68. Surah Al-Qalam

القلمThe Pen · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 68:1–7

نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ Open ayah 68:1 in the Quran reader

قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم کے ساتھ لکھتے ہیں۔

مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 68:2 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ اپنے رب کی فضل سے دیوانے نہیں ہیں۔

وَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ Open ayah 68:3 in the Quran reader

اور بیشک آپکے لیے بےانتہاء اور کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ Open ayah 68:4 in the Quran reader

اور بیشک آپ بہت بڑے اخلاق پر ہیں۔

فَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ Open ayah 68:5 in the Quran reader

آپ بھی عنقریب دیکھ لیں گے اور یہ معتر ضین بھی دیکھ لیں گے۔

بِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ Open ayah 68:6 in the Quran reader

کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا گیا ہے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 68:7 in the Quran reader

بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے۔ جو اس کے راستے سے بہک گیا اور وہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو بھی جو ہدایت کے راستے پر چل رہے ہیں۔

وجہ تسمیہ اور کوائف : اس سور ۃ کی پہلی آیت میں قلم کا لفظ مذکور ہے۔ اور اسی وجہ سے اس سورة کا نام سورة قلم ہے اس سورة کی باون آیات ، تین سو الفاط اور ایک ہز اور دو سوچھپن حروف ہیں۔ اس سے پہلے سورة ملک کی تیس آیات تھیں اور اس کی باون آیتیں ہیں۔ مضامین سورة (ربطہ) : اس سے پہلی سورة میں توحید ذات خداوندی ، دلائل توحید ، جزائے اعمال اور ضمنا رسالت کا ذکر تھا۔ اس سورة میں زیادہ تر رسالت کا تذکرہ ہے۔ جزائے اعمال اور قیامت کا ذکر بھی ہے۔ پہلی سورة میں توحید کے دلائل زیادہ تھے اس میں نبوت اور رسالت پر اعتراضا کے جواب دیے گئے ہیں ان کا رد کیا گیا ہے۔ اور تبنیہ کی گئی ہے۔ خاص طور پر مکہ کے خوشحال لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے۔ ایک خوشحال باغ والوں کا ذکر ہے جن کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عطا کردہ نعمت ان سے چھین لی۔ دوسری طرف حضور ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ طعن کرنے والوں کی وجہ سے زیادہ پریشان نہ ہوں بلکہ صبر کریں اور برداشت سے کام لیں۔ آخر میں مچھلی والے نبی کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے بےصبری سے کام لیا تھا لہذا وہ آزمائش میں مبتلا ہوگئے۔ اس مثال سے نبی ﷺ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قیامت اور اس میں پیش آنے والے بعض حالات کا بیان بھی ہے۔ زمانہ نزول : یہ سورة ان سورتوں میں سے ہے جو ابتدائے نبوت میں نازل ہوئیں بعض فرماتے ہیں کہ نزول کے لحاظ سے اس کا تیسرا نمبر ہے۔ پہلے نمبر پر سورة علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں۔ اس کے متصل بعد سورة فاتحہ نازل ہوئی۔ اور جبرائل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کو وضو کا طریقہ بتایا۔ اور آپ ﷺ نما ز کے لیے کھڑے ہوئے۔ دوسرے نمبر پر سورة مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد تیسرا نمبر اس سورة مبارکہ کا ہے اگر سورة فاتحہ کو الگ شمار کریں تو اس کا چوتھا نمبر ہوگا۔ نماز کی ابتدائ : پہلی وحی کے بعد دوسرے روز آپ نے نماز ادا کی۔ اس نماز میں آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ ، حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے زید ؓ اور آزاد کردہ لونڈی ام ایمن ؓ تھے۔ یہ آپ کے والدہ ماجد کی لونڈی تھی جسے آپ ﷺ نے آزاد کردیا تھا۔ اس نے آپ کو گود میں کھلایا تھا اور آپ کے لیے بمنزلہ ماں کے تھی۔ آپ ﷺ اس کا بڑا احترام فرماتے تھے بچوں میں حضرت علی ؓ بھی حضور کے ساتھ نماز میں شریک تھے۔ کفار کا اعتراض : مکہ کے اکثر وبیشتر لوگ جاہل تھے۔ حضور ﷺ کا نماز پڑھنا ان کے لیے عجیب بات تھی وہ اسے عجیب و غریب حرکات خیال کرتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے شروع میں ہی یہ طعنہ دیا کہ لوگ پاگل اور مجنون ہوگئے ہیں جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کو مجنون کا خطاب اسی دور میں دیا گیا۔ عقیدہ توحید سے انحراف : شاہ ولی اللہ (رح) اپنی مشہور کتاب الفوز الکبیر میں لکھتے ہیں اگرچہ نماز اور طہارت کا طریقہ عربوں میں معروف تھا۔ مگر عام لوگ جاہل تھے۔ ان کا عقیدہ بگڑ چکا تھا۔ حضور ﷺ کی بعثت سے چار سو سال تک لوگ موحد تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے۔ یہ قریش کے جدا مجد قصی ابن کلاب کا زمانہ تھا۔ اس کے بعد عربوں کے ایک شخص عمرو بن الحی نے بت پرستی سیکھی اور یہاں آکر رائج کی۔ اور پھر عقیدہ توحید میں ایسا بگاڑ پیدا ہوا ، کہ سارے عرب میں توحید پرست کوئی اکا دکا آدمی ہی نظر آتا تھا۔ توحیدکی رسق : مکہ کی اتنی بڑی آبادی میں صرف ایک شخص ورقہ بن نوفل کا نام ملتا تھا۔ اس نے پہلی کتابوں کا علم سیکھا تھا اس لیے کسی حد تک توحید پرست تھا۔ اس کے علاوہ زید بن خمروبن نفیل کا نام ملتا ہے۔ زید حضرت سعید ؓ کے والد تھے جو عشرہ بشرہ میں سے تھے۔ حضور ﷺ نے دس آدمیوں کو ایک ہی مجلس میں بہشتی ہونے کی بشار ت دی تھی۔ یہ زید ابن عمر نفیل خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ ہر طرف بت ہی بت تھے۔ بتوں کا طواف ہو رہا ہے۔ صفاء مروہ کے درمیان بت رکھے ہیں۔ مشل کے مقام پر بڑے بڑے بت تھے۔ کعبے کی دیواریں پر ، چھت پر ، مقام ابراہیم پر الغرض چاروں طرف بت ہی بت تھے۔ اس حالت میں زید بن عمرو حقیقت سے تو بیخبر تھے۔ مگر کہتے تھے کہ یہ جو کچھ ہور ہا ہے۔ غلط ہے شرک ہورہا ہے مگر وہ شرک سے بیزار تھے۔ مشرکوں کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا بھی نہیں کھاتے تھے۔ کہتے تھے یہ غیر اللہ کا نام پر ، لات وعزیٰ کا نام پر کاٹتے ہیں۔ لہذا میں اسے نہیں کھائوں گا۔ جیسا کہ حضور ﷺ بھی مشرکین کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ وہاں اگر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو تو استعمال کرلیتے تھے۔ تو گویا اس گئے گذرے زمانے میں بھی ایسے اکا دکا آدمی نظر آتے تھے۔ جن میں توحید کی رمق کسی حد تک باقی تھی۔ ورنہ 999 آدمی مشرک ہی تھے۔ کفار کے طعن کا جواب : ان حالات میں جب مشرکین مکہ حضور ﷺ کو وضو کرتے ، کھڑے ہوتے ، رکوع کرتے ، سجدہ کرتے دیکھتے تھے تو کہتے تھے فلاں آدمی پاگل ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ دوسرے بھی شریک ہوگئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کفار مکہ اور مخالفین کے اعتراض کا رد فرمایا ہے۔ حرف ن کے مختلف معافی : اس سورة کون کے حرف سے شروع کیا۔ جیسے الم کھیعص بعض سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آتے ہیں۔ اور حروف مقطعات کہلاتے ہیں اس مقام پر ن سے درمعانی مراد لیے گئے ہیں۔ ن کا ایک معنی مچھلی ہے اور اس سورة کے آخر میں مچھلی والے پیغمبر کا ذکر ہے۔ اور ان کے حال کو سامنے رکھ کر تسلی دی گئی ہے۔ کہ بےصبری نہ کرو۔ اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں۔ صبرو اطمینان سے کام لیں یہ کفار طعن کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ آپ اپنا کام کرتے رہیں۔ دوسری جگہ سورة انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا اور مچھلی والے پیغمبر کا حال بھی سنو ، جب وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہم گرفت نہیں کریں گے۔ مگر ہم نے ا ن کو آزمائش میں ڈال دیا۔ پھر ان کے ساتھ مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کا جو واقعہ پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا۔ اس سورة میں آگے چونکہ مچھلی والے پیغمبر حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ لہذا حرف ن کو شروع میں لانے میں شاید اسی واقعہ کی طرف اشارہ مقصود ہو ن کا دوسرا معنی اس مقام پر دوات بھی ہوسکتا ہے۔ عربوں میں ن کا اطلاق دوات پر بھی کیا جاتا ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) اور دوسرے مفسرین فرماتے ہیں۔ جس وقت مجھے شوق ان کی طرف ستاتا ہے۔ تو پھر دوات اپنے آنسو مسلسل بہانے لگتی ہے۔ یعنی جب میں قلم لے کر خط لکھتا ہوں تو دوات اپنے آنسوں مسلسل بہاتی ہے۔ تو گویا قلم کے کناروں سے جو سیاہی گرتی ہے اسے آنسوئوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تو گویا اس ن سے مراد دوات بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ قلم کا قریبی رابطہ دوات سے ہی ہوتا ہے۔ قلم عام وخاص معانی میں : اور جو کچھ قلم کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اس جگہ قلم کا معنی عام بھی ہوسکتا ہے۔ اور خاص بھی اگر اس سے خاص قلم مراد لیا جائے تو وہ تقدیر کا قلم ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور حکم دیا۔ یعنی جو واقعات ہونے والے ہیں سب لکھ دو یہ قلم تقدیر ہے عام قلم وہ ہے جسے لاکھوں کروڑوں لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ قلم بھی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے قلم کے ذریعے لوگوں کو علم سکھایا۔ اس لحاظ سے قلم کو بڑی حیثیت حاصل ہے حکومت کا مدار دو چیزوں پر ہے یعنی قلم اور تلوار اور ان دونوں میں قلم کو غلبہ حاصل ہے۔ قلم جو کچھ تحریر کرتی ہے ، تلوار اس کے مطابق عمل کرتی ہے۔ یعنی طاقت کا استعمال قلم کے حکم کے تابع ہے۔ اسی طرح دفتروں کے دفتر قلم سے لکھے جاتے ہیں۔ علوم و معارف اور فنون وغیرہ سب قلم ہی سے احاطہ تحریر میں آتے ہیں۔ تو یہاں پر سے وہ تحریر مراد ہے۔ جو عام لوگ لکھتے ہیں۔ اور جس کے ذریعے لوگوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھیں یعنی عام قلم یہاں پر قلم سے مراد خاص قلم یعنی تقدیر کا قلم مراد نہیں ہے ۔ قسم اور اس کا جواب : پہلی آیت میں قلم اور اس کے ذریعے جو لکھا جاتا ہے اس کی قسم کا ذکر ہے۔ اگلی آیت میں اس قسم کا جواب ہے۔ یعنی اے بنی (علیہ السلام) آپ اپنے بات پر گواہ ہے کہ آپ ﷺ دیوانے نہیں ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے لیکر آج تک جس نے جو بھی قلم سے لکھا ہے۔ اسے ایک طرف رکھ دیں اور خاتم النبیین ﷺ کی زبان سے نکا ہوا ایک جملہ ایک طرف رکھ دیا جائے تو یہ ایک جملہ ہر چیز پر بھاری ہوگا۔ اور پتہ چل جائے گا کہ کیا یہ پاگلوں کا کلام ہے ؟ حضور ﷺ کا ہر فرمان علم و حکمت کا خزانہ ہے : ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک بچے کے ساتھ دل لگی کے لیے بطور مزاح ایک جملہ فرمایا تھا ، تو اس ایک ازارہ مراج فرمودہ جملے سے محدثین اور فقہائے کرام نے ایک سو مسائل کا استنباط کای۔ سوچو تو سہی کہ ایک بچے کا دل خوش کرنے کے لیے فرمائے گئے ایک جملے سے اگر اس قدر مسائل اخذ ہو سکتے ہیں۔ تو کیا حضور ﷺ کا کوئی بھی فرمان بھلا پاگلوں کی باتیں ہو سکتی ہیںَ ؟ یہ حیثیت تو نبی ﷺ کے اپنے کلام کی ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن پاک اپنی زبان سے ادا فرماتے ہیں۔ اس کا مقام کیا ہوگا۔ بھلا ایسی باتیں پاگلوں کی زبان سے نکا کرتی ہیں ؟ پھر فرمایا کہ مجنون آدمی تو کوئی صحیح کا م نہیں کرسکتا۔ مگر آپ کے افعال ایسے ہیں کہ دوست اور دشمن سب ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ جس وقت تک آپ کو نبوت نہیں ملی تھی ، اس وقت بھی آپ کے حالات اتنے مستقیم تھے اور آپ کی ذات اقدس کو اس قدر حکمت و دانائی عطا کی تھی جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ حجرا سود کی تنصیب کا کارنامہ : حضور کریم ﷺ کی عمر مبارک ابھی پینتیس سال کی تھی ، نبوت عطا ہونے میں ابھی پانچ سال باقی تھے کہ کعبہ کی تعمیر میں تنازعہ پید ا ہوگیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ حجراسود کو اپنے مقام پر کون رکھے ہر قبیلے کا سردار اس سعادت کے حصول کا خواہشمند تھا۔ آپس میں جھگڑا فساد شروع ہوگیا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ دنگا فساد ٹھیک نہیں ہے۔ اس معاملہ کسی کو اپنا فیصل مقرر کو اور اس کے فیصلے کو سارے تسلیم کرلو۔ چناچہ طے پایا کہ جو شخص کل صبح سب سے پہلے حرم شریف میں داخل ہو ، وہی فیصل ہوگا دوسرے دن لوگوں نے دیکھا کہ حرم پاک میں سب سے پہلے داخل ہونے والے حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ چناچہ سب نے آپ کو اس تنازعہ میں فیصل تسلیم کرلیا۔ حضور ﷺ فیصل ایسا فیصلہ صادر فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جب حجر اسود کی تنصیب کا وقت آیا تو آپ نے اپنی چادر مبارک بچھائی ، اپنے ہاتھ سے حجرا سود اس میں رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے کہ کہ وہ چادر کے کونے پکڑ لیں اور اسے تنصیب کی جگہ تک لے جائیں جب وہ اس مقام پر پہنچے تو حضور ﷺ نے اپنے دست مبارکہ سے پتھر کو اٹھا کر تنصیب کی جگہ پر رکھ دیا۔ اس فیصلے سے سب لوگ راضی ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ نے کمال کردیا یعنی کمال درجے کا فیصلہ کیا۔ حکمت و دانائی سے چادر کے کونے سارے سرداروں کو پکڑ ا دیے اور کسی کو اعتراض کا موقع نہیں دیا۔ سب کہنے لگے ہم راضی ہیں ، ہم خوش ہیں ، یہ خوب فیصلہ ۔ حضور ﷺ کے لیے بےانتہا اجر : تو فرمایا کہ اے نبی ﷺ یہ پاگلوں کے کام نہیں ہیں بلکہ یعنی آپ کیلئے بےانتہا اور کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ آپ کے اعمال اور آپ سے علم سیکھ کر آگے سر انجام دیے جانے والے سب اعمال کا اجر آپ کو ملتا چلا جائے گا۔ پیغمبر کے اجر کی کوئی انتہا نہیں۔ تمام لوگ پیغمبر کے واسطے سے جو بھی اچھی بات سیکھیں گے اس کا اجر پیغمبر ﷺ کو برابر ملتا رہے گا۔ تو گویا اس طرح پیغمبر کا اجر بےانتہا ہے۔ یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آپ کا خلق عظیم : اس پس منظر میں کہ کفار آپ ﷺ کو مجنون اور پاگل کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ معاذ اللہ آپ دیوانے نہیں ہیں بلکہ بیشک آپ بہت بڑے اخلاق پر ہیں ۔ آپ کا اخلاق بہت عظیم ہے۔ یہ کفار و مشرکین حماقت ، جہالت اور تعصب کی بنا پر آپکی ذات پر اعتراض کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ آپ سب سے بڑے اخلاق پر ہیں۔ کائنات میں آپ سے بڑا اخلاق ہے ہی نہیں۔ حضرت جنید بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اخلاق کو سب سے بڑا اخلاق اس لیے کہا گیا کہ یعنی آپ کے دل میں رضائے الہی کے سوا کوئی اور مقصد ہی نہیں ہے۔ اور مخلوق کے ساتھ آپ کمال درجے کے اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔ اب ظاہر میں آپ مخلوق کے ساتھ ہیں اور باطن میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ، اسی لیے لوگوں کے ساتھ کمال درجے کا معاملہ کرتے ہوئے بھی بےگانہ ہی ہیں کیونکہ اندر کا معاملہ اللہ کے ساتھ چل رہا ہے۔ خدا تعالیٰ کے سوا آپ کا کوئی مقصود نہیں۔ تو ظاہر آپ کا مخلوق کے ساتھ تھا اور باطن حق کی ساتھ اسی لیے آپ کا اخلاق خلق عظیم یعنی سب سے بڑا اخلاق ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمایا یعنی خدا نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ اچھے اخلاق کی تکمیل کردوں حضور کے اخلاق کی کوئی مثال نہیں۔ تمام نبیوں اور انسانوں میں آپ کا اخلاق سب سے بلند ہے اور اسی اخلاق کو معیار مقرر کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ سے قرب کا مدار اچھے اخلاق پر ہے : حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم میں سے مجھ سے زیادہ قریب وہ ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہوگا۔ اور فرمایا جنت میں بھی وہ لوگ کثیر تعداد میں جائیں ، جن کے اخلاق اچھے ہونگے۔ منافق کے بارے میں فرمایا۔ اس کا اخلاق کبھی اچھا نہیں ہوگا۔ اور اسے دین کی سمجھ کبھی حاصل نہیں ہوگی۔ امت محمدیہ کا فتنہ مالی ہے : حضور ﷺ نے فرمایا ہر امت کا کوئی فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہ مال میں تباہ ہوگی۔ اور ہر امت کا کوئی خاص اخلاق ہوتا ہے۔ اور میری امت کا خاص اخلاق حیا ہے۔ جب تک ان کے اندر حیا موجود رہے گی۔ یہ بالکل ٹھیک رہیں گے۔ جب حیا کا خلق ضائع ہوگیا۔ خرابی آجائے گی ، بےحیائی پیدا ہوجائے گی۔ مفتوں کون ہے : اخلاق محمدی کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ربانی ہے یعنی آپ بھی عنقریب دیکھ لیں گے اور یہ معترضین بھی دیکھ لیں گے۔ کہ تم میں سے کون فتنے میں ڈالا گیا ہے۔ یہ خود پاگل ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں حالانکہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بہک گیا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو بھی جو ہدایت کے راستے پر چل رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ آپ ان لوگوں کے اعتراض سے نہ گھبرائیں۔ آگے مزید تسلی اور بہت سی باتیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہیں۔
Ayahs 68:8–16

فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 68:8 in the Quran reader

پس آپ ان مکذبین کی بات تسلیم نہ کریں۔

وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ Open ayah 68:9 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ آپ (اپنے مشن میں ) ڈھیلے ہوجائیں تو وہ بھی ڈھیلے ہوجائیں۔

وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ Open ayah 68:10 in the Quran reader

اور (بات بات پر) جھوٹی قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کا کہا نہ مانیں۔

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ Open ayah 68:11 in the Quran reader

طعنہ دینے والا چغلیاں کرنیوالا۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 68:12 in the Quran reader

نیکی کے کاموں سے روکنے والا تعدی کرنیوالا گنہگار۔

عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ Open ayah 68:13 in the Quran reader

اکڑ والا علاہ ازیں (نسب میں) متہم بھی ہے۔

اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ Open ayah 68:14 in the Quran reader

اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال اور بیٹے دے رکھے ہیں۔

اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 68:15 in the Quran reader

جب اس پر ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں کہ تو کہتا ہے یہ پرانے زمانے کے قصے کہانیاں ہیں۔

سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ Open ayah 68:16 in the Quran reader

عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔

گذشتہ سے پیوستہ (ربط) : جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور آپ نے آپ کے ساتھیوں نے وضو کرنا شروع کیا ، نماز پڑھنا شروع کیا تو مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ العیاذ باللہ یہ لوگ مجنون ہوگئے ہیں۔ پاگلوں کی سی حرکتیں کرتے ہیں۔ ان مشرکین میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل ، اخنس بن شرق وغیرہ زیادہ پیش پیش تھے۔ یہ حضور ﷺ کے بارے میں مجنون کا لافظ استعمال کرتے تھے کہ انکے دماغ ٹھکانے نہیں رہے۔ عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں۔ شروع سورة میں اللہ تعالیٰ نے اس الزام کا جواب دیا اور ثابت کیا کہ حضور ﷺ اللہ کے فضل و احسان سے دیوانے نہیں ہے۔ بلکہ آپ تو بلند اخلاق پر ہیں۔ اور ضمناََ بات سمجھا دی کہ دیوانے اور مجنون حضرات کی حرکات اور ان کے کام مشوش ہوتے ہیں۔ اور حضور نبی کریم تو لوگوں کے سامنے علم ، حکمت اور معرفت کی بلند ترین باتیں پیش کر رہے ہیں۔ ایسی باتیں جن کا مقابلہ کرنے سے انسان عاجز ہے۔ آپ کا اخلاق بھی بہت عالی ہے تو ایسے شخص کو دیوانہ کہنا انتہائی تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ مشرکین کی پیش کش : نبی ﷺ کو اپنے مشن سے ہٹانے کے لیے کئی پیش کشیں کی گئیں۔ مثلاََ یہ کہ اگر آپ ﷺ پسند کریں تو ہم آپ کے لیے اچھی سے اچھی اور حسین عورت پیش کرسکتے ہیں۔ اگر آپ مال و دولت کے خواہشمند ہوں ، تو مال مہیا کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ﷺ عمدہ خوراک ، اور عمدہ لباس پسند فرمائیں ، تو یہ سب چیزیں پیش کرسکتے ہیں۔ اگر آپ سردار بننا پسند کریں تو ہم سب آپ کے بھائی بند ہیں۔ آپ کے خاندان کے لوگ ہیں ۔ ہم آپ ﷺ کو اپنا سردار تسلیم کرنے کو تیار ہیں ، بشرطیکہ آپ ﷺ اپنے مشن سے ہٹ جائیں۔ آپ بیشک اپنے رب کی عبادت کرے رہیں ، ہم اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جن معبودوں کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ آپ ان کو برا بھلا نہ کہیں۔ ہمیں ان کی عبادت سے نہ روکیں۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے۔ اور اس کے بدلے ہم آپ ﷺ کو تمام مراعات دینے کو تیار ہیں۔ مداہنت حرام ہے : مشرکین کے مذکورہ بےہودہ خیالات اور فضول پیش کش کے جواب میں یہ آیات نازل فرمائیں ارشاد ہوا ، یعنی آپ ان مکذبین کی بات کو تسلیم نہ کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، قیامت اور رسالت کو جھٹلانے والے ہیں ، ان کی بات نہ مانیں ، کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے مشن میں ڈھیلے ہوجائیں تو وہ بھی ڈھیلے ہوجائیں گے۔ یہ لوگ آپ ﷺ سے مداہنت چاہتے ہیں۔ جو کہ قطعی حرام ہے۔ لہذا آپ ان کی بات نہ مانیں۔ حسن اخلاق اور مداہنت میں فرق : حسن اخلاق اور مدارات الگ چیز ہے۔ جبکہ مداہنت الگ ، اول الذکر بہت اچھی چیز ہے اور موخر الذکر حرام ہے۔ حسن اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر موافق اور مخالف کے ساتھ مدارات اور حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری ؓ سے فرمایا یعنی لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ میل جو ل رکھو۔ تو گویا مدارات اور حسن اخلاق مطلوب ہے اور اس کی کامیابی کا مدار ہے۔ قیامت کے روز حسن اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہ ہوگی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے قیامت وا لے دن میرے قریب وہ لوگ ہوں گے ، جن کے اخلاق اچھے ہیں ، یہاں پر آپ ﷺ کو صاف فرمادیا کہ مکذبین کی بات نہ مانیں۔ یہ آپ کو ورغلانا چاہتے ہیں۔ مشن سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں جو کہ حرام ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت کردی کہ مداہنت دین کے حقوق میں ہوتی ہے جب کہ حسن اخلاق انسان کے اپنے حقوق سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کی عزت نہیں کرتا ، اکرام نہیں کرتا تو یہ درگذر کیا جاسکتا ہے۔ کہ اس کا تعلق انسان کے لیے حقوق سے ہے۔ برخلاف اس کے کہ اگر کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے روکنا چاہتا ہے تو یہ دین کا معاملہ ہے اور یہی مداہنت ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ کسی نے مارا ، برا بھلا کہا ، گالی دی ، ملامت کی آپ نے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا سوائے جہاد کے ا کہ امیہ بن خلف کو اس کی گردن پر نیزہ مارا تھا جس سے اس کو موت واقع ہوئی ، ورنہ آپ ﷺ نے اپنی کسی بیوی کو ، کسی خادم کو کبھی اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ اور اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہ آپ کا حسن اخلاق ہے ۔ ہاں اگر دین کے معاملہ میں کوئی شخص خلل انداز ہوتا تھا۔ تو آپ ﷺ ناراض ہوجاتے تھے۔ اور ایسے ناراض ہوتے تھے۔ کہ آپ کے غصے کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکتی تھی۔ جب تک کہ اس چیز کو پورا نہ کردیں اگر اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی چیز کی بےادبی ہو رہی ہے ، یا شریعت اور دین کے خلاف کوئی بات ہورہی ہے تو آپ سخت غصے میں ہوتے تھے۔ تو گویا حسن اخلاق اور مداہنت میں یہ فر ق ہے۔ دین کے معاملہ میں سودے بازی نہیں ہو سکتی : تو فرمایا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ مشرکین کے شرک اور ان کے معبود ان باطلہ کا رد نہ کریں ، یہی تو مداہنت ہے۔ جو کہ حرام ہے۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا بلکہ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ شرک قبیح چیز ہے۔ اس سے بچو ۔ صرف اللہ کی عباد ت کرو۔ اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ بنائو۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں اور یہ اپنے معبود ان باطلہ کی۔ اور ایک دوسرے کے معاملات میں دخل نہ دیں۔ نہیں یہ سودے بازی نہیں ہو سکتی یہ دین کا معاملہ ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پورا پورا حق ادا کیا جائے گا۔ اس معاملہ میں یعنی اے نبی ﷺ ان مکذبین کی بات ہرگز نہ مانیں۔ منکرات کے خلاف سینہ سپر رہیں۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی کہے کہ بدعات اور دیگر برائیوں سے نہ روکو جیسے کوئی کرتا ہے کرنے دو ۔ کوئی سینما دیکھتا ہے۔ دیکھنے دو ، کوئی جوا کھیلتا ہے ، کھیلنے دو ، کسی کو کچھ نہ کہو نہیں یہ درست نہیں ہے۔ منکرات منہیات اور ممنوعات کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ اسی طرح اچھی باتوں کو طرف رغبت دلانا بھی ضروری ہے۔ ورنہ مدا ہنت ہوگی ، جو کہ دین میں حرام ہے۔ مجنون کہنے والے کی مذمت : ولید بن مغیرہ جسن نے نبی ﷺ کو مجنون کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ایک لفظ کے بدلے دن الفاظ سے اس کی مذمت بیان کی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتے ہیں۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے جس شخص نے حضور کو ایک لفظ مجنون کا خطاب دیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت میں دس الفاظ استعمال کیے۔ فرمایا یعنی بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانے والے اور ذلیل شخص کا کہا نہ مانیں۔ زیادہ قسمیں اٹھانا ویسے بھی مکروہ ہے۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اگر قسم کھانا ضروری ہی ہے تو اللہ کے نام کی قسم کھانا چاہیے۔ یعنی خدا کے نام کو اپنی قسموں کا نشانہ ہی نہ بنا رکھو۔ یہ بھی قبیح فعل ہے۔ ہاں جب بعض حالات میں انسان مجبور ہوجاتا ہے۔ گواہ موجود نہیں ہوتا اور دوسرے کو یقین دلانے کے لیے قسم اٹھانا ہی پڑے تو اللہ کے نام کی ہی اٹھان چاہیے۔ تو فرمایا یہ شخص حلاف ہے یعنی جھوٹی قسمیں کھا تا ہے اور اپنے اعمال و کردار کے لحاظ سے یعنی ذلیل بھی ہے۔ طعنہ باز ، عیب جو اور چغل خور : یہ شخص یعنی طعنہ دینے والا ہے۔ ہمز کے معنی توڑنا اور طعنہ دینا جیسے ہماز طعنہ دینے والا اور عیب جوئی کرنے والا۔ طعنہ بھی کسی کو نہیں دینا چاہیے۔ یہ بھی ممنوع ہے۔ اور یعنی چغلیاں کرتا ہے۔ نمیمہ کے معنی چغلی کھان ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا تاکہ آپس میں جھگڑا ہو۔ اس کو قتات بھی فرمایا یعنی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ فساد برپا کرنے کے لیے بات ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دو قبر۔ والوں کا حال حضور ﷺ پر منشکف فرمایا۔ ان کو سز ہور ہی ہے۔ ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔ خواہ کپڑوں پر چھینٹے پڑجائیں یا جسم پر مگر یہ پرواہ نہیں کرتا تھا۔ اس جرم میں سزا ہورہی ہے۔ اور دوسرا شخص چغلی کیا کرتا تھا۔ ان دونوں عیبوں سے بچنا ضروری ہے۔ انسان چغلی سے بچ سکتا ہے۔ اور پیشاب کی نجاست سے بھی محتاط رہ سکتا ہے۔ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ نیکی سے روکنے والا وار تعدی کرنے والا گہنگار : اس شخص کی دوسری صفات یہ بیان فرمائیں کہ یہ نیکی کے کاموں سے روکتا ہے اور یعنی تعدی کرتا ہے لوگوں کے حق ضائع کرتا ہے۔ نیز یعنی گہنگار ہے۔ شراب بھی پی لی ، بدکاری بھی کرلی۔ اور جو کچھ بھی آیا کرتا چلا گیا۔ اکٹر فوں اور متہم : یہ شخص یعنی اکٹر والا بھی ہے ۔ مغرور ہے۔ اور متہم بھی ہے نسل کے اعتبار سے بھی اور اس پر اتہام ہے کہ صحیح النسل نہیں ہے۔ مال اور اولاد پر فخر : آگے ارشاد فرمایا کہ یہ شخص اس لیے اکڑ دکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مال اور بیٹے دے رکھے ہیں۔ اسکے دس بیٹے تھے ، ان میں سے تین نے اسلام قبول کیا۔ خالد ؓ ، عمارہ ؓ اور ہشام ؓ جب یہ مجلس میں آتے تھے بڑی رونق ہوتی تھی۔ دس جوان بیٹے اور مال کی فراوانی تھی۔ مال تجارت میں لگا ہوا تھا۔ ایک لاکھ اشرفیاں تجارت میں لگی ہوئی تھیں ۔ جانوروں میں اونٹ اور بکریاں بھی بہت تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے انعامات فرمائے تو اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا۔ مگر یہ شخص الٹا اکٹر دکھاتا تھا۔ پہلے لوگوں کی کہانیاں : اس شخص کی ایک مزید صفت یہ بیان کی کہ جب ہماری آئتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ پرانے زمانے کے قصے کہانیا ہیں۔ کبھی کہتا تھا کہ (محمد ﷺ ہمیں پرانے زمانے کے عاد اور ثمود کی کہانیاں سناتا ہے۔ آئو میں تمہیں بہمن و اسفند یار کے قصے سنائوں ، جیسے بہمن اور اسفندیار کے قصے مشہور ہیں یعنی برائیوں کے قصے۔ اسطورہ یونانی لفظ ہے۔ عربی میں بطور جمع اساطیر استعمال ہوا۔ قصے کہانیاں ، جسے انگریزی میں سٹوری کہتے ہیں۔ اس دشمن دین کی تمام مذمت بیان کرنے کے بعد سز ا کے طور پر فرمایا ہم اس کو سونڈھ پر داغ لگائیں گے۔ یہ اونچی ناک یعنی سونڈھ والا اور بڑا باعزت بنا پھرتا ہے۔ ہم اس کو ذلیل و خو اور کردیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دوسرے مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ میدان بدر میں انصار کے ایک شخص نے اس کی ناک پر زخم لگایا تھا۔ یہ بچ کر بھاگ نکلا۔ واپس مکہ میں آکر علاج کرتار ہا۔ زخم ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔ آکلہ بن گیا۔ جیسا غان غرانہ ہوتا ہے۔ اور پھر اسی تکلیف سے مرگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسکو خرطوم یعنی ہاتھی سے تشبیہ دی۔ خرطوم کا اطلاق خستر یر پر بھی ہوتا ہے۔ تو اس شخص کا یہ انجام ہوا۔
Ayahs 68:17–33

اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:17 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کو آزمایا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا جب انہوں نے قسم اٹھائی کہ ضرور باغ کے پھل کو علیٰ الصبح کاٹیں گے۔

وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ Open ayah 68:18 in the Quran reader

اور انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔

فَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ Open ayah 68:19 in the Quran reader

پس پھر گیا اس باغ پر پھرنے والا تیرے رب کی طرف سے اور وہ سوئے ہوئے تھے۔

فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ Open ayah 68:20 in the Quran reader

صبح تک ایسا ہوگیا جیے کٹی ہوئی فصل ہو۔

فَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ Open ayah 68:21 in the Quran reader

پس وہ صبح سویرے ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے۔

اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ Open ayah 68:22 in the Quran reader

کہ سویرے چلو اپنی کھیتی کی طرف چلیں اگر تمہیں پھل توڑنا ہے۔

فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ Open ayah 68:23 in the Quran reader

پس وہ چلے آپس میں چپکے چپکے کہتے تھے۔

اَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ Open ayah 68:24 in the Quran reader

کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے۔

وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ Open ayah 68:25 in the Quran reader

وہ صبح سویرے چلے کہ (بزعم خویش) نہ دینے پر قادر ہیں۔

فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ Open ayah 68:26 in the Quran reader

پس جب انہوں نے موقع پر پہنچ کر اسکو دیکھا تو کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے ہیں۔

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 68:27 in the Quran reader

بلکہ ہم محروم ہوگئے۔

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ Open ayah 68:28 in the Quran reader

منجھلے بھائی نے کہا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 68:29 in the Quran reader

پکاراٹھے پا ک ہے ہمارا رب بیشک ہم ہی تھے ظالم۔

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ Open ayah 68:30 in the Quran reader

پھر متوجہ ہوئے ، بعض پر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔

قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ Open ayah 68:31 in the Quran reader

ساتھ یہ بھی کہنے لگے ، افسوس ! بیشک ہم ہی سرکشی کرنے والے ہیں۔

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ Open ayah 68:32 in the Quran reader

امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب اب ہمارے لیے اس سے بہتر باغ تبدیل کر دے گا۔ کیونکہ ہم اپنے رب کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

كَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 68:33 in the Quran reader

سزا اسی طرح ہوا کرتی ہے۔ اور آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے۔ اگر یہ لوگ سمجھ جاتے۔

