Ayah 72:1آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میر پاس وحی آئی کہ جنوں کے ایک گروہ نے قرآن کریم کان لگا کر سنا
1 ؎” جن “ کیا ہے ؟ جن کے متعلق ہم پیچھے بہت سے مقامات پر بحث کرچکے ہیں اور خصوصاً اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد ہشتم سورة الاحقاف کی آیت 29 تا 1 3 میں کرائے ہیں اور اس سورت کے اختتام پر ایک مختصر مضمون نقل کریں گے تاکہ مزید وضاحت ہوجائے ۔ روایات میں نبی کریم ﷺ سے براہ راست اتفا قا جنوں کے قرآن ِ کریم سننے کا ذکر آیا ہے اور بعض روایات میں اس طرح کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک رات جنوں کو قرآن ِکریم سنانے کا اہتمام بھی فرمایا ۔ ہم اس جگہ روایات پر بحث کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس طرح بحث طول پکڑے گی۔ ہم قبل ازیں عرض کرچکے ہیں کہ قرآن ِ کریم میں جہاں کہیں بھی مکلف ِجنوں کا ذکر آیا ہے وہاں وہی جن مراد ہیں جو انسانوں کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں اور من حیث القوم یا من حیث رسول کا بنا کر بھیجے جانے کی قرآن کریم نے واضح الفاظ میں نفی کی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ قرآن ِکریم ایک چیز کی خود نفی کرے اور پھر خود ہی اس کا اثبات شروع کر دے ۔ ہمارے مفسرین نے چھ واقعات نقل کئے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے جنوں کو قرآن کریم سنایا اتفاقا کسی جنوں کی جماعت نے قرآن ِ کریم سنا ، اس کی تصدیق کی ، ایمان لائے اور اپنی قوم کو بھی قرآن ِ کریم کی تعلیمات سے روشناس کرایا ۔ ان واقعات میں سے بعض کو ہم اس سورت کے آخر میں ” تحقیق لفظ جن “ کے تحت درج بھی کریں گے ۔ اس وقت جو ہم کو دیکھنا ہے وہ قرآن ِ کریم کے الفاظ کو دیکھنا ہے کہ اس نے کیا الفاظ بولے ہیں اور ان کا کیا مفہوم نکلتا ہے ؟ زیر نظر آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کا اتفاقاً جنوں کے کسی گروہ کو قرآن کریم سنانے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ایسا اشارہ اس جگہ موجود ہے جس سے اس مفہوم کی تصدیق ہوتی ہے بلکہ جو چیز تفہیم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو حکم ملا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں میں یہ بات بتائیں کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن ِکے کسی حصہ کو بڑے غور اور فکر کے ساتھ سنا ہے اور انہوں نے اپنے اپنائے جنس یا ابنائے قوم کو قرآن کریم من وعن پڑھ کر سنایا ۔ گویا جو کچھ انہوں نے سنا تھا اس کو انہوں نے حفظ کرلیا یا اس کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ لیا اور پھر اپنے لوگوں کو بھی وہ قرآن کریم پڑھ کر سنایا اور اس پر تعجب کا اظہار بھی کیا۔ گویا آپ ﷺ کو ایک واقعہ کی خبر دی گئی کہ اس طرح جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم کو سنا اگرچہ اس کی وضاحت نہیں کہ وہ آپ ﷺ سے سنا یا کسی دوسرے صاحب سے سنا بہر حال انہوں نے جو کچھ سنا ، خوب دِل لگا کر سنا یا اور اس پر تعجب کا اظہار بھی کیا ، گویا آپ ﷺ کو ایک واقعہ کی خبر دی گئی کہ اس طرح جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم کو سنا اگرچہ اس کی وضاحت نہیں کی کہ وہ آپ ﷺ سے سنا یا کسی دوسرے صاحب سے سنا بہر حال انہوں نے جو کچھ سنا ، خوب دِل لگا کر سنا اور اس کو گزشتہ آسمانی کتابوں کے مطابق پایا جیسا کہ وہ گزشتہ انبیاء و رسل کے مواعظ پر پڑھتے یا سنتے آتے تھے اور اس کلام کو بالکل انہوں نے اسی تعلیم کے مطابق پایا اور انہوں نے اس کا ذکر اپنی قوم کے سامنے بھی کیا۔
اس معاملہ میں قرآن کریم نے جو لفظ استعمال کیا وہ ہے (استمع) اس نے سنا لیا استماع سے جس کے معنی متوجہ ہو کر سننے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور انہوں نے اس خبر کا جس طرح اظہار کیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک پڑھی جانے والی کتاب کو سنا اور نہایت غور سے سنا اور ہم نے اس کو عجیب کلام پایا اور عجیب سے مراد ان کی بہت اچھا کلام ہے جیسا کہ آگے ان کے بیان سے خود بخود وضاحت ہو رہی ہے۔
Ayah 72:2کہ وہ بھلائی کی طرف راہ دکھاتا ہے پس ہم اس پر ایمان لے آئے جو وہ کہتا ہے :
2 ؎ اس بیان میں مقصودیہ ہے کہ مکہ کے لوگوں کو شہری آبادی سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے اب کو مہذب لوگ خیال کرتے ہیں ، صاحب زبان ہیں اور اس بیان کو سن کرا چھی طرح اس کو سمجھ سکتے ہیں جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو اس طرح بےاعتنائی سے سنتے ہیں کہ گویا انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں اور کم ازکم یہ کہ ان سے کچھ کہا ہی نہیں گیا ۔ ایسے ہی آوارہ بات اس کو وہ سمجھتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں دیہاتی اور گنوار لوگوں کے ایک گروہ نے اس قرآن کریم کے بعض حصہ کو سنا اور نہایت دِل لگا کر سنا حالانکہ ان کو مخاطب کر کے کچھ کہا بھی نہیں جارہا تھا بلکہ وہ محض پڑھا جارہا تھا اور اتفاق یہ ہوا کہ ان لوگوں نے اس کی تلاوت کو سنا اور ان کے دِل میں وہ جم گئی اور انہوں نے اس کو اپنے تک ہی محدود نہ رکھا بلکہ افراد قوم کے سامنے اس کو بیان کیا اور نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا اور قوم کے لوگوں کو بتایا کہ وہ کلام لوگوں کو بھلائی کی راہ دکھاتا ہے اور ہم نے تو اس کی تعلیمات کو سنتے ہی اس کو قبول کرلیا ہے اور اب ہم سمجھ گئے ہیں اور کبھی اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہرائیں گے خواہ وہ کون ہو ، کیسا ہو اور کہاں ہو ؟ گویا قرآن کریم کے جس حصہ کو انہوں نے سنا اس میں توحید بیان کی گئی تھی اور شرک سے روکا گیا تھا۔ اگر مکہک لوگ جو ایک مہذب قوم کے لوگ معروف ہیں اور وہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنی حیثیت بھی سیادت کی سمجھتے ہیں اگر قرآن ِ کریم کی عبارت اور مضمون پر غور وفکر نہیں کرتے تو نہ کریں اللہ تعالیٰ قرآن کریم پر ایمان لانے والے بہت سے دوسرے لوگ پیدا کر دے گا جو خود بھی اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھیں گے اور پھر دوسروں تک بھی نہایت احسن طریق کے مطابق پہنچائیں گے ، خود شرک سے بچیں گے اور دوسروں کو بچانے کی کوشش کریں گے ۔ اس طرح گویا ایک طرف مکہ کے لوگوں کی سرزنش کی جارہی ہے اور دوسری طرف خود رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کی ڈھارس بندھائی جارہی ہے کہ وہ مکہ کے لوگوں کی مخالفت کے باعث بددل نہ ہوں بلکہ اپنے اللہ پر پورا پورا بھروسہ رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اس تحریک کو کا ما بی سے دوچار کرے گا
Ayah 72:3بلاشبہ ہمارا رب بڑی شان والا ہے اس کی نہ بیوی ہے نہ اولاد :
