Ayah 71:1بلاشبہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان پر عذاب نازل ہونے سے قبل سمجھایا جائے
1 ؎ سیدنا آدم (علیہ السلام) کے بعد نوح (علیہ السلام) پہلے نبی و رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ” رسالت “ سے نوازا۔ صحیح مسلم باب شفاعت میں حدیث ہے کہ : (یا نوح انت اول الرسل الی الارض) ” اے نوح ! تو زمین پر سب سے پہلا رسول بنایا گیا ہے “ نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم کی 26 سورتوں میں آیا ہے اکثر جگہ مختصر ہے لیکن سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الانبیاء ، سورة الشعراء ، سورة الصاقات اور سورة المؤمن میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور سورة نوح تو مکمل طور پر آپ (علیہ السلام) ہی کے ذکر خیر پر نازل ہوئی ہے۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے قوم اللہ تعالیٰ کی توحید اور صحیح مذہبی روشنی سے یکسر نا آشنا ہوچکی تھی اور حقیقی الہ کی جگہ خود ساختہ معبودوں نے لے لی تھی۔ قوم میں جو لوگ اولیاء اللہ سمجھے جاتے تھے ان کے بت اس قوم نے گھڑے تھے ، ان کو سامنے رکھ کر ان بزرگوں کی پرستش کی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے جو روز اول اعلان کیا تھا اسی اعلان کے مطابق قوم کی رشد و ہدایت کے لئے ان ہی میں سے نوح (علیہ السلام) کو ایک بادی اور اللہ تعالیٰ کا سچا رسول بنا کر مبعوث کیا گای۔ زیر نظر آیت میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو راہ حق کی طرف پکارا اور سچے مذہب کی دعوت دی لیکن قوم نے ان کی ایک نہ مانی اور نفرت و حقارت کی نظر سے ان کو دیکھا اور انکار کرتے رہے اور جوں جوں وقت گزرتا گیا لوگوں کا انکار بڑھتا ہی چلا گیا۔ نوح (علیہ السلام) نے انتہائی کوشش کی کہ بدبخت قوم سمجھ جائے لیکن قوم کے لوگ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ جس قدر نوح (علیہ السلام) کی طرف سے تبلیغ حق میں جدوجہد ہوئی اسی قدر قوم کی جانب سے بغض وعناد میں سرگرمی کا اظہار ہوا اور ایذا رسانی اور تکلیف وہی کے تمام وسائل کا استعمال کیا گیا۔ قوم کے رئوسا اور امراء نے نوح (علیہ السلام) کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور ان کی تکذیب و تحقیر کا کوئی پہلو بھی نہ چھوڑا اور ان کے پیروئوں نے ان ہی کی تقلید میں ہر قسم کی تذلیل و توہین کے طریقوں کو نوح (علیہ السلام) پر آزمایا اور نوح (علیہ السلام) نے بھی ان کو عذاب الٰہی کی لپیٹ میں آنے کی پرزور دھمکی دی۔
Ayah 71:2نوح (علیہ السلام) نے قوم کو کہا کہ میں تمہارے لئے واضح طور پر نصیحت کرنے والا ہوں
2 ؎ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم کو عام فہم الفاظ میں اور واضح انداز میں ڈرانے والا بن کر آیا ہوں اور تم کو نصیحت کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، توبہ کرو اور اپنے کرتوتوں سے باز آ جائو کہ بس میرا کام تنذیر ہے اور میں تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب عذاب کا اعلان جاری ہوتا ہے تو وہ کسی کے روکے بھی نہیں رکتا بلکہ اس قوم کو تہس نہس کر کے رکھ دیا جائے گا جو اس کے احکام کی نافرمانی کرے گی۔
Ayah 71:3اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہا مانو
3 ؎ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت تبلیغ کے تین بنیادی اصول قوم کے سامنے پیش کئے ، فرمایا : (1) کفر و شرک چھوڑ دو ، اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو یہی وہ نسخہ ہے جس سے تمہارے عقائد درست ہوجائیں گے۔ توہمات اور وسوسوں سے تمہاری عقلیں آزاد ہوجائیں گی اور جب نور توحید چمکے گا تو تمہارا سینہ وادی ، ایمن بن جائے گا اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت تم میں پیدا ہوجائے گی۔ (2) میری دعوت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تم تقویٰ کو اپنا شعار بنا لو جب تم متقی اور پارسا بن جائو گے تو فسق و فجور کی عفونتوں سے تمہارا دامن پاک ہوجائے گا اور اس طرح ظلم و ستم ، لوٹ کھسوٹ ، جھوٹ اور غیبت ، خود غرضی اور حرص کا تمہارے اندر نام و نشان بھی نہ رہے گا جو معاشرہ کو اندر اندر کھا جاتے ہیں اور یقین جانو اس طرح تمہارے معاشرے میں بہت خوش آئند تبدیلی رونما ہوگی۔ (3) میری دعوت کا تیسرا اصول بھی سن لو کہ تم میری اطاعت کرو ، تمہارے رب نے مجھے تمہاری راہنمائی کے لئے پسند کیا ہے اور اب میں تم ہی میں سے ایک انسان ہوں جو حوائج و ضروریات تم کو ہیں وہ سب کی سب مجھے بھی لاحق ہیں ، جو میں کرتا ہوں اور تم کو کرنے کا حکم دیتا ہوں تم بھی کرو ، جس سے میں خود رکتا ہوں اور تم کو روکتا ہوں تم رک جائو۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم منزل مقصود تک پہنچ جائو گے ، تمہاری دنیا بھی درست ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کے باعث تمہاری آخرت بھی سنور جائے گی۔
Ayah 71:4اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہاری آخرت درست فرما دے گا
4 ؎ غلطیوں اور بھولوں سے اکثر انسانوں کے دامن آلودہ رہتے ہیں اور ان سے تم بھی دوچار ہوتے ہو اس لئے ان کو محو کرانے اور مٹانے کا بھی صرف یہ ایک ہی طریقہ ہے کہ تم اپنی حالت کو درست کرلو کیونکہ سنت الٰہی یہی ہے کہ اللہ ہمیشہ اسی قوم کی حالت کو بدلتا ہے جو قوم خود اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اس وقت تم کو نظر آئے یا نہ آئے تمہارے گناہوں کا حال یہ ہے کہ تم پر عذاب الٰہی آیا ہی چاہتا ہے اگرچہ اس کے لئے ابھی تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان نہیں ہوا اس لئے میں تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ اپنی حالت کو درست کرنے کی کوشش کرو اور اپنے گناہوں کی تلافی کرو جس کا طریقہ اللہ سے مغفرت طلب کرنا ہے کیونکہ وہی ہے جو بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کو ایک وقت تک ڈھیل دے دی جائے گی اور یہ بات اپنی جگہ محقق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وقت مقرر کیا گیا ہو اس میں تاخیر کسی حال میں ممکن نہیں ہوتی نہ تو اللہ تعالیٰ خود اپنے قانون کو بدلتا ہے اور نہ ہی کسی کو بدلنے کی ہمت و طاقت ہوتی ہے۔ کاش کہ تم کو یہ بات معلوم ہوتی یا اس وقت ہی تم اس پر یقین کرلو کہ جو قوم اپنے نبی و رسول کی دعوت کو ٹھکرا دیتی ہے اور اسے سمجھنے اور سوچنے کی جو مہلت دی گئی ہو جب وہ ختم ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا طاقت ور ہاتھ اس قوم کو تہس نہس کر کے رکھ دیتا ہے اور پھر کوئی نہیں جو اس کے طاقت ور کو ہاتھ کو روک سکے اگر اس حقیقت کو تم سمجھ جاتے تو تم کو جو مہلت دی گئی تھی اس کو اپنے ہاتھوں کبھی ضائع نہ کرتے۔ لیکن قوم کے لوگوں پر نوح (علیہ السلام) کی اس نصیحت نے ذرا بھی اثر نہ کیا اور وہ مخالفت پر بدستور ڈٹی رہی۔
