70. Surah Al-Ma'aarij

المعارجThe Ascending Stairways · 44 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 70:1–14

سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ Open ayah 70:1 in the Quran reader

مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذات جو واقع ہونے والا ہے۔

لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ Open ayah 70:2 in the Quran reader

کافروں پر۔ اس کو کوئی ہٹناے والا نہیں۔

مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ Open ayah 70:3 in the Quran reader

وہ عذاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو سیڑھیوں والا ہے۔

تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ Open ayah 70:4 in the Quran reader

عروج کریں گے فرشتے اور جبریل امین اس کی طرف ایک دن میں جسکی مقدار پچاس ہزار کے برابر ہے۔

فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا Open ayah 70:5 in the Quran reader

پس آپ اچھا صبر کریں۔

اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ Open ayah 70:6 in the Quran reader

بیشک یہ لوگ اسے بعید خیال کرتے ہیں۔

وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ Open ayah 70:7 in the Quran reader

اور ہم اس کے قریب دیکھ رہے ہیں۔

یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ Open ayah 70:8 in the Quran reader

جس دن آسمان پگلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ Open ayah 70:9 in the Quran reader

اور پہاڑ رنگین دھنی ہوئی اُون کی مانند ہوجائیں گے۔

وَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ Open ayah 70:10 in the Quran reader

اور اس دن کوئی دوست کسی دوست کو نہیں پوچھے گا۔

یُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ Open ayah 70:11 in the Quran reader

ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے ، مجرم خواہش کرے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کا فدیہ دیدے۔

وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ Open ayah 70:12 in the Quran reader

اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو۔

وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ Open ayah 70:13 in the Quran reader

اور اپنے اس قبیلہ کو جو اس کو پناہ دیتا تھا۔

وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ Open ayah 70:14 in the Quran reader

