69. Surah Al-Haaqqa

الحاقةThe Reality · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 69:1–12

اَلْحَآقَّةُۙ Open ayah 69:1 in the Quran reader

وہ ثابت ہونے والا واقعہ ۔

مَا الْحَآقَّةُۚ Open ayah 69:2 in the Quran reader

وہ ثابت ہونیوالا واقعہ کیا ہے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحَآقَّةُؕ Open ayah 69:3 in the Quran reader

اور اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ کو کس بتلایا کہ وہ ثابت ہونیوالا وقعہ کیا ہے۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ Open ayah 69:4 in the Quran reader

قوم ثمود اور قوم عام نے کھٹکھٹا دینے والی چیز کو جھٹلایا۔

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِیَةِ Open ayah 69:5 in the Quran reader

پس قوم ثمو د کو ایک خوفناک چیخ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِیْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَةٍۙ Open ayah 69:6 in the Quran reader

اور قوم عاد کو تندو تیز ہوا کے ساتھ ہلاک کیا گیا جو کہ حد سے بڑھنے والی تھی۔

سَخَّرَهَا عَلَیْهِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍۚ Open ayah 69:7 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان پر تند ہوا کو مسلط کردیا جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی۔ پس تم لوگوں کو اس کے اندر پچھاڑے ہوئے دیکھو گے گویا وہ کجھور کے تنے ہیں جو اکھاڑ کر پھینک دیے گئے ہوں۔

فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِیَةٍ Open ayah 69:8 in the Quran reader

پس کیا آپ دیکھتے ہیں ان میں سے کسی ایک فرد کو بھی بچا ہوا۔

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ Open ayah 69:9 in the Quran reader

اور فرعون اور اس سے پہلے لوگوں اور الٹی بستیوں والوں نے گناہ کیے تھے۔

فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً Open ayah 69:10 in the Quran reader

انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے پکڑا ان کی بڑی چڑھی ہوئی گرفت کے ساتھ۔

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ Open ayah 69:11 in the Quran reader

جب پانی میں طغیانی آگئی تو اے موجودہ زمانے کے لوگو ہم نے تمہیں (تمہارے آبائو اجداد) کو کشتی میں لاددیا۔

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِیَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِیَةٌ Open ayah 69:12 in the Quran reader

