Ayah 71:21گزشتہ سے پیوستہ :
سورة نوح میں بنوت اور رسالت ، طریقہ تبلیغ ، توحید اور قیامت کا ذکر ہے اور بنیادی عقائد ہیں تو گویا اس سورة میں منکرین توحید کا رد ، مشرکوں اور کافروں کی مذمت اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا بیان ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے۔ اس میں اس پیغام کا بیان ہے جو انہوں نے اپنی قوم تک پہنچایا ، یعنی عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ دنیا و آخرت کا فائدہ اسی میں ہے۔ مگر حضرت نوح (علیہ السلام) کے اتنا لمبا عرصہ تبلیغ کرنے اور مصائب و تکا لیف اٹھانے کے باوجود بہت کم لوگ ایمان لائے۔ وہی ستر آدمی جو کشتی پر سوار ہوئے۔ باقی ساری قوم ایمان سے خالی گئی۔ آخر کار نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی۔ کہ مولا کریم میں نے اپنی قوم کو صبح اور شام دعوت دی ، برملا دعوت دی۔ علی الاعلان دعوت دی اور پوشیدہ طور پر دعوت دی مگر یہ ایمان نہ لائے۔ اس کے بعد ان دلائل توحید کا ذکر کیا جو انسان کے اپنے وجود سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض خارجی دنیا سے متعلق ہیں مگر قوم پر کوئی اثر نہ ہوا۔ آیت زیر درس میں قوم کی نافرمانی اور دولت مند لوگوں کے اتباع کا ذکر ہے۔
نام اور لقب :
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام عبدالغفار تھا ، اور نوح لقب تھا۔ نوح کا لفظ نوحہ کے مادے سے ہے جس کا معنی رونا اور گریہ وزاری کرنا ہے۔ چونکہ نوح (علیہ السلام) السلام قوم کی حالت زار پر کثرت سے روتے رہے ، نوحہ کرتے رہے۔ لہذا ان کا لقب نوح پڑگیا۔
اتباع رسول فرض ہے :
تمام انبیاء کرام کا یہ فرض منصبی رہا ہے کہ وہ قوم کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تبلیغ اسی سے ڈرائیں اور اپنے اتباع کا حکم کریں۔ جسیا کہ نوح (علیہ السلام) نے بھی کیا اور قوم کو دعوت دی۔ اسی طرح ہر قوم کا فرض ہے کہ وہ اپنے بنی کا اتباع کرے۔ خود قرآن پاک کا ارشاد ہے۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کی ہی اطاعت کی۔ کیونکہ نبی خود نہیں آتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوتا ہے۔ اس لیے اسکی مطلق اطاعت بھی لازم ہے۔ وہ خدا کا نائب ہوتا ہے۔ اس کا مطیع اور فرمانبردار ہوتا ہے۔ اللہ کی اطاعت بھی لازم ہے ۔ وہ خدا کا نائب ہوتا ہے۔ اس کا مطیع اور فرمانبردار ہوتا ہے۔ اللہ کی اطاعت اس لیے کہ وہ مالک و معبود ہے۔ اور نبی کی اطاعت اس لیے کہ وہ خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ لہذا نبی کی اطاعت سے سرتابی کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ عام صلحاء اور اولیاء علما کی اطاعت سے انکار کرنے ولا کافر نہیں ہوتا۔ مگر ان کی اطاعت اس لیے کرنی پڑتی ہے کہ وہ تبلیغ رسالت کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے باپ سے کہہ دیا تھا۔ اے میرے باپ ! میری بات مان لے ، میں تجھے سیدھا راستہ دکھاتا ہوں کہ صراط مستقیم میرے پاس ہے۔ اس ضمن میں اپنے باپ پر واضح کیا کہ میں یہ اس لیے کہتا ہوں کہ میرے پاس اس کا علم ہے ۔ یعنی قطعی اور یقینی علم سوائے نبی کے کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اس لیے نبی کی اطاعت مطلقاََفرض ہوتی ہے۔ باقیوں کی اطاعت فرض نہیں ہے۔
صاحب مال و دولت کا اتباع :
الغرض حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے عرض کر رہے ہیں ک میری قوم نے میرا اتباع کرنے کی بجائے۔ یعنی میری قوم نے ان لوگوں کا اتباع کیا جن کے مال اور اولاد نے انہیں سوائے خسارے کے کچھ نہ پہنچایا۔ یعنی میرا کہا ماننے کی بجائے دولتمندوں ، رئیسوں اور صاحب مال و اولاد کا اتباع کیا۔ جس طرح انہوں نے کہا اسی طرح میری قوم نے کیا۔ اور اس طرح غلط روشن پر چل نکلے۔ اگرچہ مال و داولاد کی کثرت ایک نعمت ہے ۔ مگر اکثر وبیشتر اللہ تعالیٰ نے غافل کرنے کا ذریعہ بھی ہے آخرت کو فراموش کرنے کا ایک قومی سبب ہے۔ دنیا کے اکثر متمولین نے غرور وتکبر کے ساتھ یہی کہا۔ ہمارا مال اور اولاد زیادہ ہے۔ ہمیں کون پوچھنے والا ہے کون سزا دینے والا ہے۔ جیسا کہ پچھلی سورة میں گذر چکا ہے۔ یہ بدبخت ریئس محض اس لیے انکار کرتا ہے ک اللہ نے اسے مال اور اولاد دے رکھا ہے۔ ولید بن مغیرہ کے دس بیٹے تھے۔ آگے بھی آئے گا۔ جب بیٹے مجلس میں حاضر ہوتے تھے تو بڑی رونق ہوتی تھی۔ حدیث شریف میں ایک دوسرے شخص ابوالرجال کا ذکر آتا ہے ۔ اس کے بھی دس جوان بیٹے تھے۔ مجلس میں آتے تھے۔ مشاورت میں حصہ لیتے تھے۔ صلح وجنگ میں شریک ہوتے تھے۔ اور وہ اس پر اتراتا تھا۔ تو گویا اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ بہت کم لوگ جو مال و اولاد کی کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں کوئی خال خال ہی ایسا ملے گا۔ ورنہ نوہزار نو سا ننانوے مغرور ہی ہونگے۔
سرمایہ دارانہ اور اشترا کی نظام معیشت :
وہ مال جس کی بدولت لوگ تکبر کرتے ہیں سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا مرہون منت ہے اور یہ نظام ہی سب سے بڑی مصیبت ہے جس میں ن مال جمع کرنے پر کوئی پابندی ہے اور نہ خرچ کرنے میں ۔ جس ذریعے سے چاہو مال کمائو۔ اس میں حلا ل و حرام کی کوئی تمیز نہیں اسی طرح جس کام میں چاہو خرچ کرو۔ کوئی رکاوٹ نہیں ۔ سود کی کمائی ہو یا شراب کے ٹھیکہ کی ، خنزیر کی تجارت ہو یا تھیٹر کی آمدنی۔ اس میں کوئی پابندی نہیں خرچ کرنے میں حقوق العباد کی پروا نہیں ، یتامیٰ و مساکین کا خیال نہیں۔ زکوٰۃ اور صدقہ خیرات ک طرف توجہ نہیں ، محض اپنی عیش و عشرت سے غرض ہے۔ یہ اسی سرمایہ دادرانہ نظام کی لائی ہوئی لعنت ہے۔ اشترا کی نظام معیشت بھی ویسا ہی لعنتی ہے جیسے روس ، چین اور ویت نام کا نظام ۔ وہ تو آسمانی شریعت کو مانتے ہی نہیں۔ وہ تو خدا کی ہستی کا ہی انکار کرتے ہٰں۔ ان کا تو یاجوج ماجوج نظریہ ہے کہ زمین والوں کو ہم نے مغلوب کردیا ہے اور اب آسمان والے کو مارتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا کی وحدانیت کا عقیدہ مذہبی لوگوں نے اپنا کام چلانے کے لیے ایجاد کیا ہے۔ سٹالن کے کلام میں موجود ہے کہ خدا کا عقیدہ ہوا ہے۔ اور ہم اس ہوے کو مٹان چاہتے ہیں۔ الغرض شترا کی اور سرمایہ دارانہ دونوں نظام لعنت ہیں۔ اسلام کا نظام معیشت ہی فطری نظام ہے ۔ جو کمانے اور خرچ کرنے میں حلال و حرام کی تمیز سکھاتا ہے۔
