73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے چادر میں لپٹے ہوئے

اے چادر میں لپٹے ہوئے یا چادر میں لپٹ کر سونے والے ۔ 1 (المزمل) اسم فاعل واحد ذکر۔ ” اے سونے والے “ گویا کپڑا اور ڑھ کر لیٹنے سے مراد ہونا۔ ابتداء وحی میں آپ کو (مدثر) اور (مزمل) فرما کر خطاب کیا لیکن اس کے بعد رسول اور نبی کہہ کر خطاب کیا۔ راغب کہتے ہیں کہ کنایتاً (مزمل) سے مراد ہوتا ہے ضعیف ، کسی کام میں سستی کرنے والا ، سہل انگاری سے کام لینے والا ، پیچھے پیچھے چلنے کو ہی زمل کہا جاتا ہے۔ زمیل وہ شخص جو اونٹ پر کسی کے پیچھے سوار ہو جیسے ردیف گھوڑے کے پچھلے سوار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے زمیل اونٹ کے پیچھے سوار کو کہا جاتا ہے۔ تزمل کے معنی تلفف کے ہیں یعی اپنے اوپر کوئی بڑا کپڑا جیسے چادر یا کمبل وغیرہ کو اوڑھ لیتا ہے۔ اس میں سب کا اتفاق ہے کہ (یایھا الزمل) کا خطاب نبی اعظم و آخر ﷺ کو ہے۔ ہاں ! اس خطاب سے نوازے جانے کا سبب کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ جب آپ کو غار حرا میں جبریل نے حاضر ہو کر (اقرا باسم ربک) کے فرمان سے خطاب کیا تو اس حیرت زاد واقعہ نے کپڑے میں لپٹ کر سونے پر مجبور کردیا کیونکہ آپ کا شرف اتنا بڑھ گیا کہ جی چاہتا ہر وقت وہ منظر آنکھوں کے سامنے رہے اور اپنی طرح نظارہ ہوتا رہے جس طرح غار حرا میں ہوا تھا لیکن کیا وہ امتیازی بات تھی ؟ ہرگز نہیں وہ تو قدرت خداوندی کی کرشمہ سازی تھی اور اب بھی اسی ذات اقدس پر اس کا انحصار تھا ، نہ جبرئیل کو خود آنے کی اجازت دی نہ وہ اس طرح آنے جانے پر مامور تھا اور نہ ہی آپ کے اختیار اور بس کی یہ بات تھی کہ آپ اس حالت کو خود مستحضر کرلیں۔ اس لئے فطرتاً ایسا آدمی جو کرتا ہے وہی آپ نے کیا کہ ہر طرف سیگم سم ہو کر کپڑا لپیٹ کر لیٹ گئے اور انتظار اصل میں رہے کہ اچانک ایک روز پھر جبریل آئے اور آپ کو اس طرح خطاب سے نوازا اور یہ خطاب ان کا اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا اور کیا گیا ہے کہ یہ اس لئے تھا کہ آپ جب غار حرا سے واپس گھر تشریف لائے تو اس وقت تک ابھی آپ پر خاص طرح کی کیفیت طاری تھی اور ایسی حالت میں جو کچھ ہوتا ہے وہی کچھ ہوا کہ آپ نے سیدہ خدیجتہ الکبری ؓ سے فرمایا کہ بس مجھ کوئی کپڑا اوڑھا دو ” زملونی زملونی “ چناچہ آپ کو کپڑا اوڑھا دیا گیا اور اس نسبت سے جب آپ کو دوبارہ مخاطب کیا گیا تو پیار و محبت سے لبریز یہ خطاب پسند کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی پسند کو کون ناپسند کرسکتا ہے۔ آپ کا یہ خطاب مسلمانوں کے لئے حرز جان بن گیا اور یہی سورت (المدثر) کے نام کی ہے جو اس سورت کے بعد آنے والی سورت کا نام ہے اور اس خطاب کو عتاب پر بھی محمول کیا گیا ہے اور یہ بحث ذرا لمبی ہے اور لوگوں نے اس میں بہت کلام کیا ہے لیکن عتاب کی وجہ کچھ سمجھ میں نہیں آتی اس لئے ہم اس بحث کو چھیڑنا ہی نہیں چاہتے اس لئے اسی اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔
Ayah 73:2

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو نماز میں کھڑا رہ مگر (رات کا) کم حصہ

