72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 72:1

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو حکم آیا کہ سن گئے کتنے لوگ جنوں کے11 پھر کہنے لگے ہم نے سنا ہے ایک قرآن عجیب

11 جنوں کے وجود اور حقیقت پر حضرت شاہ عبدالعزیز نے سورة ہذا کی تفسیر میں نہایت مبسوط و مفصل بحث کی ہے۔ اور عربی میں " اکام المرجان فی آحکام الجان " اس موضوع پر نہایت جامع کتاب ہے جس کو شوق ہو مطالعہ کرے۔ یہاں گنجائش نہیں کہ اس قسم کے مباحث درج کیے جائیں۔
Ayah 72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

کہ سجھاتا ہے نیک راہ سو ہم اس پر یقین لائے اور ہرگز نہ شریک بتلائیں گے ہم اپنے رب کا کسی کو1

1 سورة " احقاف " میں گزر چکا کہ نبی کریم ﷺ صبح کی نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کئی جن ادھر کو گزرے اور قرآن کی آواز پر فریفتہ ہو کر سچے دل سے ایمان لے آئے۔ پھر اپنی قوم سے جا کر سب ماجرا بیان کیا۔ کہ ہم نے ایک کلام سنا ہے جو (اپنی فصاحت و بلاغت، حسن اسلوب، قوت تاثیر، شیریں بیانی، طرز موعظت اور علوم و مضامین کے اعتبار سے) عجیب و غریب ہے معرفت ربانی اور رشد و فلاح کی طرف رہبری کرتا ہے۔ اور طالب خیر کا ہاتھ پکڑ کر نیکی اور تقویٰ کی منزل پر پہنچا دیتا ہے اس لیے ہم سنتے ہی بلا توقف اس پر یقین لائے اور ہم کو کچھ شک و شبہ نہیں رہا کہ ایسا کلام اللہ کے سوا کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اب ہم اس کی تعلیم و ہدایت کے موافق عہد کرتے ہیں کہ آئندہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ان کے اس تمام بیان کی آخر تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر وحی فرمائی۔ اس کے بعد بہت مرتبہ جن حضور ﷺ سے آکر ملے۔ ایمان لائے اور قرآن سیکھا۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ اونچی ہے شان ہمارے رب کی نہیں رکھی اس نے جورو نہ بیٹا2

2 یعنی جورو بیٹا رکھنا اس کی عظمت شان کے منافی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ جو گمراہیاں آدمیوں میں پھیلی ہوئی تھیں وہ جنوں میں بھی تھیں (عیسائیوں کی طرح) اللہ کے جورو بیٹا بتاتے تھے۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کا بیوقوف اللہ پر بڑھا کر باتیں کہا کرتا تھا3

3 یعنی ہم جو بیوقوف ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نسبت ایسی لغو باتیں اپنی طرف سے بڑھا کر کہتے تھے اور ان میں سب سے بڑا بیوقوف ابلیس ہے شاید خاص وہی اس جگہ لفظ " سفیہ " سے مراد ہو۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم کو خیال تھا کہ ہرگز نہ بولیں گے آدمی اور جن اللہ پر جھوٹ4

4 یعنی ہم کو یہ خیال تھا کہ اس قدر کثیر التعداد جن اور آدمی مل کر جن میں بڑے بڑے عاقل اور دانا بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نسبت جھوٹی بات کہنے کی جرأت نہ کریں گے۔ یہی خیال کر کے ہم بھی بہک گئے اب قرآن سن کر قلعی کھلی اور اپنے پیشتروؤں کی اندھی تقلید سے نجات ملی۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ تھے کتنے مرد آدمیوں میں کے پناہ پکڑتے تھے کتنے مردوں کی جنوں میں کے پھر تو وہ اور زیادہ سر چڑھنے لگے5