تاکہ تمہارے لیے یاد گار بنادیں ا س واقعہ کو اور یاد رکھنے والے کان یاد رکھیں۔

کوائف سورة : اس سورة کا نام سورة لحاقہ ہے۔ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی باون آیات اور دو رکوع ہیں۔ یہ سورة دو سوچھپن کلمات اور ایک ہزار چار سو اسی حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ : سابقہ سورة میں رسالت کا ذکر تھا۔ اللہ کے بنی اور رسول کو مجنون کہنے والوں کا رد تھا۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں۔ یہ محض امتحان کے لیے ہیں کسی کی مقبولیت کی نشانی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ باغ والوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ نے ان کا بھی امتحان لیا تھا۔ اس کے علاوہ منکرین قیامت کا رد فرمایا۔ اور انکے ساتھ آخرت میں پیش آنے والے حالات کا ذکر فرمایا آخر میں پھر رسالت کے مضمون کو تازہ کیا۔ اور مشرکین کی ایذا کے مقابلے میں صبر کی تلقین کی۔ جلد بازی سے منع فرمایا۔ مچھلی والے رسول کی مثال بیان کی کہ انہوں نے جلد بازی کی تو ابتلا میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا آپ ایسا نہ کریں بلکہ اپنے رب کے حکم کے سامنے صبر کرتے رہیں۔ اور مشرکین کی ایذائوں کو برداشت کریں۔ مضامین سورة ہذا : اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا ذکر فرمایا۔ کہ جزائے عمل یقینا واقع ہوگا۔ اور مجرموں کو سزا مل کر رہے گی۔ یہ بھی اشارہ کردیا کہ سز ادنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہر دو طریقوں سے جزائے عمل دیتے ہیں۔ تو گویا جزائے عمل سے سورة کو شروع کرکے آخر میں پھر رسالت کا ذکر فرمایا۔ پہلی سورة میں مشرکین کے اس الزام کا رد تھا جس میں وہ حضور ﷺ کو شاعر اور کاہن کہتے تھے۔ اور قرآن پاک کو کہانت اور شاعری سے نشیبہ دیتے تھے۔ اس سورة کی ابتدا میں جزائے عمل کا بیان ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی مجرم کو چھوڑتے نہیں۔ اسے دنیا میں سزا ملتی ہے اور آخرت میں بھی ملے گی۔ دنیا کی سزا دینوی اسباب کے دائرے کے اندر ملتی ہے۔ اور دنیا ککا نظام معطل نہیں کیا جاتا ۔ اور آخرت کی سزا مستقل طور پر ملے گی۔ الحافہ کا مفہوم : الحاقہ حق سے مشتق ہے۔ اور حق کے معنی ثابت ہونا ہے حق ثابت شدہ چیز کو کہتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اسم پاک بھی ہے۔ یعنی وہ ثابت اور قائم دائم ہے۔ جیسے حقوق ہیں ، کوئی حق اللہ ہے کوئی حق العباد ہے یعنی اللہ کا حق بھی ہے اور بندوں کا حق بھی ہے۔ تو گویا حق کا معنی ٰ ثابت ہونا اور حاقہ کا معنی وہ حادثہ ہے جو ثابت ہوگا ، یعنی ثابت ہونے والا حادثہ۔ جزائے عمل کا معتین وقت : جزائے عمل کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں تین لفظ استعمال کیے ہیں یعنی اور ان تینوں کا اطلاق قیامت پر کیا ہے جو کہ جزائے عمل کا اصلی وقت ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اس دن ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ یہاں پہلے صبر کی تلقین کی ، پھر الحاقہ کا ذکر کیا کہ وہ ثابت ہونے والا واقعہ یعنی قیامت ضرور برپا ہوگی مشرکین کہتے تھے یعنی نہ کوئی بعث ہے اور نہ حساب کتاب کے لیے قیامت یہ سب غلط کہتے ہیں کہ قیامت آنے والی ہے۔ وہ توحیدو رسالت کا بھی انکار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر قیامت کا ذکر فرمایا کہ جزائے عمل کے لیے وہ دن مقرر ہے۔ اس کے علاوہ تھوڑا سا توحید کا ذکر فرمایا اور دوسرے نمبر پر رسلت کا ذکر اور منکرین رسالت کا ر د فرمایا۔ الحاقہ کیا ہے ؟ : فرمایا وہ ثابت ہونے والا حادثہ وہ ثابت ہونے والا واقعہ کیا ہے کسی چیز کی اہمت کو ظاہر کرنے کے لیے یہ ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔ اور اے پیغمبر ﷺ آپ کو کس نے بتلایا کہ وہ ثابت ہونے والا واقعہ کیا ہے۔ کسی چیز کی زیادہ تاکید کے لیے یا تفہیم کے لیے اس قسم کا عنوان اختیار کیا جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہیں ۔ کیونکہ عام مخاطب ویسے ہی نہیں جانتے مگر جو اصلی مخاطب ہے اسے بھی گویا اس کا علم نہیں ۔ تو اس جگہ چند دینوی حاقے بیان کئے جو دینوی سزا کے طور پر مجرمین پر واقع ہوئے۔ اور اس کے بعد پھر بڑے حادثے یعنی قیامت کا ذکر کیا۔ اور اس کو حاقہ کے لفظ سے تعبیر کیا۔ جو کہ جزائے عمل کی اصل گھڑی ہے۔ یعنی کے واقع ہونے کا ذکر کیا اور پوری تفصیل بیان کی۔ قوم ثمود اور حاد کی سرکشی : الغرض یہاں چند حاقے بیان کئے جو ان مجرمین کو ملے جو جزائے عمل کا انکار کرتے تھے۔ منجلہ ان کے قوم ثمود اور عاد کا ذکر کیا قوم ثمود اور عاد نے قارعہ یعنی کھٹکھٹا دینے والی چیز کو جھٹلا یا۔ قرع کے معنی ٰ کھٹکھٹانا۔ ہلا دینا کہ وہ ہر چیز کو ہلا کر رکھ دے گی کوئی نظام قائم نہیں رہے گا۔ اور اس سے مراد قیامت ہے۔ تو گویا قوم ثمود اور عاد نے قیامت کے واقع ہونے کا انکار کردیا۔ جس کی وجہ سے وہ سزا کے مستوجب قرار پائے۔ سزا کی د وقسمیں : شاہ عبد العزیز محدث (رح) فرماتے ہیں کہ سزا دو قسم کی ہوتی ہے۔ بعض سزائیں صرف تنبیہ کے لیے ہوتی ہیں اور ان کو مسلسل نہیں رکھا جاتا۔ یہ سزا اس لیے دی جاتی ہے تاکہ لوگ سمجھ جائیں ۔ تبنیہ ہوجائے اور اس کے بعد سزا اٹھالی جاتی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ ہم بندوں کو تکلیف اور خوشحالی دے کر آزماتے ہیں۔ کبھی قحط ، کبھی زلزلہ ، مگر یہ سزا دائمی نہیں ہوتی بلکہ وقتی طور پر ہوتی ہے تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔ دوسری آیت مبارکہ میں ہے بسا اوقات ہم دنیا میں بڑے عذاب سے پہلے سزا دے دیتے ہیں تاکہ یہ لوگ خبردار ہو کر باز آجائیں۔ بڑا عذا ب تو قیامت کو آئے گا مگر اس سے پہلے بھی ہم سزا دے دیتے ہیں۔ اس کو ابتلاء کہتے ہیں۔ عذاب کی دوسری صورت یہ ہے کہ سزا آئی اور گرفتار ہوگیا۔ اب برزخ کا معاملہ شروع ہوگیا۔ جیسا کہ آگے فرعون ، عاد ، ثمود ، قوم لوط اور اصحاب ایکہ وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ جب خدا کی گرفت آئی ادھر غرق کیا ، اُدھر برزخ میں آگ پر پیش کردیے گئے۔ اور یہ حالت تا وقیامت مسلسل قائم رہے گی۔ اگرچہ برزخ کی سزا مکمل سزا نہیں ہے۔ تاہم فی الجملہ سزا ہے۔ اصل سزا تو قیامت کو آئے گی جب تمام اعمال کا آخری اور قطعی فیصلہ ہوگا ، مگر برزخ میں بھی سزا شروع ہوجاتی ہے۔ اور کچھ نہ کچھ ملتی رہتی ہے۔ اور پھر رعایت کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ سزا کی پہلی صورت ابتلا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ آزمائش کے لیے وقتی طور پر سزا دیتے ہیں تاکہ لوگ باز آجائیں۔ پھر اس کو اٹھایا جاتا ہے۔ مکہ والوں پر سات سال تک قحط نازل رہا۔ وہاں بھی یہی فرمایا اس کے بعد جب ہم بڑی پکڑ میں پکڑیں گے پھر مجرموں سے انتقام لیں گے۔ بڑی گرفت وہاں بدر کی لڑائی کو کہا گیا ہے۔ پہلے قحط میں مبتلا کیا پھر بڑی گرفت میں تمام بڑے بڑے اکابرمجرمین ہلاک ہوگئے۔ قوم ثمود اور عاد کی ہلاکت : تو فرمایا یعنی قوم عاد اور قوم ثمود نے کھٹکھٹادینے والی چیز قیمات کو جھٹلا دیا ۔ اس بت کی سزا یوں دی گئی کہ۔ قوم ثمود کو ایک چیخ اور زلزلہ کے ساتھ ہلا ک کیا گیا۔ طاغیہ کا معنی زلزلہ بھی ہوتا ہے۔ اور چیخ بھی یعنی سخت آواز ان دو چیزوں سے قوم ثمود کو ہلاک کیا گیا۔ اور جو قوم عاد تھی انہیں تند ہو ا کے ساتھ ہلا ک کیا گیا۔ جو کہ حد سے بڑھنے والی تھی۔ ہلاکت کے بیان میں تقدیم و تاخیر : اس مقام پر قوم ثمود کی ہلاکت کا پہلا بیان کیا گیا اور قوم عاد کا بعد میں حالانکہ تاریخی اعتبار سے ترتیب اس کے برعکس ہے۔ عاد پہلے گزرے ہیں۔ اور ثمود کا عروج عاد سے دو سال بعد ہوا۔ عاد یمن اور احقاب میں آباد تھے ، جب کہ ثمود وادی القریٰ اور تبوک وغیرہ کے علاقے میں آباد تھے قوم عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) آئے جو انہیں کی قوم کے فرد تھے۔ اور قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ اور یہ بعد میں آئے مگر یہاں سز ا کے ذکر میں قوم ثمود کو پہلے لایا گیا۔ اور قوم عاد کو بعد میں اس کے بعد فرعون اور الٹی بستی والوں کا ذکر ہے اور پھر قوم نوح کا حالانکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پہلے غرق ہوئی ، پھر عاد تباہ ہوئے اور پھر ثمود کی باری آئی۔ اس کے بعد الٹی بستی والے اور قوم شعیب کا نمبرآتا ہے اور اسب سے آخر میں فرعون کی ہلاکت ہے ۔ شاہ عبد العزیز (رح) فرماتے ہیں کہ ہلاکت کے بیان میں تقدیم و تاخیر میں ایک لطیف نکتہ پہناں ہے فرماتے ہیں کہ یہاں پر تاریخی ترتیب کو لمحوظ نہیں رکھا گیا بلکہ بیان میں سزا کی نوعیت کا خیال رکھا گیا ہے یعنی پہلے اس قوم کا ذکر کیا گیا جسے جلدی ہلاک کردیا گیا۔ قوم ثمود پر ایک چیخ آئی۔ ایک زلزلہ آیا اور وہ بتاہ ہوگئی۔ مگر قوم عاد کے متعلق فرمایا انہیں تندہوا کے ساتھ ہلاک کیا گیا ان پر تند ہوا ملسط کردی گئی جو سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی۔ آٹھ دن تک انہوں نے تکلیف اٹھائی اور پھر آخری دن بالکل ہی ہلاک کردیے گئے۔ تو گویا نوعیت کے اعتبار سے یہ سزا لمبی تھی جب کہ قوم ثمود کو یکدم ختم کردیا گیا۔ مزید برآں سزا کی نوعیت کے لحاظ سے قوم ثمود کو ایک چیز سے ہلاک کیا گیا۔ چیخ ہوا کہ کیفیت ہے ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے ایک چیخ ماری جگر پھٹ گئے۔ ہارٹ فیل ہوگئے۔ اور ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ یہ ہوا کی کیفیت ہے۔ برخاف اس سے قوم عاد ہو ا کے جسم سے ہلاک ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو مسلط کیا اس نے اکھاڑ پچھاڑ کیا۔ آدمیوں کو ادھر ادھر گرایا۔ ان کو آپس میں ٹکرایا اور آخر میں ان کو بالکل ہی ہلاک کردیا ۔ ہواسات دن مسلسل چلتی رہی اور آٹھویں دن ان کا کام تمام کردیا۔ تو گویا یہ ہلاکت ہوا کے جسم کے ذریعے ہوئی۔ فرعون اور قوم لوط کی ہلاکت : فرعون کی ہلاکت کے اسباب میں پانی ہے ، دریا ہے ، ساتھ مٹی ہے۔ گویا اس سزا میں کئی چیزیں شامل ہیں ، یہی حال قوم لوط کا ہے۔ وہاں ہوا بھی ہے ، طوفان بھی ہے ، پانی کی موجیں اٹھ رہی ہیں۔ بارش برس رہی ہے مٹی اور آگ بھی ہے۔ پتھر بھی ہیں۔ یہ ساری چیزیں سزا میں شریک ہیں۔ سزا نیچے سے بھی مل رہی ہے۔ اوپر سے بھی نازل ہورہی ہے۔ لہذا قرآن پاک نے اس مقام پر اقوام عالم کی ہلاکت کو تاریخی اعتبار سے نہیں بلکہ سزا کی نوعیت کے لحاظ سے تقدیم و تاخیر کے ساتھ بیان کیا ہے۔ قوم عاد کا حال : بہرحال قوم عاد کی سزا کی نوعیت یہ بھی تھی کہ ان پر تندہوا سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل مسلط رہی تم لوگوں کو اس کے اندر پچھاڑے ہوئے دیکھو گے۔ جیسا کہ کجھور کے تنے اکھاڑ کر زمین پر پھینک دیے گئے ہون۔ یہ لوگ بڑے جسم اور قدآور تھے۔ اس لیے انہیں کجھور کے تنوں سے تشبیہ دی گئی۔ یہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں ، مینار اور حوض بناتے تھے۔ بڑے طاقتور تھے اور اپنے جیسا طاقتور کسی دوسرے کو نہیں مانتے تھے۔ کہتے تھے ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے۔ انہوں نے خدا کو بھی فراموش کردیا۔ اس قوم میں تین جرائم خاص طور پر پائے جاتے تھے۔ ایک کفر و شرک دوسرا ظلم اور تیسرا تکبر۔ قوم ثمود کا حال : قریب قریب یہی حال قوم ثمود کا تھا۔ بڑے کاریگر ، صناع اور انجنئیر تھے۔ ان کے سترہ سو شہر اور بستیاں آباد تھیں۔ تبوک سے لے کر وادی القری تک زرخیز زمین ، گھنے باغات اور عالیشان عمارت تھیں۔ آج ان کے کھنڈرات دیکھ کر ہی آدمی حیران ہوجاتے ہیں۔ تبوک میں پہاڑوں کے اندر ان کے مکانات کے کھنڈرات اب بھی موجود ہیں ۔ کما درجے کی عمارت اور دلکش نقش ونگار بناتے تھے۔ کما ل درجے کے کاریگر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة عنکبوت میں ارشاد فرمایا کہ دنیا کے اعتبار سے یہ لوگ بڑی سوجھ بوجھ رکھتے تھے مگر دین کے معاملے میں بالکل نادان اور بڑے بیوقوف تھے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام : آج کی دنیا کی ترقی یافتہ اقوام بڑی سوجھ بوجھ کی مالک ہیں ، سائنس ، ٹیکنالوجی ، صنعت و حرفت اور اقتصاد بات کے مالک ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں۔ برخلاف اس کے مشرقی ممالک پس ماندہ ہیں ، غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ہیں یعنی ابھی ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ شاہ ولی اللہ (رح) کی زبان میں ترقی یافتہ اقوام میں عقل معاش کامل ہے۔ مگر عقل معاد بالکل نہیں۔ یہ لوگ عقل معاد سے بالکل خالی ہیں۔ انہیں عقل معاش مفید نہیں ہوگا۔ جونہی یہ معاش ختم ہوا ، یہ بھی ختم ہوگئے۔ آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ الغرض قوم عاد کے متعلق فرمایا کہ انہیں ایسا پچھاڑ کے رکھ دیا کہ ان کافروں میں سے کسی ایک فرد کو بھی باقی نہیں چھوڑا۔ یہ لوگ ہود (علیہ السلام) کی نبوت اور قیامت کا انکار کرتے تھے ان میں سے ایک کو بھی زندہ نہیں رہنے دیا گیا۔ فرعون اور الٹی بستیوں والے : پھر فرعون کی باری آئی اور اس سے پہلے الٹی بستیوں والے جن کو بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا۔ ان پر پتھر برسائے گئے اور آگ برسائی گئی ان کے کام ہی الٹے تھے ان لوگوں نے گناہ کئے تھے ، جرائم کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ رسول اللہ وحد لاشریک کی عبادت کرو وہ کہتے تھے۔ کیا تیرے جیسے بیوقوف آدمی کی وجہ سے ہم اپنے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑدیں۔ رسول کہتا تھا ظلم نہ کرو ، قیامت آنے والی ہے وہ کہتے تھے کوئی قیامت نہیں ہے۔ ڈھکو نسلے مارتے تھے ، بیہودہ باتیں کرتے تھے۔ رسول کے فرمان کو رد کرتے تھے تو اللہ نے پکڑا ان کو بڑی چڑھی ہوئی گرفت کے ساتھ رابیہ کا معنی چڑھی ہوئی گرف جس سیلاب اوپر چڑھتا ہے۔ یہ ابتلا نہیں تھی بلکہ سزا تھی۔ اس میں گرفتار ہو کر تباہ و برباد ہوگئے اکڑ اور تکبر سارا ختم ہوگیا۔ طوفان نوح : اس کے بعد طوفان نوح کا ذکر فرمایا ۔ جب پانی میں طغیانی آگئی ، پانی چڑھ آیا تو اے موجودہ زمانے کے لوگو ! ہم نے تمہیں چلنے والی کشتی میں لاددیا۔ یہ نوح (علیہ السلام) کا زمانہ تھا۔ آج اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے ابائو اجداد نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار نہ ہوئے ہوں ، وہی بچے تھے جو کشتی میں سوار ہوگئے۔ باقی سارے ا س طوفان کی نذر ہوگئے۔ تو گویا ہمارے ابائو اجداد کا کشتی نوح میں سوار ہونا ہماری ہی سوار ہونا ہے اور پھر انہیں میں سے اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ حاصل کلام : یہ تمام چیزیں اللہ کی گرفت تھیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے حاقے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑا حاقہ یعنی قیامت ضرور واقع ہو کر رہے گا۔ اس میں قیامت صغری ٰ اور قیامت کبریٰ کا مفہوم بھی آگیا۔ جو آدمی مر گیا ا س کی قیامت تو برپا ہوگئی۔ وہ تو عالم برزخ کی جزا و سزا میں مبتلا ہوگیا۔ اسی طرح بڑی قیامت تمام عالم پر یکبارگی آئے گی۔ جس طرح یہ قیامت صغریٰ برحق ہے۔ اسی طرح قیامت کبریٰ بھی برحق ہے ، ضرور برپا ہوگیا۔ یہ ان قوموں کی قیامت تھی جن کا حل ذکر کیا گیا ہے۔ بڑے بڑے مکانوں میں متمکن تھے قوم ثمود کی بڑی بڑی سترہ سولبتیاں تھیں اور ان کی بلڈنگوں کے نشانات آج بھی موجود ہیں اسی طرح غمدان قوم عاد کا مکان چالیس منزملہ تھا ، ہر منزل سے دوری تک چالیس گز کا فاصلہ تھا۔ اس کے کھنڈرات حضور ﷺ کے زمانے تک موجود تھے۔ قوم عاد کی یہ یاد گاریں پانچ ہزار سالہ پرانی تھیں اور ان کی صنعت وحرفت اور کاریگیر کی زندہ مثال تھیں۔ اہرام مصر بنانے والوں کو طاقت کا اندزاہ لگائیں ایک ایک پتھر پچھتر پچھتر من وزنی ایک دوسرے کے اوپر چڑھایا گیا تھا۔ یہ ہر م چار سو فٹ اونچا ہے۔ ان کا اوپر چڑھانا اور آپس میں جوڑنا کتنی اعلیٰ صنعت تھی۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ا س کشتی کو تمہارے لیے یاد گار بنادیا۔ کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے وہ بچ گئے اور انہیں کی نسل سے آئندہ دنیا کو قائم کیا اس واقعہ کو یاد رکھنے والے کان یاد رکھیں کہ دیکھو جب خدا کی سزا آتی ہے تو لوگ کس طریقے سے ہلاک ہوتے ہیں۔ تباہ و برباد ہوتے ہیں۔ اور صرف وہی بچتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بچانا چاہیں۔ یہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاق بیان کئے اور اس کے بعد بڑے حاقے یعنی قیامت کا ذکر فریاما۔
Ayahs 69:13–24

