71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 71:1–7

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا اور دعوت الہٰی الحق کا یوں حکم دیا کہ اپنی قوم کو ڈرا ئو بیشتر اس کے کہ ان کے پاس دکھ دینے والا عذاب آجائے۔

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

کہا اس نے اے میری قوم کے لوگو ! بیشک میں ت میں کھول کر ڈر سنانے والا ہوں۔

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

اور میں تمہیں صاف صا کہتا ہوں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو اور میری بات مانو۔

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے تمہاری کئی غلطیاں معاف کردیگا ، اور تمہیں مقررہ وقت تک مہلت دیگا ، بیشک جب اللہ تعالیٰ کا مقرر وقت آجاتا ہے موخر نہیں کیا جاتا اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے مریے پروردگار میں نے اپنی قوم کو شب و روز دعوت دی۔

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

مگر میری دعوت نے ان لوگوں کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا سوائے بھاگنے کے ۔

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

اور جب بھی میں نے ان کو بتلایا تاکہ اے پروردگار ! تو ان کو بخشش فرمادے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں ، اور کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لیے اور انہوں نے اصرار کیا اور بڑا تکبر کیا۔

کوائف اور مضامین : اس سے پہلی سورة معراج تھی جس میں زیادہ تر قیامت کا ذکر تھا ، تاہم ضمناََ توحید و رسالت کا بیان بھی تھا۔ اس سورة کا نام حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت الیٰ الحق اور دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم کو دی اس دعوت کے مختلف طریقے اور اس کاروائی کا بیان ہے جو نوح (علیہ السلام) نے اس سلسلہ میں سرانجام دی گویا دعوت الی الحق کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ سابقہ سورة سے ربط۔ گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر جمیل کی نصیت فرمائی۔ کفار و مشرکین آپ کی طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتے تھے۔ ٹھٹا اور تمسخر کرتے تھے۔ آپ کے گرد گردہ در گر وہ جمع ہو کر آپ کی دعوت کی تکذیب کرتے تھے۔ قیامت کا انکار کرتے تھے۔ اور کہتے تھے اگر یہ برحق ہے تو پھر آتی کیوں نہیں۔ نہایت بیہودہ باتیں کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی (علیہ السلام) آپ انکی ایذاء رسانی پر صبر و استقلال کا مظاہرکریں ، تنگ دل نہ ہوں وقت آنے پر اس کو ضرور سزا ملے گی۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ اس سورة میں حضرت نوح (علیہ السلام) کوا س صبر جمیل کے نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے جس کی تلقین اللہ تعالیٰ نے سابقہ سورة میں حضور ﷺ کو کی۔ فرمایا کہ دعوت الی الحق اور دعوت الی التوحید کے سلسلہ میں جس قدر صبر حضرت نوح (علیہ السلام) نے کیا ، کسی اور کو میسر نہیں آیا۔ لہذا اس جگہ ان کی دعوت کی تفصیلات اور ایذا رسانی پر صبر کا ذکر کے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا۔ کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ بھی صبر کریں ہم ان سے ضرور بدلہ لیں گے۔ حضر ت آدم (علیہ السلام) سے حضرت نوح (علیہ السلام) تک۔ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کی آٹھویں یا دسویں پشت میں ہیں۔ ان سے پہلے حضرت ادریس (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے شیست (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بھی نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی جس طرح آدم (علیہ السلام) پر ان کے علاوہ اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی مبعوث فرمایا ہو تو اس کا ذکر نہیں ملتا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا نام اخنوح تھا۔ وہ بھی آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے تیسرے یا چوتھے نمبر پر تھے۔ آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے درمیان اکثر لوگوں کا اعتقاد اچھا تھا۔ مگر نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں آکر بگڑ گیا۔ اور انہوں نے شرک کو اختیار کرلیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے باپ المک یا ملک انکو شر ک سے منع کیا کرتے تھے۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کا وقت آیا اللہ تعالیٰ نے انہیں صاحب شریعت نبی اور رسول بنا کر معبوث فرمایا ۔ اس سے پہلے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا جو ذکر ملتا ہے۔ ان پر بھی اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی۔ جس میں اکثر احکام ایسے تھے جن کا تعلق دنیا کی آبادی سے تھا۔ عقیدہ تو موجود تھا اس کے علاوہ شریعت کے کوئی خاص احکام نہیں تھے۔ تفسیر مدارک والے لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے کپڑے سینے کی سوئی اور مشین حضرت ادریس (علیہ السلام) نے ایجاد کی ا ن پر کئی صحیفے نازل ہوئے۔ جن میں دنیا کی آباد کاری کے احکام تھے۔ مگر حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں لوگوں میں شرک پیدا ہوگیا تھا۔ جس کا ذکر اس سورة کے دوسرے رکوع میں آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے حالات زندگی : حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ قرآن پاک کی دیگر بہت سی سورتوں میں ضمناََ آتا ہے۔ مگر یہ سورة پوری حضرت نوح (علیہ السلام) کے حالات پر مشتمل ہے۔ دو نبی ایسے ہیں کہ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مکمل طور پر الگ الگ سورة میں فرمایا۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اس سورة میں اور حضرت یوست (علیہ السلام) کا ذکر سورة یوسف میں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں بنوت عطا ہوئی۔ اس کے بعد آپ نو سو پچاس برس تک اپنی قوم کو تبلیغ فرماتے رہے سورة عنکبوت میں ہے۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں پچاس کم ہزار سال ٹھہرے رہے۔ اور لوگوں کو حق کی دعوت دیتے رہے۔ اس دوران میں نوح (علیہ السلام) کے ساتھ بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔ سورة بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے نوح (علیہ السلام) ہمارا بڑا شکر گزار بندہ تھا کوئی ایسی ایذا نہیں جو ان کو نہ پہنچی ہو۔ قولی فعلی ، عملی ، مارپیٹ ہر طرح سے ان کو تکلیف دی گئی۔ مگر انہوں نے ہر مصیبت کو صبر و تحمل سے برداشت کیا۔ اس زمانے میں صرف حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ہی لمبی نہ تھی بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور و سے پہلے اکثر لوگوں نے لمبی عمریں پائی ہیں۔ تین تین ، چار چار ، پانچ پانچ سو سال عمر کے لوگ تھے مگر نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس سال تھی۔ چالیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطافرمائی۔ نو سو پچاس سال آپ تبلیغ کرتے رہے۔ اس کے بعد مشہور تاریخی طوفان نوح آیا ، یہ طوفان در رجب سے لیکر دس محرم تک مسلسل چھ ماہ تک قائم رہا اور آپ اتنے عرصہ کشتی میں سوار رہے۔ اتنا لمبا عرصہ تبلیغ کے نتیجے میں صرف ستر آدمی ایمان لائے جن میں چند عورتیں بھی تھیں۔ اور یہی لوگ کشتی میں سوار ہوئے۔ اور اس طوفان کی زد سے محفوظ رہے۔ اس طوفان کا حال سورة ہو د کے دو رکوع میں بیان کیا گیا ہے۔ بائیبل اور تورات میں بھی اس طوفان سے متعلق روایات ملتی ہیں۔ طوفان کی اس قدر کیفیت تو قرآن پاک میں بھی موجود ہے کہ اللہ نے زمین سے پانی کو ابلنے کا حکم دیا تھا۔ اور اوپر سے بارش بھی برسائی تھی۔ مگر طوفان کی مدت کا ذکر نہیں ملتا۔ البتہ تورات کی روایت میں میعاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ اوپر سے مسلسل موسلا دھار شدید قسم کی بارش برس رہی تھی اور نیچے سے زمین کو پانی اگلنے کا حکم تھا اور یہ سلسلہ پورے چالیس دن جاری رہا۔ یہاں اگر بارہ گھنٹے یا چوبیس گھنٹے مسلسل بارش ہو تو کیا حالت ہوتی ہے اور جہاں مسلسل چالیس روز تک اوپر سے بارش اور نیچے سے پانی ابلتا رہا ہو ۔ وہاں کی بستیوں کا کیا حال ہوگا۔ تورات کی روایت کے مطابق پانی بلند ترین پہاڑی سے بھی تیس فٹ اونچا چلا گیا تھا۔ کیا طوفان ساری دنیا آیا تھا : اس سلسلے میں دو روایتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ طوفان ساری دنیا پر آیا تھا۔ اس سے کوئی خطہ زمین نہیں بچا تھا۔ دوسری روایت یہ بھی ہے ک اس زمانے میں ساری دنیا پر آبادی ہی نہیں تھی۔ طوفان صرف اس علاقے میں آیا تھا جس علاقے میں انسانی آبادی موجود تھی۔ طوفان تھمنے کے بعد نوح (علیہ السلام) ساٹھ سال تک دنیا میں موجود رہے تو اس طرح نوح (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک ہزار پچاس سال بنتی ہے۔ اس سے زیادہ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مگر زیادہ مشہور یہی ہے کہ چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ نو سو پچاس سال وعظ کیا اور ساٹھ سال طوفان کے بعد اس دنیا میں قیام کیا اس طرح آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال ہوئی۔ پہلے صاحب شریعت رسول : بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ قیامت کے روز جب لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس سفارش کے لیے جائیں گے تو ان الفاظ سے آپ کو خطاب کریں گے۔ یعنی اے نوح (علیہ السلام) آپ اہل زمین کی طرف سب سے پہلے رسول ہیں۔ آپ سفارش کریں کہ اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کریں ہم بڑی تکلیف میں ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ مجھ سے کوتاہی ہوگئی تھی۔ اگر باز پرس ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دونگا۔ دوسروں کے پاس جائو۔ گویا اس طرح وہ لوگوں کو ٹال دیں گے۔ الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) اہل زمین کی طرف پہلے صاحب شریعت رسول تھے۔ اور ایسے رسول کہ جن کی قوم کو تبلیغ کی حجت پوری ہونے پر سزا دی گئی۔ اس سے پہلے نہ کوئی مستقل شریعت تھی اور نہ ہی کسی قوم کو سزا دی گئی۔ پورے سال کے روزے : جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) اور حضرت شیث (علیہ السلام) کے ادوار میں صرف دنیا کی آباد کاری کے قوانین تھے۔ کوئی مستقل شریعت نہیں تھی ۔ البتہ نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں شریعت کا نفاذ ہوا ۔ مثلا مشہور ہے کہ آپ کے زمانے میں پورے سال کے روزے فرض تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ بہت زیادہ جسمانی طاقت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں روحانیت پیدا کرنے کے لیے سال بھر کے روزے مقرر فرمائے۔ مگر انہوں نے حضر نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کردیا۔ عوج بن عتق : اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار کے ساتھ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت آپ کی قوم کے انکار اور طوفان کی صورت میں عذاب کا ذکر فرمایا ہے۔ اس طوفان میں کافروں میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا تھا قصے کہانیوں کی کتابوں میں آتا ہے کہ ایک شخص عوج بن عنق کو زندہ رکھا گیا۔ یہ بھی کافر تھا اور اونچے قد کا آدمی تھا ۔ یہ پانی میں نہیں ڈوبا تھا۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے زندہ رکھا تاکہ بعد میں آنے والے لوگوں کو بتا سکے کہ ان کے ساتھیوں کے ساتھ کیا حشر ہوا تھا۔ بعض اوقات مجرموں کو سزا دی جاتی ہے تو کسی کو چھوڑ بھی دیا جاتا ہے۔ تاکہ یہ دوسروں کو جاکر بتائے کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا تھا۔ بہرحال یہ تاریخی روایتوں میں بیان آتا ہے۔ قرآن و حدیث یا کوئی اور معتبر روایات نہیں ملتی۔ واللہ علم ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ غلط ہے یا صحیح ، ممکن ہے خدا کی قدرت سے ایسا ہی ہوا ہو۔ جیسے دجال اور خضر (علیہ السلام) کے حیرت انگیز واقعات ملتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو بھی عبرت کے لیے زندہ رکھا ہو۔ صحیح بات اتنی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے تمام کافروں کو ہلاک کردیا تھا۔ صرف وہی بچے تھے جو حضر ت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھ۔ اور پھر انہیں کی اولاد سے نسل انسانی قائم رہی۔ اس لیے اس اعتبار سے حضرت نوح کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ موجودہ نسل انسانی حضرۃ نوح کی اولاد سے ہے : کشتی نوح میں جو ستر آدمی سوار تھے۔ ان کی اولاد بھی آگے نہیں چلی حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے سام ، حام ، اور یافت تھے ، اس وقت جتنی بھی انسانی نسل دنیا میں موجود ہے ، یہ ان تین خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تمام عرب قبائلی ، اور ہندوستان پاکستان وغیرہ کے باشندے سامی نسل سے ہیں ۔ حبشہ والے اور ارد گرد کے افریقی ممالک کے لوگ حام کی اولاد ہیں ، اسی طرح روسی اور یورپی ممالک کے باشندے تیسرے بیٹے یافت کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہرحال حضرت نوح (علیہ السلام) نے جو دعوت حق دی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تس کی دی حضرت نوح (علیہ السلام) کا نمونہ پیش کرکے صبر جمیل کی تلقین کی کہ جس طرح نوح نے صبر تحمل سے کام لیا اسی طرح آپ بھی صبر کریں اور تسلی رکھیں۔ حضرت نوح کی بعثت اور انذار : سورۃ کے ابتداء میں فرمایا ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ سی قوم اور خاندان کے فرد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا۔ وحی نازل فرمائی۔ شریعت عطا کی اور دعوت الی الحق کا یوں حکم دیا کہ آپ اپنی قوم کو ڈرائیں ، انہیں خواب غفلت سے جگائیں پیشتر اس کے کہ ان کے پاس دکھ دینے والا عذاب آجائے عذاب سے مراد وہی طوفان ہے۔ کہ طوفان آنے سے پہلے پہلے آپ ان کو خوف دلائیں ۔ گویا یہ اللہ کی طرف سے انذار کا حکم تھا۔ نبیوں کی تعلیم میں بشارت اور انذار دونوں چیزیں داخل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہر نبی مبشر اور منذر ہوا کرتا ہے۔ وہ اہل ایمان کی خوش خبری بھی دیتے ہیں۔ اور نافرمانوں کو ڈراتے بھی ہیں۔ یہاں پر حضرت نوح (علیہ السلام) کو انذار کا حکم دیا جا رہا ہے۔ کہ آپ ان کو ڈرائیں شاید یہ راہ راست پر آجائیں۔ انداز کا تقدم : بعض اوقات انذار کو تقدم حاصل ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات بشارت کا ذکر پہلے کیا جاتا ہے۔ حضور نبی ﷺ کے متعلق بھی سورة مدثر میں آتا ہے۔ یعنی اے نبی کریم ! آپ اٹھ کھڑے ہوں اور ان کو آنے والے برے وقت کے خطرناک نتائج سے ڈرائیں ، یہاں پر نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا جار ہا ہے کہ اپنی قوم کو ڈرائیں۔ انذار کو مقدم لانے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اکثر انسان برائی میں ہی مبتلا ہوتے ہیں۔ لہذا ان کی اکثریت کی مناسبت سے انذار کو مقدم رکھا گیا۔ کہ آپ ان کو ڈرائیں کہ کفر وشرک کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اگاہ ہو جائو۔ خبردار ہو جائو معصیت اور نافرمانی قابل مواخذہ ہے اپنے آپ کو بچالو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے یہی دعوت لوگوں کو دی۔ اس مقام پر اس دعوت کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے۔ دوسری سورتوں میں دوسرے واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیم : اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم پاکر نوح (علیہ السلام) نے قوم سے یوں خطاب کیا اے میری قوم کے لوگو ! میں تم کو کھول کر ڈرسناے والا ہوں۔ کہ اگر کفر و شرک سے باز نہیں آئو گے تو اس کا بہت برا نتیجہ سامنے آئے گا۔ لہذا سنبھل جائو۔ سورة یونس میں ہے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو ! میں جو بات کہتا ہوں خوب سمجھ لو تمہارے معاملے میں کوئی اشتباہ والی بات نہیں ہونی چاہیے۔ میں تمہیں صاف صاف کہتا ہوں صرف اللہ کی عبادت کرو۔ خد ا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں خد ا کے سوا کوئی نہیں صرف ایک ہی ہے۔ اسی کی عبادت کرو۔ میر ا پیغام اور میری تعلیم یہی ہے۔ اور نیز یہ کہ اسی سے ڈرو کیونکہ اگر اس کا خوف دل میں ہوگا تو معصیت سے بچ جائو گے۔ اور میری بات مانو ، میری اطاعت کرو۔ کیونکہ نبی کی اطاعت فرض ہے۔ اور صرف یہی بات نجا ت کا ذریعہ ہے۔ کہ اللہ کی عبادت کرو اور میری اطاعت کرو۔ مافوق الاسباب استمداد غیر اللہ سے شرک ہے : اسی سورة کے دوسرے رکوع میں آتا ہے ۔ کہ یہ لوگ خاص قسم کے شرک میں مبتلا تھے۔ اور وہ یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روحوں سے امداد طلب کرتے تھے۔ حالانکہ مافوق الاسباب استمداد مانگنا شرک ہے۔ مافوق الاسباب امداد کرنا صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ امداد اسی سے طلب کی جاسکتی ہے۔ اللہ کے سوا کسی کو طاقت نہیں کہ اسباب کے دائرے سے باہر کسی کی امداد کرسکے۔ غائبانہ امداد نہ کوئی فرشتہ کرسکتا ہے۔ نہ جن نہ انسان ، نہ بھوت اور نہ کوئی ظاہری اور باطنی چیز۔ لہذا اسی بنا پر قوم نوح شرک میں مبتلا تھی جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ عبادت صرف اللہ ہی کی روا ہے : حکم ہوا کہ اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو۔ ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو یہی نصیحت کی اے لوگو ! صرف اللہ کی عباد ت کرو۔ اللہ کے ماسوا کوئی خالق ، مالک ، مدبر ، مربی ، مستحق عبادت مدد کرنے والا ، نافع وضار نہیں ہے۔ یہ تمام اختیارات صرخدا تعالیٰ کے پاس ہں۔ باقی ساری مخلوق عابد ہے۔ مقرب سے مقرب ہستی بھی عبادت پر ہی فخر کرسکتی ہے۔ میں بھی اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں تم بھی اسی کی عبادت کرو۔ مقربین فرشتے حتی کہ جبرائیل (علیہ السلام) بھی اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ عبادت الہٰی کا صلہ : فرمایا اگر اللہ کی عبادت کرو گے ، اسی سے ڈرو گے اور میری اطاعت کرو گے۔ تو اللہ تعالیٰ تمہاری کئی غلطیاں معاف کردے گا۔ یہاں پر من سے مراد بعض غلطیاں ہیں ، ساری غلطیاں معاف نہیں ہوتیں۔ اگر حقوق اللہ میں کوتاہی ہوئی ہے تو معافی مانگنے سے اور استغفار کرنے سے اللہ معاف فرمادیتے ہیں۔ اور اگر غلطی حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق میں ہے۔ تو متعلقہ بندے ہی معاف کرسکتے ہیں۔ ورنہ معافی نہیں ہوگی۔ اسی لیے فرمایا کہ تمہاری کچھ غلطیاں معاف فرمادے گا۔ اور تمہیں مقررہ وقت تک مہلت دے گا۔ اس وقت تک جو اس کی مصلحت میں مقرر ہے۔ زیادہ سے زیادہ طبعی عمر تک کہ جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں ہوتی خواہ وہ وقت سزا کے لیے مقرر ہو یا جزا کے لیے فرمایا۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں ہوتی خواہ وہ وقت سز کے لیے مقرر ہو یا جزا کے لیے ۔ فرمایا جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر ٹلتا نہیں۔ پورا ہو کر رہتا ہے۔ اگر تمہیں عقل و شعور اور سمجھ ہے تو یاد رکھو وہ وقت آنے والا ہے۔ حضرت نوح کی شب و روز دعوت : اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا ، تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ نے تبلیغ کے وہ تمام طریقے اختیار کئے جو اس سورة میں اور دوسرے مقامات پر مذکورہ ہیں مگر سینکڑوں سال کی محنت کے باوجود وہ قوم راہ راست پر نہ آئی۔ آخر تھک ہار کر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی اے پروردگار ! میں نے اپنی قوم کو شب و روز مسلسل دعوت دی مگر میری دعوت نے ان لوگوں کے یے کوئی اضافہ نہیں کیا۔ سوائے بھاگنے کے ۔ یعنی یہ لوگ میری دعوت سے راہ فرار ہی اختیار کرتے رہے ہیں تاکہ ا ن کے کان میں کلمہ خیر کی آواز تک نہ پڑے۔ میں نے جتنا زیادہ ان کو پکارا ، یہ اتنا ہی بگڑے۔ یہاں پر لیل و نہار کا لفظ بتا رہا ہے کہ تبلیغ حق کا فریضہ ادا کرنے کے لیے دن کا ہونا ہی شرط نہیں بلکہ رات وار دن جب بھی موقع میسر آئے تو یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اسی لیے میں نے شب و روز ایک در دیا ، ہر آن ان کی دعوت الی الحق دی ، زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ کیونکہ جو کسی کا م میں متفکر ہوتا ہے۔ وہ کسی خاص وقت یعنی دن یا رات کا انتظار نہیں کرتا۔ بلکہ جب بھی موقع ملے اپنا فرض سر انجام دیتا رہتا ہے۔ میں نے ان کو جس قدر نرمی کے ساتھ بلایا یہ اتنے ہی سخت ہوگئے۔ اے مولا کریم ! میں نے ان کو دن کو تبلیغ کی ، رات کو تبلیغ کی ، ان کو عام مجمعے میں بھی بلایا اور تنہائی میں بھی بات کی خوشی کے موقع پر بھی توجہ دلائی اور غمی کے حال میں بھی ان کی راہنمائی کی کوشش کی مگر انہوں نے میری ایک نہیں مانی۔ انہوں نے سوائے بھاگنے کے اور کچھ نہیں کیا۔ دعوت حق سے بیزاری : اورجب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ اے پروردگار تو ان کی بخشش فرمادے۔ یہ ایمان قبول کرلیں اور توحید کی اختیار کرلیں۔ میری دعوت کا مقصد یہی تھا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ نوح (علیہ السلام) کی کوئی بات ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔ اور اپنے کپڑے سمیٹنے لگے۔ کپڑے سمیٹنے کا مقصد کسی کام سے اپنے آپ کو الگ کرلینا ہے کہ یہاں سے کھسک جائو کسی کی بات نہ سنو۔ کپڑے سمیٹنے کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کان انگلیوں سے بند نہ ہوتے ہوں تو ان میں کپڑا ٹھونس لیا جائے تاکہ کسی صورت بات کان میں نہ پڑجائے۔ یا کپڑا اوپر ڈال لینا تاکہ رکاوٹ بن جائے اور بات کان تک نہ پہنچ سکے۔ اگر اس سے مراد یہ کپڑا اوڑھ کر لیٹ جانالیا جائے تو یہ بھی بیزاری کا اظہار ہے۔ نفر ت کرنا ہے بھاگنے کی کوشش ہے۔ یہ ساری باتیں اس میں آجاتی ہیں۔ باطل عقیدے پر اصرار ، اور تکبر : فرمایا کہ انہوں نے کان بند کرلینے پر ہی اکتفا نہیں کیا ، بلکہ انہوں نے اصرار کیا اور ضد کی کہ ہم تو اپنا عقیدہ نہیں چھوڑیں گے۔ اور جس کی پرستش ہم کرتے ہیں اس کو ترک نہیں کریں گے۔ گویا انہوں نے کفر و شرک پر اصرار کیا ۔ بلکہ اس کے علاوہ انہوں نے بڑا تکبر کیا۔ سورة ہود میں ہے کہ وہ نوح (علیہ السلام) کو کہتے تھے۔ تو بیوقوف آدمی ہے۔ جو خواہ مخواہ ہمیں ایسی باتیں کرتا ہے۔ سورة اعراف میں ہے کہتے تھے کہ تیرے جیسا بیوقوف آدمی ہی ایسی باتیں کرتا ہے کہ صرف ایک خدا کی پرستش کرو ، اپنے بزرگوں کو چھوڑدو ، ان کی روحانیت سے استمداد نہ کرو۔ تو ہمیں اپنے طریقے سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے۔ ہم تیری بات نہیں سنتے تو عقل مند آدمی نہیں ہے۔ حضر ت نوح (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا۔ اے میری قوم کے لوگو ! میں بیوقوف نہیں ہوں۔ خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں ، تم غلطی پر ہو اور بیجا اصرار کر رہے ہو۔ تکبر کر رہے ہو۔ اور یہ تکبری ہی کا اظہار تھا کہ یعنی تیرے پیچھے لگنے والے تو ہمارے کمی کمین لوگ ہیں۔ فلاں چوہدری نے نہیں مانا ، فلاں خانصا حب نے تسلیم نہیں کیا۔ فلاں سردار نے تمہاری دعوت کو قبول نہیں کیا۔ صرف چند مزدور پیشہ لوگ تیرے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ جن کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہی ان کا تکبر تھا ۔ حالانکہ ابتداء میں انبیاء کے متبع ہمیشہ کمزور لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ سارے نبیوں کی تاریخ یہی ہے۔ بڑے لوگ بعد میں مجبور ہو کر اسلام قبول کرتے ہیں۔
Ayahs 71:8–9

