Ayah 65:1نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الطلاق ہے کیونکہ اس میں طلاق کے بعض احکام مذکور ہیں۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی بارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة 147 الفاظ اور 1170 حروف پر مشتمل ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق اس سورة کو سورة الطلاق القصریٰ یعنی چھوٹی سورة طلاق کہا گیا ہے کیونکہ عاملی قوانین زیادہ تر سورة بقرہ میں نازل ہوئے ہیں اور یہ سورة اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة میں زیادہ تر مسلمانوں کے اجتماعی معاملات بیان ہوئے ۔ بنیادی عقائد میں مسئلہ توحید ، رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا اور پھر انفاق فی سبیل اللہ اور خدا خوفی کا مسئلہ بیان ہوا۔ اللہ نے مال اور اولاد کو فتنہ قرار دیا اور یہ بھی کہ تمہاری بعض عورتیں اور بعض اولادیں تمہارے حق میں دشمن ہیں ، لہٰذا ان سے بچتے رہیں۔ فرمایا نہ تو ان کے خلاف انتقامی کاروائی کرنا اور نہ ہی ان کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ کی ذکر سے غافل ہوجانا۔ اب اس ضمن میں فرمایا ہے کہ اگر تمہاری عورتوں کی دشمنی حد سے بڑھ جائے تو پھر طلاق کی نوبت آجاتی ہے ، چناچہ اس سورة میں اللہ نے طلاق کے بعض مسائل ہطلقہ عورتوں کی مختلف قسمیں اور عدت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔
نبی یا امت سے خطاب :
اس سورة کا آغاز نبی سے خطاب کے ساتھ ہوتا ہے یایھا النبی اے نبی ! اذا طلقتم النساء جب تم عورتوں کو طلاق دو ۔ یہاں پر یہ امر قابل غور ہے کہ خطاب پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات سے کرکے آگے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے کہ جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) سے خطاب کرکے ساری امت کو سمجھانا مقصود ہے ، اس لئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ نبی کو خطاب اس لئے کیا گیا ہے کہ نبی پوری امت کا سردار ہوتا ہے ، اور سردار کے حکم میں باقی لوگ بھی شامل ہوتے ہیں ، لہٰذا سب کے لئے جمع کا صیغہ آیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یایھا النبی کے بعد لفظ قل مخذوف ہے اور معنی یہ کہ اے نبی ﷺ ! آپ امت کے لوگوں کو کہہ دیں کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو ۔ فطلقوھن لعدتھن تو ان کی عدت پر طلاق دو ۔
شان نزول :
ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ایک بیوی حضرت حفصہ ؓ بنت حضرت عمر ؓ کو ایک طلاق دے دی تھی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور اللہ نے حضور ﷺ کو رجوع کا حکم دیا کیونکہ حضرت حفصہ ؓ صوامۃ قوامہ بکثرت روزے رکھنے والی اور بہت عبادت کرنے والی خاتون تھیں۔ آپ کے لئے بشارت تھی کہ حضرت حفصہ ؓ جنت میں آپ کی بیوی ہوگی ، لہٰذا حضور ﷺ نے رجوع کرلیا۔
البتہ شان نزول کے ضمن میں زیادہ مشہور واقعہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ہے۔ ان ہونے اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدی۔ حضرت عمر ؓ نے یہ معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ عبداللہ ؓ نے غلط کام کیا ہے ، اس کو کہہ کہ رجوع کرے ۔ چونکہ انہوں نے صرف ایک طلاق دی تھی لہٰذا رجوع کرلیا۔ اس سورة میں اللہ نے اس مسئلہ کی بھی وضاحت فرمادی ہے کہ حیض کی حالت میں طلاق نہیں دینی چاہیے ، بلکہ اگر اس کے بغیر بالکل چارہ نہ ہو۔ تو پھر ایسے طہر میں طلاق دی جائے جس میں میاں بیوی کا ملاپ نہ ہوا ہو۔
نکاح اور طلاق :
طلا کا لغوی معنی بندش کو کھول دینا ، چھوڑ دینا یا آزاد کردینا ہے۔ اللہ نے طلاق کا حق مردوں کو دیا ہے جیسے فرمایا بیدہ عقدۃ النکاح (البقرہ 237) یعنی نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھوں میں ہے وہی اس کو بصورت طلاق کھولنے کا مجاز ہے ۔ مطلب یہ کہ نکاح کا اعتبار مرد سے ہے اور طلاق کی صورت میں عدت کا اعتبار عورت سے ہوتا ہے۔ کیونکہ عدت اسے پورا کرنا ہوتی ہے۔ طلاق ایک ناپسندیدہ امر ہے جب ایک مرد اور ایک عورت آپس میں نکاح کرتے ہیں تو وہ اس تعلق کو تازیست قائم رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ پھر اگر ان کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے اور نباہ نہ ہوتا ہو تو قرآن پاک کا حکم یہ ہے کہ سب سے پہلے خود میاں بیوی ایسے تنازعہ کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو عورت اور مرد کے عزیز و اقارب یا سرپرست مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ طلاق کی نوبت نہ آئے۔ کیونکہ شریعت کی رو سے نکاح اوامت مقصود ہے۔ اگر کوشش کے باوجود نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو پھر شریعت نے میاں بیوی میں جدائی کی اجازت دی ہے ، اور اسی کا نام طلاق ہے۔
دیگر مذاہب کے ساتھ تقابل :
طلاق کے مسئلہ میں دیگر مذاہب افراط وتفریط کا شکار ہیں۔ یہودیوں میں طلاق کو ایک معمولی چیز سمجھا جاتا ہے ، جب چاہا بلا قصور طلاق دے دی۔ اور پھر عورت کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں ، وہ طلاق کے فوراً بعد نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہے۔ اس کے برخلاف نصاریٰ میں ازروئے انجیل طلاق کی گنجائش بہت کم ہے۔ عورت کے زانیہ ثابت ہونے کے علاوہ طلاق کے لئے کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ اگر اس واحد عذر کے بغیر کوئی شخص طلاق دے دیں تو وہ طلاق ہی شمار نہیں ہوتی اور اگر ایسی عورت نکاح ثانی کرلے تو وہ زنا شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح ہندوئوں میں نکاح تازیست ہوتا ہے ، اور طلاق کی کوئی گنجائش نہیں خواہ حالات کتنے بھی خراب ہوجائیں۔ غرضیکہ دیگر مذاہب میں اس مسئلہ میں افراط وتفریط پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرے میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس نے اعتدال کی تعلیم دی ہے۔ چناچہ اگرچہ اسلام میں نکاح تازیست ہوتا ہے جس نے نباہ کی صورت میں فی الجملہ آزادی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