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌۙ Open ayah 69:13 in the Quran reader

پس جب صور میں پھونکا جائے گا ایک ہی بار پھونکنا۔

وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ Open ayah 69:14 in the Quran reader

زمین اور پہاڑاٹھائے جائیں گے اور ان کو کوٹ دیا جائے گا ایک ہی دفعہ کوٹ دیا جانا۔

فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 69:15 in the Quran reader

پس اس دن واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی بات۔

وَ انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌۙ Open ayah 69:16 in the Quran reader

اور آسمان پھٹ جائے گا پس آسمان اس دن بہت کمزور ہوگا۔

وَّ الْمَلَكُ عَلٰۤى اَرْجَآئِهَا١ؕ وَ یَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَةٌؕ Open ayah 69:17 in the Quran reader

اور فرشتے اس کے اطراف پر ہوں گے اور اٹھائیں گے تیرے رب کے عرش کو اپنے اوپر اس دن آٹھ فرشتے۔

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُوْنَ لَا تَخْفٰى مِنْكُمْ خَافِیَةٌ Open ayah 69:18 in the Quran reader

اس دن تم پیش کیے جائو گے تمہاری کوئی خفیہ سے خفیہ بات پوشیدہ نہ رہے گی۔

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ١ۙ فَیَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:19 in the Quran reader

پس جس کو اس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا وہ لوگوں سے کہتا پھرے گا میرا اعمال نامہ پڑھ لو۔

اِنِّیْ ظَنَنْتُ اَنِّیْ مُلٰقٍ حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:20 in the Quran reader

بیشک میں تو یقین رکھتا تھا کہ (ایک نہ ایک دن) مجھے میرا حساب پیش آنے والا ہے۔

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ Open ayah 69:21 in the Quran reader

وہ بہت پسندیدہ زندگی کے اندر ہوگا۔

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 69:22 in the Quran reader

بڑے اونچے باغ میں ہوگا۔

قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ Open ayah 69:23 in the Quran reader

اس کے پھل قریب ہوں گے۔

كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓئًۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَةِ Open ayah 69:24 in the Quran reader

