67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 67:23–24

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے ۔ تم بہت ہی کم شکریہ ادا کرتے ہو

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا۔ تم سب اس کی طرف اکھٹے کیے جائو گے۔

انسانی وجود کی نعمت : اللہ کی قدر ت کی چند نشایاں بیان کی گئی ہیں اور ان کو توحید اور قیامت پر دلیل بنانا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طو ر پر اور بھی کئی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ساتھ ساتھ انسان سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کرے۔ فرمایا۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے۔ انشاء کا معنی ہے ایجاد کرنا بناکر کھڑا کردینا۔ یعنی وجود کی نعمت عطا فرمائی تمہارا وجود ذاتی نہیں ہے تم کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ تمہارا وجود اور جسم اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ اسی نے بنایا ہے۔ کان آنکھ اور دل : وجود کی نعمت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کان ، آنکھ اور دل بنائے ان تین چیزوں کا ذکرا للہ تعالیٰ نے خاص طور پر کیا۔ انسان کے جسم میں یہ تینوں چیزیں بڑی نعمت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خاص احسانات میں سے ہیں۔ کہ وجود کے بعد انسان کو کان آنکھ اور دل عطا فرمائے۔ حواس خمسہ : حواس ِ حمسہ تو پانچ ہیں مگر اس مقام پر ان میں سے صرف دو کا ذکر کیا حواس خمسہ میں سننے دیکھنے ، سونگھنے ، چکھنے اور ٹٹولنے کی طاقت شامل ہے۔ چھونے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے جسم کے سارے حصوں میں رکھی ہے۔ جسم کے جس حصے کے ساتھ چاہے ، انسان چھوکر ، ٹٹول کر معلوم کرسکتا ہے۔ اور سختی اور نرمی کا پتہ چلا سکتا ہے۔ چکھنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے صرف زبان میں رکھی ہے۔ کہ منہ اور زبان کے ذریعے انسان چکھ کر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرسکتا ہے کہ کڑوا ہے یا میٹھا ہے۔ اسی طرح ناک کے ذریعے سونگھ کر خوشبو یا بدبو والی چیز معلوم کرسکتا ہے یہ قوت اللہ تعالیٰ نے صرف ناک میں رکھی ہے۔ حصول علم کے ذرائع : تو حواس میں خمسہ میں نے مذکورہ تین چیزیں چھوڑ کر یہاں صرف کان اور آنکھ کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں چیزیں حصول عمل کا ذریعہ ہیں ۔ حواس خمسہ میں سے یہ کان اور آنکھیں ہی ہیں یہ حصول عمل کا بڑا ہی ذریعہ ہیں۔ انسان کو جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ کان اور آنکھوں کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ قلب جسم کا مرکز ہے : باقی رہا دل تو اس میں اللہ تعالیٰ نے بڑے کمالات اور حکمتیں رکھی ہیں۔ یہ حصہ جسم انسانی کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلب کی شراکت دماغ کے ساتھ جوڑی ہے۔ لیکن ہر حال قوت اور اخلاق کا مرکز قلب ہے۔ انسان جو بھی اعمال سر انجام دیتا ہے۔ اسی میں قلب کے عزائم ، ارادے اور نیت کار فرما ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے قلب کو تمام انسانی جسم کا مرکز قرار دیا ، فرمایا کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے۔ اگر و ہ بگڑا ہوا ہو تو سارا جسم بگڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ لوتھڑا قلب ہے اگر قلب کے اندر فساد ہو تو سارا جسم فاسد ہوگا جسم کا کوئی حصہ صحیح نہیں رہیگا اور اگر قلب کی حالت صحیح ہے تو سارا جسم درست ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قلب کو مرکز قرار دیا ہے۔ انسان جو بھی اعمال کرتا ہے تمام قوتوں کا مرکز قلب ہے۔ تو یہ دو چیزیں یعنی کان اور آنکھ حصول علم کا ظاہر ی ذریعہ ہیں اور قلب بحیثیت مرکز کے ہے ایمان اور محبت بھی اس میں ہوتی ہے۔ اور کفر ، شرک اور نفاق بھی اسی میں ہوگا۔ اسی طرح نفرت اور عداوت بھی دل میں ہوگی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں سزا کا ذکر فرمایا وہاں یہ فرمایا کہ جہنم کی آگ بڑی سخت ہوگی۔ یعنی سب سے پہلے وہ دلوں پر چڑھے گی۔ کیونکہ مرکز تو دل ہے اور اسی دل میں انسان نے کفر شرک نفا ق یا بڑے عقیدے کو جگہ دی ہوئی ہے۔ تو سب سے پہلے آگ کا اثر دل پر ہوگا۔ اس کے بعد جسم پر ہوگا۔ تو قلب مرکز اخلاق اور مرکز اعمال ہے۔ اور کان اور آنکھ حصول علم کے ذرائع ہیں۔ ان کے ذریعے جو چیز حاصل ہوتی ہے۔ وہ مرکز کے اندر پہنچتی ہے۔ مرکز اس کے مطابق سوچتا ہے۔ اور پھر اعمال اور اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ کان اور آنکھ کی اہمیت : تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا یعنی تم کو پیدا کیا تم کو جسم عطا کیا ، یہ خدا کا کتنا کرم اور احسان ہے اور پھر تم میں کان اور آنکھیں دیں سمع کو مقدم بیان فرمانے میں بھی مصلحت ہے ۔ کہ انسان آنکھ کی نسبت کان کے ذریعے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اکثر وبیشتر معلومات سماعت کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اس کی زیادہ اہمیت کی بنا پر اسے پہلے بیان فرمایا۔ حواس ظاہر ہ کے اعتبار سے دوسری اہم ترین چیز انسان کے جسم میں آنکھیں ہیں ، ترمذی شریف کی حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یعنی جس آدمی کے جسم سے یہ دو چیزیں یعنی آنکھیں میں نے اٹھا لیں اور اس نے صبر کیا تو اس کو بہشت تک پہنچانے کے بغیر کسی چیز پر اکتفا نہیں کروں گا۔ میں ضرور اس کو جنت تک پہنچائوں گا۔ آنکھیں انسان کے جسم میں نہایت ہی عزت والی چیزیں ہیں۔ اور ہدایت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ بیان فرمایا کہ تم نے گمراہی کیوں اختیار کی ہے وہاں یہ بھی فرمایا کیا ہم نے تمہیں آنکھیں نہیں دی تھیں۔ اگر تمہارے پا س علم نہیں تھا۔ تو ہم نے تمہیں زبان اور ہونٹ عطا کئے تھے۔ تم کسی سے پوچھ لیتے جیسے عام قانون ہے۔ یعنی اگر نہیں جانتے تو خود مفتی ، قاضی بن کر مت بیٹھو علم والوں سے دریافت کرو ۔ وہ تم کو صبح چیز بتلائیں گے۔ صحیح چیز پر عمل پیرا ہو کر نجات حاصل ہوگی۔ تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی نعمت کا ذکر فرمایا ہم نے تمہیں دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں دی تھیں کہ ان کے ذریعے نشیب و فراز کو دیکھ لو۔ اور اس سے بڑھ کر حصول علم کا ذریعہ کان ہیں۔ ان کے ذریعے انسان علم حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا قلب تو مرکز ہے۔ اور کان اور آنکھ دو اہم چیزیں ہیں۔ باقی تین چیریں حصول علم کے اعتبار سے کمزور ہیں ، لہٰذا ان کا ذکر نہیں فرمایا اور اپنی جگہ وہ بھی خدا کی بڑی نعمتیں ہیں۔ جس کے جسم سے لمس کی حس ختم ہوجائے۔ اس کے لیے بڑی تکلیف کا باعث ہوگا۔ کیونکہ ا س سے ٹٹولنے کی طاقت ہی سب ہوگئی۔ خدا تعالیٰ بعض لوگوں کے اعصاب اس طرح خراب کردیتا ہے کہ ان کو ناک میں بدبو ہی آتی ہے۔ خوشبو نہیں آتی یہ بھی عذاب ہے۔ اسی طرح جس کے آواز کے اعصاب خراب ہوجائیں وہ بول نہیں سکتا۔ تو انسان میں کتنا نقص معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت تامہ کے ساتھ کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اور یہ بڑے بڑے انعامات ہیں۔ شکر گزاری اور ناشکری : ان انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ک کہ تم بہت ہی کم شکر یہ ادا کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں عطا کیں تاکہ تم اس شکر ادا کرو مگر ایسا کرنے والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ کس طرح ادا ہو ، اس سلسلہ میں امام رازی (رح) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی (رح) اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکریہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے۔ کہ اس نعمت کو رضائے الہٰی میں صرف کرے اگر ایسا نہیں کرے گا تو ناشکری ہوگی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اپنی آنکھ ، کان زبان اور جسم کو خدا تعالیٰ کی رضا کے کام میں لگا ئو ، ناراضگی کے کام میں مت لگائو۔ حکماء عام طور پر یہی تعریف کرتے ہیں۔ کہ نعمت کو اس کام میں لگائو جس مقصد کے لیے وہ دی گئی ہے۔ مگر آنکھ ، کان اور دل جیسی نعمت پر بہت تھوڑے لوگ شکر یہ ادا کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ان نعمتوں کو خدا کی ناراضگی کے کام میں صرکرتے ہیں۔ اگر انسان کے کان فحش باتیں ، لغو گانے کفر کی باتیں اور بیہودہ باتیں سنیں گے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ناشکری ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ آنکھ جیس نعمت کو ناجائز باتوں پر لگاے ہیں کسی اجنی عورت کی طرف نگاہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ پہلی نگاہ اچانک ہوتی ہے۔ یہ معاف ہے دوسری نگاہ معاف نہیں ہے۔ دوسری نگال کا مطلب یہ ہے کہ تم عمداََ ایک غیر محرم عورت کو دیکھ رہے ہو جس کی اجازت نہیں۔ اسی لیے ارشاد خدا وندی ہے ۔ مومن مردوں کو حکم ہے کہ اپنی نگاہ پست رکھیں اور عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں۔ اگر آنکھ ان کاموں میں صرف ہوگی تو یہ ناشکر گزاری ہوگی۔ افسوس ہے آنکھ ناراضگی کے کاموں میں لگ رہی ہے۔ کان کے ذریعہ فحش گانے اور بیہودہ باتیں سنی جارہی ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا کلام نصیحت کی بات اچھی بات کان میں نہیں آرہی ہے۔ تو یہ ناشکری ہی تو ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ تم ان نعمتوں کو صحیح مصرف میں نہیں لاتے لہٰذا تم بہت کم ہی شکر یہ ادا کرتے ہو۔ زمین انسان کے لیے قرار گاہ ہے : اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ فرمایجئے خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا ۔ کہیں فرمایا اس سے معلو ہوا کہ انسان ہوا پر نہیں رہ سکتا۔ انسان جسم رکھتا ہے اس کو مکان کی ضرورت ہے جگہ کی ضروت ہے۔ یعنی قیامت تک تمہارے لیے زمین ہی ٹھکا نا اور قرار گاہ ہے۔ انسان ہوا پر زندگی بسر نہیں کرسکتا اگر وہاں جائے گا بھی تو عارضی طور پر۔ اصل قرار گاہ زمین ہی ہے۔ تو فرمایا کہ پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین پر بکھیر دیا۔ جس کا معنی یہ ہے کہ انسان کو جگہ کی ضرورت ہے۔ انسان کی بنیادی حقوق : ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے چار چیزوں کو خاص طور پر انسان کے بنیادی حقوق میں شمار فرمایا ہے۔ یعنی کھانے کے لیے خوراک کہ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔ پینے کا پانی کہ یہ بھی انسان کے لیے ضروری ہے۔ جسم ڈھانپنے کے لیے لباس اور ٹھہرنے کے لیے جگہ۔ اس کے علاوہ دو چیزیں اور ہیں جو آج بھی دنیا میں بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں ان میں سے ایک صحت ہے کہ یہ بھی ایک ضروری چیز ہے۔ تندرستی کے بغیر نہ عبادت ہو سکتی ہے ، نہ محنت مزدوری اور نہ ہی جہاد ہو سکتا ہے۔ دوسری چیز علم ہے یہ بھی بنیادی ضرورت ہے اس کے بغیر انسان نہ فرائض اد اکر سکتا ہے۔ اور نہ خالق اور مخلوق کے حقوق اداکر سکتا ہے۔ تو گویا یہ چھ چیزیں ہیں۔ جنہیں آج بھی دنیا کی متمدن قومیں انسان کے بنیادی حقوق میں شمار کرتی ہیں۔ یو نسکو اور دیگر عالمی ادارے سب ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بنیادی حقوق تو قرآن نے بتائے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ بنیادی چیزیں ہر آدمی کو اپنے اپنے درجے میں ضرور ملنی چاہئیں۔ سر چھپانے اور گرمی سردی سے بچنے کے لیے اگر عالیشان بلڈنگ نہ بھی ہو تو چھوٹا موٹا مکان تو ضرور ہونا چاہیے۔ بالکل کھلی جگہ تو نہیں ہونی چاہیے اسی طرح خوراک کیسی بھی ہو مگر میسر تو ہو۔ اسی طرح کپڑا بھی ایسا تو ہونا چاہیے۔ جو جسم کو ڈھانپ لے اور گرمی سردی سے بجائے۔ دینی تعلیم کی اہمیت : انسان کے لیے تعلیم بھی ضروری ہے۔ خصوصاََ ایسی تعلیم جس کے بغیرا نسان فرائض ادا نہیں کرسکتا۔ آج کل تعلیم عام ہے مگر بہت قلیل حد تک ہمارے ملک میں چونکہ تعلیم لازمی نہیں ہے ۔ اس لیے تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بیس پچیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ ستر پچھتر فیصد لوگ آج بھی بغیر تعلیم کے ہیں۔ اور یہ جو پچیس فیصد تعلیم ہے بھی ، یہ بھی دنیاوی تعلیم ہے۔ بس لکھنا پڑھنا اور حساب کتاب دینی تعلیم تو ایک فیصدی بھی بمشکل ہوگی ۔ جس کے ذریعے انسان فرائض ادا کرسکتا ہے۔ انسانی دماغ کی صحیح ضرورت دینی تعلیم ہے لہذا یہ مقدم ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے تعلیم پر تبصرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہماری عورتوں کو پہلے دینی تعلیم دلانی چاہیے۔ اس کے بعد ایسی تعلیم جو ان کو امور خانہ داری میں مفید ہو۔ اس کے بعد تاریخ ، جغرافیہ اور سائنس وغیرہ کی تعلیم دلا ئو۔ الغرض دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے اصل بنیاد تو موجود نہیں۔ لہذا لوگوں کو اصل فرائض کا علم نہیں۔ اس لیے دینی تعلیم کو اولیت حاصل ہونی چاہیے تاکہ انسان اپنے اصل فرائض کو سمجھ کرا ن پر عمل پیرا ہو سکے۔ خلاصہ کلام : تو بہر حال رشاد فرمایا خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا۔ اور یہ انسان کے لوازمات ہیں۔ جیسا ابتداء میں فرمایا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھا عمل کون کرتا ہے۔ یعنی موت وحیات کو انسان کے امتحان کے لیے پیدا فرمایا۔ یہاں فرمایا دیکھو ! انسان کو اللہ نے پیدا کیا علم کے ذرائع عطا کئے ، کان آنکھیں اور قلب دیا۔ اور پھر زمین میں بکھیر دیا۔ انسان کو ٹھکانا مہیا کیا۔ خدا کے حضور پیش ہونا پڑے گا : ان تمام انعامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اے انسان اس بات کو مت بھولنا کہ تمہیں خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ معاد بر حق ہے ، قیامت برحق ہے۔ ایک نہ ایک دن خدا کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ اچھا کام کون کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ میں نے یہ سب ذرائع تم کو دیے ہیں کہیں ان میں منہک ہو کر معادکو ہی نہ بھول بیٹھنا بلکہ تم سب اسکی طرف اکٹھے کئے جائو گے۔ ایک نہ ایک دن امتحان ہو کر رہے گا ۔ اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگی۔
Ayahs 67:25–30

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے بیشک یہ علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور تحقیق میں تو صرف کھولکر ڈرسنانے والا ہوں۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پس جب وہ منکرین معاد قیامت کو اپنے قریب آتے ہوئے دیکھیں گے اس دن کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ اور کہا جائیگا یہ وہی چیز ہے جسے تم خود طلب کرتے تھے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے فرما دیجئے کہ فرض کرو اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم کردے تو کافروں کو عذاب الیم سے کون بچائے گا۔

