73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 73:1–9

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے کمبل اوڑھنے والے۔

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

آپ رات کو کھڑے ہوں مگر تھوڑا حصہ۔

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

نصف شب یا نصف سے کچھ کم کردیں۔

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا نصف سے کچھ زیادہ کردیں اور قرآن پا ک ترتیل سے پڑھیں۔

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

بیشک ہم آپ پر ایک بوجھل بات ڈال رہے ہیں۔

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بیشک رات کو اٹھنا روندنے کے اعتبار سے زیادہ سخت ہے اور زیادہ درست ہے بات کرنے کے اعتبار سے۔

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بیشک آپ کے لیے دن کے قریب بہت شعل رہتا ہے۔

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور اپنے رب کے نام کو دیا کریں اور سب سے ہٹ کر صرف اس کی طرف الگ ہوں۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں لہذا اسی کو اپنا کار ساز پکڑو۔

کوائف اور مضامین سورة : اس سورة کا نام سورة مزمل ہے۔ سورة کی پہلی آیت میں ہی لفظ مزمل آیا ہے۔ جس کے نام پر سورة کا نام ہے۔ یہ مکی سورة ہے اسکی بیس آیات اور دو روکوع ہیں۔ اس میں دو سو پچاس الفاظ اور آٹھ سو آڑتیس حروف ہیں۔ سابقہ سورة جن کی طرح اس سورة میں بھی انبیاء عقائد کا ذکر ہے۔ جس طرح اس سورة میں توحید ، رسالت ، قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور دلائل توحید مذکور تھے اسی طرح اس سورة میں بھی ان بنیادی عقاد کا ذکر ہے۔ اس طرح گویا اس سورة کو سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت ہے۔ سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ کیا ۔ کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو اس سے متاثر ہوئے اور ایمان قبول کرلیا۔ جو بھی شخص اپنی ذاتی خواہشات اور تعصب سے الگ ہو کر کلام الہٰی کو سنے گا۔ اس کے لیے ہدایت کا راستہ ضرور واضح ہوجائے گا۔ جس طرح وہاں حضور ﷺ کے نما ز میں قرآن پاک پڑھنے کا بیان تھا۔ اسی طرح یہاں بھی قیام الیل اور قرآن پاک پڑھنے کا بیان ہے۔ قرآن پاکو سمجھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ کہ اسے نماز میں پڑھا جائے اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں اس کے پڑھنے کا طریقہ بتادیا ہے۔ تو یہ بھی اس سورة کی سابقہ سورة کے ساتھ مناسبت اور ربطہ ہے۔ زمانہ نزول : یہ سورة قرآن کریم کی نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے۔ سورة مزل کا پہلا رکوع نزول کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ پہلے اور دوسرے رکوع میں بارہ مہینے کا فرق ہے۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) تفسیر اتفان میں سے دوسرے مفسرین بھی لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ پر سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی ، وہ سوہ اقل کی پہلی پانچ آتیں ہیں یعنی ، اقرا باسم ربک الذی سے لے کر مالم یعمل تک اس کے متصل دوسرے نمبر پر سورة فاتحہ بھی وہیں نازل ہوئی۔ اور آپ کو وضو کا طریقہ بھی وہیں بتلا یا گیا۔ نزول وحی سے دوسرے دن حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضور ﷺ کے ساتھ نماز ادا فرمائی۔ اور ام المومنیں خدیجہ الکبری ؓ نے نماز ادا کی۔ نزول کے تیسرے نمبر کے متعلق مفسین کا اختلاف ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ تیسرے نمبر پر سورة مزمل کا پہلا رکوع نازل ہوا۔ اسکے بعد سورة مدثر ، پھر سورة ن اور پھر دوسری سورتیں ۔ اسلام کا انقلابی پروگرام : اسلا م نے اپنے ماننے والوں کو ایک انقلابی پروگرام دیا ہے۔ اس سورة میں ارشاد ہے۔ یعنی اے کمبل یا لحاف اور ڑھنے والے کھڑے ہوں رات کے وقت اور نماز اد اکریں۔ سورة مدثر کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپ کھڑے ہوں اور اللہ کی مخلوق کو برے نتائج سے خبردار کریں۔ تو گویا نزول کی طبعی ترتیب بھی یہی ہے۔ کہ پہلے رات کو نماز کے ذریعے ذاتی تکمیل کا حکم ہوا ہے۔ اور اس کے بعد اندار کے ذریعے مخلوق خدا کی تکمیل کا ذکر ہے۔ تو گویا اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لیے جماعت کی تیاری اور اس کے پروگرام کا ذکر کیا ہے۔ انقلاب ایک فردو احد کے بس کی بات نہیں اس کے لیے جماعت کی ضرورت ہے۔ وہ کون سی جماعت ہے اور اسے کس قسم کی ترتیب کی ضرورت ہے۔ اس سورة میں یہی باتیں بیان کی گئی ہیں جیسا کہ سورة کے دوسرے رکوع میں موجود ہے۔ اس آیت میں طائفہ سے مراد ہی گروہ صحا بہ ہے جو آپ کے ساتھ تھا۔ قرآن کریم یا انبیاء کرام ﷺ کا پروگرام انقلابی پروگرام ہوتا ہے۔ انقلاب کا معنی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ یعنی سابقہ غلط روش یا غلط عقیدہ یا بد اخلاقی کو تبدیل کرنا ہے۔ اور اس قسم کا انقلاب ایک ترتیب یا فتہ جماعت ہی بر پا کرسکتی ہے۔ انقلاب کے لیے جاری تربیت کی ضرورت ہے :ـ الغرض دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے لیے پہلی منزل تربیت ہے اگر انقلاب لانے والوں کو معیاری تربیت حاصل نہ ہو۔ تو وہ کوئی اچھا انقلاب نہیں لاسکیں گے ، بلکہ فساد بر پا کریں گے۔ جیسا کہ غیر اسلامی حکومتیں کرتی آئی ہیں۔ گذشتہ جنگ عظیم میں جاپان میں کیا ہوا تھا۔ وہی جاپان جس کا وزیر اعظم کل مر گیا ہے۔ وہ جاپانی النسل تھا ، مگر عیسائی مذہب اختیار کر رکھا تھا۔ ہم نے اخباروں میں پڑھا ۔ آپ نے بھی پڑھا ہوگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ امریکہ کے جاپان پر حملے کے نتیجے میں سوا لاکھ جاپانی عورتیں حاملہ ہوئی تھیں اور پھر ان کے بچے پیدا ہوئے۔ یہ تعداد وہ ہے جن کے بچے پیدا ہوئے۔ اور جن کے نہیں ہوئے ان کا آپ خود اندازہ لگالیں۔ تو یہ تھا وہ انقلاب جو امریکی سپاہیوں نے حرام کاری کی صورت میں جاپان میں برپا کیا۔ اس کے بعد ان بچوں کی حفاظت کا مسئلہ پید اہوا۔ تو امریکہ نے جاپانیوں کو امریکہ میں رہائش کے کچھ حقوق بھی دیے۔ تو بہرحال بغیر تربیت کے انقلاب برپا کرنے کا یہ حشر ہوا س مقام پر وہ اصول بتائے جا رہے ہیں جن کے مطابق حضور ﷺ اور آپ کی جماعت کی تربیت مطلوب ہے۔ قابل غور یہ بات ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے دنیا میں کس قسم کا انقلاب برپا کیا۔ تو یہ گویا انقلاب کی تیاری کی منزل ہے جس میں ذاتی تکمیل یعنی اپنی اصلاح مقصود ہے ۔ جب یہ پہلا مرحلہ طے ہوجائے گا تو پھر دوسرا مرحلہ اصلاح عالم کا آئے گا۔ جہاں کی اصلاح وہی لو گ کرسکتے ہیں جن کی اپنی ذاتی اصلاح ہو کر روحانی ترقی نصیب ہوچکی ہو۔ اسی لیے امام رازی (رح) امام بیضادی (رح) جیسے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ انبیاء (رح) اپنے اپنے زمانے میں انسانوں کی قوت نظری اور قوت عملی کی تکمیل کرتے رہے۔ جب یہ تکمیل ہوجاتی ہے تو انسان انقلاب بر پا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اور اگر اپنی ہی اصلاح نہیں ہوئی تو دوسروں کی اصلاح کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ وہی مرحلہ ہے جس میں ذاتی اصلاح کی ضرورت ہے۔ لفظ مزمل کے معانی : لفظ مزمل کے دو معنے آتے ہیں اور دونوں ہی اس مقام پر صادق آتے ہیں۔ کپڑا اوڑھ لینا جس سے مزمل ہے یعنی کپڑا اوڑھنے والا۔ دوسرا تزمل ہے۔ زمیل ساتھی کو کہتے ہیں اور مزمل ساتھی اکٹھا کرنے والے کو۔ پہلا معنی تو عام ہے جیسا کہ احادیث اور تفاسیر کی کتابوں میں موجود ہے کہ ابتداء میں جب حضور ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو اس کی دہشت تھی چونکہ یہ نئی چیز تھی اور طبیعت پر بوجھ تھا جسم مبارک پر کپکپی طاری تھی۔ اسی حالت میں آپ گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ ؓ نے فرمایا کہ مجھے سردی لگ رہی ہے۔ مچھ پر کپڑا ڈال دو ، کمبل اوڑھا دو ، لہذا حضرت خدیجہ ؓ نے آپ کو کمبل اوڑھا دیا۔ لفظ مزمل کا ایک معنی یعنی کمبل اوڑھنے والے۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ جب آپ نے لوگوں کے سامنے نزول وحی کا اظہار کیا ، تو مخالفین نے طرح طرح کی باتیں بنائیں۔ جیسا کہ سورة ن میں گزر چکا ہے۔ کسی نے مجنوں کہا ، کسی نے شاعر کہا ، اور کسی نے کاہن کہا ، ان باتوں سے آپ کو غم لاحق ہوا اور آپ کمبل اوڑھ کر گھر میں لیٹ گئے۔ قیام الیل کا حکم : لہذا اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہ کر خطاب کیا یعنی اے کمبل اوڑھنے والے ۔ یعنی آپ رات کو کھڑے ہوں۔ مگر تھوڑا حصہ کھڑا ہونے مراد نماز کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ تاکہ اس سے آپ کو روحانی ترقی حاصل ہو اور تکمیل ذات ہو سکے اور اس سے آئندہ پیش آنے والے مشکل کام میں آپ کو آسانی ہو۔ لفظ مزمل کا دوسرا معنی یعنی ساتھی تلاش کرنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اے ساتھی تلاش کرنے والے آپ رات کا تھوڑا حصہ نماز کے لیے کھڑے ہوں نصف یا نصف سے کچھ کم یا نصف سے زیادہ۔ قیام الیل کی فضیلت : چنانچہ رات کے وقت ادا کی جانے والی نماز کے لیے قیام الیل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ یعنی اے ایمان والو ! تم بھی رات کے وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ اور تمہارے لیے قرب الہٰی کا ذریعہ ہے۔ وہ گناہوں کو مٹانے والی ہے۔ اور معاصی سے روکنے والی چیز ہے۔ لہذا تم بھی رات کو نماز یعنی تہجد پڑھا کروو۔ ترتیل قرآن :ـ اور نماز میں قرآن پڑھنے کا اسلوب یہ ہے یعنی قرآن پاک ترتیل سے پڑھیں۔ ترتیل سے مراد ہے آہستہ آہستہ ، واضح واضح اور صاف صاف کیونکہ اس طریقے سے تلاوت قرآن سے اس کا مطلب اور مفہوم سمجھ میں آئے گا۔ تیزی سے پڑھان بہتر نہیں ہے۔ جیسا کہ روایت میں آتا ہے۔ تم میں سے تلاوت کرتے وقت کسی کا یہ مقصد نہیں ہونا چاہیے کہ جلدی میں اخیر تک عبور کر جائوں۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ قرآن پاک اس طرح نہ پڑھو جس طرح ردی کھجور پھینکی جاتی ہیں۔ یا جیسے شعر گوئی کی جاتی ہے۔ بلکہ اطمیان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے تاکہ ذہین پر اس کا اثرع ہو۔ اس کا مفہوم بھی سمجھ میں آجائے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں۔ اس آدمی کا مسلمانی میں کیا حصہ ہوگا جس نے کتاب اللہ کے مفہوم ہی کو نہ سمجھا۔ اور وہ کونسی شرینی اور مٹھاس حاصل کرے گا۔ جس نے کلام اللہ کے مدلول کو نہ جانا ۔ نزول قرآن کا اصل مقصد تو اس سے نصیحت اور ہدایت حاصل کرنا ہے۔ اگرچہ خالی الفاظ کو پڑھنا۔ بھی غنیمت ہے۔ مگر اصل مقصد نہیں ہے۔ قرآن پاک کو پڑھنے کا بہترین طریقہ دوران نماز پڑھنا ہے۔ قیام اللیل تعلق باللہ کا ذریعہ ہے : تو بات یہ ہورہی تھی کہ دنیا میں بہتر انقلاب اس وقت آئے گا جب انقلاب لانے والوں می اس کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان کا تعلق اللہ کے ساتھ درست ہوگا تو گویا قیام الیل اور ترتیل قرآن تعلق باللہ کا ذریعہ ہے۔ جب انسان یہ ذریعہ حاصل کرلے گا تو اس میں روحانیت آئے گی۔ وہ مہذب ہوگا ، تربیت یا فتہ کہلائے گا۔ اور اسلامی انقلاب برپا کرسکے گا۔ لہذا ا س کے لیے ضروری ہے کہ انسان کلام الہٰی نماز میں پڑھے۔ اس کا مفہوم اپنے ذہن میں بٹھائے اور تعلق باللہ قائم کرے۔ کیونکہ اس کے بغیر اسلامی انقلاب نہیں لایا جاسکتا۔ اور اگر کوئی انقلاب آئے گا تو وہ فساد اور ظلم کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ دنیا میں عدل قائم نہیں ہوگا۔ خدمت خلق کی بچائے خدمت نفس ہوگی۔ اللہ کی اطاعت کی بجائے شیطان کی اطاعت ہوگی ۔ لہذا دنیا میں اللہ تعالیٰ کے قانون کو جاری کرنے کے لیے ضروری ہے۔ کہ سب سے پہلے اللہ کے ساتھ تعلق درست ہو جس کا ذریعہ قیام الیل ہے۔ ثقل قرآن : قیام الیل کے ذریعے ذاتی تکمیل کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ یعنی ہم آپ پر ایک بوجھل بات ڈال رہے ہیں۔ جو کہ کئی طرح سے ہے ۔ مثلاََ قرآن پاک کے پروگرام کو دنیا میں رائج کرنا ایک بڑا بوجھل کام ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ قرآن کو پہلے اپنے اندر جذب کرنا بجائے خود ایک ثقل ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی۔ تو اس سے اس قدر تپش پیدا ہوتی تھی کہ سخت سردی میں پسینے کے قطرے ٹپکتے تھے۔ اور اگر آپ کا سرمبارک کسی کی ران پر ہوتا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ران ٹوٹی جارہی ہے۔ احادیث میں حضرت زید ؓ یا حضرت علی ؓ کی ران پر آپ کے سر مبارک رکھنے کے واقعات ملتے ہیں۔ اسی طرح سواری کی حالت میں اگر وحی نازل ہوتی تھی۔ تو اونٹنی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ حضور ﷺ کی صرف ایک اونٹنی بڑی مضبوط تھی اور نزول وحی پر اسکی بھی یہ حالت ہوتی تھی کہ گردن اور پائوں اکڑ جاتے تھے۔ اور وہ اس طرح کھڑی ہوجاتی تھی۔ جیسے بہت بڑا وزن پڑگیا ہو۔ نزول وحی کی کیفیت اس قدر ثقیل ہوتی تھی کہ خود آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوجاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ نزول وحی کے وقت انخلاع ہوتا تھا۔ شاہ ولی اللہ (رح) کی اصطلاح میں انخلاع بشریت سے ملکیت کی طرف منتقلی کا نام ہے۔ اور اس طرح گویا فرشتے کے ساتھ مناسبت پیدا ہونے سے بڑا بوجھ پڑتا تھا۔ اس کے علاوہ مخالفین کے طعن کو برداشت کرنا پڑتا تھا۔ اسی لیے اگلی آیتوں میں کا حکم بھی آتا ہے مزید برآن قرآن کریم کا پڑھنا پڑھانا۔ اس کے احکام کا اجرا کرنا ۔ اس کی تعلیم کو عام کرنا ، جماعت کو منظم کرنا یہ تمام امور میں آتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم آپ پر طویل ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہذا پہلے آپ اپنی تکمیل کرلیں اور روحانیت کے بلند مقام پر فائز ہوجائیں۔ آپ کی جماعت کی تربیت بھی اسی درجہ کی ہونی چاہیے کہ ان میں ہر قسم کی مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاھیت پیدا ہوجائے۔ اگلی آیت میں وہ حکمت بھی بیان کردی ہے۔ جسکی بنا پر رات کو قیام کا حکم دیا جارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے بیشک رات کو اٹھنا روندنے کے اعتبار سے زیادہ سخت ہے اور زیادہ درست ہے بات کرنے کے اعتبار سے مطلب یہ کہ رات کے وقت اٹھ کر نماز پڑھنا بڑا دشوار کا م ہے۔ ویسے تع عام نماز پڑھنا بھی بڑا مشکل ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ یعنی نماز کی ادائیگی بڑا بوجھل کام ہے۔ سوائے خدا والوں کے جس انسان میں خشیت کا جتن امادہ ہوگا۔ اتنا ہی وہ نماز کا پابند ہوگا۔ ورنہ منافق قسم کے آدمی کے لیے یہی نماز روں کی بات ہے مگر رات کے وقت جب کوئی آرام کو چھوڑ کر تہجد کے لیے بیدار ہوتا ہے۔ تو یہ اس کے نفس کے لیے گویا روندنے والی چیز ہوتی ہے۔ بس یہی ہے وہ تربیت جس کی قرآنی پرو گرام پر عمل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پالے گا تو وہ جس میدان میں بھی جائے گا کامیاب ہوگا۔ اسی لیے فرمایا آپ کا رات کے وقت اٹھنا زیادہ شدید ہے۔ روندنے کے اعتبار سے رات کے پر سکون ماحول میں جو بات زبان سے نکلتی ہے ۔ وہ موثر ہوتی ہے کیونکہ دن کے وقت شور و شغب کی وجہ سے پوری دلجمعی نہیں ہوسکتی ۔ چناچہ رات کو نماز میں قرآن پاک کی تلاوت بڑی موثر چیز ہے۔ اسی بات کو واضح کای کہ بیشک آپ کے لیے دن کے وقت بہت سے اشغال ہیں۔ منجملہ ان کے عبادت ، جہاد کی تیاری ، مقدمات کا تصیفہ ، حقوق کی ادائیگی عوام الناس سے میل ملاقات تبلیغی پروگرام پر عمل درآمد بیرونی وفود سے گفت و شنیہ وغیرہ امور ہیں۔ لہذا تکمیل ذات اور حصول روحانیت کا مناسب موقعہ رات کو میسر آسکتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ آپ رات کو قیام کریں تاکہ تعلق باللہ درست طریقے پر قائم ہو سکے۔ ذکر الہٰی کے ذریعے تجلی الہٰی سے تعلق قائم ہوتا ہے : اس کے بعد وہ اصول بتائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یعنی اپنے رب کے ہم کو یا د کریں۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نام یا اسکی صفت جس کے ذکر کا حکم دیا گیا ہے۔ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی تجلی ہوئی ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ ذکر الہٰی کے ذریعے اللہ کی تجلی کے ساتھ تعلق قائم کریں۔ اور یہ تعلق ہی مدار فلاھ ہے۔ خصوصاََ تجلی اعظم کے ساتھ تعلق جو عرش الہٰی پر پڑتی ہے اور سب چیزوں کو رنگین کرتی ہے۔ تو آخرت میں اس تجلی کے ساتھ جب انسان بلند درجات پر پہنچیں گے۔ تو اس کے ساتھ براہ راست تعلق قائم ہوگا۔ اس وقت انسان اسے سمجھے سکیں گے اور اس کا عکس محسوس کریں گے۔ یہ تعلق اس مادی دنیا میں محسوس نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا حکم ہوا کہ اپنے رب کا نام لیں اور اس کی تجلی کے ساتھ اپنا تعلق قائم کریں۔ الغرض اپنے رب کا نام لیں اور سب سے ہٹ کر صرف اسی کی طرف الگ ہوں یہاں الگ ہونا کلیتہ مراد نہیں ہے۔ کیونکہ دن کے وقت تو باقی تمام امور سر انجام دینا ہوتے ہیں۔ لہذا علیحدگی رات کے وقت ہی ہو سکتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ رات کے وقت اٹھیں اور سب سے الگ ہو کرا پنے رب کا نام یاد کریں۔ نماز پڑھیں تاکہ تجلی الہٰی کے ساتھ تعلق قائم ہو۔ باطل قوتون کے مقابلے میں جماعت حقہ : جس رب کے ذکر کی ترغیب دی جارہی ہے اس کی صفت کاملہ یہ ہے کہ یعنی مشرق و مغرب کا رب وہی ہے۔ مشرق میں ایران اور مغرب میں روم ، دو بڑی سلطنتیں تھیں۔ انہوں نے دنیا میں بڑا فساد مچا رکھا تھا۔ اور ان کو ملیا میٹ کرنا حضور ﷺ کے پروگرام میں شامل تھا آج بھی دنیا میں دو حکومتوں نے فساد برپا کر رکھا ہے۔ ایک اشترا کی نظام کی حامل اور دوسری سرمایہ دارانہ نظام کی ۔ یہ دونوں ظالم حکومتیں اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے کمزور ملکوں کو استعمال کرتی ہیں۔ کسی زمانے میں برطانیہ اپنی طاقت اور وسعت کی بنا پر برطانیہ عظمٰے کہلاتا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس کی بداعمالیوں کی بدولت اسے سکیڑ دیا ہے۔ اور کمزور کردیا ہے۔ اب اس کا جانشین امریکہ ہے۔ وہ بھی انگریز ہیں۔ یہ روسی بھی بگڑے ہوئے انگریز ہیں ، یہودی اور نصرانی ہیں منح ہوچکے ہیں۔ یہی حال حضور ﷺ کے زمانہ میں تھا۔ کبیرو قصریٰ دو بڑی سلطنتیں تھیں۔ ساری دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ آدھی قیصر کے ساتھ انہوں نے دنیا میں فسا مچا رکھا تھا جس کا نقشہ شاہ ولی اللہ (رح) نے حجتہ اللہ البالغہ میں کھینچا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں تھا کہ ان دونوں ظالم حکومتوں کو درہم برہم کر کے ان کی جگہ نبی کو کھڑا کیا جائے اور ایسی جماعت کو برسر اقتدار لایا جائے۔ جن میں ظالم حکومتوں والی کوئی خرابی نہ ہو۔ یعنی ایسی جماعت جس میں مشرقیوں والی برائیاں ہوں ، نہ مغربیوں والی خرابیاں۔ وہ ایسی جماعت ہو ، جس چست و چالاک مستعد اور جفاکش ہو اور پھر ان کی تربیت اس طرح کی جائے کہ ان کے ذریعے دنیا میں انقلاب پیدا کیا جائے۔ معبود اور کار ساز اللہ کی ذات ہے : فرمایا کہ مشرق و مغرب کا رب وہ ہے۔ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مشرق و مغرب والے شرک میں مبتال ہیں۔ کوئی انسان پرستی کرتے ہیں۔ کوئی اصنام پرستی میں مبتلا ہیں۔ کوئی حیوانات کو پوجتے ہیں تو کوئی مردوں کی پرستش میں ملوث ہیں ، کوئی ملائکہ ، جنات ، اور پتھروں کے پرستا ہیں یعنی ہر حال میں غیر اللہ کی پوجا کرتے ہیں۔ مگر آپ اپنے رب کا نام یاد کریں۔ مشرق و مغرب کا مالک وہی ہے۔ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ نہ کوئی نافع ہے ، نہ ضار ، نہ حاجت روا ، نہ ہمہ دان ، نہ ہم تو ان ، نہ قادر مطلق ، نہ علیم کل ، اور نہ مشکل کشا ، اسی کو اپنا کار ساز پکڑو ، مادی وسائل کو اختیار کرو ، مگر ان پر بھروسہ نہ کرو۔ بھروسہ صرف خدا کی ذات پر کرو۔ وہ چاہے گا تو اثر پیدا کردے گا۔ ورنہ سارے اسباب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اور کوئی کامیابی نہیں ہوگی۔ لہذا کا ساز اسی کو بنائو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو گویا یہ اصول بتائے جا رہے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے قیام لیل کرو۔ تربیت حاصل کرو۔ اپنے رب کا نا م یاد کرو ، تاکہ تجلی الہٰی کے ساتھ تعلق قائم ہو ، مشرق و مغرب کا خدا ایک ہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کو کارساز سمجھو ، مادیت پر یقین مت رکھو ، مخلوق میں سے کسی چیز پر بھروسہ مت کرو ، اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں دوسرے اصول بھی بیان فرمائے ہیں۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ صبر کریں ان باتوں پر جو مخالفین کہتے ہیں اور آپ خوش اسلوبی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہوجائیں۔