اور سب زمین پر رہنے والوں کو بھی (فدہ میں پیش کر دے) پھر اپنے آپ کو بچالے۔

کوائف اور مضامین : اس سورة کا نام المعارج ہے۔ اس کی تیسری آیت میں معارج کا لفظ ہے جس سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کے دو رکوع چوالیس آیتیں ، دو سو سولہ کلمات اور آٹھ سو اکسٹھ حروف ہیں۔ اس کے مضامین گزشتہ سورة الحاقہ سے ملتے ہیں۔ اس سورة کے ابتدا میں قیامت کا ذکر ہے ۔ آخر رکوع میں نبوت اور رسالت کا انکار کرنے والوں کا رد ہے۔ اس سورة میں بھی زیادہ تر قیامت کے بارے میں ارشادات ہیں۔ سابقہ سورة سے ربط : اس سے پہلی سورة میں بیان ہوا کہ مشرکین جن کو قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا۔ وہ بڑا افسوس کریں گے۔ اور جہنم میں داخل ہونے کی وجہ یہ بیان کریں گے کہ یعنی خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور مسکین کو کھانا کھلانے کا انتظام نہیں کرتے تھے۔ اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اسی ذہن کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے متعلق جلدی کر رہے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ عذاب لٰہی جلدی کیوں نہیں آتا۔ خود عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر جب وہ قیامت کا دن آئے گا۔ تو یہ لوگ آرزو کریں گے کہ بیوی ، بھائی قبیلہ ، مال وغیرہ سب کچھ فدیہ میں دے کر نجات حاصل کرلیں مگر انہیں نجات حاصل نہیں ہوگی۔ عذاب کا مطالبہ : ارشاد ربانی ہے۔ مانگا ہے ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہے۔ یہ مشرکین کے اس مطالبہ کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ وہ اپنے منہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ قیامت جلدی کیوں نہیں آتی۔ اور جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں وہ واقع کیوں نہیں ہوتا۔ سائل نکرہ ہے اس کے دو معنے ہوتے ہیں۔ ا س کا ایک معنی پوچھنا یا استفیار کرنا ہے اور دوسرا معنی مانگنا یا طلب کرنا ۔ اس جگہ سال سے مراد طلب کرنا ہے۔ کیا سائل سے مراد پیغمبر خدا ہے : سائل سے کون مراد ہے۔ مفسرین نے اس کی دو تفسیریں کی ہیں۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے کہ سائل سے مراد خود پیغمبر خدا ہیں۔ بعض دوسری آیات سے پتہ چلتا ہے کہ جب مشرکین ہٹ دھرمی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبیوں کا انکار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے رسول اور نبی خود بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے تھے۔ یعنی اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ کردے۔ یعنی ان پر عذاب نازل فرما اور انکو اپنی گرفت میں لے۔ اس لیے شاہ عبدالقادر (رح) سائل سے پیغمبر خدا مراد لیتے ہیں یعنی پیغمبر خدا نے تمہارے لیے عذاب مانگا ہے۔ ایسا عذاب جس کو کوئی ٹال نہیں سکتا وہ آکر رہے گا۔ اگر سائل کا یہ معنی بھی کیا جائے تو درست ہے۔ کیونکہ انبیاء (علیہ السلام) کے حالات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کی ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا یعنی اے ہمارے رب ! روئے زمین پر کسی کافر کو بسنے والا نہ رہنے دے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی ایسا ہی کہا تھا یعنی اے اللہ ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ کر دے۔ حضور ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورة زخرف کے آخر میں نبی کی زبان سے فرمایا اے میرے پروردگار ! یہ قوم تو ایمان نہیں لائی اب تو ہی فیصلہ کر۔ سائل سے مراد کافر اور مشرک ہیں : بعض ددسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس جگہ سائل سے مراد پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات نہیں بلکہ کفار و مشرکین ہیں ، جو اپنے منہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جس سزا سے تو ہمیں ڈراتا ہے اسے لاتا کیوں نہیں۔ ا سی طرح قیامت کے متعلق استفسار کرتے تھے۔ یعنی اگر قیامت کا وعدہ برحق ہے تو کب پورا ہوگا۔ مشرکین میں سے ابوجہل اور نضرابن حارث ابن کلدہ وغیرہ اس قسم کی بات کرتے تھے۔ جیسا سورة انفال میں ہے۔ اگر محمد درست کہتے ہیں تو اسے اللہ ! تو ہم پر پتھروں کی بارش کردے یا سخت ترین عذاب نازل فرما۔ اس طرح گویا اپنے منہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ اور یہ محض تعصب اور عناد کی وجہ سے ایسا مطالبہ کرتے تھے۔ الغرض فرمایا ایک مانگنے والے نے ایسا عذاب مانگا ہے جو واقع ہو کر رہنے والا ہے۔ کافروں پر اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں وہ آکر رہیگا۔ وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہے سیڑھیوں والا۔ لفظ معارج کی تشریح : معارج کے اسی لفظ سے سورة کا نام سورة المعارج ہے۔ معارج چڑھتے کی جگہ کو کہتے ہیں مفسرین نے اس کا معنی بلندیوں والا ، آسمانوں والا ، درجوں والا ، فضیلتوں والا ، سیڑھیوں والا بھی کیا ہے۔ جب ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جاتے ہیں تو انہیں بڑی سیڑھیاں عروج کرنا پڑتا ہے۔ معراج بھی اسی لفظ سے ہی یعنی عروج کرنا معراج سیڑھی کو بھی کہتے ہیں جس پر آدمی عروج کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ ایک موقع پر جبرائیل (علیہ السلام) حضور ﷺ کے پاس آئے تو حضور ﷺ نے سوال کیا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ خطے کون سے ہیں تو جبریل (علیہ السلام) نے فوراََ عروج کیا۔ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آکر جواب دیا کہ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ خطے مسجدیں ہیں۔ اور ناپسندیدہ خطے بازار ہیں جہاں ہر قسم کا جھوٹ ، فریب ، فراڈ جھوٹی قسمیں اور دغاوغیرہ ہوتا ہے۔ وہاں شیطان کا جھنڈا گڑا رہتا ہے۔ مسجدیں اللہ کے ذکر اور عبادت کا مقام ہیں لہذایہ سب سے زیادہ پسندیدہ خطے ہیں۔ الغرض معارج کا معنی عروج والا اور بلندیوں والا ہے۔ عروج ملائکہ : ارشاد ہوتا ہے عروع کرتے ہیں فرشتے اور جبرائیل امین اس کی طرف جیسا سورة قدر میں فرمایا۔ یعنی نازل ہوتے ہیں فرشتے اور خاص طور پر روح الامین ۔ یعنی قرآن پاک آپ کے دل پر روح الامین لائے ہیں۔ سورة نبا میں ہے جس دن فرشتے اور خاص طور پر روح الامین صفت بستہ کھڑے ہوں گے۔ روح الامین سب فرشرتوں سے زیادہ مقرب ہیں ، وحی لانے والے ہیں۔ تو فرمایا عروج کریں گے اس کی طرف ملائکہ اور روح ایک دن میں جس کی مقدر پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ اس دن کی تفسیر میں کرام نے بہت سی باتیں بیان فرمائیں ہیں سب سے مشہور بات یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے عروج کریں گے فرشتے اور روح ایک دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ تیرے رب کے پا س ایک دن ایسا ہے۔ جیسا تم ایک ہزار سال شمار کرتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی سکیم اور اس کا فرمان اس کا حکم اتنی مقدار میں جاری ہوتا ہے۔ پچاس ہزار سال کا دن : امام حس بصری (رح) فرماتے ہیں کہ ابتدائے نفخ یعنی پہلا صور پھونکے جانے سے لے کر جنت یا دوزخ میں داخل ہونے تک کا عرضہ پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ عام طور پر مشہور تفسیریہی ہے ۔ کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے ۔ کہ تنا لمبا ہوگا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جس طرح بعض گزشتہ اقوام کی سزا کے لیے مختلف عرصہ مقرر کیا گیا۔ اسی طرح قیامت کے دنکا عرصہ پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ مثلاََبعض قوموں کو اسی طرح سزا دی گئی کہ یکدم ختم ہوگئے۔ جبرائیل نے ایک چیخ ماری اور ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ بعض قوموں پر سزا کی کیفیت چند گھنٹوں تک اور بعض پر سارا دن قائم رہی۔ بعض قوموں کو تین دن تک سزا ہوتی رہی۔ قوم فرعون چند گھنٹوں میں غرق ہوگئی۔ اسی طرح طوفان کا واقعہ چھ مہینے تک جاری رہا بعض قوموں پر قحط نازل کردیا۔ جو کئی سال پر محیط رہا۔ اعمال نامے کے متعلق آتا ہے کہ انسان کے اعمال دن کے وقت جاتے ہیں۔ یہ پورا دن ہوتا ہے کہیں فرمایا کہ ہفتے کے بعد رپورٹ جاتی ہے۔ کہیں سالانہ رپورٹ ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے مختلف واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اور اسی طرح سمجھ لیں کہ قیامت کا وجود واقعہ ہوگا وہ پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ مسلمانوں کا عروج وزوال : حضور ﷺ کے بعد دنیا میں مسلمانوں کو جو عروج حاصل ہوا۔ اس کی مدت ایک ہزار سال بنتی ہے۔ پانچ سال تک اقتدار عربوں کے پاس رہا اور اگلے پانچ سال سلجوقی اور ترک برسراقتدر رہے۔ اس کے بعد زوال شروع ہوا۔ ہنود کا غلبہ ہوگیا۔ انگریزغالب آگئے۔ مسلمانوں کا عروج ایک ہزار سال تک قائم رہا۔ یہ غلبہ صرف دینی طور پر ہی نہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی مسلمان غالب رہے۔ مسلمانوں کا موجودہ انحطاط جو کئی صدیوں پر محیط ہے۔ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اب مسلمان اس قدر کمزور ہیں کہ دنیا میں ان کو کوئی وقعت نہیں۔ یہ اگرچہ اجلاس کر رہے ہیں ۔ میٹنگیں بلا رہے ہیں۔ اتفاق و اتحاد کے ریزولیوشن پاس کر رہے ہیں۔ مگر اس کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اسلام آباد کانفرنس کا کیا نتیجہ مرتب ہوا۔ اس سے چارماہ پہلے بھی کانفرس ہوئی مگر اس کا بھی کیا اثرہوا۔ اس لحاظ سے تو اچھا ہے کہ مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا بیٹھ کر بات چیت کا موقعہ تو مل رہا ہے۔ یہ بھی اچھی علامت ہے۔ اس سے پہلے تو یہ بھی محال تھا کفار کو اس قدر غلبہ حاصل ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع بھی نہیں ملتا تھا ۔ غیر اقوام کی رخنہ اندازی : آیندہ بھی غیر اقوام مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق میں پھوٹ ڈالیں گی۔ یہ بڑی لاقتیں رخنے ڈالنے کی کوشش کریں گی۔ یہ نفاق کی ایسا بیج ڈالتے ہیں کہ مسلمانون کو پتہ بھی نہیں چلتا اور انہیں آپس میں لڑادیتے ہیں۔ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی (رح) نے ایک واقع کہا تھا کہ اگر سمندر میں دو مچھلیاں آپس میں لڑرہی ہوں تو میں یقین سے کہوں گا کہ اس میں بھی انگریز کا دخل ہے۔ تاہم یہ بات باعث اطمینان ہے کہ مسلمانوں نے انحطاط کے اس زمانے میں مل بیٹھنا شروع کردیا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دے کہ ان میں حیات نو آجائے۔ ان کو عزت کا مقام حاصل ہو۔ ہر مسلمان چاہتا تو یہی ہے کہ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو عزت نصیب ہو ، اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کریں مگر سلطنت اقوام غالب کی جادوگری ایسا ہونے نہیں دیتی۔ خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا مزدور اگر ، پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری یہ حالت اس مالک الملک سے انحراف کی وجہ سے ہے جس کی حیقیقی حکومت قائم ہے۔ سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے ، سلطنت اس کی فقط باقی بتان آذری۔ مسلمانوں کے زوال کی وجہ : مسلمانوں کے زوال کی وجہ یہ ہے کہ وہ دین اور خدا کی اطاعت سے برگشتہ ہیں پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔ حضرت نبی کریم کا ارشاد ہے کہ عزت و وقار اس وقت حاصل ہوگا جب دین کے مرکز پر واپس پلٹ آئو گے۔ اس کے بغیر عزت و ناموس کا حصول ممکن نہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر قریش میں دو آدمی صلاحیت والے ہوں تو سلطنت ان کے گھر سے باہر نہیں جائے گی۔ معلوم ہوا کہ وہ آدمی بھی بلاصلاحیت باقی نہ رہے ، نہ عباسیوں میں رہے ، نہ امویوں میں ، ورنہ خلافت ان سے باہر نہ جاتی۔ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے سلجوقیوں کو توفیق دی تو ترکوں نے چار سو سال تک یورپی طاقتوں کا منہ توڑ جواب دیا۔ یہی ترک جن پر پچھلی جنگ میں انگریز نے کفر کا فتویٰ لگوایا۔ ہندوستان میں صرف ایک عالم دین مولانا شیخ الہند (رح) کے علاوہ بیشتر پیروں اور مولویوں نے انگریز کی حمایت میں ترکیوں پر کفر کا فتوی لگایا۔ یہ شیخ الہند (رح) ہی تھے جنہوں نے اس فتوے کے خلاف جہاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترک گنہگار تو ہو سکتے ہیں مگر کافر نہیں ہوسکتے۔ لہذا ان کے خلاف لڑائی کے لئے جانا قطعی غلط ہے۔ بہر حال معمول کے مطابق ان پر بھی انحطاط آیا ، عیاشی آئی ، جیسا کہ سلطنت کا خاصا ہے کہ ابتداء شمشیر وسنان سے ہوتی ہے ، مگر اختتام طائوس و رباب پر ہوتا ہے۔ یہاں پر مغلوں کا حال ہی دیکھ لیں کہ ان کا اخیر شعر و شاعری اور ناچ گانے پر ہوا۔ مومن کے لیے لمبا عرصہ بھی مختصر ہوگا : حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کا وقت بڑا دراز ہے ۔ شیخ ابن عربی (رح) کا بھی قول ہے کہ پل صراط کا سفر پندہ ہزار سال میں طے ہوگا لوگ پانچ ہزار سال کے عرصے میں پل صراط پر چڑھیں گے ، پانچ ہزار سال کا عرصہ اس پر سفر کریں گے اور پانچ ہزار سال میں نیچے اتر جائیں گے۔ یہ یہ رویات کشفی ہے حضور ﷺ کا فرمان نہیں ہے۔ ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عرصہ اگرچہ بہت طویل ہے مگر مومن پر یہ عر صہ اٹنا مختصر ہوگا۔ جتنے عرصہ میں چار رکعت نماز ادا کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسکے ذہن کو اس قدر مطمئن رکھے گا کہ اتنا لمبا عرصہ اسے اتنا مختصر معلوم ہوگا۔ صبر کی تلقین : فرمای کہ کافر لوگ جلدی کرتے ہیں مگر آپ اچھا صبر کریں ۔ اضطراب اور بیقراری کا اظہار نہ کریں۔ بد دعا بھی نہ کریں۔ بلکہ صبر کریں۔ ہر چیز اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے۔ قبل ازوقت کوئی چیز نہیں آئیگی۔ لہذا آپ پریشان نہ ہوں کفار آپ سے تمسخر کرتے ہیں۔ اپنے منہ سے عذاب مانگتے ہیں۔ قیامت کا وقوع چاہتے ہیں۔ آپ کو شاعر اور مجنون کہتے ہیں۔ دیوانہ اور کاہن کہتے ہیں۔ جھوٹا اور مفتری کہتے ہیں۔ مگر آپ ان سب کی پروا کئے بغیر صبر سے کام لیں۔ پچھلی سورة میں بھی فرمایا کہ آپ صبر کریں اور مچھلی والے پیغمبر کی طرح بےصبری نہ کریں۔ جس کی وجہ سے وہ ابتلا میں پڑگئے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی تھے مگر جلد بازی کی وجہ سے آزمائش سے دو چار ہونا پڑا۔ لہذا آپ صبر استقلال کا دامن نہ چھوڑیں ، تنگ دل نہ ہوں ، زبان پر حرف شکایت نہ لائیں۔ کوئی تکلیف آئے ، صدمہ گزرے تو صبر اور نماز سے مدد لیں۔ نما ز پڑھیں اللہ کی طرف رجوح کریں تو ہر ایذا کا مقابلہ ہوگا۔ قیامت قریب ہے : نبی ﷺ کو کفار کی ایذا رسانی پر صبر کی تلقین کے بعد ارشاد ہوا کہ یہ لوگ جس عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسے بعید خیال کرتے ہیں حالا ن کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں۔ یہ ماضی اور حال تو ہمارے اعتبار سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو یہ ماضی ، حال اور مستقبل کی کوئی چیز نہیں۔ مزید برآں جو چیز گزر گئی وہ تو بعید ہوگئی مگر جو چیز قطعی طو ر پر آنے والی ہے ، وہ تو بہر حال قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مطالبے کو ضرور پورا کرے گا ۔ اور ان کا منہ مانگا عذاب آکر رہے گا۔ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا : فرمایا جب وہ دن آئے گا تو حال یہ ہوگا آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا۔ اس کی رنگت تبدیل ہوجائے گی۔ ایک وقت آئے گا کہ آسمان دریچے دریچے ہوجائے گا۔ پھٹ جائے گا۔ اور سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ وہ تمام چیزیں جو آج نظر نہیں آتیں ، وہ سب نظر آئیں گی ، انسان انہیں دیکھ سکیں گے۔ پہاڑ جو اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی مخلوق ہے۔ اور اللہ نے انہیں ابتدائے افرنیشن سے زمین پر ٹکایا ہوا ہے۔ ان کی حلات یہ ہوجائے ۔ یعنی پہاڑ رنگین دھنی ہوئی اون کی مانند ہوجائیں گے۔ رنگین اون کو کہتے ہیں۔ تو پہاڑوں کے ذرات منتشرہ ہوجائیں گے۔ سیاہ وسفید ہر قسم کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ بالکل ایسے جیسے رنگین اون دھن دی جاتی ہے۔ دوست دوست کو نہیں پوچھے گا : گذشتہ سورة میں کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ قیامت والے دن نہ تو ان کو اچھی خوراک ملے گی جس سنے ان میں قوت مدفعت پیدا ہو اور نہ کوئی دوست ہوگا۔ جو تکلیف میں ان کی غمگساری کرسکے ۔ اسی جگہ بھی فرمایا اور اس دن دنیا کا کوئی دوست اپنے دوست کو نہیں پوچے گا۔ دوسری سورة میں فرمایا کہ آج کے دوست کل وہاں دشمن بن جائیں گے۔ ماسوائے متقیوں کے یعنی وہ پرہیز گار اور متقی لو گ جن کی دوستی محض اللہ کے لیے تھی ، وہ وہاں بھی قائم رہے گی۔ اس کے علاوہ کوئی دوست کسی کو نہیں پوچھے گا۔ نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ ایک دوسرے کو سامنے دیکھیں گے۔ پہچانیں گے کہ دنیا میں یہ میرا دوست تھا ، مخلص تھا ، جگری تھا مگر اس دن کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ کیونکہ انہوں نے کام دینے والے اعمال ہی سر انجام نہیں دیے ۔ نہ ایمان لائے ، نہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کئے اسی لیے آج کون کسی کو پوچھیگا ، سب کو اپنی اپنی فکر ہوگی۔ بیٹے کسی کام نہیں آئینگے : اس دن مجرم خواہش کرے گا کہ کاش وہ عذاب سے بیٹوں کے ساتھ فدیہ دے دے۔ وہی بیٹے جو رشتے میں سب سے قریب اور عزیز ہوتے ہیں اور جن کی خاطر اس نے دنیا میں جھوٹ بولا ، چوری کی ، خیانت کی کیونکہ یہ فطری طور پر پیارے ہوتے ہیں تو اس دن خواہش کرے گا کہ ان کو فدیہ دے کر اپنی جان بچالوں مگر اس کی یہ حسر ت پوری نہیں ہوسکے گی۔ جیسا سورة عبس میں فرمایا اس دن انسان اپنے بھائی سے ماں باپ سے اور بیوی بیٹوں سے بھاگے گا۔ بیوی اور بھائی بھی فدیہ نہیں بنیں گے : بیوی جو دنیا میں اس کی راز دار تھی ، چاہے گا کہ اسے فدیہ میں دے کر اپنی جان چھڑا لوں یعنی بیوی میری بجائے جہنم میں چلی جائے اور میں بچ جائوں۔ اسی طرح بھائی جو دنیا میں دست بازوں ہوتا ہے۔ فارسی میں کہتے کہ ہر کہ برادر ندارو ، قوت بازو ندارو ، اور یہ بھی مقولہ ہے کہ جس کی بیوی نہیں ہے اس کو آرام نہیں ہے۔ اور اسی طرح ہر کہ مادر ندرو ، شفقت ندارو ، جس کی ماں نہیں وہ شفقت سے محروم ہے۔ الغرض اس دن مجرم خواہش کرے گا۔ کہ بیوی اور بھائی کو فدیہ میں پیش کر دے۔ مگر یہ بھی نہیں ہوگا۔ خاندانی بڑائی ناکام ہوجائے گی۔ وہ قبیلہ جس کی رسم و رواج ادا کرنے کے لیے بڑی بڑی ڈھنیگیں مارتا تھا۔ کہتا تھا ہمارا خاندان اور فیملی ایسی ہے ہماری قوم ایسی ہے اور اس کے لیے جائزتمام رسوم ادا ر کرتا تھا۔ خواہش کرے گا کہ سارے قبیلے کو فدیہ دے کر اپنی جا ن چھڑا لوں ۔ وہ قبیلہ جو اس کو پناہ دیتا تھا دنیا میں اسے فدیہ میں پیش کردوں۔ مگر وہ قبیلہ بھی اس کے کسی کام نہ آئے گا۔ روئے زمین کا کوئی فدیہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ کہے گا کاش ساری زمین اور اس پر رہنے والے سب کو فدیہ دیکر بچ جائوں بین یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔ دوسری جگہ فرمایا کہ اگر ساری زمین خزانے اور سونے سے بھری ہوئی ہو ، اور اس جیسی اور بھی ہو اور انسان چاہے کہ یہ سب کچھ فدیہ دے کر جان بچالے تو اللہ نے فرمایا قبول نہیں۔ مسلم شریف کی حدیث میں آتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ اے ابن آدم ! اگر ساری زمین سونے کی بھری ہوئی ہو تو کیا تم اس کا فدیہ دینے کیلئے تیار ہو۔ آدمی عرض کرے گا۔ ہاں مولا کریم میں تیار ہوں۔ ارشاد ہوگا تم جھوٹے ہو ، میں نے تم سے ایک تھوڑی چیز کا دنیا میں مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر تم نے دنیا میں میری اتنی بات نہ مانی ، اب سونے کی بھری ہوئی ساری دنیا فدیہ دینے کیلئے تیار ہو ، تم جھوٹے ہو۔ الغرض فرمایا کہ زمین والے جتنے بھی ہیں ، کہے گا کہ ان کو فدیہ دیکر اپنے آپ کو بچالے ، فرمایا ایسا نہیں ہوگا۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ وجوہات بیان فرمائی ہیں جن کی بنا پر ایسا نہیں ہوسکے گا
Ayahs 70:15–28

كَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ Open ayah 70:15 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہیں ہوگا بیشک وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔

نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ Open ayah 70:16 in the Quran reader

کھینچنے والی کلیجہ کو۔

تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ Open ayah 70:17 in the Quran reader

دوذخ ان لوگوں کو پکارے گی جنہوں نے پشت پھیری اور رد گردانی کی۔

وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى Open ayah 70:18 in the Quran reader

جس نے مال جمع کیا اور سمیٹ سمیٹ کر رکھا۔

اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ Open ayah 70:19 in the Quran reader

بیشک انسان جی کا کچاپیدا کیا گیا ہے۔

اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ Open ayah 70:20 in the Quran reader

جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بےصبرا ہوجاتا ہے۔

وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ Open ayah 70:21 in the Quran reader

اور جب اسے بھلائی پہنچتی ہے تو بخیل بن کر بیٹھ جاتا ہے۔

اِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 70:22 in the Quran reader

مگر نمازی۔

الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:23 in the Quran reader

جو اپنی نماز میں مدادمت کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ Open ayah 70:24 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کے مالوں میں حق مقرر ہے۔

لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ Open ayah 70:25 in the Quran reader

سائل کا اور محروم کا ۔

وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ Open ayah 70:26 in the Quran reader

اور جو لوگ قیامت کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ Open ayah 70:27 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

اِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ Open ayah 70:28 in the Quran reader