3 ؎ یہ کلام اس جنوں کی جماعت کا ہے جو وہ اپنے لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور ان کو بتا رہے ہیں۔ کیا انہوں نے اس طرح کلام کو سنا ہے یا جو کچھ سنا ہے اُ سکا مفہوم وہ بیان کر رہے ہیں ؟ دنوں باتوں کا احتمال ہے اور دونوں مفہوم سمجھا اور بیان کیا جاسکتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے رب کی عظمت بہت بلند ہے جس نے نہ تو کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا رب بیوی اور بال بچوں سے پاک ہے کیونکہ بیوی ہو یا اولاد انسان کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے اور بعض کمزوریوں کے ازالہ کے لئے اس کو بیوی چاہئے اور اسی طرح بعض کمزوریوں کے ازالہ کے لئے اس کو اولاد کی ضرورت محسوس ہوتی ہے خواہ وہ کتنا ہی نیک ، پارسا اور فرشتہ سیرت انسان کیوں نہ ہو اور اسی طرح انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اگر کسی کی بیوی ہوگی تو اولاد کا امکان ہوگا اور اگر اولاد موجود ہے تو بیوی کا ہونا لازم و ضروری ہے اور یہ بات سورة الانعام کی آیت 101 میں خود اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے بیان فرمادی ہے اور اس آیت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ جماعت یا اس جماعت میں سے کوئی شخص عیسائیوں کے من گھڑت عقائد سے بھی واقفیت رکھتا ہے کیونکہ عیسایئوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کے نام سے معروف کررکھا تھا حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ تعلیم نہیں تھی بلکہ عیسایء قوم نے یہ اختراعی عقیدہ اختیار کررکھا تھا اور اس نے جو حصہ قرآن کریم کا سنا اس میں اس کی نفی ہوگی یا اس طرح کا بیان ہوگا جس نے ان کی طبیعت کو اس طرح بیان کرنے پر مجبور کیا۔ اس آیت سے یہی واضح ہوتا ہے اگرچہ ابنت کا عقیدہ کے ہاں بھی معروف تھا کیونکہ انہوں نے بھی عزیز کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا تھا جیسا کہ سورة التوبہ میں ان کا بیان موجود ہے ۔
Ayah 72:4اور یہ کہ ہم میں جو بیوقوف ہیں وہ اللہ کے متعلق بےبنیادباتیں بنایا کرتے ہیں :
4 ؎ (شططا) وحق بات سے دور ہو ۔ اس کا مادہ ش ط ط ہے شط یشط اور شط یشط کا مصدر ہے جس کے معنی اصل میں افراد ، بعد یعنی حد سے زیادہ دور ہونے کے ہیں اور چونکہ حد سے بڑھنا جو روستم ہے اس لئے ان معنوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے اور اسی لئے اس بات کو جو حق سے دور ہو شطط کہتے ہیں ۔ یہ بیان ان جنوں کی جماعت کا ہورہا ہے ۔
خواہ وہ سب کے سب اسی طرح کی بات کہتے ہیں اور خواہ ان میں سے امیر جماعت جس جماعت نے قرآن کو سنا تھا وہ کہہ رہے ہیں بہرحال اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کے اندر ایک تڑپ اور حق کی تلاش پہلے سے موجود تھی جو نہی انہوں نے قرآن ِ کریم کی آیات کو سنا ان کے دل میں وہ اتر گئیں اور ایسے لوگ جو عقل وفکر سے کام لینا جانتے ہیں اور ان کا شعور بیدار ہوتا ہے ان کی ذہنی لائن جب درست ہوجاتی ہے تو وہ خود بخود توحید کا بیان شروع کردیتے ہیں ۔ آپ نے کبھی غور کیا ہوگا کہ فرعون کے ساحروں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا تھا کہ ایک طرف وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لئے دوڑے چلے آرہے تھے اور آتے ہی فرعون سے انعام واکرام کی خواہش کا اظہار کرنے لگے کہ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو ان کو کیا انعام ملے گا ؟ لیکن کتنی دیر لگی ؟ ایک گھنٹہ دو گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ ایک پہر تو کیا ہوا کہ ان کی کایا پلٹ گئی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل حق کے سامنے جب ان کا بنایا ہوا باطل ٹھہر نہ سکا اور ان کے دل میں یہ بات جم گئی کہ ہمارے پاس جو دلائل ہیں وہ تو ہمارے اپنے گھڑے ہوئے ہیں اور ان کی حققتہ کو ہم خود سمجھتے ہیں لیکن ہمارے مد مقابل کے پاس جو کچھ ہے وہ حق کے سوا کچھ نہیں ہے اس طرح جب حق ان پر کھل گیا تو وہ ایسے مواجد بنے کہ انہوں نے فرعون اور اس کی ساری حکومت کو کھلا چیلنج دے دیا اور بر ملا اور بےدھڑک کہہ دیا کہ اے فرعون تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر اور ہمیں ایک لمحہ کی بھی مہلت نہ دے ، اب حق کو ہم نے قبول کرلیا ہے اس لئے احترام واکرام کیا جائے ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ۔ غروۃ الو ثقی جلد پنجم سورة طہ کی آیت 3 7 کی تفسیر۔ اور اسی طرح کی بات اس جماعت نے کہی جیسا کہ وہ بر ملا کر کہہ ہرے ہیں کہ ” اور یہ کہ ہم ہی ہیں جو بیوقوف ہیں وہ اللہ کے متعلق بےبنیاد باتیں بنایا کرتے تھے ۔ اب جب ہم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنے کانوں سے سن لیا ہے تو اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہمارے سامنے کوئی شخص ایسی بات کہے جو سراسر بیوقوفی کی بات ہو اور حق سے بہت دور کا معاملہ ہے۔
Ayah 72:5اور ہم تو اس خیال میں تھے کہ انسان اور جن کبھی اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتے :
5 ؎ (ظننا) ہم نے گمان کیا۔ ہم نے خیال کیا ؎ ظن سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم ۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے بھی اس طرح کا خیال گزرتا تھا کہ یہ جو ہمارے لوگ خواہ وہ گروہ انسان سے متعلق ہوں یا گروہ جن سے یعنی وہ حضری مزاج کے ہوں یا بدوی مزاج کے بہرحال اللہ تعالیٰ پر وہ کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں اس لئے ان کی باتیں ہم سنتے تھے اور خاموش ہوجاتے تھے ۔ ہمارے جرأت کام نہیں کرتی تھی کہ ہم بات کریں لیکن اب جب ہم نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو ہمارے دل کے سارے پردے ایک ایک کر کے چھٹ گئے اور اب ہماری سمجھ میں آیا کہ جو ہم خیال کرتے تھے وہ تو محض خیال ہی تھا لوگ تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے بالکل باز نہیں آتے ۔ یہ خال جس کا اظہار انہوں نے اس آیت میں کا ہے کہ آج بھی ہمارے بہت سے طبقہ کے اندر پایا جاتا ہے اور مذہب کے نام سے منسوب باتوں کو سنتے ہیں تو ان کے دل ان باتوں سے ابا کرتے ہیں لیکن وہ محض پیروں ، بزرگوں ، علماء کہلانے والوں اور مذہبی ٹھیکہ داروں کو اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے دیکھ کر خاموش روہ جاتے ہیں اور جرأت نہیں کرتے کہ وہ زبان کھولیں اور ان لوگوں کا تقویٰ اور شخصیت ان کے راستے کو روک لیتا ہے۔ اگر ان کو حق سنایا جائے تو ان کے دل اس کو فوراً قبول کرتے ہیں اور حقیقت حال کو خبو سمجھ جاتے ہیں کہ حقیقت حال کیا ہے اور ہم کو کیا بتایا جارہا ہے تاہم وہ ہمت کریں لو زبان کھول دیتے ورنہ معاشرہ کا بھوت ان کے کندھوں پر سوار ہو کر ان کو پھر دبا دیتا ہے اور وہ جان ُ بوجھ کر خاموشی کی چادر تان کر غفلت کی نیند سو جاتے ہیں اور دل کو تسلی دیتے ہوئے سارے معاشرہ کا گلہ سر لینے سے گھبرا جاتے ہیں اور اس طرح بات جہاں ہوتی ہیں وہیں دوبارہ رُک جاتی ہے ۔
Ayah 72:6اس طرح انسانوں اور جنوں کے گٹھ جوڑ نے دونوں کو ایک دوسرے کا معاون بنا دیا :