طلاق کے لوازمات :
حضور ﷺ کا ارشاد ہے ابغض المباحات الی اللہ الطلاق اللہ کے نزدیک جائز امور میں مبغوض ترین چیز طلاق ہے۔ اگرچہ طلاق کو پسند نہیں کیا گیا مگر اشد ضرورت کے وقت یہ حق استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب میاں بیوی کا نباہ نہ ہوسکے اور دینی یا معاشرتی لحاظ سے خرابیاں پیدا ہورہی ہوں تو پھر آزادی کا راستہ بھی موجود ہے۔ تاہم طلاق کے معاملہ میں بعض پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ طلاق دیتے وقت مناسب اور موزوں وقت کا لحاظ ضروری ہے اور طلاق کی تعداد کا تعین بھی کردیا گیا ہے۔ پھر اگر طلا دے دی جائے تو نکاح ثانی سے پہلے عورت کے لئے مقررہ عدت گزارنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مردوزن کے نکاح کا تعلق ایک عظیم تعلق ہے جس کا حق عدت کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے نسب وغیرہ میں کوئی اشتباہ واقع نہ ہوجائے۔ مثال کے طور پر اگر عورت حاملہ ہو تو نکاح ثانی سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کی نسل کا تعین ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے عورت کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
خلع اور طلاق بالمال :
پہلے میں نے عرض کیا ہے کہ اللہ نے طلاق کا تعلق مرد کے ساتھ رکھا ہے۔ اور عورت کو خلع کا حق دیا ہے۔ جس کا ذکر سورة البقرہ میں موجود ہے۔ ایک خلع ہے اور ایک طلاق بالمال۔ اگر زوجین کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرجائے اور مرد طلاق دینے کے لئے تیار نہ ہو۔ جب کہ عورت اس سے گلو خلاصی چاہتی ہو تو ایسی صورت میں عورت عدالت مجاز کی طرف رجوع کرکے اپنا معاملہ پیش کرسکتی ہے۔ عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد اگر مناسب سمجھے تو میاں بیوی میں تفریق یا علیحدگی کر اسکتی ہے۔ ایسی صورت میں مرد کی طرف سے طلاق کی بھی ضرورت نہیں ہے البتہ اگر فریقین رضامند ہوں تو عورت کچھ مال دے کر بھی مرد کو خلع پر راضی کرسکتی ہے اس مقصد کے لئے عورت حق مہر واپس کرسکتی ہے۔ اگرچہ اس سے زیادہ مال بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ خلع کے بعد عورت عدت گزار کر نکاح ثانی کرسکتی ہے۔
دوسری صورت طلاق بالمال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بیوی طلاق لینا چاہے تو مرد کسی مال کا ماطلبہ کرسکتا ہے۔ جس کے عوض وہ طلاق دینے پر راضی ہوجائے گا۔ اگر بیوی مطلوبہ مال دے کر گلہ خلاصی کرانے پر تیار ہو تو اس مال کے بدلے میں خاوند اپنی بیوی کو باقاعدہ طلاق دے دیگا ، یہ طلاق بالمال ہے۔ اس کے بعد عورت عدت پوری کرکے نکاح ثانی کرنے کی مجاز ہوگی۔
طلاق کا صحیح طریقہ :
طلاق دینے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں مباشرت نہ کی گئی ہو۔ اس سے طلاق کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ یعنی تین حیض گزرنے پر عدت پوری ہوجائیگی اور عورت نکاح ثانی کے لئے آزاد ہوگی۔
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ طلاق دینے کے بعد میاں بیوی کو سوچنے سمجھنے کے لئے کم وبیش تین ماہ کا وقت مل جائے گا۔ اگر اس دوران میں فریقین کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو مرد رجوع بھی کرسکتا ہے اور اس کے لئے دوبارہ نکاح کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ اور اگر تین حیض گزر جائیں تو پھر بھی مرد وزن باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔ یا عورت دوسری جگہ بھی نکاح کرسکتی ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب کہ ایک طلاق رجعی دی گئی ہو یعنی طلاقت دیتے وقت ڈرانے دہمکانے کی نیت ہو۔ اور اگر طلاق دیتے وقت بالکل جدائی کی نیت تھی۔ تو پھر یہ طلاق بائن ہوگی۔ اور اگر میاں بیوی عدت کے اندر بھی دوبارہ ملنا چاہیں تو دوبارہ نکاح کرکے ایسا کرسکتے ہیں۔
طلاق کا دوسرا صحیح طریقہ سنت کہلاتا ہے۔ اگر کسی شخص نے حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ عورت کو کسی صورت میں بھی نہیں رکھنا چاہتا… اور ایک سے زیادہ طلاقیں دینے پر ہی بضد ہے تو پھر اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دے۔
پھر دوسرے طہر میں دوسری طلاق دے۔ اور اگر اب تک وہ اپنے فیصلے پر قائم ہے تو پھر تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے دے ، اب یہ طلاق مغلظہ ہوگئی اور رجوع نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرلے اور پھر وہاں سے طلاق ہوجائے یا عورت بیوہ ہوجائے تو اس صورت میں اگر وہ پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے ، عدت گزارنے کے بعد۔
طلاق بدعت :
تیسری قسم کی طلاق طلاق بدعت کہلاتی ہے ، یہ ایسی طلاق ہوتی ہے جو حیض کی حالت میں دی جائے۔ یا طہر کی حالت میں تین طلاقیں بیک وقت دیدی جائیں۔ ایسی طلاق نافذ تو ہوجائے گی۔ مگر طلاق دینے والا گناہ کا مرتکب ہوگا اور عورت مغلظہ ہو کر جدا ہوجائیگی۔ اب نہ تو رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ اس کی تشریح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کی روایات میں موجود ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا کہ اگر حیض کے دوران تین طلاقیں دے دی جائیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا طلاق نافذ ہوجائیگی اور ایسا غلط طریقہ اختیار کرنے پر حکم جاری ہوگا اور عورت بھی اس سے جدا ہوجائے گی وعصیت ربک اور رب تعالیٰ کا نافرمان بھی ہوگا۔