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

بیشک پھر میں نے ان کو برملا دعوت دی۔

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

پھر میں نے ان کو علی الاعلان دعوت دی۔ اور میں نے ان کو پوشیدہ طور پر بھی دعوت (توحید) دی۔

گذشتہ سے پیوستہ : پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا ہے کہ کسی طرح انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ دوسرے رکوع میں مشرکین کے شرک اور اس کی مختلف صورتوں کا ذکر ہے اور آکر میں پھر منکرین کے لیے سز کی دعا ہے۔ الغرض اس سورة میں نوح (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ کہ انہوں نے کس طرح لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا۔ اور ان کی طرف سے دی گئی ایذائوں اور پریشانیوں کو کس طرح برداشت کیا۔ اس سورة میں حجرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کے پانچ طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے در س میں اس پانچ میں سے دو طریقوں یعنی رات اور دن کی تبلیغ کا بیان آچکا ہے اور آئندہ باقی طریقوں کا ذکر ہے۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے پیرو کار خدا کا پیغام اور اس کی وحدانیت کی تعلیم انہیں پانچ طریقوں سے دیتے رہے ہیں۔ حضر ت نوح (علیہ السلام) نے یہ سارے طریقے سینکڑوں سال تک اپنی قوم پر آزمائے مگر سوائے ان ستر آدمیوں کے جو کشتی پر سوار ہوئے ، اور کوئی ایمان نہ لایا سورة ہود میں ارشاد ربانی ہے۔ یعنی اے نوح ! تمہاری قوم میں سے سوائے ان ستر لوگوں کے جو ایمان لا چکے ، اور کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد جب اپنی قوم سے بالکل مایوس ہوگئے توا للہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ کے سلسلے میں جس قدر محنت کی ، اس کی تفصیل اسی دعا کے اندر ہی۔ آرہی ہے جیسا کہ پہلے درس میں گذر چکا ہے آپ نے اپنی قوم کو دن کو بھی دعوت دی اور رات کو بھی دعوت دی مگر وہ بھاگئے رہے۔ اب آگے دوسرے ذرائع تبلیغ کا ذکر آرہا ہے۔ برملا دعوت : دعوت الی الحق کا تیسرا طریقہ آپ نے یہ بتایا کہ پھر میں نے ان کو برملا دعوت دی۔ تبلیغ کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ بعض اوقات برملا دعوت موثر ثابت ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کی سوچ اس قسم کی ہوتی ہے کہ اگر ان کو فرداََ فرداََ کوئی بات سمجھائی جائے تو وہ شبہات میں مبتلا ہوجائے ہیں کہ کیا بات ہے۔ ہمیں اکیلے کیوں بتلایا جارہا ہے۔ کہیں اس میں کوئی فاسد غرض نہ ہو۔ ا س بات کا ذکر برملا کیوں نہیں کیا جارہا۔ تو اس لیے نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کو برملا بھی دعوت دی۔ جیسا کہ سورة یونس میں ہے اے لوگو ! میری بات صاف صف سمجھ لو ، اس کے بعد تمہارے دلوں میں شک و شبہ تاریکی نہیں رہنی چاہیے۔ میر ی دعوت واضح ہے یعنی عبادت صر فاللہ کی کرو۔ اسی سے ڈرو اور میری بات مانو۔ الغرض نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر برملا دعوت کی حجت بھی پوری کردی۔ کیونکہ رات کی دعوت میں گھر میں اکیلے آدمی اور علیحدگی کا تصور پایا جاتا ہے۔ اور جہاں میں عام مجمع کا علی الاعلان دعوت مقصود ہے ۔ جو جو طریقے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اختیار کئے ، وہ سارے طریقے حضور ﷺ نے بھی استعمال فرمائے۔ یعنی رات کو بھی تبلیغ کی ، دن کو بھی ، عام مجالس میں بھی کی ، بازاروں اور منڈیوں میں دعوت دی ، عام اجتماعات میں خدا کا پیغام سنایا۔ علی الاعلان دعوت : دعوت کا چوتھا طریقہ یہ بیان کیا کہ پھر میں نے ان کو علی الاعلان دعوت دی۔ علی الاعلان سے مراد ہے ڈونڈی پٹوا کر۔ جیسے کوئی اہم معاملہ ہو تو ڈونڈی پٹوائی جاتی ہے۔ اعلان کروایا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے ڈونڈی پٹوا کر اعلان کے ذریعے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ کہ خبردار ہو جائو ، پھر نہ کہنا کہ ہمیں پتہ نہ چلا اب کان کھول کر اللہ کا پیغام سن لو ، مگر پھر بھی قوم پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پوشیدہ طور پر دعوت : بعض لوگ نفسیاتی ، بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی بات علی الاعلان کی جائے یا ان کی کسی خامی کا برملا اظہار کیا جائے تو وہ برا مان جاتے ہیں۔ نصیحت نہیں پکڑتے۔ اسی حجت کو پورا کرنے کے لیے اے مولا کریم ! میں نے ان کو پو شیدہ طور پر بھی دعوت توحید دی۔ امام احمد (رح) کے متعلق مشہو رہے کہ ایک دفعہ انہوں نے لمبی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ ایک بےسمجھ آدمی آیا کہنے لگا ایک مسئلہ دریافت کرتا ہوں کہ حضور ﷺ نے ایسی لمبی ٹوپی پہنی تھی ؟ یہ بات اس نے عام مجلس میں کی تاکہ امام صاحب کی خفت ہوجائے اور آپ مجمع میں رسوا ہوں۔ اس بری نیت سے سوال کیا۔ تو اس کے جواب میں امام صاحب نے فرمایا تو نے نصیحت کی ہے یا رسوا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یعنی یہ سوال برملا کرکے تم کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہو۔ الغرض برملا بات میں بعض اوقات خفت اٹھانا پڑتی ہے۔ لہذا حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو پوشیدہ طور پر بھی تبلیغ کرکے انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ تبلیغ کے پانچ اصول : الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) نے غرض کا کیا کہ یا اللہ ! میں نے دعوت الی الحق اور تبلیغ دین کے تمام طریقے استعمال کرلیے میں نے ان کو رات کو بھی دعوت دی اور دن کی بھی دعوت دی۔ شب و روز میں جب بھی موقع ملا میں نے تیرا پیغام پہنچانے میں سستی نہیں کی ۔ پھر ان کو برملا مجالس میں بھی سمجھایا۔ اور علی الاعلان بھی خدا کا پیغام پہنچایا۔ میں نے ان کو تنہائی میں فرداََ فرداََ بھی تیرا پیغام سنایا مگر ان کو کوئی اثر نہیں ہوا۔ تبلیغ کے یہ اصول ہر زمانے میں کار آمد ہیں : تبلیغ کے یہ پانچ اصول ہر زمانے کے ہر مبلغ کے لیے کار آمد ہیں۔ اگر کسی کو رات کو موقع ملتا ہے تو رات کو تبلیغ کا فریضہ سرا نجام دے۔ خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچائے۔ مگر اس زمانے میں رات کے وقت تو ساری دنیا کھیل تماشے میں مصروف ہوتی ہے۔ چار رات کفار و مشرکین کے علاوہ کلمہ گو بھی اسی رد میں بہ رہے ہیں۔ لہو و لعب میں مصروف رہتے ہیں۔ عبادت کو ن کرتا ہے۔ اور تبلیغ کون کرتا ہے۔ دن کے وقت لوگوں کی اکثریت پیٹ کی ضروریات میں لگی رہتی ہے۔ ایسے کتنے آدمی ہوں گے جو محض رضائے الٰہی کے لیے لوگوں تک دین پہنچائیں جسے سمجھ کر نجات حاصل کرسکیں۔ حصور ِ روزگار معیشت ، ملازمت ، محنت یہ سب چیزیں جائز ہیں۔ مگر نوح انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم ضرورت کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ جس سے لوگ فلاح پائیں۔ لاوڈ سپیکر کا غلط استعمال : اب راتوں کو ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے۔ کیا یہ تبلیغ ہو رہی ہے۔ لاوڈ سپیکر ایک نئی مصیبت آگئی ہے۔ رات کو اس پر صلوٰۃ وسلام شروع کردیا۔ یا مخالفوں کو کچلنے کے لیے برا بھلا کہنے لگے۔ نغمہ بازی یا گانا بجانا شروع کردیا۔ یہ کون سی تبلیغ ہے۔ کوئی پنجابی غزل ہو رہی ہے۔ کوئی اردو نغمہ گا رہا ہے ، کوئی کچھ کر رہا ہے کوئی کچھ کر رہا ہے۔ اس سے کون سی اصلاح ہوتی ہے۔ کسی کے ذہن میں کوئی اچھی بات تو اترتی نہیں۔ جب اترے گی بری بات ہی اترے گی۔ کیونکہ تبلیغ تو مقصد ہی نہیں ، محض اپنے فرقے اور اپنی پارٹی کی حمایت مقصود ہے یا پھر پیٹ پر روزی مطلوب ہے۔ عرب کہتے تھے دوسروں کو برا بھلا کہنے میں زندگی ہے لہذا بعض لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے روزی ہی علمائے دیوبند کو گالیاں دینے میں رکھی ہے۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) کو دو سو سال ہوگئے ہیں۔ مگر آج تک لوگ انہیں گالیاں دے کر روزی کھار ہے ہیں۔ تبلیغ کا کوئی پروگرام نہیں بس مخالفین کو گالیاں دو اور اپنا پیٹ بھرو۔ یہ تو ضمناََ بات آگئی تھی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں تبلیغ کا کوئی معقول طریقہ ہی نہیں ہے۔ اگر لاوڈ سپیکر استعمال کرنا ہے تو کوئی اچھی بات تو کرو ۔ یہ کون سی نیکی ہے کہ لائوڈ سپیکر کھول کر دوسروں کی نمازیں خراب کرو۔ ادھر نماز ہو رہی ہے ۔ ادھر وہ درس دے رہے ہیں۔ ایک مسجد میں درس ہور ہا ہے۔ اور دس بیس مسجدوں میں نمازیں خراب ہو رہی ہیں۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ عبادت میں خلل : حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ پڑوسی کو مت ستائو۔ چہ جائیکہ کہ عبادت کے اندر لوگوں کو ستایا جائے۔ بعض اوقات لاوڈ سپیکر کے غر غر کی آواز ایسی آتی ہے کہ نمازوں کے دوران پتہ ہی نہیں کہ امام کیا پڑھ رہا ہے اور مقتدی کیا سن رہے ہیں۔ رکوع و سجود میں گڑ بڑ ہوجاتی ہے۔ یہ کوئی نیکی نہیں بلکہ مصیبت ہے۔ یہ لوگ عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا خاک ترقی کی ہے۔ کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا ۔ کوئی تلاوت نہیں کرسکتا۔ دن میں بھی ہور ہا ہے۔ رات کو بھی بارہ بجے تک جاری ہے۔ کیا دعوت لیل و نہار کا یہی مقصد تھا۔ کہ دوسروں کی عبادت میں خلل ڈالا جائے۔ گانا بجا ناہو اور گالیاں دی جائیں۔ دن کو پیٹ کا دھندا ہے اور رات کو لہو ولعب میں مبتلا ہیں۔ عناد و تعصب دین نہیں : جب کہیں جلسہ ہوتا ہے۔ برمال تقریرہوتی ہے ، تو وہاں بھی یہی چیز ہے جس طرح ممکن ہو مخالفین کو ذلیل کرو۔ خدا راضی ہو یا نہ ہو۔ مگر اپنی پارٹی اور اپنے فرقہ کو قائم رکھو۔ کسی کو فائدہ ہو یا نہ ہو کسی کے عقیدے کے خلاف ہو یا حق میں کوئی جائے جہنم میں ، تم اپنے مطلب پورے کرو۔ یہ سمجھتے ہیں کہ دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ یاد رکھو تعصب اور عناد کوئی دین نہیں۔ حضور ﷺ نے اخلاق حسنہ کی تعلیم دی ہے۔ وہ شخص کاہل الایمان نہیں ، جو پڑوسیوں کو ستاتا ہے۔ یہ نماز کے دوران بھی شور کر رہے ہیں۔ یہ کون سادین ہے۔ نمازی کے آگے سے گزر ناسخت گناہ ہیـ تبوک کے واقعہ میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص آگے سے گزر گیا۔ نماز میں خلل واقع ہوگیا۔ آپ نے اس کے لیے بدعا فرمائی کہ خدا کرے تو اپنی ٹانگوں سے چل نہ سکے۔ وہ آدمی لنگڑا ہوگیا تھا۔ اس نے حضور ﷺ کو ایذا پہنچائی تھی۔ مرتے دم تک ٹھیک نہ ہوا۔ یہ روایت ابو دائود میں موجود ہے۔ نمازی کے آگے سے گزرنے والا مسئلہ بھی اہم ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کوئی شخص چالیس سال یا چالیس دن تک کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔ ہاں اس طرح نمازی کی نماز میں فرق نہیں آئے گا۔ البتہ گزرنے والا گہنگار ہوگا۔ نماز ہوجائے گی۔ اسی لیے اگر جگہ میں نماز پڑھ رہا ہے تو آگے سترہ رکھنے کا حکم ہے تاکہ نماز سکون کی ساتھ ادا کی جاسکے۔ دین قیامت تک قائم رہے گا : کے مطابق دین کا ایک طریقہ علی الاعلان بھی ہے مگر یہاں تبلیغ کی بجائے لہو ولعب ، فحاشی اور عریانی کا اعلان ہوتا ہے۔ ٹانگے کے پیچھے سینما کا اشتہار باندھ کر فہاشی پھیلائی جارہی ہے۔ تبلیغ دین کا اعلان کون کرتا ہے۔ کیا حکومت یہ فریضہ انجام دے رہی ہے۔ دین ایک سچی حقیقت ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے دین قیامت تک مٹے گا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو کھڑا کرتا رہے گا۔ جو دین پر خود بھی قائم رہیں گے اور دعوت بھی دیتے رہیں گے ۔ مخالفوں کی ایذائیں بھی برداشت کرے ہیں ، یہاں تک کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ مگر اس زمانے میں حکومتیں کیا کر رہی ہیں ، پارٹیاں کیا کررہی ہیں۔ کس بات کا اعلان کر رہے ہیں۔ اسی طرح کے مصداق پوشیدہ طور پر تبلیغ کا کیا حق ادا کر رہے ہیں۔ اسوہ حسنہ پر عمل کا فقدان : بہرحال تبلیغ کے یہ پانچوں طریقے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر آزمائے۔ اور ان کا ذکر اپنی دعا میں کیا۔ یہی پانچ طریقے تمام امتوں پر لاگو ہیں۔ مگر کیا آج کا مسلمان ان پر عمل در آمد کر رہا ہے۔ مناسب تو یہ تھا کہ کے مطابق مسلمان ساری دنیا میں کلمہ حق کا اعلان قبول کیوں نہیں کرتے۔ حضور ﷺ کا اسوہ حسنہ عبادت میں پکڑو۔ نکاح طلاق میں پکڑو۔ سیاست میں پکڑو۔ اگر حضور ﷺ کا طور طریقہ سب سے افضل ہے تو پھر اس پر عمل کیون نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے۔ وزیر اکٹھے ہوئے اسلام کی سربلندی کی باتیں ہوئیں۔ پندرھویں صدی ہجری کی تقریباََ کا اعلان ہوا۔ ان تقریبات سے کس قدر فائدہ ہوا ۔ جب کہ اسلام کے اصولوں پر عمل ہی نہیں ہے۔ عقیدہ درست نہیں ہے۔ دماغوں میں کفر و شرک بھرا ہوا ہے۔ بدعملی اور عیاشی کا دور دورہ ہے۔ فحاشی پائی جاتی ہے۔ لہو دلعب میں مبتلا ہیں۔ مگر زبان سے کہتے ہے کہ اسلام سچا مذہب ہے اگر واقعی سچا مذہب ہے تو پھر اس پر عمل کرکے کیوں نہیں دکھاتے۔ قول وفعل میں تضاد : برناڈ شا بڑی مشہور انگریز شخصیت ہوئی ہے۔ و ہ اسلام کی بڑی تعریف کیا کرتا تھا۔ مولوی ظفرعلی مرحوم لندن گئے۔ برناڈ شا سے ملاقات ہوئی تو اس نے اسلام کی بڑی تعریف کی۔ ظفر علیخان جذباتی آدمی تو تھے ہی ، کہنے لگے اگر اسلام ایسا سچا دین ہے تو پھر تم اسلام قبول کیوں نہیں کرلیتے۔ برناڈ شانے مولوی صاحب کو ڈانٹ دیا کہ تم مجھے اسلا م کی دعوت دیتے ہو۔ پہلے خود اسلام پر کار بدن ہو کر آئو۔ تمہارا خود اسلام پر عمل نہیں ہے۔ مجھے کیا دعوت دیتے ہو۔ میں تم سے اسلام کو زیادہ جانتا ہوں۔ پہلے صحابہ کرام ؓ جیسے بن کر آئو۔ پھر مجھے دعوت دنیا۔ تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ اسلام کے نام پر الحاد کی تبلیغ : مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ ساری دنیا میں توحید کا اعلان کرتے۔ اسلام کی دعوت دیتے مگر اب تو کوئی اعلان بھی نہیں کرسکتا۔ بیرونی ممالک میں وفد جاتے ہیں طلباء بھی جاتے ہیں۔ مگر لہود لعب کے لیے ، شراب نوشی ، اور رنڈی بازی کے لیے ۔ یہ دوسروں کو کیا ٹھیک کریں گے۔ خود رگ و ریشے میں یہودیت ، نصرانیت ، اور الحاد بسا ہوا ہے۔ نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں۔ کام سارا یہود انصاری اور الحاد کا کرتے ہیں۔ وہاں سے کیا سیکھ کر آتے ہیں۔ یہ کیا اعلان کریں گے۔ پوشیدہ طور پر بھی وہی دعوت دے گا۔ جس کے دل میں کوئی ہمدردی ہے اور جسے اپنے دین کی حقانیت پر یقین ہے کہ اس سے بہتر کوئی دین نہیں ہم اگر کسی کو سمجھائیں گے کسی کا بھلا کریں گے۔ تو ہمیں بھی فائدہ پہنچے گا۔ آپ ان کی نصیحت کریں خواہ ان کو فائدہ دے یا نہ دے۔ آپ کو ہر حالت میں یہ نصیحت فائدہ پہنچائیگی۔ آپ کے فریضہ ادا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں درجات بلند ہوں گے۔
Ayahs 71:10–20