Ayah 71:5نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی
5 ؎ مختصر یہ کہ جب قوم کی ہدایت سے سیدنا نوح (علیہ السلام) بالکل مایوس ہوگئے اور اس کی باطل کشی اور عناد و ہٹ دھرمی ان پر واضح ہوگئی کیونکہ ایک لمبی مدت گزرنے کے باوجود ان کی مخالفت میں ذرا بھر فرق نہ آیا انہوں نے ایک کان سے سنی تو دوسرے سے اسی وقت نکال دی۔ قوم نے آپ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اور لعن وتشنیع کے تیرے چلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو انہوں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور نوح (علیہ السلام) پر ہاتھ اٹھانا شروع کردیا اور اس طرح کے واقعات روز بروز بڑھنے لگے تو آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب کے سامنے درخواست پیش کردی کہ اے میرے رب میں نے اپنی قوم کو راتوں میں جگا کر سمجھایا اور دونوں میں عام مجمعوں میں ان کو نصیحت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کی اصلیت کو تو میرے سے بھی زیادہ جانتا ہے کہ ہم سب کے دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے اور کوئی چیز تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔
Ayah 71:6میرے بلانے پر وہ اور زیادہ دور بھاگنے لگے
6 ؎ تو خوب جانتا ہے کہ میرے بلانے اور دعوت دینے نے ان کو پہلے سے بھی زیادہ دور کیا ہے اور وہ روز بروز نفرت میں بڑھتے ہی چلے گئے اور جتنا میں نے ان کے قریب جانے کی کوشش کی اتنے ہی وہ مجھ سے دور ہوگئے اس طرح میری دعوت کا جو اثر ان پر ہوا وہ الٹا ہی ہوا اور وہ میرے قریب آنے کی بجائے مزید دور ہوگئے۔
Ayah 71:7لاریب میں نے جب بھی ان کو بلایا تو انہوں نے تکبر ہی کا اظہار کیا
7 ؎ نوح (علیہ السلام) نے جو مناجات بدرگاہ رب ذوالجلال والاکرام پیش کرنا شروع کی تھی اس کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے میرے رب ! میں نے جب کبھی ان کو تیری طرف سے پیغام پہنچایا ہے اور تیری طرف دعوت دی تاکہ تو ان کو بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے چہروں پر انہوں نے کپڑے ڈال لئے اور اس طرح ضد اور غرور کی حد کردی ، اس کے باوجود میں نے ان کو بلایا لیکن وہ اپنے گناہوں پر اصرار کرنے لگے اور مجھ سے نفرت میں بڑھتے بڑھتے بہت دور نکل گئے۔
Ayah 71:8پھر میں ان کو بآواز بلند بلاتاہی رہا
8 ؎ ان کے تکبر کرنے اور مجھ سے اور دور بھاگنے کے باوجود میں نے ان کو زور زور سے پکارنا شروع کردیا لیکن ان پر میرے زور زور سے پکارنے کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور وہ مجھ سے اور دور ہوتے چلے گئے۔
Ayah 71:9پھر میں نے ان کو اعلانیہ بھی سمجھایا اور چھپ چھپ کر بھی
9 ؎ نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعا کو جاری رکھتے ہوئے اپنے پروردگار سے کہا کہ الٰہی ! میں نے ان کو اعلانیہ دعوت دی ، لوگوں کی موجودگی میں بلایا ، جب ان پر کوئی اثر نہ ہوا تو میں نے ان کو چھپ چھپ کر انفرادی طور پر سمجھانا شروع کردیا لیکن وہ میرے اس اس عمل سے بھی نفرت میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ ان پر میری کسی تلقین کا مثبت اثر نہ پڑا۔ وہ کہتے تو یہ کہتے کہ ہم آپ کو اپنا پیشوا کیسے مان لیں جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ تیری پیروی کرتے ہیں وہ کوئی قابل لوگ نہیں ہیں کہ ان کا نام ہی لیا جاسکے ایسے کمین لوگوں کے ساتھ مل کر تو ہم تیری مجلس میں بیٹھ بھی نہیں سکتے وہ فریب اور کمزور افراد قوم کو دیکھ کر ان سے نفرت کرتے ہیں۔
Ayah 71:10میں نے ان سے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ معاف کروا لو کہ وہ معاف کرنے والا ہے
10 ؎ اس طرح میں نے ان کو بتایا کہ اگر تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو گے تو صرف تمہاری آخرت ہی درست نہیں ہوگی بلکہ وہ تمہاری دنیا بھی سنوار دے گا۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہے جو گناہوں کو معاف کرنے والا ہو۔ وہی ہے جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ اس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کو پھیلا کر قوم کے سامنے پیش کیا اور جب انہوں نے ماننے سے انکار کردیا تو وہی باتیں نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب ذوالجلا والاکرام کی بارگاہ میں بطور دعا اور قوم کی شکایت کے طور پر پیش کرنا شروع کردیں۔
Ayah 71:11وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا
11 ؎ نوح (علیہ السلام) اپنے اللہ رب کریم کے سامنے اپنی دعوت کے الفاظ پیش کر رہے ہیں جن الفاظ سے انہوں نے اپنی قوم کو بلایا اور پکارا اور ان کو یہاں تک کہا کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرو گے تو میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے اپیل کروں گا کہ وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے ، جس سے تمہاری دنیا سنورے گی اور تمہاری فصلیں پروان چڑھیں گی ، تمہارے باغات بار آور ہوں گے ، تم کو خوش حالیاں نصیب ہوں گی لیکن میری ان باتوں نے ان کو نفرت میں اور زیادہ کردیا اور وہ میرے قریب آنے کی بجائے مجھ سے دور ہی ہوتے چلے گئے۔ ایسا کیوں ہوا ؟ قابل غور بات ہے کہ جو باتیں ان سے نوح (علیہ السلام) نے کہیں ان میں سے وہ کونسی بات تھی جو ان کو نوح (علیہ السلام) سے دور کرتی چلی گئی اور وہ قریب آنے کی بجائے دور ہوتے چلے گئے۔ اگر تم ذرا غور کرو گے تو حقیقت کو پا لو گے کہ نوح (علیہ السلام) کی دعا کا ایک ایک فقرہ بتا رہا ہے کہ وہ ان کے نظریات کی تردید کر رہا تھا مثلاً وہ جو بات کرتے صرف اور صرف اللہ کے نام سے کرتے اور مشرکین کو جتنی نفرت اس نظریہ و عقیدہ سے ہے کہ ہر معاملہ میں اور ہر کام میں اللہ ہی کا نام لیا جائے شاید ہی کسی اور بات سے اتنی نفرت ہوگی۔ قرآن کریم ہی نے ہم کو بتایا ہے کہ مشرکین کے سامنے جب فقط ایک اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دلوں میں کتنی نفرت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ جب غیروں کا نام لیا جاتا ہے تو ان کو کس طرح خوشی ہوتی ہے اور وہ خوشی سے اچھل پڑتے ہیں۔ اس مضمون کو دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقی ، جلد ہفتم میں سورة الزمر کی آیت 45 کی تفسیر دیکھیں اس لئے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ایک ایک فقرہ ان کے غیظ و غضب کو بڑھاتا تھا اور وہ سنتے ہی اپنا کنٹرول کھو دیتے تھے۔ اگر اس کا اندازہ کرنا ہو تو آج کے مشرکوں کے سامنے صرف ایک اللہ کا ذکر کر کے اندازہ کرلو کہ ان کے چہروں پر کس طرح بل پڑتے ہیں اور غیر اللہ کے نعرہ سے ان کو کس طرح تقویت حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 71:12وہ تمہاری مال اور بیٹوں سے مدد فرمائے گا اور باغات اور نہریں چلا دے گا
