72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 72:1–19

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ مجھ پر وحی بھیجی گئی ہے کہ جنات میں سے ایک جماعت نے (قرآن) سنا پھر کہنے لگے کہ بلا شبہ ہم نے عجیب قرآن سنا

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کا راستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہ بنائیں گے

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارا پروردگار بڑی شان والا ہے اس نے نہ تو کسی کو بیوی بنایا اور نہ اولاد

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں جو احمق ہیں وہ اللہ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں کہتے ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن اللہ کے بارے ہرگز جھوٹ نہیں بولتے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں سے بعض لوگ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ پکڑتے تھے تو (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ جیسا تم نے خیال کر رکھا ہے ویسا ہی انہوں نے (انسانوں نے) بھی سوچ رکھا تھا کہ اللہ ہرگز کسی کو دوبارہ زندہ نہ کریں گے

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے (خبروں کے لئے) آسمان کو ٹٹولا تو اس کو سخت پہروں اور شعلوں سے بھرا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں (خبریں) سننے کے لئے (بہت سے) موقعوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ تو اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارہ تیار پاتا ہے

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے پروردگار نے ان کے لئے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی ہم میں اور طرح کے ہیں۔ ہمارے کئی مذہب ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے یہ یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت سنی تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ تو جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے گا تو اس کو کسی کمی بیشی کا اندیشہ نہ ہوگا

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ہم میں سے نافرمان ہیں۔ سو جو فرماں بردار ہوگئے تو وہ بھلائی کے راستے پر چلے

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےراہ ہیں سو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور یہ (بھی فرمادیجئے) کہ اگر یہ لوگ (ہل مکہ) راستے پر سیدھے رہتے تو ہم ان کو فراغت کے پانی سے سیراب فرماتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم اس میں ان کو آزمائیں۔ اور جو اپنے پروردگار کے ذکر سے روگردانی کرے گا وہ (اللہ) اس کو سخت عذاب میں مبتلا کریں گے

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں (خاص) اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب اللہ کے بندے (رسول اللہ ﷺ اس (اللہ) کی عبادت کے لئے کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے

