72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 72:16–23

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ سیدھے رہتے راستے پر البتہ ہم ان کو وافر پانی سے سیراب کرتے۔

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب میں چلائے گا۔

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور بیشک مسجدیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں لہذا اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور بیشک جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے لیے قریب تھا کہ یہ لوگ ہجوم کر کے اس کے گرد اکھٹے ہوجائیں۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے بیشک میں اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اے لوگوں میں تمہارے لیے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ بیشک مجھے خدا کے سامنے ہرگز کوئی بھی پناہ نہیں دے گا اور میں خدا کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پاتا۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

مگر میرے ذمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچاتا اور اس کے پیغامات ادا کرتا ہے ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا۔ پس بیشک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ ا س میں رہیں گے۔

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ سے درس تک کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنات کا کلام دہرایا تھا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہوا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ کہ جنوں کے ایک گروہ نے کلام الہٰی سنا اور کہ ا کہ ہم نے تو عجیب قرآن سنا ہے۔ لہذا ہم ایمان لائے ہیں۔ جنات انسانوں کے بارے میں خود جنوں کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ شاید وہ جھوٹ نہ بولتے ہوں مگر معلوم ہوا کہ وہ دونوں ہی جھوٹ بولتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں۔ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی بات چیت سننے کا ذکر تھا۔ اور پھر اس رکاوت کا ذکر تھا جو شہاب پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ یہ سب حضور ﷺ کی بعثت اور نزول قرآن پاک کی وجہ سے تھا۔ جنات نے خود اقرار کای کہ ان میں نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ دوسری مخلوقات کی طرح جن بھی عاجز ہیں اور ان میں ایسی کوئی خوبی نہیں ، جس کی وجہ سے ان کی پرستش کی جائے یا ان کے ساتھ استعاذہ کیا جائے۔ جنوں نے کہا کہ قرآن کریم سننے کے بعد ہم ایمان لے آئے اور جو ایمان لائے گا۔ وہ کامیاب ہوگا۔ اسے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ اور اس پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ جنات میں فرمانبردار بھی ہیں اور نافرمان بھی۔ جو فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ انہوں نے نیکی کو تلاش کرلیا۔ اور جو ظلم کرنے والے بےانصاف ہیں ، وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لیے انعامات : یہاں تک جنات کا کلام تھا جو اللہ جل شانہ نے ذکر فرمایا اور ان کا حال بذریعہ وحی اپنے پیغبر ﷺ کو بتلا دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔ یعنی اگر یہ لوگ سیدھے رہے راستے پر ، تو ہم انکو خوب پانی سے سیراب کریں گے۔ تاکہ ہم اس میں ان کی آزمائش کریں۔ اور جو شخص اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو سخت اور دشوار عذاب میں چلائے گا۔ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیں کہ میر ی طرف اس بات کی بھی وحی کی گئی ہے۔ کہ اگر یہ لوگ سیدھے۔ رہے یعنی اس راستے پر جو اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ راستہ ہے تو حید کا راستہ اور صراط مستقیم ہے۔ تو ہم انہیں بہت سے پانی سے سیراب کریں گے۔ کا تعلق انسان کے ساتھ بھی ہے اور جنوں کے ساتھ بھی ۔ یعنی اگر انسان اور جن اللہ کے پسندیدہ راستے پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں فراوانی فرمائیں گے۔ اور ان سے تکلیف کو دور فرمائیں گے۔ کا معنی کہ کثیر پانی ہے مگر یہاں صرپانی ہی مراد نہیں بلکہ ہر قسم کے رزق کی وسعت مراد ہے۔ جس میں پانی بھی ایک اہم جزو ہے۔ کیونکہ پانی ہر جاندار کے لیے عظیم نعمت ہے۔ الغرض ایمان اور اطاعت کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے اس آیت میں ظاہری اور باطنی انعامات کی خوشخبری ہے۔ اگلی آیت کے پہلے حصے میں کہ کر اس بات کی وضاحت فرمادی کہ مذکورہ انعامات ان کی آزمائش کے لیے ہیں۔ کہ حصول نعمت پر کون شکریہ بجا لاتا ہے۔ اور کون کفر ان نعمت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہر نعمت میں امتحان کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں۔ مکہ میں قحط پڑا ہوا تھا۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمادیا کہ یہ قحط اہل مکہ کے ظالم و شرارت کی وجہ سے ہے ۔ جب لوگ نافرمانی کرتے ہیں تو اس کے اثرات مختلف قسم کی پریشانیوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جن میں قحط سالی ، اور پانی کی قلت بھی ہے جس کی وجہ سے انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے سب تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ لوگ کفر و شکر ک اور ظلم و شرارت سے باز آجائیں اور اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے پر چلنے لگیں جس طرح جنات کلا م الہٰی سن کر راہ راست پر آگئے۔ تو اللہ تعالیٰ باران رحمت کا نزول فرمائیں گے جس سے زمین کو سر سز وشادا ب کریں گے۔ اور قحط کو دور فرما دیں گے۔ اہل انجیل کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہی ارشاد فرمایا تھا کہ اگر یہ اللہ کی کتاب کو صحیح طور پر قائم کرتے ہیں تو ہم ان کے لیے ہر طرح سے خیروبرکات نازل فرماتے۔ بعض بستیوں کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ ٹھیک راستے پر چلتے تو ہم ان کے لیے زمین و آسمان سے خیرو برکات نازل فرماتے۔ ان آیات میں بھی ارشاد ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف یہ حکم بھی آیا ہے کہ معصیت اور گناہوں کی وجہ سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ قحط پڑتے ہیں۔ پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو میرا یہ پیغام بھی پہنچا دیں کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے پر چلتے رہے تو ہم ان کو بہت سے پانی سے سیراب کریں گے۔ یعنی اسباب رزق کثرت سے مہیا کریں گے۔ یاد الہٰی سے اعراض کرنے کرنے والوں کے لیے وعید : آیت کے دوسرے حصے میں یا د الہٰی سے اعراض کرنے والوں کے لیے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ جو شخص اپنے رب کی یاد سے روگردانی کرتا ہے۔ یعنی اس کی وحدانیت کا انکار کرتا ہے۔ اطاعت کے راستے کی بجائے کفر و شرک کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ معصیت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے سخت چڑھتے ہوئے عذاب میں چلاتا ہے۔ یعنی آخر کار وہ دشوار عذاب کا شکار بنے گا۔ مساجد میں غیر اللہ کو پکارنے کی نمانعت : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ کو دو باتوں کے متعلق ارشاد فرما چکے ہیں۔ کہ آپ ان کا اعلان وحی الہٰی کے واسطہ سے کردیں۔ ایک یہ کہ جنوں نے قرآن پاک سنا اور ایمان لائے اور دوسری بات یہ کہ اگر لوگ سیدھے راستے پر چلتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر رزق کی فراوانی فرمائیگا۔ اب تیسری بات یہ فرمائی جارہی ہے کہ آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ میر ی طرف وحی کی گئی ہے کہ لہذا اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔ لفظ مساجد ، مسجد کی جمع ہے اور یہ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مسجد مصدر یسمی ہے اور سجدے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی لفظ سجدہ گاہ میں معنے میں بھی آتا ہے۔ اور اس سے مراد آلات اعضاء سجدہ بھی ہیں اس مقام پر یہ تینوں معنی ہوسکتے ہیں۔ سجدہ گاہ : اگر مساجد سے مراد سجدہ گاہ لیا جائے تو وہ یہی مسجدیں ہیں جن کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا یعنی ساری دنیا میں سے زمین کے پسندیدہ ٹکڑے مسجدیں میں جہاں عباد ت کی جاتی ہے۔ نمازیں پڑھی جاتی ہیں۔ ویسے تو ساری زمین ہی اللہ کی ہے مگر مساجد کی تعمیر خاص طور پر کی جاتی ہے۔ تاکہ ان میں عبادت کی جائے اور حضور ﷺ نے مساجد کی ترغیب بھی دلائی۔ فرمایا۔ یعنی جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد تعمیر کی اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ اب یہ مسجدیں جب کہ خالص اللہ کی عبادت کے لیے بنائی جاتی ہیں تو پھر ان مواقع میں کفر و شرک کی بات کرنا نہایت ہی ناپسندیدہ ہے۔ ویسے تو کفر و شکر کسی مقام پر بھی رد انہیں ، مگر اس کا ارتکاب مساجد میں کرنا نہایت ہی قبیح فعل ہے۔ جیسے حرم شریف کے متعلق فرمایا ۔ یعنی کوئی حرم کے اندر الحادو کجروی کرے گا۔ ہم اس کو دوہرا عذاب دیں گے۔ کیونکہ پاک خطہ ہے اللہ نے اس کو محترم بنایا ہے۔ بہر حال شرک و کفر تو اللہ کے قہر وغضب کو بھڑکا نے والی چیز ہے۔ مساجد میں مطلقاََ معیصت کی بات بھی نہیں ہونی چاہیے۔ مسجدیں اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص ہیں۔ آداب مسجد : آداب مساجد کے ضمن میں حضور ﷺ نے فرمایا اپنے چھوٹے بچوں کو مسجدوں سے الگ رکھو کہ وہ بےشعور ہوتے ہیں۔ مسجد میں پیشاب ، پاخانہ کریں گے تو بےحرمتی ہوگی۔ اسی طرح پاگلوں کو بھی مسجد میں نہ آنے دو ، وہ بھی اس قابل نہیں کہ مسجد کی حرمت بحال رکھ سکیں مسجد میں لڑائی نہ کرو۔ تلوار مت کھینچو۔ مسجد میں حدودمت جاری کرو کہ ہاتھ کٹے گا۔ قتل ہوگا تو مسجد آلودہ ہوگی۔ مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان نہ کرو ، خریدو فروخت نہ کرو۔ یہ سب چیزیں مسجد کے آداب کے خلاف ہیں۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یعنی مسجدوں کو پاک صاف رکھو۔ اس میں ظاہری اور باطنی کسی قسم کی گندگی نہیں ہونی چاہیے۔ ظاہری گندگی سے تو مسجد کی پاکیزگی کی کوشش اکثر کی جاتی ہے۔ مگر یہی مساجد باطنی گندگی سے بھری ہوئی ہیں ۔ شرک ، بدعت ، غلط قسم کے وعظ ، مساجد میں کیا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ رسومات باطلہ کی ترغیب دی جاتی ہے۔ شر کو بدعت کی تعلیم ہوتی ہے ، یہ سب ناجائز کا م ہیں۔ کیونکہ سجدہ : اگر مساجد سے مراد محض سجدہ ہے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ سجدے صرف اللہ کے لیے ہیں اور کسی کے سامنے سجدہ نہ کرو۔ قطعاََ حرام ہے۔ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سجدہ سوائے خدا کے کسی کو بھی روا نہیں ، سورج کو ، نہ چاند کو ، نہ مخلوق میں سے کسی اور کو ، الغرض سجدہ صرف اس ذات کے لیے ہے جو سب کی خالق ہے۔ یہ سجدہ بعض صورتوں میں کفر و شرک بنتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں حرام ہوتا ہے۔ اگر تعظیم کا اعتقاد نہ ہو تو اس صورت میں بھی سجدہ حرام ہے۔ بعض قبر کو سجدہ کرتے ہیں۔ بادشاہ پیر ، برزگ ، استاذ ، باپ ہر کسی کو سجدہ حرا م ہے۔ سجدہ عبادت تو تمام شریعتوں میں اللہ کے سوا حرام رہا ہے۔ مگر سجدہ تعظیمی بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔ سجدہ کا مستحق صرف اللہ ہے۔ اعضائے سجدہ : مساجد سے مراد اگر اعضاء سجدہ ہیں تو اعضاء تو سارے اللہ نے ہی پیدا کئے ہیں۔ تو اللہ کے پیدا کردہ اعضاء غیر اللہ کے سامنے کیسے سجدہ ریز ہو سکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ساتھ اعضاء پر سجدہ کروں۔ ناک اور پیشانی تو ایک عضو ہی شمار ہوتا ہے اس کے علاوہ دو ہاتھ دو گھٹنے اور دو پائوں کل سات اعضاء ہیں جن پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ تو اللہ کے پیدا کردہ اعضاء صرف اللہ کے سامنے ہی سجدہ کریں گے۔ غیر اللہ کے لیے رکوع بھی جائز نہیں : ترمذی شریف کی حدیث میں صراحتاََ موجود ہے کہ جھک کر ملنا بھی درست نہیں۔ منہ سے سلام کہ سکتے ہیں ، ہاتھ سے مصافحہ درست ہے۔ معانقہ کرسکتے ہیں۔ بزرگوں کی قبرون کے ساتھ معاملہ : اب حالت یہ ہے بڑی بڑی قبروں پر سجدے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب میرے ساتھ الجھ گئے۔ تیس سال سے زیادہ عرصہ کی بات ہے کہنے لگے کوئی شخص قبر پر سجدہ نہیں کرتا ، یہ خواہ مخواہ الزام تراشی ہے۔ چناچہ میں ان کی سید علی ہجویری (رح) کی قبر پر لے گیا۔ ہم وہاں صرف پانچ منٹ ٹھہرے اور اتنے عرصہ میں سات آدمیوں نے وہاں سجدہ کیا۔ وہ صاحب کہنے لگے۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔ واقعی لو گ قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔ وہاں عجیب و غریب حالت تھی ، کوئی بوسہ دے رہا ہے۔ کوئی ہاتھ مل رہا ہے۔ کوئی چادر چڑھا رہا ہے۔ کوئی نذرانہ پیش کر رہا ہے۔ کوئی کچھ کر رہا ہے۔ کوئی حرکت کر رہا ہے یہ حکومت کیا کرتی ہے۔ اسے کمائی سے غرض ہے کبھی بیس ہزا ر روپے کی آمدنی ہے کبھی چالیس ہزار کی عرس کے موقع پر لاکھ دو لاکھ یومیہ آمدنی ہوتی ہے۔ محکمہ اوقاف نے کہا اصلاح کی ہے کیا لوگون کو شرک سے روکا ہے۔ لوگ اسی طرح کفر وشرک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حکومت خود برے نمونے قائم کرتی ہے۔ پختہ مزار بنائے جاتے ہیں۔ حالانکہ حضور ﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے قبروں کو پختہ نہ بنائو ، یہ حرام ہے۔ اور شرک کی ترویج کا ذریعہ ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ پچھلے دنوں ڈیڑھ سو زائرین کا جو وفدا جمیر شریف گیا ، وہ مزار پر چڑھانے کے لیے دولاکھ روپے مالیت کی چاردر ہمراہ لے کر گیا۔ آپ ہی بتائیں کہ اس میں کیا تک ہے۔ لوگ بھوکوں مریں ، کھانے کو کچھ نہ ملے اور آپ دو لاکھ روپے کی چادر چڑھا رہے ہیں۔ یہ کس شریعت میں جائز ہے۔ یہ تو کفر و شرک کی بات ہے۔ قبروں پر بیشک جائو مگر فاتحہ پڑھنے کے لیے ایصال ثواب کے لیے۔ اس کے علاوہ کسی چیز کی اجازت نہیں۔ باقی تمام چیزیں کفر ، شرک بدعت ہیں اس سلسلہ میں حکومت کے وزراء حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جب حکومت خود چادریں چڑھا ئیگی تو باقی لوگ کیا کریں گے۔ کیا قبروں پر چادریں چڑھانا وزیروں کا کا م ہے۔ کیا عرس کرنا ایڈمنسٹریڑوں کا کام ہے مگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ لوگوں کو توحید کے راستے سے ہٹا کر کفر کے راستے پر ڈالا جارہا ہے۔ اور حکومتیں سر پرستی کر رہی ہیں۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں بڑی بات کیا ہو سکتی ہے۔ مستحق عبادت صرف اللہ تعالیٰ ہے : الغرض اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ کہہ دیجئے کہ میری طروحی کی گئی ہے۔ کہ مسجدیں یا سجدے یا اعضاء سجدہ اللہ کے لیے ہیں ، لہذا سجدہ سوائے خدا کے کسی کو روا نہیں ، اپنی حاجتوں میں صرف خدا کو پکارو۔ اپنی عبادتوں میں صر فاللہ کے سامنے ہی جھکو۔ وہی عبادت کا مستحق ہے۔ جب ہم ذات الہٰی کے لیے الہٰ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا معنی یہی ہوتا ہے۔ کہ مستحق عبادت صرف وہی ہے اور کوئی نہیں باقی تو ساری مخلوق ہے۔ اور مخلوق ہونے میں سب برابر ہیں۔ تو ایک مخلوق دوسری مخلوق کی معبود کیسے ہو سکتی ہے۔ مخلوق تو عابد ہے اور تم اس کو معبود بنا رہے ہو۔ کہیں قبر کی پرستش ہورہی ہے۔ کہیں پیر صاحب کے سامنے سجدہ ہورہا ہے۔ کہیں نیاز ہورہی ہے۔ چڑھاوا چڑھایا جارہا ہے۔ دہائی دی جاری ہے کہیں مشکل کشائی کے لیے پکارا جا رہا ہے۔ یہ تمام باتیں مشرکانہ ہیں اور ناجائز ہیں۔ عابد اور معبود میں تفریق لازم ہے۔ اے لوگو ! اپنے رب کی عباد ت کرو۔ ایسا کون سا انسان ہے جس کی عبادت کی جائے ۔ سجدہ ہو یا کوئی عبادت اس کا مستحق صرف اللہ ہے عبادت کا مفہوم غایت درجے کی تعظیم ہے۔ یہ قول سے بھی ہوتی ہے اور فعل سے بھی اس کے مختلف طریقے ہیں ۔ سجدہ رکوع نیاز ، نداست عبادت میں داخل ہیں۔ اگر یہی افعال غیر اللہ کے لیے کئے جائیں تو شرک ہے ۔ شرک کی کم و بیش بیس قسمیں ہیں۔ کتاب دلیل المشرکین میں اس کی تشریح موجود ہے۔ عبداللہ سے مراد حضور کریم ﷺ : کے سلسلے میں چوتھی بات یہ کہی کہ آپ کہہ دیجئے اور جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ۔ اور اس سے مراد حضور ﷺ جیسے عیسیٰ نے بھی خود کو اللہ کا بندہ کہا تھا۔ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ حضور ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ اے لوگوً ! جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعریف میں عیسائیوں نے مبالغہ آرائی کی اور کفر میں مبتلا ہوئے ، خبردار ! میری تعریف میں مبالغہ آرائی نہ کرنا۔ میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ تم بھی مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ انہوں نے تعریف میں مدح سرائی میں غلو کیا ، خبردار ! تم ایسا نہ کرنا۔ حضور ﷺ کا اعلان توحید : تو فرمایا جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا۔ اسے یعنی اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے لیے قریب تھا کہ یہ لوگ اس کے گرد لبدے کی طرح ٹھٹھ باندھ کر اکھٹے ہوجاتے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اللہ کا بندہ یعنی محمد ﷺ کلام الہٰی پڑھنا تھا۔ تو لوگ ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع ہوجاتے تھے۔ مومن تو اس لیے جمع ہوتے کہ آپ کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کریں اور کفار طعن وتشنیع اور اذیت پہنچانے کے لیے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت میں خیایت کی طرف اشارہ ہے کہ جب آپ وادی نخلہ میں کھڑے ہو کر خدا کو پکار رہے تھے تو جنات کی جماعت بالکل قریب ہو رہی تھی ، گویا کہ ٹھٹھ باندھ کر قریب تر ہو رہے تھے کہ قرآن پاک اچھی طر ح سن سکیں جسے سن کر جنات ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میں اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کی ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا جنات نے بھی کہا تھا۔ ہمارا خیال نہیں تھا کہ لوگ بری بات کرتے ہوں گے مگر معلوم ہوا کہ جن بھی شرک کرتے ہیں۔ اور انسان بھی۔ ارشاد ہو ا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔ میرا طریقہ الہ تعالیٰ کی وحدایت کو ماننا ہے۔ اور اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ خدا تعالیٰ کی ذات تمام شرکیہ باتوں سے پاک ہے۔ میں اس کی تردید کرتا ہوں۔ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔ نہ عبادت میں ۔ نہ مدد طلب کرنے میں ، نہ حاضر ناظر سمجھنے میں ، نہ مشکل کشائی میں ، نہ واجب الوجود ہونے میں نہ مدبر ہونے میں ، میں کسی کو خدا کا شریک نہیں بناتا۔ واجب الوجود بھی وہی ہے۔ علیم کل بھی وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی قادر مطلق نہیں اور کوئی ایسا نہیں جو اپنے ارادے سے جو چاہے کرے۔ خدا کے سوا کوئی نافع اور ضاء نہیں۔ کوئی اس لائق نہیں۔ کہ اس کے نام کی نذرو نیازی دی جائے۔ نفع اور نقصان نبی کے اختیار میں نہیں ہے :ـ ارشاد خدا ہے کہ آپ یہ بھی کہہ دیں یعنی اے لوگو ! میں تمہارے لیے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ یہ چیزیں میرے اختیار میں نہیں ہیں۔ کیونکہ النافع ، اور الضار ذات خدا وندی ہے۔ جتیٰ کہ میں تم کو ہدایت بھی نہیں نہیں کرسکتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ یعنی اے نبی ﷺ ! جس کو آپ چاہیں ، اپنے ارادے سے منزل مقصو د تک نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ ہدایت تو اللہ دیتا ہے جس کو چاہے۔ حضور ﷺ کو اپنے چچا ابو طالب کے اسلام لانے کی کتنی طلب تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو منظو نہ تھا۔ ابو لہب بھی حضور ﷺ کا حقیقی چچا تھا۔ اس کے متعلق بھی ارشاد خدا وندی ہے۔ اور وہ اور اس کی بیوی دونوں دوزخ میں جائیں گے۔ کیونکہ وہ شرک سے باز نہیں آئے۔ ابو طالب نے باوجود حضور ﷺ کا وفادار ہونے اور حمایت کرنے کے ایمان قبول نہیں کیا۔ لہذا دوزخ کا شکار ہوا۔ اسی لیے فرمایا کہ میں تمہارے لیے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں ، نافع اور ضار ہونا صفت خدا وندی ہے۔ دنیا میں انسانوں نے کیسے کیسے بیہودہ عقیدے بنائے ہوئے ہیں ۔ کوئی پیر کے متعلق نفع و نقصان کا عقیدہ رکھتا ہے۔ کوئی قبر والے کے بارے میں کوئی جبرائیل اور میکا ئیل (علیہ السلام) کے بارے میں کوئی خیانت کے بارے میں تعویز وغیرہ جلا کر جنات کو طلب کرنا ، انہیں مشکل کشائی میں شریک کرنا وغیرہ وغیرہ سب شرکیہ باتیں ہیں کیونکہ نفع و نقصان کا مالک صرف خدا وند قدوس ہے۔ اس کے علاوہ مافوق الاسباب کوئی فریاد رس نہیں۔ آن کل تو بچوں کو کیٹ (CAT) میٹ (MAT) ریٹ (RAT) پڑھایا جاتا ہے پہلے زمانے میں کریما پڑھایا جاتا تھا۔ جو توحید خالص کی طرف راہنمائی کرتا تھا۔ نداریم غیر از تو فریاد رس ، تو ئی عاصیاں راخطا بخش و بس۔ اے مالک الملک ! تیرے سوا کوئی فریاد رس نہیں ہے ، گناہگاروں کے گناہ معاف کرنے والا تو ہی ہے۔ اور کوئی نہیں جیسا فرمایا ایک مجبور آدمی کی پریشانی میں جب سارے ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں تو پریشانی کو کون دور کرتا ہے۔ کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ اگر نہیں ہے تو پھر یہ لوگ کیوں شرک میں مبتلا ہیں۔ محاسبے کے عمل سے انبیاء (علیہ السلام) بھی متثنیٰ نہیں : نبی ﷺ کو مزیدارشاد ہوا کہ آپ اس بات کا بھی اعلان کردیں کہ مجھے خدا کے سامنے کوئی بھی پناہ نہیں دے گا۔ اگر میں نے کوئی ایسی کفرو شرک والی بات کی معصیت کا ارتکاب کیا ، اور میں خد ا کے سوا کوئی جائے پناہ بھی نہیں پاتا۔ ہر نبی سے یہی کہا اگر میں اپنے رب کی ذرا بھی نافرمانی کروں گا۔ تو بڑے دن کے عذاب میں مبتلا ہو جائوں گا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) ، حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) اور خود حضرت محمد ﷺ نے بھی یہی کہا تھا کہ خدا کے سوا کوئی پناہ نہیں اور اگر میں ایسی بات کروں ، تو کوئی بچانے ولا نہیں۔ اگر آپ ذرا بھی شرک کریں گے تو خدا آپ کے سارے اعمال ضائع کردے گا۔ خدا تعالیٰ بالکل رعایت نہیں کرتا۔ اگر انبیاء (علیہ السلام) کا یہ حال ہے تو باقی لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے۔ کہ اگر وہ شرک کا ارتکاب کریں گے۔ تو ان کا کیا حال ہوگا۔ کیا ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ کفر کرنے کے باوجود اللہ کے پیارے ہی رہیں گے۔ اور اس کے نبی کے مقبول ہی ہونگے اور ہمیں معافیاں ملتی رہیں گی ؟ نبی کا کام پیغام الہٰی پہنچادینا ہے : فرمایا کہ میرا کام تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا پیغام پہنچا دینا ہے۔ ہدایت دینا میرا کام نہیں ہے۔ نہ میرے بس کی بات ہے۔ کسی کو منزل مقصود تک پہنچانا بھی میرے اختیار سے باہر ہے۔ اور سن لو جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا۔ اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ لہذا لوگوں کی بھلائی اسی میں یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اسکی وحدانیت کو مان لیں اس کے رسول کی بات کو بھی تسلیم کریں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا اور ہادی ہے۔ اور جو ان کی نافرمانی کرے گا۔ ا س کے لیے جہنم کی آگ تیار ہے۔ جس سے خلاصی ممکن نہیں۔
Ayahs 72:24–28

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھیں گے جس کا اسن سے وعدہ کیا گیا ہے۔ پس یہ لوگ اس وقت جان لیں گے کہ کس کے مدگار کمزور ہیں اور تعداد میں کم۔

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے مدت دراز بنائے گا۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

غیب کو جاننے والا ہے پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر اپنے رسولوں میں سے جسے پسند کرتا ہے تو اس کے آگے اور پیچھے اللہ تعالیٰ چوکیدار بھیجتا ہے۔

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ ظاہر کر دے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں اور اس نے احاطہ کیا ہے کہ ان کے تمام احوال کا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی گنتی کر رکھی ہے۔