اس مسئلہ میں شیعہ ، ظاہر یہ اور غیر مقلد حضرات اختلاف کرتے ہیں۔ وہ اس صورت میں بھی رجوع کے قائل ہیں کیونکہ ان کے مطابق بیک وقت تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی ہے۔ البتہ چاروں امام (امام اعظم ابوحنیفہ (رح) ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، امام احمد بن حنبل (رح) اور جمہور صحابہ ؓ ، تابعین (رح) اور محدثین (رح) کہتے ہیں کہ یہ طلاق مغلظہ ہو کر نافذ ہوجاتی ہے۔
عدت کا شمار :
فرمایا اے پیغمبر ﷺ ! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت پر طلاق دو واحصوا العدۃ اور عد ت کو شمار کرو تاکہ کوئی گڑ بڑ نہ ہو۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ، عورت کو طہر کے دوران طلاق دی جائے اور پھر تین حیض کی گنتی پوری کی جائے۔ سورة بقرہ میں ثلثۃ قروع (آیت 228) کے الفاظ آتے ہیں۔ قرء کا معنی حیض بھی آتا ہے۔ اور طہر بھی۔ تاہم امام ابوحنیفہ (رح) اس سے حیض مراد لیتے ہیں۔ یعنی کس طہر میں طلاق دینے کے بعد تین حیض کی عدت ہوگی۔ اگر حیض کی حالت میں طلاق دی جائے تو پھر عدت کا عرصہ ٹھیک طریقے سے شمار نہیں ہوسکتا کیونکہ جس حیض میں طلاق دی جائے گی اس کو پورا شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کے کچھ ایام پہلے گزر چکے ہوں گے۔ اور اگر اس حیض کو بالکل نظر انداز کرکے اس کے علاوہ تین حیض شمار کیے جائیں۔ تو اس حیض کا کچھ حصہ تین سے بڑھ جائے گا۔ لہٰذا سنت طریقہ یہی ہے کہ طہر میں طلاق دی جائے۔
عدت کے دوران سکونت :
چونکہ عدت کے شمار کرنے میں حلال و حرام کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ عدت کو شمار کرلیا کرو۔ والقوا اللہ ربکم ، اور اس معاملہ میں اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو کہ کہیں اس کے احکام کی خلاف ورزی کرکے مستوجب سزا نہ بن جائو۔ اور دوران عدت عورت کی رہائش کے متعلق فرمایا لا تخرجوھن من بمیوتھن ان کو دوران عدت ان کے گھروں سے زبردستی نہ نکالو۔ مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت کے ایام پورے کرے۔ طلاق دینے کے فوراً بعد اسے گھر سے نہ نکال دو ۔ ولا یخرجن اور عورتیں خود بھی اس گھر سے نہ نکلیں ، بلکہ صبر کرکے بیٹھی رہیں۔ یہاں تک کہ عدت کے دن پورے ہوجائیں۔ ہاں ایک صورت میں انہیں گھر سے نکالا جاسکتا ہے۔ الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ کہ وہ کھلی بےحیائی کا ارتکاب کربیٹھیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عورت کا گھر سے خود بخود چلاجانا بھی بےحیائی کی تعریف میں آتا ہے۔ چوری کرنا یا زنا کا مرتکب ہونا بھی بےحیائی کا کام۔ البتہ اگر وہ کسی ایسے جرم میں ملوث ہوجائے تو پھر اس حد جاری کرنے کے لئے گھر سے نکالا جاسکتا ہے۔ بعض دیگر عذر بھی ہوسکتے ہیں ، مثلاً گھر میں بالکل اکیلی ہے اور حفاظت کا معقول انتظام نہیں ہے۔ تو دوسری جگہ جاسکتی ہے۔ یا گھر کا ماحول ایسا ہے کہ لڑائی جھگڑا اور بدزبانی ہوتی رہتی ہے تو پھر بھی مطلقہ دوسری جگہ منتقل ہوسکتی ہے۔ فاطمہ بن قیس ؓ کا یہی مسئلہ تھا۔ وہ اپنے دیور اور نند وغیرہ سے تلخ کلامی کرتی تھی تو حضور ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اپنے چچازاد یا خالہ زاد کے گھر میں جاکر عدت گزارے۔
فرمایا وتلک حدود اللہ ، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں کہ صحیح وقت پر طلاق دو اور پھر عدت کی گنتی کو پوری کرو۔ ومن یتعد حدود اللہ اور جس نے اللہ کی حدوں سے تجاوز کیا۔ فقد ظلم نفسہ بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ وہ عنداللہ سزا کا مستحق ہوگا۔ فرمایا عورت کا اس گھر میں رہنا اس لئے ضروری ہے لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امراً ، کیونکہ اس کو علم نہیں شاید کہ اس کے بعد اللہ اس کے لئے کوئی صورت پیدا کردے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک یا دو طلاقیں ہوئی ہیں تو رجوع کا امکان ہوسکتا ہے ہاں اگر حالات ایسے ہوں کہ عورت وہاں نہیں رہ سکتی ، تو پھر باہر مجبوری دوسری جگہ جاسکتی ہے۔
Ayahs 65:2–3ربط آیات :
پچھلی آیت میں اللہ نے طلاق کا قانون بیان فرمایا کہ اگر عورت کو طلاق دینا ہی پڑے تو پھر ایسے صحیح وقت پر طلاق دو کہ عدت کی موت ٹھیک ٹھیک شمار ہوسکے۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق طہر کی حالت میں دینی چاہیے ، تاکہ تین حیض کا وقفہ واضح طور پر معلوم کیا جاسکے۔ پھر فرمایا کہ دوران مدت عورتوں کو گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ البتہ اگر عورت کسی بےحیائی کے کام کی مرتکب ہو یا کوئی دوسرا معقول عذر ہو ، تو پھر اسے گھر سے نکالا جاسکتا ہے ، فرمایا یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ، ان کی پاسداری کرو ، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی بہتر صورت پیدا کردے۔
رجوع یا جدائی بمطابق دستور :
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ ایک یا دو طلاقوں کے بعد رجوع ہوسکتا ہے البتہ اگر تینوں طلاقیں دیدی جائیں تو پھر مردوزن میں مکمل جدائی ہوجاتی ہے تاہم نکاح ثانی سے پہلے آیت میں اسی سلسلے میں نصیحت کی بات کی گئی ہے ، رجعی طلاق کے بعد عدت کی مدت قریب الاختتام ہو تو اس وقت کیا کرنا چاہیے یا ارشاد ہوتا ہے فاذا بلغن اجلھن پھر جب وہ عورتیں ، جن کو ایک یا دو طلاقیں دی جاچکی ہیں ، اپنی مدت کو پہنچ جائیں یعنی ان کی عدت قریب الاختتام ہو۔ فامسکوھن بمعروف پس ان کو روک لو دستور کے مطابق۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر طلاق رجعی دی ہے۔ تو رجوع کرلو یا اگر طلاق بائن ہے تو دوبارہ نکاح کرکے عورت کو جدا ہونے سے روک لو۔ اگر پورے غوروخوض کے بعد بھی عورت کو جدا کرنے کا ہی فیصلہ کیا ہے تو فرمایا اوفارقوھن بمعروف ، یا پھر جدا کردو دستور کے مطابق ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر عورت کو روک لیا ہے تو آئندہ زندگی خوش اسلوبی سے بسر کرو۔ رجوع کے بعد پہلی رنجشوں کو فراموش کردو اور آئندہ ایک دوسرے کو شکایت کا موقع نہ دو ۔ اور اگر طلاق کو نافذ کرنا ہی مقصود ہے تو پھر عدت پوری ہونے پر عورت کو شریفانہ طریقے پر رخصت کرو ! اگر ہوسکے تو ایک جوڑا کپڑے یا کوئی اور تحفہ دے کر رخصت کرو اور جدا ہوتے وقت کوئی دنگا فساد یا گالی گلوچ نہ کرو۔
