72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ ظاہر کر دے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے اور اس نے ان کی تمام باتوں پر احاطہ کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے

تا کہ وہ ظاہر کر دے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے 28 ؎ یہ انتظامات جو خصوصی انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کے لیے کیا گیا وہ کیوں کیا گیا اور کیسے کیا گیا ؟ فرمایا اس لیے تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو لوگوں پر اچھی طرح ظاہر کر دے اور سب پر واضح ہوجائے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ ان کی امتوں تک پہنچایا وہ ان کو من و عن پہنچا دیا گیا گویا انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کی ذمہ داری پوری ہوگئی اور اس کی تصدیق ہوگئی کیونکہ قوموں نے اس بات کی تصدیق کردی خواہ اس کو قبول کر کے کی اور خواہ جھٹلا کر کی کیونکہ دونوں صورتوں میں پیغام کا پہنچانا ثابت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر حجت قائم ہوگئی ۔ اپنے نبیوں اور رسولوں کے حالات و واقعات تو پہلے ہی اس کے احاطہ قدرت میں ہیں اور ان کی ہرچیز اور حرکت سے وہ واقف ہے جیسا کہ سب حال سے وہ آگاہ اور واقف ہے اور ان کی ایک ایک حرکت کو اس نے ریکارڈ کرلیا ہے اور اس طرح کائنات ارضی و سماوی کی ایک ایک چیز کو بھی اس نے گنتی میں محفوظ رکھا ہے اور کوئی چیز اس کے حاطہ قدرت سے باہر نہیں ہے اور ہر ایک چیز کی گنتی اس کے ہاں محفوظ ہے اگرچہ وہ انسانوں کی طرح ایک ایک چیز کو شمار کرکے گنتی پوری نہیں کرتا بلکہ اس کے احاطہ علم میں پہلے ہی موجود ہے سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العزۃ والعظمۃ والھیبۃ والکبریاء والجبرون ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ بحمد للہ اسی مضمون پر ہم اس سورة مبارکہ کو ختم کر رہے ہیں۔ جن اور جان کی تحقیق کہ وہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام اضداد پر قائم کیا ہے اور مخلوق میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنی ضد نہ رکھتی ہو بلکہ ضد ہی سے ہر ایک چیز کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے۔ خیر تب ہی خیر ہے جب اس کے مقابلہ میں شر موجود ہے اور ظاہر ہے کہ خیر و شر دونوں آپس میں ضد ہیں ۔ ایک کے ختم ہونے سے دوسری کا وجود خود بخود ختم ہوجاتا ہے ۔ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ضد سے پاک ہے گویا جو ضد سے مستثنیٰ ہے وہ فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کہ لا لہ ضد ولالہ مد۔ اس اصول کے مطابق جن ملائکہ کی ضد ہے جس طرح ملائکہ مجسمہ خیر و بھلائی ہیں ، ان کے مقابلے میں ان کی ضد جنات مجسمہ برائی اور شر ہیں لیکن چونکہ جن کے لفظی معنی سترالشئی عن الحاسۃ کسی چیز کے مخفی اور پوشیدہ ہونے کے ہیں اس لیے لفظ جن کا اطلاق ہر اس مخلوق پر ہوتا ہے جو چھپ کر رہتی ہے ، کبھی ظاہر ہوتی ہے اور کبھی پوشیدہ ہوتی ہیں ۔ گویا جن ایک مخلوق تو وہ ہے جو ملائکہ کی ضد ہے اور جن کہلاتی ہے اور ملائکہ کا تصور تب ہی قائم رہ سکتا ہے جب اس کے مقابلہ اور ضد میں جن کا تصور موجود ہے کسی ایک کے تصور کو ختم کرنے سے دوسرے کا وجود خود بخود ختم ہوجائے گا اور ایک کے وجود کو ماننے اور تسلیم کرنے سے دوسرے کا ماننا اور تسلیم کرنا لازم آتا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس عالم دنیا کا وجود اضداد پر قائم ہے گویا امرت ہے تو زہر کا ہونا لازم و ضروری ہے اور زہر ہے تو امرت کا ہونا لازم و ضروری ہے۔ ملائکہ کا پیدا کرنا اگر کمال ہے تو شیطان اور جنات کا پیدا کرنا بھی یقینا کمال ہے گویا ملائکہ وہ غیر مرئی مخلوق ہے جو سراسر و بھلائی ہے جس سے برائی کا سر زد ہونا ممکن ہی نہیں ہے اور ملائکہ کے مقابلہ اور ضد میں جو مخلوق اللہ تعالیٰ نے سراسر براء اور شر پیدا کی ہے اس کا نام جن ہے اگرچہ لفظ جن کا اطلاق علاوہ ازیں بھی بیشمار مخلوق پر کیا جاتا ہے جس کی مثالیں کتاب و سنت میں کثرت سے موجود ہیں۔ جن کا اطلاق چونکہ ان گنت اور بیشمار مخلوق پر کیا جاتا ہے اس لیے جہلاء جونہی جن کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد ملائکہ کی ضدمخلوق جن سمجھنے لگتے ہیں ۔ اس لیے بات بات پر ان کو اشتباہ ہوتا ہے اور ان کے ذہن میں لفظ جنکی وسعت نہیں آتی اس لیے وہ طرح طرح کی غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ ملائکہ کی تخلیق چونکہ نور سے متصور ہے اس لیے ان کی ضد والے جن کو آگ سے تصور کیا گیا ہے اور یہی تصور قرآن کریم نے پیش کیا ہے اور ملائکہ کی ضد والے جن یا شیطان یا ابلیس کو آگ سے پیدا شدہ بتایا ہے لیکن ہر جن کو نہیں بلکہ صرف اس جن شیطان یا ابلیس کو جو ملائکہ کی ضد ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ ہر جن ملائکہ کی ضد نہیں ہے اس لیے ہر جن آگ سے بھی نہیں ہے۔ رہا انسان تو وہ کبھی معصیت کی طرف مائل ہوتا ہے اور کبھی اطاعت کی طرف ، ایسا کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ اس کی ترکیب ان بہت سی چیزوں سے ہے جو باہم مختلف اور متضاد ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان میں حرارت و برودت ، رطوبت و یبوست کے آثار ہوتے ہیں اور انہیں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جسم انسانی مختلف اور متضاد عناصر سے مرکب ہے ورنہ شے واحد سے دو مختلف کیفیتیں پیدا ہونا محال ہے۔ پس ضروری ہے کہ ہر ایک کے لیے جدا جدا مخزن اور علیحدہ علیحدہ معمدن ہو اس لیے غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بلا شبہ انسان میں حرارت کا مخزن کرہ نار ہے اور رطوبت کا معمدن کرہ ہوا ہے اور یبوست و برودتکا منبع کرہ زمین اور طبقہ آب اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ انسان مجموعہ خیر و شر ہے۔ گویا اس کے اندر اوپر ذکر کردہ دونوں قوتیں بھی جمع کردی گئی ہیں ۔ قوت ملکوتی بھی اور قوت جن و شیطان بھی ۔ اسی وجہ سے انسان کبھی طاعت اور کبھی معصیت کی طرف مائل ہوتا ہے گویا روح انسانی کی ترکیب ایسی دو چیزوں سے ہے جو ہم مختلف اور متضاد ہیں ورنہ ایک شے سے طاعت اور معصیت کا پیدا ہونا ایسا ہی محال ہے جیسا کہ ایک عنصر سے حرارت اور برودت کا پیدا ہونا محال اور ناممکن ہے ۔ پس ضروری ہے کہ طاعت کا مخزن علیحدہ ہو اور معصیت کا معمدن جدا ہو ۔ ہم اہل اسلام معصیت اور کفر کو جن و شیطان کہتے ہیں اور مخزن طاعت و ایمان اور فرمانبرداری کو منبع ملکوتی قرار دیتے ہیں ۔ ملائکہ کا اقتضاء طبع طاعت الٰہی ہے جیسا کہ خود رب ذوالجلال والاکرام نے ارشاد فرمایا ہے کہ : ( لا یعصون اللہ ما امرھم و یفعلون ما یومرون) (66 : 6) اور شیطان و جن کا طبعی اقتضاء کفر اور معصیت ہے ۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ( وکان الشیطان لربہ کفورا ) (17 : 27) اور ظاہر ہے کہ جنس انسان ہی مکلف ہے اور اس کو مکلف ہونا چاہیے کیونکہ وہ متضاد طاقتوں کا مجموعہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ جو ” جن “ مکلف ہے اس کا تعلق حقیقت میں جنس انسانی ہی سے ہو اور اس پر لفظ جن کا اطلاق اس لیے کرتا ہے کہ اس میں نافرمانی کا عنصر زیادہ ہے اور اس کا قابو میں لانا بنسبت دوسرے انسانوں کے زیادہ مشکل ہے۔ جو جن و شیطان مجسمہ برائی اور شر محض ہے وہ ہرگز ہرگز مکلف نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ملائکہ کا متضاد ہے اور اس میں خیر نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے جیسا کہ ملائکہ میں شر نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور یہی وہ تصور ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ چونکہ لفظ ” جن “ اطلاق بہت سی دوسری مخلوقات پر بھی ہوتا ہے اس لیے اکثر لوگ اس میں امتیاز نہیں کرتے کہ یہاں کون سے جن مراد ہیں ؟ کیا وہ جن جو متضاد ملائکہ ہیں یا کوئی دوسرا جن جس کا تعلق کسی اور مخلوق سے ہے ؟ کیا اس سے مراد وہ مکلف جن ہے یا کوئی دوسرا جن جو غیر مکلف ہے ؟ رہی یہ بات کہ وہ جن جو متضاد ملائکہ ہے اس کے علاوہ وہ کونسی مخلوق ہے جس پر ” جن “ کا اطلاق ہوتا ہے تو اس کے متعلق سمجھ لینا چاہیے کہ ( ویقال للنملۃ والحیۃ وسائر اصحاب جحرو مواشی بلدو حوش بروبحر وطیور ھوآء کل جن لا ختفآء بسرعۃ واحتمالثقل وقد قال الرسول ﷺ لا یبولن احد کم فی جحرفانھا مساکن الجن وقال لا تستنجوا بروث ولابعظم فانہ زاد اخوانکم من الجن وقال اذا کان جنح اللیل فکفوا صبیانکم فان للجن انتشار او قال لا تصلوا فی معاطن الا بل فانھا خلقت من الشیاطین) (بخاری ، مسلم ، ابو دائود ، نسائی) ” کیڑوں مکوڑوں ، چیونٹیوں ، بھٹوں اور بلوں میں رہنے والے حشرات الارض پر ، دیہاتوں شہروں میں رہنے والے پالتو جانوروں اور بری و بحری وحشی جانوروں ، ہوا میں اڑنے والے سارے پرندوں سب پر جن کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی تم میں سے کسی بل اور بھٹ میں پیشاب نہ کے کہ وہ جنوں کا گھر ہیں اور کوئی تم میں سے لید و گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجاء پاک نہ کرے کہ یہ تمہاری بھائی جنوں کی خوراک ہیں اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رات آنے لگے تو اپنے بچوں کو گھروں میں روک رکھو باہر گلیوں کو چوں میں مت جانے دو کیونکہ یہ جنوں کے چلنے پھرنے کا وقت ہے اور گائوں اور شہر سے جو جانور چرنے کے لیے صبح کے وقت جاتے ہیں ان کے آنے کا ورقت ہے اور وہ جب گھروں کو واپس آئیں گے تو دوڑتے بھاگتے آئیں گے جس سے نقصان کا احتمال ہے اس طرح آپ ﷺ نے فرمایا کہ اونٹوں کے باڑوں میں نماز مت پڑھو کیونکہ وہ جن و شیطان ہی کی طرح پیدا کیے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر ان احادیث کی وضاحت کی جائے تو اس کے لیے بیسیوں صفحات کی ضرورت ہے جن کی گجائش ہمارے پاس موجود نہیں ہے اس لیے ہم فقط اشارات پر اکتفا کر رہے ہیں ۔ ان اشارات کی وضاحت آپ خود تفسیر عروۃ الوثقیٰ ، میں تلاش کرسکتے ہیں ۔ اس جگہ ہم آپ رہنمائی کے لیے صرف ان آیات کریمات پر اکتفا کرتے ہیں جن میں لفظ ” جن “ کا اطلاق ہوتا ہے اور ان سے مرادہی جنات ہیں جو مکلف ہیں اور جن کا تعلق جنس انسان سے ہے اور انسانوں سے ان کا میل جول ہے اگرچہ وہ مدنی زندگی کو آج بھی پسند نہیں کرتے بلکہ بدوی زندگی کو مدنی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو مدنی زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود برائی اور شر کا عنصر ان میں بہت زیادہ ہے اور وہ فسق و فجور کو خیر اور نیکی کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ ان آیات کریمات کو بغور پڑھو اور ان کا مفہوم سمجھنے کے لیے محولہ حوالوں کی آیات کو نکال کر ان کی تفسیر عروۃ الوثقیٰ ، سے ملاحظہ کرو۔ الجن کے لیے درج ذیل ملاحظہ کریں جن میں جن کو مکلف قرار دیا گیا ہے (1) وَجَعَلُوْا ِﷲِ شُرَکَآئَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَبَنٰتٍم بِغَیْرِ عِلْمٍط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ (الانعام : 6 : 100) (2) وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاط وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ (الانعام : 6 : 112) (3) وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاج یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِج وَقَالَ اَوْلِیٰـٓـئُـھُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَـآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجَّلْتَ لَنَاط قَالَ النَّارُ مَثْوٰکُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اِلاَّ مَا شَآئَ اللہ ُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ (الانعام : 6 : 128) (4) یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ہٰذَاط قَالُوْا شَہِدْنَا عَلٰٓی اَنْفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ (الانعام : 6 : 130) (5) قَالَ ادْخُلُوْا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّارِط کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَہَاط حَتّٰی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْہَا جَمِیْعًالا قَالَتْ اُخْرٰہُمْ لِاُوْلٰـہُمْ رَبَّنَا ہٰٓـؤُلَآئِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِہِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِط قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰـکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ (الاعراف : 7 : 38) (6) وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِصلے لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَاط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ (الاعراف : 7 : 179) (7) قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا (الاسراء : 17 : 88) (8) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْآ اِلَّآ اِبْلِیْسَط کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہِط اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّط بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا (الکہف : 18 : 50) (9) وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ (10) قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَج وَاِنِّیْ عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ (النمل : 28 : 39) (11) وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌج وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِط وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖط وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ (سباء : 34 : 21) (12) فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗج فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ (سبا 34 : 14) (13) قَالُوْا سُبْحٰنَکَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِہِمْج بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّج اَکْثَرُہُمْ بِہِمْ مُّؤْمِنُوْنَ (سباء : 4 : 41) (14) وَقَیَّضْنَا لَھُمْ قُرَنَـآئَ فَزَیَّنُوْا لَھُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَحَقَّ عَلَیْھِمُ الْقَوْلُ فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِج اِنَّھُمْ کَانُوْا خٰسِرِیْنَ (فصلت : 41 : 25) (15) وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا رَبَّنَآ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْہُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَکُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ (فصلت : 41 : 29) (16) وَ اِذْ صَرَفْنَـآ اِلَیْکَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَج فَلَمَّا حَضَرُوْہُ قَالُوْآ اَنْصِتُوْاج فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِہِمْ مُّنْذِرِیْنَ (الاحقاف : 46 : 29) (18) ( وما خلقت الجن والانس لا لیعبدون ) (الذریات 52 : 56) (19) یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاََرْضِ فَانْفُذُوْاط لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ (الرحمن : 55 : 33) (20) قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّہُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا (الجن : 72 : 1) (21) وَّ اَنَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللہ ِ کَذِبًا (الجن : 72 : 5) (22) وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا (الجن : 72 : 6) الجان کے لیے درج ذیل آیات ملاحظہ کریں (1) والجان خلقناہ من قبل من نار السموم) الحجر 15 : 27) (2) وخلق الجان من مارج من نار ) (الرحمن : 55 : 15) جان بمعنی سانپ کے لیے درج ذیل آیات ملاحظہ کریں (1) فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْط یٰمُوْسٰٓی لَا تَخَفْقف اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ (النمل : 27 : 10) (2) وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَط فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْط یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلاَ تَخَفْقف اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ (القصص : 28 : 31) جان بمعنی جن کے لیے ملاحظہ کریں جو مکلف ہے (1) فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُسَئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنِسٌ وَّلَا جَآنٌّ (الرحمن : 55 : 39) (2) فِیْہِنَّ قٰـصِرٰتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَآنٌّ (الرحمن : 55 : 56) (3) لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وََلَا جَآنٌّ (الرحمن : 55 : 74) الجنہ معنی جن کے لیے ملاحظہ کریں جو مکلف ہیں (1) وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَط وَلِذٰلِکَ خَلَقَہُمْط وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (ھود 11 : 118 ، 119) (2) ولو شئنا لا تینا کل نفس ھدھا ولکن حق القول منی لا ملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین) (السجدۃ : 32 : 13) (3 ، 4) وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًاط وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ (الصافات : 37 : 158) (5) من الجنۃ والناس) (الناس (114 : 6) ابلیس کے لیے درج ذیل آیات ملاحظہ کریں اور اس کی دونوں حیثیتوں کو الگ الگ کریں (1) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلآَّ اِبْلِیْسَط اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ (البقرہ : 2 : 34) (2) وَلَقَدْ خَلَقْنٰـکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰـکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَط لَمْ یَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (الاعراف : 7 : 11) (3) الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین) (الحجر 15 : 31) (4) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْآ اِلآَّ اِبْلِیْسَط قَالَ ئَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاج (بنی اسرائیل : 17 : 61) (5) وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓـئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْآ اِلَّآ اِبْلِیْسَط کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہِط اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِآ 1ِئَ مِنْ دُوْنِیْ وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّط بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا (الکہف : 18 : 50) (6) واذا قلنا للممئکۃ اسجدو الادم فسجدوا الابلیس ابی ) (طہ : 20 : 116) (7) فکبکبوا یھا ھم والغاو ون وجنود ابلس اجمعون (الشعراء : 26 : 94 ، 95) (8) ولقد صدق علیھم ابلیس طنہ فتبعوہ الا فریقا ً من المومنین (سبا : 34 : 20) (9) فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون الا ابلیس استکبرو کان من الکفرین (ص 38 : 73 ، 74) قرآن کریم میں آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل ابلیس کا کردار قرآن کریم میں جگہ جگہ آدم (علیہ السلام) کے ذکر میں ابلیس کا ذکر بھی آیا ہے اور یہ وہی طاقت و قوت ہے جس کو دوسری جگہ شیطان اور جن کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ وہی طاقت ہے جو ملائکہ کی متضادکھڑے ہونے کے باعث بھی جیسا خود مخلوق انسانی کا حال ہے کہ اس کا تعلق دونوں طرف برابر کا ہے ۔ قوت ملائکہ سے بھی اور قوت جن و شیطان اور ابلیس سے بھی جو سراسر شر ہی شر ہے۔ اس لیے جہاں جہاں ابلیس اور اس کی ذریت کا تعلق بیان کیا گیا ہے وہاں وہ طاقت مراد ہے جو انسان کے اندر ویعت کی گئی ہے جس کے دیکھنے اور سمجھنے کے لی انسان ہی کا ڈھانچہ اس کو میسر آیا ہے اور یہی ناگزیر تھا اور دوسری طرف ملائکہ کے متضاد ہونے کی صورت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے اس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم میں درج ذیل مقامات کی تفسیر عروۃ الوثقیٰ سے نکال کردیکھیں انشاء اللہ العزیز آپ کو تسلی ہوجائے گی اور آپ اس حقیقت کو سمجھ لیں گے جس کی طرف ہم نے صرف اشارہ کیا ہے اور جس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ میں مناسب مقامات پر کردی ہے اور وہ ” جن “ جس کی تخلیق آگ سے بتائی گئی ہے اور ملائکہ جن کی تخلیق نور سے بتائی جاتی ہے کے متضاد قوت ہے جس کو کبھی ابلیس کے نام سے اور کبھی شیطان کے نام سے اور کبھی جن کے اسم سے قرآن کریم میں موسوم کیا جاتا ہے ۔ اس کا اور ملائکہ کا وجود حسی ہم کو تسلیم ہے اور وجود حسی کا تبدیل ہوتے رہنا لازم و ضروری ہے کیونکہ جیسی حس ہوگی ویسی اس کی شکل و صورت سمجھ لی جائے گی ۔ اس کو سمجھنے کے لیے آج کل کی زبان میں برقی قوت سے اس کو سمجھا جاسکتا ہے کہ برق بجلی ایک قوت ہے لیکن جیسا اس کو جسم پہنایا جائے گا ویسا ہی وہ کام شروع کردے گی ۔ اگر بلب و ٹیوب کا جسم مہیا کیا جائے گا تو وہ روشنی دینے لگے گی اور اگر پنکھے کا جسم اس کو دیا جائے گا تو وہ ہوا کو متحرک کرنا شروع کر دے گی ۔ اسی طرح اگر اس کو ہیٹرکا جسم دیا جائے گا تو وہ گرمی دینے لگے گی اور اگر فرج کا جسم اس کو دیا جائے گا تو وہ برف بنانا شروع کر دے گی اور تفہیم انسانی کی خاطر اس کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ کا نام خیر و بھلائی یعنی ملائکہ رکھا گیا ہے اور دوسرے حصے کا نام اس کے شہر کے باعث شیطان ، ابلسر اور جن رکھا گیا ہے اور جس طرح ان کے نام الگ الگ ہیں ان کے اجسام بھی الگ الگ ہیں اس طرح ان کے کام بھی الگ الگ ہیں اور ان کی تقسیم ان کے کاموں ہی کے مطابق رکھی گئی ہے ۔ اہل اسلام کو اسلام کی نظر میں پانچ قسم کے اجسام بتائے گئے ہیں اور وجود ذاتی کو پہلے نمبر پر اور وجود حسی کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے جو صرف حاسہ میں موجود ہوتا ہے اس لیے جیسا وجود حاسہ میں قائم ہوگا اسی کے مطابق قوت متخیلہ اس کو جسم عطا کر دے گی اور اس کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح کا قوت متخیلہ اس کو جسم عطا کرے گی ویسے ہی حواس سے افعال سرزد ہوں گے۔ انسان اور قوت متخیلہ یا قوت وہمہ کی کارستانیاں قوت متخیلہ یا قوت وہمہ ایک نہایت کار آمدقوت ہے جس کے باعث انسان آئے دنوں نئی نئی ایجادات کرتا چلا آ رہا ہے ، کر رہا ہے اور کرتا رہے گا اور زمانہ کی ساری ترقیوں کا اصل راز یہی قوت ہے لیکن جہاں اس قوت نے بہت بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہاں انسانیت کو اس نے بہت بڑے نقصانا بھی پہچائے ہیں ، پہنچا رہی ہے اور پہنچاتی رہے گی کیونکہ اس قوت وہ ہمہ نے انسان کے لیے جن ، بھوت ، دیو اور پری کا تصور قائم کیا ہے اور انسانوں کو طرح طرح کی وہم پرستی میں مبتلا کیا ہے۔ قبل از اسلام جاہل عربوں کی جو حالت تھی اس کا ذکر بھی کسی کتاب سے اٹھا کر دیکھو تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ عربوں کی اوہام پرستی کا کیا عالم تھا اس وہم پرستی کے ناطے سے ان کے ہاں معروف تھا کہ سانپ کو ہرگز مارنا نہیں چاہیے کیونکہ اگر سانپ مارا جائے تو اسکا جو اڑ آ کر بدلہ لیتا ہے ( ابو دائود جلد سوم ص 366) ان کا یہ اعتقاد تھا کہ مرنے کے بعد روح ایک پرند بن کر اڑتی رہتی ہے اور اس کو ہامہ کہتے تھے ۔ ان کا یہ اعتقاد بھی تھا کہ پیٹ میں ایک سانپ رہتا ہے جو بھوک کے وقت کاٹتا ہے۔ وہ لوگ جو کام کرنا چاہتے تھے پہلے شکون لیتے تھے۔ مثلاً اس وقت کوئی پرند داہنی جانب سے اڑا تو مبارک خیال کرتے تھے اور بائیں جانب سے اڑا تو اس وقت کام سے باز رہتے تھے اور اس کو نہیں کرتے تھے۔ وہ لوگ جن ، شیطان ، دیو پر دی اور بھوت پلید سے بہت ڈرتے تھے۔ ان کے خیال میں اجنہ جنگلوں اور میدانوں میں رہتے تھے اور مسافروں کو اپنی صورتیں یا لباس بدل بدل کر دھوکہ دیتے تھے اور ان کا نام انہوں نے غول رکھا ہوا تھا اور ان کو مذکر بھی سمجھتے تھے اور مؤنث بھی اور مؤنث کو اکثر وہ لوگ معلاۃ کہتے تھے۔ بلقیس ملکہ یمن انکے خیال و وہم میں سنلاۃ ہی کی بیٹی سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اجنہ رات کو جمع ہوتے ہیں اور گاتے بجاتے ہیں اور اپنی مجلسیں قائم کرتے ہیں اور اہل عرب کے بڑے بڑے لوگ ان مجلسوں میں شریک ہوتے ہیں ۔ ان کا وہم تھا کہ بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ جو جن مل کر رہتے ہیں وہ ” عامر “ کہلاتے ہیں او جو بچوں کو ستاتے ہیں ان کا نام ” روح “ ہے اور ان میں سے جو زیادہ شریر ہے ان کو وہ ” شیطان “ کہتے ہیں اور ان میں سب سے جو بڑھ کر شیطان ہوتا جن کی طاقت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ان کو عرفیت کے نام سے موسوم کرتے تھے ۔ ان کا خیال تھا کہ یہ جن اور بھوت ، دیو اور پریاں انسانوں کے بچوں کو بعض اوقات اٹھا کرلے جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں کرتے جب تک کوئی ایسا عامل ان کی مدد نہ کرے۔ عربوں میں یہ تخیل اس وقت موجود تھا اور آج تک بدقسمتی سے ہماری قوم مسلم کی اکثریت میں بھی یہ بدستور چلا آ رہا ہے کہ فلاں دیوتا ، فلاں پیر و بزرگ کے خلاف اگر کچھ زبان سے نکلا تو فوراً بلائیں آ کر ہم کو لپٹ جائیں گی ۔ ان کے ہاں یہ خیال راسخ تھا کہ فلاں بت کی پرستش یا خدمت گزاری میں اگر کسی طرح کی کوتاہی کی گئی تو آسمان سے پانی برسنا بند ہوجائے گا اور فلاں اگر ناراض ہوگیا تو فرزند نرینہ پیدا نہیں ہوگا اور فلاں کی توہین ہوئی تو باغات میں پھل نہیں آئیں گے یا اگر آئیں گے تو بہت تکلیف اٹھانا پڑے گی کہ ہمارے باغات میں ناقص پھل آئے گا ۔ اس لیے جب ان کے سامنے ان باتوں کی نفی کی جاتی تھی تو وہ کانپ جانتے تھے اور یہ تخیل ان لوگوں میں بہت مدت سے چلا آ رہا تھا ۔ چناچہ ہود (علیہ السلام) کے متعلق ان کی قوم کے لوگوں نے یہ کہا تھا کہ (ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوء ) (21 : 54) ” ہم تو اس کے سوا کچھ نہیں کرسکتے کہ ہمارے کسی دیوتا نے تم کو ستایا ہے “۔ (ابن کثیر زمحشری ، ابن حبان اور بغوی وغیرہ) ابتداء جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے بتوں کے خلاف وعظ کہنا شروع کیا تو اکثر لوگوں نے آپ کو بالکل سمجھا اور آپ کو ” مجنون “ کہنا شروع کردیا جن کے رو میں قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ (ما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون) (52 : 29) اور فرمایا : (وما بصاحبھم من حبۃ) (7 : 84) اور جاہلیت کے زمانہ کے بعض کافر احباب ہمدردی کی راہ سے آپ کو جھاڑ پھونک کرنے کے لئے از خود آتے آپ منع کرتے ، وہ جانتے اور کہتے کہ ہاں جس پر جنات کا اثر ہوتا ہے وہ اسی طرح کرتا ہے۔ ضمام بن ثعلبہ ایک صحابی تھے وہ مسلمان ہو کر جب اپنے قبیلہ والوں کے پاس گئے تو لاۃ و عزیٰ کی مذمت شروع کردی تو تمام قبیلہ خوف سے کانپ گیا اور لوگوں نے کہا کہ ضمام ان کو برا مت کہو دیکھو کہیں تجھ کو ہوس ، جنوں یا جذام نہ ہوجائے۔ (واری کتاب الصلوۃ) زنیرہ ایمان لے آئیں اور اتفاق یہ ہوا کہ وہ نابینا ہوگئیں تو کفار نے کہنا شروع کیا کہ دیکھو زنیرہ کو لاۃ و عزیٰ نے اندھا کردیا ہے ۔ اس طرح کے واقعات کو اگر انتخاب کر کے درج کیا جائے تو اس کے لئے بیسیوں صفحات درکار ہیں اس لئے ان اشارات ہی پر ہم اکتفا کرتے ہیں ان کی تفصیل کتب اسلام میں بکثرت موجود ہے لیکن بدقسمتی سے آج اہل اسلام کی اپنی حالت اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نا گفتہ بہ ہے اور اس کو ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے۔ عوام تو عوام ہمارے خواص کی حالت بھی جاہل عربوں سے گئی گزری ہے اور اس وہم پرستی نے اس وقت بھی پوری قوم کی قوم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ الا ماشاء اللہ بہت ہی کم لوگ اس سے بچے ہیں لیکن عربوں کو ہم جاہت کہتے ہیں اور اپنی جہالت کی طرف ہم نے کبھی دھیان نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری قوم کو بھی اس جہالت سے نکلنے کی توفیق دے۔