66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 66:1–2

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ کیوں حرام قرار دیتے ہیں اس چیز کو جو اللہ نے آپ کے لئے حلال ٹھہرائی ہے۔ کیا آپ چاہتے ہیں خوشنودی اپنی بیویوں کی ؟ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

بیشک اللہ نے مقرر کیا ہے تمہارے لئے کھول دینا تمہاری قسموں کا ، اور اللہ تعالیٰ ہی تمہارا آقا ہے۔ اور وہ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة التحریم ہے ، اس کو سورة النبی بھی کہا جاتا ہے یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بارہ آیتیں اور دو ررکوع ہیں اور یہ سورة 249 الفاظ اور 1060 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : یہ سورة اس سے پہلی سورة الطلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ دونوں سورتوں میں بعض عائلی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ البتہ دونوں سورتوں میں ربط یہ ہے کہ پہلی سورة میں عدوات ونفرت کی بنا پر پیدا ہونے والے حالات سے متعلق قوانین تھے جب کہ اس سورة میں محبت و چاہت سے پیدا ہونے والے بعض معاملات سے متعلق قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موقع خوشی کا ہو یا غمی کا۔ الفت و محبت کی بات ہو یا غصہ اور ناراضگی کی ہر حالت میں اعتدال کو قائم رکھنا چاہیے۔ ایسے مواقع پر جب عدل کا دامن چھوٹ جاتا ہے تو پھر طرح طرح کی خرابیاں اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لئے حضور ﷺ نے یہ دعا سکھلائی ہے۔ اللھم انی اسئلک العدل فی الرضی والغضب واسئلک القصد فی الغنی وافقر ، اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے خوشی اور ناراضگی میں عدل و انصاف کی توفیق عطا فرما اور تونگری اور محتاج میں میانہ روی عطا فرما۔ گزشتہ سورة میں طلاق اور اس سے متعلقہ مسائل بیان ہوئے تھے۔ جب یہاں بیوی میں نفرت وعداوت کے جذبات جنم لیتے ہیں تو پھر نوبت اطلاق تک پہنچتی ہے۔ چناچہ اللہ نے طلاق ، عدت ، رہائش ، خرچہ اور رضاعت ، وغیرہ کے معاملات میں قانون نازل کرکے میانہ روی اور عدل و انصاف کی تعلیم دی ہے۔ اور اس سورة میں پیار و محبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی فرد گزاشت سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس موقع پر بھی میانہ روی اور عدل کا دامن نہیں چھوٹنا چاہیے۔ ایسے ہی موقع پر حضور ﷺ سے ایک ایسی بات ہوگئی تھی جو اگرچہ ناجائز یا گناہ والی بات نہیں تھی تاہم وہ خلاف اولیٰ یعنی بتر نہیں تھی ، لہٰذا اللہ نے یہ آیات نازل فرما کر حضور ﷺ کو متنبہ کردیا کہ آپ کی ذات سے ایسی معمولی لغزش بھی سرزد نہیں ہونی چاہیے۔ ازواج مطہرات ؓ کے لئے تنبیہ : اس سے پہلے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو ایک تنبیہ کا ذکر سورة احزاب میں ہوچکا ہے۔ آپ کی بیویوں نے آپ سے زیادہ خرچہ طلب کیا تو آپ ان سے ناراض ہوگئے اور ان سے ایلاء کرلیا جس کی بناء پر ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے علیحدہ رہے ، اس پر اللہ نے ازواج ؓ کو سخت تنبیہ فرمائی کہ وہ حضور ﷺ کی ناراضگی کا باعث کیوں بنی ہیں ؟ اور پھر اللہ نے سورة کے چوتھے رکوع میں آیات تیخیر نازل فرمائیں کہ اے نبی ﷺ آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیں کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں اچھے طریقے سے رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لئے اجر عظیم تیار کررکھا ہے (آیت 28- 29) ۔ آج کے درس میں بھی ایک ایسے ہی واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیلات صحیحین اور حدیث کی دوسری کتابوں میں موجود ہے۔ حضور ﷺ کا معمول تھا کہ آپ بعد از نماز عصر تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے سب ازواج ؓ کے گھروں میں تشریف لے جاتے۔ ام المومنین حضرت زینب ؓ کے ہاں کہیں سے شہد آیا ہوا تھا۔ جب حضور ﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کو شہد پیش کرتیں جسے آپ شوف سے نوش فرماتے ، صحیح روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ یحب الحلوا والعسل ، یعنی آپ میٹھی چیز اور خصوصاً شہد کو بہت پسند فرماتے تھے چناچہ آپ حصرت زینب ؓ کے ہاں کچھ زیادہ وقت دے دیتے۔ اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے ایک ترکیب کے ذریعے حضور ﷺ سے شہد چھڑانے کی کوشش کی ، تو اس واقعہ پر بھی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ فرمائی بلکہ خود حضور ﷺ کو تنبیہ کی کہ آپ ازواج مطہرات ؓ کی خاطر ایک حلال چیز کو اپنے لئے کیوں ممنوع قرار دیتے ہیں۔ واقعہ کی تفصیل : شہد کی مکھی کی یہ فطرت ہے کہ وہ گندی چیز پر نہیں بیٹھتی۔ بلکہ ہمیشہ پاکیزہ چیزوں از قسم کھجور ، انگور اور دیگر پھلوں اور پھولوں کا رس چوستی ہے۔ مغافیر ایک پودے کا نام ہے جس سے گوند نکلتی ہے۔ اگرچہ یہ پودا بالکل پاکیزہ ہوتا ہے تاہم اس سے نکلنے والی گوند سے کسی قدر بو آتی ہے۔ شہد کی مکھی جس پھل یا پھول کا رس چوستی ہے اس کا اثر شہد میں بھی آجاتا ہے ۔ اس حقیقت کے پیش نظر حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ کا منصوبہ یہ تھا کہ جب حضور ﷺ ان کے ہاں تشریف لائیں تو وہ آپ کو باور کرائیں کہ آپ سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے۔ حضرت حفصہ ؓ کہنے لگیں ، تو پھر شاید شہد کی مکھی نے مغافیر چوسا ہو جس کا اثر شہد میں آگیا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے گھر آئے تو انہوں نے بھی مغافیر کی بو کی شکایت کی۔ اس پر حضور ﷺ کہ شہد میں مغافیر کی بو کا یقین ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ آئندہ میں شہد استعمال نہیں کروں گا گویا خود اپنے اوپر شہد کو ممنوع کرلیا۔ ایک دوسرا واقعہ : بعض مفسرین ایک دوسرا واقعہ بھی اسی سلسلے میں بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کسی روز حضرت حفصہ ؓ کے گھر گئے مگر وہ اپنے والدین کے ہاں گئی ہوئی تھیں ۔ آپ نے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ ؓ کو وہاں بلا لیا۔ جس نے رات بھر حضور ﷺ کے ساتھ ہی قیام کیا۔ جب حضرت حفصہ ؓ واپس آئیں تو انہوں نے ماریہ قبطیہ ؓ کی ان کے گھر میں شب باشی کا برا منایا۔ یہ عورتوں کی فطرت ہے وگرنہ یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں تھی۔ اس پر حضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کی خوشنودی کے لئے قسم اٹھالی کہ میں آئندہ اس لونڈی کے پاس نہیں جائوں گا۔ گویا لونڈی کو اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا۔ حضور ﷺ کا یہ عمل کوئی غیر اخلاقی یا گناہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کو حرام قرار دیا جاسکتا تھا۔ امام زمحشری (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایک معمولی سی لغزش تھی۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین اس کو لغزش بھی تسلیم نہیں کرتے۔ یہ تو ایک خلاف اولیٰ بات تھی۔ حضور ﷺ بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے اور خود بھی اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ ہی پیش آتے تھے۔ البتہ جہاں کہیں کوئی قانون متاثر ہوتا ہو یا شریعت میں نقصان کا خطرہ ہو یا امت کے لئے کوئی اسوہ قائم ہوجاتا ہو۔ وہاں حضور اللہ کے قانون کی پابندی فرماتے تھے۔ تاکہ امت کے لئے آسانی پیدا ہو۔ بہرحال ان آیات کا مصداق یہ دو واقعات ہیں۔ یا تو آپ نے شہد کو یا لونڈی کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا۔ حالانکہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے آپ کے لئے حلال قرار دی تھیں۔ اسی بناء پر اللہ نے ان آیات میں سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ مضامین سورة : ابتدائی آیات کے شان نزول میں میں نے عرض کردیا کہ یہ اس معمولی سی لغزش پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت تنبیہ تھی۔ اس کے علاوہ اس سورة مبارکہ میں توبہ کا مسئلہ بھی بیان کیا گیا ہے اگر کوتاہی ہوجائے تو تمام مومنین اور مومنات کے لئے لازم ہے کہ وہ سچے دل سے توبہ کرلیں۔ اللہ نے یہ مسئلہ بھی بیان فرما دیا کہ ہر مسلمان کو اپنے گھر کی اصلاح کرنی چاہیے اور خود اپنی بھی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جہنم کا منہ دیکھنا پڑے اس کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے اور منافقوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا حکم بھی دیا گیا ہے پھر اللہ نے مثال کے طور پر دو کامل الایمان اور قانون کی پابندی کرنے والی عورتوں حضرت آسیہ ؓ بنت مزاحم اور حضرت مریم ؓ بنت عمران کا ذکر کیا ہے۔ نیز دو کافرہ عورتوں یعنی زوجہ نوح (علیہ السلام) اور زوجہ لوط (علیہ السلام) کی مثال بھی بیان فرمائی ہے۔ شہد یا لونڈی کی حرمت : سورۃ کا آغاز مذکورہ واقعہ تحریم سے ہوتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک اے نبی ! آپ کیوں حرام قرار دیتے ہیں اس چیز کو جو اللہ نے آپ کے لئے حلال کی ہے۔ شہد ہو یا لونڈی دونوں چیزیں حضور ﷺ کے حلال تھیں مگر آپ نے خود انہیں اپنے لئے ممنوع کرلیا۔ فرمایا تبتغی مرضات ازواجک کیا آپ اپنی عورتوں کی خوشنودی چاہتے ہیں جس کی وجہ سے شہد یا لونڈی کو حرام قرار دیا ہے ؟ حرام قرار دینے کا یہ مطلب نہیں کہ شرعاً یا عقیدتاً حرام کرلیا تھا بلکہ محض اس کا استعمال حرام قرار دے لیا تھا۔ اگر کوئی شخص کسی وجہ کی بناء پر کسی جائز چیز کا استعمال ترک کردے تو اس طرح وہ چیز شرعاً حرام ہیں ہوجاتی کیونکہ یہ اس کے اپنے اختیار کی بات ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی مباح چیز کو عقیدتاً حرام سمجھتا ہے تو یہ بدعت ہے اور آدمی مشرک ہوگا۔ البتہ حضور ﷺ کی شان چونکہ بہت بلند ہے ، اس لئے آپ سے معمولی سی لغزش بھی گوارا نہیں کی گئی اور تنبیہ کی گئی کہ آ پنے اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر یہ کام کیا ہے جو درست نہیں ہے۔ آپ کو ایسی خلاف اولی بات بھی نہیں کرنی چاہیے۔ فرمایا واللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے اس نے آپ کی یہ لغزش معاف کردی ہے مگر آپ آئندہ ایسان نہ کریں۔ قسم اور کفارہ : اس کے بعد اللہ نے قسم اور اس کے کفارہ قانون بیان فرمایا ہے۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم تحقیق اللہ نے تمہاری قسموں کو کھول دینے کو فرض قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر قسم اٹھالی ہے تو اس کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردو ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اس حکم کے مطابق قسم کو توڑ کر ایک غلام یا لونڈی آزاد کردی تھی۔ یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں حضور ﷺ نے کوئی قسم تو نہیں اٹھائی تھی جس کو توڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ آپ نے تو محض ایک مباح چیز کو اپنے آپ پر ممنوع قرار دے لیا تھا۔ اس ضمن میں مسلم شریف میں مذکورحضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت پیش کی جاتی ہے اذا حرم الرجل امراتہ فھویمین یکفرھا جب کوئی شخص اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیتا ہے تو ہر قسم شمار ہوتی ہے جس کا کفارہ ادا کرکے قسم توڑ دینی چاہیے۔ البتہ یہ بات وضاحت طلب ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ تو مجھ پر حرام ہے تو امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لفظ چونکہ صریح نہیں بلکہ کنایہ ہے ۔ لہٰذا اگر وہ شخص طلاق کی نیت سے ایسا کہتا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور اگر ظہار کی نیت ہے تو ظہار تصور ہوگا۔ ہاں اگر کوئی شخص کہے کہ عورت کی ذات مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم ہوگی۔ اور اگر کہے کہ میں نے اس سے کچھ ارادہ نہیں کیا ، تو ایک روایت کے مطابق یہ بھی قسم ہوگی۔ جب کہ دوسری روایت کے مطابق قسم شمار نہیں ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے آپ پر حرام کردیتا ہے تو اگر اس کی نیت طلاق کی ہے تو ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی ، اور اگر تین طلاقوں کی نیت کرے گا تو تینوں واقع ہو کر عورت مغلظہ ہوجائے گی۔ اگر وہ شخص کہے کہ میں نے یہ جھوٹی بات کہی ہے وگرنہ میرا ارادہ کچھ نہیں تھا تو یہ لغوبات شمار ہوگی مگر قسم پھر بھی واقع ہوجائے گی اور کفارہ دینا پڑے گا۔ یہ مسئلہ صرف عورت کی حرمت تک ہی محدود نہیں بلکہ کسی بھی مباح چیز مثلاً کھانا یا کپڑے وغیرہ کے متعلق کہتا ہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو وہ قسم ہوگی اور شخص متعلقہ کو کفارہ ادا کرنا پڑیگا۔ عام قانون بھی یہی ہے کہ اگر کسی جائز معاملہ میں بھی قسم اٹھالی مگر دوسرا پہلو بہتر ہے تو قسم کو توڑ دینا چاہیے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسے معاملہ میں میں قسم کو توڑ کر کفارہ ادا کردیتا ہوں۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ نیکی کے اعتبار سے کسی قسم پر اصرار کرنا اچھا نہیں ہے۔ اس کی بجائے قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینا زیادہ بہتر ہے قسم کے مسائل سورة البقرۃ اور سورة المائدۃ میں بیان ہوچکے ہیں۔ اول تو قسم اٹھانی ہی نہیں چاہیے۔ اور اگر کوئی جائز مجبوری ہے تو پھر یہ برائت کے لئے ہوتی ہے کہ انسان قسم اٹھا کر کسی الزام سے بری ہوجائے۔ اور اگر کوئی غیر اولی بات ہوگئی ہے تو پھر قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینا چاہیے۔ فرمایا واللہ مولکم اللہ ہی تمہارا آقا اور کار ساز ہے۔ وھو العلیم الحکیم اور وہ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے وہ تمہاری نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے اور اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے مال کے متعلق کہتا ہے یہ مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم ہوگی۔ اسے چاہیے کہ قسم کا کفارہ ادا کرکے مال کو اپنے کام میں لائے۔ یہ حکم بیوی ، کھانا ، کپڑا ، پھل ، گوشت سب چیزوں پر لاگو ہے۔