جاہلیت کے زمانے میں عا م طور پر مطلقہ عورت کو……بڑا تنگ کیا جاتا تھا۔ بسا اوقات لوگ عورت کو طلاق دے دیتے ، پھر جب عدت قریب الاختتام ہوتی تو رجوع کرلیتے۔ کچھ عرصہ بعد پھر طلاق دیتے اور پھر رجوع کرلیتے۔ اس طرح گویا نہ تو عورت کو باقاعدہ آباد کرتے اور نہ اسے آزاد کرتے کہ وہ دوسری جگہ نکاح کرسکے۔ اس طرح وہ عورتوں کو تنگ کرتے ، مگر اسلام نے واضح حکم دیا کہ یا تو دستور کے مطابق رجوع کرکے عورت کو روک لو یا پھر مکمل طور پر آزاد کردو ، محض تنگ کرنے کے لئے طلاق اور رجوع نہ کرو۔
گزشتہ درس میں بھی بیان ہوچکا ہے کہ اگر عورت کو ڈرانا دھمکانا مقصود ہو اور جدا کرنا مقصود نہ ہو تو ایسی ایک یا دو طلاقیں رجعی کہلاتی ہیں ، اور عدت کے ختم ہونے سے پہلے پہلے آدمی بغیر دوبارہ نکاح کیے رجوع کرسکتا ہے۔ اور اگر طلاق دیتے وقت مکمل جدائی کی نیت تھی تو ایسی طلاق بائن کہلاتی ہے۔ اسی طرح اگر صریح لفظ طلاق کی بجائے کنایہ کی صورت میں کہا ہے کہ ” جا اپنے گھر چلی جا ، میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں ، یا ” تو مجھ پر حرام ہے “۔ اور نیت مکمل جدائی کی ہے ، تو پھر بھی طلاق بائن ہوگی۔ اور اس صورت میں عدت کے اندر یا عدت کے باہر دوبارہ نکاح کرکے عورت کو دوبارہ آباد کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر تیسری طلاق بھی دیدی جائے تو پھر وہ طلاق مغلظہ ہوجاتی ہے اب نہ تو بغیر نکاح کے رجوع ہوسکتا ہے اور نہ نکاح کرکے عورت کو روکا جاسکتا ہے بہرحال فرمایا کہ دو طلاقوں تک کی صورت میں تم عورتوں کو دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق جدا کردو۔
دو عادل گواہوں کی ضرورت :
فرمایا ایسا کرتے وقت واشھدواذوی عدل منکم اپنے میں سے دو عادل گواہ بنالو۔ گواہ ایماندار بھی ہوں اور انصاف پسند بھی ، امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دو گواہ بنانا مستحب ہے۔ یہ حکم بھی ایسا ہی ہے ، جیسے سورة بقرہ میں تجارت یا دیگر لین دین کے معاملہ میں گواہ بنانے کی تاکید کی گئی ہے ، اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بعد میں اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو گواہوں کی گواہی کی روشنی میں نپٹایا جاسکے۔ یا اگر تحریر کرلی جائے تو بھی درست ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے۔
اللہ نے یہ حکم بھی دیا ہے۔ واقیموالشھادۃ للہ اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے لئے گواہی دیں یعنی ضرورت پڑنے پر اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے صحیح صحیح گواہی دیں اور کسی فریق کے کہنے سننے یا لالچ دینے کی وجہ سے گواہی میں ردوبدل نہ کریں بلکہ جو کچھ انہیں علم ہے صحیح صحیح بتادیں۔ انہیں اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہونی چاہیے کہ سچی گواہی دینے سے کسی کا فائدہ ہوتا ہے یا نقصان ، حتیٰ کہ اگر اپنے عزیز و اقارب کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو اس سے اعراض نہ کریں۔ سورة بقرہ میں وعید بھی آئی ہے ومن اظلم…………………من اللہ (آیت 140) اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے۔ جو اس گواہی کو چھپاتا ہے ، جو اللہ کے حکم سے اس پر لازم آتی ہے۔
نصیحت کی بات :
فرمایا ذلکم یوعظ بہ من کان یومن باللہ والیوم الاخر ، ان باتوں کے ذریعے اس شخص کو نصیحت کی جارہی ہے۔ جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کا ایمان پختہ ہوگا۔ وہ گواہی دیتے وقت کوئی ہیرا پھیری نہیں کرے گا۔ بلکہ ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کے ساتھ بڑا ظلم کیا جاتا تھا۔ انہیں ذلیل سمجھا جاتا اور قیدیوں کی طرح رکھا جاتا۔ اللہ نے اور اس کے رسول نے ایسے مظالم سے منع کیا ہے اور دستور کے مطابق نکاح کرنے اور دستور کے مطابق طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ عورتوں کو مارنا پیٹنا ، دھکے دینا ، گالی گلوچ کرنا ہرگز روا نہیں ، بلکہ ان کو ان کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔ اللہ نے بنی نوح انسان کی راہنمائی کے لئے پیغمبر بھیجے ، کتابیں نازل فرمائیں حتیٰ کہ ہر نبی کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں سے ظلم و زیادتی کو دور کریں۔ کسی کی حق تلفی نہ ہو ، کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ بلکہ تمام معاملات حق و انصاف کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ بلکہ تمام معاملات حق و انصاف کے ساتھ طے کئے جائیں۔ اللہ نے دین اور شریعت کو دنیا میں نافذ کیا ہے۔ مگر اس سے وہی شخص فائدہ اٹھاتا ہے۔ جو اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر یقین رکھتا ہے۔ اگر ان چیزوں پر ایمان نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جزائے عمل کا منکر ہے اور اسی وجہ سے وہ قانون کی خلاف ورزی کرکے ظلم وجودکا مرتکب ہوتا ہے۔
خوف خدا ذریعہ نجات ہے :
اس کے بعد فرمایا ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کردیتا ہے ویرزقہ من حیث لا یحتسب ، اور اس کو ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہے۔ جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ اگر وہ شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہے ، بیماری آگئی ہے ، کسی مقدمہ میں ملوث ہے یا کوئی نقصان ہوگیا ہے یا تنگدستی آگی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے خوف کی وجہ سے اس کی مشکل حل کردیتا ہے اور اس کی تنگدستی کو خوشحالی میں بدل دیتا ہے۔ وہ خزانوں کا مالک ہے ، جس کو جتنا چاہے عطا کردے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوسکتی۔