6 ؎ (رھقا ) سرکش ، تکبر ، سر چڑھنا ، ستم ، زیادتی ، زبردستی رھق یرھق کا مصدر ہے اصل میں اس کے معنی ایک شے کے دوسرے شے پر زبردستی چھا جانے کے ہیں اور چونکہ اس کا لازمی نتیجہ تباہی ہے اس لئے تابہ ہونے کے معنی میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ (یعوذون ) وہ پنا چاہتے تھے ، وہ جماعت جس نے قرآن کریم سنا تھا اور ان کے دلوں پر جو مدت کے پردے پڑے ہوئے تھے وہ دور ہوئے تو انہوں نے قوم کے سامنے گزشتہ کہاوتیں جو ان کے ہاں مشہور چلی آرہی تھیں ان کا ذکر شروع کردیا اور یہ عین فطرت کے مطابق ہے کہ جب انسان اندھیرے سے روشنی کی طرف آتا ہے تو اندھیرے کے اندر جو لکیریں اس کے دل و دماغ کے سامنے پھرتی ہیں ان پر وہ ایک بار دوبارہ نظر دوڑاتا ہے اور اس کو اپنی ایک ایک کمزوری نظر بھڑک اٹھی اور اس نے ان کی آنکھیں کھول دیں ۔ اب وہ جس طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ان کو اپنے بزرگوں ، پیروں اور دیئے ہیں ۔ اس آیت میں انہوں نے اس توبہ کا ذکر کیا ہے کہ کتنے مرد انسانوں میں سے ہیں جو جنوں سے پناہ طلب کرتے ہیں اور اپنے تو ہم میں وہ خیال کرتے ہیں کہ جن ان کی مدد کر رہے ہیں اور ان کا نام مؤکل رکھ کر وہ لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں کہ ایک جن میں اتنی طاقت ہے اور میرے قبضہ میں اتنے جن ہیں ۔ میں نے ان سے یہ کام لیا اور وہ کام اور پھر کچھ شعبدہ بازی کے فن سے کوئی بات یاد کرلی اور کوئی عمل سیکھ لیا اور اس کی مدد سے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا شروع کردی اور آہستہ آہستہ پیٹ کا دھند اشروع کردیا اور یہی حال ان خرانٹ جنوں کا ہے جو جنگلوں اور بیابانوں میں رہتے ہیں اور وہاں سے اٹھ کر جن حضری لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات ہوتے ہیں ان سے اس طرح کے فوائد وہ بھی واستہ کرلیتے ہیں اور اس طرح دونوں جماعتوں کے افراد ایک دوسرے کے سہاروں پر کھڑے ہو کر اپنا دھندا چلاتے ہیں ۔ بات تو صرف تو ہمات کی بیان کی جارہی تھی لیکن ہمارے مفسرین نے بجائے اس کے کہ ان تو ہمات کا ازالہ کرتے لوگوں کو تو ہمات میں مزید پکا کردیا اور فرضی کہانیاں اس طرح گھڑنا شروع کردیں کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر جھوٹ بولنے لگے اور چونکہ قوت ِ وہمہ ہر انسان میں ودیعت ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد ، ان تو ہمات کے سہارے ان ستم ظریفوں نے قوم کو دھوکا میں ڈال کر اس کو خوب لوٹا اور اب بھی یہ دھندا کرنیوالے جس طرح اپنے کاروبار کو چمکائے ہوئے ہیں ، کسی انسان سے پوشیدہ نہیں اور پھر تعجب ہے کہ مذہبی جماعتوں میں سے کوئی بھی نہیں جو اس واہیات نظریہ سے بچائو ہو ۔ اسلام نے صرف اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے اور غیر اللہ کی پناہ کو شرک قرار دیتے ہوئے اس سے بچنے کی ہدایت کی ہے ۔ دین اسلام اختیار کرنے والوں کو توحید کا سبق سکھایا ہے اس میں سرفہرست یہ بات رکھی ہے کہ ایک سچے اور پکے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفع ونقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ کو سمجھے اور غیر اللہ میں سے کسی کو نہ سمجھے خواہ وہ کون ہو ، کیسا ہو اور کہاں ہو ؟ مسلمانوں اپنے ذہن میں اس بات کو پختہ کرے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دکھ ، کوئی مصیبت ، کوئی بیماری آگئی ہے تو اس کا اسلام کی ہدایت کے مطابق مناسب علاج کرنے اور اللہ سے اس دکھ کو ، مصیبت کو اور بیماری کو ٹالنے کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور بتایا کہ اس مصیبت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جو دورے کردے اور اس طرح یہ تفہیم کرائی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھلائی ، کوئی عزت افزایء ، کوئی خیر آتی ہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس کو روکنے کی کوشش کرے تو وہ نہیں روک سکتی پھر جن کیا شے ہے جو کسی میں حلول کرے ، کسی کو دکھ اور تکلیف دے یا کسی کا دکھ اور تکلیف دور کرے ۔ اس بات کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے اور زیر نظر آیت میں اس بات کو وہ جنوں کی جماعت بیان کررہی ہے کہ ” انسانوں میں سے بہت سے لوگ بعض جنوں کو پناہ لینے لگے اور اپنے تو ہمات کی بنا پر ان کو مؤ ثر سمجھنے لگے ، اس طرح ان لوگوں نے ان جنوں کا غرور اور بڑھا دیا ہے ‘ ‘ اور ان کا حال یہ ہوگیا کہ کر یلا اور نیم چڑھا۔
خیال رہے کہ یہ باتیں وہ جنوں کی جماعت جس نے قرآن کریم کی آیات سنی تھیں ، اور ان کے دل نور ایمان سے منور ہوگئے تھے واپس اپنی قوم میں جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے کر رہے ہیں اور ان کی قوم کے ساتھ کوئی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچائی ہیں اور ان کے پہنچانے کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی امت ان تو ہمات سے بچے اور ایک اللہ پر انحصار رکھے اور یقین جانے کے کوئی جن کسی انسان کے قابو میں رہ کر کسی انسانوں کو کسی طرح کا نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتا اور کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ مسلمان ہونے کے باوجود جنوں سے پناہ حاصل کرنے کی بیکار وسعی و کوشش کرے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اپنی آخرت کو برباد کرلیگا ۔ لیکن افسوس کہ آج کتنے مسلمان ہیں جنہوں نے اس سورة الجن کے وظیفہ کا عمل محض اس غرض کے لئے شروع کردیا ہے کہ جنوں کو اپنی تسخیر میں لاکر ان کے ذریعہ سے اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں اور جھوٹے قصے اور کہانیاں گھڑ گھڑ کر قوم کی مت مادردیں اور اپنا الو سیدھا کریں ۔ پھر اس پر مزید تعجب کی بات یہ کہ ایسا دھندا کرنے والوں کا نام ہی عامل ہوگیا اور ان وردوں اور وظیفوں کو عمل کے نام سے قوم کو دھوکا میں رکھا اور آج ہمارے بچہ بچہ کی زبان پر ہے کہ ہاں جی وہ بہت بڑا عامل ہے کہ اس نے سورة جن کا عمل کر کے بیسیوں جنوں کو اس عمل کے ذریعہ سے تسخیر کرلیا ہے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔
Ayah 72:7اور یہ لوگ (انسان بھی تمہاری طرح سمجھتے تھے کہ اللہ کسی انسان کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا :
7 ؎ قرآن کریم نے مکہ والوں کے ان دونوں نظریوں کا بار بار ذکر کیا ہے کہ ایک تو وہ یہ گمان کرتے تھے کہ قیامت ویامت کچھ نہیں ‘ مر گئے سو مر گئے۔ دوبارہ زندہ ہونے کا تصور محض ایک اختراع ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں جن لوگوں کے پاس دنیا کا مال و دولت نہیں ہوتا اور ان کو مال و اولاد وافر نہیں ملتا ان کی زمانہ میں کوئی حیثیت قائم نہیں ہوتی اور ان کا نام لینے والا ‘ ان کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تو وہ اس طرح کی باتیں گھڑ کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی تعجب خیز باتیں گھڑتے اور بیان کرتے ہیں کہ قیامت آئے گی اور وہاں یہ ہوگا اور وہ ہوگا اس طرح کی بےسروپا باتیں بیان کر کے محض اپنا نام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ چلو بدنام ہوں گے تو کیا نام تو ہوگا۔ قرآن کریم نے ان کی ان باتوں کا دندان شکن جواب دیا ہے۔ عربوں کے اس اسکار کی وضاحت دیکھنا چاہو تو عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 29 ‘ جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 98 ‘ جلد ہفتم سورة یٰٰس کی آیت 78 ‘ جلد ہقتم سورة الجاثیہ کی آیت 24 ‘ سورة ق کی آیت 3 ‘ جلد ہذا سورة النازعات کی آیت 10 ‘ 11 ‘ سورة البناء کی آیت 27 کی تفسیر کو دیکھیں پھر ان کے اس نظریہ کا جواب بھی ان کو نقد بہ نقد انہی مقامات پر دے دیا گیا ہے اور بعض مقامات پر تو بہت تفصیل سے دیا گیا ہے۔