سوسائٹی کے اعضائے فاسدہ :
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اعضائے فاسدہ کو کاٹنا ضروری ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو آدمی چوتھی دفعہ چوری کرے اسے قتل کردو۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں یہ ٹھیک ہے اور یہ تعزیراََ قتل ہے ۔ ایک دفعہ ، دو دفعہ ، تین دفعہ ، اب جو باز نہیں آتا ، اسے شوٹ کر دو ۔ یہ سوسائٹی لے لیے پھوڑا ہے۔ اگر اس کو باقی رکھا گیا تو سارے جسم کو خراب کریگا۔ لہذا ہر عقلمند ڈاکٹر اسے کاٹ دینے کا ہی مشورہ دیگا۔ جس طرح کسی انسانی جسم کا پائوں یا ران یا بازو کاٹنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی کے عضو فاسد کو بھی ختم کرنا ضروری ہے ۔ تاکہ باقی سوسائٹی میں گندگی نہ پھیلنے پائے آج کا ایران والے بھی یہی کچھ تو کر رہے ہیں۔ یہ منشیات کی سمگلنگ کرنے والے بھنگ ، چرس ، شراب کا کاروبار کرنے والے ، پچیس تیس آدمی اڑادیے کہ یہ باز نہیں آتے تھے۔ سوسائٹی کے لیے بمنزلہ ناسور تھے ۔ انہوں نے کمائی میں حلال و حرام کی پروا نہیں کی ، انہیں باقی نہیں رہنا چاہیے۔
لائسنس یافتہ رنڈیاں :
سرمایہ داری نظام میں اسی قبیل کا ایک دوسرا ذریعہ معاش ہے۔ رنڈیاں لائسنس لے کر چکلے میں بیٹھ جاتی ہیں۔ حکومت خود پرستی کرتی ہے۔ اسے آمدنی سے غرض ہے۔ چاہے کسی راستے سے آئے۔ امام حبلی (رح) نے سیرت میں لکھا ہے کہ پہلی صدی کے آخر تک مسلمانوں کے زیر تسلط کسی بھی علاقے میں کوئی بھی قحبہ خانہ نہیں تھا۔ مسلمان آدھی دنیا سے زیادہ حصے پر چھائے ہوئے تھے ، مگر کسی جگہ کوئی ایک لائسنس یافتہ رنڈی نہیں تھی۔ برخلاف اس کے انگریز کے زمانے میں یہاں پچھتر فیصد کنجریاں مسلمان تھیں۔ کلکتہ ، بمبئی ، مصر ہر جگہ یہ لعنت مسلمان عورتوں نے اپنے گلے میں ڈال رکھی تھی۔ ایران کا تو معاملہ ہی دوسرا ہے۔ وہ شیعہ ہیں اور متعہ کرلیتے ہیں۔ ہندو ہو ، سکھ ہو سب کے سب متعہ کرلیتے ہیں۔ پیسہ کمانے سے غرض ہے ، حلال کی کوئی تمیز نہیں ۔ اس نظام کی یہی خصوصیت ہے۔
حلال و حرام کی تمیز :
حضور ﷺ نے فرمایا۔ اللہ سے ڈرو اور طلب رزق میں صحیح راستے پر چلو۔ برے راستے کے کمانا حرام ہے۔ ایسی کمائی میں برکت نہیں ہوگی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اس سے صدقہ و خیرات منظور نہیں ہوگا اور آگے جہنم کا تو شہ نبے گا۔ مند احمد کی روایت میں ہے کہ حرام مال چھوڑ جانا ، جہنم کے راستے کا تو شہ ہے۔ کپڑا حرام مال سے پہنا نماز قبول نہیں ہوگی۔ خوراک حرام مال سے کھائی دعا قبول نہیں ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ مفتی اور قاضی نماز کی ادائیگی کا فتویٰ دے دیں مگر قبولیت دوسری چیز ہے۔ اگر غسل کرکے جسم اور پاک کپڑے کے ساتھ نماز ادا کی گئی تو مفتی یہ تو نہیں کہے گا کہ نماز ادا نہیں ہوئی۔ مگر نماز کا مقبول ہونا اور چیز ہے۔ ابو دردا ؓ کہتے ہیں۔ کہ اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میری یہ دو رکعت نماز بارگاہ الہٰی میں قبول ہوگئی ہے تو بخدا میرے نزدیک یہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ کیونکہ قبولیت کا معیار یہ ہے کہ مقبول اس کی ہوگی جو متقی ہوگا۔ کفر و شرک سے بچنے والا اور خدا سے ڈرنے والا ہوگا۔
شادی بیاہ کی رسوم :
جس طرح طلب رزق میں جائز ناجائز کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اسی طرح خرچ کرنے میں بھی کسی بات کی پروا نہیں کی جاتی۔ دولت مند لہو لعب میں مشغول ہیں ، رسومات پر بلاوجہ بھاری رقوم خرچ کر رہے ہیں۔ پچھلے جمعہ میں ایک بزرگ نے بتایا کہ ایک منگنی کی رسم میں چالیس جوڑے کپڑے تو برادری کے لوگوں کو دئے ہیں اور دن جوڑے قسم کے خاص عورتوں کو یے گئے۔ اور کھاناصرف نو دیگیں پکائی گئیں۔ یہ صرف منگنی ہے۔ اور شادی پر کیا ہوگا۔ یہ ہمارے ملک کا رواج ہے۔ دولت مند کے ہاں شادی ہوتی ہے۔ مکانات روشن ہوتے ہیں۔ سینکڑوں قمقمے جلتے ہیں۔ کیا یہ اسراف و تبذیر نہیں کیا اس پر لعنت نہیں برستی۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسروں کے لیے مشکلات پید کی جارہی ہیں۔ دیکھا دیکھی دوسرے بھی رسومات کی ادائیگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں ۔ یہ محاورہ بالکل درست ہے۔ ” مال حرام بود بجائے حرام رفت “ حرام کی کمائی حرام کے راستے ہی خرچ ہوگی۔ کھیل تماشے میں جائے گی۔ جوئے اور شراب میں جائے گی۔ یا فحاشی کے کاموں میں صرف ہوگی۔
فوتیدگی کی رسوم :
اسی طرح مرنے کی رسومات میں بھی بےجا اسراف کیا جاتا ہے ۔ یہ تیجا ہے۔ یہ دسواں ہے ، یہ چالیسواں ہے ، مردہ چاہے عذاب میں مبتلا ہوجائے ، رسوم ادا ہونی چاہئیں۔ ہمارے ملنے والے ایک صاحب نے بیان کیا کہ ایک شخص کی لاہور میں شادی ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد بیوی ایک چھوٹا بچہ چھوڑ کر فو ت ہوگئی۔ بیچارہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔ تین دن کے بعد جانے لگا کہ کوئی مزدوری کروں ، بچے کی پرورش بھی ذمے ہے۔ تو ساس اور سسر کہنے لگے ، الو کے پٹھے ! کدھر جاتے ہو ، اگے چہلم آرہا ہے ، وہ کون کرے گا۔ اس کے لیے رقم ادا کرکے جائو ، بیچارے کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ناچار کھر کے برتن بیچ کر تین سوروپے سسرال والوں کو دیے تاکہ چہلم کی رسم ادا کرسکیں تب کہیں جا کر اسکی جان چھوٹی اور محنت مزدوری کے لیے جاسکا۔ یہ ہے مال و دولت جس نے انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔
مال اچھا ساتھی ہے :