5 عرب میں یہ جہالت بہت پھیلی ہوئی تھی۔ جنوں سے غیب کی خبریں پوچھتے، ان کے نام کی نذر و نیاز کرتے چڑھاوے چڑھاتے۔ اور جب کسی قافلہ کا گزر یا پڑاؤ کسی خوفناک وادی میں ہوتا تو کہتے کہ اس حلقہ کے جنوں کا جو سردار ہے ہم اس کی پناہ میں آتے ہیں تاکہ وہ اپنے ماتحت جنوں سے ہماری حفاظت کرے۔ ان باتوں سے جن اور زیادہ مغرور ہوگئے اور سر چڑھنے لگے۔ دوسری طرف اس طرح کی شرکیات سے آدمیوں کے عصیان و طغیان میں بھی اضافہ ہوا جب انہوں نے خود اپنے اوپر جنوں کو مسلط کرلیا تو وہ ان کے اغوا میں کیا کمی کرتے۔ آخر قرآن نے آکر ان خرابیوں کی جڑ کاٹی۔
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان کو بھی خیال تھا جیسا تم کو خیال تھا کہ ہرگز نہ اٹھائے گا اللہ کسی کو6

6 مسلمان جن یہ سب گفتگو اپنی قوم سے کر رہے ہیں۔ یعنی جیسا تمہارا خیال ہے، بہت آدمیوں کا بھی یہی خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو ہرگز قبروں سے نہ اٹھائے گا۔ یا آئندہ کوئی پیغمبر مبعوث نہ کرے گا۔ جو رسول پہلے ہوچکے سو ہوچکے۔ اب قرآن سے معلوم ہوا کہ اس نے ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے جو لوگوں کو بتلاتا ہے کہ تم سب موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے اور رتی رتی کا حساب دینا ہوگا۔
Ayahs 72:8–9

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے ٹٹول دیکھا آسمان کو پھر پایا اس کو بھر رہے ہیں اس میں چوکیدار سخت اور انگارے

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم بیٹھا کرتے تھے ٹھکانوں میں سننے کے واسطے پھر جو کوئی اب سننا چاہے وہ پائے اپنے واسطے ایک انگار اگھات میں7

7 یعنی ہم اڑ کر آسمان کے قریب تک پہنچے تو دیکھا کہ آجکل بہت سخت جنگی پہرے لگے ہوئے ہیں جو کسی شیطان کو غیب کی خبر سننے نہیں دیتے اور جو شیطان ایسا ارادہ کرتا ہے اس پر انگارے برستے ہیں اس سے پیشتر اتنی سختی اور روک ٹوک نہ تھی جن اور شیاطین آسمان کے قریب گھات میں بیٹھ کر ادھر کی کچھ خبر سن کر آیا کرتے تھے۔ مگر اب اس قدر سخت ناکہ بندی اور انتظام ہے کہ جو سننے کا ارادہ کرے فوراً شہاب ثاقب کے آتشیں گولے سے اس کا تعاقب کیا جاتا ہے۔ اس کی بحث پہلے سورة " حجر " وغیرہ میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ برا ارادہ ٹھہرا ہے زمین کے رہنے والوں پر یا چاہا ان کے حق میں ان کے رب نے راہ پر لانا8

8 یعنی یہ جدید انتظامات اور سخت ناکہ بندی خدا جانے کس غرض سے عمل میں آئی ہیں۔ یہ تو ہم سمجھ چکے کہ قرآن کریم کا نزول اور پیغمبر عربی کی بعثت اس کا سبب ہوا لیکن نتیجہ کیا ہونے والا ہے ؟ آیا زمین والے قرآن کو مان کر راہ پر آئیں گے اور اللہ ان پر الطاف خصوصی مبذول فرمائے گا ؟ یا یہی ارادہ ٹھہر چکا ہے کہ لوگ قرآنی ہدایات سے اعراض کرنے کی پاداش میں تباہ و برباد کیے جائیں ؟ اس کا علم اسی علام الغیوب کو ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ کوئی ہم میں نیک ہیں اور کوئی اس کے سوا ہم تھے کئی راہ پر پھٹے ہوئے9

9 یعنی نزول قرآن سے پہلے بھی سب جن ایک راہ پر نہ تھے، کچھ نیک اور شائستہ تھے، اور بہت سے بدکار و ناہنجار، ان میں بھی فرقے اور جماعتیں ہوں گی۔ کوئی مشرک، کوئی عیسائی، کوئی یہودی وغیر ذلک۔ اور عملی طور پر ہر ایک کی راہ عمل جدا ہوگی۔ اب قرآن آیا جو اختلافات اور تفرقوں کو مٹانا چاہتا ہے لیکن لوگ ایسے کہاں ہیں کہ سب کے سب حق کو قبول کر کے ایک راستہ پر چلنے لگیں۔ لامحالہ اب بھی اختلاف رہے گا۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے خیال میں آگیا کہ ہم چھپ نہ جائیں گے اللہ سے زمین میں اور نہ تھکا دیں گے اس کو بھاگ کر10

