Ayahs 73:15–19گذشتہ سے پیوستہ :
اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں چند اہم اصول بیان فرمائے اس کے بعد مخالفت کرنے والے مکذبین کا ذکر فرمایا اور کہا یعنی آپ چھوڑ دیں مجھے اور ان مکذبین کو جو نعمت والے ہیں۔ اور انہیں تھوڑی سی مہلت دیں ۔ مقصدیہ ہے کہ ان کے ساتھ ابھی مقابلہ نہیں کرنا ہے۔ بلکہ صبر کرنا ہے۔ آپ برداشت کریں ۔ میں کود ان کو سزا دو نگا۔ ان لوگون سے جواب طلبی ہوگی جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جماعت کے ذریعے باز پرس کریں گے جن کی تربیت سابقہ اصولوں کے مطابق آپ کریں گے۔ یہ چھ اصول ہیں جو اس سے پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ انہی اصولوں کی روشنی میں انقلاب بر پا کیا جاسکتا ہے۔ لہذا فی الحال آپ اپنی جماعت کو تیار کریں۔
شاہد رسول :
ا س کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور اصول کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ جو شہادت دیتا ہے تمہارے اوپر۔ شہادت کا ایک معنی تو یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کا نبی شہاد ت دے گا۔ جنہوں نے مانا ان کے بارے میں اور جنہوں نے نہیں مانا ان کے متعلق بھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے۔ اور وہ گواہ نبی ہوگا۔ یہ بھی فرمایا ان پر ہم آپ کو بھی گواہ بنا کر لائیں گے۔ ایک تو یہ قیامت کی گواہی ہے۔ اور دوسرے حق و صداقت کی گواہی ہے۔ جو حضو ر ﷺ کے سپر د کردی گئی ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ کا معنی یہ ہے کہ وہ تمہیں بتلانے والا اور آگاہ کرنے والا ہے۔ تمہیں تعلیم دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو معلم بنا کر معبوث فرمایا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) سے مماثلت :
اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مثال دی ہے جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ یعنی فرعون کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت بھی اس وجہ سے تھی کہ وہ مکذب تھا۔ اور اولی النعمۃ میں سے تھا ، بڑا جا بر اور ڈکٹیڑ تھا۔ بڑا ظالم بادشاہ تھا۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو قوموں کی طرف بھیجا تھا۔ ایک بنی اسرائیل جو آپ کا اپنا خاندان تھا۔ اور دوسرے قبطی جو مصر کے اصلی باشندے تھا۔ اور جن میں فرعون بھی شامل تھا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو براہ راست بنی اسرائیل کی طرف ہی مبعوث تھے۔ اور فرعون کو صرف پیغام پہنچانا مقصود تھا۔ مگر یہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں صاف موجود ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے تو یہ فرمایا۔ جیسے سورة شعراء میں آتا ہے۔ ہم دونوں بھائیوں کو رب العٰلمین نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور فرعون کے سامنے کہا کہ تیرے اندر پاک ہونے کا کوئی جذبہ موجود ہے۔ کہ میں تیری راہنمائی کروں تاکہ تو ہدایت پا جائے۔ فرعون نے تکذیب کی ، اور نافرمانی کی جس طرح مکہ کے سرداران حضور ﷺ کے مکذبین تھے۔ اسی طرح فرعون بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا مکذب تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات اشارہ بتادی کہ جو حشر فرعون مکذب کا ہوا تھا مکہ کے مکذبین کا حشر بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے مماثلت کی بعض دوسری وجوہات بھی ہیں۔ مثلاََ یہ کہ آنحضرت ﷺ کی امت اور موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے حالات بھی ملتے جلتے ہیں۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا کہ تم بھی اسی طرح بگڑو گے جس طرح یہود و نصاریٰ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بگڑی تھی تم بھی ان کے نقش قدم پر چلو گے۔ اور ان سے مشابہت اختیار کرو گے۔ بالکل اسی طرح مشابہت جس طرح جوتے ایک دوسرے کے ساتھ مشابہ ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کے اپنے حالات بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے ملتے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) جلیل القدر نبی اور رسول اور صاحب خلافت بھی ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے نظام حکومت عطا فرمایا تھا ۔ اسی طرح آنحضرت محمد ﷺ بھی اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اور صاحب خلافت بھی۔ جس قسم کی مخالفت کے حالات موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش آئے۔ اسی قسم کے حالات سے نبی کریم ﷺ دوچار ہوئے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والے دولت مند لوگ تھے۔ تو آپ کا مخالف بھی یہی طبقہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں ملوک بھی تھے۔ تو حضور ﷺ کے زمانے میں بھی قیصر و کسریٰ تھے۔ ان کی سلطنتوں کو درہم برہم کرنا آنحضرت ﷺ کی نبوت کے پروگرام میں شامل تھا۔ ابوجہل ، ابولہب ، اور دیگر مخالفین اگرچہ ملوک نہیں گے۔ تاہم یہ بھی ان کے قائم مقام تھے ، ان کی ذہیت بھی سرمایہ دارانہ تھی۔ ان کے مکانات تھے ، تجارت تھی ، خدا نے دولت دے رکھی تھی ، تو فرمایا ابھی ان کے ساتھ مقابلہ ہے۔ اس کے بعد ملوک کی باری آئے گی اور ان کے ساتھ جہاد کی منزل آئے گی۔
جماعتی تنظیم کی ضرورت :
اس کے ساتھ ایک دوسری حقیقت بھی سمجھا دی گئی کہ آپ ان دولت مند مکذبین کو چھوڑ دیں ۔ کیونکہ میں ان کو سزا دوں گا۔ یہ مجرم رہیں۔ آپ جلد بازی نہ کریں۔ لڑائی بھی نہ کریں۔ ابھی جنگ کی منزل نہیں آئی بلکہ تیاری کی منزل ہے۔ ابھی جماعت تشکیل دینے اور اسے تربیت دینے کی منزل ہے ان کو اکٹھا کرنے کی منزل ہے۔ لہذا یعنی اے ساتھی اکٹھا کرنے والے۔ اور لحاف اوڑھنے والے ، کمبل اوڑھنے والے ابھی ان سے مقابلہ نہیں کرنا۔ ہم خود ان سے باز پرس کریں گے۔ چناچہ ان آیات کے نزول کے تیرہ برس بعد میدان بدر میں ان لوگوں سے باز پرس ہوئی اور ان کو سزا دی گئی۔
قومی اور بین الاقوامی نبی :
حضر ت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی دوحیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت میں آپ قومی نبی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریش اور عربوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ عربی زبان بولتے ہیں۔ عربی زبان میں وحی الہٰی سناتے ہیں۔ عربوں کے ماحول میں رہتے ہیں۔ اور قریش کی سعادت آپ کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لحاظ سے آپ قومی نبی ہیں۔ جیسا کہ خود قرآن پاک نے بیان فرمایا۔ یعنی ہم ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجتے ہیں۔ آپ کی دوسری حیثیت بین الاقوامی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام کی طرف مبعوث فرمایا۔ جیسا کہ نیز یہ بھی فرمایا یعنی اے نبی کریم ہم نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث فرمایا۔ تو گویا پہلی حیثیت سے آپ قومی نبی ہیں۔ اور دوسری حیثیت میں بین الاقوامی ہیں۔
غلبہ اسلام بذریعہ اسلامی فتو حات :