ہاں تو ذکر یہ ہو رہا تھا کہ مال و دولت کی محبت میں انسان کس حد تک اپنے مالک سے دور ہوجاتا ہے۔ مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ یہی مال ایک اچھا ساتھی بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ مال اس شخص کے لیے اچھا ساتھی ہے۔ جو اللہ اور اس کے بندوں کا حق ادا کرتا ہے۔ ورنہ یہی مال و بال جان ہے۔ حضور ﷺ خانہ کعبہ کی دیوار کے سامنے بیٹھے تھے حضرت ابوذر غفاری ؓ آئے۔ آپ نے فرمایا جو لوگ دنیا میں بہت مال و دولت رکھتے تھے۔ کل قیامت کو ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوگا۔ ہاں جس نے دائیں بائیں ہر طرف حقوق ادا کئے ، وہ وہاں بھی دولت مند ہوں گے۔ ورنہ عام طور پر آج کا دولت مند کل کا قلاش ہوگا۔ اس نے حقوق ادا نہیں کئے۔ دولت عیاشی اور فحاشی میں لٹائی۔ کمائی بھی ناجائز طریقے سے کی۔ خرچ بھی ناجائز کیا۔
اسلامی نظام معیشت :
اسلامی نظام میں کمانے پر بھی پابندی ہے۔ اور خرچ کرنے پر بھی۔ اسلام حرام ذرائع سے مال اکٹھا کرنے سے منع کرتا ہے۔ اور حلال ذرائع کی ترغیب دیتا ہے۔ جب حلال راستے سے مال آجائے تو پھر سارے حقوق اد کرو۔ اسکے بعد جو بچ رہے اسے اپنے مصرف میں لائو ، کوئی جائداد خریدو ، کوئی اور چیز خریدو ، تمہارے لیے مباح ہے۔ اور اگر حقوق ادا نہیں کئے صرف دولت جمع ہی کرتے رہے بیلنس برابر کرتے رہے۔ ذرائع آمدنی کی حلت و حرمت کا خیال نہیں کیا تو پھر خرچ کرنے میں کون سی پابندی قبول کرو گے۔ بلڈنگ بازی پر خرچ ہوگا۔ ایک ایک بلڈنگ کے نقشہ تیار کرنے پر ستر ستر ہزار کی رقم اٹھ رہی ہے۔ کیا یہ اسراف و تنذیر کی حد نہیں ہے۔ اس سلسلے میں حکومت ہماری راہنمائی کررہی ہے۔ وہ خود سربفلک عمارات کی تعمیر میں لگی ہوئی ہے۔ قصر صدارت کی تعمیر پر پنتالیس کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
اب اندازہ لگائو ک اسلام کا نام لینے والی مملکت میں قصر صدارت پر اٹھنے والے اس قدر بھاری اخراجات کہاں تک جائز ہیں۔ وفاقی سیکریڑیٹ کی تعمیر پر۔ اربوں روپے خرچ کیے گئے۔ اس کی تزئین کے لیے ستر ستر ہزار روپے کی قالین عمارات کے راستوں پر بچھے ہوئے ہیں۔ جن پر لوگ جوتوں سمیت چلتے ہیں ۔ خدا کا غضب ، اس قدر اسراف جس ملک کے اسی فیصد لوگوں کو دو وقت کی پیٹ بھر کر روٹی بھی نصیب نہ ہو ، صرف بیس فیصد لوگوں کے پاس کوئی توازن یا وسائل ہیں اس ملک میں اتنا عالیشان قصر صدارت اور سیکریڑیٹ بنانا کہاں جائز ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ حضرت عمر ؓ قریش کو زمین نہیں خردینے دیتے تھے کہ تم لوگوں کے لیے برا نمونہ قائم کر وگے۔ لہذا ضرورت سے زیادہ ضروریات زندگی مت حاصل کرو۔ الغرض موجودہ زمانے کے سرمایہ دارانہ نظام اور اشترا کی نظام معیشت دونوں باطل ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حاملین خدا کی ہستی کو مانتے ہوئے ، انجیل کو برحق تسلیم کرتے ہوئے اس نظام باطل کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جس میں چند آدمی عیش کرتے ہیں۔ اور دوسرے غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ اشترا کی نظام انکار خدا اور انکار شریعت کی بنا پر لعنتی ہے۔ اسلامی نظام معیشت ہی واحد نظام ہے جو آمد و خرچ کے حدو مقرر کرکے مخلوق خد ا کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔
معیار اتباع :
آیت زیر درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی اس بنیادی خامی کی شکایت کی ہے جس کی رو سے انہوں نے مال و دولت کے زعم میں مبتلا ہو کر نبی کے اتباع کے بجائے سرمایہ دارانہ ذہنیت کا اتباع کیا۔ عرض کیا اے میرے پروردگار انہوں نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کا اتباع کیا جن کے مال و اولاد نے سوائے خسارے کے کچھ فائدہ نہ کیا۔ مال و دولت والے لوگوں نے اپنے مال کی بدولت غلط نمونے قائم کئے رسومات باطلہ پر عمل پیرا رہے۔ دوسروں کو بھی اسی راستے پر چلاتے رہے انہوں نے نبی کے اتباع کے بجائے مال و دولت کو قابل تقلید جانا۔ کہتے تھے نبی کے پاس کیا ہے جو ہم اس ک ی پیروی کریں۔ یہ انسان ہو کر نبوت کا دعوے ٰ کرتا ہے نہ اس کے پاس مال و دولت ہے ، نہ کوٹھی ہے ، نہ فوج ہے ، نہ باغات ہیں ، ہم اس کا اتباع کیوں کریں۔ اتباع تو ان لوگوں کا ہونا چاہیے جن کے پاس یہ سارے لوازمات موجود ہیں۔ تو گویا نوح (علیہ السلام) کے عدم اتباع کی وجہ یہ تھی اور اس قوم کا معیار اتباع نبوت کے بجائے سرمایہ تھا۔ اس آیت میں نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور یہ شکایت پیش کی۔
Ayahs 71:22–24گزشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ درس میں نوح (علیہ السلام) کی قوم کی حالت کا بیان تھا جو انہوں نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور پیش کی۔ اور نہایت دکھ کے ساتھ عرض کیا یعنی اے اللہ ! میری قوم نے میری نافرمانی کی اور ان لوگوں کا اتباع کیا جن کے مال و اولاد نے انہیں سوائے نقصان کے کچھ اضافہ نہ کیا۔ یعنی مال واولاد کی کثرت نے انہیں خود بھی دین سے محروم رکھا اور دوسروں کو بھی محروم کیا۔ اس درس کی آیات میں سے پہلی آیت میں قوم نوح (علیہ السلام) کے ان دائو پیچوں کا تذکرہ ہے جو انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلانے کے لیے آزمائے۔ دوسری آیت میں انکے پانچ معبودانِ باطلہ کا بیان ہے جن کی پرستش پر وہ جمے رہے اور تیسی آیت میں نوح (علیہ السلام) نے اس گمراہی کا حال بیان کیا ہے جس میں قوم کے لوگ خود بھی مبتلا رہے اور دوسروں کو بھی بھٹکاتے رہے۔
قوم نوح کے دائو پیچ :
عرض کیا کہ میری قوم نے نہ صرف یہ کہ میری نافرمانی کی اور دولت مندوں کا اتباع کای ۔ بلکہ انہوں نے تدبیر کی ، بہت بڑی تدبیر یعنی میری دعوت کو پھیلنے سے روکنے کے لیے انہوں نے بڑا دائو پیچ کھیلا ۔ کہ لوگ میری بات کو نہ مانیں مکر کا معنی مخفی تدبیر ہوتا ہے۔ اور کبار مبالغہ کا صیغہ ہے۔ عظام اور قراء کے وزن پر مثلا کبیر بڑے کو کہتے ہیں۔ کبار اوسط درجے کو اور زیادہ مبالغہ کرنا ہو تو کبار بولتے ہیں یعنی ادنیٰ درجہ ، اوسط درجہ اور اعلیٰ درجہ ۔ یہ کبار مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا معنی ہوا بہت بڑا دائو۔ تو گویا اس قوم نے نبی کی مخالفت میں بہت سے دائو چلائے جن کی تفصیل شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) نے اس طرح بیان کی ہے۔
نبوت میں شہات پیدا کرنا :