خوشگواری سے کھائو پیئو اس وجہ سے جو تم نے بھیجا گزرے ہوئے دنوں میں۔

گزشتہ سے پیوستہ : اس سورة کا موضوع جزائے عم ہے اور قیامت کا ذکر ہے۔ پہلی آیات میں کا ذکر فرمایا۔ چند گزشتہ اقوام کا ذکر کیا جو قیامت کو جھٹلاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر حاقہ واقع کیا اور یہ دو قسم سے وار ہوتا ہے۔ ایک ابتلا ہوتی ہے ، وقتی طور پر تکلیف آئی اور دور ہوگئی۔ اس کے بعد پھر موقع مل گیا۔ سز کی دوسری قسم یہ ہوتی ہے کہ مذکورہ اقوام کو اس دنیا میں ہی سزا ملی اور پھر اٹھایا نہیں گیا۔ وہ لوگ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور عالم برزخ میں سزا پا رہے ہیں۔ ان اقوام میں شرک و کفر تھا اور انکا رسالت بھی ، یہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ تو یہ قیامت کے جھٹلانے کا نتیجہ تھا کہ وہ لوگ دنیا میں ہی سزا میں مبتلا ہوگئے۔ دنیا میں آزمائش میں ڈالنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تاکہ انسان گڑ گڑانے لگیں۔ عاجزی کریں اور گناہوں سے تائب ہوجائیں۔ دوسری نوعیت سزا کی یہ ہوتی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد ، قوم ثمود ، فرعون ، قوم لوط اور قوم نوح پر مسلط کی۔ ان کا مواخد ہ ہوا سزا ملی اور ہلاک ہوگئے۔ صورِ اسرافیل : دنیا میں واقع ہونے والے چھوٹے چھوٹے حاقے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اب محاسبے کا ذکر فرماتے ہیں۔ جب صور میں پھونکا جائے گا ، ایک ہی بار پھونکنا۔ صور پھونکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے وہ مقررہ وقت پر صور پھونکے گا۔ ایک دیہاتی شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ! صور کیا ہے۔ فرمایا یہ سینگ کی مانند ایک طرف سے باریک اور دوسری طرف سے کشادہ ہے اور فرشتے نے منہ میں پکڑ رکھا ہے۔ سر جھکائے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کا منتظر ہے جب حکم ہوگا صور پھونک دے گا الغرض حضور ﷺ نے فرمایا کہ صور بگل کی مانند ، سینگ جیسانوکدار ہے۔ شیخ ابن عربی (رح) جو صاحب کشف تھے ، فرماتے ہیں کہ صور کا دہانہ اتنا بڑا ہے کہ ساتوں زمین اور ساتوں آسمان اس کے دہانے میں پڑے ہوئے ہیں اور قرآن پاک سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلی دفعہ نظام کا ئنات کو درہم برہم کرنے کے لیے دوسرا زندہ کرنے کیلئے۔ زمین و آسمان ریزہ ریزہ ہوجائیں گے : جب پہلی دفعہ صور پھونکا جائے گا تو حالت یہ ہوگی کہ زمین اور پہاڑ اٹھائے جائیں گے تو ان کو کوٹ دیا جائے گا ایک ہی دفعہ کوٹ دیا جانا۔ یعنی زمین و آسمان کو یکبارگی ایسا باریک کردیا جائے گا جیسا ہاون دستے میں کوئی چیزکوٹ کر باریک کردی جاتی ہے۔ اور یہ گرد و غبار کی مانند ہوجائیں گے۔ دوسری جگہ فرمایا۔ سورج اور ستاروں کا بیان فرمایا۔ جو شخص قیامت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے تو وہ سورة شمس ، سورة واقعہ اور سورة عم یتساء لون کو پڑھ لے۔ تو فرمایا جب قیامت برپا ہوگی تو پہاڑ جو سب سے مضبوط ہیں۔ ان کو کوٹ دیا جائے گا۔ اور وہ گرد غبار کی مانند اڑنے لگیں گے۔ سمندر بھاپ بن کر اڑ اجائیں گے۔ کتنا خوفناک منظر ہوگا۔ قیامت بر پا ہو جائیگی : پس اس دن واقع ہوجائے گی واقع ہونے والی۔ یہ واقعہ قارعہ ، طامہ وغیرہ قیامت ہی کے مختلف نام ہیں وہ حاقہ یعنی ثابت شدہ چیز ہے وہ تو ضرور ہو کر رہنے والی ہے اور واقعہ یعنی واقع ہوجائے گی۔ اس نام پر ایک مستقل سورة بھی ہے سورة واقعہ یعنی جب وہ واقع ہونے والی چیز واقع ہوجائے گی اور اس کے واقع ہونے کی بات غلط نہیں ہے۔ اس سورة میں بھی یہی مضمون ہے کہ پہاڑچلا دیے جائیں گے۔ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور آسمان کا یہ حال نہیں رہے گا جواب نظر آتا ہے۔ اور آسمان پھٹ جائے گا۔ سارا معاملہ درہم برہم ہوجائے گا۔ آسمان اس دن بڑا بکھرنے والا ہوگا۔ واہیہ کا معنی کمزور۔ آج تو آسمان مضبوط چھت کی صورت نظر آتا ہے۔ اس کے اندر بڑے بڑے کرے نظر آتے ہیں مگر جس دن یہ واقعہ پیش آئے گا۔ اس دن کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ اور جس وقت یہ واقعہ پیش آئیگا۔ اور فرشتے اس کے اطراف پر ہوں گے ۔ فرشتوں پر بھی دہشت طاری ہوگی۔ کیونکہ ساری کائنات پر دہشت طاری ہوگی۔ جیسا کہ سورة انبیاء اور دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ ہر طرف ایک مدہوشی طاری ہوگی۔ اور فرشتے اس کے اطراف و اکناف پر ہوں گے۔ حاملین عرش فرستے : اور اٹھائیں گے تیرے رب کے عرش کو اپنے اوپر اس دن آٹھ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس وقت حاملین عرش پر فرشتے چار ہیں۔ جب قیامت واقع ہوگی تو اس وقت ان کی تعداد آٹھ ہوجائے گی۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ یہ بات انسان کی تفہیم اور اس کے ذہن کے قریب کرنے کے لیے بیان کی ہے۔ کیونکہ عرش کا نظام بھی ایسا ہی ہے جیسے نظام حکومت ہوتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز حاملین عرش آٹھ ہوں گے۔ باقی رہی فرشتوں کی کیفیت کہ وہ عرش کو کس طرح اٹھائے ہوئے ہیں تو یہ باتیں انسانی عقل سے بالا ہیں۔ اس پر ایمان ہی رکھنا چاہیے۔ کہ جیسا بھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وہ صحیح ہے ، مگر عقل انسانی سے بالا ہے۔ کہ انسانی فہم میں یہ کیفیت نہیں آسکتی۔ باقی رہی یہ بات کہ فرشتوں کو عرش کو عرش کو اٹھانے کی کیا ضرورت ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے وہ جس طرح چاہے کرے۔ اتنی بات محض سمجھانے کے لیے کی ہے۔ فرشتوں کے متعلق بہت سی باتیں حدیث شریف میں آتی ہیں۔ یہ بڑی طاقت والے فرشتے ہیں۔ ابودائود شریف ابن ابی حاتم اور دوسری روایات میں ان فرشتوں کی جو حالت بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے جسم کی کلانی ایسی ہے کہ کان کی لو سے کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہے۔ اتنی بڑی کلانی ہے۔ ان فرشتوں کی اتنی بڑی بڑی جسامت ہے اس کے مقابلے میں ارض و سماء کی کوئی حیثیت نہیں قرآن پاک میں عرش الہٰی کو عرش عظیم کہا گیا ہے یعنی بہٹ بڑا عرش۔ فرمایا آج اس کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ، اس دن آٹھ ہوجائیں گے۔ شاہ عبد العزیز (رح) نے اس کی وجہ یوں بیان کی ہے کہ جب قیامت ہوگی تو اس دن خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہوگی جس کی وجہ سے عرش الہٰی کا ثقل بہٹ بڑھ جائے گا۔ اس دن کائنات کا نظام ، درہم برہم ہوجائیگا اور پھر محاسبے کی منزل آئے گی تو خدا تعالیٰ کی قہری تجلی پڑ رہی ہوگی۔ اس لیے کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہے گی۔ سخت گھبراہٹ ہوگی۔ عرش کا ثقل بڑھ جائے گا۔ لہٰذا اس دن اسے اٹھانے کے لیے آٹھ فرشتے مقرر ہوں گے۔ حضرت حسن بصری (رح) کی روایت میں یوں آتا ہے کہ یعنی میں نہیں جانتا کہ آٹھ اشخاص مراد ہیں یا آٹھ صفیں یا آٹھ ہزار فرشتے۔ بہرحال اتنی بات واضح ہے کہ آج چار ہیں اس دن آٹھ ہوجائیں گے۔ نظام کائنا کے لیے اللہ کی آٹھ صفات : شاہ عبد العزیز (رح) فرماتے ہیں کہ نظام کائنات کو چلانے کے لیے آج اللہ تعالیٰ کی چار صفات یعنی علم ، قدرت ، ارادہ اور حکمت کا م کررہی ہیں۔ قیامت کو چار مزید صفات کا ظہور ہوگا۔ ان میں ایک صفت انکشاف ہے۔ آج جو چیزیں مخفی ہیں ، اس دن کھلی جائیں گی۔ ہر چیز ظاہر ہوگی۔ یہ صفت انکشاف کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت سبوغ و کما ل کا ظہور ہوگا۔ اس دن ہر چیز مکمل شکل ظاہر ہوگی۔ تیسری صفت طہارت اور تقدیس کام کرے گی۔ وہاں پر نجاست اور گندگی نہیں ہوگی۔ نجاست صرف سزا کے طور پر دوزخیوں کو دی جائے گی۔ جیسے پیپ ، خون وغیرہ عام طور پر وہاں تقدیس کا ظہور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت عدل کا ظہور ہوگا۔ اور اس طرح گویا وقیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات کا ظہور ہوگا۔ اسی لیے فرمایا کہ اس دن ہر فرشتہ ایک صفت کے ساتھ اپنا فریضہ سر انجام دے گا۔ لیکن مفسرین فرماتے ہیں کہ چونکہ ایسی باتیں عقل میں نہیں آسکتیں لہٰذا ان پر صرف ایمان ہی رکھنا چاہیے ، اور ان کو متشابہات میں شمار کرنا چاہیے۔ عرش الہٰی پر تجلی اعظم : جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ساتوں زمین اور ساتوں آسمان طے کرنے کے بعد بہشت آتا ہے۔ اور بہشت کے بھی آٹھ طبقات ہیں ، سب سے اوپر طبقہ جنت الفردوس ہے ، نچلے طبقے سے لے کر بالائی طبقے تک پچاس ہزار سال کی مسافت ہے۔ پھر اس کے اوپر عرش الہٰی ہے۔ عرش الہٰی بھی مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے۔ خدا کی ذات سب سے وراء الوری ہے۔ اس عرش پرا للہ تعالیٰ کی جو تجلی پڑتی ہے۔ اس کو شاہ ولی اللہ (رح) تجلی اعظم کا نام دیتے ہیں۔ جب وہ پڑتی ہے تو پہلے عرش رنگین ہوتا ہے۔ پھر ساری کائنات رنگین ہوتی ہے۔ اور پھر اس کے نتائچ پلٹ کر جاتے ہیں یہ تجلی کب سے پڑ رہی ہے اور کب تک پڑتی رہے گی۔ یہ انسانی عقل و فکر سے باہر ہے۔ جب انسان بہشت کے مقامات عالیہ میں پہنچیں گے تو سمجھ میں آئے گا۔ اس وقت انسانی عقل کی وہاں تک رسائی نہیں ہے۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کے نظام حکومت کی بات ہے۔ اس کے نظام حکومت کا ظہور اس طریقے سے ہوگا۔ مخلوق کی پیشی خالق کے روبرو : دنیا میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے حاقے ذکر کر کے بتلایا کہ یہ لوگ قیامت کا انکار کرتے تھے مگر دیکھوان پر کیسے حاقے پڑے۔ اور جب بڑا حاقہ واقع ہوگا یعنی قیامت برپا ہوگی تو پھر کیا ہوگا اس دن تم پیش کئے جائو گے۔ جس طرح عدالت میں پیشی ہوتی ہے گواہ لائے جائیں گے۔ باز پرس ہوگی۔ تم میں سے کوئی نفس چھپے گا نہیں۔ دنیا میں تو کئی لوگ چھپ جاتے ہیں۔ عدالت میں پیش نہیں ہوتے حکومت ان کو تلاش کرنے سے عاجز آجاتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ایسا نہیں ہوسکے گا۔ وہاں کوئی نہیں چھپ سکیگا۔ سے مراد یہ ہے کہ وہاں کوئی بات اور کوئی خصلت چھپ نہیں سکے گی۔ دنیا میں تو ہزاروں کروڑوں باتیں چھپی رہتی ہیں مگر وہاں کوئی بات کوئی خصلت چھپی نہیں رہیگی۔ سب ظاہر ہو جائینگی۔ یہ جو فرمایا کہ اس دن پیشی ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس دن تین پیشیاں ایسی ہوں گی کہ سوال و جواب اور جھگڑا وغیرہ ہوگا۔ جب تیسری پیشی ہوگی تو اعمال نامے اڑنے شروع ہوجائیں گے۔ فرمایا تیسری پیشی پر کسی کو دائیں ہاتھ میں اعمالنامہ ملے گا اور کسی کو بائیں ہاتھ میں۔ دائیں ہاتھ والے : جس کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملیگا۔ وہ کہتا پھرے گا لو بھئی ! میرا اعمال نامہ پڑھ لو ، بڑا خوش ہوگا یعنی لے لو ، میرا اعمال نامہ پڑھ لو ، مجھے اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملا ہے کامیاب ہوگیا ہوں۔ جنت کا پاسپورٹ : بعض دوسری احادیث میں آتا ہے کہ دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ کی ملے گا گویا پاسپورٹ یا ویزا مل گیا۔ جس کے بغیر دوسری جگہ نہیں جاسکتا تھا ، یہ بہشت کا ویزا ہوگا خدا کی جانب سے فلاں بن فلاں کے لیے فرمایا کہ دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ وصول کرنے والوں کو جنت میں داخل کر دو ، وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔ وہ مارے خوشی کے لوگوں کو اعمال نامہ دکھاتا پھرے گا اور کہے گا میں تو یقین رکھتا تھا کہ ایک نہ ایک دن حساب کا آنیوالا ہے۔ اور باز پرس ضرور ہوگی۔ جنت کی نعمت : تو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ وصول کرنے والا آدمی بڑی پسندیدہ زندگی پائیگا۔ من مانی گزراں کرے گا۔ وہ جس قسم کی خواہش کرے گا۔ وہاں اس کی زندگی کے ویسے ہی لوازمات نصیب ہوں گے۔ کے معنی بہت پسندیدہ زندگی کے اندر ہوگا۔ بڑے اونچے باغات میں ہوگا ان کے پھل قریب ہوں گے۔ درختوں کے اوپر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نہ سیڑھیاں لگانی پڑیں گی ، اور نہ کمر سے رسہ باندھنے کی ضرورت ہوگی جیسے کھجوریں اتارنے کے لیے باندھنا پڑتا ہے۔ بلکہ جب خواہش ہوگی مطلوبہ پھل خود بخود جھک کر منہ کے قریب آجائے گا۔ تاکہ وہ اس کو آسانی سے لے لے۔ اس کے بعد اپنی جگہ واپس چلا جائے گا۔ جنت میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی : جنتیوں سے کہا جائے گا خوش گوار سے کھائو پیو ، جتنا چاہے کھائو ، یہاں نہ بدہضمی ہوگی ، نہ مروڑ لگیں گے۔ نہ کوئی پیٹ میں فضلہ پیدا ہوگا۔ فرمایا بہت والے جو چیز بھی کھائیں گے ایک خوشبودار ڈکار کے ساتھ سب کچھ ہضم ہوجائیگا۔ انہیں بول وبراز کی حاجت بھی نہیں ہوگی۔ وہ پاک جگہ ہوگی ، وہاں کوئی گندگی نہیں ہوگی ، نہ رینٹ ہوگا ، نہ بلغم والی تھوک ہوگی نہ کوئی پیٹ میں تکلیف پیدا ہوگی۔ بلکہ ایک خوشبودار جثاء یعنی ڈکار کے ساتھ ہر چیز ہضم ہوجائے گی۔ جزائے عمل : اور یہ ساری نعمتیں اس وجہ سے ہیں جو تم نے بھیجا ہے گذرے ہوئے بافراغت دنوں میں یعنی دنیا میں عقیدہ درست کیا ، نیک اعمال کئے یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو تم نے دنیا میں اختیار کئے اور اپنے ذخیرہ آخرت آگے بھیجا ، یہ سلوک تمہارے ساتھ اس وجہ سے کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 69:25–37

