67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 67:1–5

تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ Open ayah 67:1 in the Quran reader

وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے ۔ جس کے قبضے میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ Open ayah 67:2 in the Quran reader

جس ذات نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ ت میں آزمائے کہ تم میں اچھے اعمال کون کرتا ہے ۔ اور وہ کمال قوت کا مالک بہت بخشش کرنے والا ہے۔

الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ Open ayah 67:3 in the Quran reader

وہ اللہ تعالیٰ جس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا ہے۔ رحمٰن کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اندر تم کوئی تفاوت (بےضابطگی) نہیں دیکھ پائو گے ، پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی شگاف یا وراڑ نظر آتی ہے ؟

ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ Open ayah 67:4 in the Quran reader

پھر دوبارہ یعنی بار بار نگاہ اٹھا کر دیکھو (تمیں کوئی دراڑیا شگاف نظر نہیں آئے گا بلکہ تمہاری) نگاہ تمہاری ہی طرف لوٹ آئے گی ذلیل ہو کر اس حالت میں کہ وہ تھکی ہوئی ہوگی۔

وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ Open ayah 67:5 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (ستاروں) کے ساتھ زینت دی ہے اور ہم نے ان ستاروں کو شیطانوں کو مارنے والا بنایا ہے۔ اور ہم نے ان شیاطین کے لیے دوذخ کی سزا بھی تیار کی ہے۔

وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔ دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی سورة تحریم میں حضور نبی کریم ﷺ کے حقوق کا ذکر تھا۔ آپ کی ازواج مطہرات سے معمولی سی لغزش ہوگئی تھی ، اس پر اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ فرمائی۔ اور نبی (علیہ السلام) کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا ، اور دیگر باتوں کا ذکر فرمایا۔ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے حقوق کا ذکر ہے۔ تو گویا اس طریقے سے ان سورتوں کو آپس میں مناسبت ہے۔ اس سورة مبارکہ کی فضیلت کے سلسلہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورة تیس آیات پر مشتمل ہے۔ اور اس سورة نے کسی شخص کے لیے اللہ کے ہاں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو نجات دی۔ اور اس کی سفارش کو قبول فرمایا۔ وہ تیس آیتیں اسی سورة مبارکہ میں ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کسی سفر پر تھے۔ انہوں نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ اور خیمہ لگایا۔ اور انہیں معلوم تھا کہ جس جگہ خیمہ لگا رہے ہیں ، اس کے نیچے قبر ہے۔ تو اس صحابی نے اس قبر والے کو اس سورة مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ صحابی کو بڑا تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ اس صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی ﷺ کے سامنے کیا۔ تو آپ نے فرمایا۔ یعنی یہ سورة انسان کو نجات دلانے والی ہے اور عذاب قبر سے بچانے والی ہے۔ تو اس واقعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا۔ کہ اس سورة کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی کو اکئی بات سنا دے۔ اس لیے اس سورة کا نام مبخیہ اور مانعہ ہے۔ یعنی اللہ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے بچانے والی سورة ۔ امام باقر (رح) امام زین العابدین (رح) کے فرزند اور امام ابوحنیفہ (رح) کے استاذ اور پیر ہیں۔ ان کی عادت تھی کہ عشاء کے بعد دو نفل بیٹھ کر پڑھتے تھے ، اور ان میں اس سورة مبارکہ کو تلاوت فرماتے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ سونے سے پہلے سورة تبارک الذی اور سورة السجدہ ضرور تلاوت فرماتے تھے۔ موضوع سورة : اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور توحید کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ آیات قدرت یعنی اس کی نشانیوں کا بیان ہے۔ اور اس کے بعد سزا کی منزل اور قیامت کا حال بھی مذکور ہے لیکن مرکزی مضمون اس کا توحید ہے۔ برکت کا مفہوم : اس سورة کی ابتدا برکت کے لفظ سے ہوئی ہے ۔ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں ، جس میں پاکیزگی ، طہارت اور تقدس کا مفہوم پایا جائے اور جن اذکار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جاتا ہے اسکی بہت سی صورتیں ہیں۔ جیسے بسم اللہ ، لا حول ولا قوۃ ، سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر۔ اور انہیں اذکار میں ایک تبرک اللہ ہے۔ تبرک اللہ احسن الخالقین تبرک الذی بیدہ الملک ایسے ہی اور بھی کئی اذکار ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یا د کیا جاتا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ برکت دینے والا صرف خدا ہے۔ مگر مشرک لوگ دوسروں سے برکت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ تو اس کا رد ہے یہ مضمون اور بھی کئی سورتوں آیات کے اندر آیا ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن پاک میں موجود ہے۔ جعلنی مبارکا یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بابرکت بنایا۔ یعنی برکت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ۔ اسی طرح تبرک الذی نزل الفرقان علیٰ عبدہ یعنی وہ ذات بڑی برکت والی ہے۔ جس نے اپنے بندہ کا مل پر قرآن حکیم نازل فرمایا۔ اس سورة میں ارشاد ہے ۔ یعنی وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے جس کے قبضے میں بادشاہی ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور سب اختیارات اسی کے پاس ہیں۔ ساری سلطنت اسی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کوئی کام کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ نہ اس کے سامنے کوئی ٹھہر سکتا ہے۔ اس کے ارادے اور مشیت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وہ قادر مطلق ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ جس ذات نے موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ اور پھر یہ بھی فرمایا۔ وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ ان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ موت کی حقیت کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اسے عدمی چیز مانتے ہیں جب کہ بعض دوسرے اسے وجود ی تسلیم کرتے ہیں۔ موت کے ساتھ چونکہ تخلیق کا ذکر آیا ہے اسی لیے ظاہر ہے۔ کہ یہ ایک وجود یہ چیز ہے نہ کہ عدمی۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔ ْ قیامت کے روز حساب کتاب ہوجانے کے بعد موت کو لایا جائے گا۔ اس کی شکل و صورت سیا ہ رنگ کے مینڈھے کی ہوگی پھر اسے جنت اور دوزخ کے درمیان ایسی جگہ لا کر کحرا کیا جائیگا۔ جہاں سب لوگ اسے دیکھیں گے اور پھر ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔ یہ کیا ہے ؟ سب کہیں گے یہ موت ہے ۔ پھر سب کے سامنے اسے ذبح کردیا جائے گا۔ اور اہل جنت سے کہا جائے گا۔ اب تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اسی طرح اہل دوزخ بھی ہمیشہ دوزخ میں ہی رہے گے۔ انہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ ایسے لوگ جن متعلق قرآن پاک میں قطعی فیصلہ ہوچکا ہے ۔ اور قرآن پاک نے انہیں دوزخ میں روک دیا ہے۔ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ یہ دن مومنوں کے لیے بڑی خوشی ، کافروں کے لیے بڑی حسرت کا دن ہوگا۔ یہ سارا ذکر صحیح احادیث میں موجود ہے۔ موت وحیات کی تخلیق کا مقصد : موت وحیات کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے اعمال کو ن کرتا ہے۔ اگر موت کا تصورنہ ہوتا تو کوئی شخص نیکی کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ یہ موت کا تصور ہی ہے جو انسان کو نیکی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے مرنا ہے۔ اور یہ دنیا فانی ہے ۔ یہی تصور انسان کو اچھے اعمال پر آمادہ کرتا ہے۔ تاکہ دوسرے جہاں پہنچ کر اسے پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ تو گویا موت نیکی کے لیے بمنزلہ شرط ہے۔ اور حیات تو خود ایک طرف ہے۔ جس کے اندر رہ کر انسان کا م کرتا ہے۔ اور نیکی کی طرف راغب کرنے والی چیز صرف موت ہی ہے۔ متنبی کہتا ہے ۔ یعنی اگر موت سے ملاقات نہ ہوتی تو کسی نوجوان کے صبر اور کسی سخی کی سخاوت کو کوئی فضیلت حاصل نہ ہوتی۔ موت سے ملاقات ہی ان چیزوں کی قدرو قیمت سے روشناس کراتی ہے۔ اعمال صالحہ کو اپنانے اور دولت ایمان کے حصول کے لیے موت ایک بڑی حقیقت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ تو گویا موت اور حیات کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا کہ۔ تم میں سے اعمال صالحہ کو ن کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اجھا انسان وہ ہے جس نے لمبی عمر پائی اور اچھے اعمال کر کے لمبی عمر سے فائدہ اٹھایا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ اچھا انسان وہ انسان ہوسکتا ہے جو اچھی عقل رکھنے والا ، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے والا ، اور اللہ کی اطاعت میں سبقت حاصل کرنے والا ہو۔ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو برکتیں دینے والا ہے۔ قادر مطلق ہے۔ اس نے موت وحیات کو پیدا کیا۔ تاکہ انسان کی آزمائش ہو کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ صفات الہٰی : اس کے بعد ارشاد فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے۔ وہ عزیز ہے ، غالب ہے۔ اور عزت دینے والا ہے اور الغفور ہے یعنی لغزشوں کو معاف کرتا ہے۔ اگرچہ وہ نافرمانی پر گرفت کرتا ہے ، مگر لغزشوں اور غلطیوں کو معاف بھی کرتا ہے۔ بسا اوقات مجرموں کو سنبھلنے کا وقت دیتا ہے۔ یہ بھی اس کی بخشش کی ایک ذریعہ ہے۔ سات آسمان : مو ت وحیات کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان ہے ارشاد ربانی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا حدیث میں ایسا ہی ذکر آتا ہے کہ آسمانوں کو تہ بر تہ یعنی اوپر نیچے پیدا کیا۔ پھر ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین سے پہلے آسمان تک اس کے بعد بہشت آتی ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کے واقعہ معراج میں مذکور ہے۔ تو گویا سارے آسمانوں کو طے کرنے کے بعد جنت آتی ہے۔ جیسے فرمایا ۔ اور اسی جگہ سدرۃ لمنتہیٰ والا مقام بھی آتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ آسمانوں کی یہ تہیں کیسی ہیں تو اس جگہ ہمارا تصور کا م نہیں کرتا۔ ہمیں صرف اس بات پر ایمان رکھنا چاہیے کہ آسمان سات ہیں اور نیچے ہیں۔ ایک مقام پر سبعاََ شداداََ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی وہ آسمان بڑے مضبوط ہیں پھر ان آسمانوں میں دروازوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ جیسا کہ معراج والی حدیث میں دروازے کھولنے کا ذکر ہے۔ اور آپ کا وہاں سے گذر کر آگے جانا معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء نقص سے پاک ہیں : مو ت وحیات اور سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ یعنی رحمان کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اندر تم کوئی فرق نہیں دیکھ پائو گے۔ یہاں پر تفاوت سے مراد چھوٹا بڑا ہونا نہیں ، بلکہ نقص مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے ساتھ کمال درجے پر پیدا کیا۔ آسمان ہوں یا کرے ، زمین ہو یا اس کی کوئی چیز کسی میں تم کوئی نقص نہیں پائو گے۔ اسی طرح انسان کی پیدائش ، حیوانات اور نباتات اور دیگر عناصر کو اللہ تعالیٰ نے کما حکمت اور بصیرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان میں تم کوئی شخص نہیں پائو گے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو خود دعوت نظارہ دے رہے ہیں کہ ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی شگاف یا دراڑنظر آتی ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کی کما قدرت کی دلیل ہے۔ پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو دو بار یعنی باربار نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہیں کوئی دراڑ یا شگاف نظر نہیں آئے گا۔ بلکہ تمہاری ہی طرف لوٹ آئیگی ذلیل ہو کر اس حالت میں کہ تھکی ہوئی ہوگی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص تلاش نہیں کرسکے گی۔ ستارے آسمان دنیا کی زینت : اللہ تعالیٰ کی کما قدرت کا ایک اور شاہکار آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دینا ہے۔ اور البتہ تحقیق ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ زینت دی۔ اگر یہ نہ ہوتے تو آسمان بالکل بےرونق معلوم ہوتی ہے۔ جگہ جگہ چراغ جل رہے ہیں۔ کوئی چھوٹا ، کوئی بڑا ، عجیب و غریب قسم کی زینت اور رونق ہے۔ ستاروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں صراحت کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اول یہ کہ آسمان دنیا کی زینت ہیں۔ دوسری یہ کہ یعنی شیطانوں کو مارنے کے آلات ہیں۔ شیطان فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے جب اوپر جاتے ہیں تو اوپر سے شہات پڑتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کہانت کی حقیقت دریافت کی گئی۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اوپر جا کر فرشتوں کی گفتگو سنتے ہیں۔ اور کوئی ایک آدھ بات ان کے کان میں پڑجاتی ہے تو وہ اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور آگے سے ان پر شہاب ثاقب پڑتے ہیں۔ جو کلمہ وہ فرشتوں سے سن پاتے ہیں اسے وہ اپنے کاہن کے کان میں پھونک دیتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملا کر آگے چلا دیتا ہے۔ یہی کہانت کی حقیقت ہے۔ کاہن سے واقعات اور خبریں معلوم کرنا شرک میں شمار کیا گیا ہے وہ غیب دان تو ہیں نہیں عالم الغیب تو صرف خدا ہے۔ لہٰذا کاہن کے پا س نہیں جانا چاہیے۔ یہ ستارے تو ابتدائے آفرینش سے ہی ٹوٹا کرتے تھے۔ مگر جیسا کہ سورة جن میں مذکور ہے حضور کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بہت زیادہ ہوگیا۔ کیونکہ نزول قرآن کے بعد جو شیطان گفتگو سننے کے لے اوپر جاتے ہیں انہیں مارنے کے لیے ستاروں کے ٹوٹنے کا عمل بھی تیز تر ہوگیا ہے۔ ستاروں کے ذریعے رہنمائی : ستارون کے متعلق تیسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے۔ کہ یعنی انسان ستاروں کے ذریعے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ سینکڑوں اور ہزاروں میلوں پر پھیلے ہوئے ، سمندروں ، جنگلوں اور بیابانوں میں سفر کے دوران صحیح سمت کی طرف صحیح راہنمائی ستاروں کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ۔ چودہ کروڑ مربع میل میں پھیلے ہوئے سمندروں بڑے بڑے صحرائوں اور جنگلوں میں سفر کے دوران بھٹک جانا معمولی بات ہے۔ ایسے میں راستے کے تعین کے لیے یہ ستارے ہی کار آمد ثابت ہوتے ہیں اور مسافر اپنی منزل تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ حاصل کلام : فرمان خداوندی ہے۔ کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی ۔ اور ان ستاروں کو شیطانوں کو مارنے والا بنایا۔ اور پھر ان شیاطین کے لیے دوزخ کی سزا بھی مقرر کی کہ اس میں انہیں ڈالا جائے گا۔
Ayahs 67:6–14

وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 67:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے ان کے لیے جہنم کا عذات ہے اور بہت بُرا ٹھکا نا ہے۔

اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ Open ayah 67:7 in the Quran reader

جب ان لوگوں کو اس دوزخ کے اندر ڈالا جائے گا تو اسکی خوفناک آواز سنیں گے اور وہ جوش ماررہی ہوگی۔

تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ Open ayah 67:8 in the Quran reader

قریب ہے کہ غصے کی وجہ سے پھٹ پڑے جب کوئی گروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے داروغے پوچھیں گے کیا تمہارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔

قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ Open ayah 67:9 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کیوں نہیں تحقیق ہمارے پا س ڈرسنانے والا آیا مگر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور ہم نے کہہ دیا اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:10 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کاش ہم سنتے یا ہم سمجھتے تو ہم دوزخ والوں میں ہوتے۔

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ Open ayah 67:11 in the Quran reader

وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے پس جہنم والوں کے لیے دوری ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 67:12 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بن دیکھے ان کے لیے مغفرت ہے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔

وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 67:13 in the Quran reader

اور تم اپنی بات کو چھپائو یا ظاہر کرو بیشک خدا سینے کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ Open ayah 67:14 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانے گا جس نے خود پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ بہت باریک بین ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔

گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ اور ان ستاروں سے دوسرا کام یہ لیا جاتا ہے کہ یہ شیاطین کو مارنے کا ذریعہ ہیں۔ جو شیطان ملاء اعلیٰ یا ملائکہ کی گفتگو سننے کے لیے اوپر جاتے ہیں۔ ان کو آگے سے شہاب مارتے ہیں ۔ شیاطین دوزخ کی سزا کے مستحق ہیں ۔ یہ اغوا اور اضلال کرتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور برے راستے پر ڈالتے ہیں ۔ ا س لیے وہ جہنم کے سزاوار ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے عذاب سعیر یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ شیاطین اور کفار جہنم کے سز اور ہیں : جولوگ شیاطین کے اغوا اور وسوسوں میں آئین گے ان کی باتوں پر عمل کریں گے ، ان کا اثر قبول کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے نازل کردہ احکام اور شرائع کا انکار کریں گے ، وہ بھی جہنم کے سزاوار بنیں گے۔ شیٰطین تو ظاہر ہے۔ کہ اپنے اغواء اور گمراہ کرنے کے فعل کی وجہ سے دوزخ کے سزاوار ہیں ، مگر جو لوگ کفر کا راستہ اختیار کریں گے اور شیطانوں کے اغواء میں آئیں گے توا ن کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے یعنی خدا کی توحید یا صفت یا اس کے احکام یا شرائع یا اس کے فرشتے یا رسول کسی کا بھی انکار کریں گے وہ درحقیقت خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار کریں گے۔ اور ربوبیت کا انکار الوہیت کا انکار ہے۔ یہ ساری چیزیں آپس میں مربوط ہیں۔ تو فرمایا جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ اور بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ یعنی جس جگہ یہ گمراہ کرنے والے شیطان جائیں گے اسی جگہ ان کا اثر قبول کرنے والے لوگ بھی جائیں گے۔ اور یہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ اس کی تھوڑی سی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ جب ان لوگوں کو اس دوزخ کے اندر ڈالا جائے گا۔ تو اس کی خوفناک آوازسنیں گے شیق گدھے کی آواز کو بھی کہتے ہیں۔ وہ ابتدائی حصے میں زور کی آواز نکالتا ہے۔ تو اس سے مراد ہے جوش کی آواز۔ اور وہ اچھل رہی ہوگی۔ تفور کا معنی جوش مارنا ہے۔ ابلنا ہے۔ اس میں انتہا کا جوش ہوگا۔ قریب ہے کہ غصے کی وجہ سے پھٹ پڑے۔ دوزخ کا یہ حال ہوگا۔ اس کی آواز نہایت کریہہ اور خوفناک ہوگی۔ دوزخ والوں سے سوال و جواب : جب کوئی گروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ تو وہاں پر مقرر داروغے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہاں انتظام و انصرام کرتے ہیں وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا ، تبنیہ کرنے والا ، سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جو تمہیں بتاتا۔ کہ جس کفروشرک کے راستے پر تم چل رہے ہو ، اس کا نتیجہ خراب ہوگا ، خطرناک ہوگا ، اس راستے پر مت چلو۔ نذیر کا معنی ڈرانے والا۔ سمجھانے والا ، تنبیہ کرنے والا ہے۔ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں۔ تحقیق ہمارے پاس ڈرسنانے والے آئے مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا۔ ان کی بات نہیں مانی ، اور انہیں کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ دوزخ ہوگا۔ سزا میں مبتلا ہوں گے اور پکڑ ہوگی۔ ہم نے ان کی تکذیب کردی اور ہم نے کہہ دیا یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی وحی نازل کی ہے نہ کتاب نازل کی ہے اے ڈرانے والو ! تم جھوٹ کہتے ہو۔ جیسے عام طور پر مشرک کہتے تھے۔ خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔ کہاں خدا نے وحی نازل کی ہے ، یہ اپنے پاس نے بنا کر لاتا ہے۔ محض چوہدری بننے کے لیے بڑا بننے کے لیے خدا پر افترا کرتا ہے۔ تو وہاں کہیں گے کہ ہم نے تو کہا تھا خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی سب کا انکار کیا اور ہم نے نذیروں کو جھٹلا دیا اور یوں کہا اسکا تعلق ان کافروں سے بھی ہو سکتا ہے اور الگ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پہلے کلام کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ معنی ہوگا کہ دوزخ میں جانیوالے لوگ اقرار کرینگے کہ ہمارے پاس ڈرانیوالے آئے ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم جھوٹ کہتے ہو۔ یعنی تم بڑی گمراہی میں پڑے ہو ، جو لوگوں کو پھنسانے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو۔ تو گویا انہوں نے نبیوں کو ڈرانے والوں کو کہا کہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو ، جو لوگوں کو کہتے ہو کہ ہم پر وحی آتی ہے۔ خدا نے حکم نازل کیا ہے۔ یا کتاب نازل کی ہے خواہ مخواہ لوگوں کے ساتھ ملانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو۔ تو یہ اللہ کے ساتھ مربوط ہے۔ اور بعض فسرین کہتے ہیں کہ پر مشرکین کی بات ختم ہوگئی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ آگے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ نہیں ہو تم مگر کھلی گمراہی میں جو ایسی باتیں کرتے ہو۔ یہ فرشتوں کا کلام بھی ہو سکتا ہے۔ جو بازپرس کر رہے ہوں گے۔ وہی کہیں گے تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ، تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والے بھی آئے۔ شریعت بھی آئی ، دین بھی آیا۔ وحی الہیٰ بھی آئی۔ مگر تم نے کسی چیز کو نہیں مانا۔ لہٰذا تم ہی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ تو کفر کرنے والے افسوس ، حسرت اور ندامت کا اظہار کریں گے۔ کاش ہم نہ ہوتے ، افسوس نہ ہم نے سنا ، عقل سے سوچا دوسری جگہ ہے۔ افسوس کہ ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ ثابت ہوئے۔ رسول آئے ، ڈرانے والے آئے۔ سمجھانے والے آئے مگر افسوس کہ ہماری بدبختی غالب آئی یہاں اس مقام پر ہے کہ کاش ہم نصیحت کرنے والوں کی بات سنتے نجات کے دو ذرائع : انسان کی فلاح کے لیے دو چیزیں ہیں۔ یا تو خیر خواہ کی بات سن کر اس پر عمل پیرا ہوجائے ، تو اس کی نجات ہے۔ یا عقل سے خود غور و فکر کرے ، یہ وہی چیزیں ہیں ، تیسرا کوئی راستہ نہیں ، جیسا کہ دوسری جگہ موجود ہے کہ یہ کافر بہرے اندھے اور گونگے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل جیسا کمال درجے کا جوہر عطا کیا ہے۔ مگر یہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة اٰل عمران میں الفرقان کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد جوہر عقل ہے۔ قرآن کا الگ ذکر ہے۔ تورات اور انجیل کا الگ اور فرقان کا الگ ایک درجے تک یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اچھائی اور برائی میں امتیاز صرف عقل سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ بے عقل کا نہیں : حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو فرمایا آگے آئو وہ آگے آئی۔ فرمایا پیچھے ہٹ جائو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر ارشاد فرمایا یعنی تیر ی وجہ سے میں دوں گا اور تیری وجہ سے روکوں گا۔ تمہارے استعمال پر ہی سارا دارومدار ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل نہیں دی اس کو مکلف بھی نہیں بنایا۔ تمام پاگل لوگ غیر مکلف ہیں۔ بہائم بےعقل ہیں ، اس لیے غیر مکلف ہیں۔ بچے بھی جب تک ان میں عقل نہیں آتی مکلف نہیں ہوتے تو گو اللہ تعالیٰ نے نجات کا مدار دوہی چیزوں پر رکھا ہے یعنی خیر خواہ کی بات کو سن کر اس پر عمل کرنا یا خود اپنی عقل سے کام لے کر اچھائی اور برائی میں تمیز پیدا کرنا۔ اجہتاد اور تقلید : بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ایک اجہتاد ہے اور ایک تقلید ۔ تقلید اسی کو کہتے ہیں ، کہ کسی اچھے شخص سے بات سن کر اس کو مان لیا جائے۔ تقلید سے لوگ بد کتے ہیں ، اس کو معنی پہناتے ہیں۔ یہاں جاہلوں کی تقلید مرا د نہیں ہے۔ اس کی تو اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے۔ مشرک اور کافر اپنے ابائو اجداد کی تقلید کرتے تھے۔ غلط اور شرکیہ رسوم میں اپنے بڑوں کی تقلید کرتے تھے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے بےعقلی کی بات فرمائی۔ ہاں اگر کوئی اچھی بات سن کر اس پر عمل کرتا ہے۔ تو یہ تقلید ہی ہے۔ اس پر بھی نجات ہے۔ یا انسان خود بحیثیت مجتہد عقل کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرے۔ غور کرے اور پھر نتیجے ۔ یہ دونوں باتیں ہیں۔ کافر لوگ افسوس کا اظہار کریں گے اور کہیں گے ہم نے دونوں باتیں ہی نہیں کیں۔ خیرخواہ کی بات سن کر بھی عمل نہیں کیا۔ اور عقل کو بھی ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں کیا۔ غلط ہی استعمال کیا۔ اگر ہم دونوں میں سے ایک بات پر بھی عمل کرتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔ کفار کا اعتراف معصیت : اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے حکم ہوگا پس جہنم والوں کے لیے دوری ہے۔ دفع ہو جائو ، دور ہو جائو ، سُحق کا معنی دوری اور بعد ہوتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ دوزخ میں صحرا کا نام بھی ہے جیسے ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے صعود ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر کافروں کو چڑھایا جائے گا۔ اور نیچے اتارا جائے گا۔ ایسا ہی سحق بیابان ہے اسمیں کافروں کو دوڑایاجائے گا۔ بعض فرماتے ہیں سحق کا معنی ہے دوری ہے جیسے تو گویا جہنم والوں کے لیے دوری ہے خدا کی رحمت اور مہربانی سے۔ اب اس جہنم میں جلتے رہو۔ ایمان بالغیب والوں کے لیے انعام : یہ تو تھا کافروں کا حال اور ان کا انجام۔ اب ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی ہے۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بن دیکھے ہوئے۔ یہ ہے ایمان بالغیب ۔ بالغیب کے معنی ہے بغیر دیکھے ہوئے۔ نہ دوزخ دیکھا ہے ، نہ جنت ، نہ اس کی وحی اترتے دیکھی ہے۔ نہ خدا کی ذات۔ تو جنت بھی برحق ہے۔ دوزخ بھی برحق ہے احساب بھی برحق ہے۔ یہ ساری چیزیں برحق ہیں۔ باطل کوئی نہیں ، کفر کا بُرا انجام سامنے آئے گا۔ اور ایمان کا اچھا انجام بھی سامنے ہوگا۔ ان تمام چیزوں پر بن دیکھے ایمان لانا ایمان بالغیب ہے۔ سورة بقرہ کی ابتدا میں اور اخیر میں اس وحی پر جو خدا نے اتاری ہے اس پر رسول بھی ایمان رکھتا ہے اور مومن بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس کتاب پر خد ا کے رسولوں پر ، بعث بعدالموت پر ، تقدیر پر ، ملائکہ پر تمام نبیوں پر ، اور جو آگے حالات پیش آنے ہیں ، ان سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب ہے۔ خوف خدا دار حکومت ہے : تو جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اس کی صفات پر بن دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ اس سے لرزتے ہیں ان پر خوف طاری رہتا ہے ، ایسے لوگوں کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ یعنی حکمت کی جڑ اور بنیادہی اللہ کا خوف ہے۔ اللہ کا خوف مشاہدے سے نہیں آیا بلکہ رسولوں کے بتلانے اور کتاب کو پڑھنے سے یقین آیا ہے۔ تو بڑا حکیم وہی ہوگا جس میں خوف خدا زیادہ ہوگا۔ فرمایا جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور مغفرت ہے انکی خطائیں اور گناہ ڈھانپ دیے جائیں گے اور ان کے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے کہ وہ ایمان لائے بن دیکھے خدا سے ڈرتے ہیں اطاعت کرے ہیں کفر و شرک سے بیزار ہے۔ ان کے لیے اللہ نے بہت بڑا ثواب تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے : آگے فرمایا تم اپنی بات کو چھپائو یا ظاہر کرو۔ آہستہ کہو یا بلند کہو ، ہر حالت میں خدا سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے کفر ، شرک ، نفاق کی بات کو پوشیدہ رکھو گے یا ظاہر کرو گے۔ برائی ادنیٰ سے ادنیٰ یا بڑی سے بڑی ، چھپائو یا ظاہر کرو ، ہر حالت میں خدا تو سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لطیف وخبیر ہے : فرمایا کیوں نہیں جانے گا۔ کیا وہ نہیں جانے گا جس نے خود پیدا کیا وہ نہیں جانے گا تو اور کون جانے گا اور وہ تو خالق ہے اور خالق ہونے کے علاوہ اسکی صفات لطیف وخبیر بھی ہیں ۔ لطیف یعنی بہت باریک بین لطیف کا معنی مہربان بھی ہوتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑی مہربانی کرتا ہے۔ اور یعنی ہر ایک کی حالت سے واقف اور ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔ الہٰذا کوئی بھی چیز خواہ نیکی کی ہو یا برائی کی ، تم اسے چھپائو یا ظاہر کرو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اور اسی کے مطابق آگے چل کر انسان کو اس کا بھگتان کرنا پڑے گا۔
Ayahs 67:15–22