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ پہلی تدبیر انہوں نے یہ کی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت کے متعلق شبہات پیدا کیے۔ کہ یہ نبی نہیں ہوسکتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے انبیاء کی نبوت کے متعلق مشرکین نے شک و شبہات پیدا کئے ، قرآن پاک میں ان کی تفصیل موجود ہے ۔ خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا ۔ اور نوح (علیہ السلام) کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی۔ یہ تو ہمارا بھائی ہے۔ ہماری برادری کا آدمی ہے ، فلاں کا بیٹا ہے ، کھاتا پیتا ہے کاروبار کرتا ہے۔ اس کے بیوی بچے ہیں یہ کیسے رسول ہو سکتا ہے۔ یہ کھانا کھانے والا اور گلیوں بازاروں میں چلنے پھرنے والا کیسے رسول ہو سکتا ہے۔ گویا انہوں نے بشریت اور انسانیت کو رسالت کے خلاف سمجھا ۔ سورة قمر میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے متعلق بھی ایسا ہی آتا ہے۔ کیا ہم اپنے میں سے ایک انسان کا اتباع کریں۔ اگر ایسا کریں گے تو ہم پاگل ہوں گے جو ایسا کریں گے اسی طرح نوح (علیہ السلام) کے متعلق کہتے تھے۔ ہم تو تمہیں بیوقوف خیال کرتے ہیں جو تمام معبود ان کو چھڑا کر ایک خدا کی عبادت کی طرف بلاتا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب میں کہا اے میر ی قوم ! میں بیوقوف نہیں ہوں بلکہ میں تو رب العل میں کیطرف سے بھیجا ہوا ہوں تاکہ اس کا پیغام تم پہنچائوں۔ تو گویا قوم نوح کی پہلی مکاری تھی کہ وہ آپ کی نبوت کے متعلق لوگوں میں شک و شبہات پیدا کرتے تھے۔ تاکہ لوگ آپ پر ایمان نہ لائیں۔
اللہ تعالیٰ کی الوہیت سے انکار :
قوم نوح کا دوسرا دائو یہ تھا کہ وہ خدا کی وحدانیت اور بعض اوقات اس کے وجود کا ہی انکار کردیتے تھے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں فرعون کے متعلق موجود ہے کہ وہ کہتا تھا ۔ یہ رب العلمین کیا چیز ہے۔ کوئی رب نہیں وہ اس قدر مغرور تھا کہ کہتا تھا میں اپنے علاوہ تمہارا اور کوئی معبود نہیں جانتا تو اس طرح گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی الوہیت کا انکار کرتے تھے کہ جب خد ا کی ذات کا انکار ہوجائے گا تو اس کو بھیجنے والے نبی کی خود بخود ہی تکذیب ہوگی۔ تو گویا کی یہ بھی ایک صورت تھی۔
مظہر خدا کا عقیدہ :
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب نبوت میں شبہات پید اکر کے یا خدا کا انکار کر کے بھی ان کی چال کامیاب نہ ہوتی ، تو وہ ایک اور حربہ استعمال کرتے ۔ کہتے ہم مان لیتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور آپ اس کے رسول بھی ہیں مگر جن کی ہم پوجا ر کرتے ہیں ان کے اندر بھی خدا کا ہی وجود ہے تو ہمیں ان کی پوجا سے کیوں ہٹاتا ہے۔ یہ بھی تو مظہر خدا ہیں۔ اس پر اپگنڈا کی بنا پر جاہل لوگ سمجھتے تھے کہ یہ معبود ان بھی خد ا کے مقرب ہیں ان کی عبادت کرنے سے خدا راضی ہوگا۔ ان کے اندر خدا جلوہ گر ہے۔ یہ بھی انکی ایک چال تھی کہ لوگ نوح (علیہ السلام) کا کہنا نہ مانیں۔ مظہر خدا کا عقیدہ ہندوئوں کے اوتار والے عقیدے سے مشابہ ہے۔ یہ عقیدہ عیسائیوں ، پر ناے بابلیوں ، مشرکوں اور مصریوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ کہ خدا تعالیٰ کسی اور کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ بعض کلمہ گو مشرک بھی اس عقیدہ باطل میں مبتلا ہیں۔ جیسا کہتے ہیں ۔ وہی جو عرش پر تھا خدا ہو کر ، اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہوکر۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ک جلوہ گری سے اگر یہ مراد لیا جائے کہ ان میں الوہیت کی کوئی صفت آگئی ہے تو یہ تو باطل ہے۔ کیونکہ کسی مخلوق میں الوہیت کی کوئی بات نہیں آتی۔ الوہیت اور مخلوق متضاد چیزیں ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ معبود ان باطلہ اور خدا تعالیٰ میں وجود قدر مشترک ہے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کا وجود واجب ہے یعنی اپنی ذات سے ہے۔ جب کہ ان کا وجود اللہ تعالیٰ کا پیدہ کردہ ہے۔ ایک واجب الوجود ہے اور دوسروں کا وجود ممکن ہے۔ اور ممکن الہٰ نہیں ہوسکتا ۔ ممکن ہونے میں بنی جبرئیل ، بزرگ اور ساری مخلوق برابر ہیں۔ تو ایک مخلوق دوسری مخلوق کا معبود نہیں بن سکتی ۔ جب کہ وہ سارے اپنے وجود میں خدا کی طرف محتاج ہیں۔ لہذا یہ اوتار یا مظہر خد ا کا عقیدہ سرے سے ہی باطل ہے۔ یہ عقیدہ سخت ظالمانہ اور بدترین شرک والا عقیدہ ہے۔
اپنے علم پر تکبر :
نبوت کے انکار کی ایک وجہ ان کا وہ محد ود علم تھا جس پر غرور وتکبر کرتے تھے۔ قرآن پاک نے بعض بدبخت قوموں کا حال یوں بیان کیا کہ اللہ کے رسول جب واضح باتیں لے کر آئے تو بعض مشرکین اپنے علم پر اترانے لگی اور نبی کی تعلیم کا انکار کردیا۔ کہنے لگے ہمارے پاس علم موجود ہے ۔ تم ہمیں کیا سبق پڑھائو گے۔ ہم خوب جانتے ہیں۔ پر ناے رومی کہتے تھے کہ نبیوں کا وعظ و نصیحت عام لوگوں کے لیے ہوتا ہے ہم تو صاحب علم ہیں۔ حکمت و دانائی کے مالک ہیں ہمیں ایسی تعلیم کی کیا ضرورت ہے۔ اسی طرح یونانی حکماء کہتے تھے کہ ہم مہذب ، شائستہ ، اور ہدایت یافتہ ہیں۔ ہمیں نبیوں کے اتباع کی ضرورت نہیں ہے۔ اور دوسرے فلاسفر بھی کہتے رہے کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کا اتباع کیوں کریں۔ ہمارے پاس علم و حکمت کا خزانہ ہے نبی کا اتباع تو وہ کریں جو جاہل ہیں جن کے پاس علم نہیں ہے۔ تو گویا اس طرح انہوں نے نبی کی پیروی سے انکار کیا۔ آج بھی اسی قسم کے لوگ موجود ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ یہ ملا لوگ قیانوسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس کیا ہے۔ ہمارے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی ہے ، فلسفہ و حکمت ہے ، علوم و فنون ہیں ، ہمارے لیے ا ن کی پرانی باتیں کیا معنی رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے ک دنیا کا جنتا بھی علم ہے وہ تجربات اور مشاورت پر مبنی ہے۔ یہ قطعی اور یقینی علم تو نہیں ہے۔ کیونکہ قطعی علم صرف نبی کے پاس ہوتا ہے۔ جو منجانب اللہ ہوتا ہے۔ باقی سارا ظن اور گمان ہے۔ سائنسی تجر بات یا مشاہدات کو علم نہیں کہہ سکتے ، نہ صنعت و حرفت ا س شمار میں آتا ہے۔ بلکہ حقیقی علم اللہ تعالیٰ کی جانب سے نبی کے پاس آتا ہے۔ اور اسی کا یہ انکار کرتے ہیں۔ نبی کی رسالت میں شکوک و شہبات پیدا کرتے ہیں تو گویا یہ ساری صورتیں مکرو مکراکبارا کے تحت آتی ہیں۔