Ayahs 66:3–5

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب کہ پوشیدہ طور پر ایک بات کہی نبی (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیوی سے پس جب اس نے بتلا دی وہ بات ، اور اللہ نے ظاہر کردیا اس بات کو پیغمبر (علیہ السلام) پر ، تو اس نے بعض بات جتلا دی اور بعض سے اعراض کیا۔ پھر جب پیغمبر (علیہ السلام) نے وہ بات بیوی کو بتلائی تو اس نے کہا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتلائی ہے۔ فرمایا بتلائی ہے مجھے علم رکھنے والی اور ہر چیز سے باخبر ذات نے

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں توبہ کرو اللہ کے سامنے ، پس بیشک تمہارے دل مائل ہوچکے ہیں۔ اور اگر تم اس (پیغمبر) کے خلاف چڑھائی کرو ، پس بیشک اللہ تعالیٰ اس کا آقا ہے اور جبرائیل اور نیک بخت ایماندار ، اور فرشتے اس کے بعد اس کے مددگار ہیں

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

شاید کہ اس کا پروردگار ، اگر وہ تم کو طلاق دے دے ، تو تبدیل کردے اس کے لئے عورتیں بہتر تم سے فرمانبردار ، ایماندار ، اطاعت گزار ، تائبات ، عابدات ، روزے دار (یا مہاجر) جو خاوند دیدہ ، اور دوشیزہ ہیں

ربط آیات : پہلی دو آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ کے نبی نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر بعض حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا۔ اللہ نے ایسا کرنے کی ممانعت فرمائی اور حکم دیا کہ آپ اپنی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردیں کیونکہ یہ تو خواہ مخواہ مشقت میں پڑنے والی بات ہے ، اب آج کی آیات میں نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ کی گئی ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی کی مخالفت کرو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے تم سے بہتر ازواج مہیا کردیگا۔ امہات المومنین ؓ کے لئے بشارت : گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے سامنے شہد کو استعمال نہ کرنے یا لونڈی سے فائدہ نہ اٹھانے کی قسم کھالی تھی۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہوئی۔ اس کے علاوہحضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کو یہ بشارت بھی سنائی تھی کہ میری وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ ہوں گے اور ان کے بعد حضرت عمر ؓ یہ منصب سنبھالیں گے۔ آپ نے اس راز کو فاش نہ کرنے کی بھی تاکید فرمائی تھی۔ حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ایک دوسری کے ساتھ زیادہ مانوس تھیں ، لہٰذا حضرت حفصہ ؓ نے راز کی یہ بات حضرت عائشہ ؓ کو بتلادی جس پر اللہ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ اگر نبی کی خوشنودی مطلوب ہے تو پھر ان کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ افشائے راز کا وقعہ : ارشاد ہوتا ہے واذ اسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا ، اور جب کہ اللہ کے نبی نے اپنی بیویوں میں سے بعض کو ایک بات پوشیدہ طور پر بتلائی۔ فلما نبات بہ ، پھر جب اس بیوی نے اس راز کو فاش کردیا یعنی وہ بات دوسری بیوی کو بتلادی۔ واظھرہ اللہ علیہ ، اور اللہ نے اس کو اطلاع اپنے نبی کو بذریعہ وحی کردی کہ راز کی بات ایک بیوی نے دوسری کو بتادی ہے عرف بعضہ تو حضور ﷺ نے اس بات کا کچھ حصہ اپنی زوجہ محترمہ پر ظاہر کرکے تنبیہ فرمائی کہ تمہیں اس راز کو آگے نہیں چلانا چاہیے تھا۔ جس کی میں نے سخت تاکید کی تھی۔ واعرض عن بعض اور بات کے کچھ حصے کو آپ نے ظاہر نہ کیا بلکہ پھر بھی صیغہ راز میں رکھا۔ تاہم فلما نباھا بہ جب نبی (علیہ السلام) نے بیوی کو افشائے راز کی خبر دی قالت من انباک ھذا تو وہ کہنے لگی کہ آپ کو کس نے بتایا کہ میں وہ راز محفوظ نہیں رکھ سکی۔ حضرت حفصہ ؓ کو یقین تھا کہ حضرت عائشہ ؓ یہ بات حضور ﷺ کو نہیں بتائے گی کیونکہ وہ ان کی نہایت ہی معتمد تھیں۔ قال نبانی العلیم الخبیر تو حضور ﷺ نے جواب دیا کہ مجھے اس ذات خداوندی نے بتایا ہے جو سب کچھ جاننے والی اور ہر خبر سے باخبر ہے۔ آپ نے واضح کردیا کہ میں خود عالم الغیب نہیں ہوں۔ جواز خود جان لیتا کہ تم نے راز کو فاش کردیا ہے بلکہ یہ خبر مجھے اللہ نے وحی کے ذریعے دی ہے ۔ بہرحال اس میں زوجہ محترمہ کے لئے سخت تنبیہ ہے ، کہ اس نے نبی کے حکم کے خلاف عمل کیا۔ توبہ کی تلقین : فرمایا ان تتوبا الی اللہ اگر تم دونوں (راز کو بتانے والی اور اس کو سننے والی) اللہ کے سامنے توبہ کرو۔ فقد صغت قلوبکما تو بیشک تمہارے دل مائل ہوچکے ہیں۔ امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ دونوں ازواج مطہرات (حضرت حفصہ ؓ اور عائشہ ؓ کو غلطی کا احساس ہو کر ان کے دل تو بہ کی طرف مائل ہوچکے ہیں۔ صغت کا معنی ٹیڑھا ہونا بھی ہوتا ہے ، اس لئے بعض مفسرین نے یہ معنی کیا ہے کہ نبی (علیہ السلام) کے راز کو قائم نہ رکھ کر تمہارے دل ٹیڑھے ہوچکے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ازواج کے دلوں میں نہ کوئی بدنیتی تھی ، نہ حضور ﷺ کے خلاف کوئی سازش اور نہ ہی ان کے دل ٹیڑھے ہوئے تھے۔ وہ محض کم حوصلگی کی وجہ سے راز کو قائم نہ رکھ سکیں۔ ازواج مطہرات ؓ نے ایک غلطی زیادہ خرچہ طلب کرکے بھی کی تھی ، جس کا ذکر سورة احزاب میں آچکا ہے۔ اللہ نے اس کوتاہی پر بھی سخت تنبیہ کی تھی اور یہ بھی فرمایا تھا ینسآئ………………النسائ۔ (آیت 33) اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بلکہ اللہ نے تمہیں بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے ، لہٰذا تمہاری معمولی سی غلطی بھی قابل گرفت ہے۔ تمہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ رافضیوں کی صحابہ ؓ دشمنی : اس واقعہ کی آڑ میں رافضیوں نے صحابہ کرام ؓ اور امہات المومنین ؓ کے خلاف سخت نازیبا کلمات کہے ہیں۔ مثلاً صاحب ” صافی “ لکھتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کو افشائے راز سے سختی سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر خدا کی لعنت ہوگی ، چناچہ پہلے اس راز کا ذکر حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ اور پھر حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے ساتھ ہوا اور پھر ان چاروں نے سازش کی کہ العیاذ باللہ حضور ﷺ کو زہر دے کر ختم کردیا جانے اور حکومت پر قبضہ کرلیا جائے یہ سب کذب بیانی اور بہتان ہے ، وگرنہ ایسی کوئی بات نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک بشارت تھی جو کہ خوشی کی بات تھی کہ حضور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ یکے بعد دیگر سے مسند خلافت پر متمکن ہوں گے البتہ شہدوالے معاملہ میں ان ازواج مطہرات ؓ نے ضرور ایک سکیم بنائی تھی ، تاکہ حضور ﷺ حضرت زینب ؓ کے ہاں زیادہ قیام نہ کریں اور ایک خاوند کی متعدد بیویوں کے درمیان اس قسم کی رقابت ایک فطری امر ہے۔ نبی کے مددگار : آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے ازواج مطہرات ؓ کی سرزنش ایک دوسرے انداز میں کی ہے وان تظھرا علیہ ، اور اے نبی کی بیویو ! اگر تم نبی (علیہ السلام) کے خلاف مزید جھتہ بندی کرو گی ، آپ کے خلاف ایک دوسری کی مدد کرو گی اور اپنی بات پر اڑی رہوگی ، تو یادرکھو ! کہ اس میں نبی کا تو کچھ نقصان نہیں ہوگا بلکہ الٹا تمہیں ہی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ فان اللہ ھو مولہ بیشک نبی کا کار ساز ، آقا اور رفیق تو اللہ تعالیٰ ہے۔ وجبریل اور جبریل (علیہ السلام) بھی آپ کی اعانت پر ہر وقت مستعد ہیں و صالح المومنین اور نیک بخت مومن بھی آپ کے ساتھی اور معاون ہیں۔ نیز فرمایا والملئکۃ بعد ذلک ظھیر اور اس کے بعد اللہ کے فرشتے ان کے معاون ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نبی کے مددگار تو موجود ہیں ، بےیارومددگار تم ہی رہوں گی ، لہٰذا نبی (علیہ السلام) کی مخالفت کرکے خود ہی نقصان اٹھائو گی۔ اللہ نے آئندہ کے لئے ایسی حرکت سے سختی کے ساتھ منع فرمادیا۔ بہترازواج کی پیش کش : آگے اللہ نے ایک دوسرے انداز میں ازواج مطہرات ؓ کو متنبہ فرمایا۔ اے امہات المومنین پیغمبر کی ذات کو پریشان نہ کرو۔ اگر تمہارا یہی وطیرہ رہا ، عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیر منکن ، اگر اللہ کا نبی تمہیں طلاق دے دے تو شاید کہ اس کا پروردگار اس کے لئے بیویاں تبدیل کردے جو تم سے بہتر ہوں۔ خدا قادر مطلق ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ اگر ہم نہ ہوں گی تو اللہ کے نبی کو کوئی زحمت اٹھانا پڑے گی۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تم سے بہتر بیویاں عطا کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔ اگرچہ امہات المومنین میں خیر کا پہلو ہی غالب تھا۔ تاہم اللہ نے ایک دفعہ دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ فرمادی کہ اپنے ذہن میں کوئی گھمنڈ نہ لانا بلکہ عاجزی اختیار کرو۔ یہ تمہارے لئے بہت بڑا شرف ہے کہ تم نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی ازواج ہو۔ یہ اللہ نے اپنے نبی کی بیویوں کو ادب سکھایا ہے۔ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ نبی کے لئے دوسری بیویوں کو لے آئے تو ان کی صفات یہ ہوں گی کہ وہ مسلمت نبی کی نہایت ہی فرمانبردار ہوں گی۔ اور آپ کی ذات کے لئے کبھی پریشانی کا باعث نہیں بنیں گی ، وہ عورتیں مومنت خدا کی ذات پر کمال درجے کا ایمان رکھنے والی ہوگی ، نیز وہ قنتت قنوت کرنے والی یعنی نماز میں کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرنے والی ہوگی۔ قنوت مطلق اطاعت کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ پھر فرمایا تئبت توبہ کرنے والی ہوں گی ، ذرا سی کوتاہی ہوئی تو فوراً توبہ کرلی اور معافی مانگ لی۔ عبدات وہ عورتیں بڑی ہی عبادت گزار ہوں گی ، عبادت صرف نماز ہی کا نام نہیں بلکہ تمام قسم کی مالی ، بدنی ، لسانی اور فعلی عبادت کرنے والی ہوں گی۔ آگے فرمایا سئحت روز رکھنے والی یا سیاحت کرنے والی یعنی ہجرت کرنے والی ہوں گی ، ظاہر ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات ؓ نے مکہ سے مدینہ ہجرت بھی کی تھی۔ فرمایا ان صفات کی حاملین عورتیں ثلبت خاوند دیدہ بھی ہوسکتی ہیں۔ وابکارا اور دوشیزہ بھی ہوسکتی ہیں۔ ایک طرف تو ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ نبی کی پریشانی کا سبب نہ بنیں اور دوسری طرف پیغمبر (علیہ السلام) کے لئے تسلی کا باعث بھی ہے کہ ان بیویوں کی عدم موجودگی میں اللہ تعالیٰ آپ کو محروم نہیں کرے گا۔ بلکہ ان سے بہتر بیویاں عطا کریگا۔ خاوند دیدہ عورت کی خصوصیات : اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ثیبت یعنی خاوند دیدہ عورتوں کا ذکر ان کے تعریف کے طور پر کیا ہے۔ کیونکہ بعض اوقات عقل و شعور اور تجربے کی بناء پر کنواری عورت سے شوہر دیدہ عورت بہتر ثابت ہوتی ہے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا کہ کیا تم نے نکاح کیا ہے ؟ عرض کیا ہاں۔ پوچھا ، عورت کیسی ہے ؟ عرض کیا عمر رسیدہ تنبیہ ہے۔ فرمایا ، اگر دوشیزہ عورت سے نکاح کرتے تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہوتا۔ حضرت جابر ؓ نے عرض کیا ، حضور میری کل دس بہنیں ہیں جن میں سے تین شادی شدہ اور سات کنواری میری گھر میں ہیں اگر میں ان جیسی کوئی جوان عورت لے آتاتو شاید میری بہنوں کی اچھی تربیت نہ ہوسکتی۔ روایت میں آتا ہے کہ اس عقلمندی پر حضور ﷺ نے اس رات حضرت جابر ؓ کے لئے پچیس مرتبہ دعا کی۔ اگرچہ عام حالات میں کنواری ہی کو ترجیح حاصل ہوتی ہے مگر بعض اوقات خاوند دیدہ زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کی اپنی ازواج مطہرات ؓ میں سے حضرت عائشہ ؓ دوشیزہ تھیں اور حضرت حفصہ ؓ بیوہ۔ باقی تمام ازواج بھی پہلے سے نکاح شدہ تھیں ، بلکہ حضرت خدیجہ ؓ کے تو پہلے دو خاوند فوت ہوچکے تھے جب وہ آپ کے نکاح میں آئیں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ بلا شبہ نیک بخت اور حضور ﷺ کی فرمانبردار تھیں مگر ان کے منصب کے مطابق اللہ نے معمولی سی لغزش پر بھی تنبیہ فرمادی۔