گذشتہ سے پیوستہ : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی کریم ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف اس با ت کی وحی کی گئی ہے۔ کہ جنات کے ایک گروہ نے کلام الہٰی پر ایمان لائے اور کفر و شرک سے بیزاری کا اعلان کیا۔ دوسری بات آپ یہ بھی فرمادیں کہ اگر انسان اور جن اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ راستے یعنی اس کی وحدانیت عبادت اور اطاعت کے راستے پر رہیں گے تو ہم ان کے لیے وسائل رزق کو آسان کردیں گے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں۔ اس کی ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو ، کسی کو نہ پکارو۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے متعلق فرمایا کہ اللہ کا بنہد جب اسے پکارنے کے لیے کھڑا ہوا تو یہ لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے۔ حکم ہوا کہ آپ کہہ دیں کہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور بس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔ نیز یہ کہ میں تمہارے لیے نفع ، نقصان یا ہدایت کا مالک نہیں ہوں ، اور اگر میں نے نافرمانی کی تو مجھے ہرگز پناہ نہیں دے گا۔ اور کوئی نہیں بچا سکے گا۔ میرا کام تو پیغام الہٰی کو پہنچانا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرفانی کرے گا۔ اس کے لیے نا ر جہنم کی وعید ہے۔ جس میں ہمیشہ رہے گا۔ نصرت الہٰی ہی کا میابی کی دلیل ہے : سورة کے آخری حصہ میں نبوت و رسالت ، اللہ تعالیٰ کی صفات اور قیامت کا ذکر ہے۔ اور ساتھ مشرکین کا شکوہ بھی ہے ۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے واعدہ کیا گیا ہے۔ یہاں پر ابتدائے یہ ہے ۔ یعنی یہ حالت اسی طرح قائم رہے گی۔ نافرمان لوگ مخالفت کرتے رہیں گے۔ شرک میں مبتلا رہیں گے۔ حق سے گریزان رہیں گے۔ ٹھٹھا مذاق کریں گے۔ ایذاء پہنچائیں گے۔ یہاں تک کہ وعدے کا دن آجائے گا۔ یعنی قیامت برپا ہوجائے گی۔ وعدے کے دن سے مراد یوم الحساب ہی ہے کہ قبر ستان کی بعض مسنونہ دعائوں میں یہ الفاظ آتے ہیں۔ یعنی تمہارے پاس وہ چیز آچکی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اور جس کے لیے مہلت دی گئی تھی۔ تم تو یہاں قبرستان میں پہلے پہنچ چکے ہو۔ اور ہم بھی تم سے عنقریب ملنے والے ہیں ۔ یعنی موت ہر ایک لیے برحق ہے۔ اس کے بعد برزخ بھی برھق ہے۔ اور پھر جزا و سزا کی منزل بھی برھق ہے جس کے لیے دنیا میں مہلت دی گئی تھی۔ ہر شخص اور ہر قوم کو مہلت دی جاتی ہے اور اس کے بعد جب وقت آجاتا ہے۔ پھر اس میں تاخیر نہیں ہوتی۔ وعدے والی چیز کا وقوع اجتماعی بھی ہے اور انفرادی بھی۔ اجتماعی طور پر تو قیامت واقع ہوگی۔ جب ہر چیز فناہ ہونے کے بعد دوبارہ قائم ہوگی۔ اور انفرادی طور پر وعدہ ہر شخص کی موت پر آجاتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ یعنی جو آدمی مر گیا۔ اس کی قیامت بر پا ہوگئی ۔ کیونکہ سوال و جواب کی منزل شروع ہوجاتی ہے۔ محاسبہ کا عمل بھی جزوی طور پر شروع ہوجاتا ہے۔ اگر چہ مکمل محاسبہ حشر کے دن ہوگا۔ محاسبے کے عمل سے کوئی شخص نہیں بچ سکتا۔ برزخ میں ہر ایک کا محاسبہ ہوتا ہے۔ جس میں جزا و سزا کا مکمل احساس ہوتا ہے۔ تو اسی واسطے یہ ارشاد ہو رہا ہے۔ کہ یہ لوگ مخالفت کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ آجائے وہ چیز جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پس یہ لوگ اس وقت جان لیں گے کہ کیں کی مدد کمزور ہے۔ آج تو یہ نبی ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو کمزور سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس دینوی مال و اسباب کی کمی ہے ان کے پاس فوج نہیں ہے مگر اس دن پتہ چلے گا کہ کمزور کون ہے اور تعداد میں کون کم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایمان کے بغیر تعداد کی کثرت اور مال و دولت کی فراوانی و بال ہے۔ جیسا کہ سورة حآقہ میں گذر چکا ہے کہ انسان کف افسوس ملتا ہا کہے گا افسوس ! میرے مال نے مجھے کچھ فائدہ نہ دیا۔ نیز میری حکومت بھی مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی۔ نہ جفو کام آسکی ۔ نہ پاڑتی کا فائدہ ہوا نہ کثرت تعداد میں کثرت مال مفید ثابت ہوا۔ وہاں پر پتہ چلے گا کہ وہ نصرت کس کی کا م آتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی کریں گے۔ اس دن ایمان داروں کی مدد اللہ کی جانب سے ہوگی۔ سب معاملات درست ہو جائین گے۔ برخلاف اس کے من کریں کی نہ کوئی جماعت رہے گی۔ نہ فوج ، نہ مال و دولت کا م آئے گا۔ چناچہ اس دن انہیں معلوم ہوگا کہ مدد کس کی کمزور ہے اور تعداد کسی کی کم ہے لہذا دنیا میں اگر حق پرستوں کی حمایت قلیل ہو تو انہیں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اللہ کی مدد پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ وقع قیامت کا وقت نبی کے علم میں نہیں تھا : مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ جب آپ کے کہنے کے مطابق جزائے عمل کی منزل برحق ہے تو پھر قیامت برپا کیوں نہیں ہوتی۔ جیسے سورة ملک میں آتا ہے۔ اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ یعنی قیامت کب پر با ہوگی۔ اسی نوعیت کے اعتراضات کے جواب میں یہاں فرمایا۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے۔ یا میرا رب اس کے لیے مدت دراز بنائیگا۔ اس قدر تو میں جانتا ہوں کہ جزائے عمل اور محاسبہ قطعی طور پر واقع ہوگا۔ مگر اس کے وقت انعقاد کے بارے میں نہیں جانتا۔ گذشتہ سورة میں بھی اسی قسم کا مضمون گذر چکا ہے۔ یعنی یہ لوگ اسے بعید خیال کرتے ہیں حالانکہ ہمارے نزدیک وہ قریب ہے۔ تاہم فرمایا کہ مجھے اس گھڑی کا علم نہیں ہے جس میں قیامت واقع ہوگی۔ سزا کا مقررہ وقت بھی اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے : ایک تو قیامت کا انعقاد ہے اور دوسرے سزا کا واقع ہونا۔ اگر شخصی طور پر بھی سزا واقع ہوگی تو وہ بھی اللہ کے علم میں ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ کہ کس وقت ان پر افتاد آتی ہے ۔ اور کس قسم کی سزا سے دوچار ہوتے ہیں۔ بسا اوقات انسانوں کو انسانوں کے ہاتھ سے سز املتی ہے۔ مشرکین مکہ کو بدر میں سزا دی گئی۔ کسی کو بیرونی ذرائع یعنی آفات ارضی و سمادی سے سزا دی گئی۔ جیسا کہ بعض قوموں کا حال گذر چکا ہے۔ تو ان تمام انفرادی آفتوں کے آنے کا وقت بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور مجموعی طور پر پر وقوع قیامت بھی اللہ ہی کے علم میں ہے۔ نبی (علیہ السلام) کو حکم ہوا۔ کہ آپ کہہ دیں کہ اس بات کا علم مجھے نہیں ہے کہ قیامت قریب ہے یا دور ہے۔ علم غیب خاصہ خداوندی ہے : اس ضمن میں مزید وضاحت فرمائی یعنی غیب کو جاننے والا صر فاللہ ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وقوع قیامت کے وقت کو میں نہیں جانتا۔ حضر ت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان میں بھی یہی ہے۔ یعنی اے مولا کریم ! تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔ یہاں لفظ الغیب استغراق اور جنس کے لیے ہے۔ یعنی جنس غیب اور تمام غیوب کا جاننے والا صروہی ہے۔ اس کے سوا باقی مخلوق کے لیے غیب کی نفی کی گئی۔ لہذا مخلوق میں سے کسی کو عالم الغیب کہنا درست نہیں ہے۔ فرمایا کی ساری کائنات میں غیب سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ فقہائے کرام اور علم عقیدہ والے بھی یہی کہتے کہ عالم الغیب کا اطلاق صرذات خدا وندی پر ہوتا ہے۔ غیب کا لفظ اضافی طور پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور مطلق بھی اضافی طور پر اس طرح کہ بعض چیزیں بعض مخلوق جانتی ہے۔ اور بعض نہیں جاتنی۔ لہذا بعض کے لیے وہ غیب ہے اور دوسروں کے لیے غیب نہیں۔ آسمانی مخلوق بہت سی باتوں کو جانتی ہے ۔ دوسری مخلوق نہیں جانتی۔ بعض چیزیں زمین والے جانتے ہیں۔ آسمان والے فرشتے نہیں جانتے۔ تو یہ گویا غیب اضافی ہے اسی طرح ہر شخص بعض چیزیں دوسرے کی نسبت جانتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا علم بعض لوگوں کو ہوتا ہے بعض کو نہیں ہوتا۔ یہی اضافی غیب ہے۔ البتہ الغیب یعنی کلی غیب سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ ذرے ذرے کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز غائب نہیں اس ضمن میں فقہائے کرام فرماتے ہیں۔ کہ غیب اور شہادت کے الفاظ مخلوق کی نسبت سے آئے ہیں۔ کہ مخلوق کے نزدیک بعض چیزیں حاضر ہیں۔ اور بعض غائب ، بعض چیزوں کا علم مخلوق کو ہوتا ہے۔ بعض چیزوں کا نہیں ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ کا عالم الغیب والشہادۃ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے۔ جو مخلوق کے نزدیک غیب کا درجہ رکھتی ہیں یا وہ حاضر ہیں۔ اور ان کے محسوسات میں آتی ہیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کا علم انبا غیب ہوتا ہے : امام ابو بکرحصاص (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ایک یقینی اور قطعی بات ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) غیب نہیں جانتے۔ سوائے اس کے جو اللہ ان کو بتلاتا ہے۔ چناچہ انبیاء جو جو چیز بتائی جاتی ہے ۔ ا س پر قرآن پاک میں انباء غیب کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقہ کے متعلق فرمایا یعنی یہ غیب کی خبروں میں سے ہے ۔ یعنی ایسا واقعہ ہے جو تاریخ سے معلوم نہیں اور انسانی روایات بھی منقطع ہیں۔ اس طرح آئندہ پیش آنے والے واقعات ، مثلاََ جنت ، دوزخ ، عالم برزخ ، خدا کی ذات ، صفات ، عالم لاہوت ، بنا ملکوت عالم مثال وغیرہ سب غیب ہیں مگر انبیاء (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی ان سے اگاہ کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کو پڑھ کر سنار ہے ہیں ۔ دوسری جگہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت مریم ؓ کے متعلق صاف صاف فرمادیا۔ یعنی نہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ اور آپ وہاں موجود نہیں تھے جب وہ اپنی قلمیں ڈال رہے تھے۔ یعنی قرعہ اندازی کرر ہے ہیں۔ کہ کس کا قلم پانی میں رکتا ہے۔ اور کس کا چلتا ہے۔ اے نبی کریم ﷺ آپ کو کوئی علم نہیں تھا یہ تو ہم نے وحی کے ذریعے آپ کو بتایا۔ یہ چیزیں آپ نے نہ کسی کتاب میں پڑھیں اور نہ کسی استاد سے بلکہ اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو بتائیں اور یہی غیب کی خبریں کہلاتی ہیں۔ البتہ وہ ذرہ ذرہ کا علم اللہ ہی کو ہے۔ علیم کل ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اسی طرح قدرت تامہ اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ میں سے ہے قادر مطلق اللہ کی ذات ہے۔ مخلوق کا علم قلیل اور محدود ہوتا ہے۔ مگر اللہ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے اسے ایک ایک ذرے کا علم ہے۔ الغرض کلی علم صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ قیامت کے وقوع کا علم مجھے نہیں دیا گیا۔ قرآن پاک نے مزید فرمایا اللہ نے اس کا وقت کسی کو نہیں بتایا۔ نہ جبرائیل کو نہ میکائیل کو بلکہ صور پھونکنے والا اسرافیل فرشتہ بھی منتظر ہے کہ کب حکم ہو تو بگل بجائوں۔ اللہ نے اس کو بھی علم نہیں دیا۔ کیونکہ عالم الغیب وہی ہے۔ انبیاء (علیہ السلام) کے عطائے علم کی حیقیت : آیت کے اگلے حصے میں انبیاء (علیہ السلام) کو عطائے علم کی حقیقت بتائی جارہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے خاص غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر اپنے رسولوں میں سے جسے پسند کرتا ہے۔ رسول تو سارے ہی پسندیدہ ہیں ۔ یہاں پر من بیانیر ہے۔ تبعیض کے لیے نہیں۔ یعنی جن رسولوں کو پسند کرتا ہے۔ اب رسول عام ہے اور نبی خاص۔ رسول ملائکہ میں بھی ہوتے ہیں۔ ان کو بھی اللہ تعاولیٰ علم عطا کرتا ہے۔ جیسے جبرائیل (علیہ السلام) اور پھر وہ انسانوں تک لاتے ہیں۔ اور رسول انسانوں میں بھی ہوتے ہیں نبی کی تعریف یہ ہے کہ یعنی نبی وہ انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ انسانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مبعوث فرماتے ہیں۔ اور رسول عام ہے کہ انسان بھی ہوتا ہے اور غیر انسان بھی جیسے فرمایا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ملائکہ میں سے بھی رسول منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ نبی اور رسول میں فرق : متکلین نبی اور رسول کی تشریح اس طرح فرماتے ہیں کہ نبی وہ ہوتا جس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اور رسول وہ ہوتا ہے جس پر وحی بھی نازل ہوتی ہے اور اس کو مستقل شریعت بھی دی جاتی ہے۔ یا کتاب دی جاتی ہے ۔ نبی کے لیے مستقل شریعت نہیں ملتی تھی۔ ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تبلیغ کرتے رہیں ۔ ہاں رسولوں کو نزول وحی کے علاوہ مستقل بھی دی گئی ۔ جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت دائود ، حضرت ادریس ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) یہ سب رسول تھے۔ انبیاء (علیہ السلام) کو تمام شرعی علوم سے نوازا جاتا ہے۔ الغرض ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے پسند کرلیتا ہے۔ اسے وہ علم عطا کرتا ہے۔ جو اس کے منصب کے لائق اور مناسب ہو ، ذرہ ذرہ کا علم نہ نبی کو ضرورت ہے۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ ہاں شریعت کی تکمیل اور امت کی تربیت کے لیے تمام علوم انبیائ (علیہ السلام) کو عطا کئے جاتے ہیں۔ تکمیل شریعت اور تربیت امت سے متعلق کوئی ایسا علم نہیں جو نبی کو نہ دیا جائے۔ اور پھر یہ نبی کی ذمہ داری ہے۔ کہ وہ آگے لوگوں تک پہنچائے ۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ یعنی جو چیزیں تمہیں خدا تعالیٰ کی رحمت کے مقام تک پہنچانے والی ہے اور خدا کے غضب سے بچانے والی ہے۔ وہ سب چیزیں میں نے تم کو بتا دیں۔ اللہ تعالیٰ ے ان کا مکمل علم حضور ﷺ کو عطا فرمایا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ شریعت اور دین کے متعلق کوئی علم اللہ نے اپنے نبی کو نہیں دیا۔ تو یہ غلط ہے۔ دین کا علم اللہ تعالیٰ نے مکمل کردیا۔ اس کے علاوہ جو غیر شرعی احکام ہیں ان کا علم بھی اللہ تعالیٰ نے باقی مخلوق کی نسبت انبیاء (علیہ السلام) کو زیادہ ہی دیا ہے۔ مگر ذرے ذرے کا علم نہیں دیا کہ یہ خاصہ خداوندی ہے۔ شعر گوئی منصب نبوت کے خلاف ہے : ہاں جو چیزیں منصب نبوت کے خلاف ہیں اور اس منصب کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتیں ان کا علم اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہ السلام) کو نہیں دیا۔ جیس ا کہ سورة یٰس میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ہم نے اپنے نبی کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ ہی یہ ان کی شان کے شایاں ہے کیونکہ شاعروں کے پیچھے لگنے والے اکثر فضول لو گ ہی ہوتے ہیں۔ واہ واہ کرنے والے شراب پینے والے جو اکھیلنے والے ، ہاں جو مومن ہیں ان کی شاعری میں کچھ اچھی باتیں بھی ہیں ورنہ اکثر شاعری تخیلات پر بنی ہوتی ہے جو نبی کی شان کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی۔ نبوت کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے۔ اور شعرو شاعری کا مبنیٰ تحیل پر ہوتا ہے۔ جس قدر خیالی اور وہمی چیز ہوگی اتنا ہی شعر لذیز معلو م ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے شعر و شاعری نبی کو سکھائی ہی نہیں۔ یہ کتنا بڑا فن ہے ا س میں ہزاروں لاکھوں کتابیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نہیں سکھایا۔ سحر اور جادو کا علم مسمریزم کا علم کہانت کا علم ، جفر اور مل کا علم بڑے بڑے علوم ہیں مگر منصب بنوت کے منافی ہیں۔ لہذا اپنے نبی کو نہیں سکھائے کہ یہ اس کی شان کے مناسب نہیں۔ لہذا حضور ﷺ کی ذا ت پر عالم الغیب کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے۔ دنیوی علوم منصب نبوت سے خارچ ہیں : بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہ جب سے کائنات پیدا ہوئی ہے۔ اس وقت سے لے کر قیامت تک کے ذرے ذرے کا علم حضور ﷺ کو دے دیا گیا۔ یہ تو قرآن پاک کی تکذیب ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں کہ ہم نے شعر کا علم نبی کو نہیں دیا۔ اس کی شان کے منافی ہے۔ تو پھر ذرے ذرے کا علم کیسے ثابت ہوا۔ ہاں دینی احکام کے متعلق آپ کو مکمل علم عطا کیا گیا۔ کائنات کی بہت سی چیزوں کا علم دیا اور بہت سی چیزوں کا نہیں دیا۔ مسلم شریف کی پیوند کاری والی حدیث موجود ہے۔ حضور ﷺ نے خیالی فرمایا کہ درختوں کی پیوند کاری شاید کسی غلط رسم کی بنا پر کی جاتی ہے۔ لہذا آپ نے فرمایا کہ اگر لوگ نہ کریں تو اچھا ہے۔ حالانکہ اس بارے میں وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ تو لوگوں نے پیوند کاری ترک کردی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پھل کے موسم میں درختوں پر پھل ہی نہ آیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تو لوگوں نے عرض کای کہ حضور ﷺ آپ کے ارشاد کی تعمیل میں ہم نے پیوندکاری چھوڑ دی۔ لہذا پھل نہیں آیا۔ یہ تو قدرت کا نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یعنی جوڑے پیدا کئے ہیں ۔ نرکھجور کا بورہ مادہ کھجور پر پڑتا ہے۔ تو تلقیح پیوند کاری ہوتی ہے۔ اور اس سے اللہ تعالیٰ پھل پیدا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو دنیوی بات تھی اور اسے تم بہتر جانتے ہو۔ اسی طرح اور بہت سی چیزیں ہیں۔ جن کا علم نبی کے لیے ضروری نہین۔ مثلاََ تجارت کا علم کاروبا رہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ہے۔ صنعت و حرفت ہے۔ اگر نبی ان میں سے کوئی علم نہیں جانتا۔ تو اس سے منصب نبوت میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ ہاں دین کے احکام تقرب الی اللہ احلال و حرام جائزو ناجائز۔ وغیرہ کے متعلق اگر کوئی کہے کہ نبی کو علم نہیں تو وہ کفر ہوگا۔ دینوی معاملات کو نبی کی نسبت دوسرے لوگوں کا بہتر جاننا عین ممکن ہے۔ علم غیب کا بال عقیدہ : بہر ھال عالم الغیب صرخدا کی ذات ہے۔ تخلیق کائنات سے قیامت تک کا علم حضور ﷺ کو نہیں دیا گیا۔ ایسا عقیدہ شرکیہ اور باطل عقیدہ ہے کیونکہ علیم کل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اور یہ اس کی صفت مختصہ ہے۔ ہاں جو چیز اللہ نے حضور ﷺ کو بتا دی وہ انباء غیب میں آگئی۔ اور غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر ذریعہ اور سبب کے معلوم ہو۔ نہ وحی ہو نہ مشاہدہ ہو۔ نہ الہام ہو ، نہ آنکھ سے ہو نہ عقل سے ہو کسی بھی ذریعے سے حاصل نہ ہو۔ جو علم بغیر سبب اور بغیر ذریعے کے حاصل ہو وہی غیب کہلاتا ہے۔ اور جو کسی ذریعہ سے حاصل ہو۔ وہ غیب نہ رہا۔ لہذا انباء غیب میں شما ہوگا۔ یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم نے بذریعہ وحی آپ کو بتا دیں۔ نبی کا علم محدود ہوتا ہیـ: اس آیت سے بھی لوگ غلط مطلب لیتے ہیں۔ حالانکہ ان کا تعلق کے ساتھ ہے۔ کہ میں نہیں جانتا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں رسولوں پر غیب ظاہر کرنے سے مراد کلی غیب ہے یعنی اللہ تعالیٰ جس رسول کو پسند کرتا ہے۔ ا س پر کلی غیب ظاہر کردیتا ہے۔ یہ باکل باطل معنی ہے کیونکہ آیت خود بتا رہی ہے کہ مجھے قیامت کے واقع ہونے کا علم نہیں۔ اسی طرح بارش نازل ہونے کی گھڑی اور اس کی پوری کیفیت سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔ کہ کتنے قطرے نازل ہوں گے۔ کوئی سائنسدان نہیں بتا سکتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے۔ مومن ہے یا کافر ، نیکو کار ہے یا بدبخت ، اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ سوائے خدا کے کسی کے علم میں نہیں۔ بعض ایسے آلات ہیں جن کے ذریعے ڈاکٹر حکیم معلوم کرلیتے ہیں کہ پیٹ میں بچہ ہے یا بچی مگر یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ یہ نیک ہے یا بد اس کی عمر کتنی ہوگی۔ یہ دنیا میں کیا کام کرے گا ، اسی طرح بارش کے کتنے قطرے برسیں گے۔ کون سا قطرہ مفید ہے اور کون سا مضر ہے۔ کس سے سیرابی ہوگی اور کونسا طوفان کی شکل میں تبدیل ہوگا۔ اول سے آخر تک کون جان سکتا ہے۔ قیامت کب واقع ہوگی۔ ہر شخص کی موت کہاں آئے گی۔ یہ سب کچھ اللہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں ذات خداوندی کے ساتھ محتص ہیں۔ لہذا عالم الغیب و الشادۃ ہی ہے وہ نبیوں کو سب سے زیادہ علم عطا کرتا ہے۔ مگر وہ بھی محدود ہوتا ہے کیونکہ بہت سی چیزوں کا علم اللہ نے انبیاء (علیہ السلام) کو بھی نہیں دیا۔ انبیاء (علیہ السلام) اور اولیائے کرام کے علم میں فرق : غیب کو رسول پر ظاہر کرنے کی علت بیان فرمائی کہ نزول وحی پورے اہتمام کے ساتھ ہوتی ہے۔ جب فرشتہ اللہ کے احکام لے کر آتا ہے ۔ تو اس کے آگے اور پیچھے اللہ تعالیٰ چوکیدار بھیجتا ہے۔ ہر طرف پہرے لگا دیتے ہیں۔ تاکہ جنات اور شیاطین کوئی دخل اندازی نہ کرسکیں۔ اور احکام الہٰی محفوظ طریقے سے پہنچ جائیں۔ نہز یہ کہ یعنی خدا تعالیٰ ظاہر کر دے کہ نبیوں نے اپنے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ تو گویا جو علم اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو محفوظ طریقے سے پہنچاتا ہے وہ قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔ کیونکہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس کا ظرف بڑا ہوتا ہے۔ اور اس میں فرائض کی ادائیگی کی پوری صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ برخلاف ا س کے ولی کو جو الہام ہوتا ہے۔ اس کے سمجھنے ادا کرنے اور ظاہر کرنے میں گڑ بڑ کا امکان ہوتا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ اگرچہ بعض چیزیں اللہ تعالیٰ اولیاء کو بذریعہ الہام بتا دیتا ہے۔ مگر وہ قطعی نہیں ہوتیں۔ کیونکہ ولی کا ظرف نبی کے ظرف کے برابر نہیں ہوتا۔ اور یہ یقین نہیں ہوتا کہ انہوں نے بالکل ویسا ہی اسے سمجھا ہے جیسا منشاء ایزدی ہے۔ اور پھر جب وہ اسے ادا کرتا ہے۔ تو اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاتی سکتی کہ انہوں نے ویسے ہی ادا کیا ہے جیسے انبیاء (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ اس میں غلطی کا امکان ہے۔ لہذا وہ قطعی بات نہیں ہوتی۔ اسی لیے شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص صحیح طور پر سمجھا نہیں وہ شخص اہل بدعت سے ہے۔ اہل حق میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ عقیدہ کے خلاف ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے منشاء مکمل طور پر نبی پر ظاہر کیا اور نبی نے اسے مکمل طور پر صحابہ تک پہنچایا۔ صحابہ نے اسے پورے طور پر سمجھا اور اسے دوسروں تک پہنچایا ، اسی لیے شیعہ ، رافضیہ یا معتزلہ کا اعتقاد باطل ہے۔ محیط کل اللہ کی ذات ہے : فرمایا کہ خدا تعالیٰ ظاہر کر دے کہ نبیوں نے اپنے رب کے احکام پہنچا دیے ہیں۔ اور وہ احاطہ کرتا ہے جو کچھ ان نبیوں اور رسولوں کے حالات ہیں۔ ہر چیز کا احاطہ اس کے پاس ہے جس قسم کے حالات ان کے سامنے پیش آتے ہیں یا آنے والے ہیں یا آپکے ہیں ، اللہ تعالیٰ سب کا احاطہ کرتا ہے۔ یعنی علیم کل صرف خدا کی ذات ہے۔ وہ قادر مطلق جو چاہے اپنے اختیار اور ارادے سے کرے۔ یہ بھی اس کی صفات مخقہ میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی گنتی کر رکھی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کائنات میں کل کتنے درخت ہیں ، درختوں پر کتنی ٹہنیاں اور کتنے پتے ہیں۔ کوئی سائنس دان ، کوئی ماہر علم نباتات بتا دے کہ پہاڑ میں ریت کے کتنے ذرے ہیں ، سمندروں میں پانی کے کتنے قطرے ہیں۔ سارے نفوس کتنے ہیں ان کے احوال کیا ہے۔ ان تمام چیزوں کا علم خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ محیط کل ہے۔ وہ ہر چیز کا شمار رکھنے والا ہے۔ اور پھر جتنا علم مناسب سمجھتا ہے۔ مخلوق کو دے دیتا ہے اور وہ انبائے غیب ہوتی ہیں۔ غیب دان فقط وہی ذات ہے۔ الغرض سورة مبارکہ کے آخر میں معا د کا ذکر بھی آگیا ہے۔ کہ اس کے وقوع کا علم صرف اللہ کو ہے ۔ شرک کی تردید بھی ہوگئی کہ کس طرح جنات نے شرک سے بیزاری کا اظہار کردیا۔ بعد میں دعوت الی التوحید بھی آگئی کہ سجدے صرف اللہ کے لیے ہیں۔ سجدہ الغیر اللہ شرک کے مترادف ہے۔ نبی کا طریقہ بھی یہی ہے یعنی میں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا۔ اے لوگو ! اگر بچنا چاہتے ہو ۔ تو اسی راستے کو اختیار کرو۔