شاہ ولی اللہ (رح) نے حجتہ اللہ البالغہ میں اس کی تصریح یوں فرمائی ہے کہ نبی ایک ایسا شخص ہے۔ یہ ساری غیر محدود اقوام کا خود مقابلہ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ نبی پہلے اس قوم کے لوگوں کو تربیت دے جب یہ لوگ اصلاح پذیر ہوجائیں تو انہیں لوگوں کو اپنا جارحہ بنائیں یعنی ان لوگوں کو اپنا دست بازو بنائیں اسے آج کل کی زبان میں مجلس عاملہ کہہ سکتے ہں۔ اور انہیں لوگون کے ذریعے دنیا میں اسلامی انقلاب برپا کریں اور پھر ایسا ہی ہوا۔ حضور ﷺ کے اپنے زمانہ مبارک میں عرب میں انقلاب آیا ، کفر و شرک ختم ہوا اور مرکز اسلامی قائم ہوگیا۔ بیرون عرب لڑائیوں میں سے صرف ایک غزوہ تبوک میں آپ نے شرکت فرمائی ، ایک ہزار میل کا سفر طے کیا ، آپ کے ساتھ تیس ہزار ، چالیس ہزار اکسٹ ہزار صحابہ کرام ؓ تھے۔ تین مختلف روایات ہیں۔ واقدی کی روایت کے مطابق ستر ہزار آدمی تھے۔ باقی بیرونی دنیا سے معرکہ صحابہ کرام کے زمانہ میں ہوا۔ قیصر و کسرٰی سے مقابلہ خلفائے راشد ین ؓ کے زمانہ میں ہوا۔ اسی طرح ایران حضرت عمر ؓ کی خلافت میں سعد بن ابی وقاص ؓ کی کمان میں فتح ہوا۔ یہ قادسیہ کی جنگ مشہور ہے۔ جو تین دن تک لڑی گئی۔ یہ ایسی جنگ تھی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ تین دن رات متواتر لڑائی ہوئی اور آخر ایران فتح ہوا۔ یہ کسریٰ کی شکست تھی ، البتہ قیصر چھ صدیاں بعد مغلوب ہوا۔ اگر چہ عرب علاقوں یعنی مصر ، شام ، فلسطین ، حمص وغیرہ میں قیصر مغلوب ہوچکا تھا۔ مگر خود روما ترکوں کے عہد میں مغلوب ہوا۔ حضور ﷺ نے بھی فرمایا تھا کہ جب کسریٰ ہلاک ہوگا ، تو کوئی دوسرا کسریٰ نہیں کھڑا ہوگا۔ اور جب قیصر ہلا ک ہوگا تو کوئی قیصر نہیں اٹھے گا۔ لیکن یعنی عیسائی قرناََ بعد قرن آئیں گے۔ ان سے مسلمانوں کی ٹکر جاری رہے گی۔ حتیٰ کہ ان کا آخری حصہ مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے تیار ہوگا اور تباہ ہوجائے گا۔ تو گویا عیسائی مسیح (علیہ السلام) کے زمانے میں جا کر مکمل طور پر مغلوب ہوں گے۔ حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قرب قیامت میں عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کہ بہت تکلیف پہنچے گی۔ پھر جب مسیح (علیہ السلام) کا زمانہ آئے گا تو دنیا میں کفر باقی نہیں رہے گا۔ اور صرف اللہ کا دین ہی باقی رہ جائے گا۔ الغرض اگرچہ بطور دلیل اسلام ہر زمانے میں غالب رہا مگر سیاسی غلبہ اسے خلفائے راشدین کے زمانے میں حاصل ہوا ، اس زمانے میں کسی دوسری قوم کو مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں تھی ، وہ دب کر رہتے تھے یا صلح کرلیتے تھے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میں ایسی خلافت بخشوں گا کہ دین مستحکم ہوگا۔ یہ اسی زمانے کا جما ہوا دین ہے۔ جو آج تک آرہا ہے۔ اگر اس زمانے میں دین اسلام کو رسوخ حاصل نہ ہوتا تو بعد میں تو بڑی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ مسلمان خلافت کو ترک کر کے ملوکیت کی طرف واپس آگئے۔ درمیان میں کوئی اچھا آدمی آگیا تو حالات بہتر ہوگئے۔ بہر حال دین مٹا نہیں کیونکہ خلفائے راشدین کے زمانے میں اسے مستحکم کردیا گیا تھا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ چناچہ اس دور کا مستحکم شدہ دین ہی اب تک چل رہا ہے۔ الغرض نبی (علیہ السلام) کو تسلی دی جارہی ہے۔ کہ دیکھو ! موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ دولت مند طبقہ سے تھا۔ حالانکہ ان کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مالی حیثیت کچھ نہ تھی۔ نہ ان کے ساتھ کوئی جماعت تھی۔ لیکن انقلاب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ برپا کیا۔ اتنے بڑے دشمن کو نیست و نابود کیا۔ اس مثال سے سمجھانا یہ مقصود ہے کہ عرب کے قریش اگرچہ ملوک نہیں ہیں ، مگر ان کی ذہنیت سرمایہ دارانہ ہے۔ فرعون کی طرح بلا آخر یہ بھی مغلوب ہوں گے۔ ان کی دنیا میں بھی گرفت ہوگی۔ جیسا کہ مقام بدر پر ہوئی اور آخرت میں بھی سزا ہوگی۔