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

پھر میں نے انہیں کہا اپنے رب سے استغفار کرو ، بیشک وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ چھوڑ دے گا آسمان کو تم پر کہ موسلا دھار بارش برسائے۔

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور بڑھادے گا تمہارے لیے مال اور بیٹے اور تمہارے لیے باغات تیار کردے گا اور تمہارے لیے نہریں بنا دے گا۔

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے وقار سے خوف نہیں کھاتے۔

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں مختلف بطور۔ (دوروں) میں پیدا کیا۔

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمانوں کو کیسے تہ بہ تہ پیدا کیا۔

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور آسمانوں کے اندر چاند کو نور بنایا اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین سے ایک خاص طریق پر پیدا کیا۔

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر تمہیں زمین میں واپس لوٹائے گا اور پھر اسی سے دوبارہ نکالے گا۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنادیا ۔

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے کشادہ راستوں پر تم چل سکو۔

گذشتہ سے پیوستہ : یہ سورة نوح ہے۔ اور ان دروس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے تھک ہار کر بار گاہ الہٰی میں پیش کی کہ یعنی اے پروردگار میں نے پانی قوم کو شب و روز دعوت دی مگر میرے بلانے پر وہ اور زیادہ بھاگنے لگے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے سمیٹ لیے ، اصرار ، اور تکبر کیا۔ میں نے ان کو برملا بھی دعوت دی اور پوشیدہ طور پر بھی نصیحت کی۔ اعلی الاعلان بھی تبلیغ حق کی مگر انہوں نے میری کسی بات کو نہیں مانا۔ استغفار کی ترغیب : آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا اپنے رب سے استغفار کرو۔ معافی مانگو کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ استغفار کا معنی بخشش مانگنا۔ ڈھانپ لینا پردہ پوشی کرنا ہے۔ مطلب یہ کہ تم ایمان قبول کرلو ، تو اللہ تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں کو معاف کردیں گے۔ کفرو شرک کو چھوڑ دو کیونکہ ان کی موجودگی میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب کفرو شرک سے باز آجائو گے تو بخشش کے اہل بن جائو گے اللہ تعالیٰ تمہاری باقی تمام کو تاہیوں سے درگزر فرمادیگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے اسلام لانے سے سابقہ کو تاہیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ اسلام لانے سے پہلے کتنا بھی بڑا مجرم ہو مگر جبوہ کفر وشرک سے مجتنب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ تو اس کی سابقہ تمام کوتاہیاں معاف ہوجاتی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو۔ وہ بڑا بخشنے والا ہے تمہیں معاف فرما دے گا۔ استغفار کی برکات : فرمایا اگر تم ستغفار کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آسمان کو چھوڑدیگا کہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے۔ اور بڑھادے گا تمہارے لیے مال اور اولاد اور تمہارے لیے باغات کے پھل تیار کر دے گا۔ اور تمہارے لیے نہریں بنا دیگا۔ یہ تمام چیزیں تمہیں میسر آجائیں کر دے گا۔ اور تمہارے لیے نہریں بنا دیگا۔ یہ تمام چیزیں تمہیں میسر آجائیں گی۔ بشرطیکہ تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لو۔ بارش کے لیے استغفار : بار ش کے باب میں بھی ایسا ہی آتا ہے بارش رک جائے قحط پڑجائے تو استغفار کیا جائے ایک دفع لوگوں نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا ۔ قحط سالی ہے۔ بارش نہیں ہو رہی ہے تو آپ نے استغفار کیا اور لوگوں سے بھی استغفار کرنے کو کہا ۔ کسی نے کہا کہ حضور ﷺ نے استغفار کیا ہے اور کی تعلیم دی ہے۔ تو اس کا کیا مطلب ہے تو آپ نے یہی آیت پڑھی۔ امام ابوحنیفہ ؓ فرماتے ہیں استسقا کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خدا سے گناہوں کی معافی مانگے۔ اور دعا کرے کہ مولا کریم ! ہماری کوتاہیاں معاف فرما دے اور اس کے نتیجے میں ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔ نماز استسقاء کی حقیقت : یہ عام طریقہ ہے کہ جب بارش نہ ہو رہی ہو تو کھلے میدان میں نکل کر دو رکعت نماز استسقاء ادا کی جاتی ہے۔ اور اسکے بعد بارش کی دعا کی جاتی ہے تاہم استسقاء کی حقیقت اتنی ہے کہ گناہوں کی معافی طلب ک جائے ۔ اگر دو نفل پڑھ لییے جائیں تو فہا ، اگر نفل نہ بھی پڑھے جائیں تو یہ ضروری نہیں ہیں۔ یہ مستجات میں ہے۔ مقصد استغفار اور دعا ہے۔ بعض اوقات فرض نماز کے بعد بارش کے لیے دعا کرلی جاتی ہے۔ حضور ﷺ ارشاد فرما رہے تھے ایک آدمی نے آکر شکایت کی کہ حضرت پانی نہیں مل رہا ہے۔ جانور ہلاک ہور ہے ہیں۔ تو اپنے خطبے کے دوران ہی بارش کے لیے دعا فرمادی تھی۔ ہر پریشانی کا حل استغفار : حضرت حسن بصری (رح) سے ایک روایت منقول ہے کہ ان کے پاس مختلف قسم کے لوگ آئے کسی نے کہا کہ حضرت ! قحط سالی ہورہی ہے۔ آپ نے فرمایا استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے کہا کہ میری بیعی بانجھ ہوگئی ہے۔ بچہ نہیں جنتی ہے۔ فرمایا استغفار کرو۔ ایک اور شخص کہنے لگا ہماری کھیتی باڑی خراب ہوگئی ، فصل نہیں دیتی آپ نے اس کو بھی فرمایا استغفار کرو۔ الغرض مختلف قسم کی پریشانی والے لوگوں کو آپ نے ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو۔ تو ایک شاگرد نے دریافت کیا کہ حضرت آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا تو فرمانے لگے کہ یہ قرآن پاک کا مفہوم ہے۔ کیا حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہیں فرمایا تھا کہ اپنے رب سے استغفار کرو اس کے بدلے میں بارش برسے گی۔ مال اور اولاد میں برکت ہوگی اور پانی کی سیرابی نصیب ہوگی۔ ان لوگوں نے یہی چیزیں تو طلب کی تھیں لہذا میں نے ان کو ایک ہی جواب دیا کہ اپنے رب سے استغفار کرو۔ ایک اشکال اور اس کا جواب : بعض اوقات لوگ ایمان بھی لائے ہیں ، استغفار بھی کرتے ہیں مگر ان کی پریشانی دور نہیں ہوتیں۔ بارش نہیں ہوتی ، اولاد نہیں ملتی یا کوئی اور پریشانی دور نہیں ہوتی ۔ تو اس اشکال کا جواب کیا ہے ؟ حالانکہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم استغفار کرو تو تمہارے گنا معاف ہوجائیں گے۔ بارش ہوگی۔ اولاد ہوگی۔ مال کی فراوانی ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس ضمن میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ استغفار کے صلے مٰں مطلوبہ مقاصد کا حصول محض قوم نوح کے لیے تھا ، عام اقوام کے لیے نہیں تھا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں چالیس سال تک قحط مسلط رہا ، عورتیں ، بانجھ ہوگئیں۔ اور ان لوگوں کو دیگر پریشانیاں لاحق ہوگئیں۔ تو حضر نوح (علیہ السلام) نے انہیں یہ نسخہ بتایا تھا۔ یہ خصوصیت اسی قوم کے لیے تھی۔ استغفار سے روحانی خوشی : یہ بھی فرماتے ہیں کہ ایمان اور استغفار کا نتیجہ یقینا اچھا ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں یا تو مطلوبہ چیز مل جاتی ہے۔ یا اس سے بہتر کوئی چیز حاصل ہوجاتی ہے۔ جو شخص استغفار کرے گا۔ اسے روحانی خوشی یقینا حاصل ہوگی۔ یا پھر رضا بالقضا کی صورت میں نہایت اچھا صلہ میسر آئے گا اگر اسے روحانی خوشی حاصل ہوجائے یا اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہوجانے کی سعادت نصیب ہوجائے تو یہ مال ، اولاد اور بارش سے یقینا بہتر ہے۔ استغفار کی کثرت کا حکم : اسی لیے کثرت سے استغفار کرنے کا حکم ہے صحابہ کرام ؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ بعض اوقات ایک ایک مجلس میں سو سو دفعہ استغفار کرتے تھے۔ فرمایا جو سچے دل سے یہ سید الا ستغفار پڑھے گا ، تو اسکے گناہ اگر سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں گے ، تو خدا تعالیٰ معاف فرمادے گا۔ اس میں اسم اعظم بھی ہے اس کے علاوہ جتنے بھی استغفار کے الفاظ ہیں ان کے پڑھنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ محض زبانی رٹ نہ لگائے بلکہ دل کی گہرائیوں سے استغفار کے الفاظ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں گے۔ فوت شدہ والدین کیلئے استغفارـ: بیہقی شریف کی روایت میں ہے کہ۔ مرنے والے لوگ منتظر رہتے ہیں کہ ا ن کے لیے کوئی دعا کرے یا صدقہ خیرات کرے جب ان چیزوں کا ثواب انہیں پہنچتا ہے تو انہیں بڑی راحت ہوتی ہے حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص کو اپنے اعمال کی نسبت سے زیادہ بلند درجہ حاصل ہوگا۔ س کو تعجب ہوگا اور وہ عرض کرے گا ، باری تعالیٰ ! میرے اعمال تو اس قابل نہیں تھے جس قدر درجہ تو نے مجھے علطا کیا ۔ تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے۔ یہ درجہ تجھے تیرے بیٹے کے استغفار کرنے کے صلے میں عطا ہوا ہے۔ وہ تیرے لیے بخشش مانگتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے تعلیم دی کہ اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کیا کرو۔ تاکہ ان کے گناہ معاف ہوں اور درجات بلند ہوں۔ استغفار ایسا مفید وظیفہ ہے ہر لائق بیٹا اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کرتا ہے۔ استغفار گناہوں کی میل دور کرتا ہے : قرآن پاک میں استغفار کا بیان کثرت سے آیا ہے کہ سوا گناہوں کو کون معاف کرنے وا لا ہے۔ معافی دینے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ انسان کو عاجزی اور کثرت سے استغفار کرنی چاہیے۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ استغفار ، تسبیح و تہلیل سے بھی زیادہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ استغفار انسان کے گناہوں کو اس طرح دور کرتی ہے۔ جس طرح صابن کپڑے کے میل کچیل کو دور کرتا ہے۔ تسبیح تو بمنزلہ خوشبو کے ہے۔ اگر استغفار سے میل کچیل دور ہوجائے تو تسبیح وتہلیل کی تھوڑی سی خوشبو بھی بڑی مفید ثابت ہوگی۔ اور انسان کی روح نکھر جائیگی۔ حضور ﷺ کا ارشاد بھی ہے کہ استغفار کثرت سے کرنی چاہیے اس کے صلے میں دنیا میں خیروبرکات حاصل ہوں گی۔ اگر یہ نہ مل سکیں تو اس سے بہتر نعمت یعنی روحانی مسرت تو ضرور حاصل ہوگی۔ قیامت میں نیکیوں کا ذخیرہ میسر آئے گا۔ اور اگر رضا بالقضا کا مقام حاصل ہوگیا تو بندہ بہت بلند مقام پر چلا گیا۔ ہر نبی کا وظیفہ استغفار : حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا میں بیان کردہ جس طرح تبلیغ کے طریقے تمام لوگوں کے لیے قابل عمل ہیں اسی طرح طریقہ استغفار بھی تمام بنی نوح انسان کے لیے واجب العمل ہے ۔ تمام انبیاء کرام نے استغفار کا طریقہ اپنایا۔ حضور ﷺ بھی اس پر عمل کرتے رہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ فیصلے کے دن میری کوتاہیوں کو معاف فرما دیگا۔ تو گویا استغفار کرنے کا معافی مانگنے کا دستور العمل بھی بتایا جا رہا ہے۔ کہ تمام انسان اس طرح اپنے پروردگار سے کوتاہیوں کی معافی طلب کریں اس کے بہت مفید نتائج برآمد ہوں گے۔ دلائل توحید : استغفار کی حقیقت اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر کرنے کے بعد اگلی آیات میں توحید کے دلائیل سمجھائے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ دلائل کا تعلق انسان کے اپنے وجود سے ہے اور کچھ خارجی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مقصد ان دلائل سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ فوراََ سمجھ میں آجائے فرمایا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے وقار سے خوف نہیں کھاتے۔ رجا کا معنی امید بھی ہوتا ہے۔ اور خوف بھی یہاں پر یہ دونوں معنی لگتے ہیں۔ یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بزرگی ، وقار اور اس کی عظمت سے نہ امید رکھتے ہو۔ نہ خوف کھاتے ہو اور نہ ایمان قبول کرتے ہو۔ تخلیق انسانی : دلائل توحید کے سلسلے میں پہلے انسان کی پیدائش کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مختلف طریقوں سے پیدا فرمایا۔ ذراغور کرو کہ تمہاری پیدائش کس طرح ہوئی۔ ایک زمانہ تھا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔ جیسا کہ سورة دھر میں ہے تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں عناصر کی شکل میں انسان کی تخلیق کی۔ یہ غذا جو انسان کھاتا ہے ، یا مٹی وغیرہ یہ عناصر ہیں۔ پھر انسان کو غذا ملی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم میں مختلف مواد پیدا کئے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ کیا تم غور نہیں کرتے ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا۔ اور پھر نسل انسانی کو قطرہ آب سے پیدا کیا۔ پھر قطرہ آب میں تبدیلیاں پیدا کیں۔ پھر اس کو گوشت میں تبدیل کیا پھر اس میں ہڈیاں پیدا کیں۔ اور پھر اس کے اوپر چمڑا لگایا۔ اب کہاں عناصر اور کہاں انسان جیسی ہستی۔ سے سننے اور دیکھنے والا بنادیا۔ قرآن پاک نے جگہ جگہ انسان کی توجہ اس کی پیدائش کی طرف دلائی ہے۔ انسان اپنی وجہ تخلیق کی طرف غور کرے کہ وہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے کیا بنادیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل کے طور پر تخلیق انسانی ایک بہترین دلیل ہے۔ علاوہ ازیں ، انسان کا صرف وجود ہی تخلیق نہیں کیا۔ بلکہ اس میں ظاہری اور باطنی قویٰ پیدا کئے۔ باطنی قویٰ میں روح نفس عقل اور دیگر باطنی حواس رکھے۔ ان میں جتنے لطائف ہیں وہ بلند سے بلند چلے جاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ آخری لطیفہ نور القدس سے بھی بڑھ کر حجر بئحت ہے جس کے اندر تجلی الہٰی کا نمونہ ہوتا ہے۔ جہاں تک ظاہری قویٰ کا تعلق ہے قرآن پاک کے الفا ظ میں اللہ تعالیٰ نے انسان سے زیادہ حسین و جمیل کوئی چیز پیدا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے احسن شکل و صورت انسان کو عطا کی۔ تو گویا یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کی دلیل ہیں۔ آسمانوں کی تخلیق : انسانی تخلیق کے بعد آسمانوں کی تخلیق کو دوسری دلیل کے طور پر پیش کیا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ آسمانوں کو کیسے تہ بر تہ پیدا کیا۔ جو آسمان ہمیں نظر آتا ہے۔ یہ آسمان دنیا ہے جس کو اللہ نے ستاروں اور پہاڑوں سے مزین فرمایا۔ سورة ملک میں ارشاد ہے آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے زینت بخشی۔ ان کے حسن و جمال کا مشاہدہ کرنا ہو تو رات کے اندھیرے میں کرو۔ باقی چھ آسمان ا س سے اوپر تہ بر تہ ہیں ۔ اور سب سے اوپر بہشت ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانی ہے۔ شمس و قمر کی ضیا پاشیاں : آسمانوں کا ذکر کرنے کے بعد چاند اور سورج کی تابانیوں کو بطور دلیل پیش کیا ارشاد ہوتا ہے۔ اور ان آسمانوں کے اندر چاند کو نور بنایا۔ چاند کی دھیمی دھیمی اور میٹھی میٹھی چاندنی کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کئی مفاد وابستہ کر رکھے ہیں۔ پھلوں میں رطوبت ، رس اور مٹھاس چاند کی مرہو منت ہے ۔ اور پھر اندھیری راتوں میں روشنی کا مینار بھی ہے۔ اسی طرح سورج کے متعلق فرمایا۔ اور سورج کو روشن چراغ بنایا۔ اس کی روشنی اور حرارت میں بیشمار مفاد ہیں۔ حیوانات ، نباتات ، جمادات ہر چیز کے لیے سورج کی حرارت اور روشنی لازمی ہے۔ ورنہ کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ اب تو سائنس کا زمانہ ہے ۔ ایٹمی دور ہے۔ انسان سورج کی شعائوں سے بہت کام لینے لگا ہے۔ جوں جوں تیل کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں انسان سائنسی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اب سورج کی شعاعوں سے گھروں میں چولہے گرم کئے جائیں گے۔ کھانا پکایا جائے گا اور بیشمار کام لیے جائیں گے۔ جس دن سے اللہ تعالیٰ نے سورج کو پیدا کیا۔ اس کا خزانہ برابر چل رہا ہے۔ انسان جن ذخائر کو نکالتا ہے وہ کبھی نہ کبھی ختم ہوجاتے ہیں ۔ مگر اللہ نے سورج میں روشنی اور حرارت کا ایسا خزانہ رکھا ہے کہ جب تک نظام شمسی کو قائم رکھنا منظور ہے ، یہ جیسا رہے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک دن آئے گا جب سورج کو بےنور کردیا جائے گا۔ اس کی تمام طاقتیں چھین لی جائیں گی۔ جیسا فرمایا یعنی جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا۔ فرمایا جو شخص چاند اور سورج کی ضیا پاشیاں اور ان سے مستفید ہو کر بھی ان سے دلیل نہیں پکڑتا اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہیں لاتا ، وہ بالکل عقل کا اندھا ہے اسے ذرا بھی تمیز نہیں۔ انسان ہر حالت میں زمین سے وابستہ ہے : اگلی دلیل کے طور پر فرمایا : ذرا غور کرو ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین سے بطور نباتات پیدا کیا۔ انسان کی ابتداء بھی مٹی سے ہوئی اور پھر اس کی خوراک کا ذریعہ بھی زمین ہی کو بنایا۔ انسان کی غذا کو زمین سے پیدا کیا۔ اگر غذا ہی نہ ہوگی تو مواد کہاں ہوں گے۔ مواد نہیں تو خون پیدا نہیں ہوگا۔ اور انسانی زندگی باقی نہیں رہے گی۔ گویا تخلیق اور زندگی کی بقا کا انحصار زمین پر ہے۔ زمین کی وابستگی یہیں ختم نہیں ہوجاتی ، بلکہ پھر تمہیں زمین ہی میں واپس لوٹا ئیگا۔ جب مقررہ وقت پر انسان کی موت واقع ہوگی تو زمین میں ہی دفن ہوگا ۔ جسا سورة عبس میں فرمایا۔ پھر موت دی اور قبر میں ڈال دیا۔ گویا اس کی واپسی کی جگہ بھی زمین ہی ٹھہری۔ اور پھر قیامت کو اسی زمین سے ہی اٹھایا جائے گا۔ دوسری جگہ وضاحت کے ساتھ فرمایا۔ یعنی زمین سے تمہیں پید ا کیا ، اسی میں لوٹائیں گے اور پھر اسی سے دوبارہ نکالیں گے۔ فرمایا اسی میں تم کو لوٹائیگا اور پھر اسی سے تم کو نکالے گا۔ تو گویا انسان کی توجہ اس طرف دلائی کہ تم ہر روز لوگوں کو پیدا ہوتے اور مرتے دیکھتے ہو۔ اسی پر قیاس کر کے دوبارہ اٹھائے جانے پر بھی ایمان لے آئو۔ ا اور ان مشاہدات کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل پکڑو۔ زمین سے وابستگی کی ایک اور حقیقت بیان کی اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنادیا۔ جس پر آرام کرتے ہو۔ نہ بہت سخت ہے ، نہ بہت نرم بلکہ اسے انسان کے حسب ِ حال بنایا۔ تاکہ اس کے نشان زدہ کشادہ راستوں پر چل سکو۔ زمین پر بیشمار راستے بنا دیے۔ تاکہ لوگ اپنی معاشی ضروریات کے لیے سفر اور نقل و حمل کرسکیں۔ آسمانی راستے : حضرت علی ؓ نے خطبے کے دوران فرمایا۔ کہ اے لوگو ! میں زمین کی نسبت آسمانی راستوں کو زیادہ جانتا ہوں۔ آسمانی راستوں سے مراد ایمان اور نیکی کے راستے ہیں۔ آئو میں تمہیں بتائوں جن راستوں پر چل کر تم قرب الہٰی اور رضائے خداوندی حاصل کرسکتے ہو۔ زمینی راستوں سے تو تم واقف ہو جن سے پانی ضروریات پوری کرتے ہو ، مگر آسمان کے راستے مجھ سے پوچھو ، جو ایمان نیکی اور اطاعت کی طرف جاتے ہیں۔ الغرض نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے یہ تمام مشاہدات پیش کئے اور توحید کی دعوت دی۔ کہ ان دلائل کی موجودگی میں تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