معبود ان باطلہ پر اصرار :
تمام انبیاء (علیہ السلام) کی طرح نوح (علیہ السلام) کی تعلیم کا مرکزی نقطہ یہی تھا کہ سارے معبودان باطلہ کو ترک کرکے صرف ایک خدا کی پوجا کرو۔ اس تبلیغ کے جواب میں حضرت نوح کی قوم کے سرکردہ لوگوں نے یعنی حضرت نوح کی باتوں میں آکر اپنے معبودوں کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ یہ شخص تم سے تمہارے معبود چھڑانا چاہتا ہے مگر تم ایسا نہ کرنا بلکہ خاص طور پر ود ، سواعم یغوث ، یعوق اور نسر کو نہ چھوڑنا۔ قوم نوح کے اور بھی معبود تھے۔ مگر یہ پانچ خاص معبود تھے جن کو نہ چھوڑنے کی تلقین کرتے تھے۔ حضور ﷺ کے متعلق بھی مشرکین نے کہا کیا تمام معبودان کو چھوڑ کر صرف ایک خد ا پر قناعت کرلیں۔ یہ تو عجیب بات ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ قوم ہر مقصد کے لیے الگ الگ معبود مقرر کر رکھے تھے۔ ان پانچ معبودان باطلہ کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں۔
ود :
ود مودت سے ہے ، عربی میں مودت محبت کو کہتے ہیں۔ تو ود گویا محبت کا دیوتا تھا ، اسے مرد کی شکل میں بناتے تھے جو کہ بڑا قوی اور حسین و جمیل ہو ۔ مرد کو فطرتاَ عورت کی خواہش ہوتی ہے۔ اس سے مقاربت کرتا ہے تو نسل پیدا ہوتی ہے۔ تو یہ ود محبت کا دیوتا تھا۔ اس کی پرستش کرتے تھے۔ ہندو اس کو برماجی مہارج کہتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کائنات کو ایجاد کرنیوالا۔
سواع :
سواع عربی زبان میں سکون و استقرار پر بولا جاتا ہے۔ اس کو حسن و جمال کی دیوی کہتے تھے۔ اور عورت کی شکل میں بناتے تھے۔ جس طرح عوت گھر کو چلاتی ہے ، امور خانہ داری سر انجام دیتی ہے اسی طرح یہ دیوی کائنا ت کو چلاتی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ دنیا کی قیومت ، استقرار اور ثبات اسی کے دم سے ہے۔ یہ دنیا کے کاروبار کو چلاتی ہے۔ اور تھامتی ہے۔ ہندو اسے بش جی کہتے ہیں۔
یغوت :
یغوث ، غوث کے مادے سے ہے جس کا معنی ہے۔ فریاد رس۔ اس کو گھوڑے کی شکل میں بناتے تھے۔ گھوڑا بڑا تیز رفتاجانور ہے۔ جہاں ضرورت ہو تیزی سے مدد کیلئے پہنچ جاتا ہے۔ غوث کا عقیدہ بھی ایسا ہے کہ جب مصیبت میں غائبانہ طور پر پکارو ، غوث صاحب فوراََ مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ انسانوں کی فریا درستی کرتے ہیں۔ اسی لیے قوم نوح کے لوگ یغوث کی پرستش کرتے تھے کہ وہ ان کی فریاد رسی کرتا تھا۔
یعوق :
عق کے مادے سے ہیے جس کا معنی ہے حفاظت کرنے والا۔ تکلیف کو دور کرنے والا یہ شیر کی شکل میں بناتے تھے۔ یہ عقیدہ آج بھی موجود ہے۔ شیر خدا ، مشکل کشا کو آج بھی لوگ غائبانہ طور پر پکارتے ہیں دکن میں جگہ جگہ حضرت علی ؓ کے نام پر شیر بنائے ہوئے ہیں۔ تو یہ مشکل کشائی والا عقیدہ قوم نوح میں بھی تھا ، حالانکہ قرآن پاک میں صاف طور پر موجود ہے۔ اللہ کے سوا کوئی تکلیف کو کون دور کرسکتا ہے۔ تکلیف ہٹانے والا صرف اللہ ہے ، تم بیشک پکارتے رہو ، یہ بھی اسکی رضا پر منحصر ہے۔ اگر چاہے گا تو تکلیف کو رفع کر دتے گا ، وگرنہ پابند نہیں ہے۔ وہ اگر کسی کو تکلیف پہنچا نا چاہے تو کوئی روک نہیں سکتا۔ اگر خدا کسی قوم کو ذلیل کرنا چاہتا ہے ، مغلوب و محکوم کرنا چاہتا ہے۔ تو ساری دنیا مل کر بھی اس کے فیصلے کو ٹال نہیں سکتی۔ غوث کا عقیدہ اس زمانے میں بھی عام ہے۔ خواجہ بہائوالدین (رح) کے بارے میں غوث بہائو الدین کہتے ہیں ۔ غوث الاعظم حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی ہیں۔ یہ بھی غائبانہ امداد کرتے ہیں لوگوں کی فریاد رسی کرتے ہیں۔ ذرا غور کرو کہ قوم نوح اور ان لوگوں کے عقیدے میں کیا فرق ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) ولی اللہ تھے۔ ان کے ہاتھ پر سوا لاکھ آدمیوں نے توبہ کی۔ انہوں نے کفر شرک کی بیخ کنی کی۔ ان کے بارے میں یہ عقیدہ کہ وہ غائبانہ فرمادرسی کرتے ہیں کہاں کا انصاف ہے ؟ جس قدر توحید کی تبلیغ انہوں نے کی اس زمانے میں اور کسی بزرگ نے نہیں کی۔ اس کے اثرات آج تک موجود ہیں آپ ہفتے میں ایک دن جمعرات کو وعظ فریاد کرتے تھے۔ ان کے مواعظ حسنہ موجود ہیں ایک ایک حرف کو پڑھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے۔ ان کے مقالات میں توحید ہی توحید ہے۔ ان کی تصنیف فتوح الغیب پڑھ کر دیکھ کر ، شرک کی جتنی تردید انہوں نے کی ہے اس دور میں کسی بزرگ نے نہیں کی۔ آج ہی پیران پیر غوث میں انہیں فریاد رس بنایا گیا ہے ۔ بزرگوں کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے۔ عقیدت ہو کہ وہ بھی بندے تھے۔ خدا کی توحید کا درس دیتے تھے۔ لوگوں کو کفرو شرک سے ہٹاتے تھے۔ ان کی وجہ سے لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔ خواجہ بہائو الدین زکریا (رح) اپنے زمانے کے بہت بڑے محدث اور فقیہ تھے اب ان کی قبر پر کتنا اونچا گنبدبنا ہوا ہے۔ قبر پر ہر منٹ میں پانچ آدمی سجدہ کرتے ہیں۔ کیا و ہ یہی کام کرتے تھے۔ العیاذ باللہ۔ انہوں نے تو مشرکانہ عقائد کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔ کیا ہو کہہ گئے تھے کہ میری قبر پر گنبد بنالیا ؟ یہ تو بعد میں بادشاہوں نے بناڈالے اور یہ اڈے قائم ہوگئے۔ کیا خواجہ معین الدین اجمیری (رح) کہہ گئے تھے کہ میرا گنبد بنانا ، قبر کو پختہ کرنا ، چپس لگانا ، اور جگہ جگہ لائٹ جلائی جارہی ہے۔ قبر پر پنکھے چلائے جا رہے ہیں۔ عقل کا تو بالکلہی دیوالیہ نکل گیا۔ قبر کے اوپر ہوا کے پنکھے لگانے کا کیا فائدہ ۔ عجیب عقیدہ ہے جو ملنگ مرگیا۔ اس کی قبر بنالی ، گنبد بنالیا۔ یہاں وہ دیوانہ بیچارہ مر گیا۔ مجذوب تھا پاگل تھا۔ ا ب اس کا گنبد بنالیا ہے۔ پوجا شروع ہوگئی ہے۔ حکومت ایسی خرافات کی سرپرستی کرتی ہے ، خود گنبد بناتی ہے۔ اور لوگوں کو خرافات کی ترغیب دیتی ہے۔ حالانکہ حکومت کا کام ان چیزوں کو مٹانا تھا۔ مگر ہو کیا رہا ہے۔ چادریں چڑھائو ، گلاب کے پانی سے قبروں کو غسل دو ، عرس جمائو ، قوالی کر ائو ، اسراف کرو۔ لوگ سجدے کرتے ہیں ، کرتے رہیں ، جہنم میں جائیں ، حکومت کو ٹیکس سے غرض ہے ان اڈوں کی آمدنی حکومت اپنی مدوں میں خرچ کرتی ہے۔ کچھ کلر ک کھا جاتے ہیں کچھ نوکر کھاتے ہیں۔
