرنا ہے تاکہ وہ خوش ہوں اور ہماری عمارت صحیح سلامت رہے۔ آج بھی بعض لوگ یہ تصور رکھتے ہیں کہ جنات مشکل کشائی کرتے ہیں اور یہ کہ مصیبت کے وقت پہنچتے ہیں یہ سب مشرکانہ عقائد ہیں۔ اسلام نے اسے باطل قرار دیا ہے۔ نہ تو جنوں کے ہاتھ میں شفا ہے۔ نہ وہ غیب دان ہیں اور نہ وہ مشکل کے وقت کام آتے ہیں نہ آسکتے ہیں۔
استعادہ کا صحیح طریقہ :
حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چل کر کسی جگہ ٹھیرتا ہے۔ اگر وہ ان الفاظ کے ساتھ استعاذہ کرے گا تو اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جسے اللہ نے پیدا کیا۔ یہ چیز جن ہو یا کچھ اور ہو ان کے شر سے حفاظت کے لیے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، یہ استعاذہ کا صحیح طریقہ ہے۔ جس کی تعلیم حضور ﷺ نے دی۔ حضرت سعید ابن خبیر کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت دافع ابن عمیر ؓ کا اس وقت کا واقعہ ہے جب انہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا کہیں بیابان میں سفر پر تھے ۔ ایک اونٹنی تھی اور خود تھے اور کوئی ساتھ نہیں تھا۔ رات ہوئی تو اوٹنی کا گھٹنا بانھ دیا اور خود لیٹ گئے۔ خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نیزہ پکڑے آرہا ہے۔ اور اونٹنی کو مارنا چاہتا ہے۔ گھبرا کر اٹھے۔ خیال کیا کہ یہ خواب ہے۔ لہذا پھر سوگئے۔ دوبارہ وہی خواب دیکھاتو پریشان ہوگئے۔ اٹھ کر دیکھا تو واقعی ایک آدمی نیزہ پکڑے ہوا تھا اور وہ انٹنی کو مارنا چاہتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی تھا آدمی کہنے لگا کہ ان میں سے کوئی لے لو اور شخص کی اونٹنی کو نقصان نہ پہنچائو ، چناچہ اس جوان آدمی نے ایک گورخر لے لیا۔ اور چلا گیا۔ دراصل حضرت رافع بن عمیر ؓ نے اس مقام پر قیام کرتے وقت وہی کلمہ کہا تھا جو مشرکین کہتے تھے یعنی۔ گویا جنات کی پناہ پکڑی تھی۔ جب وہ جوان آدمی گورخرلے کر چلا گیا تو اس بوڑھے نے حضرت رافع ؓ سے کہا کہ بیوقوف آدمی تم نے سوتے وقت جنوں سے استعاذہ کیا تھا ۔ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، بلکہ یوں کہتے یعنی اے پروردگار ! میں محمد ﷺ کے رب کی ساتھ پناہ پکڑتا ہوں تاکہ مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ حضرت رافع ؓ نے پوچھا کہ محمد ﷺ کون ہیں۔ بوڑھا آدمی بولا کہ وہ بنی ہیں ان کا دور آگیا ہے۔ وہ شرک سے منع کرتے ہیں اور تم نے کفر و شرک کی بات کی تھی۔ یہ کہہ کر بوڑھا شخص بھی غائب ہوگیا۔ وہ جن ہی تھا۔ حضرت رافع ؓ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔ میں اونٹنی کو تیز تیز چلاتا ہوا یثرب پہنچا۔ حضور ﷺ اس وقت مدینہ میں تشریف فرما تھے۔ اللہ تعالیٰ نے میرا واقعہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی حضور ﷺ کو بذریعہ وحی بتلادیا چناچہ جب میں حاضر خدمت ہوا ۔ تو آپ نے انکشاف فرمایا کہ تمہاے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ تو اس طرح حضرت راجع عمیر ؓ اسلام نے مشرف ہوئے (شاہ عبدالعزیز (رح) اور) امام بہیقی (رح) نے اور بھی ایسے کئی واقعات بیان کیے ہیں۔ حضرت عثمان ؓ کا واقعہ بھی بیان ہوا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں جب وہ شام کا سفر کرتے تھے تو وہ ان کسی کا ہن سے غیب کی خبریں دریافت کیا کرتے تھے۔ اب کی بار بھی گئے تو کاہن کے پاس پہنچے۔ اس کی فیس دی اور اس سے بعض واقعات پوچھے۔ تو کاہن کہنے لگا کہ اب وہ کچھ نہیں بتا سکتا۔ کیونکہ جو جن میرے پاس آیا کرتا تھا ، وہ اب نہیں آتا۔ جب میں نے پوچھا کہ اب کیوں نہیں آتے تو اس جن نے بتایا کہ اب نبی ﷺ مبعوث ہوگئے ہیں اور اب ہمارے لیے کوئی ایسی بات کرنا ممکن نہیں رہا۔ بہرحال وہ لوگ جنات سے استعاذہ کرتے تھے جو کہ کفر ہے۔