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا حال بیان فرماتے ہوئے کہا کہ جب ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ان میں کیا دھرا ہے۔ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ توا للہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر فرمایا کہ ہم ایسے لوگوں کو ذلیل کریں گے۔ ان کی ناپاک پر ذلت کا نشان لگا دیں گے۔ مال کی فراوانی مقبولیت کی علامت نہیں : اس مقام پر یہ سوال پید ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹی قسمیں کھانے والے ، ذلیل عیب جو چغل خور ، نیکی سے روکنے والے ، حد سے بڑھنے والے ، پانی اور متکبر جیسے برے الفاظ سے یاد کیا ، اور فرمایا کہ یہ صحیح النسب بھی نہیں ہیں یہ ان پر یہ انعامات کیوں کئے مال و دولت اور اولاد کی نعمت سے مالا مال کیون کیا ، یہ تو اس اچھے سلوک کے لائق نہ تھے ، پھر ان کو ریاست اور سرداری کیوں عطا کی۔ اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ یعنی ہم نے ان کو محض آزمایا ہے۔ مال و اولاد کی فراوانی ان کی محبوبیت اور مقبولیت کی علامت ہرگز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولیت اور محبوبیت کی نشانی ایمان اور اعمال صالحہ ہیں نہ کہ مال و دولت ۔ اکثرو بیشتر انبیائے کرام کے حالات دنیا میں کیسے رہے۔ کیا ان کے پاس مال و دولت یا خزانوں کی فراوانی تھی ؟ بیشک بعض کو اللہ تعالیٰ نے حکومت اور خلافت بھی عطا کی۔ مگر اکثر یت کی دنیوی حالت کمزور رہی ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب اور محبوب رسول اور نبی ہیں اور پھر ، ان کی ساتھ ملنے والے لوگ۔ تو یہ مال و دولت اور جاہ و جلال ا ن کے اچھا ہونے کی علامت نہیں بلکہ یہ اقتدار اور ریاست اور نعمتیں محض امتحان کے لیے ہیں۔ ان کی آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ باغ والوں کی مثال : اس کے بعد ارشاد ہو ا کہ ہم نے یہ مال و دولت ان لوگوں کو دے کر اسی طرح آزمائش میں مبتلا کیا ہے جیسے ہم نے باغ والوں کو آزمایا۔ جنت کا معنی بہشت بھی ہے جو اہل ایمان کو آخرت میں نصیب ہوگی ، ویسے جنت کا عام معنی باغ ہے یہاں پر جنت سے مراد نیوی باغ ہے۔ جس باغ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ان باغ والوں کو آزمایا تھا۔ یہ باغ کہاں تھا۔ اس ضمن میں مفسرین کرام کی مختلف رائیں ہیں۔ حضور ﷺ کے ارشاد گرامی میں کوئی صحیح اور مرفوع روایت موجود نہیں ہے۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ حبشہ میں تھا ، یایمن کے مرکزی شہر صنعات سے چند میل کے فاصلے پر یہ باغ وادی ضروان میں تھا۔ باغ کے مالک کی فیاضی : باغ کا مالک مومن اور ایماندار آدمی تھا۔ باغ کی پیداوار میں سے اپنی ضروریات کے علاوہ غریب پروری بھی کرتا تھا۔ چناچہ فصل کی کٹائی کے موقع پر غرباء اور مساکین جمع ہوجاتے تھے ۔ اور باغ کا مالک انہیں کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرتا تھا۔ اسی طرح جب کھلیان تیار ہوجاتا تھا۔ تو اس کے ناپنے کے موقع پر بھی مستحقین کو ان کا جواب دیتا تھا پھر جب آتا پسوا کر روٹی تیار ہوتی تھی ، جب بھی وہ مساکین کا حق ادا کرتا تھا۔ حضرت جعفر طیار ؓ : ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ایسا کوئی سوار کسی سواری پر سوار نہیں ہوا ، اور کسی نے جوتا نہیں سلوایا اور پہنا ، جو حضور ﷺ کے بعد حضرت جعفر ؓ کے برابر ہو۔ وجہ یہ ہے کہ آپ بڑے مسکین پرور تھے۔ اول تو یہ کہ غرباء اور مساکین کے پاس خود بیٹھتے تھے۔ دوسرے یہ کہ کبھی سواری پر سوار نہیں ہوتے تھے۔ جب تک کوئی مسکین بھی سوار نہ ہو۔ اسی طرح جب اپنے لیے جوتا بنواتے تھے تو کسی غریب کے لیے بھی تیار کرواتے تھے۔ آپ بھی وقت تک جوتا نہیں پہنتے تھے ، جب تک کسی مسکین کو بھی ساتھ شریک نہ کرلیں۔ اسی لیے حضور ﷺ نے آپ کا لقب ابوالمساکین رکھ دیا تھا۔ مسکینوں کا باپ یعنی بڑا شفیق۔ یہ حضور ﷺ کے چچا زاد یعنی حضرت علی ؓ کے بڑے بھائی تھے۔ جنگ موتہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔ ان کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بہشت میں دیکھا کہ جعفر ؓ فرشتوں کے ہمراہ پروں کے ساتھ پرواز کررہا ہے۔ آپ کے دونوں باز و جنگ موتہ میں کٹ گئے تھے۔ مگر اس کے باوجود آپ نے جھنڈا دانتوں کے ساتھ تھامے رکھا۔ حضور ﷺ نے آپ کا نام جعفر طیار ؓ رکھ دیا۔ باغ والے کے سیٹوں کا نحل : جیسا کہ مذکور ہے کہ باغ کا مالک مسلمان مومن اور غریب پرور تھا۔ اس کے پانچ بیٹے تھے۔ بعض روایات میں تین کا ذکر آتا ہے۔ یہ بیٹے باپ کی طرح فیاض نہیں تھے۔ جب باپ فوت ہوگیا اور باغ ، بیٹوں کی ملکیت میں آگیا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمارا باپ تو ہر موقع پر غربا اور مساکین کو دے دیتا تھا جس کی وجہ سے ہماری بہت سی آمدنی چلی جاتی تھی ۔ ہمارا باپ کوئی عقلمند آدمی نہ تھا جو اپنی آمدن کو اس طرح ضائع کرتا تھا۔ ہم بال بچے دار ہیں۔ ہمیں اپنی ضروریات کے لیے سب کچھ خود رکھ لینا چاہیے۔ کسی غریب مسکین کو دنے کی ضرورت نہیں۔ مگر وہاں کا رواج اور دستور یہ تھا کہ پھل توڑنے کے وقت ، فصل کی کٹائی کے وقت اور گہائی وغیرہ کے موقع پر مساکین وہاں پہنچ جاتے تھے تو کھیت کا مالک کسی کو مایوس نہیں کرتا تھا۔ بیٹوں کا منصوبہ : اپنی فصل کو غربا اور مساکین میں تقسیم سے بچانے کے لیے بیٹوں نے یہ منصوبہ تیار کیا کہ پھل ایسے وقت اتارا جائے جس وقت کسی کو پتہ نہ چلے۔ چناچہ طے یہ پایا کہ صبح بہت سویرے جا کر پھل اتارنا چاہیے۔ جب کسی کو پتہ نہ چل سکے۔ نہ کسی کو معلوم ہوگا۔ نہ کوئی موقع پر پہنچے گا۔ اور نہ ہمیں کسی کو کچھ دینا پڑے گا۔ پانچ بھائیوں میں سے درمیانے بھائی کی رائے مختلف تھی۔ وہ کہتا تھا کہ مساکین کا حق نہ مارو ، ان کا حق انہیں ملنا چاہیے ۔ مگر دوسرے بھائی اسے ڈانٹ پلا کر خاموش کردیتے تھے۔ اور وہ بیچارہ بھی مجبور ان کے ساتھ شریک ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہی مثال مکہ والوں کی بیان کی۔ کہ جس طرح باغ والے کے بیٹے تھے اسی طرح مکہ والے بھی نافرمان ہوگئے۔ الغرض انہوں نے قسم اٹھائی کہ باغ کے پھل کو علی الصبح کاٹیں گے۔ تاکہ اس وقت کوئی غریب مسکین وہاں موجود نہ ہو۔ انشاء اللہ کی اہمیت : یہ فیصلہ کرتے وقت انہوں نے انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ حالانکہ کسی کام کا ارادہ کرتے وقت اگر ساتھ انشاء اللہ کہہ دیا جائے تو کام کے پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے کی صورت میں بھی آدمی گہنگار نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ کہنے سے اس کا م کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس طرح نہ تو آدمی جھوٹا ثابت ہوتا اور نہ ہی قسم اٹھانے کی صورت میں حانث (قسم کو توڑنے ولا) ہوتا ہے۔ یہ کلمہ کہنے والا وعدہ خلاف بھی نہیں ہوتا۔ الغرض انشاء اللہ کہہ کر اپنا کام کو اللہ اللہ تعالیٰ کو سونپنے والی بات ہے اور ایمان کی نشانی ہے۔ غریبوں کی حق تلفی : بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یستثنون کا معنی اللہ نہیں بلکہ اس سے مراد استثنی کرانا ہے مثلا غریبوں کا حق مستثنیٰ کردیا جائے الگ کر کے ان کو دے دیا جائے۔ مگر انہوں نے تو ارادہ کیا کہ غریبوں کو ہرگز نہیں دیں گے۔ اگر باپ دیتا تھا تو اب ہم کسی کو نہیں دیں گے۔ پھل کا ایک ایک دانہ خود کاٹیں گے۔ عذاب الہٰی : ادھر وہ اپنا منصوبہ بنا رہے تھے ار ہوا یہ کہ پس پھر گیا اس باغ پر پھرنے ولا اور وہ تو گھروں میں سوئے ہوئے تھے۔ یعنی بیٹے تورات کو منصوبہ بنا کر سوگئے۔ کہ صبح سویرے اٹھ کر پھل توڑ لیں گے مگر راتوں رات عذاب الہیٰ پہنچ گیا۔ اس حالت میں کہ وہ ابھی تک سوئے ہوئے تھے۔ عذاب الہٰی کس صورت میں نازل ہوا۔ مفسرین کرام دو روائیتیں بیان کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ راتوں رات ڈاکو آئے اور پکا پکایا پھل توڑ کرلے گئے اور درختوں کو کاٹ دیا اور جلا دیا۔ اور باقی کوئی چیز نہ رہنے دی۔ دوسری روایت یہ ہے کہ کوئی آسمانی آفت نازل ہوئی جس نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کردیا۔ نہ کوئی درخت رہا نہ پھل اناج کا ایک دانہ تک باقی نہ بچا۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ صبح تک ایسا ہوگیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔ سارا باغ ایسا ہوگیا جیسا کہ گھاس کاٹ دی گئی ہو اور ساری جگہ ویران ہوگئی۔ ادھر باغ کی حالت تو راتوں رات یہ ہوگئی اور دوسری طرف بیٹے صبح سویرے اٹھ کر ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے۔ چلو اپنی کھیتی کی طرف چلیں اگر تمہیں پھل توڑنا ہے پس وہ چپکے چپکے سے چل دیے۔ تاکہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ اور نہ کسی کو کچھ دینا پڑے۔ بیٹوں کی محرومی : دو معنی ہو سکتے ہیں۔ یعنی تیز تیز چلنا اور منع کرنا ، روک دینا۔ تو اس مقام پر دونوں معافی لگ سکتے ہیں۔ یعنی وہ صبح سویرے تیز تیز چلے یا وہ اس ارادہ سے چلے کہ کسی کو کچھ نہیں دینا ہے۔ نیز وہ سمجھتے تھے کہ وہ یعنی وہ اس بات پر قادر ہیں کہ پروگرام کے مطابق صبح سویرے جا کر پھل توڑ سکیں گے۔ اور کسی غریب مسکین کو کچھ نہیں دیں گے۔ پس جب انہوں نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو سمجھے کہ ہم تو راستہ بھول گئے ہیں یہ ہمارا باغ تو نہیں ہے۔ ہم کسی اور جگہ آگئے ہیں کیونکہ وہاں پر تو ان کے باغ کی کوئی چیز باقی نہ رہی تھی۔ پھر جب انہوں نے اچھی طرح غور کیا اور معلوم ہوگیا کہ ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ اپنے ہی باغ میں آئے ہیں۔ تو پکار اٹھے ہم محروم ہوگئے ہماری قسمت پھوٹ گئی ، ہمارا تو باغ ہی تباہ ہوگیا ہے۔ جب ان کو یقین ہوگیا کہ وہ اپنے باغ سے محروم ہوگئے ہیں تو درمیانے یا منجھلے بھائی نے کہا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ تم نے تو انشاء اللہ بھی نہ کہا۔ اور خدا تعالیٰ کی مشیت پر نہ چھوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تم باغ سے بالکل محروم ہوگئے۔ اگر مساکین کا حق ادا ر کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ درمیانی اشیاء کی فضیلت : ان بھائیوں میں سے صحیح مشورہ دینے والا درمیانہ بھائی تھا۔ اس نے پہلے بھی کہا تھا۔ کہ غرباء مساکین کا حق تلف نہ کرو ، مگر دوسرے بھائیوں نے اسے ڈانٹ پلا کر اپنے ساتھ شریک کرلیا۔ تو گویا ا ن سب میں سے درمیانہ بھائی افضل تھا کہ یعنی درمیانی چیز بہتر ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کی مات کو کہا گیا یعنی یہ امت باقی امتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ فراخی اور تنگی رزق پر قادر ہے : رزق کی فراخی اور تنگی اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ چاہے تو کسی کو بیحد و شمار عطا کردے ، اور چاہے تو تنگی مسلط کردے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ امام مہدی کا ظہور ہوگا تو ایسا دور بھی آئے گا کہ صدقہ قبول کرنے والا کوئی نہیں ملے گا۔ اس قدر مال کی فراوانی ہوگی۔ زمین سونا اگلے گی ، مگر کوئی لینے والا نہیں ہوگا۔ صدقہ دینے والا جا کر کہے گا کہ لو بھئی یہ زکوٰۃ یا صدقہ ہے ، اسے قبول کرلو۔ آگے سے جواب آئے گا۔ اگر کل لے آتے تو میں قبول کرلیتا کل تک میں محتاج تھا ، مگر آج مجھے ضرورت نہیں ہے۔ مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو رزق میں ایسی فراوانی پیدا کرسکتا ہے۔ مگر یہ قانون قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں سب کو ایک جیسا نہیں رکھتا۔ یعنی اللہ نے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ کسی کو مال دے کر آزمائش میں ڈال دیا۔ مال عطا کر کے حکم دیا کہ اس مال سے زکوٰۃ دو ، حج کرو ، صدقہ و خیرات بھی کرو۔ اس میں عزیز و اقرباء کا حق بھی ہے۔ ا ن تمام حقوق کو پورا کرو۔ جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ مال کوئی عذاب تو نہیں ہے۔ بلکہ اچھا ساتھی ہے مگر اس کے لیے جو اللہ کا حق ادا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حقوق ادا کرنے کے بعد کوئی شخص سرمایہ دار نہیں رہ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا قول ہے کہ سارے حقوق ادا کرنے کے بعد دیکھیں کسی کے پاس دو درہم بھی بچتے ہیں ؟ اسلام کا نظام معیشت : اس وقت دنیا کے بیشتر حصے پر سرمایہ داری نظام کی لعنت پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا رد عمل اشتراکیت ہے ، اور وہ غیر فطری ہے۔ لہٰذا یہ دونوں نظام لعنتی ہیں۔ نظام سرمایہ داری کیا ہے جس طریقے سے چاہو دولت جمع کرو ، جس طریقے سے چاہو خرچ کرو۔ نہ جمع کرنے پر کوئی پابندی ہے اور نہ خرچ کرنے میں۔ امریکہ ، برطانیہ ، مغربی جرمنی ، فرانس اور ان کے حواری ممالک میں یہی نظام رائج ہے۔ مال جمع کرنے پر کوئی پابندی نہیں صرف لائسنس ہونا چاہیے۔ خنزیز اور شراب کی تجارت ہوتی ہے۔ لائسنس کے ذریعے زنا کا کاروبار ہوتا ہے۔ الغرض جس طرح بھی ہوسکے ، دولت جمع کرلو ، کوئی پابندی نہیں ہے۔ اسی طرح خرچ کرنے میں بھی آزاد ہیں ، کسی بلڈنگ پر لگا دو ، سینما بنا ڈالو ، جو اخانہ تیار کرلو ، غرض کوئی بھی کا م کرلو ، سرمایہ داری نظام میں کوئی پابندی نہیں۔ ہاں ! اسلام کا نظام معیشت ہی پاکیزہ نظام ہے۔ اسلام کہتا ہے یعنی روزی طلب کرنے میں اچھا راستہ اختیار کرو۔ حرام ذرائع سے روزی کمانا جائز نہیں ہے۔ اور پھر ہم نے جو کچھ دے رکھا ہے اس میں خرچ کرو۔ خرچ کی ساری مدیں درست ہیں۔ کوئی فرائض ہیں ، کوئی واجب ہیں ، کوئی سنت اور مستحب ہیں ان سب پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ برخلاف اس کے ناجائز ، حرام اور مشتبہ جگہ پر مال خرچ کرنا منع ہے۔ مسلمان کسی حرام جگہ اور ناجائز رسوم پر دولت نہیں لٹاتا۔ یہ حرام ہے ۔ تو یہ اسلام کا نظام معیشت۔ سرمایہ دار انہ نظام کی ایک بنیادی خامی یہ ہے۔ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مال کے مالک ہم ہیں جیسا کہ قاردن نے کہا یعنی مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے ؟ میں تو فن جانتا ہوں ، ماہر ہوں ، اس ٹیکنیک سے واقف ہوں جس کے ذریعے مال کمایا گیا ہے یہ تمام کار خانہ دار ، بڑے بڑے دکاندار سب اسی ذہنیت کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ کی کمائی ہے۔ اپنے ہنر اور کمال کا عطیہ ہے۔ من جانب اللہ نہیں ہے۔ دنیا کو چکر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ سارا مال اللہ تعالیٰ نے عطا کرکے ساتھ حکم دیا ہے کہ اس میں سے خرچ بھی کرو یعنی قرابت داروں ، ماں باپ ، بہن بھائی ، رشتہ داروں کو ان کا حق ادا کرو۔ مساکین اور مسافروں کی خبر گیری کرو ، نادار اور مفلس لوگوں کی مدد کرو ، اور فضول خرچی نہ کرو۔ مال دے کر تمہیں آزمایا گیا ہے۔ اس پر امین بنایا گیا ہے۔ مالک حقیقی تم نہیں ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دیکر تم پر احسان کیا ہے ، اسی طرح تم بھی اس کے حکم کے مطابق خرچ کر کے مخلوق کے ساتھ احسان کرو۔ غریب پروری سے مجتنب سوسائٹی ذلیل ہوگی : مسلمان سوسائٹی میں غرباء مساکین اور نادار اسی سوسائٹی کا جزو ہیں اور سوسائٹی کا فرض ہے کہ وہ ان حاجت مندوں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دے۔ جو سو سائٹی اپنے نادار بھائیوں کے لیے روز گار کا بندوبست نہیں کرتی ، ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی معیشت کو سہارا نہیں دیتی ، وہ باعزت سوسائٹی نہیں بلکہ لعنتی ہے ایسی سوسائٹی کو عزت حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ذلیل ہو کر رہے گی۔ انہیں ذرہ احساس نہیں کہ ان کے بھائی بھوکوں مر رہے ہیں اور وہ ٹس سے مس تک نہیں ہوتے سورة یٰسن میں ایسی ہی مثال بیان کی گئی ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرو ، تو کافرمومنوں سے کہتے ہیں کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو خودان کو کھلا دیتا۔ فرمایا یہی حال اس سوسائٹی کا ہے جو محتاج کی خبر گیری نہیں کرتی۔ یہ بھی کہتے کہ جب خدا نے انہیں محتاج رکھا ہے تو ہم ان کی مدد کیوں کریں۔ فرمایا یہ جھوٹ کہتے ہیں۔ خدا نے تمہیں حکم دیا ہے کہ ان پر خرچ کرو ، کوئی بھوکا ننگا نہ رہے۔ اگر غرباء و مساکین تمہارے سامنے ذلیل ہوتے رہے تو یاد رکھو ، تم کو بھی عزت نصیب نہیں ہوگی ، ساری سوسائٹی ذلیل ہوجائے گی غریبوں سے چشم پوشی برتی تو دنیا میں بھی عزت حاصل نہیں ہوگی۔ غیر مسلم اقوام کی غریب پروری : عیسائی ممالک میں برطانیہ کو دیکھو۔ اتنے بڑے زوال کے بعد بھی اس کی ساکھ قائم ہے۔ برطانیہ میں کوئی شخص بےروزگار نہیں ہے۔ حکومت ہر شخص کے روزگار کی ذمہ دار ہے۔ اور جب تک کسی کو روزگار نہیں ملتا۔ حکومت اسے گذارہ الائونس دیتی ہے۔ کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو اس کا فری علاج کرتے ہیں ، حدیث میں آتا ہے کہ عیسائی قومیں جلدی ترقی کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے غرباء مساکین کا خیال رکھتی ہیں۔ انہوں نے طرح طرح کے طریقے اختیار کر رکھے ہیں جن سے غربا کی مدد کرتے ہیں۔ مسلمان قوم کی غفلت : برخاف اس کے مسلامن ممالک میں کیا ہورہا ہے۔ کیا یہاں دولت کی کمی ہے یا وسائل کی کمی ہے۔ نہیں بلکہ یہاں صرف ایمان ، دین اور فہم کی کمی ہے۔ مسلمان قوم کی گراوٹ ان کے گندے نظام اور جہالت کی وجہ سے ہے۔ یہ اپنے آپ کو مالک و مختار سمجھ بیٹھے ہیں یہ اپنی مرضی سے جس طرح چاہیں خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ رسم و رواج میں چاہے لاکھوں روپے خرچ کرڈالیں مگر غرباء و مساکین اور صرف کرنے کے دیگر کاموں پر دو پیسے بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں۔ باغ والوں کا اعتراف معصیت : الغرض جب بیٹوں کو اپنے باغ کی تباہی کا یقین ہوگیا تو پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب بیشک ہم ہی ظالم ہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہم کو بہت انعام کیا تھا مگر ہم ہی ظالم ثابت ہوئے کہ اس کے عطا کردہ مال میں سے غربا کا حق ادا نہ کیا۔ ہم مسکینوں کا حق مرنا چاہتے تھے جسکی سزا ہمیں مل گئی۔ کیونکہ قرآن پاک میں موجود ہے یعنی مال تمہارے مال میں سائلوں اور محروموں کا حق ہے۔ یہ بھی ادا کرو ، یہ آیت قرآن پاک میں متعدد جگہ آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال میں مساکین کا حق رکھا ہے۔ یہ حق ادا کرنا ان پر احسان کرنا نہیں ہے یہ مال تو اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے لیے دیا ہے۔ اعتراف معصیت کے بعد ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور ساتھ یہ بھی کہنے لگے افسوس ! بیشک ہم سر شکی کرنے والے ہیں۔ غربا کا حق مارنا سر کشی ہی تو ہے۔ یہ حد سے بڑھنا ہے لیکن اب ہم تو بہ کرتے ہیں۔ اور امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب اب ہمارے لیے بہتر باغ تبدیل کر دے گا۔ کیونکہ ہم خدا کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ یعنی تو بہ کرتے ہیں۔ باغ کا نعم البدل : عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو باغ والوں کی یہ ادا پسند آگئی۔ انہوں نے اعتراف کرلیا کہ ہم جھوٹے ہیں اور سرکشی سے تائب ہوگئے اور اقرار کیا کہ مالک حقیقی خدا ہی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں باغ کا بہتر نعم البدل عطا کردیا اور وہ اس طرح اس وقت کے بادشاہ کو پتہ چلا کہ ان لوگوں کا باغ ضائع ہوگیا۔ تو اس نے اپنا ذاتی باغ ان کو دے دیا۔ اس باغ میں کما ل درجے کا پھل آتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس باغ کے انگور کی ایک بیل کے ساتھ ایک گچھا اتنا بڑا ہوتا تھا جس کو ایک جانور پر لا د کرلے جاتے تھے۔ یہ تفصیل تفسیری روایات میں آتی ہے کسی مرفوع حدیث میں نہیں ہے۔ حاصل کلام : باغ والوں کی مثال بیان کر کے مکہ والوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ مال و دولت پر اکڑ کر حضور نبی کریم ﷺ کو العیاذ باللہ پاگل اور دیوانہ کا خطاب دینے والو یا درکھو تمہارا بھی وہی حشر ہو سکتا ہے جو باغ والوں کا ہوا ۔ اور ایسی صورت میں پھر سزا اسی طرح ہوا کرتی ہے۔ کہ کس طرح دنیا کا مال و دولت تباہ کردیا گیا۔ یہ تو دنیا کا عذاب ہے مگر آخرت میں جو عذاب ملنے والا ہے وہ بہت بڑا ہے۔ جو شخص اس دنیا سے کفر وشرک ، توحید ، رسالت اور معاد سے انکار کی لعنت لے جائیگا اس کے لیے بہت بڑا عذاب آخرت میں ہوگا۔ اگر یہ لوگ سمجھ جائیں ۔ اور بےہودہ باتوں سے باز آجائین۔