حضرت عوف بن مالک ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے لڑکے کو کافر پکڑ کر لگے گئے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ اونٹ اور بھیڑ بکریاں تھیں وہ بھی لے گئے ہیں اور ہم میاں بیوی اس کی طرف سے سخت پریشان ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ صبر کرو۔ اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرو ، خدا تعالیٰ اس مشکل سے نکلنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ بنادے گا۔ اس کے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا کثرت سے ورد کرتے رہو۔ صحابی ؓ نے آپ کے حکم کے مطابق عمل شروع کردیا۔ تھوڑاہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کے دروازے پر دستک ہوئی ، دیکھا تو لڑکا واپس آچکا تھا۔ وہ نہ صرف کافروں کی قید سے آزاد ہوچکا تھا بلکہ اپنے مال سے زیادہ مال بھی ہمراہ لے آیا تھا۔ یہ خوف خدا ، اس پر بھروسے اور مذکورہ ورد کی برکت کا نتیجہ تھا۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ امام مجدد الف ثانی (رح) نے فرمایا ہے کہ تمام دینی اور دنیاوی مشکلات کے حل کے لے لاحول والا قوۃ الا باللہ کا ورد بہت مفید ہ۔ بشرطیکہ اس کو کثرت سے پڑھا جائے۔ کثرت سے مراد یہ ہے کہ روزانہ کم از کم پانچ سو مرتبہ پڑھے اور اس کے اول آخر سو سو مرتبہ درود شریف پڑھ لے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے دینی اور دنیاوی مضرات دور فرمائے گا۔
حضرت عوف بن مالک ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اس کا لڑکا کافروں سے آزاد ہوتے وقت جو زائد مال لے آیا ہے وہ ہمارے لئے جائز ہے یا نہیں ؟ اس کے جواب میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ویرزقہ من حیث لا یحتسب ، کہ جس شخص کے دل میں خدا کا خوف ہوگا ، خدا کا ذکر کرے گا ، اور مصیبت میں صبر کریگا۔ اس میں یہ اشارہ تھا کہ لڑکا جو زائد مال لے آیا ہے وہ تمہارے لئے مباح ہے۔
اس ضمن میں فقہائے کرام مزید تشریح بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان آدمی کسی کافر کی قیدی بن جائے ، اور پھر وہ کسی طریقے سے آزاد ہونے میں کامیاب ہوجائے ، تو اس کے ساتھ لایا ہوا مال حلال ہوگا۔ اسی طرح اگر حربی کافروں کے ملک میں جاکر کوئی مسلمان کسی طریقے سے کافروں کا مال حاصل کرلیں تو وہ ان کے لئے جائز ہوگا۔ اور اگر کوئی معاہدہ کافر ہیں تو ان کے ملک میں اجازت لے کر جانے والا مسلمان آدمی ان کے مال کو ناجائز طریقے سے حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر کسی کافر نے مسلمان کے کے پاس امانت رکھی ہے۔ تو وہ بھی اس میں خیانت نہیں کرسکتا۔ اس قسم کا مال ایک مسلمان کے لئے قطعاً حلال نہیں ہوگا۔
توکل علی اللہ :
فرمایا ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتا ہے ، وہ اس کے لئے کفایت کرنے والا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اے لوگو ! توکلتم علی اللہ حق توکلہ (الحدیث) اللہ پر اس طرح بھروسہ رکھو جس طرح کہ بھروسہ رکھنے کا حق ہے۔ فرمایا اگر تم اللہ پر توکل کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اسی طرح روزی پہنچائے گا۔ جس طرح پرندوں کو پہنچاتا ہے ، جو صبح خالی پیٹ گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں انہوں نے خوراک کا ذخیرہ تو نہیں کرکے رکھا ہے بلکہ اللہ کی ذات کے بھروسے پر نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں کسی نہ کسی ذریعہ سے روزی بہم پہنچا دیتا ہے۔ ہمارے اندر چونکہ توکل کا فقدان ہے اور اعتقادی ، عملی اور اخلاق نقائص بھی ہوتے ہیں اس لئے ہماری دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔
فرمایا جو شخص اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنے والا ہے ان اللہ بالغ امر ، اللہ تعالیٰ اس کے کام کو پورا کرنے والا ہے۔ وہ قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا مالک ہے ، اپنے بندے کی مراد ضرور برلائے گا۔ قد جعل اللہ لکل شیء قدرا ، اس نے ہر چیز کے لئے ایک خاص اندازہ مقرر کررکھا ہے ، وہ ہر کام ایک خاص مقدار اور خاص وقت پر کرتا ہے۔ وکل شیء عندہ بمقدار (الرعد 8) اس کے ہاں ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ نیز اس کا ارشاد ہے۔ وان من……………………معلوم (الحجر 21) ہر چیز کے خزانے اسی کے پاس ہیں اور وہ ہر چیز کو اندازے کے مطابق کرتا ہے ، لہٰذا اسی پر مکمل بھروسہ ہونا چاہیے۔
Ayahs 65:4–5ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیت میں اللہ نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت آجائے تو ایسے وقت پر طلاق دو کہ عدت کا عرصہ ٹھیک ٹھیک شمار کیا جاسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سنت کے مطابق قدرت کے طہر کی حالت میں صرف ایک طلاق دی جائے۔ اگر طلاق رجعی ہے تو تکمیل عدت سے پہلے خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ نیز فرمایا کہ طلاق دیتے وقت اور رجوع کرتے وقت دو عادل گواہ بنالیے جائیں تاکہ کسی ممکنہ جھگڑے کی صورت میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ نکاح اور طلاق سے متعلق مسائل سورة البقرہ اور سورة الاحزاب میں بیان ہوچکے ہیں اور ان کا کچھ حصہ یہاں بھی بیان ہورہا ہے۔ جن عورتوں کو حیض آتا ہے ان کی عدت بیان ہوچکی ہے کہ وہ تین حیض ہوگی۔ اب آج کے درس میں بعض دیگر عورتوں کی عدت کا ذکر آرہا ہے۔
پاکستان کے عائلی قوانین :
نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ کے قوانین عاملی قوانین کہلاتے ہیں۔ اور شریعت مطہرہ میں ان کی پوری تفصیل موجود ہے۔ پاکستان میں بعض ملکی عائلی قوانین نافذ ہیں جن میں سے بعض شقیں قرآن وسنت سے متصادم ہیں۔ مثلاً مقاربت سے پہلے کسی عورت کو طلاق دے دینے کی صورت میں سورة الاحزاب میں یہ مسئلہ واضح کردیا گیا ہے کہ اے ایمان والو ! جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو اور پھر ان کو طلاق دیدو من قبل…………………………تعدونھا (آیت 49) قبل اس کے کہ تم نے انہیں چھوا ہو تو ان پر کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرتے ہو ۔ مگر پاکستان کے عائلی قوانین میں ایسی عورت کے لئے بھی نوے دن کی عدت مقرر ہے اسی طرح سورة بقرہ میں حیض والی عورتوں کی عدت ثلثۃ قرئوء (آیت 228) مقرر ہے۔ قرء کا معنی حیض بھی ہوتا ہے اور اطہر بھی ہوتا ہے طلاق کا سنت طریقہ یہ ہے کہ طہر کی حالت میں طلاق دی جائے اور تین حیض گزر جائیں تو عدت ختم ہوجاتی ہے۔ مختلف عورتوں کے لئے حیض کی مدت مختلف ہوتی ہے اور یہ ہر ماہ تین سے لے کر دس دن تک آتا رہتا ہے۔ اس لحاظ سے تین حیض کی مدت بھی مختلف ہوتی ہے۔ گویا ہر عورت کے لئے عدت کی مدت اس کے تین حیض کی مطابقت سے ہوتی ہے۔ مگر ہمارے عائلی قوانین میں سب کے لئے نوے دن عدت مقرر کی گئی ہے ، جو درست نہیں ہے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بےمحل نہ ہوگا کہ اللہ نے عورتوں کی فطرت ہی ایسی بنائی ہے کہ ان کی صحت کے دوام کے لئے ہر ماہ حیض آنا ضروری ہے۔ جب عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو حیض آنا بند ہوجاتا ہے اور یہی خون بچے کی نشونما کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پھر جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو یہی خون مال کے دودھ کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے جو بچہ پیتا رہتا ہے۔ چناچہ عام طور پر جب تک بچہ دودھ پیتا رہتا ہے اس مدت میں بھی حیض نہیں آتا۔ پھر جب عورت پینتالیس اور پچپن سال کی عمر کے درمیان پہنچتی ہے تو حیض آنابالکل بند ہوجاتا ہے۔ اس زمانے کو سن یاس کہا جاتا ہے۔ بعض عورتوں کو ستر یا اسی سال تک کی عمر تک حیض آتا رہتا ہے مگر یہ بہت شاذ ہوتا ہے۔ بہرحال مدت کی مدت کا تعلق تین حیض کی طوالت کے ساتھ ہے۔ مگر یہاں سب عورتوں کے لئے نوے دن کی عدت مقرر کرکے قرآن پاک کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
اب عورتوں کے خون بھی تین قسم کے ہوتے ہیں یعنی حیض ، نفاس اور استحاضہ حیض کا ذکر ہوچکا ہے۔ نفاس وہ خون ہوتا ہے جو عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد کم وبیش چالیس دن تک آتا رہتا ہے۔ اور تیسرا خون استحاضہ کہلاتا ہے۔ اگر کسی بیماری کی وجہ سے عورت کے رحم میں کوئی رگ پھٹ جائے تو پھر خون ہر وقت جاری رہتا ہے ایسی عورت کے لئے نماز روزہ کی ادائیگی میں سخت مشکلات پیش آتی ہیں۔ حیض اور نفاس کی حالت میں عورت نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے البتہ پاک ہونے کے بعد روزہ قضا کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ نماز معاف ہوتی ہے۔ البتہ استحاضہ والی عورت کے لئے حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے نیا وضو کرے اور نماز ادا کرے۔ اس کے لئے رخصت نہیں ہے۔
سورۃ بقرہ میں بیوہ کی عدت کا ذکر بھی واضح طور پر موجود ہے کہ جن عورتوں کے خاوند فوت ہوجائیں یتربصن………………وعشراً ، (آیت 234) ان کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اس کی عدت کا وقفہ ایک دن سے لے کر نو ماہ تک ہوسکتا ہے۔ بہرحال شریعت نے عدت کی مختلف مدتیں مقرر کی ہیں مگر پاکستان کے عائلی قوانین میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔
عمررسیدہ عورت کی عدت :
آج کے درس میں بھی بعض قسم کی عدتوں کی مدت کا تعین کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے والی یئسن من المحیض من نساء کم تمہاری جو عورتیں کبر سنی کی وجہ سے حیض سے مایوس ہوچکی ہیں یعنی ان کو حیض آنا بند ہوچکا ہے۔ ان ارتبتم ، اگر تم کو شک ہو فعدتھن ثلثۃ اشھر ، تو ایسی عورتوں کی عدت تین ماہ ہے ایسے معاملہ میں پاکستانی عائلی قوانین بہت حد تک قرآن سے مطابقت نہیں رکھتے تاہم یہاں پر پورے نوے دن گزارنا ضروری نہیں بنتا کیونکہ کوئی مہینہ تیس دن کا اور کوئی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
بعض نوجوان عورتوں کے حیض کسی بیماری کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں حالانکہ وہ ابھی سن یاس کو نہیں پہنچیں تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسی عوتروں کی عدت تین حیض کی مدت کے برابر ہی شمار کی جائیگی۔ حیض بند ہونے سے قبل عورت کو جتنی مدت میں حیض آتا تھا اس کے مطابق اس کی عدت کا تعین کیا جائے گا۔ کیونکہ بعض عورتوں کو چھ ماہ بعد حیض آتا ہے لہٰذا ان کی عدت انیس ماہ میں پوری ہوگی۔ ہاں جب یہ عورت سن یاس کو پہنچ جائیں تو پھر اس کی عدت مہینوں کے حساب سے تین ماہ ہوگی ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی مطلقہ عورت کو دو حیض آنے کے بعد حیض بالکل بند ہوجائے تو پھر اس کی عدت نئے سرے سے تین ماہ کے حساب سے شمار کی جائے گی اور جودو حیض پہلے آچکے ہیں ان کا کچھ لحاظ نہیں رکھا جائے۔ اسی طرح اگر کسی ایک حمل میں ایک سے زیادہ بچے پیدا ہوں جن میں چند روز کا وقفہ بھی ہوسکتا ہے تو مطلقہ کی عدت آخری بچے کی پیدائش پر مکمل ہوجائے گی۔
کم سن عورت کی عدت :