قیامت کا انکار :
جنات کے بیان کا سلسلہ جاری ہے۔ جس طرح تم خیال کرتے ہو۔ اسی طرح جنات نے بھی خیال کیا کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو نہیں اٹھائے گا۔ یعنی جس طرح انسانوں میں سے بھی بعض لوگ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی قیامت نہیں۔ مرنے کے بعد کوئی نہیں اٹھایا جائے گا۔ اسی طرح بعض جنات بھی قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ کسی کو رسول نہیں بنائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح بعض کا فر انسان بھی رسالت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی وحی نازل نہیں کی۔ ہم نہیں مانتے کہ انسانوں میں بھی کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے۔ اسی طرح جنات میں بھی اس قسم کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح انسانوں میں منکر ین قیامت اور منکرین رسالت ہیں اسی طرح جنوں میں بھی ہیں۔ اپنی بات کے اگلے حصے میں جنات نے ان پابندیوں کا ذکر کیا ہے۔ جو حضور ﷺ کی بعثت کے بعد ان پر عائد کی گئیں۔ ارشاد ہے کہ جنوں نے کہا یعنی ہم نے آسمانوں کو چھوا تو اسے ہم نے پہریداروں اور شہابوں سے بھرا ہوا پایا۔ اور ہم سننے کے لیے ٹھکانوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ جو کوئی بات سنتا ہے وہ اپنے گھات میں شہاب کو موجود پاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت سے قبل شیاطین یا جنات آسمان میں بلندی پر جاتے تھے۔ اس کے لیے عنان کا لفظ آتا ہے تو وہاں پر جو فرشتے اترتے تھے وہ آپس میں مکالمہ کرتے تھے۔ جنات اور شیاطین میں سے کوئی فرشتوں کی کوئی بات سنتا تھا اور اس میں کچھ جھوٹ وغیرہ ملا کر اپنے کاہن کے کان میں پھونک دیتا تھا۔ مگر حضور ﷺ کی بعثت کے بعد پہرے سخت کردیے گئے۔ اب جو کوئی آگے جاتا تھا تو بڑے زور سے شہاب پڑتے تھے۔ کوئی بھاگ جاتا ، کوئی زخمی ہوجاتا ، کوئی مر جاتا۔ اس صورت ھال کی تحقیق کے لیے جنوں کا گروہ وادی نخلہ میں سے گزر رہا تھا۔ کہ حضور ﷺ سے قرآن پاک سنا تو سمجھ گیا کہ کیا معاملہ ہے اور اس کے اوپر آسمان کی طرف جانے پر کیوں پابندی لگ گئی ہے۔ الغرض ان آیات میں جنات نے اپنی اس حالت کا تذکرہ کیا ہے۔
جنات میں فرقہ بندی :
امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ جس قدر فرقے انسانوں میں موجود ہیں اسی قدر جنات میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاََ انسانوں میں رافضی اور شعیہ ہیں ۔ تو جنات میں بھی ایسے ہی ہیں۔ اسی طرح انسانوں میں مجوسی اور پارسی ہیں اور پھر فروعی اختلافت ہیں تو جنات میں بھی ہیں۔ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی مقلد یعنی اہل حدیث ، حنفی ، مالکی ، بریلوی ، دیو بندی وغیرہ سب فرقے موجود ہیں۔ پہلے بھی ایسے فرقے تھے اور آج بھی ہیں۔ جھبی انسانوں میں کوئی نیا فرقہ پیدا ہوتا ہے ، جنات بھی اسی میں شریک ہوجاتے ہیں۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا ہے۔ لہذا اگر کسی کو اس قسم کی کوئی بات معلوم ہوجائے تو استعجاب کی بات نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے سارا جنات کا کلام نقل کیا ہے۔ انسانوں کی طرح جن نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں ۔ مطیع بھی ہیں اور نافرمان بھی ہیں۔ قاتل اور زانی وغیرہ ہر قسم کے جنات پائے جاتے ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے بھی انسان جنوں کے مشابہ ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ جناب کے کاروبار بھی انسانوں کی مانند مختلف ہیں۔ مثلاََ تاجر ، پیشہ ، کاشتکار ، صناع ، کوئی ایک جگہ مقیم ہے کوئی سفر کرتا ہے۔ اور بیشک ہم نہیں جانے کہ زمین والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا گیا ہے۔ یا ان کے پروردگار نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔
جنات کی حق شناسی :
انہیں مختلف کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے جنات نے کہا یعنی ہم میں نیکو کار بھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ یعنی بدکار بھی۔ ہم مختلف راستوں پر بٹے ہوئے تھے کوئی نیک اور شائستہ ، کوئی بڑے اور بدکار کوئی ناہنجار کوئی شرک ، کوئی مومن کوئی عیسائی ، کوئی یہودی ، کوئی رافضی ، الغرض انسانوں کی طرح مختلف جماعتوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اور آخر کار جنات کو اقرار کرنا پڑا ، کہ ہم اللہ تعالیٰ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے۔ اور نہ ہم بھاگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ کہ ہم کہیں بھاگ کر اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ جائیں۔ ہم تو ہر وقت اللہ کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب چاہیے ہمیں پکڑے ، سزادے ، گرفت کرے یا ہلاک کردے۔ یہ سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لہذا جونہی ہم نے ہدایت کی بات سنی فوراََایمان لے آئے۔ ہمارے لیے یہ چیز قابل فخر ہے۔ کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔ ایمان لاکر داعی بن گئے ہیں۔ حضور ﷺ سے ہم کلام بھی نہیں ہوئے۔ محض کلام سن کر ایمان کی دولت سے مشرف ہوگئے۔ جنات کے اس طریقے سے ایمان لانے کا اطلاق عام انسانوں اور خاص طور پر مکہ کے لوگوں پر ہوتا ہے۔ کہ جنات تو قرآن پاک سن کر ایمان لے آئے مگر یہ انسان ہیں کہ قرآن پاک سنتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اس بات میں ان کے لیے تنبیہ کا پہلو ہے۔ کہ ان کا بھی فرض ہے کہ وہ فوراََ ایمان لے آئیں۔ اور اسکا فائدہ یہ ہوگا۔ یونی جو اپنے رب پر ایمان لے آئے گا۔ وہ کسی نقصان کا خوف نہیں کھائیگا۔ اور نہ اسکو کسی زبردستی کا کھٹکا ہوگا۔ یعنی اس پر کوئی زیادتی کی جائے۔ یا س کی محنت رائیگا جائے۔ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔ کہ اسے کسی دوسرے کے جرم میں پھانس لیاجائے۔ یا کسی ناکردہ گناہ میں ملوث کرلیا جائے۔ اگر ایمان لے آیا ہے۔ تو اسے اس کا پھل ضرور ملے گا۔
نیک و بدجنات :
اس کے بعد جنات نے مزید بیان کیا بیشک ہم میں سے فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصاف بھی ہیں۔ قاسط کا معنی ظلم کرنے والابے انصاف پس جس نے فرمانبرداری اور اطاعت کی انہوں نے نیکی کو حاصل کرلیا۔ تحری کا معنی کوشش کرنا ، جانفشانی کرنا اور حاصل کرنا ہے۔ گویا اطاعت کرکے انہوں نے نیکی کے راستہ کو تلاش کرلیا۔ اور جو کفر و شرک کرنے والے ہیں۔ گناہ اور ظلم میں آلودہ رہے۔ وہ دوزخ کا ایندہن بنیں گے۔ یعنی جنات ناری ہونے کے باوجود دوزخ میں جائیں گے۔ اور ان کو بھی ویسی ہی سز املے گی جیسی انسانوں کو اس موقع پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے۔ کہ جنات تو ناری مخلوق ہے ان کو آگ میں ڈالنے سے انہیں کیا سزا ملے گی۔ شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ بات تو یہ ہے کہ جنات کی پیدائش کی آگ اور دوزخ کی آگ کے ٹمپریچر میں بہت زیادہ فرق ہوگا۔ دوزخ کی آگ بہت سخت ہے اس لیے ناری مخلوق کو اس دوزخ کی آگ میں تکلیف پہنچے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جہنم کے مختلف طبقات ہیں اور ان میں ایک طبقہ زمہر پر ہے جو کہ بہت سرو ہے۔ لہذا یہ بھی ممکن ہے کہ جنات جیسی ناری مخلوق کو زمہریر میں پھینگ دیا جائے تاکہ ان کو سرد مقام پر سزا دی جاسکے بہر حال شر ک اور کفر کرنے والے جنات دوزخ میں جائین گے چاہے وہ ناز کے طبقہ میں ہوں یا زمہر یر کے طبقہ میں۔ ان کو سزا ہر حالت میں ملے گی۔