10 یعنی اگر ہم نے قرآن کو نہ مانا تو اللہ کی سزا سے بچ نہیں سکتے نہ زمین میں کسی جگہ چھپ کر، نہ ادھراُدھر بھاگ کر، یا ہوا میں اڑ کر۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے سن لی راہ کی بات تو ہم نے اس کو مان لیا1 پھر جو کوئی یقین لائے گا اپنے رب پر سو وہ نہ ڈرے گا نقصان سے اور نہ زبردستی سے2

1 یعنی ہمارے لیے فخر کا موقع ہے کہ جنوں میں سب سے پہلے ہم نے قرآن سن کر بلا توقف قبول کیا اور ایمان لانے میں ایک منٹ کی دیر نہیں کی۔2 یعنی سچے ایماندار کو اللہ کے ہاں کوئی کھٹکا نہیں۔ نہ نقصان کا کہ اس کی کوئی نیکی اور محنت یونہی رائیگاں چلی جائے۔ نہ زیادتی کا کہ زبردستی کسی دوسرے کے جرم اس کے سر تھوپ دیے جائیں، غرض وہ نقصان، تکلیف اور ذلت و رسوائی سب سے مامون و محفوظ ہے۔
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ کچھ ہم میں حکمبردار ہیں اور کچھ ہیں بےانصاف سو جو لوگ حکم میں آگئے سو انہوں نے اٹکل کرلیا نیک راہ کو

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو بےانصاف ہیں وہ ہوئے دوزخ کے ایندھن3

3 یعنی نزول قرآن کے بعد ہم میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جنہوں نے اللہ کا پیغام سن کر قبول کیا اور اس کے احکام کے سامنے گردن جھکا دی۔ یہی ہیں جو تلاش حق میں کامیاب ہوئے۔ اور اپنی تحقیق و تفحص سے نیکی کے راستہ پر پہنچ گئے۔ دوسرا گروہ بےانصافوں کا ہے جو کجروی و بےانصافی کی راہ سے اپنے پروردگار کے احکام کو جھٹلاتا اور اس کی فرمانبرداری سے انحراف کرتا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کو جہنم کا کندا اور دوزخ کا ایندھن کہنا چاہیے۔ (تنبیہ) یہاں تک مسلمان جنوں کا کلام نقل فرمایا جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا۔ آگے حق تعالیٰ اپنی طرف سے چند نصیحت کی باتیں ارشاد فرماتے ہیں گویا " وَاَنْ لَّوِاسْتَقَامُوْا " الخ کا عطف " اَنَّہ، اسَّتَمَعَ نَفَرٌمِّنَ الْجِنِّ " پر ہوا۔ مترجم محقق نے ترجمہ میں اور یہ " حکم آیا " کے الفاظ بڑھا کر بتلا دیا کہ یہاں سے اخیر تک " قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ " کے تحت میں داخل ہے۔
Ayahs 72:16–17

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور یہ حکم آیا کہ اگر لوگ سیدھے رہتے راہ پر تو ہم پلاتے ان کو پانی بھر کر

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ان کو جانچیں اس میں4 اور جو کوئی منہ موڑے اپنے رب کی یاد سے وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں5

4 یعنی اگر جن و انس حق کی سیدھی راہ پر چلتے تو ہم ان کو ایمان وطاعت کی بدولت ظاہری و باطنی برکات سے سیراب کردیتے اور اس میں بھی ان کی آزمائش ہوتی کہ نعمتوں سے بہرہ ور ہو کر شکر بجا لاتے اور طاعت میں مزید ترقی کرتے ہیں یا کفران نعمت کر کے اصل سرمایہ بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ اس وقت مکہ والوں کے ظلم و شرارت کی سزا میں حضور ﷺ کی دعاء سے کئی سال کا قحط پڑا تھا۔ لوگ خشک سالی سے پریشان ہو رہے تھے۔ اس لیے متنبہ فرما دیا کہ اگر سب لوگ ظلم و شرارت سے باز آکر اللہ کے راستہ پر چلیں جیسے مسلمان جنوں نے طریقہ اختیار کیا ہے تو قحط دور ہو اور باران رحمت سے ملک سرسبز و شاداب کردیا جائے۔ 5 یعنی اللہ کی یاد سے منہ موڑ کر آدمی کو چین نصیب نہیں ہوسکتا۔ وہ تو ایسے راستہ پر چل رہا ہے جہاں پریشانی اور عذاب ہی چڑھتا چلا آتا ہے۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی یاد کے واسطے ہیں سو مت پکارو اللہ کے ساتھ کسی کو6