آگے کم سن مطلقہ عورت کی عدت کا بیان ہے والی لم یحضن آگے سن مطلقہ عورت کی عدت کا بیان ہے۔ والی لم یحضن اور جن عورتوں کو کم سنی کی وجہ سے ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا ، اگر ان کو طلاق ہوجائے تو ان کی عدت بھی تین ماہ ہوگی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں نابالغ لڑکی کا نکاح بھی جائز ہے۔ اس کے برخلاف ہمارے عائلی قوانین میں سولہ سال سے کم لڑکی اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکے کے نکاح پر پابندی ہے اور یہ قابل سزا جرم ہے۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا نکاح حضور ﷺ کے ساتھ چھ سال کی عمر میں کردیا تھا۔ وہ نو سال کی عمر میں بالغ ہوگئیں تو رخصتی ہوگی۔ حضرت عائشہ ؓ نو سال تک حضور ﷺ کی زوجیت میں رہیں۔ قرآن نے کم سن لڑکی کی عدت کو بھی واضح کردیا ہے ، جب کہ ہمارے ملکی قوانین میں موجود پابندی انگریز پرستی ، پرویزیت اور چکڑالویت سے زیادہ نہیں ہے۔
حاملہ عورت کی عدت :
آگے فرمایا واولات الا حمال اجلھن ان یضعن حملھن ، اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ بچہ جن لیں۔ یعنی حاملہ کی عدت وضع حمل ہے خواہ وہ ایک دن میں ہوجائے یا نو ماہ لگ جائیں۔ اللہ نے عدت کے یہ مسائل بیان کرنے کے بعد فرمایا ومن یتق اللہ یجعل لہ من امرہ یسرا ، جو شخص اللہ سے ڈرکر ان قوانین کی پابندی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا کردے گا اس کے تمام معاملات آسانی سے طے ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص سوچ سمجھ کر سنت کے مطابق طلاق دیگا۔ اسے رجوع کا حق حاصل ہوگا اور وہ مزید کسی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر بیک وقت تین طلاق دے دیگا۔ تو پھر ہوس آنے پر حلالہ کراتا پھرے گا ، جو مزید پریشانی کا باعث ہے۔
فرمایا ذلک امر اللہ انزلہ الیکم ، یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے۔ ومن یتق اللہ یکفرعنہ سیاتہ ، اور جو کوئی اللہ سے ڈر جائے گا اللہ اس کی کوتاہیاں معاف کردے گا ، ویعظم لہ اجرا ، اور اللہ اس کو بڑے سے بڑا اجر عطا فرمائے گا ، تقویٰ یعنی خوف خدا بہت بڑی چیز ہے۔
Ayahs 65:6–7ربط آیات :
پہلے مطلقہ عورتوں کی قسمیں اور ان کی مختلف عدت کا بیان ہوا کیونکہ مطلقہ عورتوں کے لئے نکاح ثانی سے پہلے مقررہ عدت گزارنا ضروری ہے۔ اس میں اللہ نے بہت سی مصلحتیں رکھی ہیں ۔ اس میں نکاح کا حق بھی ہے اور نسب کا بھی ، نیز اس میں اولاد کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔ چناچہ بعض عورتوں کی عدت تین حیض ہے اور بعض کی تین ماہ البتہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ بیوہ ہونے والی عورت اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی ورنہ چار ماہ اور دس دن پورے کرنا ہوں گے۔ اگر نکاح کے بعد عورت سے مقاربت نہیں ہوئی اور طلاق واقع ہوگئی ہے تو ایسی عورت کے لئے کوئی عدت نہیں ، وہ جب چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔
دوران عدت رہائش اور خرچہ کا مسئلہ :
اب آج کے درس میں دوران عدت مطلقہ عورت کی رہائش اور خرچہ کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے ، نیز شیر خواہ بچے کی پرورش کا قانون بھی آگیا ہے ، جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہے اس کے خرچہ کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ وراثت میں حقدار ہے اور اپنا خرچہ اس حصہ سے برداشت کریگی۔ البتہ مطلقہ عورت کا خرچہ اور رہائش مرد کی ذمہ داری ہے خواہ یہ طلاق رجعی ہو یا بائن ہو یا تینوں طلاقیں واقع ہو کر عورت متعلقہ ہوچکی ہو۔ اس میں ائمہ کرام کا اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مطلقہ عورت کو دوران عدت صرف رہائش دی جائیگی ، خرچہ کی ذمہ داری مرد پر نہیں ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ رہائش اور خرچہ دونوں سہولتیں دی جائینگی۔ البتہ امام احمد (رح) فرماتے ہیں رہائش اور خرچہ میں سے کوئی سہولت بھی نہیں دی جائیگی۔ آپ نے حضرت فاطمہ بنت قیس ؓ والی حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں حضور ﷺ نے نہ رہائش دلوائی اور نہ خرچہ۔ مگر حضرت عائشہ ؓ ، حضرت عمر ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس حدیث پر عمل نہیں کرتے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم تو کتاب اللہ اور سنت رسول پر عمل کریں گے جن کی رو سے مطلقہ عورت رہائش اور خرچہ حاصل کرنے کی حقدار ہے۔
فاطمہ بنت قیس ؓ کے معاملہ میں محدثین کے کئی اقوال ہیں۔ مسلم شریف اور ترمذی شریف کی روایت میں موجود ہے کہ طلاق کے بعدان کے خاوند نے ان کو خرچہ بھیجا تھا۔ مگر کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے قبول نہ کیا۔ کہتے ہیں کہ یہ خرچہ پانچ صاع جوار یا کھجوریں تھیں۔ پھرو ہ عورت حضور ﷺ کے پاس خرچہ کی شکایت لے کرگئی مگر آپ نے فرمایا ، جائو تمہارے لئے کوئی خرچہ نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ خرچہ بھیجا گیا تھا مگر وہ تھوڑا تھا۔ ادھر خاوند کی حیثیت بھی اس سے زیادہ کی نہیں تھی۔ باقی رہا خاوند کے گھر میں عدت گزارنے کا معاملہ تو حضور ﷺ نے فاطمہ ؓ کو پابند نہیں کیا۔ کیونکہ وہ تیز زبان تھی اور خاوند کے بھائیوں کے ساتھ الجھتی رہتی تھی۔ اس لئے حضور ﷺ نے اسے اپنے خالہ زادہ یا چچا زادہ بھائی عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کے ہاں چلے جانے کی اجازت دے دی۔ بہرحال خرچہ اور رہائش طلاق دینے والے مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدت کے دوران اسے پورا کرے۔ پہلے درس میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے لا تخر………… …یخرجن (آیت 1) نہ تم ان کے گھر سے نکالو اور نہ وہ خود نکلنے کی کوشش کریں اور یہاں پر اللہ نے خاص طور پر حکم دیا ہے اسکنوھن من حیث سکنتم من وجد کم ، جہاں تم رہتے ہو مطلقہ عورتوں کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق وہیں رکھو۔ اس کے علاوہ اگر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں تو عورت کے لئے پردہ کا انتظام بھی ہونا چاہیے کیونکہ اب رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہی اور مردوزن میں مکمل جدائی ہوچکی ہے۔ پھر فرمایا ولا تضاروھن لتضیقوا علیھن ، ان کو ایسی ایذاء بھی نہ پہنچائو کہ ان پر تنگی ڈال دو تاکہ وہ خود ہی گھر چھوڑ کر چلی جائیں۔ فرمایا یہ بات قانوناً اور خلاقاً کسی طرح بھی درست نہیں ، بلکہ جیسا کہ دوسرے درس میں بیان ہوچکا ہے فامسکوھن بمعروف …………… …بمعروف (آیت 2) امتین دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق رخصت کردو ، ایذا رسانی کسی صورت میں بھی پسندیدہ فعل نہیں ہے۔