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ Open ayah 67:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنائی ہے۔ زمین تابع ، چلو اس کے اطراف میں اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور ایک دن خدا کی طرف دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے ۔

ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ Open ayah 67:16 in the Quran reader

کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور زمین لرزنے لگے۔

اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ Open ayah 67:17 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے ہو اس ذات سے جو آسمانوں میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے پس عنقریب جان لوگے تم کہ میرا ڈرانا کیسا تھا۔

وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 67:18 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، پھر ان پر میری گرفت کیسی ہوئی۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ١ؕۘؔ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحْمٰنُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍۭ بَصِیْرٌ Open ayah 67:19 in the Quran reader

کیا انہوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا ، اپنے اوپر کیسے صف بستہ پر کھلوے ہوئے ہیں اور سیکڑتے بھی ہیں ان پرندوں کو سوائے رحمان کے اور کوئی نہیں روکتا۔ بیشک وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ١ؕ اِنِ الْكٰفِرُوْنَ اِلَّا فِیْ غُرُوْرٍۚ Open ayah 67:20 in the Quran reader

بھلا خدائے رحمان کے سوا وہ کون ہے جو تمہارا لشکربن کر تمہاری مدد کرسکے۔ کافر لوگ محض دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

اگر خدا تعالیٰ اپنی روزی کو روک دے تو تمہیں روزی پہنچانے والا کون ہے ؟ بلکہ یہ کافر لوگ اصرار کرتے ہیں سرکشی میں ، اور بدکنے میں پڑے ہوئے ہیں۔

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

بھلا وہ آدمی زیادہ ہدایت والا ہے جو اوندھے منہ چل رہا ہے یا وہ جو سیدھا چلتا ہے صراط مستقیم پر۔