بیشک ان کے رب کا عذاب بےفکر ہونے کی چیز نہیں ہے۔

گذشہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانے منہ سے عذاب مانگنے والوں اور قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کا رد فرمایا۔ اور کہا کہ یہ لوگ قیامت کو بعید سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ قریب ہے اور اپنے وقت پر آئے گی۔ اس دن مجرم آرزو کریگا کہ کاش اپنے بیٹوں ، بیوی ، بھائی ، قبیلے اور تمام روئے زمین والوں کو فدیہ دے کر اپنی جان چھڑالے ، مگر ایسا نہیں ہوگا۔ فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اول تو ان تمام چیزوں کا فدیہ بننا ہی محال ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو یہ باطل آرزو پوری نہیں ہوگی۔ اس مقام پر سب سے پہلے بیٹوں کا ذکر کیا کہ آدمی کا سب سے زیادہ حق اور تسلط بیٹوں پر ہوتا ہے۔ اگر کہیں یر غمال رکھنا ہو تو سب سے پہلے یہی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد انسان کا تسلط اپنی بیوی پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد بھائی اور پھر سارا قبیلہ ، عام اجنبی لوگوں کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔ تو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اسی ترتیب کے ساتھ ذکر کایا کہ انسان خواہش کرے گا کہ فلاں کو فدیہ میں دے دوں فلاں کو دے دوں ، مگر ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ دوسری جگہ یہ الفاظ میں یعنی اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ دوذخ مجرم کو خود طلب کرے گی : فرمایا ہرگز ایسا نہیں ہوگا کہ مجر م فدیہ دے کر پانی جان بچا لے بلکہ بیشک وہ تو جلانے والی آگ ہے۔ نقلی کا معنی جلانے والی ، آتش سوزاں اور کھینچنے والی ہے۔ اطراف کی شوی ہاتھ پائوں کو بھی کہا جاتا ہے۔ اور اس کا اطلاق اندرونی اعضاء پر بھی ہوتا ہے۔ اور بعض نے اس کا معنی کلیجہ کیا ہے۔ یعنی کلیجے کو کھینچتی ہے۔ حدیث شریف میں اس کی کیفیت بھی بیان ہوئی ہے کہ قیامت کے دن جب جمگھٹا ہوگا۔ تو بعض آدمیوں کو دوذخ خود طلب کرے گی۔ اور کہے گی اے منافق میری طرف آئو۔ اے مال اکٹھا کرنے والے ادھر آئو۔ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ اس دن لوگ کثیر تعداد میں ہونے کی وجہ سے ملے جلے ہوں گے۔ دوزخ میں سے اونٹ کی گردن جیسی ایک گردن نکلے گی اور جن لوگوں کو پکڑنا مقصود ہوگا۔ انہیں چن چن کر پکڑ یگی جیسے کرین پکڑتی ہے۔ اور اٹھا کرلے جائے گی۔ وہ گردن یا کرین سو سال کی مسافت تک لمبی ہوگی اور مجرمین کو چن چن کر نکال لے گی۔ تو فرمایا وہ آگ کلیجے کی کھینچتی ہے جس طرح سورة ہمزہ میں فرمای یہ ایسی آگ ہوگی جو سب سے پہلے دل پر چڑھتی ہے انسان کے اعضاء کا نمبر تو بعد میں آئے گا۔ پہلے یہ دل پر اثر انداز ہوگی۔ لہذا شویٰ سے مراد اگر کلیجہ ہے تو بھی اور اگر اعضاء و اطراف ہیں تو بھی آگ کا اثر سب سے پہلے ان چیزوں پر ہوگا۔ مجرمین پر فردجرم : فرمایا یعنی دوزخ ان لوگوں کو پکارے گی جنہوں نے پشت پھیری اور ردگرانی کی۔ یعنی دوزخ ان لوگوں کو طلب کرے گی جنہوں نے اطاعت الٰہی کی طرف سے پیٹھ پھیری اور ایمان لانے سے روگردانی کی ۔ کہے گی آئو ! تمہاری سزا کا وقت آن پہنچا ہے۔ تمہارے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے۔ تو جس نے پشت پھری معصیت کے ساتھ اور اعراض کیا ایمان لانے سے اور اس کے ساتھ یعنی جس نے مال جمع کای وہ سمیٹ سمیٹ کر رکھا۔ لفظ جمع میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ اس نے حلال و حرام کی تمیز کے بغیر مال جمع کیا یہ نہیں دیکھا کہ مکروہ ہے یا مشتبہ بس اکٹھا ہی کرتا چلا گیا جیسا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں لوگوں کی ذہنیت ہوتی ہے حلال و حرام کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا۔ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس ، وغیرہ کا سرمای دارانہ نظام ہی ہمارے ملک میں رائج ہے جس میں ایک ہی بھوت سوار ہے۔ مال جمع کرو ، بینک بیلنس قائم کرو۔ کاروبار کرو ، حلال و حرام کی کوئی پروا نہ کرو۔ کسب حلا ل اور کسب حرام : حضرت عمر ؓ کے زمانے میں حضور ﷺ کے ایک صحابی حضرت سمرہ ؓ شیرہ کا کاروبار کرتے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے اس پر بھی گرفت کی۔ کہ تم شیرہ بیچتے ہو۔ اس سے لوگ شراب بنائیں گے جو کہ حرام ہے۔ لہذا یہ کام ترک کردو ، ورنہ گرفت ہوگی۔ اگرچہ شیرہ بذاتہ حرام نہیں ہے۔ مگر اس سے شراب بنانے کا احتمال ہے لہذا عافیت اسی میں ہے کہ یہ کاروبار ترک کردو۔ یہ مشکوک ہے۔ ترمذی شریف میں روایت موجود ہے حضرت عمر ؓ بازار میں گشت کرتے تھے اور اعلان کرتے تھے جس کو مسئلے کا علم نہ ہو ، وہ بازار میں بیٹھ کر تجارت نہ کرے۔ پہلے حرام و حلال کی تمیز سیکھو کہ کونسا کاروبار جائز ہے۔ اور کون سا ناجائز اس کے بعد تجارت کرو ، جو حلال و حرام کو نہیں سمجھتا اسے تجار کی اجازت نہیں ہوگی۔ حضرت عمر ؓ اس قدر محتاط تھے۔ اسلامی نظام معشیت کا تعلق اس اصول سے ہے کہ باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانا جائز نہیں ہے۔ دگنا چوگنا سود مت کھائو۔ مگر یہاں جو ذہنیت کار فرما ہے وہ قیصر و کسریٰ کی ذہنیت ہے۔ اس دور میں اسے امریکہ اور برطانیہ کی ذہنیت کہا جاسکتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ ذہنیت پہلے زمانے میں بھی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے۔ مال جمع کرنے میں یہ دیکھا جاتا کہ سنیما کی کمائی ہے یا انشورنس کی ۔ پیسہ سود سے آرہا ہے یا سٹے سے۔ خنزیر کا ٹھیکہ لے رکھا ہے یا تھیٹر کی کمائی ہے۔ بس مال جمع کرنے سے غرض ہے خواہ کسی راستے سے آئے ۔ تو اس لیے دوزخ پکار پکار کر کہے گی۔ ادھر آئو تم نے دنیا میں ایمان سے رو گردانی کی تھی معصیت میں آلودہ تھے۔ آئو ! آج اپنے کئے کا بدلہ چکھو۔ جمع مال میں جلال و حرام کی تمیز : اہل اسلام کیلئے مال جمع کرنے پر بھی پابندی ہے آپس کا مال باطل طریقے سے مت کھائی حلال و حرام کی تمیز پید ا کرو۔ روزی کے حصول کے لیے اچھا راستہ پکڑو۔ وہ طریقہ اختیار کرو۔ جس کو اللہ اس کے دین پر شریعت نے جائز قرار دیا ہے۔ غلط راستے پر مت چلو یہ فلم ایکٹر کتنی کمائی کرتے ہیں۔ لاکھوں میں کھیلتے ہیں ۔ مگر کمائی حرام ہے۔ بینڈا باجے والے ، کھیل تماشے والے ، فوٹو گرافر اور بنک والے بڑی کا کمائی کرتے ہیں مگر حرام ہے۔ جسمہ ساز اور ان کی تجارت کرنے والے یہ سب ناجائز ذرائع ہیں۔ خدا کی جانت سے لعنت برستی ہے۔ تو گویا جمع مال میں حلا ل و حرام کی تمیز ضروری ہے۔ جائز و ناجائز اخراجات : جس طرح طلب رزق میں حلال ذرائع کی پابندی ہے اسی طرح خرچ کرنے میں بھی پابندی ہے ہمارے عطا کردہ مال میں سے خرچ کرتے ہیں مگر کس طرح۔ اس طرح کہ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ جائز راستے پر چلو ، اور خرچ کرنے میں کنجوسی نہ کرو۔ انفاق میں پہلے فرائض آتے ہیں۔ پہلا نمبر زکوٰۃ ہے ۔ صدقہ فطر اور قربانی ہے اس کے بعد نفقات واجبہ ہیں۔ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرو۔ بھائی یا بہن غریب ہے۔ چچا زاد بھائی نادار ہے۔ اس کے پاس وسائل نہیں تو حنفی قانون میں واجب ہے کہ اس کو اتنا دے کہ اس کا بھی وقت بسر ہو سکے۔ اس کے علاوہ عبادت میں خرچ کرنے کا موقع ہے جیسے حج وعمرہ ۔ مساکین اور مسافر حقدار ہیں سب کے درجہ بدرجہ حق رسی کرے۔ تو یہاں فرمایا کہ اس نے مال جمع کرتے وقت بھی حلال و حرام کی تمیز نہ کی اور خرچ کرتے وقت بھی بخل سے کام لیا کیونکہ اس نظام معیشت کا طریق کا رہی یہ ہے کہ کمائی جس طرح بھی آئے اور خرچ کرو۔ جہاں جی چاہے مگر اسلام میں تو پابندی ہے حرام جگہوں پر خرچ نہیں کرسکتے۔ فضول خرچی منع ہے۔ سب سے پہلے فرائض ادا کرو۔ اسکے بعد جائز ضرورتیں پوری کرو۔ باطل رسومات کھیل تماشے اور عیاشی کے کاموں میں خرچ نہ کرو۔ بلکہ اسلام کے متعلق کردہ راستے پر چلو اسی میں فلاح ہے۔ رفاہیت بالغہ : شاہ والی اللہ (رح) فرماتے ہیں قیصرو کسری کی حکومتیں رفاہیت بالغہ میں مبتلا تھیں۔ ہر چیز عمدہ سے عمدہ استعمال کرتے تھے۔ پہننا ہے تو بہت اعلیٰ ، لباس ہے تو نفیس ترین ، رہائش تو بڑے اعلیٰ درجے کی خوراک بہت عمدہ فرماتے ہیں یہی رفاہیت بالغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عرب کی سرزمین پر آخری بنی کو مبعوث فرمایا اور رفاہیت بالغہ کے نظام کو باطل قراردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعے سادگی کی تعلیم دی ، تعیش اور اسراف کو ناجائز قرار دیا۔ وہ لوگ میز کرسی کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرش پر بیٹھ کر کھانے کا طریقہ سکھایا۔ وہ لو گ چارپائی کے بغیر سوتے نہیں تھے ، آپ نے زمین پر سو کر دکھایا۔ اور اسے سنت قرار دیا۔ آپ نے سادہ زندگی بسر کرکے تکلف سے منع فرمایا۔ حضور کا اسوئہ حسنہ : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اعلان کرایا میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں طلب نہیں کرتا اور میں کسی چیز میں تکلف کرنے والا نہیں ہوں۔ خوراک جیسی ملی کھالی ، لباس جیسا میسر آیا پہن لیا۔ رہائش کیلئے جس قسم کا مکان ملا۔ اس میں رہائش پذیر ہوگیا۔ سواری کے لیے آپ نے کھبی اونٹ یا گھوڑے کے لیے اصرار نہیں کیا۔ بلکہ بسا اوقات آپ گدھے پر سوار ہوجاتے تھے۔ ترمذی شریف میں موجود ہے۔ حضرت جابر ؓ کی بیمار پرسی کے لیے جا رہے ہیں۔ تین میل کا سفر ہے۔ صحابہ کی جماعت ساتھ ہے مگر سواری کے لیے گدھا بھی میسر نہیں ہوا۔ کلر والی زمین پر پیدل ہی چل رہے ہیں جبکہ گرد و غبار بھی اڑرہا ہے۔ آپ نے کوئی تکلف نہیں فرمایا۔ بہرحال میں یہ سارا مضمون آجاتا ہے۔ جمع کرتے وقت حلا لو حرام کی تمیز نہ کی ، مشتبہ اور مکروہ کا خیال نہ کیا۔ خرچ کرنے کی جگہ پر خرچ نہ کیا۔ بخل سے کام لیا۔ حقوق ادا نہ کئے۔ اسراف اور ناجائز کاموں پر خرچ کیا۔ لہو ولعب کی سرپرستی کی۔ تو ایسے لوگوں کو دوزخ پکار پکار کر بلائے گی کہ تمہاری سزا کا وقت آچکا ہے۔ اس کی طرف آئو۔ انسانی فطرت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ عام طور پر حال یہ ہے کہ انسان جی کا کچا پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بخیل بن کر بیٹھ جاتا ہے یعنی دونوں صورتوں میں اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ یا تو صبر کا دامین چھوڑ دیتا ہے یا بخل پر اتر آتا ہے۔ ہاں جو ایماندار اور نمازی ہوں گے وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر آٹھ خصلتوں کا ذکر فرمایا۔ جن کے حاملین کی یہ حالت نہیں ہوگی۔ نہ تو وہ تکلیف کے وقت صبر کا دامن چھوڑیں گے۔ اور نہ آسائش میں بخیل بنیں گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے انسان میں دو خصلتیں بہت بُری ہیں۔ ایک انتہائی درجے کی بزدلی اور دوسرے انتہائی درجے کا بخل۔ بخل یہ ہے کہ مال موجود ہے ہونے کے باوجود جائز مقام پر خرچ نہ کرے۔ جائز ضروریات کے لیے خرچ کر نیکی اجازت : حضرت ہندہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میرا خاوند کنجوی آدمی ہے ، اتنا بھی نہیں دیتا کہ بچوں کا جائز خرچہ پورا ہو سکے۔ تو کیا میں اس کے علم کے بغیر اس کے مال میں سے اتنا لے سکتی ہوں ، جس سے بچوں کا جائز خرچہ پورا کروں ، تو آپ نے اجازت دے دی۔ فرمایا تم جائز کاموں کے لیے لے سکتی ہو۔ معروف یعنی جائز ضروریات کے لیے ، نہ کہ ضائع کرنے کے لیے۔ نمازی بخیل نہیں ہوتا : تو فرمایا ذکر نمازیوں کا کیا ، مراد ایمان والے لوگ ہیں۔ اور ایمان والوں کی اس اعلیٰ خصلت کو بیان فرمایا کہ جو ہوگا وہ بخیل نہیں ہوگا۔ وہ تو پورے حقوق ادا رکے گا دوسری جگہ فرمایا اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے ایمانوں کو ضائع کردے یعنی تمہاری نمازوں کو وہ نمازیں جو تم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھیں وہ تبدیلی قبلہ کی بنا ۔ پر ضائع نہیں جائیں گی بلکہ مقبو ل ہوں گی ، جس طرح وہاں ایمان کا ذکر کر کے مراد نماز لیا ہے۔ اسی طرح یہاں نمازی سے مراد ایماندار لوگ ہیں۔ نماز میں مداومت : وہ ایماندار جو اپنی نماز میں مداومت کریت ہیں مدا ومت میں بہت سی چیزیں آجاتی ہے۔ اگر نما ز ادا کی تو بےقراری پیدا ہوجاتی ہے۔ سکون نہیں آتا۔ اسی لیے جتنے صالح سلف گزرے ہیں وہ نماز کا اہتمام وقت سے پہلے ہی شروع کردیتے تھے۔ امام ابو طالب مکی (رح) نے لکھا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اذان سے پہلے ہی نما زکی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ نماز کی اذان کوئی راستے میں سنتے ہیں کوئی مسجد میں پہنچ کر جب تک وہ نماز ادا نہیں کرلیتے انہیں قرار نہیں آتا۔ الغرض نماز کی مداومت میں یہ ساری چیزیں شامل ہیں یعنی وضو ، طہارت ، لباس کی پاکیزگی ، وقت کی پابندی اور باقی لوازمات۔ دائمون سے مراد یہ نہیں ہے کہ کبھی پڑھ لی کبھی چھوڑ دی بلکہ مداومت سے مراد اپنے لوازمات کے ساتھ نماز کو ہمیشگی سے قائم کرنا ہے۔ سائل و محروم کی حق رسی : اس کے بعد اگلی خاصیت بیان فرمای اور وہ لوگ جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق مقرر ہے۔ شریعت نے حقیقی سائل اور محتاج کو سوال کرنے کی اجازت دی ہے جب تک اس کا کام نہ چل جائے۔ بلاوجہ مانگنا ناجائز اور حرام ہے کسی پر جوئی مصیبت آگئی ہے۔ حادثہ پیش آگیا تو وان آگیا۔ تو ایسی صورت میں مانگنا جائز ہے۔ یہاں تک ذرا گزران ٹھیک ہوجائے اس کے علاوہ سوال کی اجازت نہیں۔ سائل اور محروم کون ہیں : بعض فرماتے ہیں کہ سائل وہ ہے جو طلب کرتا ہے اور محروم ہو ہے جو طلب نہیں کرتا ۔ بیوی طلب کرتی ہے ۔ نوکر اپنی مزدوری طلب کرتا ہے اس کا حق معلوم ہے۔ یہ سائل ہیں۔ ہاں مسکین ، مسافر ، یتیم طلب نہیں کرتا ان کا حق مقرر نہیں ہے۔ یہ محروم ہیں ، بعض فرماتے ہیں کہ سائل وہ ہے جو زبان سے بول کر مانگتا ہے۔ جیسے انسان یہ سائل ہے۔ اور محروم وہ ہے جو قوت گویائی نہیں رکھتا جیسے جانور ، لہذا یہ محروم ہیں ، جانور پال رکھا ہے۔ اس کی خوراک کا ذمہ دار اس کا مالک ہے۔ اگر اسے بھوکا رکھے گا تو سخت مجرم ہوگا۔ اس محروم کا بھی حق ہے۔ روز قیامت کی تصدیق : تیسری صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی یعنی جو قیامت کے دن کی تصدیق کرتے ہیں یہ تو اس سورة کا موضوع ہے ۔ کفار قیامت کا ہی انکار کرتے تھے۔ مگر ایمانداری جو ہیں وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ کہ قیامت برحق ہے۔ اور آنے والی ہے۔ اس دن حساب کتاب ہوگا اور اعمال کا بدلہ ملے گا۔ چوتھی صفت یہ بیان فرمائی وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ انہیں خطرہ لاحق رہتا ہے۔ کہ کہیں اللہ تعالیٰ گرفت میں نہ لے لے۔ اسی خوف سے ایسا شخص نماز ترک نہیں کرے گا ، جرائم سے بچے گا۔ حلال کمائی کرے گا۔ اسراف سے اجتناب کرے گا۔ سارے انبیاء (علیہ السلام) سے یہی بات سمجھائی یعنی اگر میں اپنے رب کی مخالفت کروں گا ، تو بڑے دن کے عذاب میں پکڑا جائون گا۔ اسی عتقاد کی بنا پر مومن اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے : فرمایا تیرے رب کا عذاب بےفکر ہونے کی چیز نہیں ہے۔ مومن کو ہر وقت اس کی فکر لگی رہنی چاہیے۔ خدا کے عذا ب سے بےفکر ہونا کفر کی نشانی ہے۔ اور اسی طرح قطعی طور پر پر امید ہونا یہ بھی کفر کی علامت ہے۔ یعنی نہ تو یہ خیال کرے کہ اللہ تعالیٰ مجھے کبھی نہیں بخشے گا۔ اور نہ یہ ایمان ہو کہ میں ضرور ہی بخشا جائوں گا۔ بلکہ یعنی ایمان اور امید کے درمیان ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے بارے بارے میں فرمایا۔ میرے بندے مجھے رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے ہیں۔ تمام انبیاء کرام ہماتے انعامات میں رغبت بھی رکھتے ہیں۔ اور ہماری گرفت سے ڈرتی بھی ہیں۔ ایمان کا تقاضا یہی ہے۔
Ayahs 70:29–35