پھر فرمایا وان کن اولات حمل ، اگر مطلقہ عورتیں بوقت طلاق حاملہ ہوں۔ فانفقوا علیھن حتیٰ یضعن حملھن تو ان پر بھی خرچ کرو۔ یہاں تک کہ ان کا بچہ پیدا ہوجائے۔ حاملہ عورت کے خرچہ کا بطور خاص علیحدہ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ بسا اوقات ایسی عورت کی عدت لمبی ہوتی ہے جو نو ماہ تک طویل ہو سکتی ہے۔ چونکہ عدت کی طوالت کی وجہ سے مرد کے تنگ آجانے کا خطرہ تھا۔ اور شاید کہ وہ خرچہ روک لے لہٰذا اللہ نے تاکیداً حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کا خرچہ بھی ادا کرو۔
رضاعت کا مسئلہ :
اب یہاں دوسرا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ مطلقہ کے حاملہ ہونے کی صورت میں جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کی پرورش کی ذمہ داری کس پر ہوگی ؟ فرمایا فان ارضعن لکم اگر مطلقہ عورتیں تمہاری خواہش پر نوزائیدہ بچے کو تمہاری خاطر دودھ پلانے پر رضامند ہوں فاتوھن اجورھن ، تو ان کو ان کی اجرت ادا کرو۔ ظاہر ہے کہ جب بچہ پیدا ہوجائے گا تو عدت ختم ہو کر عورت بالکل آزاد ہوجائے گی۔ مگر پیدا ہونے والا بچہ تو باپ کا ہے۔ لہٰذا اگر متعلقہ عورت بچے کی پرورش کرے گی تو باپ کو اس کا خرچہ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ اور نہ صرف بچے کا خرچہ اس کے ذمہ ہوگا۔ بلکہ دودھ پلانے والی عورت کا خرچہ بھی دینا پڑے گا۔ اس معاملہ میں فرمایا واتمروا بینکم بمعروف ایک دوسرے کو نیکی کی بات سکھلائو ، اس معاملہ میں ضد یا جھگڑا وغیرہ نہ کرو۔ استمار کا لغوی معنی مشورہ کرنا ، سوچنا سمجھنا اور بتلانا ہوتا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ جب بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ درپش ہو تو آپس میں نیکی کی بات کا مشورہ کرو۔ امراء القیس شاعر کہتا ہے۔
احاربن عمر وکانی خمر
ویعدوا علی المرء ما یاتمر
اے حارث ابن عمرو ! میں تو مدہوش ہوں۔ اور کبھی آدمی پر وہ بات تعدی کرجاتی یعنی الٹی پڑجاتی ہے۔ جو وہ سوچتا ہے۔ بہرحال واتمروا کا معنی سوچو سمجھو یا ایک دوسرے کو نیکی کی بات بتلائو۔
فرمایا ایک دوسرے کو نیکی کی بات بتلائو ، ضد ، کجروی اور عناد اختیار نہ کرو۔ وان تعاسرتم شترضع لہ اخری ، اور اگر تم آپس میں ضد اور سختی کرو ، یعنی کسی سمجھوتے پر نہ پہنچ سکو تو پھر بچے کو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے۔ اگرچہ رضاعت کے لئے اولین حق ماں ہی کا ہے لیکن کسی پیچیدگی کی وجہ سے کسی دوسری عورت سے بھی دودھ پلوایا جاسکتا ہے مگر بچہ ماں کے پاس ہی رہے گا ، البتہ دودھ پلانے والی کا خرچہ باپ کی برداشت کرنا ہوگا۔
خرچہ بمطابق استطاعت :
بہرحال دوران عدت یارضاعت عورت کے خرچہ کے متعلق فرمایا لینفق ذوسعۃ من سعتہ ، اگر آدمی صاحب حیثیت ہے تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق معقول خرچ کرے اور اس سلسلہ میں بخل نہ کرے۔ ومن قدر علیہ رزقہ اور جس پر روزی تنگ کردی گئی ہے یعنی اگر وہ آدمی غریب ہے فلینفق مما اتہ اللہ پس وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تنگدست ہے تو اس سے اس کی حیثیت کے مطابق ہی خرچہ طلب کیا جائے گا ، اس کو زیر بار کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔
فقہائے کرام اور مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ بچے کو دودھ پلانے کی صورت میں عورت کا خرچہ تو مرد کے ذمے ہوگا ہی۔ اور اگر عورت کو خادم کی ضرورت ہو تو اس کا خرچہ بھی مرد کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ضرورت کے مطابق عورت ایک یا زیادہ سے زیادہ دو خادم رکھ سکتی ہے۔ بہرحال خرچہ آدمی کی مالی حیثیت کے مطابق ہوگا نہ کہ عورت کی خاندانی حیثیت کے مطابق۔ اگر عورت خوشحال خاندان کی ہے اور مرد تنگدست ہے تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق ہی خرچہ دینے کا پابند ہے۔
فرمایا لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتھا ، اللہ تعالیٰ کسی آدمی کو اس کو عطا کردہ (مال) سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ یہ ایک عام اصول ہے لا یکلف اللہ ……………وسعھا (البقرہ 286) اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف میں نہیں ڈالتا ، بلکہ انسان مکلف کو اس کی استطاعت کے مطابق ہی پابند کیا گیا ہے۔ یہاں مطلقہ اور اس کے بچے کے خرچہ کے لئے بھی اسی اصول کو استعمال کیا گیا ہے کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے۔ نہ وہ بخل کرے اور نہ اس کی استطاعت سے زیادہ طلب کیا جائے۔ تنگی اور آسانی ایک اضافی چیز ہے جو بدلتی رہتی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ آج اگر تنگدستی ہے سیجعل اللہ بعد عسر یسرا تو اللہ تعالیٰ عنقریب اس تنگی کے بعد آسانی بنادے گا۔ تنگی اور خوشحالی بیماری اور تندرستی ، ترقی اور تنزل وغیرہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت کے مطابق واقع ہوتے ہیں اور یہ چیزیں انسانی اختیار سے باہر ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ تنگدستی سے گھبرائو نہیں ، اللہ تعالیٰ عنقریب تنگی کے بعد آسانی لے آئے گا۔