6 یوں تو خدا کی ساری زمین اس امت کے لیے مسجد بنادی گئی ہے۔ لیکن خصوصیت سے وہ مکانات جو مسجدوں کے نام سے خاص عبادتِ الٰہی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ان کو اور زیادہ امتیاز حاصل ہے۔ وہاں جا کر اللہ کے سوا کسی ہستی کو پکارنا ظلم عظیم اور شرک کی بدترین صورت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خالص خدائے واحد کی طرف آؤ اور اس کا شریک کر کے کسی کو کہیں بھی مت پکارو خصوصاً مساجد میں جو اللہ کے نام پر تنہا اسی کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں۔ بعض مفسرین نے " مساجد " سے مراد وہ اعضا لیے ہیں جو سجدہ کے وقت زمین پر رکھے جاتے ہیں۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ یہ خدا کے دیے ہوئے اور اس کے بنائے ہوئے اعضاء ہیں۔ جائز نہیں کہ ان کو اس مالک و خالق کے سوا کسی دوسرے کے سامنے جھکاؤ۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ7 کہ اس کو پکارے لوگوں کا بندھنے لگتا ہے اس پر ٹھٹھ8

7 یعنی بندہ کامل محمد رسول اللہ ﷺ ۔ 8 یعنی آپ جب کھڑے ہو کر قرآن پڑھتے ہیں تو لوگ ٹھٹھ کے ٹھٹھ آپ پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ مومنین تو شوق ورغبت سے قرآن سننے کی خاطر اور کفار عداوت وعناد سے آپ پر ہجوم کرنے کے لیے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

تو کہہ میں تو پکارتا ہوں بس اپنے رب کو اور شریک نہیں کرتا اس کا کسی کو9

9 یعنی کفار سے کہہ دیجیے کہ تم مخالفت کی راہ سے بھیڑ کیوں کرتے ہو، کون سی بات ایسی ہے جس پر تمہاری خفگی ہے۔ میں کوئی بری اور نامعقول بات تو نہیں کہتا۔ صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کا شریک کسی کو نہیں سمجھتا۔ تو اس میں لڑنے جھگڑنے کی کون سی بات ہے اور اگر تم سب مل کر مجھ پر ہجوم کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو میرا بھروسہ اکیلے اسی خدا پر ہے جو ہر قسم کی شرکت سے پاک اور بےنیاز ہے۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

تو کہہ میرے اختیار میں نہیں تمہارا برا اور نہ راہ پر لانا10

10 یعنی میرے اختیار میں نہیں کہ تم کو بھی راہ پر لے آؤں۔ اور نہ آؤ تو کچھ نقصان پہنچا دوں سب بھلائی برائی اور سود و زیاں اسی خدائے واحد کے قبضہ میں ہے۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

تو کہہ مجھ کو نہ بچائے گا اللہ کے ہاتھ سے کوئی اور نہ پاؤں گا اس کے سوا کہیں سرک رہنے کو جگہ11

11 یعنی تم کو نفع نقصان پہنچانا تو کجا، اپنا نفع و ضرر میرے قبضہ میں نہیں۔ اگر بالفرض میں اپنے فرائض میں تقصیر کروں تو کوئی شخص نہیں جو مجھ کو اللہ کے ہاتھ سے بچا لے اور کوئی جگہ نہیں جہاں بھاگ کر پناہ حاصل کرسکوں۔
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

مگر پہنچانا ہے اللہ کی طرف سے اور اس کے پیغام لانے12 اور جو کوئی حکم نہ مانے اللہ کا اور اس کے رسول کا سو اس کے لیے آگ ہے دوزخ کی رہا کریں اس میں ہمیشہ13