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ باتیں بیان فرمائیں تھیں۔ اس درس میں چھٹی بات کا تذکرہ ہوگا۔ گذشتہ پانچ امور کی تفصیل یہ ہے۔ قیام الیل : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے پہلا حکم قیام الیل کا دیا ہے۔ اور نبی ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ راب کا تھوڑا حصہ نماز کے لیے وقف کریں۔ را ت کا تھوڑا حصہ رات کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے۔ اور انسانی عمر کے اعتبار سے بھی ۔ ابتداء میں حکم یہ تھا کہ آپ رات کا زیادہ حصہ عباد ت کریں اور تھوڑا حصہ آرام کریں۔ لہذا آنحضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی رات کو عبادت کرتے رہتے تھے۔ بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے آسانی پیدا فرمادی۔ چناچہ دوسرے رکوع میں ارشاد ہوا کہ آپ رات کو اس قدر قیام کریں جس قدر میسر ہو ، مگر یہ قیام ان لوگوں کے لیے ضرور ی ہے جنہوں نے دنیا کا کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنا ہے۔ انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ ان کی تربیت کا سامان کیا جارہا ہے۔ اور ان کو مہذب بنانے کا ذریعہ ہے تاکہ انسانوں کا تعلق اپنے رب کے ساتھ درست رہے۔ اگر تھوڑے حصہ سے مراد عمر کا حصہ لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ تندرستی اور توانائی کی حالت میں قیام لیل کا اہتمام کریں۔ اور عمر کے کسی حصے میں اگر بیماری آجائے یا بڑھاپا لاحق ہوجائے تو پھر ضروری نہیں ہوگا عام حالات میں آپ قیام لیل کرتے رہیں۔ 2 ترتیل قرآن : اللہ تعالیٰ نے دوسرا حکم یہ دیا کہ قیام لیل کے وقت قرآن پاک کو ترتیل کے ساتھ پڑھیں۔ ترتیل سے مراد ہے ، واضح واضح ٹھہر ٹھہر کر اور الفاظ کی مکمل ادائیگی کے ساتھ پڑھنا تاکہ اس تلاوت کا دل پر اثر ہو۔ 3 ذکر الہٰی : تیسرا ذکر الہٰی کا دیا اپنے رب کا نام لیں ، اللہ تعالیٰ کا اسم پاک یاد کریں تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی تجلی کے ساتھ تعلق قائم ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم اور ہر صفت اس کی کسی نہ کسی تجلی کو واضح کرتی ہے۔ لہذا اس کا ذکر کرنا اس کی تجلی کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا اسے جس نام سے بھی یاد کرو۔ اس کے سارے نام بھلے ہیں۔ رحمان کے نام سے یاد کرو یا رحیم یا غفار سے یا اس کے ذاتی نام اللہ کی ساتھ یا د کرو ، یہ اس کی صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔ 4 علیٰحدگی : چوتھا حکم یہ دیا یعنی باقی چیزوں سے الگ ہو کر صرف اسی کی طرف متوجہ ہوں ، یہ علیحدگی بھی ضروری ہے۔ تاکہ دلجمعی حاصل ہو۔ جب دن کے وقت دوسرے امور کی سر انجام دہی کرنا ہوتی ہے تو تنہائی میسر نہیں آتی مگر رات کو قیام کے ذریعے سے یہ علیحدگی حاصل ہوسکتی ہے۔ اور ہر شخص تمام اشغال سے فارغ ہو کر قیام لیل کی صورت میں کچھ وقت اپنے رب کو یا د کرے۔ 5 تربیت : پانچویں بات یہ ارشاد فرمائی کہ اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے تربیت ضروری ہے اس تربیت کے ذریعے ہی انسان مہذب ، شائستہ اور انقلاب برپا کرنے کا اہل ہو سکتا ہے۔ غیر مہذب اور غیر تربیت یافتہ شخص صحیح انقلاب نہیں لاسکتا۔ بلکہ وہ فساد کرے گا ، برائی کو پھیلانے کا سبب بنے جس کی اصلاح نہیں ہوگی۔ اس کی مغفرت بھی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ایمان اور اصلاح کی ضرورت ہے اور حالات کی درستگی بھی لازمی ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا ایک دوسرے کے ساتھ بھی تعلق درست کرو ، سوسائٹی کو بھی درست رکھو اور اپنے آپ کو بھی تہذیب یا فتہ بنائو۔ یہ بالکل ابتدائی سورة ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی تربیت فرمار ہے ہیں یہ کام کرو تاکہ تمہاری تربیت ہوسکے ، جس کے نتیجہ میں آخرت میں خدا تعالیٰ کی رضا اور تقرب حاصل ہوگا اور دنیا میں بھی اصلاح احوال ہوگا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اللہ ہی کو مالک اور متصرف کائنات سمجھو۔ مشرق و مغرب یعنی ، قیصر و کسریٰ کا مالک وہی ہے۔ یہ قیصر و کسریٰ والے تو جھوٹے لوگ ہیں۔ کفرو شرک میں مبتلا ہیں۔ حالانکہ حیقیت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہذا اسی کو اپنا کار ساز بنائو ، مادیت پر بھروسہ مت کرو ، کیونکہ مومن اور کافر میں یہ فرق ہے ۔ کافر مادے پر بھروسہ کرتا ہے اور مومن اللہ پر توکل کرتا ہے۔ اسباب تو سارے ہی استعمال کرتے ہیں مومن بھی ، کافر بھی اور دمریے بھی ، مگر مومن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان اسباب پر اعتماد نہیں کرتا۔ ان کو کار ساز نہیں سمجھتا۔ بلکہ کار ساز حقیقی اللہ ہی کو سمجھتا ہے۔ برخلاف اس کے کافر تلوار پر اعتماد کرتا ہے مگر مومن کا عقیدہ یہ ہے کہ تلوار فتح حاصل کر رنے کا ایک ذریعہ ہے۔ فتح اللہ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ مددمنجانب اللہ ہی ہے البتہ اس مادی جہاں میں رہتے ہوئے ظاہری اسباب کو ترک نہیں کرنا کہ یہ حرام ہے مگر اسباب پر اعتماد نہ رکھو ۔ جیسے کھانا پیٹ بھرنے کا سبب ہے مگر علت نہیں۔ یہ سمجھنا کہ روٹی سے ہی پیٹ بھرے گا یا پانی ہی سے سیرابی ہوگی ، درست نہیں ہے۔ بلکہ ہر شے میں اللہ تعالیٰ کا حکم اور ا س کا ارادہ کار فرما ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ظاہری اسباب میں اثر پید اکر دے گا۔ یہ نہ سمجھو کہ شفا دینے والی دوائی ہے بلکہ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ دوائی کا استعمال تو ظاہری سبب ہے دوائی میں اثر پیدا کرنا ، مالک اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لہذا اسی کو ہی اپنا کار ساز بنائو ، یہ تمام باتیں تربیت کے ضمن میں بیان کردیں۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کا ان آیات میں پانچواں حکم ہے۔ صبر کی تلقین : 6 صبرــ:ـ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے چھٹی بات یہ فرمائی ۔ اے پیغمبر ﷺ آپ صبر کریں ان باتوں پر جو مخالفین کہتے ہیں۔ نبی ﷺ کو خطاب کر کے بات آپ کے ساتھیوں کو سمجھائی جارہی ہے۔ دوسری جگہ آتا ہے۔ یعنی آپ صبر کریں اور خدا سے صبر کی تلقین مانگیں ، کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر صبر بھی نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کا پاک کلمہ موجود ہے۔ اس کے ذریعے سے بھی اللہ سے توفیق طلب کی جاتی ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ صبر کے تین محل ہیں پہلا محل مصیبت کی آمد پر ہوتا ہے اس وقت صبر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جز ع فز ع نہ کرے بلکہ تکلیف کو برداشت کرے۔ جس انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قوی ہوگا ، وہ برداشت کرے گا۔ وہ سمجھے کا کہ یہ سب تصرف خدا تعالیٰ کا ہے کیونکہ مصیبت کو لانا اور اس کو ہٹا نا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لہذا جس کا عقیدہ درست ہوگا اس کا تعلق اللہ کی ساتھ قائم ہوگا۔ اور وہ صبر کرے گا۔ اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے کمزور ہوگا یا بالکل نہیں ہوگا اور وہ معصیت میں ڈوبا ہوا ہوگا ، وہ صبر نہیں کرسکے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ مصیبت کے آنے پر صبر کرو اور اسے برداشت کرو۔ دوسری جگہ فرمایا۔ یعنی مصیبت کے وقت صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ نما ز تعلق باللہ کا قوی ذریعہ ہے۔ اسی ضمن میں مزید حکم ہوا کہ مصیبت کے وقت یوں کہا کرو۔ یعنی ہم اللہ کا ہی مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی ہونا چاہیے۔ حضور ﷺ نے فرمایا صبر وہ ہے جو مصیبت کے آنے پر پہلے کیا جائے۔ اگر مصیبت آنے پر جزع فزع شروع کردی ، بےصبری کا اظہار کیا ، اور بعد میں تھک ہار کر کہا کہ اچھا جی صبری ہے۔ تو یہ کوئی صبر نہیں۔ صبر کے تین مادے : صبر کا پہلا مادہ تو وہی ہے جو پہلے بیان ہو ایعنی مصیبت کے آنے پر صبر کا اظہار کرنا ان معانی میں کہ مصبیت کو لانے والا اور اسے دور کرنے والا ، اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس لحاظ سے صبر بہت بڑی چیز ہے ۔ ملت ابراہیمی اور دین اسلام میں صبر بڑے بڑے اصولوں میں سے ہے۔ صبر ، شکر ذکر ، تعظیم شعائر اللہ یہ سب بڑے بڑے اصول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا اراد ہے۔ یعنی صبر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بیحد و شمارا جر عطا فرمائے گا۔ صبر کا دوسرا مادہ اللہ کی اطاعت پر اپنے آپ کو ثابت قدم رکھان ہے۔ خدا کی اطاعت بغیر صبر کے نہیں ہوسکتی۔ صبر کے بغیر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ حج نہیں کرسکتا۔ روزہ نہیں رکھ سکتا۔ تو گویا اپنے آپ کو اطاعت پر جمانا اور ثابت قدم رہنا صبر کا دوسرا مادہ ہے۔ امام غزالی (رح) فرماتے کہ تیسرا مادہ اپنے نفس کو برائی اور معصیت سے روکنا ہے۔ نفس ہمیشہ آزادی چاہتا ہے۔ اور برائی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لہذا نفس کو نفسانی خواہشات اور برائی سے روکنا صبر ہے۔ ارشاد ربانی ہے یعنی جو شخص خدا کے سامنے کھڑا ہونے یعنی محاسبے سے ڈرا اور اپنے نفس کی خواہشات سے روکا تو اس کا ٹھکا نا جنت المادی ہوگا۔ مخالفین کی الزام تراشیاں : مخالفین کی جن باتوں پر صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ وہ کیا ہیں۔ مثلاََ پہلی سورتوں میں گذر چکا ہے کہ وہ کہتے تھے۔ یعنی آپ نعوذ باللہ مجنون ہیں۔ حالانکہ خدا کا نبی اعقل الناس یعنی تمام نوع انسانی سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے۔ تمام لوگوں سے زیادہ دانشور ، دانا اور ذہین ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس قدر ذہانت نبیوں کو عطا کرتا ہے باقی مخلوق کو اس کا عشر عثیر بھی نہیں دیتا۔ مگر مخالفین آپ کو دیوانہ کہتے تھے۔ اور جب دیکھتے تھے کہ کیا دیوانوں کے حالات نظریات ، خدمت خلق اور عبادت ایسی ہوتی ہیں تو پلٹ کر کہہ دیتے تھے کہ آپ کا ہن ہیں۔ جب دست شناسی کرنے والوں سے مقابلہ کیا۔ جو انتہائی خود غرض اور جھوٹے ہوتے ہیں تو پھر بھی بات نہ بنی کیونکہ آپ کے اخلاق حمیدہ تو روز روشن کی طرح عیاں تھے۔ لہذا شاعر کہہ دیا۔ یہ شخص شاعری کرتا ہے۔ اور اس کا کلام بڑا موثر ہے۔ مگر جب شاعروں والی صفات بھی نہ پاسکے تو ساحر یعنی جادوگر کا خطاب دے دیا۔ کسی بدبخت نے کہہ دیا کہ اس پر جادو کیا گیا ہے۔ کہنے لگے یہ سحر زدہ آدمی ہے اس کی بات نہ مانو۔ مخالفین بعض اوقات معبود برحق کے بارے میں طعن کرتے۔ کبھی پیغمبر کی ذات اور آپ کی جماعت پر طعن کرتے۔ جب مومن پاس سے گذرتے تو ان پر پر ٹھٹا کرتے۔ جیسے فرمایا یعنی کافر ایک دوسرے کو اشارہ کرتے۔ اور کہتے یہ حورون کے خاوند جا رہے ہیں۔ جنت کے مالک جا رہے ہیں۔ کپڑے پھٹے ہوئے رہنے کے لیے گھر نہیں ہیں ، مگر جنت کے مالک ہیں۔ اس قسم کے تمسخڑ کرتے اور بیہودہ باتیں بناتے۔ اسی لیے فرمایا کہ آپ مخالفین کی باتوں پر صبر کریں۔ مخالفین کی ایذا رسانیاں : مخالفین کی ایذا رسانیون کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یعنی مسلمانوں کو اہل کتاب اور مشرکین کی زبانی بڑی تفلیف دہ باتیں سننی بڑیں گی۔ مگر اس کا علاج یہی بتایا کہ اگر تم صبر کرو گے خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو گے۔ برائی کا جواب نیکی سے دوگے۔ بد اخلاقی کا جواب حسن اخلاقی سے روگے تو پختہ بات یہ ہے کہ تم کامیابی سے ہم کنار ہو جائو گے۔ ایذا رسانی کی مثالیں آج کے زمانے میں بھی کثرت سے ملتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد احمد آباد میں ایک انگریز نے اپنے کتے کا نام احمد رکھا (العیاذ باللہ) اس بدبخت کے خلاف ساری دنیا میں احتجاج ہوا اور آخر میں اس نے معافی مانگ لی۔ افسوس کا اظہار کردیا۔ (I am sorry) مجھے علم نہ تھا میں آئندہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ یہ محض ایذا پہنچانے والی بات تھی ، ورنہ اسے کس چیز کا علم نہ تھا۔ جس پاک ذات کو دنیا کے کروڑ ہا انسان اپنا رہبرو راہنما مان رہے ہیں اور جس کا چرچا تمہارے درمیان بھی ہوتا ہے کیا اس کا تمہیں علم نہیں تھا۔ اسی طرح ایک خبیث جرمنی انگریز نو لڈک نامی گذار ہے ۔ اس نے کہا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد کو مرگی کے دورے پڑتے تھے اور اس دورے کی حالت میں وہ جو کچھ بڑ بڑاتے تھے اسے لوگون نے قرآن بنالیا۔ (معاذ اللہ) یہ تو آج کے تعلیم یا فتہ دور کی باتیں ہیں اور اس وقت کے مشرکین تو تھے ہی جاہل وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے متعلق طرح طرح کی بیہودہ باتیں بناتے تھے۔ کبھی کہتے یعنی یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ان کے نزدیک کھانا پینا اور چلنا پھرنا معیوب بات تھی ان کا خیال تھا کہ نبی کوئی فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر زمین میں بسنے والے فرشتے ہوتے تو ہم فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیگے۔ لیکن زمین پر چونکہ انسان آباد ہیں۔ اس لیے ا ن کی طرف نبی بھی انسان ہی آئے گا۔ کیونکہ انسان دوسری جنس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسوہ نہیں پکڑ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یعنی تمہارے لیے رسول بہترین نمونہ ہے۔ تو بہرحال مخالفین اس قسم کی باتوں سے ایذا پہنچاتے تھے۔ مخالفین سے قطع تعلقی : الغرض ان تمام تر الزام تراشیوں اور ایذا رسانیوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ صبر کریں یعنی آپ ان کو اچھی طرح چھوڑ دیں ، ان سے الگ ہوجائیں۔ اور ایک حد تک قطع تعلق کرلیں۔ مگر اچھے اور احسن طریقے سے یعنی لڑائی بھڑائی سے نہیں بلکہ اس طریقے سے تمہارے لیے تمہارا سلسلہ اور ہمارے لیے ہمارا طریقہ ہے مطلب یہ کہ علیحدگی بھی اختیار کرنی ہے۔ تو والی مہذب ! اور شائستہ لوگوں والی ، لڑائی جھگڑا تو جاہلوں کا شیوہ ہے۔ یعنی جاہلون کے پاس سے وقار کے ساتھ گزر جائو اور کہہ دو کہ بھائی ! تم اپنا کام کرتے رہو ہم اپنا کام کریں گے۔ نتیجہ خود بخود سامنے آجائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون لہذخوش اسلوبی کے ساتھ علیحدگی اختیار کریں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ یہ ان سے ترک تعلقات بھی ظاہر کریں اور دل میں یہی خیال کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت ہی دے دے تو اچھا ہے۔ دل سے قطع تعلق نہ کریں۔ دل سے ان کے لیے ہدایت کی دعا ہی کریں ۔ نیز لوگون کے سامنے ان کی بدسلوکی کا شکوہ بھی نہ کریں۔ ہاں اللہ کے حضور التجا کرسکتے ہیں۔ کہ انہوں نے یہ تکلیف پہنچائی ہے۔ عوام کے سامنے شکوہ نہ کریں۔ کہ ہجر جمیل کے منافی ہوگا۔ ہاں ! قطع تعلقی کے باوجود جب بھی موقع ملے خیر خواہی کی بات کرتے رہو ، کلمہ حق کہتے رہو ، اور ان سے اظہار ہمدردی کرتے رہو کہ اسی کا نام ہجر جمیل ہے۔ جماعتی تنظیم کی اہمیت : یہاں پر ایک دوسرا پہلو بھی ہے صبر کی اس لیے بھی ضرورت ہے ک مسلمانوں کی جماعت میں ابھی پوری طاقت نہیں ہے۔ ابھی جماعت کی تربیت اور تنظیم کی ضرورت ہے۔ اس کی طرف توجہ دیں اور ان کی تکالیف پر صبر کریں۔ دوسری جگہ موجود ہے یعنی ان سے کہا گیا کہ ابھی ہاتھ نہیں اٹھانا۔ مقابلہ نہیں کرنا بلکہ نماز پڑھتے رہو۔ تربیت حاصل کرو اور جماعت کو منظم کرو۔ جب یہ مراحل طے ہوجائیں گے۔ اور مقابلے کے قابل ہو جائو گے۔ تو اس وقت مقابلہ بھی ہوگا۔ اور ان کو سزا بھی دی جائے گی تو گویا مکی زندگی کا سارا دور تنظیم و تربیت کا دور ہے۔ اور اس کے بعد آخری مرحلہ مدینہ طیبہ میں ہجرت کا آیا ۔ نبیوں کی زندگی میں ہجرت آخری موڑ ہوتا ہے۔ اب ہر چیز برداشت سے باہر ہوگئی ہے۔ حتٰی کہ وطن ، مال ، جائداد ہر چیز کو چھوڑا جارہا ہے۔ اور اب ان مظلوموں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ ظالمون کا محاسبہ کریں۔ اب ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ پہنچ کر تنظیم و تربیت کا کام مکمل ہوا۔ تو مقابلہ کی اجازت دی گئی۔ مکی دور میں برداشت اور صبر و تحمل کی تلقین ہی کی گئی کیونکہ جماعت منظم نہیں تو مقابلہ میں شکست کی صور ت میں مشن ہی ختم ہونے کا ڈر ہے۔ ہر چیز کی کامیابی کا ایک معین وقت ہوتا ہے۔ لہذا آپ کو ارشاد ہوا کہ فی الحال آپ ہجر جمیل اختیار کریں۔ جب موقع آئے گا تو مقابلہ کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
Ayahs 73:11–14