نسر :
نسر گدھ کو کہتے ہیں ، گدھ کی عمر بڑی لمبی ہوتی ہے۔ یہ بڑا طاقتور پرندہ ہے۔ اس کی نگاہ بھی بڑی تیزی ہوتی ہے۔ تو یہ معبود گدھ کی شکل میں بناتے تھے۔ کہتے تھے یہ بڑی تیزی سے مدد کے لیے پہنچتا ہے۔ یہ عمرکا دیوتا ہے ۔ اس کی وجہ سے عمر لمبی ہوتی ہے۔
معبود کیسے بنے :
مذکورہ پانچ قس کے معبود قونوح میں پائے جاتے تھے۔ حضر ت عروہ (رح) بن زبیر ؓ کی روایت میں ہے کہ یہ پانچوں آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ ود ان میں بڑا تھا۔ یہ سارے نیک اور صالح لوگ تھے ۔ جب یہ مر گئے اور کچھ زمانہ گزر گیا۔ تو شیطان نے لوگوں کو اس طرف راغب کیا اور انہوں نے ان کے مجسمے بنالیے۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ دو ، سواع ، یغوث ، یعوق ، اور نسر پانچ بزرگوں کے نام ہیں۔ (یہ حضرت ادریس (علیہ السلام) ، شیش (علیہ السلام) یا آدم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ جب آدم (علیہ السلام) قریب المرگ تھے تو یہ پانچوں بیٹے ان کے پاس موجود تھے) قوم نوح کے نیک آدمی تھے ، جب یہ مر گئے تو لوگوں کو بڑا افسوس ہوا ، کیونکہ ان کی نیکی کی وجہ سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوتی تھی۔ شیطان نے ان کے دلوں میں رغبت ڈالی کہ ان کے مجسمے اور تصویریں بنا لو اور جہاں تم عبادت کرتے ہو انہیں وہاں رکھ لو تاکہ انہیں دیکھ کر تم عبادت کی طرف زیادہ راغب ہو سکو ، کہ یہ بزرگ ایسی عبادت کرتے تھے نوافل ادا کرتے تھے ، ورد کرتے تھے۔ کچھ وقت اور گزرا تو تو یہ بزرگ خود معبود بن گئے۔ شیطان نے سبق پڑھایا کہ ان کی پرستش ہونی چاہیے چناچہ ایسا ہی ہونے لگا۔ اس کے بعد طوفان نوح میں یہ سب عابد ومعبود ڈوب گئے۔ عربوں میں پھر سے شیطان نے ا ن کو تازہ کیا۔ لوگوں کو ان کی طرف رغبت دلائی ، چناچہ حضور ﷺ کے زمانے میں شیر اور گدھ اور دوسری صورتوں میں معبود موجود تھے۔ اور مختلف قبیلوں میں انکی پوجا ہوتی تھی۔ اسی طرح لات ایک نیک آدمی تھا۔ بخاری شریف میں ہے کہ حج کے زمانے میں لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔ اس کی موت کے کچھ عرصہ بعد اس کا مجسمہ بنایا گیا اور عبادت شروع ہوگئی۔ غزی ایک درخت تھا۔ اس کے نیچے کوئی بزرگ بیٹھا ہوگا۔ لہذا اس کی پوجا شروع ہوگئی۔ مناۃ بڑا سرکش تھا مثلل کے مقام پر اسکا عظیم مجمسہ رکھا ہوا تھا۔ لوگ مدینے سے ا س کے نام پر احرام باندھتے تھے۔ اور صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ لگاتے تھے۔ الغرض نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں بیان کیا کہ میری قوم نے لوگوں کو بہکانے کے لیے بڑے دائو پیچ کھیلے۔ اور معبود ان باطلہ کی پرستش پر خود بھی مصر رہے اور دوسروں کو ترغیب دی کہ اپنے معبود ان خاص پر پانچ کو کسی حالت میں بھی ترک نہ کرنا۔
گمراہی کی طرف دعوت :
اس کے بعدنوح (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ کہ ان لوگوں کے کفر و شرک پر اصرار کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا۔ اور خود بھی گمراہ ہوئے۔ بالکل اسی طرح جیسے مکہ والوں کے متعلق ہے کہ یعنی خود بھی دور ہٹتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایمان ، پیغمبر اور قرآن سے روکتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی عیسائی مشزیاں لالچ دے کر گمراہ کر رہی ہیں۔ ہسپتال بناتے ہیں سکول چلاتے ہیں۔ پیسے کا لالچ دیتے ہیں۔ دودھ اور کھلولنے بھیج کر گمراہی کیطرف بلاتے ہیں۔ اور جہاں ضرورت ہوتی ہے۔ دبائو ڈالکر بھی لوگوں کو عیسائی بنایا جاتا ہے۔ عیسائیوں نے اندلس میں کیا گیا۔ بعض کو ماردیا گیا۔ بعض بھاگ گئے اور بعض کو جبراََ عیسائی بنالیا گیا۔ چین کے صوبہ ختن میں مسلمانوں کی سات کروڑ کی آبادی تھی جہاں صرف ایک کروڑ مسلمان رہ گئے ہیں۔ یہ کیمنسٹوں کی کاروائی ہے۔ ماردیا۔ دبادیا۔ تقسیم کردیا یا کیمونسٹ بنالیا۔ بخار ا میں چالیس ہزارمسجدیں تھیں اور ملک میں چارسو سے زیاد ہ مدارس تھے م گر آج وہاں دوہزار مسجدیں بھی نہیں ہیں یہ ان بھی گمراہی کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ اعشیٰ شاعر کا واقعہ کتابوں میں ملتا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ نے ملنا چاہتا تھا۔ مگر کفار نے اسے ایک سو اونٹ اناج کا دیا کہ وہ آپ کے پاس نہ جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ وہ ضاجتہ العرب یعنی عربوں کا باجہ کہلاتا ہے۔ اگر اس نے حضور ﷺ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھ دیا تو سارا عرب فریفتہ ہوجائے گا۔ لہذا سے لالچ دیکر حضور ﷺ کی خدمت میں جانے سے روکا ۔ اس کے متعلق مشہور ہے ۔ کہ ایک غریب آدمی کی پانچ سات جوان لڑکیاں تھیں مگر انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں تھا۔ اس شخص نے اعشیٰ کو اپنے ہاں دعوت دی اس کی خوب خاطر تواضع کی ۔ اونٹ ذبح کیا۔ کھانا کھلایا۔ شراب پلائی۔ اس نے موج میں آکر اس غریب آدمی کی مدح میں قصیدہ کہہ دیا۔ پھر کیا تھا آناََ فاناََ اس شخص کے چرچے ہونے لگے اور بڑے بڑے ، تیسوں کی طرف سے اس کی لڑکیوں کے لیے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ تو اس طرح اسے گمراہ کیا گیا۔ اگرچہ سو اونٹ اناج اس کے کام نہ آیا و ہ راستے ہی میں اونٹ سے گر کر مر گیا۔ تاہم گمراہ ہوگیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے اللہ ! ان کو گمراہی کی سزا یہ دے کہ یعنی ان ظالموں کے لیے سوائے گمراہی کے کچھ زیادہ نہ کر۔ ان کو تباہی کیطرف بڑھا ۔ اگلی آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی بددعا ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا گیاہی کہ۔ یہ قوم کا گلاسڑا پھوڑا ہے۔ اس کاٹ کر تباہ و برباد کردے۔