اہل مکہ کا دوسرا نظریہ جو قرآن کریم نے بہت وضاحت سے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک انسان نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیسے کردیا جب کہ آج تک اللہ نے کسی انسان کو رسول بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ نظریہ گزشتہ قوموں کے ہاں بھی عام تھا اور اہل مکہ میں بھی چاہا جاتا تھا بلکہ انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت و رسالت کو محض اس لیے ماننے سے انکار کیا تھا کہ انہوں نے آپ ﷺ کو اپنے لوگوں ہی میں سے ایک انسان سمجھا اور پایا تھا۔ اگر اس بات کی آپ کو تصدیق چاہیے تو عروۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 91 ‘ جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 3 ‘ سورة المؤمنون کی آیت 24 ‘ 33 ‘ سورة الشعرا 154 ‘ 186 ‘ جلد ہفتم سورة یٰس کی آیت 15 ‘ جلد ہشتم سورة فصلت کی آیت 6 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ اور ان کے اس نظریہ کا جواب بھی ان کو ان مقامات پر سنایا گیا اور علاوہ ازیں بہت سے دوسرے مقامات پر بھی دیا گیا ہے۔ زیر نظر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں نظریات اس طرح انسانوں کی اس دوسری جماعت جن کو لفظ ” جن “ سے موسوم کیا گیا ہے اور جو دراصل بدوی لوگ ہیں میں بھی اسی طرح پائے جاتے تھے اور ایسا ہونا یقینی بھی ہے کیونکہ وہ بھی جنس انسان ہی سے تعلق رکھتے ہیں اور جذبات و نظریات دونوں جماعتوں میں ایک جیسے پائے جانا یقینی ہے۔ جس جنوں کی جماعت نے قرآن کریم کی آیات سنی تھیں وہ اپنی جماعت میں جا کر جس طرح بیان دے رہی ہے اس بیان میں انہوں نے ان دونوں نظریات کا رد کرنا چاہا ہے۔ یہ دونوں نظریات جس طرح انسانوں میں پائے جاتے ہیں ہماری جنوں کی قسم میں بھی بدستور اسی طرح پائے جاتے ہیں اور جب قرآن کریم نے ان دونوں نظریات کی نفی کردی ہے اور بتایا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی لازم و ضروری ہے اس طرح یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج تک جتنے نبی و رسول اس دنیا میں بھیجے ہیں سارے کے سارے انسان تھے۔ اگر وہ انسانوں کی جنس سے نہ ہوتے تو ان کو قطعاً رسول بنا کر نہ بھیجا جاتا کیونکہ لازم و ضروری ہے کہ نبی و رسول کا تعلق ابنائے جنس سے ہو۔ اس لیے اس جگہ ” یبعث “ کے لفظ کے دو معنی صحیح اور درست ہیں۔ آیت کا ترجمہ ایک لحاظ سے تو وہ ہے جو اوپر متن میں درج ہے اور دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ ” اور یہ لوگ (انسان) بھی تمہاری (جنوں کی) طرح سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی (انسان) کو بھی اس دنیوی زندگی کے بعد دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا “ لیکن جو مفہوم ہمارے مفسرین نے اس جگہ بیان کیا اس کی کوئی دلیل اور شہادت قرآن کریم سے نہیں ملتی اس لیے وہ مفہوم مہمل نظر آتا ہے تاہم ہم اس کے متعلق کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں صرف اتنی اپیل ہے کہ قارئین اس پر براہ راست غور کریں اگر وہ اس طرح خالی الذہن ہو کر غوروفکر کرنا صحیح سمجھتے اور جانتے ہیں۔
Ayah 72:8ہم نے آسمانوں کو چھوا تو سخت پہرہ داروں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا :
8 ؎ جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں یہ گزشتہ ادوار کے مقابلہ میں بہت ترقی یافتہ دور ہے اور نئی نئی ایجادات نے عقل انسانی کو حیران کر کے رکھ دیا ہے تار برقی ‘ ٹیلیفون اور وائرلیس نے انسانوں کے ذہن کو کتنی وسعت دی ‘ ہوائی جہاز کی رفتار نے انسان کو اڑا کر کہاں سے کہا جا رکھا ہے۔ اپنی جگہ پر یہ سب صحیح لیکن کبھی غور کیا آپ نے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا ؟ یہ سب کچھ جس چیز کی کرشمہ سازی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عطا کردہ قوت ہے جو اس نے سارے انسانوں میں رکھی ہے لیکن اس کا معیار بہت مختلف ہے اور اس کی کمی اور زیادتی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اور ہم اس کو اپنی زبان میں ” خیال “ کے نام سے موسم کر رہے ہیں۔ جو وسعت اس ” خیال “ میں اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے اس کی آخری حد ابھی تک کسی نے نہیں دیکھی اور امید ہے کہ اس کو شاید دیکھا بھی نہ جاسکے۔ اس وقت تک جو ایجادات معرض وجود میں آئی ہیں اسی کی مرہون منت ہیں اور جو معرض وجود میں آئیں گی وہ اسی کی کرشمہ سازی ہوگی۔ اس کی وسعت کے سامنے آسمان کوئی چیز ہی نہیں ہے لیکن آسمان دنیا تک رسائی آج سے ہزاروں بلکہ لاکھوں سال پہلے کی انسان کو حاصل تھی۔ انسان نے جب بھی کسی چیز کا سراغ پایا ہے تو اپنے من ہی میں ڈوب کر پایا ہے۔ اگرچہ اس کو بیان کرنے کے لیے اس نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے کسی بیرونی چیز ہی کا نام لیا گیا ہو لیکن حقیقت حقیقت ہوتی ہے اور وہ خود اپنا آپ منوا لیتی ہے۔ انسان کو آج نہیں بلکہ مدت سے یہ دھوکا لگا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اکثر و بیشتر اپنے سے باہر کسی چیزوں کو اشرف قرار دے دیتا ہے۔ اس سے اس نے اجرام فلکی کی پرستش شروع کی اور ہوتے ہوئے وہ مٹی ‘ پتھر کے بتوں کی پرستش تک اتر آیا حالانکہ اجرام فلکی ہوں یا کوئی دوسری مخلوق ایک انسان کے سامنے ان کی حقیقت ہی کیا ہے۔ اگر کوئی حقیقت ہے تو وہ اتنی ہی ہے جتنی آقا اور غلام یا مالک اور نوکر میں ہوتی ہے پھر تعجب کیوں نہ ہو کہ ہم میں سے کتنے انسان ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو انسان سمجھا ہے ؟ اگر کوئی انسان کسی بھی دوسری مخلوق کی قوت پرواز کو انسان کے مقابلہ میں زیادہ سمجھتا ہے تو ابھی وہ انسانیت کے حروف ابجد سے واقف نہیں خواہ کون ہے ‘ کہاں ہے اور کیسا ہے ؟