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 70:29 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے شہوت کے مقامات کی حفاظت کرنیوالے ہیں۔

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 70:30 in the Quran reader

سوائے اپنی بیویوں کے یا جن کے مالک ہیں ان کے ہاتھ (لونڈیاں) تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 70:31 in the Quran reader

پس جو شخص ان کے علاوہ کوئی راستہ تلاش کرے تو یہ لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:32 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ Open ayah 70:33 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی شہادتوں پر قائم رہنے والے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ Open ayah 70:34 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ Open ayah 70:35 in the Quran reader

یہ لوگ بہشتوں میں ہوں گے باعزت۔

گذشتہ سے پیوستہ : اس سے پہلے درس میں ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا انکار کرنے والوں کی تردید بیان کی اور قیامت کے وقوع اور مجرمین کی سزا کا حال بیان کیا یہ بھی بتایا کہ قیامت کے دن مجرمین تمنا کریں گے کہ کسی طرح ان کی جان بچ جائے ۔ فرمایا ان کی طرف سے کسی قسم کا فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جہنم ان کو پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی جس میں سزا پائیں گے۔ اس کے بعد عام انسانوں کی حرص اور بےصبری کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی بان کیا کہ عام طور پر انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے خیر پہنچتی ہے۔ تو بخیل بن جاتا ہے۔ اور جب شر پہنچتا ہے تو بےصبری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو اس گروہ میں مستثنیٰ کیا جو قرآن پاک میں مذکورہ آٹھ صفات سے متصف ہیں ۔ یعنی نما زمین مداد مت اختیار کرنے والے جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا حصہ مقرر ہے۔ جو قیامت کی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ گذشتہ درس میں یہ چار صفات ہوئیں۔ شرمگاہ کی حفاظت : بقیہ چار صفات میں وہ لوگ جو اپنے شہوت کے مقامات کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے یا جن کے مالک ہیں ان کے داہنے ہاتھ تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔ ہاں جو شخص ان کے علاوہ کوئی اور راستہ تلاش کرے گا۔ یہ لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ جن میں یہ صفت پائی جائے گی یعنی اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں گے وہ بھی بےصبری والے گروہ سے متثنیٰ ہوں گے۔ جائز ذرائع ، نکاح اور ملک یمین : قضائے شہوت کئے لیے اسلام نے وہی ذرائع جائز قرار دیے ایک نکاح اور دوسرا ملک یمین۔ پہلے ذریہ کے لیے ازواج کا لفظ یعنی جوڑا ستعمال کیا۔ ازواج ، روج کی جمع ہے۔ عوت کا جوڑا مرد ہے۔ مرد کا عورت ، گویا زوج کا لفظ مر د اور عورت ہر دو پر بولا جاتا ہے۔ تو ازواج سے مراد وہ جوڑے ہیں جو عقد نکاح کے ذریعے آپس میں منسلک ہوجائیں۔ ہر عورت ہر مرد کے لیے زوج نہیں بن سکتی۔ بلکہ ا س کے لیے بہت سی شرائط ہیں۔ ویسے لغوی اعتبار سے تو مرد وزن جوڑا ہے جیسے۔ یعنی مرد اور عورت کو جوڑا پیدا کیا مگر شہوت رانی کے لیے ہر عورت ہر مرد کی زوج نہیں بن سکتی ، نہ ہر مرد ہ ہر عورت کا زوج بن سکتا ہے۔ جوڑا بننے کے لیے دو ہی صورتیں یعنی نکا ح یا ملک یمین۔ نکاح کے ضمن میں یہ شرط ہے کہ عقد نکاح اور پاکدامنی مقصود ہو۔ محض دو ستانہ قائم کرکے قضائے شہوت کرلی ، یہ حرام ہے۔ دوسری صورت کی ہے کہ عورت مرد کی ملکیت ہو یعنی شرعی لونڈی ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ باقی تمام ذرائع کو حرام قرار دیا۔ شرعی لونڈی کون ہے : لونڈیاں اور غلام بنانا حکومت اسلامی کی ذمہ داری ہے۔ اس زمانے میں تو یہ چیز بھی نہیں ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں ساری دنیا میں لونڈی غلام کا رواج تھا۔ اور ہزاروں سال سے چلا آرہا تھا۔ جنگ میں دشمن کے جو مردو زن پکڑے جاتے تھے۔ ان کو حکومت غلام اور لونڈیاں قرا ر دیتی تھی۔ انکو فاتح آپس میں تقسیم کرلیتے تھے۔ اور پھر ان کی خریدو فروخت بھی ہوتی تھی۔ کسی عورت کا کسی مرد کی ملکیت میں آنا۔ اس مرد کے لیے بغیر نکاح عورت کو تصرف میں لانا اور قضائے شہوت کرنا ناجائز تھا۔ لڑائی میں جو قیدی بنتے تھے۔ ان کے ساتھ چار قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یا تو ان قیدیوں پر احسان کرو ، انہیں ویسے ہی رہا کردو یا ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دو ۔ تیسری صورت یہ تھی دشمن کے ایسے قیدیوں کو قتل کردیا جاتا تھا ۔ اور چوتھی صورت میں غلام اور لونڈی بنا لیا جاتا تھا۔ غلام اور لونڈی بنانا ان چار صورتوں میں سے ایک ہے۔ یہ لازم نہیں ہے کہ قیدی کو ہر حالت میں غلام یا لونڈی ہی بنا لیا جائے۔ بلکہ اگر پہلی تین صورتوں میں سے کوئی بھی مناسب نہ ہو تو یہ چوتھی صورت اختیار کر کے غلام اور لونڈی بنایا جاسکتا ہے۔ اس قسم کا فیصلہ حضور ﷺ کے زمانے میں ہوا ہے۔ بلکہ ساری دنیا میں یہ رواج موجود تھا ، تو جس عورت کو لونڈی بناکر کسی کی ملکیت میں دے دیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ بلا نکاح شہوت رانی جائز ہوتی تھی۔ نکاح کی ضرورت نہیں تھی۔ اسی کو کہا گیا ہے۔ لونڈی کے لیے بعض شرائط : ہاں البتہ لونڈی کے بھی بعض شرائط ہیں۔ اگر لونڈی کا مالک خود کسی دوسرے مرد کے ساتھ نکاح کر دے تو پھر اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس سے خدمت کے باقی کام لے سکتا ہے۔ مگر اس کے قریب نہیں جاسکتا۔ قطعاََ حرام ہے۔ مالک لونڈی کو بیچ بھی سکتا ہے۔ اس قسم کی خرید وفروخت عام ہوتی تھی۔ غلام اور لونڈی بکتے بکاتے تھے۔ مگر کافی عرصہ سے اب یہ دستور باقی نہیں رہا۔ اٹھارہویں صدی میں یورپ اور ایشیاء کے لوگوں نے مل کر پیرس میں ایک کانفرنس کی تھی جس میں طے پایا تھا کہ لونڈی غلام کا نظام ختم ہونا چاہیے۔ چناچہ اس کے بعد دنیا میں یہ نظام باقی نہیں رہا۔ اس دور میں واحدذریہ نکاح ہے : اس دوران میں مسلمانوں پر زوال آگیا۔ اور جہاں میں دشمن کے مردوزن پر قبضہ اور انکی لونڈی غلام بنانے کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ لہذا قضائے شہوت کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہ گیا یعنی نکاح اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت جائز نہیں۔ ہم جنسی یعنی لواطت حرام ہے۔ یعنی ایک عورت کا دوسری عورت کے ساتھ ملط بھی حرام ہے۔ اسی طرح جانوروں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا ، حدیث میں اس پر بھی لعنت آئی ہے۔ اجرت دے کر زنا کرنا اور قضائے شہوت کے لیے متعہ کرنا بھی حرام ہے۔ یہ سب ذرائع میں آتے ہیں اور کوئی بھی جائز نہیں اللہ تعالیٰ نے شہوت رانی کی اجازت صرف زوج کی صورت میں دی ہے۔ نکاح کے لیے بعض شرائط : زوجیت سے صرف قضائے شہوت ہی مراد نہیں بلکہ یہ کئی ایک مقاصد کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قیداحصاں میں لانے والے ہوں۔ محض شہوت مقصود نہیں ہونی چاہیے صحیح طور پر نکاح ہو ، حقوق ادا کئے جائیں۔ اور نسل کشی مطلوب ہو۔ اس طرح نکاح میں آنے والی عورتوں کے لیے بھی بعض شرائط ہیں کہ وہ کسی دوسرے کی منکوحہ بیوی نہ ہو ، محرمات میں سے نہ ہو کہ ان کے ساتھ بھی نکاح جائز نہیں۔ اور پھر یہ ہے کہ دو یا زیادہ آدمیوں کی مشترکہ بیوی بھی نہیں ہو سکتی۔ صرف ایک کے لیے مختص ہونی چاہیے۔ اور اس کے اعلان برسرعام گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔ کہ فلاں عورت فلاں مر د کے ساتھ مختص ہے ، اس کا نکاح ہوا ہے۔ نکاح کا مقصد امور خانہ داری کی سرانجام دہی بھی ہے۔ اور نسل انسانی کا آگے بڑھانا بھی ایک بڑا مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر شہوت کو مسلط کرکے نسل انسانی کی بقاء کا ذریعہ پیدا کردیا ۔ کہ انسان اس بات پر مجبور ہے۔ متعہ اور نکاح میں فرق : نکاح کی صورت میں مذکورہ مقاصد پیش نظر ہوتے ہیں امور خانہ داری اور نسل انسانی کو آگے بڑھانا ، مگر متعہ میں محض شہو ت رانی مقصود ہوتی ہے۔ دو چار مہینے کے لیے وقتی طور پر متعہ کرلیا مقرر ہ مدت ختم ہوئی۔ تو معاملہ خود بخود ختم ہوگیا۔ نہ نسل صحیح ہوئی ، نہ عدت کی ضرورت ، نہ وراثت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ بلکہ نسل بھی حرام ہوگئی۔ نہ نسل کا ثبوت ، نہ امور خانہ داری مقصود بلکہ صرف شہوت رانی سے غرض۔ تو کے تحت یہ سب ذرائع حرام ہیں۔ اسلام اور لونڈی غلام : اس دور میں لونڈی غلام کا وجود تو ویسے ہی ختم ہوچکا ہے۔ ہاں آئندہ اگر کوئی موقع آئے کے کفار کے ساتھ جہاد ہو۔ مسلمانوں کو غلبہ حاصلہ ہو۔ قیدی مرد اور عورتیں آئیں۔ ان کی رہائی کی بھی کوئی صورت پیدا نہ ہو ، نہ فدیہ لینا مناسب ہو ، نہ احسان کر کے چھوڑدینا اور نہ ان کے قتل کی نوبت آئے تو پھر چوتھی صورت باقی رہ جاتی ہے ک انہیں غلام اور لونڈیاں بنا لیا جائے۔ ہاں اگر اس رواج کو کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ اسلام پر کوئی زوال نہیں آتا۔ اگر ساری دنیا کے لوگ مل کر اس رواج کو ختم کردیں کہ لونڈی غلام نہیں رکھنا ، تو درست ہے۔ ایسے قانون کو اسلام بھی پابندی کریگا۔ اس سے اسلام کے کسی اصول پر حرف نہیں آتا۔ لونڈی غلام بنانا فرض واجب نہیں : بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے لونڈی غلام بنانے کو روا رکھا ہے۔ یہ درست ہے۔ مگر یہ کوئی فرض واجب تو نہیں کہ لونڈی غلام بنانا لازمی امر ہو۔ چونکہ نزول قرآن کے وقت یہ بین الاقوامی رواج تھا۔ اس لیے اسلام نے بعض اصلاحات کے ساتھ اس کی اجازت دی ، لازم قرار نہیں دیا ۔ اس زمانے میں سارے کاروبار غلاموں کے سر پر تھے۔ اس وقت کے معاشی نظام میں ان کا وافر حصہ تھا۔ اگر اس نظام کو یک دم بند کردیا جاتا۔ تو دنیاوی کاروبار میں خلل واقع ہو سکتا تھا۔ لہذا اسلام نے اس کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ یہ تمہارے انسانی بھائی ہیں ، کسی وجہ سے تمہارے ماتحت ہوگئے ہیں۔ ان کے ساتھ انصاف کرو ، ان کا حق ادا کرو ، زیادتی نہ کرو۔ یہی نہیں کہ بلکہ غلام کی آزادی کو تغریراتی قوانین اسلام کا حصہ بنا کر ان کی آزادی کی راہ ہموار کردی۔ لہذا یہ الزام کہ اسلام لونڈی غلام بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ قطعاََ غلط اور بےبنیاد ہے۔ تو فرمایا جس نے جائز ذریعے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تلاش کیا۔ وہ تعدی کرنے والا ہے۔ شرمگاہ کی حفاظت کا یہ مطلب ہے ۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے اے اللہ میں ماہ شہوت کے شر سے تیر ی ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں اس میں شر ہے اور قدرت نے اسے انسان پر مسلط کردیا ہے۔ تاکہ نوع انسانی کا بقاء رہے۔ مگر اس کے ساتھ بہت سی شرائط عائد کردیں۔ جن کی پابندی ضروری ہے۔ کوئی مسلمان ان شرائط کے بغیر شہوت رانی نہیں کرسکتا۔ جو شخص اپنی شرمگاہ کی ناجائز ذرائع سے حفاظت کریگا ، وہی کامیاب ہوگا۔ اسی لیے فرمایا یہ پانچویں صفت ہے۔ امانت اور عہد کی حفاظت : نیکو کاروں کے گروہ کی چھٹی اور ساتویں صفت یہ بیان کی کہ وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد کی رعایت کرنے والے ہیں حفاظت کرنے والے ہیں۔ امانت میں ہر قسم کی خصوصی اور عمومی امانتیں شامل ہیں۔ خصوصی امانتوں کا تعلق حقوق اللہ سے ہے اس میں وضو غسل نماز وغیرہ کے مسائل شامل ہیں جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جو شخص وضو درست نہیں کرتا غسل جنابت صحیح نہیں کرتا۔ وہ امانت میں خیانت کرتا ہے۔ جو نماز کا خیال نہیں رکھتا ۔ زکوٰۃ کو چھپا تا ہے ۔ یا اس میں کمی پیشی کرتا ہے وہ بھی امانت میں خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ عمومی امانتوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے کسی سے کوئی امانت لے کر واپس نہ کرے کسی کا حق مارے چوری کرے۔ یہ عام امانتیں ہیں۔ لہذا مفسرین کرام فرماتے ہیں ک ان امانتوں میں تمام خصوصی اور عمومی احکام آجاتے ہیں۔ ان کی رعایت ضروری ہے۔ جو ان کی نگرانی کرے گا۔ فلاح پائے گا۔ جو ان کی حفاظت نہیں کرے گا۔ ناکام ہوگا جہنم کا شکار بنے گا۔ شہادت کی درستگی : آٹھویں اور آخری صفت ہے کہ اور وہ لوگ جو اپنی شہادتوں پر قائم ہیں یعنی گواہوں کو بلاکم وکاست بیان کرد یتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ محض اللہ کے لیے بلا رد رعایت شہادت کو قائم کرو۔ اس میں امیر و غریب کی پروانہ کرو۔ اگر شہادت درست ہوگی تو فیصلے بھی صحیح ہوں گے اور اگر رعایت کر دگے تو خرابی پیدا ہوگی۔ فسا د ہوگا ظلم ہوگا۔ لہذا مقدمہ ہو یا کوئی اور معاملہ گو اہی ٹھیخ ٹھیک دو ۔ انگریزی قانون شہادت : انگریزی قانون شہادت تو اس قسم کا ہے کہ پولیس اور وکیل خود شہادت پڑھاتے ہیں یوں کہنا ، یوں نہ کہنا ، ورنہ پھنس جائو گے۔ یا مقدمہ خراب ہوجائے گا ۔ بھلا اس قسم کی شہادت سے مقدے کا فیصلہ صحیح ہوسکتا ہے ؟ اس قسم کی گواہیاں حرام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تو یہ ہے جو کچھ دیکھا ہے حق و انصاف کے ساتھ گواہی دو ۔ انگریز کا قانون شہادت تو بالکل ہی غلط ہے۔ اس کے تحت قیامت تک درست فیصلہ نہیں ہوگا۔ کسی کو انصاف میسر نہیں آئے گا۔ سب معاملات خراب ہوں گے۔ جو جیتا وہ بھی ہارا وہ تو خراب ہوا ہی ہے۔ ان حالات میں لوگ صحیح فیصلے کی برکات سے محروم رہیں گے ناانصافی کا دور دورہ ہوگا۔ اگر کوئی شہادت کو چھپائے گا تو یہ بھی نفس شہادت کے خلاف ہوگا۔ اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل : فرمایا ان آٹھ صفات کے حامل لوگ جہنم کی دعوت سے بچ جائیں گے۔ آخر میں آٹھ صفات میں سے پہلی صفت کو پھر دہرایا۔ شروع میں فرمایا تھا اور یہاں فرمایا۔ یعنی وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے اللہ کے نزدیک پسندیدہ اعمال وہ ہیں جن پر ہمیشگی اختیار کی جائے اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک عمل ایک دن کیا ، اور چار دن غائب ہوگیا۔ یہاں حفاظت سے مراد مداومت ہے یعنی وہ لوگ نما ز کے ارکان ، واجبات ، سنن ، مستحبات ، اوقات سب کی حفاظت کرتے ہیں۔ قبولیت نماز کیلئے شرائط : سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز فوت نہ ہوجائے۔ ہر وقت یہی فکر لگی رہتی ہے پھر یہ کہ جو نماز پڑھتے ہیں وہ اس کے شرائط و آداب کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نماز کے لیے کپڑے کی پاکیزگی ۔ جسم کی طہارت اور وقت کی پابندی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ قبولیت نماز کے لیے اخلاص کی ضرورت ہے حلال روزی کی ضرورت ہے اگر لباس حرام پہنا ہے تو نماز کیسے قبول ہوگی۔ دعا کس طرح مستجاب ہوگی۔ یہ تمام چیزیں حفاظت نماز کے ضمن میں آتی ہیں۔ نماز مقرب الی اللہ ہے : اللہ تعالیٰ نے نما زکی خصوصی اہمیت کے پیش نظر اسے اول اور آخر ذکر کیا۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ نماز یعنی سب عبادات کی بنیاد اور یعنی اللہ سے قریب کرنے والی عبادت ہے۔ نماز اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے والی ہے۔ اگر کسی آقا کا بھاگا ہوا غلام اس کے حضور دست بستہ حاضر ہوجائے ، تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ نما زکی بھی یہی صورت ہے اپنے مالک الملک کے سامنے مئودب ہو کر کھڑا ہوجائے تو بچ جائے گا۔ وگرنہ مالک سخت قہر میں ہوگا یہ نماز غضب کو ٹھنڈا کرنے والی چیز ہے۔ نمازی کے لیے بشارت : اسی لیے فرمایا کہ نمازوں کی حفاظت کرنے والے اور آٹھ صفات کے حاملین جنت میں جائیں گے اور ان کی عزت کی جائیگی۔ ورنہ عام طور پر انسان حریص اور بےصبرا ہے۔ اس میں جزع فزع ہے۔ ایک حالت میں ناشکری کرتا ہے اور ایک حالت میں بےصبری کا اظہار کرتا ہے۔ ہاں ان آٹھ صفات والے لوگ جنت کے حقدار ہوں گے اور عزت پائیں گے۔ باقی محروم ہوں گے۔