Ayahs 66:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بچائو اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ اس پر مقرر ہیں فرشتے تندخو اور زبردست نہیں نافرمانی کرتے اللہ تعالیٰ کی اس چیز میں جو وہ ان کو حکم دیتا ہے۔ اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں۔ جو ان کو حکم دیا جاتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے کفر کرنے والے لوگو ! مت عذر کرو آج کے دن۔ بیشک تم کو بدلہ دیا جائے گا ان کاموں کا جو تم کیا کرتے تھے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی بیویوں کو پیغمبر (علیہ السلام) کا ادب سکھایا کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اللہ کے نبی کا دل پریشان ہوجائے۔ حضور ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کی تھی۔ مگر وہ اس راز کو قائم نہ رکھ سکیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آیات نازل فرما کر آپ کی بیویوں کو سخت تنبیہ فرمائی ، اور متعلقہ بیوی کو معافی مانگتے اور توبہ کرنے کی تلقین کی۔ پھر اللہ نے اپنی قدرت تامہ کا ذکر کیا کہ ازواج مطہرات ؓ کو مغرور نہیں ہونا چاہیے اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ دنیا میں بہترین عورتیں ہیں۔ بلکہ فرمایا کہ اگر اللہ کا نبی ان بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ ان سے بہتر عورتیں لے آنے پر قادر ہے۔ جو اطاعت ، یقین ، نماز ، روزہ ، توبہ اور عبدیت کی صفات سے موصوف ہوں گی۔ وہ شوہر دیدہ بھی ہوں گی اور دوشیزہ بھی۔ دوزخ سے بچائو : ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا ، اے وہ لوگو جو اللہ کی ذات پر ایمان لائے ہو۔ قوا انفسکم واھلیکم نارا ، اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگے سے بچائو۔ قوا کا معنی بچنا ہوتا ہے اور تقویٰ بھی اسی لفظ سے مشتق ہے۔ کفر ، شرک ، الحاد اور کبائر وصغائر سے بچ جانے کا نام تقویٰ ہے۔ ایک متقی آدمی حدود و شریعت کی حفاظت کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا خوف اس کے دل میں جاگزیں ہوتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اے ایمان والو ! دوزخ کی آگے سے خود بھی بچنے کی کوشش کرو۔ اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس سے بچائو۔ امام بغوی (رح) اپنی کتاب شرح السنہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت لائے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ والدین سے باز پرس کرے گا کہ تم نے اپنی بیوی بچوں کو اچھا راستہ کیوں نہ دکھایا اور ان کو صحیح تعلیم کیوں نہ دی ؟ اور ادھر اولاد سے بھی سوال ہوگا۔ کہ جب تمہارے والدین تمہیں اچھی بات کی نصیحت کرتے تھے تو تم نے کیوں نہ اس کو قبول کیا۔ بہرحال انسان کو سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاہیے۔ اگر اس کا عقیدہ خراب ہوگا۔ اعمال فاسد ہوں گے بداخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہوگا۔ تو وہ مجرم بن کر جہنم رسید ہوگا۔ حضور ﷺ اہل خاندان کو انداز : اس عمومی حکم کے علاوہحضور ﷺ سے اللہ نے خصوصی خطاب بھی فرمایا ہے۔ وانذر عشیرتک الاقربین (الشعرآئ 214) اے نبی ﷺ ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو خدا کا ڈر سنائیں۔ چناچہ حکم کی تعمیل میں حضور ﷺ نے اپنے خاندان کے لوگوں سے عمومی اور خصوصی خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنی بیٹی سے فرمایا فاطمہ ؓ ! اپنی جان کو دوزخ کی آگ سے بچالو کیونکہ اگر تم ایمان اور نیکی سے محروم ہوگی تو میں تمہیں اللہ کے ہاں نہیں بچا سکوں گا ۔ پھر آپ نے اپنی پھوپھی صفیہ ؓ کو فرمایا کہ اپنی جان کو دوزخ کی آگ سے بچالو۔ پھر آپ نے اپنے خاندان والوں کو خطاب کیا ، یا نبی عبدالمطلب ، یا بنی ہاشم ، یا معشرقریش ! میں تمہارے ساتھ اپنے رشتہ قرابت کا حق دنیا میں تو ادا کرسکتا ہوں ، لیکن میں تمہیں دوزخ کی آگے سے نہیں بچا سکوں گا۔ آج ہی اس کی فکر کرلو اور ایمان قبول کرکے اپنے آپ کو بچالو۔ عام لوگوں کے لئے انذار : کتاب الامارۃ میں یہ واقعہ موجود ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص ابن لتبیہ کو مال غنیمت اور زکوٰۃ وصدقات کی وصولی کے لئے ایک علاقے میں بھیجا۔ وہ شخص جب واپس آیا تو کہنے لگا کہ یہ تو مال زکوٰۃ ہے جو بیت المال میں جائے گا اور یہ مال لوگوں نے مجھے عطیہ دیا ہے۔ یہ سن کر حضور ﷺ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھے رہتے تو کون تمہیں تحفے بھیجتا۔ جس مال کو تم ہدیہ قرار دے رہو یہ تو رشوت ہے کیونکہ یہ عطیہ تمہیں اس عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے ملا ہے ۔ یہ تمہارے لئے قطعاً جائز نہیں۔ پھر فرمایا کہ قیامت والے دن کچھ لوگ میرے پاس آئیں گے جو اپنے سروں پر جانور ، کپڑے ، اناج اور دیگر مال اسباب اٹھائے ہوئے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہماری گرفت ہوگئی ہے۔ آپ ہمیں کسی طریقے سے بچائیں مگر میں یہی کہوں گا لا املک من اللہ شیئا۔ لوگو ! یاد رکھو ! میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں یعنی میں آج تمہاری حمایت میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے دنیا میں تمہیں بتادیا تھا کہ خیانت نہ کرنا ، رشوت نہ لینا ۔ کسی کا حق نہ مارنا۔ اس وقت تو تم نے میری بات نہ مانی ، آج اپنابھگتان خود کرو۔ یہ اعمال اور عقیدے دونوں کے متعلق ہے اگر توحید کا صحیح عقیدہ اختیار نہیں کرو گے تو میں تمہیں خدا کے عذاب سے نہیں بچا سکوں گا۔ اللہ کا فرمان ہے وامر……………………علیھا (طہ 132) آپ اپنے گھروالوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر قائم رہیں۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی تعریف میں اللہ نے یہ بات بھی بیان کی ہے وکان…………………والزکوٰۃ (مریم 55) وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تلقین کیا کرتے تھے۔ وہ اللہ کے برگزیدہ رسول تھے۔ اس لئے تمام اچھی باتوں کو اختیار کرنے اور بری باتوں سے رکنے کا حکم کیا کرتے تھے۔ صحیحین میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے الا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتکم ، یاد رکھو ! تم سب حاکم ہو تو تم میں سے ہر شخص کی اس کی رعیت کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ اللہ نے ہر ذمہ دار آدمی کو حاکم بنایا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا فا الرجل ورع علی اھل بیتہ فھو مسئول عنہ ، ہر آدمی اپنے گھر والوں کے لئے حاکم ہے اور ان کے بارے میں اس سے سوال ہوگا۔ مطلب یہ کہ کوئی شخص معاشرے میں کبھی بھی حیثیت میں ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے زیر دستوں کو نیکی کا حکم کرے اور برائی سے بچنے کی تلقین کرے۔ بچوں کی تربیت : ترمذی اور مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ کسی والد نے اپنی اولاد کو اس سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا کہ اس کی تعلیم وتربیت اس طرح کردے کہ وہ نیکی کو اختیار کرے ، عقیدے کو پاک کرے ، خدا کی عبادت کرے ، اخلاق کو درست کرے اور برائیوں سے بچتا رہے تاکہ وہ آتش دوزخ سے بچ جائے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے مروا الصبیان بالصلوٰۃ ، جب بچے سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کو نماز کا حکم دو کیونکہ انسان میں ابتدائی شعور سات سال کی عمر میں پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے ، دس سال کی عمر میں شعور درمیانہ درجہ کو پہنچتا ہے اور چودہ پندرہ سال کی عمر میں شعور بلوغ تک پہنچ جاتا ہے اسی لئے فرمایا کہ سات سال کی عمر میں بچے کو نماز کی تلقین کرو ، اسے نماز کا طریقہ سکھلائو۔ نماز پر کھڑا کرو ، اور اس میں اسے پختہ کرنے کی کوشش کرو۔ پھر اگر بچہ دس سال کی عمر تک پہنچ کر نماز نہیں پڑھتا تو اسے مار کر پڑھائو۔ پھر بچوں کو ایک بستر پر نہ سونے دو بلکہ ان کے بستر الگ کردو۔ بہرحال جب تک بچہ بالغ نہیں ہوتا ، اس کی تربیت کے ذمہ دار والدین ہیں اور جب وہ سن بلوغ کو پہنچ جاتا ہے تو اپنے اعمال کا خود ذمہ دار بن جاتا ہے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) موضح القرآن میں لکھتے ہیں کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے گھر والوں کو دین کی راہ پر لادے ، اور اس کے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں مثلاً لالچ دے کر اس راہ پر لایا جاسکتا ہے یا ڈرا دھمکا کر بلکہ ضرورت کے مطابق مارنا پیٹنا بھی درست ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ دین کے راستے پر نہ آئیں تو یہ ان کی بدبختی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اے ایمان والو ! اپنی جانوں کو اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ دوزخ کا ایندھن : فرمایا وہ دوزخ ایسی ہے وقودھا الناس والحجارۃ ، جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں جو اس میں جلیں گے۔ بالکل یہی الفاظ سورة بقرہ کی آیت 24 میں بھی گزر چکے ہیں۔ ان پتھروں سے مراد عام پتھر بھی ہوسکتے ہیں اور وہ پتھر بھی جن کو بتوں کی شکل میں گھڑ کر ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ حضور کا فرمان ہے کہ دوزخ کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا شدید ہوگی۔ پھر فرمایا علیھا ملئکۃ اس پر فرشتے مقرر ہیں غلاظ شداد جو تند خو اور سخت ہیں اور کسی کی رعایت نہیں کرتے ، نہ ان کو کسی پر ترس آئے گا۔ وجہ یہ ہے لا یعصون اللہ ما امرھم کہ وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ ویفعلون ما یمرون اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ کوئی روتا پیٹتا رہے یا چیختا چلاتا رہے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ اور پھر یہ ہے کہ عذاب والے فرشتوں کی شکلیں بھی بڑی دہشت ناک ہوں گی ، حدیث میں آتا ہے کہ مرنے کے وقت ایمان والوں کے سامنے فرشتے اچھے شکل و صورت میں آتے ہیں اور ان کے پاس برزخ میں بھی ایسے فرشتے آتے ہیں اس کے برخلاف مشترک ، کافر اور معصیت والے لوگوں کے پاس بڑی خوفناک شکلوں والے فرشتے آتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ موجودہ معاشرے کی حالت : اللہ کا فرمان قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے ، نبی کی تلقین بھی موجود ہے کہ لوگو ! آخرت کی فکر کرلو اور اپنے حالات درست کرلو ، خدا کی عبادت کرو۔ اور اچھے اخلاق پیدا کرو ، اس کے باوجود معاشرے کی حالت دیکھ لیں آوے کا آوہ ہی الٹا ہوا ہے الا ماشاء اللہ۔ باپ خود بیوی بچوں کو لے کر سینما جاتا ہے ، کرکٹ کا میچ دکھاتا ہے ، کلبوں میں اکٹھے کھیل کود ہوتا ہے ، یا گھروں میں کھیل کود کا ماحول پیدا کرلیا جاتا ہے ، فوٹو گرافی ہوتی ہے ، عریاں فلمیں سارے اہل خانہ اکٹھے دیکھتے ہیں ، ٹی وی پر ڈراموں کی بھر مار ہے ، جس میں اخلاق سوز مناظر کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ یہ سب کچھ والدین کی معیت میں ہوتا ہے ، اس کی اصلاح کون کرے گا۔ اگر بچے بےسمجھ ہیں تو والدین کو اصلاح کرنی چاہیے۔ مگر وہ تو خود برائی میں شریک ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے بھی یہودیوں ، عیسائیوں اور ملحدوں کا راستہ اختیار کرلیا ہے لوگ اس کو مادی ترقی کا نام دیتے ہیں مگر حقیقت میں انتہائی گندگی میں جا رہے ہیں۔ لوگوں کو بلاوجہ قتل کیا جارہا ہے ، لوٹا جارہا ہے ، عصمت دری ہورہی ہے ، گھروں اور بنکوں میں ، ڈاکے پڑ رہے ہیں۔ بم دھماکے ہو رہے ہیں ، آخر یہ کہاں کی ترقی اور کہاں کی انسانیت ہے ؟ آخر تفریح کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مگر یہاں تو منزل مقصود ہی تفریح بن چکی ہے۔ دن رات فحش فلمیں کئی کئی روز تک کرکٹ میچ میں انہماک ، گلیوں ، بازاروں میں ہلہ بازی ، یہ سب کچھ لوگوں کو مقصد حیات سے دور کرنے کی سازش ہے۔ پورا معاشرہ ہی بگڑ چکا ہے۔ جس کے سبور نے کوئی صورت نظر نہیں آتی ، یہ کوئی ترقی نہیں بلکہ تنزل کی علامت ہے۔ اصلی ترقی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں حاصل کی جائے یہی ترقی آخرت کی دائمی زندگی میں کام آئے گی۔ ورنہ یہ نام نہاد ترقی تو اسی دنیا میں آج نہیں تو کل ختم ہوجائیگی۔ اللہ کا فرمان ہے کہ لوگو ! اپنے آپ کو اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ کفار کے لئے وعید : اللہ نے ہر خیروشر سے خبردار کردیا ہے اس بعد کافروں سے خطاب کرکے فرمایا یایھا الذین کفروا اے کفر کا ارتکاب کرنے والو ! یعنی اللہ کی وحدانیت رسول کی رسالت اور جزائے عمل کا انکار کرنے والو ! یادرکھو ! لا تعتذروا الیوم آج کے دن کوئی بہانہ نہیں سنا جائے گا۔ بہانہ سازی دنیا میں تو چل جاتی تھی مگر آج پیامت کے دن اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ عمل کا زمانہ ختم ہو کر جزائے عمل کا وقت آچکا ہے۔ انماتجزون ماکنتم تعملون ، بیشک آج تمہیں ان کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے۔
Ayahs 66:8–9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! توبہ کرو اللہ کے سامنے توبہ صاف دل سے۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار دور کردے گا تم سے تمہاری برائیاں اور داخل کرے گا تم کو بہشتوں میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں۔ جس دن اللہ تعالیٰ نہیں رسوا کرے گا اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔ ان کی روشنی دوڑتی ہوگی ان کے سامنے اور ان کی دائیں طرف ، اور وہ کہیں گے ، اے ہمارے پروردگار ! پوری کردے ہمارے لئے ہماری روشنی اور بخش دے ہمیں۔ بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی ! آپ جہاد کریں کافروں اور منافقوں کے ساتھ اور ان پر سختی کریں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اور وہ بہت بری جگہ ہے لوٹ کر جانے کی