زیر نظر آیت میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے یہ ایک بدوی اور سفری انسان کے ذہن کی رسائی کی بات ہے لیکن تعجب یہ ہے کہ وہ انسان جو مدنی اور حضری حیثیت رکھتا ہے اس نے اپنی ہی جنس کے اس انسان کو جس پر اس کی بودوباش کے لحاظ سے ” جن “ کا لفظ اطلاق کرتا ہے اس کی وسعت خیال کو اتنا اونچا کیسے تصور کرلیا کہ جہاں تک اس کے ذہن کی رسائی نہیں ہے انسان کے کے مقابلہ میں اپنی فوقیت کے بیان کرنے کا کوئی اشارہ دیا ہو یا ایسا کوئی اشارہ وہاں پایا جاتا ہو۔ وہ اس وقت کے لحاظ سے اپنی ذہنی اور فکری صلاحیت کو بیان کرتے ہوئے اپنی قوم کے سامنے اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ قبل ازیں بھی ہم پیغامات الٰہی سنتے رہے ہیں اور آسمان علم سے تعلق رکھنے والی کتابیں ہمارے سامنے پڑھی جاتی رہی ہیں لیکن جو وسعت ‘ جو شرینی ‘ جو حقیقت اس کلام میں پائی گئی ہے وہ کسی دوسرے کلام میں ہم نے نہیں دیکھی کیونکہ اس کلام کو جس طرف سے ہم نے پرکھنے کی کوشش کی اس میں کسی طرح کا کوئی کلام ہم نہ ملا سکے نہ ایسی تعبیر کرسکے کہ اس کو اس کلام کی تعبیر کہا جائے۔ اس میں انفرادیت اس طرح قائم ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف پر اس طرح کے پہرے لگا دیئے گئے ہیں کہ اس میں کسی چیز کی ملاوٹ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر کوئی ادھر ادھر ہونا چاہیے تو اس کے دل و دماغ پر اس طرح شہابیے گرتے ہیں کہ اس کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔ دراصل یہ اس کلام کا بیان ہے جو انہوں نے سنا تھا جس میں دوبارہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہونے اور ہر انسان کے لیے اپنے اعمال کی جوابدہی کا ذکر کیا گیا تھا اور یہ حقیقت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اقرار کیے بغیر آج بھی چارہ نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج جتنی کتابوں کا آسمانی ہونے کا دعویٰ ہے ان میں سے ایک بھی نہیں جس کی زبان محفوظ ہو یا جس کا اصل متن من و عن موجود ہو اور دنیا کے وہ کسی حصہ میں بھی پایا جاتا ہو اور نہ اس وقت وہ محفوظ تھا جس قرآن کریم نازل ہوا بلکہ قرآآن کریم نے اہل کتاب کو مخاطب کر کے اس کا مطالبہ کیا کہ وہ اصل چیز لائو جس کو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر اتارا تھا لیکن وہ ان کے پاس کہاں موجود تھی کہ وہ لاتے پھر قرآن کریم میں ان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ تم نے فلاں فلاں جگہ تحریف کی اور اصل حکم بدل کر اس کی جگہ تم نے اختراعی نظریہ داخل کردیا اور پھر جس جگہ کی نشاندہی کی گئی وہ کسی ایک جگہ کی بھی تردید نہ کرسکے۔
خیال رہے کہ قرآن کریم نے جو نظریہ و عقیدہ ہم کو دیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی علمی طاقت و قوت اور اشیاء کے کھوج میں جو بصیرت عطا کی گئی ہے اس کے سامنے فرشتے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے جو مجسمہ خیر ہے پھر وہ جو مجسمہ شر ہے وہ انسان کے مقابلہ میں کیسے آگے نکل سکتا ہے ہاں ! انسان جو خیر اور شر دونوں کا مجموعہ ہے اس کے تخیل کی پرواز اتنی بلند ہے کہ نہ تو وہاں تک محض خیر کی دسترس ہے اور نہ محض شر کی۔ لیکن چونکہ انسانوں کی اکثریت کے ذہنوں میں یہ تخیل محض تخیل کے طور پر قائم تھا اور ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر تشریف فرما ہے اور ایک بہت بڑا تخت ہے جو بچھا ہوا ہے اور اس پر جلال شاہی قائم ہے وہاں ایک خاص لوح محفوظ ہے ، وہاں ہر ایک چیز کے خزانے محفوظ ہیں اور وہاں احکام نافذ ہوتے ہیں۔ فرشتے وہاں جاتے ہیں اور ان میں بھی خاص قاعد فرشتوں کی رسائی ہوتی ہے ، وہاں سے احکام لے کر دنیا کی طرف نازل ہوتے ہیں چونکہ شیطان بھی فرشتوں میں رہا ہے اس لئے وہ بھی یہ سارے راستے جانتا ہے ، وہ اوپر کو جاتا ہے کہ کوئی چیز جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو تو اس میں سے وہ بھی کچھ سن لے پھر واقعی وہاں پہنچ کر جب وہ کچھ سن لیتا ہے تو نیچے اتر کر اس میں سے کچھ بلکہ سو جھوٹ ملا کر دس کو لوگوں کے سامنے پیش کردیتا ہے اس طرح وہ ایک سچ کی وجہ سے سو جھوٹ چلاتا ہے اس لئے ان خیالات کے باعث ان آیات کریمات کا مفہوم اس طرح بیان کردیا گیا جس سے ان کے ذہنی تخیل کی ترجمانی ہوتی تھی اگرچہ یہ تخیل وحی الٰہی کا ترجمان نہیں تھا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔ وحی الٰہی کے مطابق وہی تخیل ہو سکتا ہے جس میں انسانی علم و نصیحت کو شیطانی علم و بصیرت پر فوقیت حاصل ہو۔
ذرا غور کرو کہ آسمانوں کی طرف سے جو حکم نازل ہوتا تھا یا ہوتا رہا کیا اس کو زمین پر لا کر چھپا دیا گیا یا اس کو آتے ہی زمین میں من و عن پھیلا دیا گیا ؟ اگر بات پہلی ہے تو یہ اس لئے صحیح نہیں ہے کہ قرآن کریم کا فیصلہ ہے کہ جو وحی آئی اللہ کے رسول نے اسی وقت اس کو من و عن لوگوں کے شامنے پیش کردیا اور اس میں سے ایک حرف اور شوشہ بھی چھپایا نہیں گیا بلکہ اس کو اسی وقت شائع کردیا گیا اگر فرض کرلیا جائے کہ کسی شیطان نے کچھ چھپ کر سن لیا تو کیا وہ حکم ایسا تھا جو جبریل لائے وہ اس کے خلاف لے آیا اور اگر اس میں سے کچھ سنا ہے تو ظاہر ہے کہ جو کچھ بھی اس نے سنا ہے وہ خیر ہے نہ کہ شر کیونکہ خیر ہی پر وحی مبنی تھی اس میں کوئی بات شر کی نہیں تھی اور نہ ہی ہو سکتی تھی اس لئے جو کچھ آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ استعارہ ہے جس کا تعلق انسانی تخیل و بصیرت سے ہے نہ کہ وحی الٰیت سے۔ انسان چونکہ دونوں کے مجموعہ کا نام ہے اس لئے اس کے تخیل میں خیر بھی ہو سکتی ہے اور شر بھی اس لئے اس کی نفی کی جا رہی ہے کہ اب اگر کوئی ہم میں سے اس شر کے تخیل کو خیر سے ملانا بھی چاہتا ہے تو اس کلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ مل نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی ملا سکتا ہے۔ اس بات سے عاجزی کا وہ اعتراف کر رہے ہیں۔
Ayah 72:9حالانکہ پہلے ہم سننے کی کوشش کرتے اور گھات میں بیٹھتے تھے لیکن اب وہ بات نہیں رہی
9 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں کہ اس سے عمل بھی آسمانی کتب نازل ہوتی رہیں اور اس کو ہماری ہی اصل کے لوگ سنتے رہے اور وہ اس کے لئے ایسی گھات میں بیٹھے تھے کہ اس کو سنتے ہی اس میں اپنی طرف سے کچھ سچ جھوٹ ملانے میں کامیاب ہوجاتے تھے جس کی شہادت گزشتہ کتابیں آج بھی پیش کر رہی ہیں لیکن اب جو ہم نے اس کلام کو سنا ہے اس میں اپنے پاس سے لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب تو اس طرح کا کوئی ارادہ بھی کرے گا تو اس کے لئے شہایے گھات میں لگے ہوئے ہیں جو اس ذہنی تخیل کو جھٹک کر رکھ دیتے ہیں اور کوئی انسان یا جن اس میں اپنی طرف سے کچھ بھی کمی بیشی نہیں کرسکتا خواہ وہ اس میں کتنی ہی کوشش کرے اور یہ بات انہوں نے اتنی پختہ کی ہے جس کی تردید کسی زمانہ اور کسی حال میں بھی صحیح اور درست نہیں ہے حالانکہ یہ بات انہوں نے نزول وحی کے وقت کہی تھی لیکن اس کی صداقت میں قرآن کریم کی مہر بھی ثبت ہے کیونکہ ان کی کہی ہوئی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نازل فرما دیا ہے۔ مفسرین نے جو کچھ کہا ہے وہ ہمارے علم میں ہے لیکن جو بات ہم کہہ رہے ہیں اس کی تصدیق قرآن کریم کی آیات کر رہی ہیں اور یہی بات دراصل قرآن کریم کا اس وقت بھی چیلنج تھا اور آج بھی چیلنج ہے بلکہ اس کے من اللہ ہونے کی واضح دلیل ہی یہ ہے کہ رہتی دنیا تک اس کا کوئی مثل نہیں لایا جاسکتا۔ اس مضمون کی مزید وضاحت درکار ہو تو غروۃ الوثقی جلد پنجم سورة الحجر کی آیت 17 ، 18 ، جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 210 تا 212 جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 6 ، 5 ، جلد ہشتم سورة الاحقاف کی آیت 29 تا 32 ، سورة الطور کی آیت 38 تا 41 ، جلد 1 ، سورة الملک کی آیت 5 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 72:10دنیا والوں نے ساتھ کیا ارادہ کیا گیا ہے اچھا یا برا اس کا علم ہم کو نہیں ہے