Ayahs 71:25–28گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کے دوران ان دائوپیچوں کا ذکر تھا جو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت کے خلاف آزمائے۔ نبوت میں شبہات پیدا کئے لوگوں کو تلقین کی کہ اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا۔ خاص طور پر دو ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر سے وابستگی پر آمادہ رکھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کی بات نہ ماننا بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہنا۔ سابقہ درس میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قوم نوح کے معبود ان باطلہ کی پرستش نبی (علیہ السلام) کے زمانے کے مشرکین بھی کرتے تھے اور انہوں نے بھی انہیں ناموں سے مجسمے بنا رکھے تھے۔ یہ تصور ہندوستان میں بھی برہما ، بش دشنو ، اندر دیوتا اور ہنو مان کے نام سے پایا جاتا ہے۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں ان پانچ معبودوں سے مختلف اغراض وابستہ کی ہوئی تھیں۔ اسی طرح حضور ﷺ کے زمانہ مبارک اور پھر ہندوئوں کے تصورات میں بھی یہ چیزیں ملتی ہیں۔
انسان کے اندرونی معبود :
شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ قوم نوح (علیہ السلام) کے پانچ معبودان کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تو انسان کے خارجی معبود ہیں۔ جن کے مشرک پرستش کرتے ہیں۔ مگر ہر شخص کے اندر بھی یہ پانچوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔ جب تک آدمی ان کے پھندے سے آزاد نہ ہو ، اس کی عبادت صحیح نہیں ہوتی ان اندرونی معبودان کی تفصیل شاہ صاحب (رح) اس طرح بیان فرماتے ہیں۔
ود :
جس طرح خارجی دنیا میں مشرکین نے ود کو محبت کا دیوتا بنا رکھا ہے۔ اسی طرح اندرونی طور پر انسان کا اپنا جسم ود ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ کہ ہر انسان اپنے جسم کے بنائو سنگھار میں مصروف نظر آتا ہے۔ حجاب طبع بھی یہی ہے کہ انسان اپنے جسم کی پرورش ، زیب وزینت ، تروتازگی میں لگا ہوا ہے۔ اور ساری عمر لگا رہتا ہے حتیٰ کہ ہوجاتا ہے۔ تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انسان کا جسم اس کا ود ہے جسکی پر ستش ساری عمر کرتا رہتا ہے۔
سواع :
انسان کا نفس اندرونی طور پر اس کے لیے سواع ہے جس کی رضا انسان کو ہر حالت میں مطلوب ہوتی ہے۔ انسان تقویٰ و طہارت اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکم کو اپنے نفس کے مقابلے میں ٹھکراتا رہتا ہے۔ اور اپنے نفس کی بات مانتا ہے۔ اس کی پوجا کرتا ہے۔ ایسے بہت سے کم لوگ ہوں گے جن کو اس بات کا احساس ہو کہ نفس کو اس حدتک راضی رکھنا چاہیے۔ جس حد تک خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا پہلو نہ نکلے۔ شریعت کا ابطال نہ آئے اور اطاعت میں فرق نہ آئے۔ اگر خدا کی اطاعت اور اس کی رضا کو نفس پر قربان کر رہا ہے ۔ تو یہی انسان کا سواع ہے جسکی وہ پرستش کر رہا ہے۔
یغوث :
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یغوث انسان کا خاندان ہے جس میں باپ ، بیٹا ، بھائی اور دیگر افراد شامل ہیں۔ انسان کو راضی رکھنے کی فکر میں رہتا ہے۔ تا کہ یہ بھی بوقت ضرورت اس سے تعاون کریں۔ خاندان کے یغوث کو خوش کرنے کے لیے ہر قسم کی رسومات ادا کرتا ہے۔ سمجھتا ہے کہ اگر برادری بگڑ گئی تو میرا تمام معاملہ خراب ہوجائے گا۔ لہذا ن کو ہر حالت میں خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کو رضا اور شریعت کے قانون کو بھی ترک کردیتا ہے لہذا یہ خاندان ہی اس کا یغوث ہے۔ ساری عمر اسی کو خوش کرنے میں لگا رہتا ہے۔
یعوق :
انسان کا مال اس کے لیے بمنزلہ یعوق کے ہے ۔ انسان مال کی محبت میں کم و بیش بڑا شدید ہے۔ مال کے متعلق انسان سمجھتا ہے کہ یہ اسکی تفلیف کو دور کریگا یہ اس کے لیے عوق ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے۔ یعنی سمجھتا ہے کہ مال اس کو قائم رکھیگا۔ اس لیے انسان مال جمع کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہ مال کی محبت کا نتیجہ ہے کہ اس کے فرائض بھی ادا نہیں کرتا۔ نہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ نہ صدقہ خیرات کرتا ہے۔ بلکہ اسے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔ کہ مشکل وقت میں کام آئے گا۔ لہذا یہ انسان کے لیے عوق ہے۔
نسر :
شیطان انسان کے لیے نسر ہے ، جو اسے ہر وقت بہکاتا رہتا ہے۔ یہ حرص اور غصے کے بازوں کے ساتھ انسان پر حملہ آور ہوتا ہے اور ایسے ایسے وسوسے ڈالتا ہے جس سے انسان کا عقیدہ خراب ہوجائے۔ جیسا کہ پہلے شرک کرنے والوں کا حال بیان ہوا۔ شیطان کے بہکاوے میں آنا گویا نسر کی پرستش کرنا ہے۔ الغرض یہ اندرونی پانچ معبود ان باطلہ ہیں جن سے ہر آدمی کو واسطہ پڑتا ہے۔ اور جو اس کے لیے رکاوت کا باعث بنتے ہیں۔
قوم نوح کی غرقابی کا سبب :
جیسا کہ بیان ہوچکا ہے کہ پچھلی آیات میں حضر ت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی قوم کی شکایرت کی تھی کہ انہوں نے اپنے نبی کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اب اگلی آیت میں اس قوم کی زیادتی کی سزا کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ اپنی کوتاہیوں کے سبب غرق کے گئے۔ اور پھر ان کی غرقابی کے لیے پانی عذاب الہٰی کی صور ت میں آیا ۔ آسمان کی طرف سے بھی پانی کو چھوڑ دیا گیا۔ یعنی چالیس دن تک مسلسل موسلادھار بارش ہوتی رہی اور زمین سے بھی پانی کے چسمے جاری ہوگئے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ پانی کی اس قدر بہتات ہوئی کہ اونچے سے اونچے پہاڑ سے بھی اس کی سطح تیس فٹ تک بلند ہوگئی۔ اور اس طرح وہ قوم اپنے گناہوں کی پاداش میں کیفر کردار تک پہنچی۔
تمام منکرین غرق ہوگئے :