سورة الجن۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ لوگوں کو بتادیجئے کہ اللہ رب العزت نے مجھے اطلاع دی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے میری تلاوت سنی تو کہنے لگے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے۔ جن : جنات اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے اجسام بھی ہیں اور ارواح بھی انسانوں کی طرح مردو عورت بھی ہیں اور نسل بھی چلتی ہے ان کی تخلیق کا غالب مادہ آگ ہے لہذا نظروں سے اوجھل رہتے ہیں چونکہ شیطان بھی جنوں میں سے تھا ، لہذا اس کی اولاد بھی جن ہی ہے مگر بہت زیادہ برے ہیں اور فرشتوں کی طرح جنات کا وجود قرآن وسنت کے قطعی دلائل سے ثابت ہے جس کا انکار کفر ہے۔ تفسیر مظہری میں لوگوں کے جنات سے ملنے کے واقعات بھی موجود ہیں اور ، اکام المرجان فی احکام جان ، میں کسی قدر تفصیلی حالات ملتے ہیں جنات میں نبو ت نہیں مگر وہ مکلف ہیں اور انسانوں میں سے جو نبی ہو اس کی پیروی انکے لیے ضروری ہے ان کا بھی حساب وکتاب ہوگا۔ مفسرین کے مطابق کسی سفر میں آپ نماز ادا فرما رہے تھے کہ جنات تلاش کرتے ہوئے پہنچے انکی تلاش کا سبب آگے آرہا ہے آپ کی بعثت سے پہلے جنات آسمان کے قریب چلے جاتے اور فرشتوں کی گفتگو سے کچھ اندازہ لگا کر کاہنوں کو بتاتے پھرو یہ باتیں جوڑ کر لوگوں کو سناتے مگر آپ کی بعثت پر جنوں کو اوپر جانے سے روک دیا گیا تو انہیں تلاش ہوئی کہ ضرور کوئی واقعہ عجیب رونما ہوا ہے ان کے مختلف گروہ مختلف سمتوں میں نکلے جن میں سے ایک وہاں پہنچا جہاں آپ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے آپ تو متوجہ الی اللہ تھے پتہ نہ چلا جنوں نے سن کر جو کہا وہ بذریعہ وحی بتلایا گیا چناچہ وہی بیان ہوتا ہے کہ قرآن ایسا عجیب کلام ہے جو نیکی کا راستہ بتاتا ہے لہذا ہم اس پر ایمان لے آئے اور اب کبھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانیں گے قرآن سن کر علم ہوا کہ ہمارا رب بہت بلند وشان والا ہے اور اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی بیوی اور بچے ہوں۔۔ تو ہم میں سے بیوقوف لوگ ایسی جھوٹی باتیں بناکرکہا کرتے تھے اور ہم اس لیے مان لیتے کہ ہمارا خیال تھا کہ انسان اور جنات کم ازکم اللہ رب العزت پر جھوٹ نہ بولیں گے اور اس پر مزید یہ کہ انسانوں نے اور گمراہ لوگوں نے جنوں سے پناہ پکڑناشروع کردیا کہ عربوں کارواج تھا جہاں سفر میں رات ہوتی تو کہتے میں اس وادی کے سردار کی پناہ پکڑتا ہوں اس پر جنات میں اور غرور بڑھا کہ ہم بہت اعلی ہیں انسانوں سے افضل ہیں کہ وہ تو ہماری پناہ حاصل کرتے ہیں اور انہوں نے یہ سوچ لیا کہ اب کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ شہاب ثاقب۔ مگرہم جب پہلے کی طرح آسمانوں کی طرف گئے تو وہاں سخت پہرہ تھا اور انگارے برستے تھے شہاب ثاقت بعثت نبوری سے پہلے بھی تھے لیکن ممکن ہے ان سے پہلے یہ کام نہ لیا جاتا ہو جبکہ بعثت کے بعد جنوں کو روکنے کا کام لیا جانے لگا یا کوئی خاص شعلہ نکلتا ہو جو صرف جنات و شیاطین کے روکنے کے لیے ہو۔ کہ پہلے تو ہم نے جگہیں بنارکھی تھیں جہاں چھپ کر آسمان دنیا کے فرشتوں کی کوئی نہ کوئی بات لے اڑتے تھے مگر اب اگر کوئی سننے کی کوشش کرے تو اس پر ایک شعلہ لپکتا ہے اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ بعثت رسول اہل زمین کے لیے باعث ہدایت ہے یا اتمام حجت بنے گی کہ اس کے انکار کے سبب تباہ کردیے جائیں۔ بے شک ہم میں ہر طرح کے لوگ ہیں نیک بھی ہیں اور ایسے بھی جو نیک نہیں کہ ہم میں بھی بہت طریقے رائج تھے لیکن ہم نے جان لیا کہ اللہ کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں ہیں اور نہ کہیں اس سے بھاگ کر نکل سکتے ہیں اب جب ہمیں ہدایت کی دعوت پہنچ گئی تو ہم اس پر ایمان لائے اور جو کوئی بھی اللہ پر ایمان لائے گا وہ کسی کمی بیشی کا شکار نہ ہوگا کوئی نیکی ضائع جائے یا کسی ناکردہ گناہ میں پکڑاجائے لیکن اس کے باوجود ہم میں اسلام قبول کرنے والے بھی ہیں اور بےراہ رو بھی مگر فائدے میں وہی ہے جس نے اسلام قبول کرلیا کہ قبول نہ کرنے والے تو دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ کیاجنات کے لیے جنت ہے۔ یہاں کافرجنوں کے لیے دوزخ کا وعدہ ہے مگر کہیں بھی صراحت سے مسلمان جنوں کے لیے جنت کی بشارت نہیں لہذا امام ابوحنیفہ سمیت بہت سے سلف کا یہ ارشاد ہے کہ جن کے یے اجر یہ ہے کہ دوزخ سے محفوظ رہے اور حساب کتاب کے بعد جانوروں کے ساتھ انہیں بھی ختم کردیاجائے گا۔ اسی پر کفر کہے گا کہ اے کاش مجھے بھی مٹی کردیاجاتا مگر ایک جماعت قائلین کی بھی ہے اور ان کے پاس بھی دلائل ہیں مگر وہ بھی جنت جانے کی بات نہیں فرماتے بلکہ اعراف ہیں یعنی دوزخ سے باہر ار جنت سے بھی باہر جہان ان کے لیے ٹھہرنے کی عالیشان مقامات ہوں گے۔ واللہ اعلم۔ ذکرکا آخری درجہ۔ اگر انسان بھی (یعنی اہل مکہ) اس طرح ایمان لے آتے تو ہم ان پر دنیا کی نعمت بھی عام کردیتے تاکہ ان کو آزمایاجاسکے اور جس نے اپنے رب کی یاد بھلادی کہ ذکر الٰہی کا آخری درجہ ایمان ہے پھر زبانی پھر عملی اور سب سے اعلی ذکر قلبی مگر جس نے بالکل ہی فراموش کردیا یعنی ایمان بھی قبول نہ کیا تو اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا اور تمام سجدہ گاہیں ہیں یعنی ہر طرح کا سجدہ صرف اللہ کے لیے ہے اور کسی بھی طرح ذات یا صفات میں کسی کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ لیکن کفار کا یہ حال ہے کہ اللہ کا مقرب بندہ اور اس کا رسول بھی جب اللہ کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو الٹ پڑتے ہیں جیسے حملہ آور ہو رہے ہوں یعنی ارشادات نبوی اور نظام اسلام کے خلاف کافر گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں۔
Ayahs 72:20–28