گزشتہ سے پیوستہ (ربط) : پہلے توحید ، قیامت ، رسالت اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہوا۔ پھر آگے جزائے عمل کا ذکر تھا۔ مجرمین کی سزا کا ذکر ہوا۔ قدرت کی نشانیاں ذکر فرمائیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے چند دلائل اور نشان بیان فرماتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر مضمون توحید اور معاد کا ہے۔ پہلے رسالت کا بیان بھی ہوگیا جیسے دوزخ کی سزا میں مبتلا ہونے پر جب فرشتے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ لوگ اقرار کریں گے کہ ہمارے پاس ڈرانے والے ضرور آئے مگر ہم نے ان کی تکذیب کی۔ اور پھر افسوس کا اظہار کریں گے۔ اگر ہم خیر خواہوں کی بات کو سنتے یا عقل سے کام لیتے تو کبھی دوزخ میں داخل ہونے والے نہ ہوتے۔ مگر ہم نے یہ دونوں باتیں نہ کیں ۔ نہ ہم نے خیرخواہوں کی بات کو سنا اور نہ عقل سے کام لیا۔ دلائل قدرت تسخیر الارض : اب یہاں دلائل قدرت کا بیان ہے جن سے دو چیزوں کا اثبات ہوتا ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور دوسری طرف قیامت کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے۔ جس نے تمہارے لیے بنائی ہے زمین یعنی تابع۔ ذلول کا معنی تابع اور ہموار ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے تصرف کے لیے تین کو تمہارے تابع بنادیا ہے۔ تمہارے لیے مسخر کردیا ہے۔ کہ ہر قسم کے کام زمین میں کرسکو۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین کو ایسا نہ بناتا تو سخت دشواری ہوتی۔ دلدلی بنا دیتا یا پانی جیسی ہوتی یا لوہے اور پتھر جیسی سخت ہوتی تو زراعت مشکل ہوجاتی۔ مکان بنانا دشوار ہوتا۔ زمین کو کھود کر اس میں سے چیزیں نکالنا ناممکن ہوتا۔ نہریں چلانا مشکل ہوجاتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایسا مسخر کردیا کہ ہر قسم کا کام آسانی سے ہوسکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ یہی چیز اللہ تعالیٰ سمجھانا چاہتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کیا تم نے کبھی غور نہیں کیا کہ ہم نے زمین کو سمیٹنے والی بنایا زندوں کو بھی سمیٹتی ہے مردوں کو بھی سمیٹتی ہے۔ دوسری جگہ فرمایا۔ زمین پر اترتے ہوئے مت چلو ، یہ اللہ کو پسند نہیں زمین میں عاجزی ہے کہ ہر چیز اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ تم زمین پر چلتے ہو۔ کام کرتے ہو ، زمین کو کھودتے ہو اس پر نجاست پھینکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اسکو کیسا منقاد اور مسخر بنادیا ہے خدا کی نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اسی لیے فرمایا منکب کندھے کو کہتے ہیں۔ یعنی زمین کے کندھوں پر چلو ، کندھوں سے مراد اطراف زمین ہیں ، بعض اس سے پہاڑ مراد لیتے ہیں جیسے کندھے اونچے ہوتے ہیں اسی طرح پہاڑ بھی اونچے ہوتے ہیں تو اونچی جگہ پر چلو۔ اونچی جگہ پر چلنے کا سامان بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمادیا۔ پہاڑوں پر جانے کے لیے راستے مقرر کردیے وہاں بھی روبار سرانجام دیتے ہو۔ ہموار زمین پر چلنا آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے احسان جتلاتے ہوئے قوم ثمود سے فرمایا دیکھو ! اللہ نے زمین بنائی ہے۔ پہاڑ بنائے ہیں ، پہاڑوں کو کرید کر مکان بنا لیتے ہو۔ ہموار زمین پر بڑے بڑے مملات تعمیر کرتے ہو۔ تو فرمایا چلو اس کے اطراف میں اور کھائو اس کی دی ہوئی روزی۔ یہ زمین بھی اللہ نے پیدا کی اور اسے تمہارے لیے مسخر بنا دیا۔ اس میں بڑی آسانیاں پیدا کردیں۔ ذرا سوچو اگر زمین میں دشواری ہوتیں تو سب کا روبار رک جاتے اللہ تعالیٰ نے زمین کو مسخر کر کے کتنا احسان فرمایا ہے۔ خدا نے روزی کے اسباب بھی مہیا کیے ہیں۔ یہ چلنا پھرنا بسا اوقات روزی حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ جیسے انسان چل پھر کر رزق حلال تلاش کرتا ہے ۔ انسان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کیونکہ رزق حلال تلاش کرنا فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔ آگے معاد کا ذکر ہے۔ اس میں دونوں باتیں سمجھا دیں۔ زمین کو خدا نے تمہارے فائدے کے لیے بنایا۔ تاکہ تم زمین میں کاروبار کرسکو۔ اور پھر اللہ کی پیدا کی ہوئی روزی میں سے کھائو۔ جو بھی تمہارے ح سے میں آئے گی۔ روزی بھی اللہ نے دی ، زمین کو بھی اللہ نے پیدا کیا ۔ کوئی روزی دینے والا نہیں ہے۔ رزق خدا کے ہاں سے تلاش کرو۔ اللہ ہی رزق کے اسباب مہیا کرتا ہے۔ تمام جانداروں کی ضرورت ہے ۔ جو اللہ ہی مہیا کرتا ہے۔ تمام اسباب اسی کے تصرف میں ہیں۔ اس کے سوا کوئی روزی نہیں دیتا۔ کوئی کسی کو ایک حبہ بھی نہیں دے سکتا۔ اب وہ انسان کس قدر بیوقوف اور احمق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے تابع بنایا ہے۔ اس کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر وہ زمین کو ہی اپنا معبود بناتے۔ دنیا میں ایسے مشرک لو گ بھی ہیں۔ جو زمین کو معبود مانتے ہیں۔ اور ایسے بھی ہیں جو خدا کے سوا دوسروں کے ہاں سے روزی تلاش کرتے ہیں۔ یہاں دونوں باتوں کی نفی کی گئی ہے۔ قیامت کی آمد : پھر فرمایا زمین پر چلتے ہوئے ، کاروبار کرتے ہوئے خدا کی روزی کھاتے ہوئے یہ نہ سمجھو کہ ہم آزاد ہیں۔ ایک دن خدا کی طرف اکٹھا بھی ہونا ہے۔ جزائے اعمال بھی لازم ہے اور معاد کا آنا بھی ضروری ہے۔ انسان اٹھائے جائیں گے اور خدا کے حضور پیش کیے جائیں گے انہیں اپنے اپنے اعمال کا محاسبہ پیش کرنا پڑے گا یہ بات نہیں ہے کہ زمین پر مس ہو جائو قیامت بھی کوئی نہیں آئیگی۔ بلکہ قیامت تو آنے والی ہے۔ تو اس طرح گویا توحید کا مسئلہ بھی سمجھا دیا اور معاد کا مسئلہ بھی سمجھا دیا۔ خوف خدا : آگے تخویف ہے ۔ انسانوں کو ڈرایا گیا ہے۔ فرمایا کیا تم نڈر ہوگئے ہو بےفکر ہوگئے ہو اس سے جو آسمانوں میں ہے کہ تم کو زمین میں دھنسا دے۔ انسان مغرور ہوتا ہے۔ اترا کر زمین پر چلتا ہے۔ فرمایا اگر آسمان والا تم کو زمین میں دھنسا دے۔ جیسا کہ کئی واقعات پیش آتے ہیں۔ زمین لرزنے لگے ۔ جیسے زلرزلہ ہوتا ہے بعض اوقات ہزاروں انسان زلزلے میں تباہ ہوجاتے ہیں۔ شہر اور بستیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔ (جوالجزائر میں ہے) کی بارہ ہزار کی آبادی یکدم فنا ہو کر رہ گئی تھی۔ ابھی دس پندرہ سال کی بات ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ 1923 ء میں جاپان میں جو زلزلہ آیا تھا۔ اس میں تین لاکھ آدمی فنا ہوگئے تھے۔ زمین میں ہزاروں گڑھے نظر آتے تھے۔ دراڑیں پیدا ہوگئیں تھیں۔ تو فرمایا کیا تم اس سے بےفکر ہوگئے ہو ، جو آسمانوں میں ہے۔ فی السمارے دار بلندی ہے : فی السماء سے کیا مراد ہے ۔ یہ مشکل لفظ ہے خدا کی ذات آسمانوں میں نہیں ہے نہ ہی زمین پر ہے۔ یہ اعتقاد درست نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ تو مکان و زماں سے مبرا ہے۔ فی السماء سے مراد آسمانوں سے اوپر ہے۔ کہ آسمانوں کے اوپر بھی اسی کی حکومت اور تسلط ہے کسی اور کا نہیں ۔ اور اس سے بلندی مراد ہوتی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ ایک صحابی نے معمولی غلطی پر ایک لونڈی کو تھپڑ مار دیا۔ حضور ﷺ ناراض ہوئے۔ آپ نے لونڈی کو بلایا۔ اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے اس نے کہا آسمانوں میں پھر فرمایا میں کون ہوں عرض کیا آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ مومنہ ہے۔ اس کو آزاد کر دو ۔ آسمان کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ عام آدمی کی عقل آسمان تک پہنچتی ہے۔ تو اس سے مراد بلندی ہوتی ہے۔ پڑھا لکھا آدمی ایسا نہیں کہہ سکتا۔ مگر عام لوگوں سے اللہ تعالیٰ ان کے فہم کے مطابق مواخذ ہ کرے گا۔ خوف خدا کی مثال : بخاری شریف میں اس شخص کا حال ذکر کیا گیا ہے جس نے کہا تھا کہ میں نے نیکی تو کوئی بھی نہیں کی۔ تو اس نے اپنے مرنے سے پہلے اپنے بیٹوں سے کہاتم کو وراثت تب دوں گا کہ تم میری ایک بات پوری کرو۔ پوچھا کیا شرط ہے۔ کہا کہ جب میں مر جائوں تو میری لاش کو جلا کر راکھ بنا دینا پھر اس آدھی راکھ کو خشکی میں اڈا دینا اور آدھی پانی میں بہا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرنے والے کو برزخ میں اٹھا کر پوچھا تم نے یہ کام کیوں کیا تھا۔ کہنے لگا پروردگار میں نے ایسا کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کو بخشش دو ، معاف کردو ، اب اس کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ وہ سمجھتا تھا کہ راکھ اڑا دینے سے وہ معدوم ہوجائے گا۔ اور خدا اس پر قادر نہیں ہوگا۔ مگر خدا تو پھر بھی قادر ہے۔ اس کا فہم ہی اس قدر تھا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے اسکی گرفت کی اور اسی پر اس کا فیصلہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے : الغرض اللہ تعالیٰ آسمان میں تو ہے نہیں ، مگر آسمانوں میں بھی اس کا تصرف ہے۔ ورنہ اس سے مکانیت لازم آئیگی۔ اور مطلقاََ انکار بھی اچھا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی یوں کہے میں تو جانتا کہ میرا خدا آسمان میں ہے یا زمین میں میں تو وہ آدمی کافر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یعنی عرش پر مستوی ہے۔ عرش تو ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔ آسمانوں کے اوپر بہشت ہے اور پھر عرش الہیٰ ہے اس پر استوی کیسا ہے۔ یہ ہماری عقل میں نہیں آتا۔ شاہ ولی اللہ (رح) آسان بات کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ سے مراد یہ ہے کہ عرش الہٰی پر اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم پڑتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات بہت بلند اور برتر ہے۔ جب اس کی تجلی اعظم عرش پر پڑتی ہے۔ تو وہ سارا رنگین ہوجاتا ہے اور اسکے اثرات سارے جہاں پر چھا جاتے ہیں۔ پھر دوبارہ اس کے اثرات واپس لوٹتے ہیں۔ اسی طرح اس پر تجلی اعظم پڑتی رہتی ہے۔ زمین کا دھنس جانا : تو فرمایا کیا تم بےفکر ہو اس ذات سے جو آسمان میں ہے کہ دھنسا دے تم کو زمین میں اور وہ لرزنے لگے۔ ضلع فیروز پور کا 1949 ء کا واقعہ اخبار میں پڑھا تھا کہ کسی سکول میں بچے پڑھ رہے تھے کہ اچانک سارا سکول زمین میں دھنس گیا اسی طرح اخیر زمانہ میں بھی دھنسنے والے واقعات آئیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کعبے کو گرانے والا جو لشکر آئیگا ۔ اللہ تعالیٰ اس کو بھی زمین میں دھنسا دے گا۔ ان کا کوئی اکا دکا آدمی ہی بھاگ کر بچ سکے گا۔ ورنہ اول آخر سارے کے سارے ہی دھنسائے جائیں گے۔ ایسا ہی قاردن کے بارے میں بھی ذکر ہے ۔ بخاری شریف میں اس آدمی کا حال بھی موجود ہے جو رنگین تہ بند پہن کر زمین پر اکڑ کر چلتا تھا۔ اسکی گردن بھی اکڑی ہوئی تھی۔ خدا نے زمین میں دھنسا دیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنسا ہی چلا جارہا ہے۔ جب قیامت کا بگل بجے گا تو وہ کہیں رکے گا۔ چناچہ فرمایا کیا تم بےفکر ہوگئے ہو۔ انسان کو غرور نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تابع بنایا ہے۔ اکٹر کر مت چلو ۔ بےفکر مت ہو۔ کہیں خد اتم کو زمین میں نہ دھنسا دے ۔ زمین لرزنے لگے۔ پتھروں کے ذریعے عذات الہٰی : اس کے بعد فرمایا یعنی کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے ہو کہ وہ خدا تعالیٰ جس کا تصرف آسمانوں اور زمین میں ہر جگہ ہے۔ تم پر پتھروں کا مینہ برسادے۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ اودار میں مجرمین کے ساتھ ایسا بھی کیا۔ شرق اردن کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے پتھروں کا مینہ برسایا۔ تہ بہ تہ پتھر برس رہے تھے۔ اور پھر یہ بھی کہ جس کے سر پر وہ پتھر پڑتا ا س پر اس کا نام بھی لکھا ہوتا تھا۔ جس قوم کو اللہ تعالیٰ نے یہ سز دی تھی زمین کو بھی الٹ دیا تھا کیونکہ وہ الٹے کام کرتے تھے۔ کہیں ایسا نہ ہو ابرہمہ کے لنکر پر بھی اللہ تعالیٰ نے پتھرہی برسائے تھے۔ چھوٹے چھوٹے پتھر پرندوں کے ذریعے برسائے تھے۔ اور ان کو ہلاک کردیا تھا۔ یہ چھوٹے سنگریزے پرندوں کے ہاتھوں میں ایٹم بم سے زیادہ خطرناک تھے جس کے سر پر لگا ہلاک ہوگیا۔ اور جس کی سائڈ پر لگا۔ ایسی بیماری لگی کہ وہ کبھی تندرست ہی نہ ہوا۔ ایسا چیچک سالاحق ہوگای۔ یا للہ تعالیٰ بڑے پتھر برسادے ، جیسے قوم لوط پر برسائے تھے۔ پس تم جان لو گے۔ کہ میرا ڈراسنانے والا کیسا ہے۔ یاو ہ عذاب کیسا ہے جس کے بارے میں تم کو ڈرادیا گیا تھا خبردار کردیا گیا تھا۔ جھٹلانے والوں کا حشر : ان سے پہلے لوگوں کو دیکھ لو جنہوں نے جھٹلایا میری گرفت کیسی ہوئی۔ سابقہ جھٹلانے والوں کی تاریخ بھی تم قرآن پاک میں پڑ تھے ہو کہ جھٹلانے والوں کا کیا حشر ہوا ۔ آج بھی اگر جھٹلائو گے تو تمہیں محسوس کرنا چاہیے کہ ہمارا بھی ایسا ہی حال نہ ہو۔ یہ دلائل قدرت اور انذار ہے۔ پرندوں کی مثال : اس کے بعد فرمایا کیا یہ شرک کرنے والے لوگ نہیں دیکھتے معاد کے منکر خدا تعالیٰ کی صفت کو نہیں سمجھتے ایمان نہیں لاتے توحید کو قبول نہیں کرتے۔ کیا انہوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا۔ ان کے اوپر کیسے پر کھلوے ہوئے ہیں۔ اور سیکڑتے بھی ہیں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پرندوں کو فضا میں کس طریقے سے روکتی ہے۔ ان کا پروں کا پھیلانا اور سکیڑنا اللہ کی قدرت سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے پرندوں کے پروں میں یہ طاقت دی ہوئی ہے کہ وہ اڑتے ہیں ان پرندوں کو فضا میں کون روکتا ہے۔ سوائے رحمان کے اور کون روکتا ہے۔ اللہ ہی نے یہ چیز پرندوں کے اندر رکھی ہے۔ یعنی طاقت رکھی ہے کہ وہ اڑتے ہیں۔ پروں کو سیکڑتے ہیں۔ چناچہ انسانوں نے بھی پرندوں کے نمونے پر اڑنے والی چیزیں اور آلات بنالئے ہیں۔ اس میں بڑی محنت اور مشقت کی ہے۔ آٹھ سو سال کے بعد اڑان کا مسئلہ طے ہوا۔ پہلا آدمی تو ہلاک ہوگیا تھا۔ جس نے اپنے بازئوں کے ساتھ گدھ کے پر باندھ کر ایک محل سے دوسرے محل تک اڑنے کی کوشش کی تھی۔ اگرچہ وہ ہلاک ہوگیا مگر ایک راستہ بنا گیا۔ اس کے ہاٹھ سو سال بعد 1904 ء میں یہ اڑان شروع ہوئی۔ یہ وہی پرندوں کا نمونہ تھا۔ دیکھو ! پرندوں کو فضا میں سوائے رحمان کے کون روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے۔ ہر چیز اس کے سامنے ہے۔ عذاب الہٰی کو کوئی ٹال نہیں سکتا : فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ تم پر اپنی گرفت ڈال دے تو تمہارا کونسا لشکر ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہاری حفاظت کرسکے فرمایا۔ کا فر لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں محض غرور میں پڑے ہوئے ہیں کہ انکار کرتے ہیں ، سمجھتے نہیں اور معبودان باطلہ کی پرستش کرتے ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ فرضی دیوتا بنائے ہوئے ہیں۔ اگر خدا کا عذاب آجائے تو کوئی چھڑانے والا نہیں ہے۔ یہ لوگ آنے والی مصیبت سے اپنا بچائو نہیں کر رہے ہیں۔ : اگر خدا تعالیٰ تمہاری روزی کو روک دے تو روزی پہنچانے والا کون ہے۔ کیا کوئی ہے ؟ ایک حبہ بھی نصیب نہ ہو۔ خدا تعالیٰ بسا اوقات قحط ڈال دیتا ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ جب قحط پڑتا ہے تو دس دینار میں ایک روٹی بھی نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ اسباب میں تغیر پیدا کردے ، روزی کو روک دے تو کوئی ہے تمہارے لیے روزی لانے والا ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے یعنی اصرار کرتے ہیں۔ سر کشی اور بدکنے میں پڑے ہوئے ہیں۔ محض شرارت اور سر کشی کی وجہ سے خدا کی وحدانیت کو نہیں مانتے۔ اور اس کی صفت پر ایمان نہیں لاتے۔ اگر اللہ چاہے تو سب دروازے بند کر دے۔ روزی کو روک دے تو کوئی کسی کو ایک دانہ بھی نہیں پہنچا سکتا۔ یہ سب دلائل توحید ہیں۔ ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا۔ اس کے بعد فرمایا وہ آدمی اچھا ہے جو اوندھے منہ چل رہا ہے یا وہ سیدھا چلتا ہے۔ سیدھا چلنے والا آدمی اوندھے منہ جاتا ہے ، اس کا عقیدہ فاسد ہے ، شرک اور کفر والا ہے اس نے ضرور گڑھے میں گرنا ہے۔ ایسا شخص کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سیدھا چلنے والا ہی صراط مستقیم پر ہے۔ تو یہ گویا مومن اور کافر کی مثال بیان کی گئی ہے۔ جو لوگ آج ہدایت کی طرف سے اوندھے منہ چل رہے ہیں کل قیامت کے دن دوزخ میں اوندھے منہ جائیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کافروں کو منہ کے بل دوڑائیں گے لوگوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ منہ کے بل کس طرح دوڑیں گے ، فرمایا یعنی جو خدا تعالیٰ پائوں پر دوڑا سکتا ہے وہ سر کے بل بھی دوڑائے گا۔ سرکے بل دوڑتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے۔ توحید اور معاد دونوں کا بیان اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ اور مزید قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائیں تو گویا توحید ، معاد اور رسالت تینوں مسائل سمجھادیے۔