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ Open ayah 69:25 in the Quran reader

بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ کہے گا کاش کہ میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا۔

وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ Open ayah 69:26 in the Quran reader

اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔

یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ Open ayah 69:27 in the Quran reader

کا ش کہ یہ موت مجھے ختم ہی کردیتی۔

مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ Open ayah 69:28 in the Quran reader

افسوس کہ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔

هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ Open ayah 69:29 in the Quran reader

افسوس کہ آج میرا اقتدار بھی برباد ہوگیا۔

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ Open ayah 69:30 in the Quran reader

(فرمائے گا) اس کو پکڑ لو اور ا کے گلے میں طو ق ڈال دو ۔

ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ Open ayah 69:31 in the Quran reader

پھر اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو ۔

ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ Open ayah 69:32 in the Quran reader

پھر اسکو ایسی زنجیر میں جسکی لمبائی ستر گز ہے جکڑ دو ۔

اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ Open ayah 69:33 in the Quran reader

تحقیق وہ عظمتوں والے خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ Open ayah 69:34 in the Quran reader

اور مسکین کے کھانا کھلانے پر برانگیختہ بھی نہیں کرتا تھا۔

فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ Open ayah 69:35 in the Quran reader

پس آج اس کا یہاں کوئی دوست نہیں۔

وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ Open ayah 69:36 in the Quran reader

اور آج اسے غسلین (زخموں کے دھون) کے سوا کھانا بھی کوئی نہیں ملے گا۔

لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِئُوْنَ۠ Open ayah 69:37 in the Quran reader