ارتکاز دولت :
ارتکاز دولت بجائے خود ایک لعنت ہے۔ جہاں یہ ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہاں مال کے جمع کرنے میں حلال و حرام کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔ اور خرچ کرنے میں مستحقین کے حقوق ادا نہیں کیے جاتے۔ اسی لیے اسلام نے اس ذہنیت کو ناپسند کیا۔ اسلام نے دولت کے ارتکاز سے منع کیا ہے اور تقسیم کا حکم دیا ہے۔ تاکہ یہ دولت امیر طبقہ میں ہی گردش نہ کرتی رہے بلکہ اس کا بہائو غربا ، مساکین ، یتامیٰ کی طرف ہونا چاہیے ، مال سے اپنی جائز ضروریات پوری کرنا فطری امر ہے۔ مگر دولت اپنے پاس مرتکز کر کے مت رکھو۔ ایسا کرو گے تو اولی النعمۃ کے گروہ میں شامل ہو جائو گے۔ کی زد میں آجائو گے۔ میں پکڑے جائو گے۔ یہی وہ ظالمانہ ذہنیت ہے جسے اسلام ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسی ذہنیت سے حرص پیدا ہوتی ہے اور دوسرے کی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ یکسر ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔
سود کی ممانعت :
اللہ تعالیٰ نے سود کے متعلق فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے۔ اور صدقہ خیرات کو بڑھاتا ہے۔ یعنی اس کا اجر دگنا تگنا کردیتا ہے۔ سود خور کی ذہنیت ایسی بیان فرمائی جیسے کسی کو جن چمٹا ہوتا ہے۔ اور آدمی پاگل ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سود خور کو اپنی دولت سے غرض ہوتی ہے انسانی ہمدردی سے یکسر محروم ہوتا ہے۔ ان ساہو کار مہاجنوں کو دیکھو ، جو سود حاصل کرنے کے لیے کسی غریب بڑھیا کی جھونپڑی تک نیلام کرادیتے ہیں۔ حالانکہ جس کے پاس لاکھوں روپیہ ہو ، وہ کسی قرض خواہ کو کچھ عرصہ مہلت بھی دے سکتا ہے۔ کہ وہ قرض چکا سکے۔ مگر یہاں تو خود غرضی انتہا کو پہنچ جاتی ہے کہ غریب شخص سائے سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یعنی ایک مومن دوسرے کے حق میں عمارت کی اینٹوں کی مانند ہے کہ ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہوتی ہیں۔ اسی طرح مومن بھی ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں۔ اس کی مثال انسانی جسم کے خلیات کی بھی ہے میڈیکل سائنس والے بتاتے ہیں کہ جسم میں چھوٹی چھوٹی انیٹوں کی مانند خلیات ہیں جن میں خون ، رطوبت وغیرہ جاتے ہیں۔ یہ خلیات اسی وقت تک درست رہتے ہیں جب تک وہ اپنی ضروریات کے مطابق مادہ حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ خلیات ضرورت سے زیادہ خون اکٹھا کرنے لگیں گے ، تو جسم میں ورم آجائے گا۔ اور جسم کا وہ حصہ بیمار ہوجائے گا۔ جہاں خون کی مقدار ضڑورت سے زیادہ جمع ہوجائے گی۔ یہی حال ارتکاز زرکا ہے۔ جب یہ کسی جگہ ضرورت سے زیادہ جمع ہوجائے گا اور حرام و مکروہات میں صرف ہوگا۔ تو نتیجہ ظاہر ہے کہ جسم میں ورم آجائے گا اور اس کی اصلاح کی ضرورت پیش آئے گی۔
فرعون کی ہلاکت :
تو ارشاد ہوتا ہے بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے۔ آپ کی بعثت کی پیشن گوئی تورات میں آج بھی موجود ہے۔ کہ اے موسیٰ ! میں تیرے بھائی بندوں میں سے تیرے جیسا ایک رسول برپا کروں گا ، اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا ، بھائی بندوں سے مراد نبی اسماعیل ہیں۔ لہذا فرمایا تمہاری طرف اسی طرح رسول بھیجا ہے۔ جس طرح فرعون کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا تھا۔ پس فرعون نے رسول کی مخالفت کی۔ اسی طرح اے مکہ والو ! تم بھی اپنے رسول کی مخالفت کر رہے ہو مگر یادر کھو جس طرح اس مخالفت کی پاداش میں ہم نے فرعون کو پکڑلیا۔ اسی طرح تمہیں بھی آخر کار اپنے رسول کے سامنے ، ہتھیار ڈالنا ہوگا۔ سے مراد وبال والا پکڑنا ہے۔ یعنی بخت مہلک گرفت میں لینا ہے۔ اور پھر فرعون کی نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کی آنکھوں کے سامنے غرق کیا بلکہ اس کی لاش کو آئندہ آنے والوں کے لیے باعث عبرت بنا دیا۔ اور اسے پانی سے باہر نکال کر رکھ دیا۔ تو مکہ والوں کو فرمایا یعنی اگر تم نے دین حق ، توحید و رسالت کا انکار کیا ، تو کیسے بچو گے۔ اس دن سے جو اپنی شدت کی وجہ سے بچوں کو بوڑھا کردے گا اس دن آسمان پھٹ جائے گا۔ پہلے دریچے دریچے ہوگا۔ پھر درہم برہم ہوجائے گا۔ نیا آسمان اور نئی زمین قائم ہوگی ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس دن اللہ کا وعدہ پورا ہوجائے گا۔
دوزخیوں کی غالب اکثریت
حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو طلب کریں گے۔ تو آدم (علیہ السلام) کہیں گے۔ یعنی اے اللہ میں حاضر ہوں۔ اللہ فرمائے گا۔ اٹھو اور جہنم والوں کو الگ کردو۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ اے مولا کریم ! دوزخ والے کون لوگ ہیں۔ حکم ہوگا ہزار میں سے نو سو ننانویں۔ یہ سن کر صحابہ کرام ؓ پریشان ہوگئے کہ کل مخلوق میں اتنی کثرت دوزخیوں کی ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ! اے ایمان والو ! تم پریشان نہ ہو ، کیونکہ اس تعداد میں یاجوج ماجوج بھی شامل ہیں۔ ایک انسان کے مقابلے میں یاجوج ماجوج کی تعداد 999 ہے۔ یہ بھی انسانوں کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ آج بھی دنیا کی کل پانچ ارب آدمی میں سے سوا چار ارب کافر ہیں ، جو جہنمی ہیں ، ایمان والے آج بھی اقلیت میں ہیں کل آبادی کا پانچواں حصہ یا اس سے بھی کم ۔ مزید یہ کہ اہل ایمان میں سے بھی صحیح ایمان والے قلیل ہی ہیں۔ اکثریت تو مکذبین کی ہے۔ الغرض فرمایا کہ اس دن حالت یہ ہوگی کہ آسمان چھٹ جائے گا ۔ زمین بھی اپنی حالت پر قائم نہیں رہیگی۔ پہاڑ پھٹ جائیں گے۔ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے بعد نئی زمین پیدا ہوگی اس پر محاسبہ ہوگا۔ خدا کا وعدہ برحق ہے اس دن پورا ہوجائے گا۔ قرآن کی نصیحتـ: یہ تمام حقائق بیان کرنے کے بعد فرمایا۔ یہ نصیحت کی باتیں ہیں جو اس سورة مبارکہ میں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ کا نبی لوگوں کو یاد دلاتا ہے اور نصیحت کرتا ہے کہ قیام لیل کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق درست کرو علیحدگی میں خدا کا ذکر کرو۔ اسی کو کار ساز بنائو مصیبت کے وقت صبر کرو۔ حقوق ادا کرو۔ قیامت آنے والی ہے۔ جو شخص چاہے پنے رب کی طرف راستہ بنا لے ۔ کیونکہ اس کی آخری منزل اللہ تعالیٰ کے حضور پیشین ہے۔ اس لیے اسے وہی راستہ اختیار کرنا ہوگا جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ اسی راستے پر چل کر انسان اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوسکتا ہے۔ ورنہ اس کا حال وہی ہوگا ۔ جو بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 73:20کیا نماز تہجد فرض ہے :
سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے رات کو قیام کا حکم دیا ۔ یہ حکم سال بھر تک نافذ رہا ۔ اور نماز تہجد حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر فرض رہی۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سورة کے پہلے اور دوسرے رکوع کے درمیان بارہ مہینے کا وقفہ ہے۔ اور اس دوران تہجد کی نماز فرض رہی۔ البتہ دوسرا رکوع نازل ہونے پر اس آیت کے ذریعہ فرضیت ختم ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمادی۔ مگر امت کے حق میں اس کا استجباب باقی ہے۔ بلکہ تمام نفلی نمازوں میں نماز تہجد کی فضیلت سب سے زیادہ ہے۔