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

اے نبی ﷺ اس نے کہہ دیجئے کہ وہ ہی اللہ تعالیٰ کی ذات رحمان ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے پس تمہیں جلدی پتہ چل جائیگا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ اس نے فرما دیجئے فرض کرو کہ وہی ذات خداوندی اس پانی کو اگر زیادہ گہرائی میں لیجائے تو کون ہے جو تمہیں صاف و شفاف پانی مہیا کرے۔

گزشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا جو انسانوں پر کئے۔ انسان کو وجود بخشا اور اس وجود میں تین بڑی نعمتیں کان ، آنکھ اور دل عطا کئے۔ کان سے سن کر انسان معلومات حاصل کرتا ہے۔ یہ علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے۔ اور اسے بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ دل اخلاق اور تمام عزائم کا مرکز ہے قوت عملیہ یہیں سے اٹھتی ہے اور ایمان یہاں ہی ہوتا۔ کفروشرک کا تعلق بھی دل کے ساتھ ہے۔ یہ نعمتیں عطاکر کے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم بہت تھوڑا شکریہ ادا کرتے ہو۔ شکریہ تو تب ادا ہو جب ان نعمتوں کوا للہ تعالیٰ کی یاد میں صرف کرتے۔ ان کاموں میں لگاتے جن سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ اور ان کاموں سے بچاتے جن میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ فرمایا دیکھو ! اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا ہے۔ پہلے فرمایا یعنی تم کو پیدا کیا اور پھر تم کو بکھیر دیا۔ پرا گندہ کردیا۔ مشرق ، مغرب شمال ، جنوب میں نسل انسانی کو پھیلا دیا۔ تمہیں زمین پر رہائش اور دیگر ضروریات اللہ تعالیٰ نے مہیا کیں۔ لہذا اس بات کو مت بھولنا کہ اسی کے سامنے اکھٹے کئے جائو گے یہاں سے ابتدا ہوئی اور ادھر انتہا ہوگی۔ جس خدا نے تم کو پیدا کیا اسی کے سامنے تمہارا حشر ہوگا۔ پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ موت وحیات کی پیدئش اس لیے کی کہ انسان کو اس کے اعمال کے اعتبار سے آزمایا جائے کہہ اچھے عمل کون کرتا ہے اور برے کون۔ تو اس طرح گویا جزائے عمل واقع ہو۔ جس طرح انسان کی پیدائش یقینی امر ہے اسی طرح جزائے عمل کا واقع ہونا بھی لازمی ہے۔ جس کا موقع اور محل قیامت ہے۔ جزائے عمل حشر کے بعد واقع ہوگا۔ اگر اس سے پہلے ہوگا تو وہ صرف تمہیدی اور ابتدائی طور پر اس کا نمونہ ہوگا۔ حقیقی طور پر جزا اور سزا کا وقت حشر کے بعدہی ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ توحید پر ایمان لانا ضروری ہے۔ کہ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہے۔ اسی طرح رسالت کا ذکر بھی فرمادیا۔ کہ رسول کے بتلائے بغیر قوانین معلوم نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات میں امتیاز نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح ایمان کے اجزأمیں قیامت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور قیامت ایمان کے اہم ترین اجزأ ہیں اسکے علاوہ آسمانی کتب ، ملائکہ اور صفات الہٰی جن میں تقدیر بھی شامل ہے۔ ان پر ایمان لانا بھی اسی درجہ کا ضروری ہے ۔ البتہ وہ باتیں سب سے زیادہ ضروری ہیں جن کا تصور انسان ہر وقت اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اور رکھنا بھی چاہیے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم سب اسی ذات خداوندی کی طرف اکٹھے کئے جائوگے۔ قیامت کب آئے گی : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا حال بیان فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ قیامت والا وعدہ کب پورا ہوگا۔ اے اہل ایمان اگر یہ وعدہ سچا ہے تو پورا کیوں نہیں ہوتا۔ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو قیامت کو لاکر دکھائو قرآن پاک میں دیگر مقامات پر بھی کفار کا یہ اعتراض مذکور ہے کہ اگر یہ وعدہ سچا ہے تو اسے پورا ہونا چاہیے ۔ آخر یہ کب پورا ہوگا۔ وقوع قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے : جواب میں ارشاد ہوا اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے یہ علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے مجھے وقوع قیامت کا علم نہیں ہے مجھے تو اللہ نے صرف اتنا علم دیا ہے کہ قیامت آنے والی ہے۔ میں اس کے متعلق تم کو ڈراتا ہوں ، خبردار کرتا ہوں ۔ رہا وقت کا تعین تو وہ میرے علم میں نہیں۔ وہ اللہ کے پاس اور اس نے کسی کو نہیں بتایا۔ ہمارے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ قیامت آنے والی ہے جس کی ہمیں فکر کرنی چاہیے۔ قیامت اچانک وارد ہوگی : دوسری جگہ فرمایا ایک بڑی بھاری اور بوجھل خبر ہے اور یہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی۔ لوگ غفلت میں پڑے ہوں گے اور قیامت اچانک آجائے گی۔ ایک اور جگہ فرمایا بہت عظیم خبر ہے اور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔ تمہیں غفلت میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اور کہیں ارشاد ہوتا ہے لو گ آپ سے سوال کرتے ہیں ایک بڑی خبر کے متعلق ۔ جس کے متعلق یہ اختلاف کرتے ہیں کوئی کہتا ہے۔ قیامت کوئی نہیں ہے ۔ کوئی کہتا ہے شاید آجائے دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی اور بربادی ہے۔ حدیث جبریل میں آتا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے حضور ﷺ سے ایمان اسلام اور احسان کے متعلق دریافت کیا۔ آپ نے تینوں سوالوں کا جواب دیا۔ پھر چوتھا سوال کیا۔ حضور ! یہ فرمائیے قیامت کب آئیگی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یعنی نہ بات جیسا سائل کو معلوم نہیں ایسے ہی مسول کو بھی معلوم نہیں اس کا علم نہ تیرے پاس ہے ، نہ میرے پاس ، بلکہ صرف اللہ کے پاس ہے اور اس نے کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ قیامت کا علم صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ یہ خاص چیزوں میں سے ہے۔ اس کے وقوع کی گھڑی کسی کو نہیں بتائی۔ قیامت کی نشانیاں : ہاں قیامت کی بعض نشانیاں بتا دیں جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی۔ خود پیغمبر ﷺ کا وجود مبارک قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا میں اور قیامت اس طرح آگے پیچھے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں ایک تھوڑی سی آگے بڑھی ہوئی ہے اور ایک ذرا پیچھے ہے۔ مراد یہ ہے اب کوئی اور شریعت نہیں آئیگی بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ دوسری جگہ ہے کہ آپ فرمادیجئے میں نہیں جانتا مجھے معلوم نہیں کہ وہ وعدہ قریب ہے یا بعید ، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمیں تو اتنا ہی علم ہے کہ وہ یقینا آنے والی ہے۔ الغرض نبی ﷺ کے پاس ہے۔ اور اس سلسلے میں میں تو صرکھولکر ڈر سنانے والا ہوں میرا فریضۃ اتنا ہی ہے کہ قیامت کے آنے کی خبر دے دوں اس کے وقت کا تعین میرے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ اللہ کے پاس ہے وہی اس کو جانتا ہے۔ قیامت میں کفار کے چہرے سیاہ ہوجائیں گے : منکرین معاد جب قیامت کو اپنے قریب آتے ہوئے دیکھیں گے اس دن کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ جیسا کہ دوسری آیت کے اندر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے۔ نیز فرمایا اس دن چہرے غبار آلود ہوں گے۔ ان پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی۔ اور بعض چہرے بڑے خوش خوش ہوں گے۔ نورانی ہوں گے سفید ہوں گے چمکدار ہوں گے اور خوشی کرنے والے ہوں گے۔ بعض دوسرے چہروں پر کفر کی سیاہی نمایاں ہوگی اور ان پر خوف طاری ہوگا۔ اس دن اللہ کا وعدہ پورا ہوجائے گا : اور کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جسے تم خود طلب کرتے تھے۔ لو ! یہ قیامت آگئی ہے تو اس طرح قیامت کے روز اللہ کا وعدہ پور اہوجائیگا الغرض اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر کیا۔ صفات الہٰی کو بیان فرمایا ، بنیادی عقائد منجملہ رسالت اور قیامت کا بیان فرمایا۔ اور پھر اعتراض کرنے والے لوگوں کا جواب دیا اور ان کے انجام کو واضح کیا ان کی گندی ذہنیت کا تجزیہ بھی کیا۔ اب کفار الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں قیامت کب آئیگی۔ قیامت کے لیے تیاری : حضور ﷺ سے ایک دیہاتی نے سوال کیا کہ حضرت یہ فرمائیں قیامت کب آئے گی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا افسوس ہے تو نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ کہ اس کے متعلق دریافت کرتا ہے۔ عرض کیا حضور ! میں نے کوئی زیادہ سامان تو تیار نہیں کیا۔ صرف فرائض وغیرہ ہی ادا کرتا ہوں۔ عبادت و ریاضت کا کوئی اور سامان تو میرے پاس نہیں ہے یعنی میرے نامہ اعمال میں نفلی عبادت اور نفلی روزے وغیرہ کا ذخیرہ تو نہیں ہے۔ البتہ ایک بات ضرور ہے۔ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت ضرور کھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم بےفکر ہو جائو جن کے ساتھ تم محبت رکھتے ہو۔ تمہارا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا۔ خصوصی اعمال میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت بڑی خوشی کی بات ہے۔ کفار عذاب سے نہیں بچ سکیں گے : توحید ، رسالت اور معاد پر ایمان لانے کی بجائے کفار کہتے تھے۔ کہ یہ محض شورو غوغا ہے۔ چند دن بعد یہ سب بلاک ہوجائیں گے۔ مزیک کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ان کی موت کے ساتھ ان کا دھندا بھی ختم ہوجائے گا۔ قیامت وغیرہ کچھ نہیں آئے گی۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے پیغمبر ﷺ ان سے فرما دیجئے۔ فرض کرو۔ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے جیسا کہ تمہارا خیال ہے۔ یا وہ ہم پر رحم کردے جیسا کہ ہمارا اعتقاد ہے تو کافروں کو عذاب الیم سے کون بچائے گا۔ کفار کہتے تھے شاعر نتربص بہ ریب المنون شاعری کرتے ہیں ہم چند دن اور انتظار کریں گے جیسے پہلے شاعر مر کھپ گئے ۔ اور ان کا مشن چلانے والا کوئی نہیں ۃے۔ اسی طرح یہ بھی ختم ہوجائیں گے۔ اور ان کا مشن کا میاب نہیں ہوگا۔ جواب میں فرمایا کہ فرض کرو اگر ایسا بھی ہوجائے تو اس سے کافروں کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ ہمارے ہلاک ہوجانے سے یا ہم پر رحم کئے جانے سے کفا ر کے عذاب میں کوئی فرق نہ پڑے گا۔ بہر حال انہیں عذاب سے چھڑانے والا اور پناہ دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ گمراہ کون ہیں : آگے ارشاد فرمایا اے نبی ﷺ اس نے کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وت ہی ہے جو رحمان ہے۔ وہ ہم پر رحم کرے گا۔ کیونکہ ہم اس پر ایمان لائے ہیں اسکی صفات اور اسکی وحدانیت پر ہمارا ایمان ہے۔ اس پر ہمارا بھروسہ ہے اس کے ہاتھ میں کامیابی ہے۔ وہ یقینا ہمیں کامیابی عطا کرے گا۔ پس تمہیں جلدی ہی پتہ چل جائے گا۔ کہ کھلی گمراہی میں کون ہے۔ کہا ہم ہیں جو ایمان لائے یا تم ہو جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور توحید و معاد کا انکار کیا۔ عنقریب اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ایمان مدارنجات ، مدارسعادت اور مدار فلاح ہے۔ ہم تو خدا کی ذات پر ایمان لائے ہیں اسی پر توکل اور بھروسہ ہے۔ اہل ایمان کو اسی اعتقاد کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ شفاف پانی کی نعمت عظمی : اس کے بعد اللہ جل جلالہ نے دلائل قدرت میں سے ایک اور دلیل کا ذکر فرمایا۔ ارشاد ہوا کہ وہ اللہ تعالٰ جس نے تمہیں وجود بخشا ، زمین بخشی ، جگہ دی ، تمام ضروریات مہیا کیں ، وہ اگر اس پانی کو جس پر تمہاری زندگی کا دارومدار ہے۔ زمین کی گہرائی میں لے جائے حالانکہ اس نے پانی کمال قدرت اور حکمت تامہ کے ساتھ اس پانی کو بارش کی صورت میں برسا کر زمین کے اندر چلا دیا ہے۔ اور انسان تھوڑی سی محنت کر کے زمین کھود کر پانی حاصل کرلیتا ہے۔ کہیں کنوں ہے۔ کہیں نلکا ہے کہیں تالاب ہیں ، نہریں جاری کردیں۔ کہیں چشمے پھوٹ پڑے اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی نعمت کو بغیر پائپ لائن کے زمین کے اندر جال کی صورت میں پھیلا دیا کہ انسان جہاں سے چاہے کھو د کر پانی حاصل کرلے ۔ یہی نہیں بلکہ زمین میں چشمے جاری کردیے۔ اسے گلنے سڑنے سے محفوظ کردیا۔ تو فرض کرو کہ وہی خدا وندی اس پانی کو اگر وہ زیادہ گہرائی میں لیجائے جو تمہاری دسترس سے باہر ہو تو بتلائو تو کون ہے جو تمہیں صاف و شفاف پانی مہیا کرے۔ تجربات شاید ہیں ک کہ بعض مقامات ایسے ہیں جہاں پانی حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ کھدائی کرنی پڑتی ہے۔ عرب کے بعض خطوں میں پانی حاصل کرنے کے لیے سخت محنت اور بہت زیادہ صرفہ کرنا پڑتا ہے۔ یہاں بھی کئی مقامات ایسے ہیں جہاں پانی کئی کئی سو فٹ گہرا ہے۔ ہمارے ہاں تو دس بیس فٹ پر پانی مل جاتا ہے۔ زمین بھی نرم ہے۔ مگر جہاں زمین پتھر یلی اور پانی دور ہو وہاں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ صاف و شفاف پانی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت عظمی ہے۔ جوا س نے فری عطا کی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو زمین میں چار پانچ میل کی گہرائی تک دھنسا دے تو تمہارے معبودوں میں سے کون ہے۔ جو ت میں پانی مہیا کردے۔ دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ نے روشنی کا بھی اسی طرح ذکر فرمایا کہ اگر وہ سورج کو روک دے تو تمہارے پا س کوئی ہے جو روشنی کو لے آئے۔ ایک فلسفی کا انجام : تفسیر جلا لین دو برزگوں نے لکھی ہے۔ پندرہ پارے جلا ل لدین سیوطی (رح) نے اور پندرہ پارے جلال لدین محلی (رح) نے جناب محلی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں ایل فلسفی سائنس دان کا واقعہ نقل کیا ہے جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ کون پانی لائے گا تو اس فلسفی نے کہا کہ ہم کہتے ہیں۔ ہمارا کدال پانی لائیگا۔ یہ بیلچہ پانی لائیگا۔ ہم ان کی مدد سے زمین کھود کر پانی حاصل کرلیں گے۔ تو مولانا جلال لدین محلی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس فلسفی کو اندھا کردیا اور اس کی قوت ظاہری سلب کرلی کیونکہ اس نے غرور وتکبر کیا تھا۔ اگرچہ سزا کا اصل موقع تو حشر ہے مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ عبرت کے طور پر دنیا میں بھی ایسے مغروروں کو نمونہ کے طور پر سزا کا کچھ حصہ دے دیتا ہے۔ اختتام آیت پر اللہ رب العلٰمین : حدیث شریف میں آتا ہے جب یہ آیت پڑھی جائے تو اس کے بعد کہنا چاہیے اگر آدمی نما زکی حالت میں ہو تب بھی آہستہ سے یہ الفاظ کہہ لے آیت کے اختتام پر پڑھنا مستحب ہے گویا یہ اس آیت پاک کا جواب ہے۔ کہ جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے۔ کہ کون ہے جو تمہارے پاس پانی لے آئے تو پڑھنے والا یا سننے والا یون کہے کہ وہ اللہ رب العٰلمین ہی ہے۔ جو پانی جیسی نعمت عظمیٰ کو مہیا کرسکتا ہے۔