12 ؎ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے ان کو تیرے نام سے دعوت توحید دیتے ہوئے بار بار کہا ہے کہ آ کر تم اکیلے اللہ کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو گے تو وہ تم پر بہت نوازشات کرے گا ، تم کو وہ بہت خوبصورت ، صحت مند اور قوی ہکل اولاد عطا کرے گا اور تمہارے مال اور دولت میں بھی وہ بیحد اضافہ کرتا جائے گا ، تمہاری بنجر زمینیں آباد ہوں گی ، تمہارے چٹیل میدان ہرے بھرے ہوجائیں گے اور آسمان بارش برسا کر تمہارے یہ باغات بار آور بنا دے گا اور اس طرح تمہاری دنیوی زندگی کو پہلے سے بھی زیادہ چار چاند لگ جائیں گے اور تمہارے ان خشک ریگزاروں میں نہریں بہنے لگیں گی۔ ان مضامین کی تائید کے لئے اگر آپ عروۃ الوثقی جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 66 ، سورة الاعراف کی آیت 96 ، جلد چہارم سورة ہود کی آیت 52 ، 53 کی تفسیر کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت اگر اللہ تعالیٰکی توحید کا درس لوگ قبول کرلیں تو ان پر اس طرح کے انعامات کئے جاتے ہیں جس سے ان کی دنیا کی زندگی بھی درست ہوجاتی ہے اور اس طرح کے نظریات سے ان کی آخرت بھی سنور جاتی ہے اور مشرک قوموں کے مقابلہ میں جو قوموں کے نظریات کا فائدہ کسی طرح دوسرے افراد زندگی کو بھی پہنچتا ہے اور انسان کے نظریات کا اثر اس کے اعمال پر کس طرح پڑتا ہے اور ان ساری باتوں کی وضاحت تم کو ان محولہ آیات کریمات سے مل جائے گی لیکن نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت کا اثر جو ہوا وہ منفی تھا۔
Ayah 71:13تم کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت پر اعتقاد نہیں رکھتے ؟
13 ؎ نوح (علیہ السلام) قوم کے لوگوں کو شرم دلاتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں کہ اے قوم کے لوگو ! نہایت شرم کی بات ہے کہ اگر ایک مالدار آدمی تمہارے پاس آتا ہے تو تم اس کے وقار کی خاطر اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہو اور اس کو جھک جھک کر سلام پشو کرتے ہو ، تمہارا کو ئینام کا پیر اور مرشد آجائے جس کے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز بھی موجود نہ ہو تو تم اس کے برابر بیٹھنا ، چلنے اور پھرنے جیسے کاموں سے پرہیز کرتے ہو کہ یہ بزرگوں کی اولاد ہے اور یہ ہمارا پیرخانہ ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے وقار ، عظمت اور جلال کی تم کو ذرا بھر بھی پروا نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ جس طرح کا احترام فقط اللہ کے لئے ہے اس طرح کا وقار اور عزت کو تم غیروں کی کر رہے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نام سے تم اتنے الرجک (Allergic) ہو کہ جوں بھی اس کا نام آتا ہے تمہارے تیور بدل جاتے ہیں۔
Ayah 71:14حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے
14 ؎ (اطوارا) طرح طرح طور کی جمع جس کے معنی حد اور اندازہ کے آتے ہیں۔ (اطوارا) کے معنی ہیں طرح طرح کی شکل و صورت میں تم کو بنایا ہے اور یہ بھی کہ انسان نے جو ماں کے پیٹ میں طرح طرح کے رنگ بدلے ہیں یعنی نطفہ ، حلقہ ، مضغہ اور اس کے بعد جیتا جاگتا انسان اور پھر اس کے بعد پیدائش سے لے کر موت تک آدمی جتنے ادوار اور اطوار سے گزرتا ہے وہ کسی صاحب عقل و علم سے مخفی نہیں ہے اور ساری تبدیلیاں لانے والا انسان کی شکل و صورت میں طرح طرح سے بنانے والا اور طرح طرح کے رنگ بدلنے والا جن اطوار سے ہو کر انسان بنتا ہے ان رنگوں میں تبدیلی کرنے والا کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان سارے سوالوں کا جواب ایک ہی ہے کہ اللہ پھر جس کے قبضہ قدرت میں یہ سب کچھ ہے ، جس نے انسان کو مختلف انواع و اقسام میں بنایا ہے جیسے کوئی صحت مند ، کوئی بیمار ، کوئی بینا اور کوئی نابینا ، کوئی غنی اور کوئی فقیر ، کوئی شاہ اور کوئی گدایہ سب کس کی کرشمہ سازی ہے ؟ انسان جتنا بھی غور کرے تو وہ کوئی دوسرا جواب نہیں دے سکتا لیکن اس کے باوجود انسان اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ شرک کرنے سے باز نہ آئے اس سے زیادہ انسان کے لئے بےعقلی اور بیوقوفی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس کی مزید تفصیل دیکھنا مقصود ہو تو سورة الحج کی آیات 5 ، 6 کی تفسیر دیکھیں اور سورة الحج عروۃ الوثقی جلد ششم میں ملے گی۔
Ayah 71:15کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان بنا دیئے ہیں
15 ؎ اس پہلے انسان کو اندرونی شہادتوں کی طرف توجہ دلائی جو انسان کے اپنے اندر موجود ہیں اور جو اس کی پیدائش سے لے کر اس کے بوڑھے ہونے اور مرنے تک پائی جاتی ہیں اور اگر آدمی ان ہی میں سے ایک ایک پر غور کرتا جائے تو اس کو کسی دوسری طرف دھیان دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی توجہ آسمانوں کی بلندیوں کی طرف مبذول کرائی ہے کہ اگر وہ اس طرح عبرت حاصل نہیں کرتا تو اس کو بیرونی شہادتوں سے روشناس کرایا جائے کیونکہ اصل مقصود تو انسان کی تفہیم ہے وہ خواہ کسی صورت میں بھی ہو۔ فرمایا اگر انسان غوروفکر کرے تو اس کی حکمت کے اور رحمت کے آثار ہر طرف جلوہ نما ہوتے ہیں۔ فرمایا اگر وہ اپنے سر کے اوپر خیال کرے تو وہ آسمانوں کو دیکھے گا اور پھر غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کو سات آسمان تہ بہ تہ بنا دیئے ہیں اور ہم اس آسمان دنیا پر نظر دوڑائیں جو ہر ایک انسان کو خواہ وہ کوتاہ عقل ہے یا بہت عقل مند اپنی بصیرت و بصارت کے ذریعہ وہ اس کو ستاروں ، سورج اور چاند سے مزین پائے گا اور پھر ان سب کا باقاعدہ نظام اس کو متوجہ کرے کہ اتنا مضبوط اور پختہ نظام جس میں ایک سیکنڈ کا سواں حصہ (Fraction of Secand) میں کبھی فرق نہیں پڑا۔ کیا یہ سب کچھ سوائے کسی بنانے والے اور سوائے کسی چلانے والے کے چل رہا ہے ؟ تو آخر اس کو یقین کرنا ہوگا کہ جو اس کا بنانے والا ہے وہی اس کا چلانے والا بھی ہے اور پھر اس کو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس سارے نظام کو بنایا ہے اور وہی ہے جو اس سارے نظام کو چلا رہا ہے۔ اگرچہ ہم اس کی لم اور حقیقت سے ناواقف ہیں کہ یہ اس نے کیسے بنایا ہے ؟ پھر اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ سات آسمانوں سے کیا مراد ہے اور ان کے تہ بہ تہ ہونے کا کیا مطلب ہے۔ زیر نظر آیت میں (طباقا) کا لفظ آیا ہے جس کے معنی اوپر تلے ، تہ بہ تہٗ توبہ تو کے الفاظ سے کئے جاتے ہیں۔ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے فعل طابق یطایق آتا ہے ” مطابقت “ اسماء متضائفہ میں ہے اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر اس کے اندازے کے مطابق رکھ دینا جے سن بولا جاتا ہے طابقت التعل ” میں نے ایک جوتے کو دوسرے کے مطابق کردیا اور اس طرح کسی کے قدم بقدم چلنے کے لئے بطور محاورہ بھی مستعمل ہے۔ اس سے ” طباق “ کا استعمال کبھی تو اس شے کے لئے ہوتا ہے جو دوسروں کے اوپر ہو اور کہیں اس شے کے لئے کہ جو دوسری شے کے موافق ہو۔ امام ابو جعفر بیہقی تاج المصادر میں لکھتے ہیں کہ یہ لفظ ایک شے کے اوپر دوسری شے اس طرح پھیلا کر رکھنے پر دلالت کرتا ہے کہ یہ اس کو اچھی طرح ڈھانپ لے۔ اس آیت کی مزید تفصیل دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 229 تا 261 جلد ششم سورة المؤمنون کی آیت 17 ، جلد ہشتم سورة فصلت آیت 12 ، جلد نہم سورة الطلاق کی آیت 12 ، سورة الملک کی آیت 3 ، سورة الحاقہ آیت 7 ملاحظہ کریں۔
