72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب اللہ کا بندہ (محمد رسول اللہ ا) اس (اللہ کو) پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں

جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں 19 ؎ ( لبدا) جمع ہے لبدۃ واحد ہے ٹھٹ کے ٹھٹ ، ہجوم ، بھیڑ ، جماعت در جماعت اور گروہ در گروہ ہے۔ آیت کے تین مفہوم بیان کیے گئے ہیں کیونکہ کا دوا کی ضمیر تین طرف لوٹائی گئی ہیں : (1) جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو لوگ گروہ در گروہ یا جماعت در جماعت آپ ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں تاکہ وہ بھی آپ ﷺ کی اتباع کریں۔ (2) جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کریں تو قریب ہے کہ مکہ کے لوگ آپ ﷺ کی طرف بڑھیں اور آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑیں کہ اس ہدایت کی شمع کو گل کردیں۔ (3) جب آپ ﷺ نخلہ کے مقام پر نماز صبح میں مصروف تھے تو ان جنوں کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ ﷺ کی طرف لپک پڑے اور قرآن کریم کی اثر انگیز تلاوت کو سن کر ان کے دلوں میں ایسی کشش پیدا ہوئی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ فرط شوق سے آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑتے کیونکہ ایسا دلنواز اور روح پرور منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا یہ محویت اور یہ استغراق ، یہ تواضع ، یہ انکسار اور اس طرح کی دلچسپی ان کے لیے بالکل ایک نئی چیز تھی ۔ لیکن پہلا اور تیسرا مطلب اگرچہ زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے لیکن اس طرح بات بنتی نظر نہیں آتی اور دوسری بات سے آیت کا مفہوم زیادہ واضح ہوتا نظر آتا ہے کہ جب مکہ کے لوگ اس اللہ کے بندہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول پاتے تھے تو ایسا لگتا ہے کہ عنقریب وہ آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑیں اور آپ ﷺ کا کام تمام کردیں اور ان کے غصہ کی حالت ان کو اس بات پر مجبور کرتی ہے لیکن وہ قریب آتے ہی تو اس طرح ٹوٹ پڑے اور ہل بول دینے کی جرأت ان میں پیدا نہیں ہوتی اور وہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں ۔ یہی بات بنتی نظر آتی ہے اور مخالفین و معاندین اس طرح کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں اور ان کے اندر کا چور ان کو کچھ کرنے نہیں دیتا ۔ بلا شبہ اس کی مثالیں احادیث میں بھی ملتی ہیں اور آگے والی آیت بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیں کہ میں تو اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

آپ ﷺ مخالفین سے کہہ دیں کہ میں تو پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اس کا شریک نہیں بناتا 20 ؎ پیغمبر اسلام ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے صاف صاف بات کہہ دیں چاہے ان کے اندر کتنے ہی بل کیوں نہ پڑیں کہ میں تو اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور اسی میں مستغر ہوں اور رہنا چاہتا ہوں اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے لیے تیار نہیں ہوں خواہ تم اس کو برداشت کرو اور خواہ برداشت نہ کرو جب تم اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک کرنے میں مصروف ہو اور میں تمہارے اس شرک کو برداشت کرتے ہوئے اپنا کام اپنے منہ دھیان کر رہا ہوں اور تم کو راہ حق کی طرف لانے کے لیے مجبور نہیں کر رہا تو تم میری حالت پر خاموش کیوں نہیں رہ سکتے۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہہ دیجئے کہ میرے اختیار میں نہ تم کو نقصان پہنچانا ہے نہ ہدایت دینا ہے

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں نہ تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں نہ تم کو ہدایت دے سکتا ہوں 21 ؎ پیغمبر اسلام ! نبی اعظم و آخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں اور نہ ہی تم کو راہ راستہ پر گامزن کرسکتا ہے کیونکہ اس طرح کے سارے اختیار تو میرے اللہ ہی کے پاس ہیں۔ کسی کو یہ ہدایت دینا یا کسی کو اپنے قانون کے مطابق ہدایت سے محروم کردینا اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لیکن قرآن کریم اس معاملہ میں جو کہتا ہے کہتا رہے ہم اس کا کہا مانیں گے تو بھی اس کو صرف زبان تک محدود رکھیں گے ہمارے دل اللہ تعالیٰ کی توحید کو کم ہی قبول کرتے ہیں ۔ غور کرو کہ آج ہماری اکثریت اس آیت کو اور مضمون پر مشتمل بیسیوں آیات کو تلاوت کرتی ہے جھوم جھوم کر پڑھتی ہے ساتھ آپ ﷺ کو دافع البلا و الوباء والقحط والمرض والا لم بھی سمجھتی ہے۔ تعجب ہے کہ اگر یہ کام آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے دوسرے ساتھیوں کو سپرد کردیئے گئے ہیں تو پھر اللہ کے پاس آخر سوائے خالی وحدت کے رہ ہی کیا گیا ہے ؟ جب جس کو جو کچھ لینا ہے وہ آپ ﷺ سے مل جائے گا تو اس کو اللہ تعالیٰ کے پکارنے کی آخر ضرورت ہی کیا رہے گی ؟ اس آیت کو بار بارپ ڑھو اس طرح آنے والی آیت کے مضمون پر بھی غور کرو اور آج کل جو خرافات لوگ بکتے ہیں ان کا بھی نگاہ میں رکھو اور اللہ تعالیٰ کی قدر اس طرح کرو جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے اور خدائی کے اختیار خالق تک محدود رہنے دو ، مخلوق میں ان کو تقسیم نہ کرو۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

( آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچانے والا نہیں اور نہ ہی میں اس کے سوا کہیں پناہ پا سکتا ہوں

آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا مجھے کوئی پناہ دینے والا نہیں 22 ؎ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ تم لوگوں کی باتوں میں آکر تم کو اپنے خاندان اور برادری کے بزرگ خیال کر کے تمہاری خوشنودی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی شرک کرنے لگوں جسا کہ تم کر رہے ہو اور میں بھی ان لوگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگوں جن کو تم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو تو تم مجھے بتائو کہ جب مجھے پکڑے اس کی پکڑ سے مجھے کون چھڑائے گا اور پھر یہ بھی کہ اگر تم سب مل کر ہاں کرلو ہم چھڑا لیں گے تو میں تمہاری اس بات کو نہیں مان سکتا اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو پکڑ لیتا ہے تو پھر کسی کی جرأت نہیں ہے کہ وہ اس کو چھڑوا لے۔ اس لیے میں اپنے رب پر اس طرح کا جھوٹ نہیں باندھ سکتا اور مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو پکڑ لے تو کوئی نہیں جو اس کو اللہ تعالیٰ کو پکڑ سے چھڑا لے اور نہ ہی میں اس کے سوا کسی دوسری جگہ سے پناہ حاصل کرسکتا ہوں۔ (ملتحدا) اسم ظرف بروزن اسم مفعول التحاد مصدر باب افتعال پناہ کی جگہ یا مصدر میمی باپ افتعال ” پناہ “ لحد اور لحدا سم ۔ زمین کے اندر بغلی گڑھا ۔ الحاد اور لحود جمع لاحادۃ گوشت کا ٹکڑا ۔ لحدبغلی قبر کو کھودنا ۔ لحد میں میت کو رکھنا اگر اس کے بعد الی مذکور ہو تو معنی ہوں گے کسی کی طرف جھکنا ۔ مائل ہونا ۔ مڑنا ۔ کن اکھیوں سے دیکھنا الحاد ( باب افعال) قبر میں لحد بنانا۔ لحد میں میت کو داخل کرنا ۔ حق سے پھرجانا ۔ لڑائی جھگڑا کرنا ۔ بےدین ہوجانا ۔ حد سے تجاوز کرنا ۔ حکم کا پاس نہ کرنا ۔ اللہ کے ساتھ شریک بنانا ۔ ظلم کرنا ۔ گراں فروشی کے لیے غلہ کا سٹاک (Stock) کرنا ۔ کسی پر عیب لگانا ۔ دروغ گوئی کرنا ۔ ( قاموس ، تاج ) الحاد ، شرک کی دو صورتیں ہیں : (1) اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات قرار دی جائیں جو شان الوہیت کے مناسب نہیں ہیں ۔ (2) اللہ تعالیٰ کی صفات کی ایسی تاویل کرنا جو نازیبا ہو دونوں کی قرآن کریم میں الحاد فی الاسماء کہا گیا ہے۔ ( راغب) زیر نظر آیت میں بھی بات آپ ﷺ ہی کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے بلکہ آپ ﷺ کو اس طرح کہنے کا حکم دیا گیا ہے اور مراد اس سے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو اس بات کی تفہیم کرانا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو پکڑ لے تو اس کی گرفت سے کوئی شخص بھی خواہ وہ کون ہو چھڑانے کی ہمت و جرأت نہیں رکھتا لیکن افسوس کہ جو بات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے واضح الفاظ میں فرما دی ہے اس میں ہم ٹانگ اڑاتے ہیں اور اس کے خلاف کو عشق قرار دیتے ہیں حالانکہ حقیقت میں اس کو شرک کہا گیا ہے اور آج بر ملا گاتے ہیں کہ ؎ پکڑے خدا تو چھڑاے محمد محمد کے پکڑے چھڑا کوئی نہیں سکتا
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

ہاں ! میرا کام اللہ کی طرف سے اس کے پیغامات پہنچانا ہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ (نافرمان) ہمیشہ رہیں گے