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

فرمادیجئے بیشک میں اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(اور یہ بھی) فرمادیجئے کہ میں تمہارے حق میں نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

فرما دیجئے کہ مجھے اللہ سے کوئی ہرگز نہیں بچا سکتا اور نہ میں اس کے علاوہ کہیں پناہ پاسکتا ہوں

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

لیکن اللہ کی طرف سے پہنچانا اور اس کے پیغاموں کا ادا کرنا (میرا کام) ہے اور جو اللہ اور اس کے پیغمبر کا کہنا نہیں مانتا تو یقینا اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہوگا کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی جماعت کم ہے

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ قریب ہے یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کردی ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہی غیب جاننے والا ہے سو کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں فرماتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر ہاں جس پیغمبر کو چاہے (غیب سے آگاہ فرمادیتا ہے) تو وہ یقینا اس کے آگے اور پیحھے محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ جانے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے اور اس (اللہ) نے ان (پہرے داروں) کی سب چیزوں کا احاط کررکھا ہے اور اس کو ہر چیز کی گنتی معلوم ہے

آیات 20 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ آپ فرمادیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اور یہ بھی واضح فرمادیجئے کہ اللہ کی طرف سے میں تمہارے بھلے برے کا ذمہ دار نہیں ہوں نہ یہ فرائض نبوت میں سے ہے کہ میں بھی اللہ کی مخلوق اور اس کا بندہ ہوں خود میرے سب معاملات بھی اسی کے دست قدرت میں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہاں میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کا پیغام پہنچانا میرافریضہ ہے اور یہ بات طے ہے کہ جو اللہ کی نافرمانی کرے گا یعنی اس کے رسول کے لائے ہوئے پیغام کو قبول نہیں کرے گا اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ تڑپے گا لیکن جن بدبختوں کو توفیق ایمان نہ ہوئی وہ آپ کے دوسرے ارشادات کب مانیں گے جب آخرت کو دیکھیں گے یا وہ وعدہ عذاب جو کفر پر ہے سامنے آئے گا تو انہیں پتہ چلے گا کہ کون کمزور ہے اور تھوڑی قوت رکھتا ہے کفار کا خیال تھا چند مسلمان جو کمزور سے ہیں بھلا کیا کرسکیں گے مگر انہوں نے وعدہ الٰہی دنیا میں بھی دیکھ لیا اور آخرت میں بھی دیکھ لیں گے ان سے کہہ دیجئے کہ قیامت کا وقت اللہ کے علم میں ہے اور نبی کے ذمہ یہ نہیں کہ قیامت کا دن اور گھڑی بتائے۔ اور نہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے کہ کیا خبر وہ بہت قریب ہو یا ایک مدت کے بعد ہو ہاں ہوگی یقینا تو رہا معاملہ غیب کا وہ صرف اللہ کو حاصل ہے اور کسی پر اس کو ظاہر نہیں کرتا سوائے اپنے رسول کے جسے چن لیتا ہے اور اس پر بھی جو وحی آتی ہے اس میں سوائے نبی کے کوئی نہیں جان سکتا کہ اس کے ہر طرف بھی پہرے ہوتے ہیں تاکہ سلامتی سے پہنچے اور ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور کائنات کا ہر ذرہ اس کے شمار میں ہے۔ علم غیب۔ یاد ہے علم غیب خاصہ باری تعالیٰ ہے جو بغیر کسی ذریعے اور واسطے کے جانتا ہے لہذا اس کی صفت ہے علم الغیب کہ کائنات کے ہر ذرے میں کتنے ایٹم ہیں اور ان کے اندر کیا ہے سب جانتا ہے ہر وقت جانتا ہے اسی غیب کی نفی ہے رہی غیب کی خبر جن کا اوپر بیان ہوا ہے وہ منصب رسالت ونبوت کے لیے جس قدر ضروری ہو تمام انبیاء کو نصیب ہوتی ہے اور آپ کو کائنات میں سب سے زیادہ حاصل ہے مگر اس کے باوجود آپ اللہ کی صفات میں شریک نہیں ہیں۔