65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 65:8–11

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں ہیں جو آگے نکل گئیں اپنے پروردگار کے حکم سے اور اس کے رسولوں کے حکم سے۔ پس ہم نے محاسبہ کیا ان کو سخت محاسبہ ، اور ہم نے سزا دی ان کو سخت سزا

فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا Open ayah 65:9 in the Quran reader

پس چکھا انہوں نے وبال اپنے معاملے کا ، اور تھا انجام ان کے معاملے کا نقصان والا

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ١ۛۖۚ۬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۛ۫ؕ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكُمْ ذِكْرًاۙ Open ayah 65:10 in the Quran reader

اللہ نے تیار کیا ہے ان کے لئے سخت عذاب۔ پس ڈرو اللہ سے اے عقلمندو ! وہ جو ایمان لائے ہو ، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نامہ

رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا Open ayah 65:11 in the Quran reader

(اور بھیجا ہے) ایک رسول جو پڑھتا ہے تم پر اللہ کی آیتیں جو کھول کر بیان کرتی ہیں تاکہ نکالے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک کام کیے ہیں ، اندھیروں سے روشنی کی طرف۔ اور جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور اس نے اچھا عمل کیا ، داخل کرے گا اس کو باغوں میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان میں تحقیق اچھی کی اللہ نے اس کے لئے روزی

ربط آیات : پچھلی آیات میں اللہ نے عورتوں کے نکاح ، طلاق اور عدت وغیرہ سے متعلق عائلی قوانین بتائے اور ان کی پابندی کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرو ورنہ تمہارے لئے مشکلات پیدا ہوں گی اب اللہ نے بطور عبرت یاد دلایا کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی ، دیکھو ! اللہ نے انہیں کس طرح نیست ونابود کیا۔ نافرمان قوموں کی تباہی : ارشا د ہوتا ہے وکاین من قریۃ عتت عن امر ربھا و رسلہ ، بہت سی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے تجاوز کیا ، اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے بھی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا۔ فحاسبنھا حسابا شدیداً پس ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا وعذبنھا عذاباً نکرا اور ان کو سخت سزا میں مبتلا کیا۔ فرمایا فذاقت وبال امرھا پس انہوں نے اپنے کام کی سزا کا مزا چکھا وکان عاقبۃ امرھا خسرا ، اور ان کے معاملے کا انجام نقصان میں رہا ۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی جیسی قیمتی پونجی عطا کی تھی اور اس کے ساتھ عقل و شعور جیسی نعمت دی مگر انہوں نے اس پونجی کو برباد کردیا ، اور اس کے نتیجے میں کفر ، شرک برائیاں اور نافرمانیاں خرید لیں۔ اس کی پاداش میں بعض اقوام پر دنیا میں بھی سزا آئی اور ان کا انجام کار بڑے خسارے والا ثابت ہوا۔ اللہ نے ان کو دنیا میں سزا دے کر معاملہ ختم نہیں کردیا ، بلکہ آخرت میں اعداللہ لھم عذابا شدیدا ، ان کے لئے سخت عذاب بھی تیار کررکھا ہے۔ یہ خطاب نزول قرآن کے زمانے کے لوگوں کے علاوہ ساری نبی نوع انسان سے ہے اس سے پہلے اللہ نے عائلی قوانین کے طور پر نکاح ، طلاق ، عدت اور خرچے وغیرہ کے احکام بیان فرما کر خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا اور آخرت میں بہتری چاہتے ہو تو ان قوانین کی پابندی اختیار کرو ، ورنہ تمہارا انجام بھی سابقہ نافرمان قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس آیت میں اللہ نے بہت سی بستیوں کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر نافرمان قوموں کے طور پر قو م عاد ، قوم ثمود ، قوم صالح ، قوم ابراہیم ، قوم شعیب ، قوم فرعون ، قوم لوط وغیرہ کا نام آتا ہے۔ اللہ نے ان کو دنیا میں بھی تباہ و برباد کیا اور آخرت کی دائمی سزا تو بہرحال ان کو بھگتنی پڑے گی۔ تو فرمایا کہ ان اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آجائو۔ شیطان کی اطاعت : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں ورب اقلیم غلبت علیہ طاعۃ الشیطن وصادر اھلہ کمثل النفوس البھیمیۃ ، بہت ملکوں پر شیطان کی اطاعت غالب آجاتی ہے ، اور وہاں کے لوگ درندہ صفت بن جاتے ہیں۔ کبھی اللہ تعالیٰ ان کو موقع پر ہی سزا دے دیتا ہے اور کبھی اس کو موخر کردیتا ہے کہ جو چاہو کرلو ، میں جب چاہوں گا تمہیں پکڑ لوں گا۔ جانوروں کی مثال اس لئے دی ہے کہ جس طرح جانوروں کا کام صرف کھانا ، پینا اور جفتی کرنا ہے۔ اسی طرح انسان بھی انہی کاموں میں منہمک ہو کر آخرت کو بھول جاتے ہیں ، اور کھیل تماشے ، عریانی ، فحاشی اور دیگر شیطانی کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ یہ لوگ حق و باطل کے امتیاز سے عاری ہوجاتے ہیں اور حلال و حرام سے بےنیاز ہوجاتے ہیں۔ جہاں سے چاہتے ہیں کماتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں۔ وہ اس معاملہ میں کوئی پابندی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ من مانی کرتے ہیں ، اور یہی شیطان کی اطاعت۔ پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے کہ مدینے کے اطراف میں کئی یہودی بستیاں تھیں جن کے باشندے اسلام کے خلاف ہمیشہ سازشیں کرتے رہتے تھے ان پر بھی اللہ کی گرفت آئی ، کچھ مارے گئے اور کچھ جلاوطن ہوئے۔ ان کے مکانات باغات اور زمینوں پر مسلمان قابض ہوگئے ، اور اس طرح انہیں اسی دنیا میں سزا ملی مگر اللہ نے فرمایا کہ ان کے لئے آخرت میں شدید عذاب تیار ہے۔ خوف خدا کی تلقین : اللہ تعالیٰ کی وعیدکا یہ اسلوب ہے کہ نافرمان قوموں کی تباہی کا ذکر کرکے لوگوں کو عبرت دلائی جاتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا فاتقوا اللہ یا ولی الالباب ، اے عقل مندو ! اللہ سے ڈر جائو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی سابقہ نافرمان قوموں کے نقش قدم پر چل کر اللہ تعالیٰ کی سزا کے مستوجب بن جائو۔ فرمایا ومن یتق……………………سیاتہ (الطلاق 5) جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈر جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی سابقہ کوتاہیاں معاف فرمادے گا۔ یہاں بھی فرمایا کہ اے عقلندوں ! اللہ کی نافرمانی سے ڈر جائو۔ اللہ تعالیٰ تمام قوتوں کا سرچشمہ اور قدرتوں کا مالک ہے ، اس کی مخالفت نہ کرو۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یادرکھو ! کہ خدا تعالیٰ وقتی طور پر ڈھیل تو دیتا رہتا ہے ۔ مگر کسی نافرمان کو چھوڑتا نہیں بلکہ مقررہ وقت پر گرفت کرلیتا ہے اور لوگوں کو علم بھی نہیں ہوتا کہ گرفت کی کون صورت پیش آنے والی ہے۔ اللہ سے ڈرنے کا مطلب یہی ہے کہ لوگ کفر ، شرک نفاق اور معاصی ترک کردیں اور اس کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کریں۔ پہلے بھی گزر چکا ہے فاتقوا اللہ ما استطعتم (التغابن 16) جہاں تک ہوسکے نافرمانی سے بچ جائو ، اگر کوئی غلطی ہوگئی ہے تو اس کی تلافی کرو ، توبہ کرو ، حقدار کا حق ادا کرو کہ عقل مندی کا یہی تقاضا ہے۔ سورة آل عمران میں بھی فرمایا ہے وما یذکر الا اولو الالباب (آیت 7) عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ فرمایا جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اولئک………………اضل (الاعراف 179) وہ جانوروں کی مثل ہیں۔ بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کو تو اللہ نے عق و شعور سے محروم رکھا ہے ، اس لئے وہ اسے استعمال نہیں کرسکتے۔ مگر انسانوں کو تو اللہ نے اس قیمتی جوہر سے مزین کیا ہے۔ اگر پھر بھی یہ اس جوہر سے مستفید نہیں ہوتے تو یہ جانوروں سے بھی برے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ اے عقلمندو ! خدا تعالیٰ سے ڈر جائو۔ پھر فرمایا کہ صحیح عقلمند وہ لوگ ہیں الذین امنوا جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، کتب سماویہ ، ملائکہ مقربین جزائے عمل ، تقدیر پر ایمان لاتے ہیں۔ عقل کا فائدہ اسی صورت میں ہوگا کہ انسان اپنے خالق اور مالک کو پہچان لے۔ قرآن بطور نصیحت : فرمایا قد انزل اللہ الیکم ذکرا ، اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے۔ مفسرین ذکر سے جبرائیل (علیہ السلام) ، قرآن اور مطلق نصیحت بھی مراد لیتے ہیں۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ ذکر سے مراد نصیحت نامہ ہے جو اللہ نے قرآن کی صورت میں بنی نوح انسان کو ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اور بعض دیگر مفسرین یہی مفہوم بیان کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اس نصیحت نامے کے ساتھ رسولا یتلوا علیکم آیت اللہ ایک رسول بھی بھیجا ہے جو تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ ذکرا اور رسولا کے درمیان لفظ ارسل مخدوف ہے۔ چناچہ معنی یہی بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے طرف ایک نصیحت نامہ نازل کیا ہے اور ایک رسول بھیجا ہے ، یا اللہ نے تمہاری طرف ذکر کرنے والا رسول بھیجا ہے جو تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے ، یہ معنی بھی ہوسکتا ہے ، تاہم پہلا معنی زیادہ راجح ہے۔ فرمایا اللہ کا رسول جو آیتیں تمہیں پڑھ کر سناتا ہے مبینت وہ بالکل واضح ہیں اور ان میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہے۔ اس نصیحت نامے کے دلائل اور احکام بڑے واضح ہیں۔ قرآن نے اکثر وبیشتر اعتقادی مسائل کھول کر بیان کردیے ہیں تاہم بعض چیزوں کی ایک جگہ اجمال کے ساتھ ذکر کیا ہے تو دوسری جگہ وضاحت کردی ہے پھر بعض چیزیں ایسی بھی ہیں کہ جن کی وضاحت اللہ نے اپنے نبی کے ذمے لگادی ہے۔ چناچہ بہت سے مسائل سنت رسول سے حل ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے بعض چیزوں کی وضاحت امت کے اہل علم پر چھوڑ دی ہے۔ جیسے فرمایا لعلمہ………… …منھم (النساء 83) لہٰذا جو باتیں عام لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں انہیں اہل علم کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو غور وفکر کرکے ان کا حل پیش کردیں گے۔ قرآن کی وضاحت کے سارے طریقے درست ہیں۔ ظلمت سے نور کی طرف : فرمایا اللہ کی طرف سے نازل کردہ آیات کا مقصد یہ ہے لیخرج الذین امنوا وعملوا الصلحت من الظلمت الی النور ، تاکہ ایمان لانے اور اچھے اعمال انجام دینے والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے ، کفر ، شرک ، بدعت ، نفاق ، اور معاصی سب اندھیرے ہیں ، اور ایمان اور توحید روشنی ہے ایمان کے بغیر انسان اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کو نہیں پہچان سکتا۔ وہ عالم بالا کے متعلق صحیح تصور قائم نہیں کرسکتا اور نہ ہی اسے جنت و دوزخ اور برزخ کا ادراک ہوسکتا ہے ہاں جو شخص اللہ اور اس کے نبی کے فرمان کے مطابق صحیح طریقے سے ایمان لاتا ہے اس کے دل میں روشنی اور بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ گویا قرآن کی آیات انسان کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لاتی ہیں ، اس کے دل میں شرک کی بجائے توحید آتی ہے اور بدعت کی بجائے سنت کا عمل دخل ہوجاتا ہے۔ جنت میں داخلہ : فرمایا ومن یومن باللہ ویعمل صالحا ، جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے اور پھر نیک اعمال بھی انجام دیتا ہے۔ ایمان کا مطلب یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ علیم کل ، قادر مطلق اور تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ اچھے اعمال میں سب سے پہلے ارکان اربعہ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ہیں ، اس کے بعد جہاد ، قربانی ، تبلیغ ، تعلیم و تعلم ، صدقہ خیرات ، غریبوں ، یتیموں ، بیوائوں کی خبر گری ہے۔ محتاج اعزہ و اقارب کی اعانت ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر ، کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں۔ خلدین فیھا ایدا ، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی بھی وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے اور نہ ہی وہاں کی نعمتیں کم ہوں گی۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا قداحسن اللہ لہ رزقا ، کہ اللہ نے ان کے لئے بڑی بہتر روزی بنائی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ میں نے جنت میں ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ وہ دل میں کھٹکی ہیں۔ اعدرت لعباد الصالحین یہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کی ہیں اس کا مصداق سورة السجدۃ آیت 17 میں ہے ۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزآء بما کانوا یعملون۔
Ayah 65:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ١ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ١ۙ۬ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠ Open ayah 65:12 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے پیدا کیے ہیں سات آسمان اور زمین میں سے بھی ان کی مثل۔ اترتا ہے حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور بیشک اللہ نے احاطہ کررکھا ہے ہر چیز کا علم کے ساتھ

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کے عائلی قوانین من جملہ نکاح ، طلاق ، عدت ، عدت کے اعتبار سے عورتوں کی قسمیں اور عدت کی مدت ، دوران عدت رہائش اور خرچہ کا مسئلہ اور اولاد کی پرورش وغیرہ بیان ہونے ہیں۔ اللہ نے تاکید فرمائی ہے کہ ان احکام پر عمل کرتے رہو اور خلاف ورزی نہ کرو۔ پھر اللہ نے سابقہ امتوں کی مثال بیان فرمائی ، جنہوں نے اللہ کے احکام اور اس کے رسولوں کے فرامین سے انکار کیا ، غرور وتکبر کیا تو اللہ نے ان کو دنیا میں ہی محاسبہ کرکے ان کو ہلاک کیا اور پھر آخرت کی دائمی سزا آگے آنے والی ہے ، فرمایا اے عقلمندو اللہ سے ڈرجائو ، اللہ نے تمہاری طرف قرآن کی صورت میں نصیحت نامہ نازل کیا ہے اور ایک رسول بھیجا ہے جو تمہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے جو کہ تمام مسائل کی پوری طرح وضاحت کرتی ہیں اور ان پر ایمان لاتے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتی ہیں۔ پھر اللہ نے ایمان اور اعمال صالحہ کا انجام بھی بیان فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ابدی جنتوں میں داخل کیا جائے گا اور ان کو وہاں بہت اچھی روزی نصیب ہوگی۔ اللہ کی صفت خلق : اب سورة کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کاملہ میں سے صفت خلق ، قدرت تامہ ، اور علم محیط کا تذکرہ فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ساتھ اس کی صفات کی پہچان بھی ضروری ہے ، جن کے بغیر انسان ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا۔ تو یہاں پہلی صفت خلق کا ذکر کیا ہے۔ اللہ الذی خلق سبع سموت ، اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے ہیں۔ کسی چیز کی تخلیق کے ضمن میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چار صفات یکے بعد دیگرے کام کرتی ہیں۔ سب سے پہلی صفت ابداع یا فاطر ہے یعنی کسی چیز کو بغیر آلے ، نمونے اور مادے کے پیدا کرنا۔ مثلاً فرمایا بدیع السموت والارض (الانعام 102) یا فرمایا فاطر……… والارض (یوسف 101) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا جب کہ اس سے پہلے نہ کوئی مادہ موجود تھا۔ نہ نمونہ اور نہ ہی آلہ جس کے ذریعے ان کو تخلیق کیا گیا۔ فرماتے ہیں کہ دوسرے نمبر پر اللہ کی صفت خلق آتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک چیز سے دوسری چیز بنادینا۔ مثلاً زمین کو تو اللہ نے صفت ابداع کے ذریعے بغیر مادے کے پیدا کیا۔ اب اس زمین کی مٹی سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار ہوا جیسے فرمایا خلقہ من تراب (آل عمران 59) یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا کام ہے۔ اسی طرح وخلق الجان من مارج من نار (الرحمن 15) جنات کو شعلہ مارنے والی آگ سے پیدا کیا۔ آگ کا مادہ پہلے موجود تھا۔ جس سے جنات جیسی مخلوق پیدا کی ۔ ہم روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ گٹھلی سے درخت اور بیج سے اناج پیدا ہوتا ہے۔ یہ سب اللہ کی صفت خلق کا کرشمہ ہے۔ پھر جب کوئی چیز تیار ہوجاتی ہے تو اس کا قیام ، ترقی تنزل ، موت وحیات وغیرہ صفت تدبیر کا کام ہے۔ اللہ کا فرمان ہے یدبر…………………الارض (الم السجدۃ 5) آسمان کی بلندیوں میں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ اس کے بعد چوتھی صفت تدلی آتی ہے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ انسان کو شکم مادر میں پیدا کرتا ہے۔ تو اس میں روح ڈالتا ہے۔ جس میں اس کی تجلی اعظم کا عکس بھی پڑتا ہے۔ اس کو تدلی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چونکہ انسان کو روح اور اس میں پڑنے والی تدلی عالم بالا سے آتی ہے ، اس لئے اس کی کشش ہمیشہ اوپر کی طرف ہوتی ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان پر مادیت کا خول چڑھا ہوا ہے اور اس کی حالت ایسی بےہوشی کی سی ہے۔ جیسے کسی کو کلوروفارم سونگھا دیا گیا ہو۔ جس طرح کلوروفارم زدہ آدمی کو آپریشن کے دوران ہونے والی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا اسی طرح انسان کو اس دنیا کی زندگی میں تدلی کی کشش کا احساس نہیں ہوتا۔ جس طرح کلوروفارم کا اثر زائل ہونے پر انسان کو تکلیف کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح جب انسان سے یہ مادی خول اتر جاتا ہے یعنی اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو پھر اسے تدلی کی کشش محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر اگر اس نے دنیا میں رہ کر اچھے کام نہیں کیے تو اس کی کشش نیچے کی طرف ہوتی ہے اور اس طرح اوپر اور نیچے کی کشمکش میں سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اس کا فرمان ہے اللہ خالق کل شیء (الزمر 63) بلکہ ہر چیز کا حقیقی خالق وہی ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کو کمال اعتدال کے ساتھ پیدا کیا ہے ، اور اس کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے ایک انسان کی تخلیق کو ہی دیکھ لیں۔ اللہ نے کیسی حسین و جمیل صورت عطا فرمائی ہے اور تمام اعضاء اپنے اپنے مقام پر اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ فٹ کیے ہیں۔ اللہ نے اس کو تمام ظاہری اور باطنی قوی عطا فرمائے ہیں اور عقل ، دماغ اور فہم جیسی بیش قیمت نعمتیں عطا فرمائی ہیں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لقد …………………تقویم (التین 4) ہم نے انسان کو بہترین تقویم میں پیدا کیا ہے۔ سات آسمانوں کی تخلیق : بہرحال فرمایا کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا۔ سورة الملک میں ہے کہ یہ آسمان آگے پیچھے نہیں بلکہ الذی …………………طباقا (آیت 3) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا فرمائے اور پھر ان ساتوں کے اوپر بہشت ہے۔ ساتوں آسمانوں سے اوپر سدرہ المنتہیٰ ہے جو عالم خلق اور عالم امر کا سنگم ہے فرمایا عندھا…………المعاوی (النجم 15) اس کے پاس ہی جنت ہے۔ معراج والی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ آپ ساتوں آسمانوں کو عبور کرکے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ غرضیکہ اللہ نے ساتوں آسمان اوپر نیچے بنائے ہیں۔ بعض احادیث میں آسمانوں کی بلندی کے متعلق آتا ہے کہ ایک آسمان سے دوسرے آمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور خود ہر آسمان کی اپنی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے۔ اس سال سے کون سے سال مراد ہیں ، اس کی تشریح معلوم نہیں ، البتہ ان کا طبقات کی صورت میں ہونا نص قرآنی سے ثابت ہے۔ سات زمینوں سے متعلق تحقیق : سات آسمانوں کی تخلیق کے تذکرے کے بعد فرمایا ومن الارض مثلھن ، اور زمین سے بھی ان (آسمانوں) کی مثل تخلیق کی۔ مفسرین کرام نے اسی سلسلہ میں بہت بحث کی ہے کہ آیا زمین کی آسمانوں کے ساتھ مثال تعداد کی بنا پر دی گئی ہے یا مسطح ہونے کی وجہ سے۔ قرآن پاک میں آسمانوں کے ساتھ مثال تعداد کی بنا پر دی گئی ہے یا مسطح ہونے کی وجہ سے۔ قرآن پاک میں آسمان و زمین کی تخلیق کا ذکر بیشمار مقامات پر اکٹھا آیا ہے۔ مگر ہر جگہ آسمانوں کو جمع اور زمین کو مفرد کے صیغے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے پورے قرآن پاک میں یہ واحد آیت ہے جو زمین کی ایک سے زیادہ تعداد پر دلالت کرتی ہے۔ البتہ بعض احادیث اور بعض آثار سے زمینوں کے ساتھ ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت صہیب ؓ حضور ﷺ کے مشہور صحابی ہیں ۔ یہ وہی صہیب ؓ ہیں جو حضرت عمر ؓ کے بھائی بنے ہوئے تھے ، آپ کا جنازہ بھی انہوں نے پڑھا اور پھر آپ کی شہادت کے بعد تین دن تک قائم مقام خلیفہ بھی رہے۔ حصمن حصین اور حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں حضرت صہیب ؓ کی ایک دعا منقول ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ اللھم رب السموت السبع وما اظللن ، اے سات آسمانوں کے پروردگار اور جس پر یہ سایہ افگن ہیں۔ ورب الارضین السبع وما اقللن۔ اور اے ساتوں زمینوں کے پروردگار اور جن چیزوں کو یہ اٹھاتی ہیں۔ ورب الشیطین وما اضللن۔ اور اے شیطانوں کے پروردگار اور جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں۔ ورب الریاح وما ذرین فانا نسلک خیر ھذہ القریۃ (ص 265) اور اے ہوائوں کے پروردگار اور جن چیزوں کو وہ اڑاتی ہیں ، ہمارے لئے اس بستی میں بہتری بنادے۔ گویا اس دعا میں سات زمینوں کا ذکر موجود ہے۔ مسلم شریف میں حضرت سعید بن زید ؓ کا واقعہ آتا ہے جو کہ عشرہ مبشرہ ؓ میں سے ہیں۔ آپ کے خلاف کسی عورت نے دعویٰ دائر کردیا کہ انہوں نے اس عورت کی زمین پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ اس وقت مروان مدینہ کا گورنر تھا۔ اس نے آپ کو عدالت میں طلب کیا۔ جب آپ سے دعویٰ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ میں اس عورت کی زمین پر ناجائز قبضہ کروں حالانکہ میں نے خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن رکھا ہے۔ کہ جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ناجائز قبضے میں رکھے گا ، قیامت والے دن ساتوں زمینوں کا اتنا حصہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا جسے وہ سخت تکلیف اٹھا کر کھینچے گا۔ یہ سن کر مروان نے مقدمہ ہی خارج کردیا اور کہا کہ اس مقدمہ میں مجھے کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر حضرت سعید ؓ نے اس عورت کو بدعا دی کہ اگر یہ جھوٹی ہے تو خدا تعالیٰ اس کو اس کے گھر میں ہی ہلاک کرے اور آنکھوں سے نابینا بنادے۔ آپ ؓ کی یہ دعا قبول ہوئی اور وہ عورت اندھی ہوگئی اور پھر اپنے گھر کے کنوئیں میں گر کر ہلاک ہوگئی۔ اس حدیت میں بھی سات زمینوں کا ذکر موجود ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اثر میں ایک مشکل حدیث ہے جس نے امت میں بڑا اشکال پیدا کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں کہ تمہاری زمین جیسی اور بھی سات زمینیں ہیں ہر زمین میں حضرت آدم (علیہ السلام) جیسے آدم ، موسیٰ (علیہ السلام) جیسے موسیٰ ، عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے عیسیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ جیسے محمد ہیں۔ اس حدیث کی تشریح حضرت مولان محمد قاسم نانوتوی (رح) نے اپنی کتاب ” تحذیر الناس “ میں کی ہے صاحب تفسیر روح المعانی سید محمود آلوسی بغدادی (رح) نے اس کو اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے اس حدیث میں اشکال یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ تو صرف حضور خاتم النبیین ہیں ، پھر آپ جیسے محمد ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی تشریح میں علامہ آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اول تو یہی بات واضح نہیں کہ جن دوسری زمینوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ تعداد میں واقعی اتنی ہیں ، اور ہیں تو پھر ان کی مخلوق کیسی ہے ؟ کیا دوسری زمینوں کی مخلوق انسانوں جیسی ہے یا کوئی اور قسم کی مخلوق ہے۔ اگر وہ مخلوق انسانوں جیسی نہیں تو پھر ان کے حالات بھی انسانوں سے مختلف ہوں گے ، اور جہاں تک انسانی مخلوق کا تعلق ہے تو یہ تو آدم (علیہ السلام) سے لے کر قیامت تک اسی زمین پر آباد رہیں گے علامہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہاری یہ زمین ہے ، اسی طرح دوسری زمینیں بھی ہیں۔ اور جس طرح اس زمین میں ممتاز شخصیات ہوئی ہیں ایسی ہی ممتاز شخصیات دوسری زمینوں پر بھی ہیں مطلب یہ کہ حضرت محمد ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ تو نہیں البتہ ان جیسی ممتاز شخصیات ہیں۔ نیز فرماتے ہیں کہ یہ مفہوم اخذ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ مفسر ابو سعود (رح) لکھتے ہیں کہ حضرت نافع ؓ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا کہ آیا اس زمین کے نیچے بھی کوئی مخلوق آباد ہے ، تو انہوں نے فرمایا ، وہاں ، مگر وہ مخلوق انسانوں ، جنوں یا ملائکہ جیسی نہیں ہے۔ کیونکہ آدمیت اور انسانیت کے لئے صرف یہی زمین مخصوص ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت میں آسمانوں اور زمین کی مشیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آسمان مسطح یعنی چپٹے ہیں۔ اسی طرح زمین بھی چپٹی ہے۔ حقیقت میں زمین مسطح نہیں بلکہ گول ہے مگر اپنے بہت بڑے حجم کی وجہ سے چپٹی معلوم ہوتی ہے۔ اللہ نے بھی فرمایا ہے والارض …… …………(الذریت 48) اور ہم نے زمین کو بطور فرش بچھا دیا ہے ، اور ہم کیا ہی اچھے ہیں بچھانے والے ان حضرات کا خیال ہے آسمانوں اور زمین کی مثلیت سطحیت میں ہے نہ کہ تعداد میں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ سات زمینوں سے سات طبقات مراد ہیں جو کہ یہ ہیں (1) آگ (2) آگ اور دیگر مادوں کا مرکب (3) پانی (4) زمہریر (5) ہوا (6) عام مٹی (7) گیلی مٹی۔ صاحب تفسیر کبیر لکھتے ہیں کہ ممکن ہے سات زمینوں سے اقالیم سبعہ یعنی سات ولائتیں مراد ہیں۔ ہر اقلیم کی آب وہوا مختلف ہے ۔ ہم دوسری یا تیسری اقلیم میں رہتے ہیں۔ اسی طرح شمال اور جنوب کی طرف مختلف اقالیم ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ سات زمینوں سے اسی زمین کے بڑے بڑے حصے مراد ہیں جن کو براعظم کہا جاتا ہے۔ ان کی تعداد بھی سات ہے۔ (1) براعظم ایشیا (2) براعظم یورپ (3) براعظم افریقہ (4) براعظم آسٹریلیا (5) براعظم شمالی امریکہ (6) براعظم جنوبی امریکہ (7) براعظم انٹار کٹکا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے سات زمینوں سے سات سیارے مراد ہوں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ ان میں زمین ، چاند ، زحل ، مریخ ، زہرہ ، مشتری ، عطاردل شامل ہیں (موجودہ سائنسدانوں نے کل گیارہ کروں کا ذکر کیا ہے ۔ جس میں مذکورہ سات کے علاوہ باقی ، یورینس ، سورج نیچیون اور پلوٹو کو بھی شامل کیا گیا ہے (سواتی) ان میں سے چاند پر تو انسان پہنچ چکے ہیں اور مریخ کے متعلق معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔ ہاں پر بھی زمین کی طرح پہاڑ ، بادل اور موسمی حالات ہیں۔ چاند پر تو کسی مخلوق کا پتہ نہیں چل سکا۔ ہوسکتا ہے کہ مریخ پر کوئی مخلوق آباد ہو مگر وہ انسان نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ انسان تو صرف اسی زمین پر آباد ہیں۔ ممکن ہے ملائکہ یا جنات کی مانند کوئی مخلوق ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سات زمینیں آسمانوں کی طرح اوپر نیچے ہوں مگ رہمارے علم میں نہ ہو کیونکہ کائنات کی ہر چیز تو انسان کے علم میں نہیں ہے۔ چناچہ صحیح بات یہی ہے کہ جس چیز کی قرآن نے مکمل تفصیل بیان نہیں کی اسکے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔ اسی لئے بعض مفسرین فرماتے ہیں ابھموا کما ابھمہ اللہ ، جن چیزوں کو اللہ نے مبہم چھوڑ دیا ہے تم بھی ان کو مبہم ہی رہنے دو ، زیادہ کرید نہ کرو۔ ایسی چیزوں کے متعلق تم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ البتہ اگر ایسی کوئی چیز احکام کے قبیل سے ہے تو اس کی وضاحت کی جائے گی تاکہ حلال حرام اور جائز ناجائز میں امتیاز ہوسکے۔ مگر حقائق سے تعلق رکھنے والی چیزوں کی حقیقت معلوم کرنا ہر انسان کے لئے نہ ضروری ہے اور نہ اس کے بس میں ہے۔ حکم کا نزول : فرمایا اللہ کی ذات وہ ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا ، اور زمین میں سے ان کی مانند۔ یتنزل الامر بینھن وہ نازل کرتا ہے حکم ان کے درمیان ، حکم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تشریعی اور دوسرا تکوینی ، کائنات میں پیدائش ، اموات ، تمام تغیرات اور تصرفات اللہ تعالیٰ کے تکوینی حکم کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں۔ اور تشریعی احکام میں عقائد ، اعمال ، اخلاق ، معاشرت ، حلال و حرام اور جائز وناجائز سے متعلق احکام ہوتے ہیں۔ اس سرزمین پر شرعی احکام حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور خاتم النبیین ﷺ تک کتابوں اور صحیفوں کی صورت میں نازل ہوتے رہے ہیں۔ تو یہاں پر نزول حکم سے دونوں قسم کے احکام مراد ہوسکتے ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آسمانوں اور زمین اتارتا ہے۔ اور اس نزول احکام سے مراد یہ ہے لتعلموا ان اللہ علی کل شیء قدیر تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کے بعد اس آیت میں یہ دوسری صفت قدرت تامہ کا ذکر ہوا ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کی اس صفت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کائنات میں جو بھی تغیر وتبدل کرنا چاہے اس کے راستے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں سن سکتی وہ قادر مطلق ہے اور ہر چیز اس کی قدرت کے تابع ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف ہر چیز پر قادر ہے بلکہ وان اللہ قد احاط بکل شیء علما ، بیشک اس نے ہر چیز کا علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے علم الغیب والشھادۃ وہ چھپی ہوئی اور ظاہر سب چیزوں کو جانتا ہے۔ یہ مخفی کا ذکر انسانوں کے اعتبار سے ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ سے تو ذرے کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ اس سائنسی دور میں سائنس دانوں نے بڑی بڑی معلومات حاصل کی ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے کلی علم کے مقابلے میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ سائنسدان جس قدر مطالعہ کرتے ہیں ، مزید انکشافات ہوتے ہیں۔ غرضیکہ ہر چیز کا علم محیط صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہوے۔ انسانوں کا علم محدود ہے ، لہٰذا ان کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ پر ایمان لائیں ، اس کے نازل کردہ شرعی احکام کو تسلیم کرکے ان پر عمل کریں کہ اسی میں ان کی نجات ہے اور اسی پر آخرت کی فلاح کا دارومدار ہے۔ واللہ اعلم باالصواب۔