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور آپ مجھے چھوڑ دیں اور ان جھٹلانے والے اصحاب نعمت کو اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں۔

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بیشک ہمارے پا س بیڑیاں اور جہنم کی آگ ہے۔

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں اٹکنے والا کھانا اور درد ناک عذاب ہے۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہا ڑ ریت کے منتشر ٹیلے ہوجائیں گے۔

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ چھ اصول بتائے ہیں جن کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ اس انقلابی پرو گرام کے متعلق سورة توبہ اور سورة فتح میں ارشاد ہے۔ یعنی اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے اللہ نے اپنے رسول کو معبوث فرمایا ہے۔ تاکہ اس کو سارے دینوں کے مقابلے میں غالب کردے۔ ان مبینہ اصولوں میں رات کا قیام ، قرآن پاک کو ترتیل سے پڑھنا ، رب تعالیٰ کے اسم کو یا دکرنا۔ کچھ علیحدگی ، اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی ساتھ تعلق کو قوی بنانا ، خدا تعالیٰ کو مالک ار متصرف سمجھنا ، اس کو معبود بر حق جاننا اور اسی کو کارساز سمجھنا۔ اور ایک اہم اصول صبر کا کہ اس راستے میں جو بھی تکلیف آئے اس کو بردازشت کرنا اور لوگوں سے احسن طریقے سے علیحدگی اختیار کرنا شامل ہیں۔ مکذبین کے لیے مہلت : اب اگلی آیت میں مخالفت کرنے والے لوگوں کے متعلق ذکر ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے یعنی آپ مجھے چھوڑ دیں اور ان جھٹلانے والوں اور دولت والوں کو بھی چھوڑ دیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں مطلب یہ کہ مجھے چھوڑ دیں۔ میں ان سے خود سمجھ لوں گا یعنی سزا دوں گا۔ آپ ان کے متعلق جلد بازی نہ کریں اور یہ خیال نہ کریں کہ ان کو فوراََ سزا ملنی چاہیے۔ یہ میرا کام ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آپ کا کام خدا کا پیغام پہنچانا ہے ، مجرموں کو سزا دینا ہمارا کام ہے۔ ہم اپنی حکمت کے مطابق سزا دیں گے۔ سزا کے دو طریقے ہیں ، حق کے ۔ پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کو دنیا میں بھی سزا ملتی ہے۔ اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ کو یونہی نہیں چھوڑ دیں گے۔ کیونکہ یہ مکذب ہیں۔ بعض اوقات اللہ دنیا میں ہی جہاد کے ذریعے سزا دیتے ہیں۔ یا پھر کسی دوسرے خارجی ذریعہ یعنی افتاد اور مصیبت کی صورت میں سزا مل جاتی ہے۔ اور آخرت کی سزا تو بھی باقی ہے۔ وہ آگے چل کر ملے گی۔ تو فرمایا آپ ان جھٹلانے والے صاحب دولت لوگوں کو چھوڑ دیں کہ سچے عقیدے اور سچے دین کی مخالفت میں یہی لو گ پیش پیش ہوتے ہیں۔ ہم ان سے باز پرس کریں گے دنیا میں بھی ان مصیبت میں مبتلا کریں گے اور آخرت میں بھی جواب طلبی ہوگی۔ یہ کہتے ہیں کہ یعنی ہمارے پا س مال و اولاد کی فراوانی ہے ہمیں کوئی سزا نہیں مل سکتی۔ قرآن پاک میں موجود ہے یہ لوگ مال جمع کرتے اور گنتے رہتے ہیں۔ انہیں آرام و آسائش کی ساری چیزیں میسر ہیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قیامت کے عقیدے کو جھٹلانے والے مترفین ہیں یعنی آسودہ حال لوگ ہیں۔ فرمایا آپ ان کو چھوڑ دیں۔ ہمارے پاس بیڑیاں اور جہنم کی آگ ہے۔ اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے۔ اور دردناک عذاب ہے ہم ان کو ان میں مبتلا کریں گے۔ یہ آسودہ حال ہوگ جو توحید ، قیامت اور رسالت کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ ہمیشہ سب سے پہلے تکذیب کرنے والوں میں ہوتے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر اللہ نے جتنی بھی قوموں کا ذکر کیا ہے۔ اولین مکذبین یہی دولت مند ہوئے ہیں۔ وہ خیال کرتے تھے کہ سرداری کا حق ہمارا ہے ۔ ہم انسان کو رسول کیسے مان لیں۔ اور کیوں اس کی اطاعت کریں لوط (علیہ السلام) کی قوم نے کہا ہم اس ایک انسان کا اتباع کیسے کریں۔ جب کہ اسے کوئی نمایاں حیثیت نہیں۔ ہمارے پاس ہر قسم کا سامان موجود ہے۔ اور یہ قلاش ہے۔ ہود (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تمہاری کوئی برتری بھی ہم نہیں دیکھتے۔ ہمارے مقابلے میں تمہارے پاس نہ مال و دولت ہے۔ نہ حکومت ہے۔ نہ فوج ہے گویا اس طرح مال و دولت اکثر لوگوں کو بہکانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ : اولین متبعن غریب لوگ ہوتے ہیں : بخاری شریف کی حدیث میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل کا مکالمہ منقول ہے۔ ہر قل نے پوچھا کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے پیچھے لگنے والے کیسے لوگ ہیں۔ یعنی بڑے لوگ ہیں یا کمزور۔ ابو سفیان ؓ نے کہا کہ کمزور لوگ ہیں۔ ہر قل عیسائی مسلک رکھتا تھا۔ پہلی کتابوں کا عالم تھا اس نے فوراََ کہا یعنی رسولوں کے تابعدار ابتداء میں ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جب کوئی طریق کار نہیں رہ جاتا تو امیر لوگ مجبور ہو کر آخر میں اسلام کی دعوت قبول کرتے ہیں۔ جو آخر تک پیغمبر کی بات کو نہیں مانتے وہ مقابلہ کرتے ہیں۔ اور ہلاک ہوجاتے ہیں جیسا کہ قرآن میں فرعوں ، ہامان اور نمرود وغیرہ کا حال مذکور ہے۔ یہی لوگ اولی النعمتہ ہیں۔ سرمایہ پر ستانہ ذہنیت : مکہ کے بڑے بڑے مخالفین ابوجہل ، ولید ، ابوسفیان وغیرہ انیس سال تک مقابلہ کرتے رہے۔ آخر میں جب اور کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ تو پھر یا ہلاک ہوئے یا اسلام کا راستہ اختیار کیا۔ یہی دولت مند لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کا انکار کیا۔ ایسے ہی سرمایہ دار لوگ ہوتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ دولت کی نعمت نہیں سمجھتے۔ نہ حقوق ادا کرتے ہیں۔ نہ اس کو حاصل کرنے کے لیے جائز ذرائع اختیار کرتے ہیں۔ یہی سرمایہ پرستار ذہنیت ہے آج کے دور میں امریکہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ اسی ذہنیت کا شکار ہیں۔ ان کا واحد مقصد حصول زر ہے۔ ان کے ہاں ذرایع آمدن میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں۔ جیسا کہ پہلی سورة میں گزر چکا ہے۔ دوزخ ایسے ہی لوگوں کو بلائے گی جو منہ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے اور ہر طریقہ سے مال جمع کرنے والے ہیں۔ اور سمیٹ سمیٹ کر رکھنے والے ہیں۔ ہاں اگر ذرائع آمدن جائز ہوں اور اس میں سے حقوق بھی ادا کیے جائیں ، تو ایسا شخص سرمایہ پرست نہیں ہوگا۔ بلکہ خدا پرست ہوجائے گا۔ قرآن کریم میں متعدد جگہ ارشاد ہوا ہے۔ یعنی باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال نہ کھائو ، حضور ﷺ کا ارشاد بھی ہے روز گار کے حصول میں جائز راستہ اختیار کرو۔ حرام راستے کے ذریعے مال مت کھائو۔ ہمارے ہاں تو عام طور پر ذرائع آمدنی میں انشورنس ، بنکاری فلم انڈسڑی قمار بازی ہے۔ شراب کے لائسنس ، فوٹو گرافی ، مجسمہ سازی ، گانا بجانا جیسی معروف چیزیں ہیں۔ یہ تمام ذرائع ناجائز اور حرام ہیں۔ حقوق العبادــ: شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک ان ناجائز ذرائع سے چھٹکارا حاصل نہ ہو ، سوسائٹی کی حالت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ اکساب ضارہ میں گدا گری ، چوری ، ڈاکہ ، دھوکہ فریب سب کچھ شامل ہیں۔ ایک اچھی حکومت کا فرض ہے کہ ناجائز ذرائع کو ختم کر کے جائز ذرائع مہیا کرے ، جن سے دولت کما کر حقوق بھی ادا کئے جائیں۔ مگر یہاں تو حقوق بھی ادا نہیں کئے جاتے ، دولت کو تقسیم نہیں کیا جاتا ، وراثت کی تقسیم صحیح نہیں ہوتی ، لوگ وصیت نہیں کرتے ، زکوٰۃ ادا نہیں کرتے جو فرض ہے۔ قربانی نہیں کرتے جو واجب ہے۔ صدقہ فطرادا کرنے میں پس و پیش کرتے حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے۔ قرابت داروں ، مسیکنوں اور مسافروں کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ سائل اور محروم کو حق نہیں دیتے حالانکہ ان دولت مندون کے مال میں اللہ تعالیٰ نے حق مقرر کر رکھا ہے۔ جو شخص کمانے میں قانونِ خداوندی کی پابندی کرتا ہے وہ خرچ کرنے میں بھی سرمایہ پرستانہ ذہنیت سے نکل جاتا ہے۔ وہ خدا پرست ہوجاتا ہے۔ یہ سرمایہ دار سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے حق کا اتباع کیا تو ہمارے ذرائع ختم ہوجائیں گے۔ یہود کی مخالفت کی بھی یہی وجہ تھی۔ وہ سر کشی کرتے تھے یہود و نصاریٰ اپنی زبان سے کہتے تھے کہ اگر ہم نے اس نبی کا اتباع کی تو ہماری ریاست ختم ہوجائے گی۔ مدینے کا سود خوار یہودی کعب بن اشرف سب سے زیادہ مخالفت کرتا تھا۔ کیونکہ اس کا سودی کاروبار سارے عرب میں پھیلا ہوا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اسلام قبول کرنے سے اسے کاروبار سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ حضور ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ آج سے سارا سو د مٹادیا گیا ہے۔ آ ج کے بعد کسی کو سود لینے کی اجازت نہیں جو دیا ہوا ہے۔ وہ ختم ہے ۔ صرف اصل رقم واپسی لینے کا حق ہے۔ تو گویا اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے والے سرمایہ دار سچائی کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہر جمعہ کے خطبہ میں آپ سنتے ہیں یہ سب کیا ہے اس میں تین چیزیں مثبت ہیں اور تین منفی احسان کرنا ضروری ہے۔ مگر یہ لوگ بنی نوح انسان کے ساتھ احسان نہیں کرتے یہ دولت کو عیاشی ، فحاشی اور ذاتی خواہشات کی تکمیل پر صرف کرتے ہیں۔ حکومتیں بھی ایسا ہی کرتی ہیں۔ اپنے ذاتی عیش و آرام کے لیے سب کچھ کرتے ہیں۔ قوم عا کے لوگ کیوں مخالفت کرتے تھے۔ ہو د (علیہ السلام) نے فرمایا تم نے یہ بڑی بڑی عمارات بنائی ہوئی ہیں۔ میناز اور گنبد بنائے ہیں۔ بےتحاشا دولت صرف کی ہے۔ فرعون بھی یہی کرتا تھا۔ اس زمانے میں عام انسان کو بیل اور گدھے کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ ان سے کام لیا جاتا تھا مگر ان کا حق ادا نہیں کیا جاتا تھا۔ حضو ر ﷺ کے زمانہ میں قیصر و کسریٰ کی یہی حالت تھی۔ ان کے سر دار عیش کرتے تھے اور عام انسان ظلم کی چکی میں پستے تھے۔ وہ آج بھی مظلوم ہیں۔ آپ کے ملک میں سیکریڑیٹ کی تعمیر پر اربوں روپیہ صرف ہوا ہے قصر صدر پر پنتالیس کروڑ روپیہ صرف ہوا ہے۔ اس زمانے میں بھی یہی کچھ تھا۔ شاہ ولیٰ اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی بڑا آدمی اس سے کم پر راضی نہیں ہوتا تھا کہ اس کا باغ ہو ، عمدہ حمام ہو ، بڑی بلڈنگ ہو ، نوکر چاکر ہوں ، ان لوازمات کے حصول کے لیے جائزو ناجائز کی تمیز ختم کردی جاتی تھی۔ لوگوں کو حیوانوں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن پر مواخذہ ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ صحیح نظام قائم ہوجائے تو قیام لیل کرنے والی جماعت جو اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔ اور اس کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدہ لاشریک سمجھتی ہے۔ ایسے سرمایہ پرستوں سے جواب طلبی کرے گی۔ اور انہیں سزا دے گی۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے لوگوں کے حقوق کیوں تلف کئے۔ جائز و ناجائز کا امتیاز کیوں روا نہیں رکھا۔ یہ تو دنیا میں جواب طلبی ہوگی ، اور آخرت میں اور برزخ میں خدا تعالیٰ سزا دے گا۔ صاحب حکومت لوگ تو بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ صحیح نظام کس طرح قائم کرسکتے ہیں۔ درست نظام تو وہ قائم کریں گے جن کا تعلق خدا کے ساتھ درست ہوگا۔ ایسے نظام کو قائم کرنے کے جماعت کی ضرورت ہے۔ اس جماعت کے افراد کی تربیت کی ضرورت ہے۔ آپ پہلی سورة میں پڑھ چکے ہیں۔ کہ ان لوگوں کو سزا ملنے کی کیا وجہ ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ یعنی یہ بدبخت دوزخ میں اس لیے جا رہے ہیں۔ کہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے حکم تو یہ تھا یعنی خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر انہوں نے تو کئی معبود بنا رکھے تھے۔ مذہبی لوگوں کی ناکامی کی وجہ بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔ ایسے نمازیوں کے لیے جہنم ہے ۔ جو صحیح معنوں میں خدا کے انصاف پر یقین نہیں رکھتے۔ اور مسکینوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کرتے۔ طعام میں کھانا ، پینا ، پہننا اور دیگر تمام ضروریات شامل ہیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ اے دولت مند ! میں مہمان تھا تو نے میری مہمانی نہیں کی۔ میں بیمار تھا تو نے بیمار پرسی نہیں کی۔ انسان حیران ہوگا کہے گا۔ تو تو رب العٰلمین ہے ، بےنیاز ہے ، تو کیسے بھوکا پیاسا ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ہاں یہ ٹھیک ہے میرا فلاں بندہ بھوکا تھا۔ تو نے اس کو کھانا نہیں دیا۔ فلاں بندہ پیاسا تھا۔ فلاں بندہ بیمار تھا۔ اور یہ کمزور آدمی مسافر بن کر تمہارے پاس آیا تھا تم نے مہمانی نہ کی۔ اگر تم اس کی مہمانی کرتے تو تم کو میری رضا حاصل ہوتی۔ اور آج کامیابی سے ہم کنار ہوتے۔ حکم ہوگا ، پکڑوں ان کو ، بیڑیاں ڈالو ، اور جہنم میں ڈال دو ، اس دن اس طرح فیصلے ہوں گے۔ انسان کے بنیادی حقوق :ـ کھانے کا معاملہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ بنیادی حقوق ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے قرآن پاک کی آیات بتاتی ہیں۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو بہشت میں رکھا ، تو فرمایا چار چیزیں بیان فرمائیں کہ اے آدم (علیہ السلام) یہاں تم کو بھوک نہیں لگے گی ، تمہارے کھانے کا سامان ہوگا۔ پیاسے نہیں ہوگے۔ یہاں پانی ملے گا ، برمنہ نہیں ہو گے ، لباس ملے گا۔ اور یہ کہ دھوپ نہیں لگے گی ، تمہیں رہنے کے لیے جگہ ملے گی۔ یہ چار حقوق ہوگئے۔ یہ چار باتیں ترمذی شریف کی روایت میں بھی مذکور ہیں۔ ان کے علاوہ تعلیم اور صحت دو باتیں اور ہیں۔ یہ کل چھ باتیں آ ج بھی عالمی ادارون میں بنیادی حقوق تسلیم کی جاتی ہیں۔ آج امریکہ والے اور میکسیکو والے بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ یہ تو چودہ سو سال پہلے حضور ﷺ نے بتائی تھیں۔ کوئی شخص ان حقوق سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ ہر شخص کو رہنے کے لیے جگہ چاہیے۔ اسے ضروری تعلیم حاصل ہونی چاہیے۔ اور اس کی صحت کی حفاظت کی ضمانت ملنی چاہیے۔ اس کی خوراک اور لباس کا بندوبست ہونا چاہیے۔ مگر آج یہ حقوق انسان کو نہیں ملتے۔ ایک طبقہ ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور دوسرے محروم رہتے ہیں۔ ہمیشہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ دوسری طرف اشترا کی نظام میں اگر بیکاری کا سدباب کیا گیا ہے تو وہ ایمان کے پروگرام کو سرے سے ختم ہی کردیتے ہیں۔ اس نظام کی بنیادہی انکار خدا اور دہریت پر ہے۔ دین اسلام میں دونوں چیزیں ملتی ہیں۔ یہاں تعلق باللہ پہلی منزل ہے پہلے اپنا تعلق خدا کے ساتھ درست کرو۔ اپنا تعلق خدا کی تجلی کے ساتھ جوڑو۔ اس کے بعد نبی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کرو۔ ایسی ہمدردی جو تعلق باللہ پر بنی ہو۔ اشتر ا کی ہمدردی کی کوئی وقعت نہیں۔ یہ ابتدائی سورتیں ہیں ان میں یہ تمام اخلاقیات کی تعلیم موجود ہے۔ یہ سارا پروگرام انہیں مکی سورتوں میں ملتا ہے۔ جہاں ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملے میں ساری بات سمجھا دی گئی ہے۔ آگے مدنی سورتوں میں پوری تفصیل آئے گی۔ الغرض اولی انعمتہ کے لفط کے ذریعہ واضح کردیا کہ یہ ہوی دولت مند لوگ ہیں جو حقوق کو جھٹلانے والے ہیں۔ نمرود ، فرعون ، ابوجہل ، یہ سب اولی النعمہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہی لوگ نبیوں کا مقابلہ کرنے والے ، توحید کے منکر اور نبی نوع انسان کے ساتھ ظلم کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ ہمدردی اور احسان جیسی پسندیدہ چیزوں سے ناواقف ہیں۔ ظلم کا ستدباب : شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء کی بعثت کا ایک اہم مقصدلوگوں کے درمیان سے ظلم کو مٹانا ہے۔ ہر شخص کو انصاف میسر ہو۔ آج بنی نوع انسان ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ مگر اس ظلم کو مٹانے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص کھانے پینے ، پہننے اور رہائش جیسے بنیادی سامان سے آراستہ نہ ہو۔ وہ آخرت کے متعلق کوئی فکر نہیں کرسکتا۔ وہ تو انہیں چیزوں کے حصول میں مصروف رہے گا۔ آخرت کی تیاری کب کرے گا۔ لہذا ایک سچے نظام میں انسان ان بنیادی ضرورتون سے بےنیاز ہوتا ہے۔ ایسا نظام جس میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہو۔ اور جس میں سرمایہ داراہ ذہنیت کو جڑے اکھاڑ کر رکھ دیا گیا ہو۔ انسانی ہمدردی کا پروگرام : حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ تم میں سے کوئی صحیح ایماندار نہیں ہوسکتا جب تک تمہارا پڑوسی بھوکا ہو۔ اور تم پیٹ بھر کر کھالو۔ یہی ظلم ہے۔ پڑوسی بھوکا ہے۔ اور تم سوئے ہوئے ہو۔ یہ منافقون کا ایمان ہے۔ اس سے بھی یہی مراد ہے کہ ایسا نظام رائج ہونا چاہیے جس میں کوئی بھوکا پیاسا نہ رہے۔ کوئی مظلوم نہ ہو اہر ایک کو عدل و انصاف میسر ہو۔ یہ دولت مند مکذبین اپنی عیش و عشرت میں محو ہیں۔ انہیں دوسروں کی کیا فکر ہے۔ ان سے باز پرس ہوگی۔ صحیح نظام دہ ہوگا۔ جو خلافت راشدہ کے نمونہ پر ہوگا۔ وہی نظام جو عمر بن عبدالعزیز (رح) نے قائم کیا۔ اور ہندوستان میں ناصر الدین لتمش (رح) نے اپنایا۔ تاریخ میں موجود ہے کہ التمش (رح) کی بیوی نے کہا کہ مہان بہت آتے ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے کوئی نوکر عطا کردیں۔ تو سلطان نے کہا کہ دنیا میں تکلیف برداشت کرلو ، تاکہ تمہاری آخرت اچھی ہوجائے۔ اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کر کے مہمان کو کھلائو ۔ مکذمین کے لیے سزا : فرمایا چھوڑدو مجھے اور جھٹلانے والوں کو ، جو دولت مند ہیں۔ ان کو تھوڑی سی مہلت اور دے دو ۔ یہ مہلت دنیا کی مہلت ہے جب تک ایسی جماعت کا نظام نہ قائم ہوجائے۔ جو کہ مطلوب ہے۔ ہمارے پاس ایسے لوگوں کے لیے بیڑیاں ہیں ، اور جہنم ہے۔ اور گلے میں اٹکنے والا کھانا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب دوزخی تھوہر یا ز قوم کا لقمہ حلق میں ڈالے گا تو وہ سو سال تک وہیں۔ اٹکا رہے گا۔ اس کو نیچے اتارنے کے لیے جب پانی کا گھونٹ پئے گا تو وہ ایسا گرم ہوگا جو آنتون کو کاٹ کر نیچے پھینک دیگا۔ اور فرمایا اسکے علاوہ طرح طرح کا عذا ب الیم ہوگا۔ مجرموں کو ذلت کے ساتھ بڑیاں پہنائی جائیں گی۔ اور یہ اس دن ہوگا جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے۔ اور پہاڑ ریت کے ٹیلے کی مانند منتشر ہوجائیں گے۔ جس طرح ہوا کا جھونکا آتا ہے۔ تو ریت کا ٹیلہ بکھر جاتا ہے۔ اسی طرح پہاڑ بھی بکھر جائیں گے۔ اس دن ان مکذبین کو اور اولی النعمۃ کو سزا ملے گی۔ کیونکہ یہ انسانیت کے دشمن ہیں ۔ انہوں نے اپنا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست نہیں کیا۔ اور مخلوق کے ساتھ بھی احسان نہیں کیا۔