Ayah 71:16ان میں چاند کو جھکنے والا اور سورج کو چراغ بنایا
16 ؎ آسمانوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد فلک میں تیرنے والے ستاروں ، سیاروں اور چاند و سورج کی طرف توجہ کرا دی کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات ہیں۔ فرمایا غور کرو کہ اس نے ان آسمانوں میں کس طرح چاند کو روشنی اور سورج کو چمکتا ہوا چراغ بنا دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشانات بھی ہیں اور اس کی حکمت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ کیا حکیم کل ہے جس نے ان کو اس انداز پر بنا دیا ہے کہ ایک کی روشنی ٹھنڈی اور دوسرے کی نہایت گرم ہے اور پھر جس کو ٹھنڈا بنایا ہے بغیر کسی حکمت کے نہیں اور جس کو گرم بنایا ہے وہ بھی بغیر کسی حکمت کے نہیں ہے۔ یہ سیارے ، چاند اور سورج کہاں تم کو نظر آ رہے ہیں اور ان کے اثرات کس طرح تمہاری اس زمین پر اثر انداز ہو رہے ہیں کہ اگر ان کو اس زمین سے الگ کردیا جائے تو یہ تمہاری زمین بالکل بانجھ ہو کر رہ جائے اور اس پر زندگی کے آثار ہی مٹ جائیں اگر اتنے اتنے بڑے نشانات دیکھ کر بھی کسی کی آنکھیں نہیں کھلتیں تو اس کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے اور ایسے شپرہ چشم لوگوں کو کچھ بھی دکھائی نہیں دے گا اور کبھی بھی دکھائی نہیں دے گا۔
Ayah 71:17اللہ نے تم کو اس زمین سے ایک طرح سے پیدا کردیا ہے
17 ؎ (اتیتکم) اس نے تم کو اگایا۔ اتبت اتبات سے معاضی کا صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر اتبات کا استعمال نباتات کو اگانے اور جاندار کے بڑھانے دونوں کے متعلق ہوتا ہے اور اس جگہ دوسرے ہی معنی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک خاص طریقہ کے ساتھ اس زمین ہی سے پیدا کیا ہے اور اس میں اس کی نشو ونما کی ہے۔ انسان اول کی پیدائش پر غور کرو تو اس میں بیحد و شمار حکمتیں اور قدرتیں مخفی ہیں اور اگر تخلیق اول کے بعد اولاد در اولاد پیدا کرنے کا جو طریقہ بتایا ہے اس پر غور کرو تو بھی اس کی حکمتیں اور قدرتیں واضح ہیں اور ان کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر ہوچکی ہے۔ زیر نظر آیت میں دنیا کے سارے انسانوں کے پیدا کرنے اور بڑھانے کے لئے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن دونوں جگہ کی تفسیر کا نمایاں فرق دیکھنا ہو تو اس جگہ اس آیت کی تفسیر کے ساتھ سورة آل عمران کی آیت 37 کی تفسیر کو بھی دیکھیں اور اندازہ کریں کہ اس جگہ کیا خاموشی ہے اور وہاں کیا شوروغوغا ہے۔ یہاں وہ کس طرح صرف اگانے اور بڑھانے پر اکتفا کیا گیا ہے اور وہاں اگانے اور بڑھانے کی تفسیر میں مفسرین کہاں سے کہاں نکل گئے ہیں وہاں مریم کے ایک دن میں اتنا بڑھنے کا ذکر جتنا عام آدمی ایک سال میں بڑھتا ہے کا ذکر کس لئے کیا گیا اور یہاں کیوں خاموشی رہی ؟ تو تم کو اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارے مفسرین اور مترجمین نے قرآن کریم کو کیا سے کیا بنا دیا ہے اور ان خوش فہمیوں سے کیا کیا نتائج اخذ کئے ہیں۔ ہم نے اشارہ کردیا ہے اور اسی پر اکتفا کر رہے ہیں۔ یہ قارئین کرام کا اپنا کام ہے کہ وہ ایسے الفاظ پر غوروفکر کئے بغیر آنکھیں بند کر کے تفسیر کو نہ پڑھیں بلکہ آنکھیں کھول کر اور دیانت و امانت کی عینک لگا کر پڑھیں تاکہ ان مبالغہ آرائیوں سے بچ کر قرآن کریم کو طوطا مینا کی کہانی نہ بنا دیں بلکہ علم و عرفان کا منبع سمجھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بنایا ہے۔
Ayah 71:18پھر تم کو اسی زمین لے جائے گا اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالے گا
18 ؎ پھر اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو خواہ وہ انسان ہوں ، حیوان ہوں یا نباتات و جمادات سب کو اس زمین سے اسی نے پیدا کیا ہے اور انجام کار وہ اسی میں لوٹ جائیں گے۔ دنیا کی ایک ایک چیز پر غور کرتے جائو جس کے لئے موت وحیات کا اصول بنایا ہے کہ ہر ایک چیز کو کس طرح زمین سے پیدا کیا جا رہا ہے وہ بدستور قانون کے مطابق پیدا ہوتے اور قانون کے مطابق زندگی گزارنے کے بعد اس زمین کے اندر لوٹائے جاتے ہیں اور پھر جن کے لئے قانون میں دوبارہ زندہ ہونا رکھا ہے اور ان کے لئے اس زندگی کا جو بھی وقت مقرر کیا ہے وہ بلاشبہ اسی کے قانون کے مطابق زندہ ہو رہے اور مر رہے ہیں اور اسی میں داخل ہو رہے ہیں اور پھر جب وہ وقت جن کے دوبارہ زندہ ہونے کا آئے گا ان کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ پہلی زندگی جس کو عطا ہوئی وہ اس کے حکم و ارادہ سے ہوئی اور جس کو موت آئی ہے اسی کے قانون کے مطابق آئی ہے اور جن کے لئے دوبارہ زندہ ہونا ہے وہ اسی کے حکم و ارادہ سے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ اس کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو عروۃ الوثقی ، جلد پنجم سورة طہ کی آیت 55 کی تفسیر دیکھیں اور اس طرح اس کی وضاحت جلد ششم سورة الحج کی آیت 5 میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 71:19اور اللہ نے تمہارے لئے زمین کو بچھا دیا ہے
19 ؎ پہلے آسمانوں کی طرف توجہ منعطف کرائی گئی اور اس کے بعد زندہ ہونے اور مرنے اور پھر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا قانون بنایا اور اب اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے انسان پر کئے اور انسان کو کس طرح انسان بنایا اور اس پر کیا کیا ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاری خاطر کس طرح اس زمین کو بچھا دیا کہ تم اس میں جو چاہو کرو اور جو کام اس سے لو وہ تم کو دیتی چلی جائے۔ چاہو اس پر محل تیار کرو اور چاہو بنائے ہوئے محلات کو اکھاڑ کر پھینکو اور اس کو ہموار کر کے اس میں باغات لگا دو اور پھر جس جگہ چاہو جو فصل تمہاری مرضی ہے کہ اس میں بو دو وہ کبھی تم سے کوئی سوال نہیں کرے گی اور کوئی اعتراض نہیں رکھے گی۔ (بساطا) بچھونا۔ فرش اسم ہے اور ہر پھیلی ہوئی چیز کو بساط کہتے ہیں ، اس طرح وسیع زمین کا نام بھی بساط ہے۔