10 ؎ قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں پر جب بھی ان کی انفرادی موت کا وقت آتا ہے یا جب بھی ان پر ان کی اجتماعی موت یعنی قیامت کا وقت آئے گا ان کے لئے وہ وقت اچھا نہیں ہوگا اگرچہ اس میں کتنی تاخیر ہو یا جتنا جلد وہ آجائے اور ہمیشہ اسی طرح اگر قرآن کریم کی ہدایات اور قرآن کریم کے قانون کے مطابق چلنے والوں کے لئے جب بھی ان کی انفرادی موت کا وقت آتا ہے یا جب بھی ان پر ان کی اجتماعی موت یعنی قیامت کا وقت آئے گا تو وہ ان کے لئے بہت اچھا وقت ہوگا اور اب قرآن کریم پڑھا جا رہا ہے ، سنا جا رہا ہے ، سنایا جا رہا ہے کون ہے جو اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون ہے جو اس کا خلاف کرتا ہے ؟ اس مضمون کو اس طرح بیان کیا جا رہا ہے کہ ” ہم نہیں جانتے کہ زمین پر رہنے والوں کے لئے کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب ان کو راہ راست دکھانا چاہتا ہے “ اس طرح گویا وہ تقدیر الٰہی کو بیان کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اس بات کو ہم نہیں جانتے۔ ہم کو جو معلوم ہے وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اس کلام کے آنے کے بعد دو کاموں میں سے ایک کام کا ہونا لازم و ضروری ہے کہ اس کے بعد نہ تو کوئی نیا کلام آئے گا اور نہ ہی نیا رسول بلکہ اس کے بعد جو آئے گا اس کو قیامت ہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت کا آنا دو حال سے خالی نہیں ہے بعض کی آخرت کا سنورنا ہے اور بعض کی آخرت کو برباد ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلام جو ہم نے سنا ہے تو یقینی بات ہے کہ اس کے بعد کوئی نیا کلام نہیں آئے گا اور اس میں جس دن کے آنے کی خبر دی گئی ہے اس میں کتنا وقت باقی ہے کسی کو معلوم نہیں ہے ، نہ انسان کو اور نہ کسی جن کو۔ اب یہ فیصلہ کا دن کس کے حق میں اچھا فیصلہ دیتا ہے اور کس کے حق میں برا اس بات کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کوئی اور نہیں جانتا۔
Ayah 72:11ہم میں کتنے لوگ نیک ہیں اور کتنے سوائے ان کے ہیں جو مختلف راہیں چل رہے ہیں
11 ؎ ہم انسانوں اور جنوں میں سے کتنے ہیں جو نیکوکار ہیں اور کتنے ہیں جو بدکار ہیں۔ یہ گویا گزشتہ آیت کی وہ مزید تشریح کر رہے ہیں کیونکہ سارے انسان اور جن ایک عقیدے پر نہیں اور نہ ہی سیرت و کردار میں یکساں ہیں بعض صالح ہیں اور بعض فتنہ پرور اور شرارتی ہیں جن کا کام محض فساد بپا کرنا ہے پھر ہمارے انسانوں اور جنوں کے مذاہب بھی الگ الگ ہیں۔ بعض اللہ کی توحید کو مانتے ہیں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض نہ تو توحید کا اقرار کرتے ہیں اور نہ قیامت اور رسولوں پر ان کا ایمان ہے۔ اس طرح ہم مختلف راہوں پر گامزن ہیں اور مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں۔ (قددا) جمع ہے قدہ کی۔ معنی ہیں مختلف راہ و روش اور جدا جدا ارادے رکھنے والے گروہ ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ جب عقائد و اعمال مختلف ہیں تو نتیجہ سب کا یکساں ایک جیسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر نتیجہ جب مختلف ہے تو یقین ہے کہ بعض کا اچھا ہے اور بعض کا برا۔ افسوس کہ قرآن کریم جیسی کتاب نازل ہونے کے بعد بھی انسانیت ایک عقیدہ پر جمع نہ ہوسکی۔
Ayah 72:12اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم جس طرح آسمانوں میں عاجز ہیں زمین پر بھی عاجز ہیں
12 ؎ (ھربا) مصدر ہے جس کے معنی ہیں بھاگ کر۔ ھرب آنت کے اوپر کی چربی۔ ھرب ھربان مصادر ہیں۔ بھاگنا ھاربھاگنے والا۔ ھرب بہت زیادہ بوڑھا ہونا۔ اس جگہ اس کے معنی بھاگنے ہی کے کئے جاتے ہیں۔ جنوں کی جماعت اپنے ہی قوم کے افراد کے سامنے دراصل اس کلام کے محاسن بیان کر رہے ہیں اور ان کو بتا رہے ہیں کہ پہلے تو ہم بیوقوفوں کے پھندے میں پھنس کر گمراہ ہوگئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کے بعد اب ہماری آنکھیں کھل گئی ہیں اور ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون آسمانوں میں بھی قائم ہے اور زمین میں بھی اور ایک خاص قانون کے تحت یہ نظام قائم ہے اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ اس نظام کا چلانے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اگر ہم سب مل کر بھی اللہ کے قانون کو توڑنے اور ہرانے کی کوشش کریں تو اپنا سر پھوڑ کر رہ جائیں اللہ تعالیٰ کا قانون اتنا پختہ اور مضبوط ہے کہ ہم نہ اس کو توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا خلاف کرسکتے ہیں اور جب اس بات پر ہم یقین رکھتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم قیامت کے حق ہونے اور جزا و سزا کے نافذ ہونے پر ایمان لائیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ ہم انسان اور جن ہونے کے ناطے عاجز و درماندہ ہیں کہ مخلوق ہیں اور مخلوق چاہے کچھ بھی کرے اپنے خالق کو تو نہیں ہرا سکتی۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن ہم کو اس بات پر پختہ یقین ہے اس لئے اب ہم کو اس نظریہ اور عقیدہ سے کوئی نہیں پھیر سکتا۔
Ayah 72:13ہم نے ہدایت کی بات کو سنا اور ایمان لے آئے اب کسی نقصان یا زیادتی کا ہم کو ڈر نہیں ہے
13 ؎ وہ اپنے لوگوں کو جو ان کے خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں بالکل واضح طور پر کھول کر بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ہدایت کی باتیں سن لی ہیں ، سمجھ لی ہیں اور ہمارے دلوں نے ان کو قبول کرلیا ہے اور جو شخص اپنے رب کی باتوں کو قبول کرے اور ان پر ایمان لے آئے اس کو کسی طرح کا کوئی خوف و حزن اور غم واندوہ اس نظریہ سے ہٹا نہیں سکتا۔ نفع و نقصان ہے تو اس سے اور دکھ سکھ ہے تو اس سے جب ہم ان باتوں کو مان چکے تو اب جو ہونا ہے وہ ہو اور جو مخالفت پر اترتا ہے وہ اترے اور اس معاملہ میں جو صورت بھی اختیار کرنا چاہتا ہے کرے ہم کسی ڈر ، خوف ، نقصان اور ظلم و زیادتی سے ڈر کر بھاگنے والے نہیں ہیں۔ ان کا اس طرح بات کرنے کا دراصل منشاء یہ ہے کہ ہم آپ لوگوں سے کوئی مشورہ طلب نہیں کر رہے بلکہ اظہار حقیقت کر رہے ہیں کہ جو فیصلہ ہم کو کرنا تھا وہ ہم کرچکے اب کسی طرح کا تم لوگوں سے مشورہ طلب کرنا نہیں چاہتے بلکہ صاف صاف بتا دینا چاہتے ہیں اور اس سے آگے بڑھ کر آپ لوگوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ تم لوگ اس حقیقت کو سمجھو اور اس کو قبول کرو اور کسی طرح کی کمی بیشی کی پروا نہ کرو اس لئے کہ یہ سودا نفع کا سودا ہے اور اس میں نقصان کی کوئی بات نہیں ہے۔