ربط آیات : ابتداء میں قسم کا مسئلہ بیان ہوا اور پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی ازواج سے سر زد ہونے والی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ، اور ان کو توبہ کی تلقین کی۔ اس کے بعد تمام اہل ایمان کی نصیحت کی کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا انتظام کرلیں۔ اب آج کے درس میں ایک تو عام اہل ایمان کو خالص دل سے توبہ کی ہدایت کی ہے اور دوسری بات یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ کفار کے ساتھ جہاد بالسیف کریں اور منافقوں کو زبنی سرزنش کریں۔ نیز ان کے انجام کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ خالص توبہ : گزشتہ آیات میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو اپنی کوتاہیوں پر توبہ کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ اب عام مسلمانوں کے لئے فرمایا یایھا الذین امنوا توبو الی اللہ توبۃ نصوحا ، اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے صاف اور خالص دل سے توبہ کرو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا۔ عسیٰ ربکم ان یکفر عنکم سیاتکم امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا۔ ویدخلکم کنت تجری من تحتھا الانھر اور تم کو ان بہشتوں میں داخل کردے گا۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ توبتہ النصوح سے مراد عام توبہ نہیں بلکہ وہ توبہ ہے جو صدق دل سے کی جائے ایسی توبہ تمام مسلمانوں کے لئے فلاح کا پہلا زینہ ہے۔ اللہ نے توبہ کا قانون قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے۔ سورة توبہ میں یہ اصول بیان کیا گیا۔ فان تابوا واقاموا الصلوٰۃ والوا الزکوٰۃ فاخواتکم فی الدین (آیت 11) اگر کافر اور مشرک لوگ توبہ کرلیں ، نماز قائم کرنے لگیں ، اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو پھر یہ اہل ایمان کے بھائی بن جائیں گے۔ اب ان سے کوئی جھگڑا باقی نہیں رہا اس طرح سورة نور میں فرمایا ہے۔ وتوبوا الی اللہ ……………… …تفلحون (آیت 31) اے ایمان والو ! تم سب کے سب اللہ کے سامنے توبہ کرلو تاکہ فلاح پاجائو۔ سورة توبہ میں اللہ نے جن لوگوں کو کامیابی کی بشارت دی ہے ، ان میں توبہ کرنے والوں کا نام سرفہرست ہے التائبون………الحامدون…الایہ (آیت 112) سورة القصص میں بھی ہے۔ فاما من…………………المفلحین (آیت 67) جس نے توبہ کرلی ، اور ایمان لے آیا اور پھر نیک اعمال انجام دیے تو امید ہے کہ وہ شخص کامیاب ہونے والوں میں شامل ہوگا بہرحال کامیابی کا اولین اصول یہ ہے کہ انسان کفر ، شرک اور معاصی سے تائب ہوجائے۔ اب رہا یہ سوال کہ توبہ ہے کیا چیز تو فرمایا الندم توبہ ندامت ہی کا نام ہے۔ جب کوئی شخص اپنی غلطی پر نادم ہوجاتا ہے کہ میں نے یہ غلط کام کیا ہے اور آئندہ کے لئے ایسا غلط کام نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلے تو اس نے گویا توبہ کرلی۔ چناچہ فرمایا کہ اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے خالص توبہ کرو۔ حضرت علی ؓ کی وضاحت : حضرت علی ؓ کی توبہ سے متعلق روایت بہت مشہور ہے جس کو صاحب تفسیر مظہری ، صاحب تفسیر ابوسعود اور صاحب تفسیر کشاف نے بھی نقل کیا ہے آپ سے دریافت کیا گیا کہ خالص توبہ کس طرح ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر توبہ کرنے کے بعد بھی غلط کام جاری رہا یا دل میں اخلاص پیدا نہیں ہوا تو یہ سچی توبہ نہیں کہلائیگی ۔ فرمایا خالص توبہ وہ ہوگی۔ جس میں یہ چھ چیزیں جمع ہوجائیں۔ (1) سابقہ غلط عقیدہ یا عمل پر ندامت ہو کہ یہ توبہ کا اولین جزو ہے۔ (2) جو فرائض ترک ہوئے ہیں ان کو لوٹایا جائے۔ (3) اگر کسی پر ظلم و زیادتی کی ہے یا حق تلف کیا ہے ، تو اس کا حق لوٹایا جائے۔ (4) اگر کسی کی بےآبروئی کی ہے یا برا بھلا کہا ہے تو اس سے معاف طلب کرے یا انتقام کا موقع فراہم کرے۔ (5) دل میں پختہ ارادہ کرکے کہ آئندہ ایسا غلط کام نہیں کرے گا۔ (6) نفس کو اطاعت کے کاموں پر اسی طرح آمادہ کرے جس طرح گناہ کے کام پر کیا کرتا تھا۔ امام تفتازانی (رح) کی وضاحت : شرح مقاصد والے امام تفتازانی (رح) لکھتے ہیں کہ معصیت مختلف قسم کی ہوتی ہے۔ اگر خالص اللہ کی نافرمانی کی ہے تو اس سے توبہ کے لئے ندامت کافی ہوگی۔ مثلاً اس نے امر بالمعروف کا حق ادا نہیں کیا ، یا جنگ سے بھاگ آیا ہے تو ایسا شخص اگر نادم ہو کر خلوص نیت سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا۔ مگر بعض اوقات خالی ندامت کافی نہیں ہوتی بلکہ اپنے آپ کو تعزیر کے لئے پیش کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر شراب نوشی کی ہے تو اپنے آپ کو حدجاری کرنے کے لئے پیش کرنا ہوگی۔ اگر گزشتہ زمانہ میں زکوٰۃ ادا نہیں کی تو اب دینی پڑے گی۔ جو نمازیں چھوٹ گئی تھیں۔ ان کی قضا لازم ہوگی۔ اور بندوں کے حقوق میں مذامت اس طرح ہوگی۔ کہ ان کا حق واپس کیا جائے کسی کا مال ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہے ، خیانت کی ہے ، کسی کی ناجائز سرزنش کی ہے ، گالی دی ہے ، برا بھلا کہا ہے ، غیبت کی ہے تو اس سے معافی مانگے کہ میں نے تیری یہ برائی کی ہے ، خدا کے لئے مجھے معاف کردو۔ اگر متعلقہ شخص معاف کردے گا تو معافی ہوجائے گی اور بندے کی توبہ قبول سمجھی جائے گی۔ انسان کے تین دفتر : اللہ نے نیکیوں کے اندراج اور گناہوں کی معافی کا عجیب و غریب نظام قائم کررکھا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت والے دن انسان کے تین قسم کے دفتر اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ پہلا دفتر اعمال صالحہ کا ہوگا۔ جس میں تمام نیک اعمال درج ہوں گے ، دوسرا دفتر گناہوں کا ہوگا۔ اور تیسرے رجسٹر میں انسانوں کو ملنے والی نعمتوں کا انداراج ہوگا۔ فرمایا قیامت والے دن اللہ تعالیٰ جس آدمی کا محاسبہ کرنا چاہیے گا اس کے تینوں دفتر پیش کیے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نعمتوں میں سے ایک چھوٹی سے چھوٹی نعمت سے فرمائے گا تو اس شخص سے اپنا حساب لے لے ، وہ نعمت انسان کی نیکیوں میں سے اپنا بدلہ طلب کرے گی چناچہ ایک معمولی سی نعمت کے عوض میں انسان کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گی مگر نعمت کا حق ادا نہیں ہوسکے گا ، غرضیکہ ایک چھوٹی سی نعمت بھی انسان کے تمام اعمال صالحہ کو ہضم کر جائے گی ، وہ شخص تہی دست رہ جائیگا۔ اور گناہوں کا بار ابھی اس کے سر پر ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ نرمی اختیار کرنا چاہے گا۔ اس کو کہا جائے گا کہ اے بندے ! آج میں نے تیری نیکیوں کو دگنا کردیا ہے اور میں نے تیری کوتاہیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی شامل حال ہوگی تو انسان بچ سکے گا۔ اسی لئے فرمایا کہ سچے دل سے توبہ کرو۔ سورة البقرہ میں ہے الا الذین………………………الرحیم (آیت 160) جو لوگ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں ، اور ہدایت کی باتوں کو چھپانے کی بجائے ظاہر کردیں ، پس میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا اور بڑا مہربان ہوں۔ بہرحال فرمایا کہ اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے خالص توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہاری خطائوں کو معاف کردے گا ، اور تمہیں ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ نبی اور اہل ایمان کی کامیابی : فرمایا جب محاسبہ کا دن آئے گا یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ ، اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کریگا بلکہ وہ اپنے نبی کی عزت افزائی کرے گا۔ خداوند تعالیٰ نبی (علیہ السلام) کی سفارش ہر شخص کے حق میں قبول کرے گا۔ جو اس کا مستحق ہوگا ، اللہ تعالیٰ کسی مستحق شخص کے لئے سفارش ہر اس شخص کے حق میں قبول کرے گا۔ جو اس کا مستحق ہوگا ، اللہ تعالیٰ کسی مستحق شخص کے لئے سفارش کو نامنظور نہیں کرے گا۔ اور اس طرح اپنے نبی کو رسوائی سے بچا لیگا۔ پھر جب پل صراط کے اندھیروں پر سے گزرنے کی منزل آئیگی تو فرمایا نورھم یسعی بین ایدیھم وبایمانھم اہل ایمان کا نوران کے سامنے اور دائیں طرف دوڑرہا ہوگا۔ سامنے ان کے ایمان کی روشنی ہوگی اور دائیں طرف اعمال صالحہ کی روشنی ہوگی جس کے ذریعے وہ اندھیروں کو عبور کرلیں گے۔ یہ روشنی علی قدرالاعمال ہوگی ، کسی کی زیادہ اور کسی کی کم۔ پھر جن کی روشنی کم ہوگی۔ یقولون ربنا اتمم لنا نورنا ، وہ بارگاہ رب العزت میں عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لئے ہماری روشنی کو مکمل فرما دے ، پیچھے سورة الحدید میں گزر چکا ہے کہ منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے انظر ونا نقتبس من نورکم ، ذرا ٹھہرجائو ، ہم بھی تمہاری روشنی میں تھوڑا چل لیں ، مگر جواب آئیگا قیل ………………نورا (آیت 13) پیچھے جاکر روشنی تلاش کرو۔ یہاں روشنی کہاں ہے ؟ مقصد یہ کہ روشنی حاصل کرنے کا مقام تو دنیا تھی وہاں تو تم نے نور ایمان حاصل نہ کیا۔ اب یہاں تمہیں روشنی میسر نہیں آسکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایمان والے یہ بھی عرض کریں گے واغفرلنا ، پروردگار ! ہمیں معاف فرمادے۔ انک علی کل شیء قدیر ، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ بہرحال ایمان والوں کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کم روشنی والوں کی روشنی کو بھی زیادہ کردے گا۔ اور وہ تاریک منزل سے بآسانی گزر جائیں گے۔ کافروں اور منافقوں سے جہاد : آگے اللہ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو خطاب کیا ہے یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم اے نبی ! آپ کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کریں ، اور ان پر سختی کریں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کافروں کے ساتھ جہاد کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف تلوار کے ذریعے باقاعدہ جنگ کی جائے ، فرمایا ان کے خلاف قوت جمع کرو ، سامان ضرب وحرب مہیا کرو ، اور ان سے ٹکرا جائو ، البتہ منافقوں کے ساتھ جہاد بالسیف کی اجازت نہیں ہے۔ ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو بےنقاب کرو اور ان کو زبانی طعن وتشنیع کرو۔ اللہ نے سورة توبہ میں فرمایا ہے۔ انھم … …………………مرتین (آیت 26) کہ سال میں ایک دو واقعات ضرور پیش آتے ہیں جن سے ان کی منافقت ظاہر ہوجاتی ہے اور یہ ذلیل ورسوا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ تاہم منافقوں کو ق تل کرنے کی اجازت آپ نے نہیں دی۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو قتل کرنے کے لئے حضرت عمر ؓ اور عبداللہ کے اپنے بیٹے نے اجازت چاہی تھی مگر حضور ﷺ نے منع کردیا تھا۔ فرمایا لوگ کہیں گے ان محمدا یقتل اصحابہ کہ محمد ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قتل کرنا شروع کردیا ہے ، اور یہ چیز اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن جائے گی۔ فرمایا حتیٰ الامکان ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آئیں۔ البتہ زبانی سرزنش کرتے رہیں۔ اس مقام پر امام ابوبکر حبصاص (رح) لکھتے ہیں کہ اللہ نے کافروں اور منافقوں کے ساتھ جو سختی کرنے کا حکم دیا ہے ، اس کی تعمیل ہونی چاہیے اور منافقوں کے ساتھ میل جول اور معاشرت نہیں رکھنی چاہیے۔ تاکہ دین میں کوئی خلل واقع نہ ہوجائے۔ جدت پسندی کی منافقت : آج دنیا میں موجود منافق لوگ جدت پسندی کی آڑ میں اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ قبیح رسومات اور عریانی کو جدت پسندی کا نام دے کر اسلام میں داخل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت نہیں ہونی چاہیے اور ان کے مشن کو سختی کے ساتھ رد کرنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اگر تم فاجر کی برائی کو روک نہیں سکتے تو کم از کم اس کے ساتھ ترش روئی سے تو پیش آئو۔ اگر فاسد العقیدہ قادیانیوں اور رافضیوں وغیرہ سے میل جول ہوگا تو اس سے اسلام کے راستے میں رخنہ اندازی کا خطرہ ہے کیونکہ ان کے جذبات تم پر بھی موثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مغربیت کے دلدادہ اور عریانی اور فحاشی کے شوقین لوگوں سے بھی میل جول اچھا نہیں۔ وہ جدت پسندی کی آڑ میں تمہارے خیالات کو بدلنے کی کوشش کریں گے ، لہٰذا ایسے تمام لوگوں کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئو۔ فرمایا ، اے پیغمبر ! آپ جہاد کریں کافروں اور منافقوں کے ساتھ ، اور ان کے ساتھ سختی کا برتائو کریں۔ وماو ھم جھنم ان بدبختوں کا ٹھکانہ آخر کار جہنم ہی ہے۔ یہاں تو کسی نہ کسی طریقے سے بچ سکتے ہیں ، لوگوں کو گمراہ بھی کرسکتے ہیں مگر آخرت کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے ان کا مستقل ٹھکانہ دوزخ ہے۔ وبئس المصیر ، جو لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔ اعتقادی منافق اور کافر تو ابدی جہنمی ہیں ، البتہ عملی منافق بھی اگر توبہ نہیں کریں گے ، تو جہنم رسید ہوں گے۔ وہ جب تک سزا نہیں پالیں گے ، وہاں سے نہیں نکالے جائیں گے۔