Ayah 71:20تاکہ تم اس کی کشادہ راہیں اختیار کرو
20 ؎ مطلب یہ ہے کہ زمین کو اس طرح بچھانے اور اس میں کشادہ راہیں پیدا کرنے میں آخر اس زمین کو کیا فائدہ ہے ؟ غورو کرو اور کرتے ہی چلے جائو تم ایک فائدہ بھی زمین میں زمین کا نہیں بتا سکو گے ، اس میں جتنے فوائد ہیں سب کے سب انسان کے لئے ہیں اور یہ اس کی ہمت ہے کہ وہ کسی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور کسی سے نہیں اس لئے تم مانو نہ مانو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور وہ محض انسانوں پر ہے کہ اس نے انسانوں کے لئے اس کو فرش کی طرح بچھا دیا ہے اور اس میں بڑے بڑے کشادہ راستے بھی بنا دیئے ہیں جن پر چل کر تم نہایت آرام و سکون کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہو۔ (فجاجا) جمع ہے اور اس کی واحد فج ہے۔ حالت نصب۔ دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے۔ گویا اس میں اشارہ کردیا کہ ان پہاڑوں کا سلسلہ خواہ کتنا ہی لمبا چلتا جائے آخر اس میں کبھی نہ کبھی انسانوں کے گزرنے اور آنے جانے کے راستے بیی رکھے گئے ہیں۔ قرآن کریم نے یہ بات اس وقت بتائی جب سائنس نے جنم بھی نہیں لیا تھا اور سائنس نے ان اشارات و استعارات کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ ان کے مشاہدات بھی انسان کو کرا دیئے کہ یہ سلسلہ کوہ جو چلا ہے تو اس میں فلاں جگہ یہ راستہ موجود ہے اور فلاں جگہ اس کو لے جا کر بند کردیا گیا ہے اور کون کون سی قومیں کن کن راستوں سے گزرتی ہوئی اور نسلاً بعدنسل چلتی چلاتی کہاں تک پہنچیں اور یہ ساری تفسیر اس آیت کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں کرا دی اور پھر ان سے کرا دی جو قرآن کریم کو اللہ کی کتاب تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس کی قدرت کے نشانات کا اظہار ان میں سے کیا جا رہا ہے۔
Ayah 71:21نوح (علیہ السلام) کی شکایت بدرگاہ قاضی الحاجات کہ انہوں نے میرا کہا نہیں مانا
21 ؎ نوح (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھانے میں اپنا پورا زور صرف کیا اور صبر و ثبات کی انتہا کردی لیکن قوم بھی ایسی اکڑ تھی کہ اس نے بھی نہ ماننے اور ضد کرنے میں آخری انتہا کو ہاتھ لگا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے بھیجنے والے رب کو بلا لیا اور مخاطب کرتے ہوئے اس طرح اپنی عرضداشت سنائی کہ اے میرے رب ! میری قوم کے لوگوں نے میری نافرمانی کی ، تو نے مجھے اپنا رسول اور ایلچی بنا کر یا یوں کہیے کہ سفیر بناکر بھیجا تھا۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ بغیر کسی لیت و لعل کے مجھے تسلیم کرلیتے لیکن انہوں نے میری نافرمانی کرنے میں حد کردی اور جس نے ان کو دعوت دی اور انہوں نے پرزور طریقہ سے میری دعوت کو ٹھکرا دیا اور برابر پس و پیش کرتے رہے اور انہوں نے پیروی کی تو ان ہی لوگوں کی ، ان کی اولادوں اور مالوں کی فراوانیوں نے ان کو نہ زیادہ کیا مگر خسارہ میں کیونکہ وہ دنیا کے مال پر ریجھ گئے اور آخرت کے فوائد کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس بات کی ذرا پروا نہ کی کہ یہ انعامات و احسانات کس نے کئے ہیں جن سے ہم استفادہ کر رہے ہیں اور ہم اس کے احکامات کی سلسل نافرمانی کرتے چلے جا رہے ہیں تو آخر ہم کو اس کا حق کیسے ہے کہ ہم کھاتے اسی کا ہیں اور گاتے دوسروں کا جن کی کسی معاملہ میں ذرا برابر بھی شرکت نہیں ہے۔
Ayah 71:22اور انہوں نے بڑے بڑے فریب کئے ہیں
22 ؎ جو لوگ بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں وہ خود کبھی معاشرہ میں چھوٹے لوگ نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ مترفین اور سردار لوگ ہوتے ہیں جو قوم کے رئیس کہلاتے ہیں اور یہ لوگ نہ صرف خود ہی گمراہ اور بدکار ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کی بدکرداری ، بداخلاقی اور گمراہی کا باعث بنتے ہیں اس وقت بھی وہ لوگ ایسے ہی تھے جنہوں نے خود نوح (علیہ السلام) کی نافرمانی کی اور دوسروں کو نافرمانی کرنے پر اکسایا اور نوح (علیہ السلام) سے برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات سے لوگوں کو روکا۔ قوم کے وڈیروں کو یہ فکر دامن گیر تھی کہ اگر عوام نے نوح (علیہ السلام) کے دین کو قبول کرلیا تو ان کی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی۔ ان کمزوروں اور ضعیفوں کا اگر شعور بیدار ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ان کا رابطہ قائم ہوگیا تو وہ ان کی غلامی کا جوا اتار کر پھینک دیں گے ، اکثریت تو ان کی پہلے ہی ہے اگر اس اکثریت میں اتحاد پیدا ہوگیا تو ہمارا کیا بنے گا ؟ اس طرح کے خطرات تھے جو ان کو دامن گیر ہوگئے۔ ان کے سدباب کے لئے وہ ہر قسم کے مکر و فریب سے کام لیتے ، ایسی ایسی چالیں چلتے کہ اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی ان کی چالوں میں پھنس جاتے۔ وہ برملا لوگوں کو کہتے کہ نوح کیا ہے ؟ ہماری ہی طرح کا ایک بشر ہے پھر اس پر وحی کیسے نازل ہونا شروع ہوگئی۔ (الاعراف : 93) وہ غریب اور کمزور افراد قوم کو جب نوح (علیہ السلام) کا تابع اور پیرو دیکھتے تو مغرورانہ انداز میں حقارت سے کہتے کہ ” ہم ان کی طرح نہیں ہیں کہ تیرے تابع فرمان بن جائیں اور تجھ کو اپنا مقتدا مان لیں “ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کمزور اور پست لوگ نوح کے اندھے مقلد ہیں نہ تو یہ ذی رائے ہیں کہ ہماری طرح جانچ پرکھ پر کسی رائے سے کام لے سکیں اور نہ ہی یہ لوگ ذی شعور ہیں کہ حقیقت حال کو سمجھ لیتے اور اگر وہ کبھی نوح (علیہ السلام) کی طرف توجہ بھی دیتے تو ان سے اصرار کرتے کہ پہلے وہ ان پست اور غریب افراد قوم کو اپنے پاس سے نکال دے تب ہی تیری بات سنیں گے کیونکہ ہم ان سے گھن کھاتے ہیں اور ان کے ساتھ برابر برابر ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے۔
Ayah 71:23انہوں نے آپس میں کہا کہ تم نوح (علیہ السلام) کی خاطر اپنے معبودوں کو مت چھوڑو
23 ؎ نوح (علیہ السلام) نے انتہائی کوشش کی کہ یہ بدبخت قوم سمجھ جائے اور رحمت الٰہی کی آغوش میں آجائے مگر قوم نے نوح (علیہ السلام) کی ایک نہ مانی اور جس قدر نوح (علیہ السلام) کی طرف سے تبلیغ حق میں جدوجہد ہوئی اسی قدر قوم کی جانب سے بغض وعناد میں سرگرمی کا اظہار ہوا اور ایذاء رسانی اور تکلیف دہی کے لئے انہوں نے تمام وسائل کا استعمال کیا اور قوم کے وڈیروں نے اپنے عوام کو صاف صاف کہہ دیا کہ تم لوگ کسی طرح ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر جیسے بتوں کی پرستش کو نہ چھوڑو۔ اس طرح انہوں نے قوم کے لوگوں کو ان پنج تن پاک کے نظریہ کو پختہ کرنے کی کوشش کی تاکہ عوام اس جال میں پھنسے رہیں گے اور ان کو سلام پیش کرنے کی عادت رہے گی۔ یہ اسی طرح سجدے اور سلام کرتے رہیں گے تو ان کی اس عادت سے قوم کے وڈیروں کا بھرم بھی قائم رہے گا۔
ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر نوح (علیہ السلام) کے عہد کے پانچ بڑے بزرگ تھے جن کی پرستش بڑی دھوم دھام سے کی جاتی تھی۔ نوح (علیہ السلام) نے صدیوں اپنی قوم کو سمجھایا کہ یہ بت اور جن بزرگوں کے یہ بت تم نے بنا رکھے ہیں وہ تو مخلوق تھے اور مخلوق کیونکر خدا بن سکتے ہیں لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا۔ اس کا تفصیلی ذکر آپ پہلے بھی بہت سے مقامات پر پڑھ چکے ہیں اور اس جگہ بھی پڑھ رہے ہیں۔ اس جگہ ہم کو بتانا ہے کہ ان بتوں کی حقیقت کیا تھی ؟ عقل انسانی نے کیوں انہیں معبود یقین کرلیا ؟ صنم پرستی کا رواج اہل تحقیق کے نزدیک دو طریقوں سے پیدا ہوا۔ پہلا طریقہ تو صائبین نے اختیار کیا ان کا اعتقاد تھا کہ اجرام سماوی یعنی سورج ، ستارے ، چاند بھی جاندار اور ذی روح ہیں۔ ان کا تعلق اس عالم دنیا سے بھی ہے اور اسی تعلق کی بناء پر یہاں سارے تغیرات مثلاً ولادت و موت ، صحت و بیماری ، فتح و شکست ، عزت و ذلت وغیرہ رو پذیر ہوتے ہیں۔ جب کہ ان کے ذہن میں یہ عقیدہ راسخ ہوگیا تو وہ ان کی عبادت کی طرف راغب ہوئے لیکن یہ اجرام ان کی رسائی سے بالا تھے ان میں سے بیشتر ان کی آنکھوں سے اوجھل تھے انہوں نے ان کے ناموں پر بت بنا کر سامنے رکھ لئے تاکہ ان کے ذکر و تصور کی وہاں تک رسائی ہو سکے چناچہ اس طرح بت معرض وجود میں آئے اور پھر ان کی عبادت شروع ہوگئی۔ مذاہب باطلہ میں سے سب سے قدیم مذہب انہیں صائبین کا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پانچ بت جن کی پرستش نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوتی تھی بعض ستاروں کے نام ہوں اور ان کے ناموں پر یہ اصنا تراشے گئے ہوں۔ نسر دو ستاروں کا نام ہے ایک کو نسر الواقع اور دوسرے کو النسر الطائر کہتے ہیں۔ اشوریین جو نوح (علیہ السلام) کے بعد آئے ان کے ایک معبود کا نام نسروخ یعنی نسر عظیم تھا۔ اس کا ایک ہیکل ان کے دارالحکومت نینوا میں تھا ، جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ اصنام پرستی کی دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ جب ان میں بعض ایسے لوگ پائے جاتے جو کہانت ، شجاعت ، قوت ، علم اور اخلاق حسنہ میں عام لوگوں کی سطح سے بہت اونچے ہوتے تو بالکل اس طرح جس طرح عام لوگوں سے اولیاء اللہ کا مقام ہمارے ہاں بھی اونچا تصور ہوتا ہے۔ عوام اس غلطی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان میں روح الٰہی نفوذ کئے ہوئے ہے اس لئے ان سے یہ مافوق البشر اعمال صادر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے مرنے کے بعد ان کے مجسمے تراش لیتے اور ان کی عبادت کرنے لگتے۔ اب ہمارے ہاں فرق یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے لئے مجسمے نہیں تراشتے بلکہ قبریں بناتے اور ان قبروں پر قت بے اور عمارات بناتے ہیں جن کو ہمارے ہاں مقبرے اور روضے کا نام دیا جاتا ہے علاوہ ازیں کوئی فرق نہیں ہے اور اس طرح یہ بھی کہ ہمارے جتنے بڑے بزرگ مانے اور تصور کئے جاتے ہیں ان کے مقبرے اور روضے بھی اتنے ہی بڑے بنتے ہیں اور باقی سب کچھ جو اس وقت کے لوگ بتوں کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے ہم ان مقبروں اور روضوں سے رکھتے ہیں اور اس طرح یہ بھی کہ ہم ان کا نام تو لیتے ہیں لیکن اپنا نام لینا ہم کو پسند نہیں ہے۔
بعض کتب تفاسیر میں ایسی روایات بھی مذکور ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کے پانچ بیٹے تھے ، ود ، سواع وغیرہ بہت پارسا اور عبادت گزار ، جب یہ انتقال کر گئے تو لوگوں پر ان کی جدائی بڑی شاق گزری ، انہیں ان کی موت کا از حد صدمہ پہنچا کیونکہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کی یاد اور نیکی کی دعوت دیتے تھے اور خود بھی سراپا نیکی و طہارت تھے۔ ان کے نورانی چہروں کو دیکھ کر اور ان کی صحبت میں بیٹھ کر انہیں اللہ کی یاد آتی تھی چناچہ کسی کے مشورہ سے جس کے متعلق تحریر ہے کہ یہ مشورہ دینے والا ابلیس تھا جو انسانی شکل و صورت میں ان کے پاس آیا تھا اس نے ان کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کی شبیہوں کو دیکھ کر دلوں کو سکون ملے اور اللہ تعالیٰ کی یاد کا جذبہ کمزور نہ ہو پائے۔ کئی نسلیں تو اسی حالت پر گزریں لیکن جب کافی عرصہ گزر گیا تو بعد میں آنے والی نسلوں نے رفتہ رفتہ اصل مقصد کو بھلا دیا اور شیاطین جن و انس کے اغوا کرنے پر انہیں اپنا معبود سمجھ لیا اور ان کی عبادت شروع کردی۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو بہت سمجھایا لیکن وہ باز نہ آئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا غضب طوفان کی صورت میں نمودار ہوا اور انہیں ان کے بتوں سمیت خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا۔ لیکن باقی رہنے والوں نے جب بھی ہوش سنبھالی تو وہی ماجرا شروع ہوگیا۔ یہ اس وقت کی حالت تھی جس کا تذکرہ آج تک ہماری کتب تفسیر ، سیر اور تاریخ میں موجود ہے لیکن جب ہم اس کا تقابل اپنے زمانے کے لوگوں سے کرتے ہیں تو ہم کو حکومت کے ایوانوں کے مکینوں سے لے کر خس و خاشاک کی جھونپڑیوں میں بسنے والوں تک سب اسی طرح کی پرستش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہاں ! اگر کوئی فرق ہے تو وہ محض اس قدر ہے کہ ان کے ہاں مجسمے اور بت ہوتے تھے ہمارے ہاں مقبرے اور روضے ہیں۔ پھر جب ہم ان کا ذکر کرتے ہیں تو لوگ ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ بھلا یہ بھی کوئی تفسیر ہے۔ اگر ہے تو اس کو تفسیر بالرائے کہتے ہیں اور ایسی تفسیر بیان کرنے والوں کے لئے تو سیدھا جہنم ہے اور ان کو اٹھا کر جہنم رسید کردیا جائے گا اور ان کی تفسیر کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جہنم رسید کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ان فتویٰ لگانے والوں کا نہیں اور اللہ تعالیٰ سے ہم پوری توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہم کو اس طرح کی تفسیر کے باعث دوزخ سے بچائے گا اور ہمارے گناہوں سے درگزر فرماتے ہوئے ہم کو بخش دے گا لیکن ہم فتویٰ نویسوں کے متعلق کچھ نہیں کہتے بلکہ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرتے ہیں۔