12 یعنی اللہ کی طرف سے پیغام لانا اور اس کے بندوں کو پہنچا دینا، یہی چیز ہے جو اس نے میرے اختیار میں دی اور یہی فرض ہے جس کے ادا کرنے سے میں اس کی حمایت اور پناہ میں رہ سکتا ہوں۔13 یعنی تمہارے نفع نقصان کا مالک میں نہیں۔ لیکن اللہ کی اور میرے نافرمانی کرنے سے نقصان پہنچنا ضروری ہے۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو کچھ ان سے وعدہ ہوا تب جان لیں گے کس کے مددگار کمزور ہیں اور گنتی میں تھوڑے1

1 یعنی تم جو جتھے باندھ کر ہم پر ہجوم کرتے ہو اور سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھی تھوڑے سے آدمی ہیں وہ بھی کمزور تو جب وعدہ کا وقت آئے گا اس وقت پتہ لگے گا کہ کس کے ساتھی کمزور اور گنتی میں تھوڑے تھے۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں جانتا کہ نزدیک ہے جس چیز کا تم سے وعدہ ہوا ہے یا کر دے اس کو میرا رب ایک مدت کے بعد2

2 یعنی اس کا علم مجھے نہیں دیا گیا کہ وعدہ جلد آنے والا ہے، یا ایک مدت کے بعد۔ کیونکہ قیامت کا وقت معین کر کے اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا۔ یہ ان غیوب میں سے ہے جو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayahs 72:26–27

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

جاننے والا بھید کا سو نہیں خبر دیتا اپنے بھید کی کسی کو

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر جو پسند کرلیا کسی رسول کو تو وہ چلاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے چوکیدار3

3 یعنی اپنے بھید کی پوری خبر کسی کو نہیں دیتا۔ ہاں رسولوں کو جس قدر ان کی شان و منصب کے لائق ہو بذریعہ وحی خبر دیتا ہے۔ اس وحی کے ساتھ فرشتوں کے پہرے اور چوکیاں رکھی جاتی ہیں کہ کسی طرف سے شیطان اس میں دخل کرنے نہ پائے۔ اور رسول کا اپنا نفس بھی غلط نہ سمجھے۔ یہی معنی ہیں اس بات کے کہ پیغمبروں کو (اپنے علوم و اخبار میں) عصمت حاصل ہے، اوروں کو نہیں۔ انبیاء کی معلومات میں شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسروں کو معلومات میں کئی طرح کے احتمال ہیں۔ اسی لیے محققین صوفیہ نے فرمایا ہے کہ ولی اپنے کشف کو قرآن و سنت پر عرض کر کے دیکھے اگر ان کے مخالف نہ ہو تو غنیمت سمجھے۔ ورنہ بےتکلف رد کر دے۔ (تنبیہ) اس آیت کی نظیر آل عمران میں ہے۔ (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَي الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِہ مَنْ يَّشَاۗءُ ) 3 ۔ آل عمران :179) اور کئی سورتوں میں علم غیب کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے وہیں ہم فوائد میں اس پر مفصل کلام کرچکے ہیں۔ فلیراجع۔
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ جانے کہ انہوں نے پہنچائے پیغام اپنے رب کے4 اور قابو میں رکھا ہے جو ان کے پاس ہے اور گن لی ہے ہر چیز کی گنتی5

4 یعنی یہ زبردست انتظامات اس غرض سے کیے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دیکھ لے کہ فرشتوں نے پیغمبروں کو یا پیغمبروں نے دوسرے بندوں کو اس کے پیغامات ٹھیک ٹھیک بلا کم وکاست پہنچا دیے ہیں۔5 یعنی ہر چیز اس کی نگرانی اور قبضہ میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ وحی الٰہی میں تغیر و تبدل یا قطع و برید کرسکے۔ اور یہ پہرے چوکیاں بھی شان حکومت کے اظہار اور سلسلہ، اسباب کی محافظت کے لیے بہت سی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ورنہ جس کا علم اور قبضہ ہر چیز پر حاوی ہو اس کو ان چیزوں کی کوئی احتیاج نہیں۔ تم سورة الجن وللہ الحمد والمنۃ۔