اس کو صرف خطا کار ہی کھائیں گے۔

گذشتہ سے پیوستہ : قیامت واقع ہونے پر انسانوں کے دو گروہ ہوجائیں گے۔ پہلی آیتوں میں صور پھونکنے کا ذکر ہوا۔ نظام کے درہم برہم ہوجانے اور زمین و آسمان کے تغیر و تبدل کا بیان ہوا۔ اس روز عرش الہٰی اور ملائکہ کی کیفیت کا حال بھی ذکر کیا گیا پچھلے درس میں اس گروہ کا ذکر ہوا جس کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ وہ بڑا خوش ہوگا۔ اپنا اعمالنامہ لوگوں کو دکھاتاپھرے گا۔ اس گروہ کو ملنے والے انعام و اکرام کا ذکر بھی پچھلے درس میں ہوچکا ہے۔ بائیں ہاتھ والے : اب ناکام ہونے والے گروہ کا بیان ہوتا ہے بہرحال وہ انسان جس کو اس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ ہوہ کہے گا کاش کہ یہ اعمالنامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا۔ یہ اصحاب شمال ہیں۔ جیسا کہ سورة واقعہ میں گذر چکا ہے۔ اس دن لوگوں کا بہت براحال ہوگا۔ یہ اصحاب شمال ہیں ۔ جن کا اعمال نامہ قیامت والے دن بائیں ہاتھ میں دیا جائیگا۔ اور سورة انشقاق میں ورآء ظہرہٖ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کا اعمال نامہ پیچھے سے دیا جائے گا۔ یعنی سامنے نہیں دیا جائے گا۔ ان لوگوں کو نہایت ذلت کے ساتھ پیچھے کی طرف سے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔ دایاں ہاتھ برکت اور قوت والا ہوتا ہے۔ جب کہ بایاں ہاتھ دائیں کی نسبت کمزور ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عزت والے کام دائیں ہاتھ سے کرنے چاہیں۔ کسی کو کوئی چیز دنیا ہو ، مصافحہ کرنا ہو ، دائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ حقارت کے کام ، گندگی صاف کرنا ، استنجا پاک کرنا وغیرہ بائیں ہاتھ سے کئے جاتے ہیں۔ الغرض جس کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائیگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اعمال اس قدر کمزور ہیں کہ وہ خدا کے عذاب کو روک نہیں سکتے۔ لہذا یہ شخص عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اگر اس کے اعمال میں قوت ہوتی تو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملتا۔ اور اس کے اعمال غضب الہٰی کو روک سکتے۔ اظہار افسوس : لہذا بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ حاصل کرنے والا شخص افسوس اور حسرت کا اظہار کرے گا اور کہے گا کاش کیا اچھا ہوتا یہ اعمال نامہ مجھے ملتا ہی نہ میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ مجھے علم ہی نہ ہوتا۔ افسوس کہ یہ قیامت یا موت مجھے ختم ہی کردیتی۔ میرا وجود ہی باقی نہ رہتا دوبارہ زندگی حاصل نہ ہوتی۔ سورة النبا میں ہے کا ش میں مٹی ہوتا۔ بےجان ہوتا ، عقل و شعور سے خالی ہوتا تو آج اس عذات میں مبتلا نہ ہوتا۔ مگر اس کا اظہار افسوس کچھ کام نہیں ۔ مال کچھ کام نہیں آئیگا : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا ذکر فرمایا جن کی وجہ سے لوگ غرور کرتے تھے۔ اتراتے تھے۔ اور جن کی وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ بائیں ہاتھ والے لوگ کف افسوس ملتے ہوئے کہیں گے۔ کہ افسوس میرا مال آج میرے کچھ کام نہ آیا۔ وہ مال جسے دنیا میں سمیٹ سمیٹ کر رکھتے تھے اور اسے من مانے طریقے سے خرچ کرتے تھے۔ آ ج وہ ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔ گذشتہ سورة میں گذر چکا ہے کہ وہ لوگ اس بات پر غرور ر کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مال اور اولاد دی ہے ۔ حالانکہ آخرت میں یہ چیزیں کسی کام نہ آئیں گی۔ اسی طرح سورة ہمزہ میں آتا ہے کہ دنیا میں مال جمع کرنے والا سمجھتا تھا کہ میں ہمیشہ خوشحال رہوں گا۔ حالانکہ حیقیت یہ ہے کہ عام طور پر انسان اسی مال کی وجہ سے مفتوں ہوتا ہے۔ اور آزمائش میں پڑجاتا ہے۔ سورة والعٰدیٰت میں ہے انسان مال کی محبت میں پکا بھی ہے۔ فطرت انسانی ہے کہ عام طور پر مال سے بڑی محبت ہوی ہے اسی لیے شرائع لہیہ یعنی آسمانی شریعتیں لوگوں کو تہذیب سکھاتی ہیں۔ مال کی محبت بیشک فطری ہے لیکن ایسانہ ہو کہ اس میں مبتلا ہوکرا نسان فرائض کو ترک کر بیٹھے۔ ایسی صورت میں یہی مال وبال بن جائیگا۔ اگر مال کی ہی معبود نبالیا۔ حلال و حرام کی تمیز چھوڑ دی تو یہی مال فتنہ بن جائے گا۔ چناچہ اس جگہ یہی بات بیان ہورہی ہے کہ بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ حاصل کرنے والا آدمی کہے گا۔ افسوس ! میرے مال نے مجھے کچھ کام نہ دیا۔ ابولہب کا واقعہ قرآن پاک میں موجود ہے ابولہب بڑا دولت مید آدمی تھا مگر جب خدا تعالیٰ کی گرفت آئی تو اس کے مال نے اور جو کچھ اس نے کمایا تھا ، کچھ بھی کام نہ آیا۔ اسی لیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ آخرت میں جب دنیا کے دولت مند دیکھیں گے کہ غربا و مساکین کو بڑے درجے اور فلاح نصیب ہورہی ہے۔ تو تمنا کریں گے کاش دنیا میں ہماری کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں۔ ہم ایسی تکالیف وہاں برداشت کرلیتے اور اس کے بدلے آج ہمیں راحت نصٰب ہوتی ، درجہ متلا مگر ا س وقت ان کا کف افسوس ملنا کسی کام نہ آئے گا۔ اقتدار بھی جاتا رہے گا : مال کے بعد اقتدا ایسی چیز ہے جس پر انسان اتراتا ہے۔ جس کے پاس حکومت ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ غرور کرتا ہے۔ ایسا انسان شاذو نادر ہی ہوگا جو اقتدار پر فائزہونے کے باوجود جامئہ انسانیت میں رہے۔ انصاف قائم کرے مخلوق خدا پر ظلم نہ رکے۔ لوگوں کا استحصال نہ کرے۔ مگر قیامت کے روز یہ چیز بھی اس کے کام نہ آئے گی۔ اور وہ کہے گا افسوس کہ آج میرا اقتدار بھی برباد ہوگیا۔ حکومت بھی چھن گئی۔ آج نہ کوئی نوکر چاکر ہے۔ نہ فوج ہے۔ نہ پولیس ہے نہ سیکیورٹی والے ہیں ، جو میرے کا م آئیں گے۔ مگر وہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔ انسان بےیارو مددگار ہوگا۔ بلکہ یہی چیزیں ا س کے لیے مہلک ثابت ہوں گی۔ امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے : حضور ﷺ کا ارشاد ہے ہر امت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے۔ اور میری امت کا فتنہ مال ہے فرمایا مجھے اس بات کا خطرہ نہیں ہے کہ تم فقر میں ہلاک ہوجائوگے۔ مجھے خطرہ یہ ہے کہ تم پر دینا پھیلا دی جائیگی۔ پھر تم کو وہ اس طرح ہلاک کردے گی جس طرح پہلے لوگوں کو کیا۔ دنیا میں غرور تکبر کیا ۔ برائیوں میں پڑگئے۔ اور تباہ ہوئے۔ دنیا کا پھیلائوہی سب کو تباہ کر دے گا۔ اور ساتھ یہ بھی فرمادیا کہ میری امت کا فتنہ مال ہے۔ مخصوص اخلا حیا ہے : نبی ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا کوئی مخصوص اخلاق ہوتا ہے۔ اور میر ی امت کا مخصوص اخلاق حیا ہے۔ جب تک امت میں حیا باقی رہے گی۔ ٹھیک رہیں گے۔ جب حیا اٹھ جائے گی تو ناکام و نامراد ہوں گے ، برباد ہو جائینگے۔ مال و جاہ کا غلط استعمال : تو فرمایا کہ مال اور اقتدار یہ دو چیزیں ہیں جن میں مبتلا ہو کر اکثر وبیشر لوگ ناکام ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں چیزوں کو غلط استعمال کرتے ہیں ۔ قیامت کے روز ان کے پاس نہ مال ہوگا نہ اقتدار ہوگا بلکہ وہاں تو قلاش ہونگے۔ اور جیسا کہ آگے آخری آیت میں آرہا ہے ۔ ا سوقت انسان اسکا افسوس کریگا۔ مجرمین کا جہنم رسید ہونا : ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا اس کو پکڑ اور اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو ، یہ مجرم ہے جیسا کہ سورة یٰسین میں آتا ہے۔ ان کے گلے میں طوق ہوں گے۔ اسی طرح یہاں بھی فرمای کہ حکم ہوگا کہ طوق پہنا کر اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو ۔ پھر ان کو زنجیروں میں جکڑ دو ان زنجیروں میں لمبائی ستر ستر گز ہے۔ ان میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔ بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ وصول کرنے والا شخص آج اسی کا مستحق ہے۔ اسے زنجیروں میں جکڑ کر اور گلے میں طوق ڈال کر جہنم رسید کر دو ۔ خدائے اعظم کا انکار : ایسے لوگوں کو جہنم رسید کی دو وجوہات اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائیں۔ ایک تو یہ کہ وہ عظمتوں والے خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ جب اللہ کے نبی ﷺ کہتے تھے یعنی اللہ پر ایمان لے آئو۔ فلاح پا جائو گے ، تو یہ اکڑ تا تھا۔ خدا کی توحید کو نہیں مانتا تھا۔ بلکہ کہتا تھا کہ بات دادا کے تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو مان لیں یہ کیسے ہوسکتا ہ۔ الٹا اکڑتا تھا۔ کہتا تھا العیاذ باللہ اس بیوقوف آدمی کی بات کیسے مان لوں ، پاگل ہے ، دیوانہ ہے ، اسے جرم کی پاداش میں جہنم رسید کیا جار ہا ہے۔ کہ وہ خدائے برتر پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ اطعام مسکین سے اعراض : اس کا دوسرا جرم یہ ہے کہ مسکین کو کھانا کھلانے پر برا نگیختہ بھی نہیں کرتا تھا۔ نہ خود مساکین کو کھانا کھلاتا تھا ، نہ دوسروں کو ہی ترغیب دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دو جرائم کا ذکر کیا جان کی پاداش میں اس کو ذلت و رسوائی کے ساتھ دوذخ میں ڈالا جارہا ہے۔ دین کا خلاصہ : امام رازی (رح) جو چھٹی صدی کے آخر میں اور ساتویں صدی کے شروع میں گذرے ہیں۔ آپ کا انتقال 202 ھ میں ہوا۔ آپ بڑے امام تھے۔ انہوں نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ دین کا خلاصہ اور نچوڑ دو چیزیں ہیں اگر کوئی شخص دین کو سمجھنا چاہے تو اس کا خلاصہ دو لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اور وہ یہ ہے۔ یعنی اللہ کے احکام کی تعظیم اور مخلوق خدا پر شفقت ۔ ان دو چیزوں کو پھیلایا جائے تو دین کے سارے قوانین انہیں میں آجائیں گے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد : عام متکلمین کے انداز میں ا س کو یون بیان کریں گے کہ دین نام ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا۔ یا اللہ کے حقوق ہیں یا مخلوق کے ، تیسری چیز کوئی نہیں۔ حقوق اللہ ہیں۔ جو شخص اللہ کے حقوق نہیں مانتا وہ دہریہ ہے یا کافر ۔ لہذا ناکام ہوتا ہے۔ اور جو شخص مخلوق کے حقوق ادا نہیں کرتا۔ مخلوق پر شفقت نہیں کرتا۔ وہ بھی ناکام اور مردود ہے۔ الغرض ان دو قوانین کو پھیلائیں گے تو ہر چیز اس میں آجائے گی۔ ان سے باہر کوئی چیز نہیں ہے۔ دین اسی کا نام ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ شخص نہ تو اللہ کا حق ادا کر ت تھا ، نہ مخلوق کا حق اور عنوان یہ ہے خدائے عظیم کی توحید کو نہیں مانتا تھا۔ اور مسکین کے کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا۔ خود کھلانا تو کجا ، دوسرے کو بھی امادہ نہیں کرتا تھا۔ اس میں یہ ادنیٰ درجے کی نیکی بھی نہیں تھی۔ جیسا کہ سورة دہر میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو اپنی خوشی سے مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ باعزت روٹی انسان کا بنیادی حق ہے : مسکین کو روٹی کھلانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بھیک مانگنے والوں کو دے کر بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ محتاج کی روزی کا مستقل بندوبست کیا جائے۔ اس کے لیے باعزت روزگار مہیا کرکے باعزت روٹی کا انتظام کیا جائے۔ آج کی دنیا میں بھی الخبز باالکَرامتہ کا نبی ادی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ کہ ہر شخص کو باعزت روٹی ملنی چاہیے۔ در بدر بھیک مانگنا انسانیت کی تذلیل ہے۔ یہ صرف ہمارے ملک کا ہی رواج ہے اور یہ ذلت ہمارے ہی مقدر میں ہے۔ ورنہ عیسائی ممالک میں کوئی بھیک نہیں مانگتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دین سے دور ہوگئے ہیں ، مذہب سے بیگانہ ہوگئے۔ جہالت تاریکی ، شرک ، بدعت وغیرہ تمام قباحتیں مسلمانوں میں اپئی جاتی ہیں۔ حلبی (رح) نے سیرت میں لکھا ہے کہ پہلی صدی کے آخر میں آدھی دنیا سے زیادہ پر ، مسلمانوں کی سلطنت تھی ، جہاں جہاں مسلمان تھے کہیں ایک جگہ بھی کوئی قحبہ خانہ نہیں تھا۔ انگریز کے زمانہ میں لائسنس لے کر برائی کرنے والی پچھتر فی صد عورتیں مسلمان تھیں ، یہی حال مصر ، ایران ، اور ہندوستان میں تھا۔ مسلمانوں پر اس قدر ذلت مسلط ہوگئی تھی۔ گدا گری حرام ہے : شاہ والی اللہ (رح) کہتے ہیں کہ ہمارے دین میں گدا گری حرام ہے۔ یہ اسی طرح اکساب ضارہ میں شمار ہوتی ہے۔ جیسے چوری ، ڈاکہ ، زنا وغیرہ ۔ لیکن حکومتیں اس کا خاطرخواہ انتظام نہیں کرتیں۔ وہ اپنی عیاشی میں لگی ہوئی ہیں ، سکی میں بن رہی ہیں۔ اعلان ہو رہے ہیں۔ یہ ہوجائیگا وہ ہوجائے گا۔ اتنے کروڑ منظور ہوا۔ مگر حال یہ ہے کہ لوگ بھیک مانگ رہے ہیں۔ اور ان کی عیاشی چل رہی ہے۔ ٹی وی جیسی بُری اور حرام چیزوں پر کیوں دولت خرچ کی جارہی ہے۔ غیر ضروری چیزوں کی حکومت کیوں اجازت دے رہی ہے۔ عیاشی کے کاموں پر اربوں روپیہ خرچ کر نیکی بجائے حکومت مساکین اور غربا پروری کا بندوبست کیوں نہیں کررہی۔ مگر ہم جس نظام کا حصہ ہیں اس کا خاصہ ہی یہ ہے کہ خودعیش کرو ، دوسروں کی فکر نہ کرو۔ کوئی مرتا ہے مرنے دو ۔ اسلام کا نام لیتے رہو ، غریبوں اور مزدوروں کا نام لیتے رہو مگر ان کی خدمت کا کام مت کرو۔ محض نام لے کر زندگی گذارو۔ غربا کی دستگیری مسلمان سوسائٹی کا فریضہ ہے : الغرض سے مراد یہ ہے کہ مسکین کو بھکاری نہ بنائو۔ ان کو باروزگار نہ بنائو۔ ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے کر چلو۔ جو سوسائٹی اپنے غربائو مساکین کی دست گیری نہیں کرتی ، وہ ذلیل سوسائٹی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں باعزت نہیں ہے ۔ صدقہ خیرات تو وقتی چیزیں ہیں ان سے وقتی طور پر گزراوقات ہوسکتی ہے۔ بھیک کا دروازہ نہیں کھل جانا چاہیے۔ بھیک کی اجازت دینا انسانیت کی تذلیل ہے اپنے غربا و مساکین کی مستقل بحلای کا بندوبست مسلمان سوسائٹی کا فریضہ ہے۔ دوزخی بےیارو مددگار رہ جائیں گے : چونکہ بائیں ہاتھ والا شخص نہ حقوق اللہ اد ا کرتا تھا ، نہ حقوق العباد اس لیے فرمایا کہ اسے ستر ستر گز لمبی زنجیروں میں جکڑ کر اور گلے میں طوق ڈال کر جہنم میں پھینک دو ۔ آج اس کا یہاں کوئی دست نہیں ہے۔ دنیا میں اس کے بڑے دوست تھے جو برائی میں اس کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ مگر آج وہ بےیارومدد گار ہے۔ آج اسے غسلین کے سوا کھانا بھی کوئی نہیں ملیگا۔ غسلین ، زخموں کے دھو دن یعنی پیپ اور خون ملے ہوئے زرد پانی کو کہتے ہیں ۔ یہ اسکی خوراک ہوگی۔ جب انسان جسمانی طور پر کمزور ہوتا ہے ۔ یا غم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے دو ہی چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک مخلص دوست جو دکھ درد میں اس کی غم خواری کرے ، اس سے باتیں کرے اور دوسرا کھانا جو اسکی جسمانی قوت کی بحالی میں مدد دے۔ تو اس ضمن میں فرمایا کہ دوزخیوں کا نہ کوئی دوست ہوگا جو ان سے ہمدردی کا اظہار کرے ان کے دکھ درد میں شریک ہو ، پیارو محبت کی بات کرے اور نہ انہیں کھانا ہی ایسا میسر ہوگاجو کمزوری کا مقابلہ کرسکے۔ سورة غاشیہ میں فرمایا۔ دوزخیوں کا کھانا نہ بھوک سے بچائے گا نہ جسم کو فائدہ دے گا۔ فرمایا اس قسم کا کھانا صرف خطا کار ہی کھائیں گے۔ وہ خطا کار جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے اعراض کرتے رہے۔ یہ کھانا ان کے لیے ہوگا۔ البتہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے اعزاز رکھتے ہیں۔ ان کا ذکر پہلی آیات میں آچکا ہے۔ کہ ان کو حکم ہوگا تم ان اچھے کاموں کے بدلے میں جو دنیا میں سرانجام دیتے رہے ، خوب کھائو پیو ، عیش و آرام کی زندگی بسر کرو۔