Ayah 72:14ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور ظالم بھی اور کامیابی فرمانبرداروں کا مقدر ہے
14 ؎ (القاسطون) کی اصل ق س ط ہے اور قسط کے معنی عدل اور جور دونوں ہیں کیونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے اس لئے جہاں یہ لفظ آتا ہے وہیں اس کا مفہوم متعین ہوتا ہے۔ سیاق اگر نفی کردیتا ہے تو معنی نفی ہوجاتے ہیں اور اگر مثبت کردیتا ہے تو معنی مثبت ہوجاتے ہیں۔ زیر نظر آیت میں (مسلمون) کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے ظاہر ہے کہ معنی نفی کے ہوں گے یعنی راہ حق سے مڑ جانے والے مراد کافر اور انصاف نہ کرنے والے۔ (القاسطون) اسم فاعل ، جمع مذکر ، حالت رفع فاسط واحد۔ ناانصافی کرنے والے۔ انصاف نہ کرنے والے۔ قسط دوسرے کا حق لے لینا ۔ (المفردات) مراد راہ حق سے مڑ جانے والے۔ (معجم القرآن) مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ ہم میں سے فرمانبردار ہیں اور بعض ظالم اور نافرمان اس لئے وہ لوگ جنہوں نے فرمانبرداری اختیار کرلی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے راہ حق تلاش کرلی اور وہ حقیقت کو پا گئے۔ بھلائی انہوں نے حاصل کرلی ۔ ( تحروا) انہوں نے قصد کیا تحری سے جس کے معنی عمدہ اور مناسب ترین رائے ڈھونڈے اور اچھی چیز کا قصد کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ زیر نظر آیت پر جنوں کی جماعت کا بیان ختم ہے اور آئندہ مضمون اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا ہے۔
Ayahs 72:15–16اور جو ظلم کرتے ہیں وہی جہنم کا ایندھن بنتے ہیں
16 ؎ ( غدقا) بارش کا کثیر پانی ۔ ( معجم المفردات ) موسلا دھار بارش کا کثیر پانی جو سا لہا سال کی خشک سالی کے بعد برستا ہے۔ مراد اس سے وسعت رزق اور مال کثیر ہے۔ ( مجاہد) غیداق سیال پانی کی طرح گفتگو کی روانی وغیرہ ۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ظالم اور ناانصاف ٹھہرے اگر وہ فرمانبردار ہوتے اور راہ حق پر گامزن رہتے اور سیدھی راہ سے نہ ہٹتے تو ہم ان کو میٹھا اور کثیر تعداد میں پانی پلاتے یعنی ان کو کھلی اور وافر روزی عطا کرتے جس سے وہ دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہوتے کیونکہ ان کو وافر رزق دیا جاتا اور ان کی ساری خشکیاں دور کردیتا اور ان کی ہرچیز سبزہ زار ہوجاتی ۔
Ayah 72:17ان کی آزمائش ہوجاتی اور اعراض کرنے والوں کو سخت عذاب دیا جاتا
17 ؎ ( لنفتنھم فیہ) گزشتہ آیت کے مضمون کا مآل بیان کیا گیا ہے یعنی اگر وہ ثابت قدم رہتے اور راہ حق پر قائم رہتے تو انکو ہم سیراب کردیتے لیکن یہ سراب کرنا کیا ہوتا ؟ ان کی آزمائش ہوتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس دنیا میں کسی کو مال کی فروانی میسر ہے تو بھی اس کے لیے آزمائش ہے اور اگر اس کے لیے رزق کی تنگی ہے تو بھی اس کے لیے آزمائش ہے اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منہ موڑ جاتا ہے خواہ وہ کون ہے اس کو ہم سخت عذاب کی طرف دھکیل دیتے ہیں ۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ یہ دنیا کی زندگی سراسر آزمائش ہی آزمائش ہے اگر کسی کو مال کی فروانی عطا ہے تو بھی آزمائش ہے اور اگر کسی کے پاس رزق کی تنگی ہے تو بھی آزمائش ہے دیکھنا یہ ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی یاد سے منہ موڑتا ہے اور کون یاد الٰہی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ رہا وہ شخص جو اللہ کی یاد سے منہ موڑ جاتا ہے خواہ وہ مالدار ہے یا غریب اور مسکین ہر حال میں اس کو آخرت میں سخت عذاب دیں گے۔ ہمارے ہاں مالدار یا غریب و نادار نہیں دیکھا جاتا بلکہ اچھے اعمال دیکھے جاتے ہیں اور اچھے اعمال کے لیے مالدار ہونا یا نادار ہونا کچھ حقیقت نہیں رکھتا ۔ اچھے اعمال کے ساتھ امارات و ناداری کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر کوئی مالدار ہے لیکن بد عمل ہے یا کوئی شخص نادار ہے لیکن بد عمل ہے اور اس طرح اگر کوئی شخص مالدار ہے لیکن نیک عمل ہے یا کوئی شخص نادار ہے لیکن نیک عمل ہے دونوں صورتوں میں ہمارے ہاں نیک عمل اور نیک کردار کے لیے جو اجر ہے وہ نیک عمل اور نیک کردار کے لیے ہے اس لیے مالدار ہونے یا نادار ہونے کا تعلق آخرت سے کچھ نہیں ہے۔ ہاں ؟ یہ دوسری بات ہے کہ اگر کوئی مالدار بھی ہے اور نیک عمل و نیک کردار بھی تو اس کی دنیا بھی سنور جاتی ہے لیکن بحمد اللہ اس کی آخرت بھی سنور گئی وہ بلا شبہ وہ سونے پر سہاگہ ہے۔
Ayah 72:18مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں تم ان میں اس کے سوا کسی کو مت پکارو
18 ؎ جتنے گروہ اس دنیا میں انسانوں کے موجود ہیں سب نے عبادت خانے بنائے ہیں جن کی اصل غرض وغایت اللہ تعالیٰ کی عبادت تھی لیکن رفتہ رفتہ وہ گھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے نہ رہے بلکہ سارے گروہوں نے ان میں اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرلی اور اپنی بنائی ہوئی رسومات کو ان میں ادا کرنا شروع کردیا حالانکہ ان کی رسومات کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق ہیں تھا اس جگہ اسلام کا نام اس ناطہ سے لیا گیا ہے کہ گزشتہ انبیاء و رسول (علیہ السلام) کا لایا ہوا دین بھی اسلام ہی تھا لیکن اس کے ماننے والوں نے اسلام کی بجائے اپنے گروہی نام پسند کیے اور اسلام کا نام ترک ہوگیا اور باقی ان کی اپنی فرقہ بندی کے رسم و رواج رہ گئے اور وہ ان رسم و رواج ہی کو اپنے عبادت خانوں میں ادا کرنے لگے اور انہی رسم و رواج کا نام کسی نے یہودیت ، کسی نے عیسائیت اور کسی نے عیسائیت جیسے ناموں سے موسوم کیا ۔ اب مسلمانوں کی باری ہے جو اپنے آپ کو اہل اسلام ہی کے نام سے یاد کرتے ہیں تو ان کے مذہبی عبادت خانوں کا نام ” المساجد “ ہے اور ” المساجد “ بھی محض اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے خاص ہیں اور ان میں وہی عبادت کا طریقہ ادا کرنا ہوگا جو طریقہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اختیار کیا اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ نہ پکارا جائے اور نہ ہی تحریر کیا جائے۔
جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اس وقت مکہ کے مشرکوں نے بیت اللہ یعنی مسجد الحرام کو بت کدہ بنا رکھا تھا اور وہاں کھلم کھلا بتوں کی پوجا ہوتی تھی ۔ بت کیا تھے ؟ اس بات کی وضاحت آپ پیچھے کئی ایک مقامات پر پڑھ چکے کہ وہ ان کے اولیاء اللہ ہی کے مجسمے تھے جو انہوں نے ان کی یاد میں بنائے تھے اور ان کو سامنے رکھ کر عبادت کرتے تھے اور اسی طرح کے دوسرے شرکیہ اعمال ادا کیے جاتے تھے۔ اس جگہ فرمایا گیا ہے کہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ان میں تو صرف اس کی عبادت اور صرف اس کا ذکر ہونا چاہیے۔ اے مشرکین مکہ ! اس سے بھی کوئی بڑا ظلم ہو سکتا ہے جو تم نے روا رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت تو کسی جگہ بھی جائز نہیں بلکہ ہر جگہ ہے لیکن تم اس قبیح فعل کو حرام اور ممنوع کام کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں کرتے ہو اور کھلم کھلا کرتے ہو اس سے باز آ جائو یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اسی طرح دنیا کی تمام مسجدیں اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کے لیے تعمیر کی گئی ہیں کسی غیر کی عبادت ان میں ہرگز جائز نہیں۔