ہمیں مطالعہ ہی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عرب میں سب سے پہلے بت پرستی کا آغاز کرنے والا عمرو بن لحی بن قمو تھا۔ یہ ان لوگوں سے متاثر ہوا اس نے بہت طویل عمر پائی ، کعبہ کی تولیت تقریباً پانچ سو سال تک اس کے خاندان میں رہی اور اس نے اور اس کے خاندان نے بت پرستی کو رواج دینے میں اپنی پوری کوششیں شروع کردیں جس سے کعبۃ اللہ جس کو ابراہیم خلیل اللہ نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا اس بدبخت کے زمانے میں بت خانہ بنا دیا گیا۔ عرب کے مختلف قبائل کے ہاں جو بت تھے ان ہی میں جن بتوں کو بڑی شہرت اور ناموری حاصل تھی وہ پانچ بت ہی تھے جن کے نام وہی نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بتوں کے تھے یعنی ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر۔ چناچہ بنی کلب کے بت کا نام ود تھا جس کا مندر کہیں یا مقبرہ دومۃ الجندل میں تھا۔ قریش کا بھی ایک بت تھا جس کو وہ ود کہا کرتے تھے ہو سکتا ہے کہ یہ وہی بنی کلب والا بت ہو اور یہ اس کا تلفظ ودوائو مضموم سے کرتے تھے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی نیا بت ہو اور اس کے مقابلہ کے لئے انہوں نے بنایا ہو۔
سواع یہ بھی ایک بت کا نام تھا جو پہلے ہذیل کے پاس تھا اور ان سے منتقل ہو کر قبیلہ ہمدان کے پاس آیا اور وہ رباط کے مقام پر نصب تھا۔ لوگ دور دراز سے اس کا حج کرنے کے لئے آتے تھے اور آج کل ہمارے ہاں بزرگوں کے مقبروں پر بھی حج ادا کرنے کی رسم چل نکلی ہے ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ یغوث بنی سواد کا بت تھا ، ان کے پاس سے وہ بنی عطیف کے پاس آیا اور اس کا استھان ملک سبا میں تھا۔ یعوق بنی کنانہ کا بت تھا اور نسر حمیر کے قبیلہ کی ایک شاخ آل ذی الکلاع کا معبود تھا۔ ان کے بارے میں یہ بھی تصریح ہے کہ ان سب کی شکلیں انسانی نہ تھیں بلکہ مختلف تھیں۔ ود کا بت قوی ہیکل مرد کی شکل کا تھا۔ سواع ایک عورت کا مجسمہ تھا ۔ یغوث کی شکل شیر کی تھی۔ یعوق گھوڑے کا ہم شکل تھا اور نسر عقاب کی صورت پر تھا اور سب مختلف دھاتوں کے بنے ہوئے تھے۔ سرسید (رح) نے ان کی وضاحت اور دوسرے عربوں کے بتوں کی تفصیل خطبات احمدیہ میں درج کی ہے اور وہاں سے لوگوں نے دوسری کتب میں بھی ان کو منتقل کیا ہے۔ ہم قارئین سے ایک بار پھر اپیل کریں گے کہ وہ خودخالی الذہن ہو کر اس معاملہ میں غور و فکر کریں اور اپنے ہاں ہونے والے اس شرک سے اس کا تقابل کر کے دیکھیں ، وہ ناموں کے چکر میں نہ پڑیں کیونکہ یہ قوموں کے درمیان بدلتے آئے ہیں اور بدلتے رہیں گے صرف ان اعمال پر نظر رکھیں جو وہاں ادا کئے جاتے ہیں ، تو ان کو معلوم ہوگا کہ ہمارے ہاں کا شرک ان کے اس شرک سے بہت آگے بڑھ چکا ہے کیونکہ ہمارے حکمران ، سیاسی لیڈر ، مذہبی راہنما اور دوسرے سارے وڈیروں کی اکثریت براہ راست اس شرک میں ملوث ہے اور چونکہ وڈیروں کے پاس مالی سہولتیں زیادہ ہوتی ہیں اور حکومت کے ایوانوں میں بسنے والوں کے پاس تو خزانہ ہے وہ اس کا منہ ان مقاصد کے لئے کھول دیتے ہیں جس سے ان کے کاروبار میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ مختصر یہ کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے وڈیروں نے عوام کو اس طرح حکم دیا کہ اے لوگو ! تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑو اور خصوصاً ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر کو بالکل نہ چھوڑو اور اس طرح انہوں نے اپنا سارا زور صرف کردیا۔
Ayah 71:24بلاشبہ انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا اور ظالم گمراہی کے سوا کسی میں زیادہ نہ ہوئے
24 ؎ اس طرح نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بہت سے وڈیروں نے اور گمراہ رئیسوں نے عوام کو گمراہ کردیا اور سادہ لوح عوام ان کے سامنے کھڑے نہ رہ سکے اس طرح شرک کا خوب دور دورہ ہوا اور نوح (علیہ السلام) کو بارگاہ الٰہی میں اس طرح اپیل کرنا پڑی کہ اے اللہ ! تو بھی ان گمراہوں اور ظالموں کی گمراہی اور ظلم میں اور اضافہ فرما دے تاکہ یہ سخت سے سخت عذاب کے مستحق قرار پائیں اور انہیں اپنی بدمعاشیوں ، مکاریوں ، شرارتوں اور اسی طرح کی ریشہ دوانیوں کی خوب سزا ملے۔ آیت 24 سے آیت 27 تک نوح (علیہ السلام) کی دعا بدرگاہ رب ذوالجلال والاکرام کے فقرات ہیں اور ان پر بعض لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ یہ نوح (علیہ السلام) کی بددعا ہے اور اگر وہ بددعا نہ کرتے تو شاید آپ (علیہ السلام) کی قوم کے مزید لوگ ایمان لاتے۔ اس معاملہ میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے بددعا اس وقت کی جب ہدایت طلب کی جانے والی دعا کے جواب میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے آپ (علیہ السلام) کو یہ ہدایت ملی کہ اے نوح ! ہم آپ (علیہ السلام) کو بتا رہے کہ آپ (علیہ السلام) کی قوم میں جن لوگوں کو ایمان لانا تھا وہ لے آئے آئندہ کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا اور آپ (علیہ السلام) اس معاملہ میں زیادہ غمگین نہ ہوں۔ بس ایک ہی بات جو تم کو یاد رکھنا ہے اور اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک کشتی بنائو اور ہمارا حکم جب آپ (علیہ السلام) کی قوم کے غرق ہونے کا آئے تو تم سب لوگ اس میں سوار ہو جائو۔ (ہود 36 : 37) اور ظاہر ہے کہ اس حکم خداوندی کے بعد کسی کے ایمان لانے کی توقع کیونکر کی جاسکتی تھی اور پھر اس طرح کی دعا کو بددعا کہنا کسی حال میں بھی صحیح نہیں بلکہ حکم الٰہی کی روشنی میں عرضی (Application) پیش کی گئی ہے۔
Ayah 71:25وہ اپنی خطائوں کے باعث غرق کردیئے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے
25 ؎ اس جگہ کشتی بنانے کے حکم کا ذکر نہیں کیا گیا اور عدم ذکر کسی چیز کی نفی نہیں کرتا اور دوسرے مقامات پر اس کی وضاحت بھی گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون جزیہ اعمال کے مطابق سرکشوں کو ان کی سرکشی اور متمردوں کو ان کے تمرد کی سزا کا اعلان کردیا اور حفظ ماتقدم پہلے نوح (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی کہ وہ ایک کشتی تیار کریں تاکہ اسباب ظاہری کے اعتبار سے وہ اور مومنین قاتین اس عذاب سے محفوظ رہیں جو اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں پر نازل ہونے والا ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب کشتی بنانی شروع کی تو کفار نے آپ کا مذاق اڑانا شروع کردیا اور ہنسی اڑانے لگے جب کبھی ان کا ادھر سے گزر ہوتا تو کہتے کہ خوب ! جب ہم غرق ہونے لگیں گے تب تو اور تیرے پیرو اس کشتی میں محفوظ رہ کر نجات پا جائو گے۔ کیا احمقانہ خیال ہے اور نوح (علیہ السلام) بھی ان کو انجام کار ان کی غفلت اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر جرأت دیکھ کر ان ہی کے طرز پر جواب دیتے اور اپنے کام میں مشغول رہتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کو حقیقت حال سے آگاہ کردیا تھا۔ آخر سفینہ بن کر تیار ہوگیا اور جب اللہ تعالیٰ کے وعدہ عذاب کا وقت قریب آیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس پہلی علامت کو دیکھا جس کا ذکر ان سے کیا گیا تھا یعنی زمین کی تہ سے پانی کا چشمہ ابلنا شروع ہوگیا تو اسی وقت وحی الٰہی نے ان کو حکم سنایا کہ کشتی میں اپنے خاندان کو بیٹھنے کا حکم دو اور تمام جانداروں میں سے ہر ایک کا ایک ایک جوڑا بھی کشتی میں سوار کرلیا گیا جن کی نوح (علیہ السلام) کو اس وقت ضرورت تھی۔ جب وحی الٰہی کی تعمیل پوری ہوگئی تو اب آسمان کو حکم ہوا کہ پانی برسنا شروع ہو اور زمین کے چشموں کو حکم دیا گیا کہ وہ پوری طرح ابل پڑیں اللہ کے حکم سے جب یہ سب کچھ ہوتا رہا تو کشتی بھی اس کی حفاظت میں پانی پر ایک مدت تک محفوظ تیرتی رہی تا آنکہ تمام منکرین و معاندین غرق آب ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے قانون ” جزاء اعمال “ کے مطابق اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے اور انجام کار وہ اس دنیا سے فارغ ہوتے ہی اس آگ میں ڈال دیئے گئے جس آگ کا نام اسلام میں سحیین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس سے ان کو یہ بتانا مقصود تھا کہ آخرت میں قیامت کے بعد تم کو مستقل طور پر داخل جہنم کردیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں (فادخلوا نارا) کے الفاظ خاص کر قابل غور ہیں۔ ہمارے بعض بھائی جو برزخ کے عذاب سے انکاری ہیں ان کو غور کرنا چاہئے اور پھر یہ بھی کہ جس چیز کے لئے اشارات و استعارات پیش کئے گئے ہیں اس کا قوم کو فائدہ بھی ملحوظ خاطر رکھیں تاکہ اس معاملہ میں جن لوگوں کا یہ نظریہ اصلاح کرتا ہے اور اس کا تعلق بھی عالم آخرت سے ہے جو مشاہدہ کی چیز نہیں ہے اور یہ بھی حقتقق ہے کہ انسان کی روح کی اذیت روح کو محسوس ہوتی ہے اور یہ بھی اپنی جگہ محقق ہے کہ روح اور جسم بالکل دو الگ الگ چیزیں ہیں جن کے الحاق کا نام دنیوی اور اخروی زندگی سے ہے جس میں اجسام کا ہونا شرط اول ہے۔ ان ساری چیزوں کے پیش نظر محض ایک سمجھ میں نہ آنے والی چیز کو تسلیم کرنے میں کیا امر مانع ہے اور اس میں آخر قباحت کیا ہے ؟ اس نظریہ سے نقصان کیا ہوتا ہے ؟ اس کی وضاحت ان دوستوں ہی کے ذمہ ہے جو اس نظریہ سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم اس کا انکار آخرت کے انکار پر منتج نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کو اس معاملہ میں الزام دینے یا بدعقیدہ کہنے کی کوئی ضرورت ہے اور خصوصاً اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کا عذاب قبر سے پناہ مانگنا اور ادعیہ ماثورہ میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔ نماز جنازہ کی دعائوں میں ایسے الفاظ کا صحیح احادیث میں مذکور ہونا کس بات کی نشاندہی کرتا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کے عذاب نے جب ان کو گھیر لیا تو کوئی نہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں امداد کرتا اور انہیں عذاب کے چنگل سے بچاتا اور خواہ عذاب برزخ ہے اور خواہ وہ عذاب دنیا اسی طرح عذاب آخرت کا معاملہ بھی ہوگا۔
Ayah 71:26نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے پروردگار ! زمین کے حصہ میں کوئی بھی کافر کا گھر آباد نہ چھوڑ
26 ؎ (الارض) کے لفظ سے لوگوں نے پوری زمین مراد لی ہے حالانکہ اس کے لئے کسی طرح کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔ پھر نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے نبی و رسول اپنی اپنی قوم اور بستی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ، کسی نبی کو اللہ نے تمام جہانوں کے لئے نبی اور رسول بنا کر نہیں بھیجا سوائے محمد رسول اللہ ﷺ کے پھر جب آپ (علیہ السلام) کی قوم پوری دنیا میں آباد ہی نہ تھی بلکہ وہ ایک علاقہ میں بسائی گئی اس لئے (الارض) سے پوری زمین مراد لینا کسی حال میں بھی صحیح اور درست نہیں ہے اور پھر ہمارے مفسرین نے بھی (الارض) سے مراد آپ (علیہ السلام) کی قوم کی سرزمین ہی لی ہے چناچہ کہا گیا ہے : الارض ای ارض قومہ نوح (علیہ السلام) نے رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں عرض کی اے میرے رب ! نہ چھوڑ اس سرزمین پر کافروں کا کوئی گھر بھی آباد کیونکہ وہ تیرے ہی ارشاد کے مطابق اب ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لئے جو بھی رہا وہ میرے ساتھ ایمان لانے والوں کی خرابی کا باعث ہوگا۔
Ayah 71:27اگر تو نے ان میں سے کوئی بھی چھوڑا تو وہ تیرے بندوں کو بہکائے گا
27 ؎ جیسا کہ ہم نے سورة ہود کی آیت کے حوالہ سے اوپر بیان کردیا ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) کو یہ معلوم ہوگیا کہ ان کے ابلاغ حق میں کوتاہی نہیں ہے بلکہ خود نہ ماننے والوں کی استعداد کا قصور ہے اور ان کی اپنی سرکشی کا نتیجہ ہے تب ان کے اعمال اور کمینہ حرکات سے متاثر ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے پروردگار ! تو کافروں میں سے کسی کو بھی اس زمین پر باقی نہ رہنے دے اگر تو نے ان کو یونہی چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو بھی گمراہ کریں گے اور رہے یہ خود ، تو ان کی اولادیں جو پیدا ہوں گی وہ نافرمان ہی پیدا ہوں گی اور اس طرح اس زمین کو وہ پھر کفر و شرک ت سے بھر دیں گے۔ لیکن یہ ایک دعا ہے جو نوح (علیہ السلام) نے فرمائی۔ قانون مشیت کے مطابق پھر بھی جن کو کفر و شرک کرنا تھا وہ پیدا ہوئے اور انہوں نے بدستور کفر و شرک سے اس زمین کو گندا کیا اور آج تک ان کے طریقہ پر چلنے والے اپنا کام کر رہے ہیں بلکہ ہر دور میں ان ہی لوگوں کی کثرت رہی ہے اور اس وقت غیر مسلموں کے کفر و شرک کو اگر نگاہ میں نہ رکھا جائے تو بھی صرف مسلمانوں کے کفر و شرک میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ زیر نظر آیت کی تفسیر میں جناب سید پیر کرم شاہ صاحب (رح) طرح مصرع دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ :
” معلوم ہوا کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بتانے سے یہ بھی جانتے تھے کہ اب ان کی نسلوں میں کوئی بھی مومن پیدا نہ ہوگا سب فاسق و فاجر ، مشرک و کافر پیدا ہوں گے “ اور اس طرح جو رمز انہوں نے اپنے ماننے والوں کو دی ہے وہ صاف ظاہر ہے حالانکہ اس کی وضاحت جب خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی اور نوح (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ بتا دیا تو پھر الٹے ہاتھ سے کان پکڑنے کا فائدہ ؟ اور صاف بات کو رمز میں ڈال کر کسی کی شرک کی طرف راہنمائی کا مطلب ؟ پیر صاحب اگر اس جگہ سورة ہود کی آیت 36 کا حوالہ دے دیتے تو بات بالکل صاف ہوجاتی۔