جیسا کہ اگلی آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا آئے گی کہ اے مولاکریم ! زمین پر ایک بھی کافر کو باتی نہ چھوڑ۔ تو یہاں کا مطلب یہی ہیے۔ کہ اس قوم کے تمام کے تمام کفار غرق ہوگئے۔ اور ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہا۔ صرف ستر آدمی بچے تھے جو ایمان لائے اور کشتی میں سوار ہوگئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا بھی اس عذاب سے نہ بچ سکا حالانکہ و ہ کہتا تھا یعنی پہاڑ پر چڑھ کر پانی کے عذاب سے بچ جائوں گا۔ مگر وہ بھی غرق ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ابن ابی حاتم (رح) کی روایت ہے جسے ابن کثیر (رح) نے بھی بیان کیا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ قوم نوح میں سے اگر خدا تعالیٰ کسی پر رحم کرتا تو یقینا اس بچے پر کرتا ۔ جسے اس کی ماں لے کر پہاڑ پر چڑھ گئی تھی۔ جب پانی اس عورت کے کندھے تک پہنچا تو اس نے بچے کو سرپراٹھالیا۔ اور جب پانی سر تک پہنچ گیا تو اسے بچے کو اور اوپر بازوئوں پر اٹھا لیا کہ کسی طرح وہ بچ جائے مگر پھر بھی وہ نہ بچ سکا اور اپنی ماں کے ساتھ ہی ڈوب گیا۔ تو اس طرح گویا تمام کفار غرق ہوگئے اور ان میں سے کوئی بھی نہ بچ سکا۔
آگ کی سزا :
تو فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں تو پانی میں غرق ہوئے اور موت کے بعدعالم برزخ میں پہنچے تو آگ میں داخل کئے گئے۔ مفسرین نے اس سے یہ اخذ کیا ہے۔ کہ پانی کی سزا تو انہیں دنیا میں ملی ۔ مگر آگ کی سزا برزخ میں مل رہی ہے۔ اور یہ سزا بھی برحق ہے۔ اگرچہ یہ مکمل سزا نہیں ہے کیونکہ مکمل سزا تو قیامت کو ملے گی تاہم برزخ میں بھی اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ملتا ہے۔ آل فرعون کے متعلق بھی ایسے ہی الفاظ آتے ہیں کہ انہیں صبح شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے۔ مرنے والا چاہے کسی شکل میں مرے ، قبر اور برزخ کا عذاب اس سے ٹل نہیں سکتا۔ اس کے جسم اور روح کا کوئی نہ کوئی حصہ ایسا ضرور ہوتا ہے۔ جسے تکلیف یا راحت محسوس ہوتی ہے۔ ہاں البتہ عالم برزخ میں وقت کا احساس نہیں ہوتا ، جب حشر میں اٹھیں گے تو کہیں گے۔ ہمیں ہماری قبروں سے کس نے نکال لیا۔ الغرض قوم کے لوگ ادھر پانی میں ڈبوئے گئے۔ ادھر آگ میں داخل کئے گئے۔ مگر انہوں نے اللہ کے سوا کسی کو مددگار نہ پایا۔ نہ ود صاحب آئے نہ سواع نے مدد کی نہ یغوث نے فریاد رسی کی نہ یقوق کسی کام آیا اور نہ نسر سے کچھ بن پڑا۔ خدا کے سوا کئی بھی مافوق الاسباب مدد گار نہ آیا۔ آج بھی صورت تحال یہی ہے کہ کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ لوگ خواہ مخواہ وہم میں مبتلا رہتے ہیں۔ اور شرک میں ڈوبے رہتے ہیں۔ طرح طرح سے اپنا عقیدہ گندہ کرتے ہیں۔
نوح (علیہ السلام) کی بد دعا :
سورۃ کے آخری حصے میں حضرت نوح کی تین دعائوں کا ذکر ہے۔ پہلی بد دعا کی نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ رہنے دے۔ دوران سے ہوسکتا ہے۔ یہ دونوں معنے لگتے ہں۔ یعنی کسی چلنے پھرنے والے یا کسی گھر میں رہنے والے کو زندہ نہ چھوڑ ۔ یہ قہر الہی کا ظہور ہے۔ یہ غضب اللہ ہے یعنی اللہ کے لیے ناراضگی پیدا ہوگئی ہے۔ اور سزا شروع ہوچکی ہے۔ حضرت نوح نے مزید عرض کیا۔ اگر تو ان کو زندہ چھوڑ یگا تو میرے بندوں کو گمراہ کریں گے۔ اور یہ نہیں جنیں گے ۔ مگر ڈہٹھ ، کافر یعنی ان کی اولادیں بھی ایسی ہی ہوں گی۔ سورة ہود میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو بتلایا گیا تھا کہ یعنی تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ، بس وہی ایماندار رہیں گے۔ ان کے علاوہ اور کوئی نہیں لائیں گے۔ لہذا حضرت نوح نے ان کی تباہی و بربادی کی بددعا ہی کی۔ شاہ ولی اللہ (رح) کی زبان میں یہ گلا سڑا عضو ہے اس کو کاٹ دینا ہی ضروری ہے ۔ ورنہ یہ ایک عضو رفاسد باقی جسم کو بھی فاسد کر دے گا۔ ان لوگوں کا اعدام اوفق من الوجود ہے ۔ ان کا خاتمہ ان کے زندہ ہنے سے زیادہ قرین مصلحت ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعائے مغفرت :
نوح (علیہ السلام) نے دوسری دعا یہ کی کہ اے پروردگار مجھے اور میرے والدین کو بخش دے کہ وہ بھی نیک اور صالح تھے۔ لوگوں کو شرک سے منع کرتے تھے۔ نوح (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی اپنے منصب کے مطابق تھی۔ پیغمبر سے صغیرہ یا کبیر گناہ سرزد نہیں ہوتا۔ البتہ بعض اوقات چھوٹی موٹی لغزشین ہوجاتی ہے۔ جن سے وہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ وہ مقربین بارگاہ الہٰی ہوتے ہیں انہیں معمولی الغزش پر بھی بڑی بےچینی لاحق ہوجاتی ہے۔ اسی لیے عرض کیا کہ اے اللہ ! میری اور میرے والدین کی مغفرت فرما دے۔ نیز فرمایا کہ اس کی بھی بخشش فرمادے۔ جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہو۔ گھر میں آنے والے کے لیے مومن ہونا شرط ہے۔ کیونکہ کافروں کے لیے تو تباہی و بربادی کی بدعا ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ فرمایا یعنی گھر میں آنے والوں کے علاوہ عام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بھی ان کے ایمان کی بدولت معاف فرمادے یہ عام دعا ہے جو اللہ کے اس نیک بندے نے مانگی ، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کا مصداق بنائے۔ ہر مسلمان کے لیے بھی یہی حکم ہے ۔ کہ اپنی دعا میں عام مومنیں اور مومنات کو یاد کیا کرے۔ ان کی بخشش کی دعا کیا کرے ۔ یعنی یوں کہے ۔
ظالموں کے لیے تباہی کی بددعا :
دعا کا تیسرا حصہ نوح (علیہ السلام) نے یہ عرض کیا یعنی ظالموں کے لیے تباہی کے سوا کچھ زیادہ نہ کر ۔ یہ بھی جوش اور غضب الہٰی ہے۔ یہ ظالم ہر حالت میں کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ظالم جب تک ظلم پر قائم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا۔ اسے ہدایت نہیں دے گا۔ سب سے بڑے ظالم تو کافر ہیں۔ جیسا فرمایا اسی طرح مشرکوں کے متعلق فرمایا : شرک سے بڑا ظالم کون سا ہوسکتا ہے۔ جو لوگ کفرو شرک کے ظالم پر ڈٹے ہوئے ہیں ان کے لیے سوائے تباہی کے اور کچھ اضافہ نہ کر۔ الغرض حضر ت نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے تیسرے حصے میں ظالموں کی مکمل تباہی کی درخواست کی ۔ آپ کی دعا منظور پر ہوئی اور پوری قوم ما سوائے ستر مومنیں کے غرق ہوگئی۔