وہ تو مشرک تھے لیکن اس وقت سچے اور پکے مسلمانوں نے جو حال مساجد کا بنا رکھا ہے وہ ان مشرکوں نے بھی نہ بنایا ہو گا خصوصاً جب کہ سپیکر مساجد میں لگائے گئے گائوں اور قصبات میں خاص کر جتنے خریدو فروخت کے اعلانات ہوتے ہیں سب مسجدوں میں ، گم شدگیوں کے جتنے اعلانات ہیں سب مساجد ہیں ، کسی مقصد کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ان کے ناموں کی فہرست مساجد میں پڑھی جاتی ہے۔ دنیاوی گفتگو اور تو تو میں میں مساجد میں ، نا پسندیہ اشعار ، عشقیہ اشعار وہ بھی نہایت بلند آواز سے مسجدوں میں ، غیر اللہ کی نعرہ بازی مسجد میں اور اب تقریباً دیہات ہوں ، قصبات ہوں یا شہر ہوں سب جگہوں پر رسم قل مساجد میں ، گیارہویں شریف اور غیر اللہ کی نذرو نیاز کے جمع کرنے کے لیے مساجد حالانکہ یہ سب کام مسجد میں سخت منع اور حرام ہیں لیکن ستیا ناس اس مذہبی فرقہ بندی اور گروہی مذہب کا انہوں نے یہود و نصاریٰ کے بھی کان کاٹ دیئے اور مساجد کو مساجد ہی نہ رہنے دیا بلکہ غیر اللہ کی نعرہ بازی اور ہلڑ بازی کے مراکز بنا دیا ۔ ہمیں تعجب ہے کہ ہم اس طرح کے خرافات یہودیوں ، عیسائیوں ، صائبیوں ، ہندوئوں اور سکھوں کے گرداروں میں بھی نہیں دیکھتے جو مساجد میں دیکھ رہے ہیں لیکن چونکہ ہم مسلمان ہیں اور گورنمنٹ کے اداروں میں ہمارے مذہب کے خانہ میں اسلام لکھا ہے ابس اب ہم پر سب کچھ جائز ہے کہ مسجدیں ہماری ہیں ، چاہیں ان میں جو کچھ کریں ، ہماری مسجدیں مسجدیں ہی رہیں گی اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا سوامع بیع اور صلوات سے بھی بد تر ہو کر رہ گیا ہے بس مسلمانوں پہ سب کشادہ ہیں راہیں کہ عبادت کریں جس کی چاہیں ۔ اس وقت مساجد کی جو بےحرمتی ہندو پاک میں ہو رہی ہے شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں کسی مذہبی عبادت خانہ کی ہو رہی ہو ۔ ہندو اگر گھنٹا بجاتے ہیں تو ان کی عبادت کا حصہ ہے ، سکھ اگر چھینے بجاتے ہیں تو ان کے ہاں عبادت اس کا نام ہی ہے لیکن مسلمانوں کی اکثریت یہ دونوں کام مساجد میں کر رہی ہے اگرچہ اس کا نام گھنٹاچھپنے نہیں ہے۔ مساجد میں اگر نہیں ہو رہا تو وہ وہی ہے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ۔ مسجدیں نماز کے لیے تھیں لیکن ملک بھر میں شاید ہی کوئی مسجد ہوگی جہاں اس کی وسعت کے مطابق نمازی ہوتے ہوں گے لیکن مساجد کی اکثریت ایسی ہے کہ مسجدیں شاندار ہیں لیکن نمازی دیکھنے میں نہیں آتا۔ جس مسجد میں چار سو نمازیوں کی گنجائش ہے وہاں چار نمازی اس میں پنج وقتہ نمازوں میں میسر نہیں آتے۔ مسجد چونکہ پوری آبادی کی ہے اس لیے وہاں ہر آدمی کو حق حاصل ہے کہ جب چاہے وہ سپیکر آن (Speaker on) کرے اور جو چاہے بکواس شروع کر دے کوئی روک ٹوک نہیں سکتا ۔ اگر یہی صورت حال رہی جو اس وقت جاری وساری ہے تو چند سالوں میں آپ دپکھیں گے کہ ابھی مزید کیا کیا خرافات مسجدوں میں روا رکھی جاتی ہے۔ اس ملک عزیز میں جس کا نام پاکستان ہے مسجدوں کی اس بےحرمتی کا سارا وبال حکومت وقت پر ہے ، جو بھی حکومت آتی ہے وہ اس جرم میں برابر کی شریک اور حصہ دار ہے اور یہ جرم معمولی جرم نہیں ہے بلکہ جتنے بڑے جرائم آپ گنوا سکتے ہیں ان سب میں سے یہ بڑا جرم ہے کیونکہ یہ راہ راست اللہ تعالیٰ کی مساجد میں روا رکھا گیا ہے اور مذہب پروہتوں کی خاموشی قابل صد افسوس ہے اور اس پر جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔
ہمیں افسوس ہے کہ بڑے بڑے سمجھدار اور عقل مند لوگ اپنی گروہی فکر کی ترجمانی کے لیے ایسے ایسے رقیق استدلال کر جاتے ہیں کہ آدمی بعض اوقات ان کی اور ان کے ایسے رقیق استدلال کی طرف دیکھتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ صاحب کون ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں اپنی بات کرتا ہوں کہ میرے نزدیک پیر کرم شاہ صاحب (رح) کی ایک علمی حیثیت مسلم ہے لیکن بعض اوقات وہ بھی ایسی ڈنڈی مارتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتا ہوں کہ یہ وہ پیر کرم شا صاحب ہیں ؟ اس جگہ وہ رقمطراز ہیں کہ ” بعض لوگ مسجد میں حضور اکرم ﷺ کی نعت شریف کو پڑھنے کو بھی ناجائز کہتے ہیں اور اس آیت سے استدلال کرتے ہیں ہم ان کی توجہ ان متعدد مجالس کی طرف منعطف کراتے ہیں جب کہ حضرت حسان ؓ کے لیے حکم نبوی کے مطابق منبر رکھا جاتا تھا اور وہاں پر کھڑے ہو کر بارگاہ رسالت میں اپنے مدحیہ اور نعتیہ قصائد پڑھا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ کئی دیگر شعراء حضرت سداد بن قارب ، حضرت زہیر ، حضرت عباس ؓ جیسے ناموراکابر مسجد نبوی میں حضور ﷺ کے سامنے اپنے نعتیہ قصائد پیش کرتے ، حضور ﷺ خوش ہوتے اور دعائوں سے نوازتے “۔ لیکن پیر صاحب (رح) نے کسی ایک ایسی مجلس کا حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی کسی ایسے شعر کا ذکر کیا جو اس اہتمام کے ساتھ آپ ﷺ کے حکم سے آپ ﷺ کی موجودگی میں پڑھا گیا ہو ۔ لاریب حسان بن ثابت ؓ شاعر تھے اور انہوں نے قصائد بھی کیے اور اپنے گزشتہ ہجویہ اشعار پر تاسف اور افسوس بھی کرتے رہے لیکن حسان بن ثابت ؓ اور دوسرے شعرائے اسلام کے اشعار آج ہمارے سامنے ہیں ۔ آپ کسی ایک شعر میں بھی مبالغہ آرائی اور شرکیہ جملہ نہیں دکھا سکتے لیکن اس وقت جن شعروں پر نعت اور قصیدہ کا چربہ لگایا جاتا ہے وہ شرک کے پلندے ہیں اور ان کو دیکھ کر ، پڑھ کر انسان اعل لہبل کو بھول جاتا ہے۔ ہمارے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ بیان میں گنجائش تا ہم ایک دو اشعار پیش کرتے ہیں اور پیر جی کے حواریوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ قصیدہ ہے نعت ہے یا کیا ہے ؟
یہ دعا ہے یہ دعا ہے یہ دعا ہے میرا اور تیرا خدا احمد رضا
دونوں عالم میں ہے تیرا آسرا ہاں مدد فرما شہا احمد رضا
کس کے آگے میں ہاتھ پھیلائیں گدا چھوڑ کر در آپ کا احمد رضا
حشر کے دش جب کہیں سایہ نہ ہو اپنے سایہ میں چھپا احمد رضا
(مدائح ، اعلیٰ حضرت ص 27)
ایک دوسرے صاحب اس طرح عرض پرداز رہیں کہ ؎
بلکہ دن حشر کے بھی جس وقت قاضی ہو خدا آپ کا دامن پکڑ کر یہ کہوں گا بر ملا
اے شہ نور محمد وقت ہے امداد کا
پیر جی ! اس سلسلہ میں قرآن کریم کا ارشاد اس طرح ہے : (یوم لا تملک نفس لنفس شیئا) (الانفطار : 19) کہ اس دن کوئی جان کسی جان کے بارے میں اختیار نہیں رکھے گی ۔ فیصلہ قارئین خود کرلیں کہ کون سچا ہے اور کون سچا نہیں ہے کیونکہ پیر جی اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان سے استفسار کیا گیا ہوگا اور اگر نہیں تو یقینا کر لیاجائے گا اور وہیں آپ اور ہم سب ہوں گے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حق ہے اور پیر جی (رح) نے جن کی حمایت میں کلک تیز کی ہے وہ سو فیصد جھوٹے ہیں۔