ہاں ! میرا کام اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچانا ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی اس کے لیے آگ ہے 23 ؎ زیر نظر آیت کا تعلق گزشتہ آیت 21 کے ساتھ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں اور نہ ہی تم میں سے کسی کو راہ راست پر لگا دینے کا اختیار رکھتا ہوں۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا کہ میرا کام فقط یہ ہے کہ میں لوگوں تک اللہ تعالیٰ کے پیغام پہنچا دوں اور وہ میں تم کو بےکم وکاست پہنچا رہا ہوں ۔ ان کو ماننا نہ ماننا ، قبول کرنا نہ کرنا ، ان کے مطابق عمل کرنا نہ کرنا تمہارا کام ہے یہ میری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں ! میں اللہ کے حکم سے یہ بات جانتا ہوں کہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے اس کے لیے اللہ نے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے اور ایسے لوگ اس آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے صرف اور صرف ایک ہی راہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس رسول کی نافرمانی سے بچے اور ان کی فرمانبرداری کا متلاشی رہے۔ وہمی مفروضوں پر زندگی گزارنے والے جب آخرت کے عذاب میں پھنس کر رہ جائیں گے تو ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہوگا اور جو تعلقات انہوں نے دنیا میں اس عوض سے قائم کیے تھے کہ آخرت میں کام آئیں وہ ایک ایک کرکے ٹوٹ جائیں گے اور ان کا کوئی سہارا اور آسرا کام نہیں دے گا ۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ اس (عذاب) کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ ہے تو اس وقت وہ جان لیں گے کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور گنتی میں بھی تھوڑے ہیں

جب وہ عذاب الٰہی کو دیکھ لیں گے تو جان لیں گے کہ کس کے مدد گار کمزور ہیں 24 ؎ جس چیز کو آج تم ماننے ہی کے لیے تیار نہیں ہو اور ہمارا رسول جب بھی آخرت کا نام لیتا ہے تم جزبز ہونے لگتے ہو کل جب تم اس سے دو چار ہو گے اور اس دن کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے تو تمہارے غبارے سے ساری ہوا خارج ہوجائے گی ۔ تم کو انکار کیوں نہیں ؟ محض اس لیے کہ تم اپنے آپ کو بڑا طاقت ور اور زور آور سمجھتے ہو۔ تمہارا یہ بھی خیال ہے کہ جب تم اپنے حلیف لوگوں کو مدد کے لیے پکارو گے تو تانتا بندھ جائے گا لیکن یہ سب تمہاری غلط فہمیاں ہیں جب عذاب کی مقرر گھڑی آپہنچے گی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے تو اس وقت تمہاری مدد کے لیے کوئی بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا تب تم کو معلوم ہوگا کہ کون بےبس اور کمزور ہے اور کس کے لشکر اور معاون و مددگار تعداد میں کم ہیں اور مدح کرنے سے قاصر ہیں۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ میں نہیں جانتا کہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا میرے رب نے اس کے لیے کوئی مدت دراز (مقرر) کر رکھی ہے

مجھے علم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور ہے 25 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ برملا اعلان کردیں کہ جس بات کا تم کو وعدہ دیا جا رہا ہے یعنی روز قیامت کا اس کے متعلق میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ اس دن کو واقع ہونا ہے اور اتنی ہی خبر میں تم کو پہنچا رہا ہوں ۔ میں نہیں جانتا کہ اسکا وقت قریب ہے یا دور ہے اور قریب ہے تو کتنا اور اگر دور ہے تو کس قدر ؟ مجھے یہ معلوم ہے کہ جس کام کے ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے بس اس کو ہونا ہے اور پھر جب اس نے اس کا وقت متعین نہیں بتایا تو اس میں انسانوں کا فائدہ ہے اس لیے مجھے اس کے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں اور اس طرح یہ بھی کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو واپس نہیں آتا اس لیے کہ اس کے لیے تو گویا اس کی قیامت آگئی اور اس طرح آنے جانے والوں کا جس طرح تانبا بندھا ہوا ہے وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ آپ کو بھی یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہاں سے لے جانے والے کو کبھی پوچھا نہیں گای کہ تمہاری رائے کیا ہے ؟ بلکہ جب اللہ تعالیٰ کا مقرر فیصلہ آجاتا ہے تو اس کے لیے اس کے جانے کا بس وہی وقت ہوتا ہے ۔ ابھی وہ مجلس میں بیٹھا فیصلے کر رہا تھا اور جو طے ہوا اس پر دستخط کرنا بھی اس کو نصیب نہ ہوا اور اس کو واپس بلا لیا گیا ۔ ان ساری باتوں اور ساری چیزوں کے باوجود اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو اس کو وقت اور تاریخ بتانے کا کیا فائدہ ؟ اور اس کی ضد کا کیا حاصل ؟ اس کے آنے پر یقین تو محض اعمال کی درستی کے لیے ہے تاکہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اور جو اعمال ہم نے کیے ہیں ان کے متعلق ہم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے جوابدہ ہیں اور اس کے لیے اس کے وقت کے متعلق معلوم ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے بلکہ جس طرح موت کا وقت کسی کو معلو وم نہیں اور اس کے باوجود موت آتی ہے اور ہم مرنے والے کو اس کے آنے کا علم ہے اگرچہ وقت کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس طرح اس سارے نظام کی موت کا نام قیامت ہے اور اس نظام کا قیام خود اس بات پر دال ہے کہ ایک روز اسکو فنا ہونا ہے اور اس فنا کا نام قیامت ہے۔ جس طرح انفرادی موت کا وقت نہ معلوم ہونے کے باوجود موت یقینی ہے اس طرح قیامت کا وقت معلوم نہ ہونے کے باوجود اس کا بپا ہوناضروری ہے۔ اس کو تسلیم کرو گے تو تمہارا اپنا فائدہ ہے اور نہیں مانو گے تو اپنا نقصان ہے میرا کام تم تکبات پہنچانا ہے اور میں نے پہنچا دی ہے اور اتنی ہی پہنچائی جتنی کہ مجھے بتائی گئی ہے ۔ مختصر یہ کہ قیامت کے آنے کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ آئے گی اور اتنی ہی بات میں نے تم کو بتا دی اس سے زیادہ جب مجھے کچھ نہیں بتایا گیا تو میں اس سے آگے تم کو کیا بتا سکتا ہوں میں تو پابند ہوں اس کا کہ جتنی بات مجھے بتائی اور سمجھائی گئی ہے میں تم کو اتنی ہی بتا اور سمجھا دوں چناچہ وہ میں نے بتا دی اور سمجھا دی ۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ (اللہ رب ذوالجلال والاکرام) عالم الغیب ہے پس وہ اپنے (اس) غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا

عالم الغیب اللہ ہے وہ اپنے غیب کو ہر کسی پر ظاہر نہیں کرتا 26 ؎ غیب کا جاننے والا اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہاں ! اللہ تعالیٰ جو بات اپنے کسی رسول اور نبی کو بتا دیتا ہے وہ نبی و رسول ﷺ اتنی بات آگے قوم تک پہنچا دیتا ہے اور غیب کی باتیں بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے کسی کو بھی خود بخود سمجھ میں نہیں آسکتیں خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو ۔ عجیب کیا ہے ؟ اس کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے جس کا اختصار اس طرح ہے کہ جو چیز انسانوں سے پوشیدہ اور مخفی ہو اور ہم اپنے حواس اور شعور کی قوتوں سے یا فراست سے یا قیاس سے یا عقل و فکر کے زور سے اس تک رسائی حاصل نہ کرسکیں اس کو غیب کہتے ہیں اور جو چیز ان ذرائع علم سے جن سے کوئی چیز جانی یا سمجھی جاتی ہے کسی ایک ذریعہ سے بھی دریافت ہو سکے وہ غیب نہیں ہے اور نہ ہی اس کو غیب کہا جاسکتا ہے اس لیے یہ بات طے ہے کہ جو کسی سے بھی مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی غیب کا جاننے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی انسان خواہ وہ کتنا ہی ذہین و فطین ہو ، اس کے علم و عرفان کا پایہ کتنا بلند ہو اس کے درجات کتنے ہی رفیع ہوں وہ غیب نہیں جان سکتا ، نہ اپنے حواس سے ، نہ قوت شعور سے ، نہ فراست سے ، نہ قیاس سے اور نہ عقل سے بجز اس کے کہ اللہ رب ذولالجلال والاکرام جو عالم الغیب ہے وہ خود اس کو اس نعمت سے سرفراز فرما دے اور یہ بھی کہ وہ ہر ایک کو نہیں بتاتا بلکہ فقط اس کو بتایا جس کو اس نے نبوت و رسالت کے لیے انتخاب کیا ہو اور جب نبوت و رسالت ختم کردی گئی تو اب کسی کے ساتھ بھی علم غیب کا رابطہ ممکن نہیں ہے ۔ ہاں ! وہ اشارات و استعارات جو قرآن کریم میں آچکے ہیں اور ان کی وضاحت کی شہادتیں میسر ہوتی رہیں تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ہی بیان کردیا ہوا ہے اگرچہ ان تک عمل رسائی آج تک کسی کو حاصل نہ ہوئی ہو اس کی وضاحت ہوتی چلی آرہی ہے اور ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی ۔ غیب کیا ہے ؟ غیب کے معنی پوشیدہونے کے ہیں ۔ غیر حاضر ہونا ۔ انسان کے علم و احساس سے بالاتر ہونا ، وہ چیزیں جو آدمی کے حسی اور عقلی رسائی سے خارج ہیں اور جن کا علم انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطلاع کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) پر آنے والی وحی ، اندرون اور باطن غیب کا استعمال قرآن کریم میں ان تمام معافی میں ہوا ہے۔ لفظ غیب پورے قرآن کریم میں بصورت نکرہ کہیں نہیں مضموم بھی آیا ہے مفتوح بھی اور مکسور بھی مگر ہر جگہ معرفہ ہے کل 57 مقامات پر غیب کا لفظ آیا ہے اور صرف ایک دو جگہ ضمیر کی طرف اضافت کی گئی ہے یعنی ( غیبہ) زیر نظر آیت میں ہے غائبۃ سورة النمل میں باقی 55 مقامات میں یا الف لام کے ساتھ آیا ہے یعنی ( الغیب) 42 بار ( الغیوب) 4 بار ( غائبین) 3 بار (غیب) 6 بار لیکن ہر جگہ اس سے ایک ہی معنی مراد نہیں ہیں اس لیے امام راغب کی تشریح کے موافق پہلے چند آیات کی تفسیری مراد بیان کردینا ضروری سمجھتے ہیں ۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ( عالم الغیب والشھادۃ) (الانعام : 73) (الحشر : 22) یعنی جن چیزوں کو تم دیکھتے اور جانتے ہو اور جن چیزوں کو نہیں جانتے ان سب کو اللہ جانتا ہے۔ ( الطلع الغیب) (مریم : 78) یعنی جو چیزیں بصر اور بصیرت کی حدود سے بالاتر ہیں اور وہاں تک کسی نظر اور تصور کی رسائی نہیں ۔ کیا اس نے ان کو جھانک کر دیکھ لیا ہے کیا ان کا علم اس کو ہوگیا ہے ؟ (لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ) (النمل : 65) جو چیزیں مخلوق کی حس اور علمی رسائی سے خارج ہیں ان کو آسمان و زمین کی کل کائنات سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتی ( ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب) ( آل عمران : 179) جو چیزیں تم پر ظاہر کرنے کی نہیں اور تمہاری نظر و فہم سے ماوراء ہیں ان پر تم کو اللہ اطلاع نہیں دے گا ۔ اس جگہ غیب کے معنی وحی کے ہیں ۔ یعنی اللہ ایسا نہیں کہ براہ راست تمہارے پاس وحی بھیج کر تم کو مطلع کردے۔ (انک انت غلام الغیوب) (المائدہ : 109) یہ حقیقت ناقابل شک ہے کہ مخلوق کی علمی رسائی سے جو چیزیں پوشیدہ ہیں ان سے تو ہی بخوبی واقف ہے ( وعندہ مفاتح الغیب) (الانعام : 59) جو کائنات کے راز سر پستہ ہیں اور مخلق کا علم وہاں تک نہیں پہنچ سکتا اللہ ہی کے پاس ان کے کھولنے کی کنجیاں ہیں اور ( لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ) (النمل : 27 : 65) کا مطلب بھی یہی ہے (رجما بالغیب) ( الکہف : 23) بےجانے ، بن دیکھے وہ تیر چلالے تھے (یومنون بالغیب) (البقرہ 2 : 2) جن چیزوں کا علم بغیر وحی کے حاصل نہیں ہو سکتا ، حس اور ہدایت عقلی کی رسائی وہاں تک نہیں ہو سکتی اور انبیاء کرام (علیہ السلام) وحی کے ذریعہ سے ان کی اطلاع دیتے ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات ، قیامت ، حشر و نشر ، جنت و دوزخ وغیرہ ان کو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بتانے سے وہ مانتے اور یقین رکھتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جب وہ مسلمان سے الگ ہوتے ہیں تو کسی کے سامنے نہیں ہوتے اس وقت بھی وہ مومن ہی ہوتے ہیں گویا کہ ان کا ایمان مخلصانہ ہے دکھاوے کا نہیں ہے ( الذین بخشون ربھم بالغیب) ( الانبیاء : 49) وہ جو تنہائی میں اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ( للہ غیب السموات والارض (ھود 11 : 123) آسمان و زمین میں جو چیزیں تم سے پوشیدہ ہیں اللہ تعالیٰ ہی کو ان کا علم ہے یا اللہ تعالیٰ ہی ان کا خالق ، مالک اور منصرف ہے ( حافظات بالغیب) ( النساء : 33) شوہروں کی غیبت میں اپنی عزت اور ان کے مالوں کی حفاظت رکھتی ہیں یا غیب سے مراد ہیں وہ اعضاء جن کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنا ممنوع ہے۔ ( من یخافہ بالغیب) المائدہ : 93) جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے ( لم اخنہ بالغیب) ( یوسف : 52) میں نے اس کی غیر حاضری میں اس کی امانت میں خیانت نہیں کی ( فلا یظھر علی غیبہ احدا) ( الجن : 27) اللہ تعالیٰ اپنی وحی کی اطلاع سوائے رسولوں کے کسی کو نہیں دیتا۔ ( وما ھو عل الغیب بضنین) (التکویر : 24) اللہ تعالیٰ کا رسول وحی کے معاملہ میں بخل نہیں کرتا یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی چھپا کر نہیں رکھتا ، ضرور پہنچاتا ہے۔ ( ذلک من انباء الغیب) آل عمران : 34) گزشتہ خبریں جو تمہارے زمانہ میں نہیں تھیں اور نہ ہی تم کو معلوم تھیں یہ خبر انہیں میں سے ہے ( وما کنا للغیب حافظین) (یوسف : 61) ہم غیبی مصیبت سے بچا نہیں سکتے تھے یا ہم کو آنے والے چھپی بات کو علم نہیں تھا۔ مذکورہ آیات سے جن کے حوالہ جات اوپر نقل کیے گئے ہیں جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ غیب کا استعمال پانچ معانی کے لیے ہوا ہے۔ (1) غیب وہ چیز ہے جہاں تک احساس اور ہدایت عقل کی رسائی نہ ہو سکے اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطلاع کے بغیر اس کا علم ہونا ممکن نہ ہو۔ ( 2) تنہائی کے وقت لوگوں سے الگ ہو کر ( 3) وحی (4) بعض گزشتہ واقعات (5) آئندہ واقعات ۔ ان معافی کے علاوہ اگر کسی آیت میں استعمال ہوا ہے تو خفیف غور کرنے کے بعد اس کو انہیں معافی کی طرف لوٹایا جاسکتا ہے کوئی جدید نوع پیدا نہیں ہو سکتی اور ان کی مزید وضاحت کے لیے عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 3 ، 33 جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 179 ، سورة النساء کی آیت 34 ، جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 94 ، 109 ، 116 ، سورة الانعام کی آیت 73 ، سورة الاعراف کی آیت 188 جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 94 ، 105 سورة یونس کی آیت 20 ، سورة ہود کی آیت 31 ، 49 ، 123 ، سورة یوسف کی آیت 81 ، 102 سورة الرعد کی آیت 9 ، جلد پنجم سورة النحل کی آیت 77 ، سورة الکہف کی آیت 22 ، 26 سورة مریم کی آیت 78 ، جلد ششم سورت الانبیاء کی آیت 49 ، سورة المؤمنون کی آیت 92 ، جلد ہفتم میں سورة النحل کی آیت 65 ، 77 ، سورة السجدہ کی آیت 6 ، سورة سبا کی آیت 14 ، 53 سورة فاطر کی آیت 18 ، 38 سورة یٰسین کی آیت 11 ، سورة الزمر کی آیت 46 ، جلد ہشتم سورة الحجرات کی آیت 18 ، سورة ق کی آیت 33 ، سورة الطور کی آیت 41 سورة النجم کی آیت 35 جلد ہذا سورة الحدید کی آیت 25 ، سورة الحشر کی آیت 22 ، سورة الجمعہ کی آیت 28 سورة التغابن کی آیت 18 ، سورة الملک کی آیت 12 ، سورة القلم کی آیت 48 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر ہاں ! جس کو رسالت کے لیے پسند کرلیتا تھا تو اس کے آگے اور پیچھے محافظ (فرشتے) مقرر کردیتا تھا (جب تک نبوت جاری تھی)

مگر ہاں ! جس کو وہ رسالت کے لیے پسند کرتا ہے اس پر کچھ ظاہر کردیتا ہے 27 ؎ یاد رہے کہ جس بات کے متعلق کسی کو آگاہ کردیا جو بات کسی پر ظاہر کردی جائے اور اس طرح پہلے ایک بات کا علم نہ رکھنے والا جب آگاہ ہونے کے بعد اس سے واقف ہوجائے ، اس کو جان جائے تو اس کو غیب نہیں کہتے اور نہ غیب میں سے اس کو مستثنیٰ کیا گیا ہے ۔ استثنیٰ جو اس میں کی گئی ہے وہ محض غیب کے ظاہر کرنے میں کی گئی ہے لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس میں دھوکہ دہی سے کام لیا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا مگر اللہ کے رسول حالانکہ یہ بات بالکل غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے کسی کو نہیں مطلع کرتا مگر ہاں اپنے رسولوں کو یعنی اپنے رسولوں کے سوا ہر ایک آدمی کو غیب کی اطلاع نہیں دیتا گویا استثنیٰ اطلاع کرنے سے ہے نہ کہ غیب سے ۔ غیب کے متعلق جب وہ اپنے رسولوں کو جتنا چاہتا ہے بتا دیتا ہے اور اس کے بتانے سے جو بات رسول جان جاتے تھے وہ غیب کو جاننا نہیں تھا بلکہ غیب سے اطلاع پانا تھا اور اس طرح جو غیب رسولوں کو دیا گیا یعنی جتنے غیب سے رسولوں کو مطلع کیا گیا رسولوں نے مطلع ہو کر اپنی اپنی امتوں کو اطلاع دے دی اور اس طرح جو باتیں بنائی گئیں وہ نہ رسول کے لیے غیب رہیں اور نہ امت کے لوگوں کے جان لینے کے بعد ان کے غیب رہیں ۔ بات بالکل صاف تھی لیکن اس کو خواہ مخواہ مبہم اور غیر واضح بنا دیا گیا اور اس طرح لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کردیا گیا کہ رسول کیوں غیب نہیں جانتے تھے وہ تو ہر طرح کے غیوب سے واقف تھے اور ما کان وما یکون کی کوئی چیز آپ ﷺ سے پوشیدہ نہیں تھی ۔ سواد اعظم کے ایک حضرت العلام رقمطراز ہیں آپ ان کی ہی زبانی سیں ۔ وہابی :۔ اللہ تعالیٰ نے قرٓن کریم میں فرمایا ہے اور آپ ﷺ کی زبان پاک سے کہلوایا ہے کہ قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت نیکی جمع کرلیتا اور مجھے برائی نہ مس کرتی ۔ سنیئے۔ وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِوَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُج اِنْ اَنَا اِلاَّ نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (الاعراف : 9 : 23) اگر میں غیب جانتا تو کثرت خیر طلب کرتا اور مجھے برائی نہ مس کرتی ۔ میں ایمانداروں کے واسطے بشیر و نذیر کے سوا کچھ نہںَ ۔ محمد عمر :۔ اس آیت کا ما قبل آپ نے چھوڑ دیا (یسئلونک کانک حقی عنھا قل انما علمھا عند اللہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون قل لا املک لنفی لفعا ولا ضرا الا ما شاء اللہ ولو کنت اعلم الغیب لا ستکثرت من الخیر وما مسنی السوء ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یومنون ) ” آپ سے سوال کرتے ہیں ( یا رسول اللہ ! قیامت کے متعلق) گویا کہ آپ ﷺ بحث کرنے والے ہیں اس سے فریاددیجئے اور کوئی بات نہیں اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ فرما دیجئے میں اپنے نفس کے واسطے نفع کے لحاظ سے اور نہ نقصان کے لحاظ سے مالک ہوں ۔ مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا تو کثرت خیر طلب کرتا اور مجھے بائی نہ مس کرتی ۔ نہیں ہوں میں ( معمولی آدمی) مگر ڈرانے والا اور مبارک دینے والا میں ہی ہوں ایماندار قوم کے لیے “۔ اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے متعلق بحث و تمحیص کا ذکر فرمایا ہے کہ آپ ﷺ سے یہ لوگ قیامت کا حال ایسے دریافت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اس سے جھگڑے میں پڑجائیں ۔ تو اللہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ اس جھگڑا میں مشغول نہ ہویئے۔ بلکہ فرما دیجئے قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے پاس ہے اور کسی کو اس نے سمجھایا جتایا نہیں ۔ علم نفی ہے نہ تعلم کی ۔ کیونکہ آگے ارشاد الٰہی مذکور ہے ( ولکن اکثر الناس الا یعلمون) ( لیکن اکثر لوگ ( قیامت سے) بیخبر ہیں) اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے اکثریت کے بےعلمی قیامت سے ثابت کی ہے۔ جس سے اقلیت کو علم عطائی ثابت ہوتا ہے ۔ جس کا اللہ نے اس آیت میں انکار نہیں فرمایا بلکہ نبی ﷺ کو اپنی ذات کے نفع اور نقصان کے متعلق مشیت ایزدی کے ماتحت رکھا ۔ اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کے ارادے کے سوا اپنے نفس کے واسطے میں نفع و نقصان کا مالک نہیں کیونکہ اگر نفع اور نقصان کی تملیک اپنے نفس کی طرف منسو بےفرماتے تو ہو سکتا تھا کہ آپ ﷺ غیر کے نفع کے واسطے اپنی ذات کو نقصان پہنچاتے لیکن جب اپنے نفس کے نفع و نقصان کو مشیت ایزدی کے ماتحت رکھا تو یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ محب اپنے محبوب کے ہر حال نفع کا خواہاں ہے اور نقصان سے ( واللہ یعصمک من الناس) فرما کر محفوظ فرمایا ہے۔ یہی وجہ تھی ( قل لا املک لنفسی نفعا ولا ضرا الا ماشاء اللہ) فرماتے کہ جب میرا محبوب اپنے نفع و نقصان کو میری مشیت کے ماتحت اپنی زبان پاک سے کر دے گا تو آپ ﷺ کی ذات کو کسی قسم کے نقصان کا امکان ہی نہ رہے گا ۔ وہ منافقین کی نظر میں آپ ﷺ کی ذات کے واسطے ظاہراً نقصان دکھائی دے گا ۔ لیکن میری مشیت میں وہ ہر صورت نفع ہی نفع ہوگا ۔ چناچہ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا دیا ۔ اگر بقول کسے آپ ﷺ کو نقصان ہو سکتا ہے اور آپ ﷺ نقصان دور کرنے کے اہل نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللعالمین ہونے کے قائل نہیں کیونکہ رحمت اور زحمت کا اجتماع ایک ذات میں حال ہے اسی واسطے اجتماع نقضیین محال ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کے نقصان کے قائل کی مثال یوں سمجھئے جیسا ایک شخص ایک ہی وقت میں دن کا بھی قائل ہو اور اسی دن کو رات بھی سمجھے۔ لہٰذا مذکورہ بالا آیت سے آپ ﷺ کی ذات کے واسطے مشیت الٰہی نفع ہی نفع ثابت ہوتا ہے۔ جس سے یہ امر بھی عیاں ہے کہ جب آپ ﷺ کو اللہ کے ارادے سے محض نفع ہی ہے تو آپ ﷺ اپنے متبعین کے واسطے نقصان کے کیسے خواہاں ہو سکتے ہیں ۔ یہ ہے اس آیت کا مطلب جس کے متعلق نبی ﷺ کے مخالفین مطلب کو الٹا بنا کر آپ ﷺ کی توہین کرتے ہیں ۔ اتقوا اللہ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( ولوکنت اعلم الغیب لا ستکثرت من الخیر ما مسنی السوء) اس عبارت مذکورہ میں شرط ہے اس واسطے یہ جملہ شرطیہ ہے۔ (لو کنت اعلم الغیب) شرط ہے ( لا سنکثرت من الخیر) جزائے اول ( ما مسنی السوء) جزاء ثانی ہے۔ وجود شرط جزا کے وجود کو مستلزم ہے اور انتقا شرط جزا کے انتقاء کو مستلزم ہے اور جزا کا خارج میں مثبت ہونا مستلزم ہے کہ شرط بھی ثابت و موجود ہو ۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : ( لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا ) اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتا تو یہ زمین و آسمان اجڑ جاتے ۔ “ اس میں ( لفسدتا) جزا ہے اور ( لو کان فیھا الۃ الا اللہ) شرط ہے ۔ جب زمین و آسمان اجڑے نہیں بلکہ قائم ہیں تو صرف اللہ ہی کا معبود ہونا ثابت ہوگیا ۔ ثابت ہوا کہ انتقاء فساد انتقاء شریک باری کو مسلزم ہے ۔ ایسے ہی آپ اس آیت کو دیکھ لیجئے کہ اگر نبی ﷺ نے کثرت خیر جمع نہیں فرمائی اور برائی نے بھی مس کیا ہے تو آپ ﷺ غیب نہیں جانتے اور اگر آپ ﷺ کے اسطے خیر کثیر خارج میں موجود ہے اور آپ ﷺ کو سوء کا مس کرنا بھی محال ہے کیونکہ زحمت رئوف اور رحیم کی نقیض ہے لہٰذا آپ ﷺ کو علم غیب کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اب یہ فیصلہ دو جزائوں کے اثبات کا اللہ پر موقوف ہے۔ ایک صاحب رقمطراز ہیں کہ ” حضور کے علم انواع میں کلیات ، جزئیات ، حقائق و دقائق عوارف اور معارف کہ ذات وصفات الٰہی کے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں سے ایک نہر ہے پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت سے تو ہے۔ حضور کا علم و حلم تمام جہاں کو محیط ہے “۔ (خالص الاعتقاد بریلوی ص 38) ” نبی پاک ﷺ سے عالم کی کوئی شے پردہ میں نہیں یہ روح پاک عرش اور اس کی بلندی و پستی ، دنیا و آخرت ، جنت و دوزخ سب پر مطلع ہے کیونکہ یہ سب اسی ذات جامع کمالات کے لیے پیدا کی گئی ہیں “۔ ( الدولۃ المکیۃ ص 210) ” ماضی حال ، مستقبل میں کوئی شے کسی حال میں ہو حضور ﷺ سے مخفی نہیں ہے “۔ (تسکین الخواطر احمد سعید کا ظمی ص 65) ” صحابہ کرام ؓ کے ساتھ حکم لگاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو غیب کا علم ہے “۔ ( خالص الاعتقاد ص 28) معلوم رہے کہ یہ مشتے از خروارے نہیں بلکہ حبہ از خروارے ہے جو محض اس لیے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور لوگوں کے اعتقاد کی آپ کے سامنے واضاحت ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد کیا ہے اور لوگ تسکین کس طرح حاصل کرتے ہیں ۔ اس بیان سے ہمارا مقصود کیا ہے ؟ فقط یہ کہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ کسی شخص کو جو بھی سکھا دیا جائے ، سمجھا دیا جائے ، بتا دیا جائے ، خواہ وہ کتنا ہو ، خواہ ہم اس کا احاطہ کرسکیں ، خواہ احاطہ نہ کرسکیں اس کو قطعا ً اس کے لیے جس کو سکھایا گیا ، سمجھایا گیا وہ قطعاً غیب نہیں ہے۔ غیب جاننے سے مراد ہی یہ ہے کہ جاننے والا خود بخود جانتا ہے نہ کہ کسی دوسری ذات کی طرف سے اس کو علم دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی طرف سے علم نہیں دیا گیا بلکہ وہ بذاتہٖ اس کو جانتا ہے اور انبیاء و رسل (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا ہے ہم اس کو پابند کرنے کے لیے اس کا کوئی معیار مقرر نہیں کرتے کہ وہ کتنا دیا گیا بلکہ یہی کہتے ہیں کہ جتنا بھی دیا گیا وہ علم الٰہی کے خزانوں میں سے چند ہی قطرے ہیں جو رب کریم و رحیم نے اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ کو عنایت فرمائے ہیں لیکن کوئی غیر نبی اس کا احاطہ بھی نہیں کرسکتا کہ یہ بحث بالکل فضول ہے کہ آپ کو علم کتنا دیا گیا ؟ سمجھنے کی اور یادرکھنے کی بات صرف اور صرف اتنی ہے کہ جو بین آپ کو دیا گیا وہ غیب نہ رہا ، غیب فقط اس وقت تھا جب تک وہ آپ کو دیا نہیں گیا تھا۔ فرمایا جب نبی و رسول کو ہم جتنا علم شرعی و تکوینی عطا کرتے ہیں اور وہ جان لیتا ہے تو چونکہ ہر نبی و رسول انسان ہوتا ہے لہٰذا ہم اس کے لیے ایک خصوصی انتظام کردیتے تھے جو صرف اور صرف انبیاء و رسل (علیہ السلام) ہی کے لیے تھا کہ ان کے آگے پیچھے ، دائیں ، بائیں اور اوپر نیچے خاص نگہبان مقرر کردیئے جاتے تھے تاکہ وہ بشری کمزوریوں سے ان کو محفوظ رکھیں اور یہ انتظام اس مکہ نبوت کے تحت جو مکہ نبوت و رسالت ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جاتا تھا تاکہ ان علوم کی پوری طرح حفاظت ہوتی رہے اور لاریب وہی کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے کرنا چاہا تھا