رات کو نماز میں کھڑا رہ مگر رات کا وہ کم حصہ ۔ 2 (قم الیل) رات کو کھڑا رہ۔ خالی اس حکم سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ساری رات کھڑا رہ لیکن (الا قلیلاً ) نے اس خیال کو زد کردیا اور بتا دیا کہ رات کو کھڑا رہ مگر تھوڑا سا گویا نہ ساری رات اور نہ آدھی رات بلکہ رات کا کچھ حصہ خواہ وہ کتنا ہی کم ہو اور دوسری بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ قیام کرنا اصل مقصود ہے کیونکہ قیام ہی انسان کو چوکنا رہ کر جاگنے پر مجبور کرتا ہے اور اس طرح اونگھ اور کسل کم ہوتا ہے اور توجہ خوب لگتی ہے اور جو مقصد ہے جاگنے کا وہ اس طرح پورا ہوتا ہے اور ابھی بھی تھوڑے کی مقدار کا تعیین نہیں ہوتا کہ وہ تھوڑا حصہ کیا ہے ؟ اس لئے آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت کرتی ہے۔
Ayah 73:3

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

آدھی رات یا اس سے بھی کم

آدمی رات یا اس سے بھی کچھ وقت کم ۔ 3 زیر نظر آیت نے (الا قلیلاً ) کی مزید وضاحت کردی کہ اس جگہ (قلیلاً ) سے مراد ہے آدھی رات یا آدھی رات سے بھی کچھ کم گویا جتنا وقت جاگنے کے لئے اور قیام کے لئے طبیعت کی حاضری رہے کیونکہ قیام کا اصل مقصد طبیعت کی حاضری ہی سے ہے تاکہ اس کائنات میں غور و فکر کر کے توحید الٰہی کے دلائل کو یکسر طبیعت میں حاضر کیا جائے اور زندگی کے مقصود کو حاصل کرنے میں کامیابی ہو تاکہ انسانی زندگی حیوانی زندگی سے مکمل طور پر تمیز حاصل کر جائے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طبیعت کے مطابق کم یا زیادہ جاگنے کا حکم دے دیا کہ آپ اپنے اختیار سے جتنا چاہیں اور جتنا آسان رہے اور آپ کی وساطت سے یہی حکم آج آپ کی امت کے لئے ہے اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو صبح کا جاگنا نصیب ہے اور پھر کیا ہی بات ہے ان لوگوں کی جو بامقصد جاگتے ہیں اور اس کائنات پر براہ راست فکر کرتے ہیں اور کتاب اللہ کو پڑھتے ہیں جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے۔
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر

یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر ۔ 4 پیچھے فرمایا تھا کہ آپ کا جاگنا آدھی رات تک ہو یا اس سے کچھ کم ہو جتنا کہ آپ آسانی سے جاگ سکیں اور اس طرح یہ بھی کہ رات کے لمبا ہونے اور چھوٹا ہونے کا امکان چونکہ موجود ہے اس لئے چھوٹی رات میں کم اور بڑی رات میں زیادہ قیام کیا جاسکتا ہے اس لئے اس آیت میں فرما دیا کہ اگر طبیعت زیادہ چاہتی ہے تو آپ آدھی رات سے زیادہ بھی جاگ سکتے ہیں اور پھر یہ بھی بتا دیا کہ اس جاگنے اور قیام کرنے کا مقصد کیا ہے ؟ تو اس کی وضاحت اس طرح فرما دی کہ جتنا حصہ رات کا بھی آپ جاگیں وہ آدھا یا آدھے سے کم یا آدھے سے زیادہ بہرحال اس کا مقصد قرآن کریم کی تلاوت ہے اور تلاوت بیص حدود ترسیل نہیں بلکہ ترتیل کے ساتھ پھڑنا ہے تاکہ ایک ایک لفظ کر کے پڑھا جائے اور اس کو سمجھا جائے طبیعت کی حاضری کے ساتھ پڑھا جائے اور پڑھنے والے کو اچھی طرح معلوم ہو کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب لفظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے اور اس کی تلاوت میں تیزی نہ کی جائے۔ زیر نظر سورت بھی ان سورتوں میں سے ہے جن کو ہمارے ہاں ختمات میں پڑھا جاتا ہے جیسے سورة ملک اور سورة یٰسین کو اور سورة الاخلاص تو سارے ختموں کی زینت ہے اور جو طریقہ ہمارے ہاں ان کے پڑھنے کا روا رکھا گیا ہے اس کو دیکھ کر کچھ بھی شعور رکھنے والا انسان گھبرائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن کریم کے اس طرح پڑھنے کا طریقہ کس نے ایجاد کردیا جس سے قرآن کریم نے خود ہی منع فرمایا ہے اور ترتیل کے ساتھ پڑھنے کے لئے آج کیوں کوئی تیار نہیں ہے ؟ کیا قرآن کریم کے احکام اس لئے بیان کئے گئے ہیں کہ ان کو خالی بیان کردیا جائے اور مرضی ہر کسی دانا کی اپنی ہو کہ وہ جو چاہے کرے۔ کیا فرمانبرداری اسی چیز کا نام ہے ؟ ہمارے علمائے کرام تشریح کرنے لگیں تو دور دور کی کوڑیاں اکٹھی کردیں گے لیکن جب عمل کی باری آئے گی تو وہی کریں گے جو ہمارے عوام کر رہے ہیں۔ قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جانا ایسا لگتا ہے کہ گناہ تصور کرلیا گیا ہے گویا جو حکم ہم کو جس درجہ میں دیا گیا ہے اسی درجہ میں اتنی ہی سختی کے ساتھ ہم اس کی مخالفت کرنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اس پر انا للہ و انا الیہ راجعون نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ تفاسیر میں ہے کہ سیدنا علی ؓ سے اس آیت کا مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : بینہ تبینا ولا تنشرہ نثر الدقل ولاتھر مھز الشعر۔ تقوا عند عجائبہ و حرکوا بہ القلوب ولایکن ھم احد کم اخرا سورة (روح المعانی) ہم کو ہمارے نبی کریم ﷺ سے یہ سمجھایا گیا کہ جس طرح جلدی جلدی کھجوریں بکھیرتے چلے جاتے ہو اور بال کانٹتے چلے جاتے ہو ایسا نہ کرو جب کوئی نادر نکتہ آئے تو ٹھہر جائو اپنے دلوں کو اس کی اثر انگیزی سے متحرک کرو تمہیں اس سورت کو جلدی جلدی ختم کرنے کی فکر نہ ہو۔ پھر آپ کے پڑھنے کا طریقہ کتب احادیث میں بتفصیل موجود ہے اور ظاہر ہے کہ طریقہ سمجھانے کے لئے کسی ایک آیت یا دو آیات ہی کو پڑھ کر بتایا جاسکتا ہے نہ کہ سارا قرآن کریم۔ جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ آپ کے پڑھنے کا طریقہ کیا تھا تو یہی اصل مقصود ہے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ : (عن قتادہ قال سئل انس کبت کانت قراءۃ النبی ﷺ فقال کانت مدائم قرا بسم اللہ الرحمن الرحیم یمد بسم اللہ ویمد بالرحمٰن ویمد بالرحیم) (رواہ البخاری) ” قتادہ تا یعنی (رح) کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ صحابی سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ کی قرأت کس طرح ہوتی تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ کھینچ کر مد سے ہوتی تھی پھر انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی آیت کو پڑھا اور بسم اللہ کو الرحمٰن کو اور الرحیم کو کھینچ کھینچ کر پڑھا اور اس کو ترتیل سے پڑھنا کہا جاتا ہے اور یہی طریقہ آپ کے پڑھنے کا تھا۔ خیال رہے کہ سورة الفاتحہ کا نمازوں میں پڑھنا فرض ہے کوئی مقتدی ہو یا امام ہاں ! امام جری نمازوں میں جہر پڑھتا ہے اور سری میں خفی لیکن مقتدی ہر نماز میں خفی پڑھیں گے جہر نہیں کریں گے پھر سورة الفتحہ کی سات آیات ہیں اور ان سات میں پہلی آیت بسم اللہ کی ہے۔ بسم اللہ کے نماز میں پڑھنے نہ پھڑنے اور اسی طرح جہری نمازوں میں بسم اللہ جہر سے پڑھنے اور سری نمازوں میں خفی پڑھنے ، اس کی پوری وضاحت عروۃ الوثقی ، جلد اول میں سورة الفاتحہ کی تفسیر میں ہم بیان کرچکے ہیں اور اس کے بعد سورة الحج کی آیت 87 کے بعد ہم نے مفصل بحث ہدیہ ناظر کی ہے جہاں ” ترک و اخفائے سم اللہ کی روایات اور فیصلہ کے تحت مکمل بحث درج کردی گئی ہے۔ اگر ضرورت محسوس کریں تو وہیں سے دیکھیں۔ اس جگہ دوبارہ اس بحث کی ضرورت نہیں تاہم ہم نے یہ بحث نہیں کی کہ احناف کا اس میں کیا فتویٰ ہے چونکہ موجود احناف کے سرخیل حضرات اس بحث میں اکثر حصہ لیتے رہتے ہیں اور وہ جس طرح اس مضمون اور اس مسئلہ میں ضد ، ہیچ اور ہٹ دھرمی سے کام یتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس جگہ اگرچہ فقط قرأت کا ذکر ہے اور رسول اللہ ﷺ سے پڑھنے کا جو طریقہ منقول ہے اس کا سب لوگوں نے (اہل حدیث کے علاوہ) سواد اعظم احناف نے جس طرح کا خلاف کیا ہے وہ سب پر واضح ہے حالانکہ کت باحناف میں بسم اللہ کے جہر سے پڑھنے کا واضح ثبوت موجود ہے اور اسی طرح آپ کی قرأت کا طریقہ بھی جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔ ضمناً احناف کے بارے میں کچھ بیان کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے شاید کسی سچائی کا فائدہ ہوجائے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور مسئلہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم فقہ حنفی کی ایک معتبر کتاب ہدایہ اور فقہ حنفی کے ایک مایہ ناز عالم دین مفتی عبدالحئی لکھنئوی (رح) کا ذکر ذرا تفصیل کے ساتھ اس لئے کیا جا رہا ہے کہ حق واضح ہوجائے خواہ اس کو کوئی قبول کرے یا نہ کرے یہ قبول کرنے والے کی صوابدید پر ہے ۔ ہدایہ باب صفۃ الصلوۃ میں ہے کہ ” ویقسر بسم اللہ الرحمن الرحیم ھکذا نقل فی المشاھیر … عم عن ابی حنیفۃ روایۃ لایاتی بھا فی اول کل رکعۃ کا لتعوذ وعنہ انہ یاتی بھا احتیاط وھو قولھما ولایاتی بھا بین السورتین والفاتحۃ الاعندی محمد فاتہ یاتی بھا فی صلوۃ المخافتۃ (ہدایہ جلد ادول ص 97) ” بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے متعلق مشاہیر علمئاے کبار سے اس طرح نقل کیا گیا ہے …… پھر یہ کہ امام ابوحنیفہ (رح) سے مروی ہے کہ بسم اللہ کو ہر رکعت کے اول میں نہ پڑھے جس طرح کہ اعوذ نہیں پڑھی جاتی اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ احتیاطاً بسم اللہ پڑھ لیا کرے اور یہی مذہب ہے صاحبین (رح) کا اور سورت فاتحہ اور کسی دوسری سورت کے درمیان نہ پڑے مگر امام محمد (رح) کے نزدیک خفیہ نماز میں یہ بھی جائز ہے۔ (1) علامہ مفتی عبدالحئی لکھنئوی (رح) ” ھکذا نقل “ پر حاشیہ تحریر فرماتے ہیں کہ قلت فیہ احادیث منھا حدیث نعیم المحمر قال صلیت خلف ابھی ہریرہ فقرہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ثم قرء بام القران فلم مسلم قال والذی نفسی بیدہ انی لاشبھکم صلوۃ برسول اللہ ﷺ ” میں کہتا ہوں کہ اس باب میں بہت سی احادیث آئی ہیں ان میں سے ایک حدیث نعیم المبمر کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے ایک نماز پڑھی تو انہوں نے ام القرآن سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو جہر پڑھا اور پھر سلام پھیر دیا اور سلام پھیرنے کے بعد فرمانے لگے کہ مجھے اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے تم کو نبی کریم ﷺ کے مشابہ نماز پڑھی ہے۔ (2) اور فتح القدیر شرح ہدایہ میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد تحریر ہے کہ : قال ابن خزیمۃ لارتباب فی صحتہ عند اھل المعرفۃ ” ابن خزیمہ نے کہا کہ حدیث کی پہچان والوں کے نزدیک اس حدیث کی صحت میں کوئی شک نہیں ہے۔ “ (3) اویر ہدایہ کی ایک عبارت آپ پڑھ چکے ہیں اس میں ایک لفظ آیا ہے ” المشاھیر “ اس لفظ پر علامہ مفتی عبدالحئی لکھنئوی (رح) حاشیہ دیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ : ورواہ ابن خزیمۃ و ابن حبان فی صحبحبھا والحاکم فی المستدرک و قال صحیح علی شرطا الشیخین ولم یخرجا ” اس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور امام ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور امام حاکم نے مستدرک میں روایت کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری رحمت ہ اللہ علیہ اور امام مسلم (رح) کی شرط پر صحیح ہے گو ان دونوں نے اسے اپنی اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا۔ (4) اوپر ہدایہ کی عبادت میں جو پہلی بار لفظ آیا ہے لا یاتی بھا اس کے نیچے بین السطور میں علامہ مذکور (رح) نے ھو روایۃ الحسن عنہ کے الفاظ لکھے ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات امام ابوحنیفہ رحمت ہ اللہ علیہ سے آپ کے شاگرد حسن بن زیاد لولوی نے روایت کی ہے اور حسن بن زیادہ (رح) کی نسبت دوبارہ روایت حدیث محمد ثین کی شہادت اچھی نہیں ہے کیونکہ حافظ ذہبی رحمت ہ اللہ علیہ نے میزان میں اس کو کذاب ، متروک ، لا یح تج بہ وغیرہ وغیرہ الفاظ نقل کئے ہیں اور علامہ عبد الحئی (رح) نے فوائد بہ یہ میں حسن بن زیاد کے ترجمہ میں امام سمائی (رح) سے نقل کیا ہے کہ لیس بشی و فی الحدیث یعنی حدیث میں وہ بالکل ” لاش “ ہے یعنی کسی کام کا نہیں۔ (5) اوپر ہدایہ کی عبارت میں جو لفظ آیا ہے ” یانی بھا “ اس پر فتح القدیر میں لکھا ہے کہ وھی روایۃ ابی یوسف انہ یاتی بھا و ھو قولھما امام ابوحنیفہ (رح) سے اس بات کی روایت کہ بسم اللہ فاتحہ کے شروع میں پڑھنی چاہئے امام ابویوسف کی روایت ہے اور یہی صاحبین رحمتہ اللہ علیہم کا قول ہے اور امام ابویوسف (رح) جس طرح فقہاء کے نزدیک علم و حفظ میں پختہ ہیں ویسے ہی محدثین کے نزدیک بھی معتبر ہیں۔ چناچہ امام نسائی نے کتاب الضعفاء والمتروکین میں جہاں حسن بن زیاد مذکور کو کذاب وغیرہ لکھا ہے وہاں امام ابو یوسف (رح) کو ثقہ لکھا ہے۔ (6) اوپر ہدایہ کی عبارت میں جو لفظ ” احتیاطاً “ کا آیا ہے اس پر حاشیہ دیتے ہوئے لامہ مفتی عبدالحئی لکھنئوی مرحوم فرماتے ہیں کو قلہہ احتیاطاً لوالان العلماء اختلفوا فی التسمیۃ ھلھی من الفاتحۃ ام لا وعیہ قرائۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ فکان علیہ قراءت ھا فی کل رکعۃ لیکون ا بعد عن الاختلاف ص 97 12 ” احتیاطاً اس لئے کہا گیا ہے کہ علماء میں اختلاف ہے کہ بسم اللہ سورة الفاتحہ کا جزء ہے یا نہیں ؟ اس لئے نمازی کو ہر رکعت میں ضروری پڑنی چاہئے تاکہ اختلاف سے دور دور رہی رہے۔ “ (7) اس طرح علامہ نسفی رحمتہ اللہ علیہنے کنز میں سنن نماز میں بسم اللہ کے پڑھنے کو بھی شمار کیا ہے اور اس کو شرح میں تحرر کیا ہے کہ : ثم ھل یاتی بھا فی اول الفاتحۃ فی الرکعات الاخری عن ابی حنیفۃ روایتان و عنھما باتی وھو ادلی کذا فی البدائع (حاشیہ کنزنول کشوری ص 23) ” پھر یہ کہ دیگر رکعات میں بھی فاتحہ کے شرو میں پڑھے اس کی بابت امام ابوحنیفہ (رح) سے دو روایتیں ہیں اور صاحبین رحمتہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ پڑھے اور یہی اولیٰ ہے کہ کتاب بدائع میں بھی اسی طرح ہے۔ “ (8) اور کنزہی میں فصل ترتیب امور نماز میں ہے کہ وسمی مرفای کل رکعۃ (25 نول کشوری) یعنی بسم اللہ پڑھے آہستہ آہستہ ہر کعت میں۔ (9) اور منیۃ المصلی کے متن میں کہا ہے کہ : ثم یسمی فیاتی بھافی کل رکعۃ لان اکثر المشائخ علی ھذا (ص 97 ، باب صفتہ الصلوۃ) یعنی پھر ثنا کے بعد بسم اللہ پڑھے اور اسے ہر رکعت میں پڑھے کیونکہ ہمارے اکثر مشائخ اسی پر ہیں۔ (10) اور منیۃ المصلی کی شرح کبیری میں بسم اللہ کی سنیت اور وجوب کے متعلق سے مدلل بحث کر کے وجوب کو اصح او احوطا لکھا ہے۔ چناچہ اس کے الفاظ بھی ہم ذیل میں درج کرتے ہیں : الاول فمیل الشیخ حافظ الدین الشفی فی کتبہ و فامنیخان و صاحب الخلاصۃ و کثیر الیانھا سنۃ و کذا ماتقدم وعن النوادر و یقید ذلک و ذکر الذبلعی فی شرح الکنزان لاصح انھا واجبۃ فی کل رکعۃ و رکعۃ فیسحد اذا با بجابھا قال الاکثر ای یسحد للسھواذا ترکھا ساھیا اول کل رکعۃ یحب فیھا القراءۃ لان اکثر المشائخ قال بوجوبھا و ھذا ھو الا حوط فان ال احادیث الصحیحۃ تقل علی مواظبۃ علیہ ال صلوۃ والسلام علیھا و ما وردفیھا من الافتتاح بالحمد اللہ فلیس بنص علی ترکھا فکان ھو الایجاب ھو الاحوط (ص 272) ” علامہ حافظ الدین النسفی ، قاضی خان ، صاحب خلاصہ اور صاحب نو اور کا میلان اسی طرح ہے کہ بسم اللہ پڑھنی سنت ہے اور امام زیلعی نے شرح کنز میں کہا ہے کہ اصحح یہی ہے کہ وہ واجب ہے اسی طرح زاہدی نے حسن سے نقل کیا ہے کہ وہ ہر رکعت میں واجب ہے ابن وہیان نے منظومہ میں کہا ہے کہ اگر ہر رکعت میں سہواً بسم اللہ ترک کر دے تو سجدہ سہو کرے کیونکہ اکثر ائمہ نے اس کا واجب ہونا لکھا ہے اور یہی احوط ہے کیونکہ صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اس پر ہمیشگی کی ہے اور جو الحمد للہ سے شروع کرنے کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ سراً پڑھ لیا ہو پس واجب ہوتا احوط ہے۔ (کبیری ص 272) (11) اس سے آگے موضع ثالث میں محل قرأت کے متعلق ہدایہ میں ہے کہ : ففی روایۃ عن ابی حنیفۃ ان محلھا اول الصلوۃ و الصحیح ان محلھا اول کل رکعۃ احتیاطاً کان اکثر المشائخ علی ھذا … نقل فی الکفایۃ عن الحسن انہ قال حسن انہ یسمی اول کل رکعۃ اصحابنا جمیعا لاخلاف فہح ومن زعم ان یسمی مرۃ فی الاول فحسب فقد غلط علی اصحابنا فاحشا عرفہ من تامل کتب اصحابنا والروایات منھم لکن الخلاف نفی الوجوب فعندھما فی روایۃ المعلی عن ابی حنیفۃ انہ تجب التسمیۃ فی الثانیۃ کو جو بھا فی الاولی روایتھما و روایۃ فی کل رکعۃ انتھی واستدلوا علی الاحتیاط باختلاف العلماء فی انھا ایۃ من الفاتحۃ او لا فکان الاحتیاط الایقمان بھا للخروجمن الخلاف (کبیری ص 272) ” امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت میں ہے کہ اس کا یعنی بسم اللہ پڑھنے کا محل نماز کے شروع میں ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس کا محل ہر رکعت کا شروع ہے از روائے احتیاط کیونکہ اکثر مشائخ اس پر ہیں کنایہ میں حسن سے نقل ہے کہ ہمارے بعد اصحاب نے بلا اختلاف اس امر کو مستحسن جانا ہے کہ ہر رکعت کے شروع میں بسم اللہ پڑھے اور جس نے یہ گمان کیا کہ صرف پہلی دفعہ ایک بار ہی پڑھے اس نے ہمارے اصحاب کا مذہب کھلم کھلا غلط سمجھا جو شخص ہمارے اصحاب کی کتابوں میں اور ان کی روایات میں تامل کرے گا وہ اسے بخوبی سمجھ لے گا۔ ہاں ! وجوب اور سنیت میں بلاشبہ اختلاف ہے۔ معلی کی روایت میں امام ابویوسف اور امام محمد کے نزدیک امام ابوحنیفہ سے یہ روایت ہے کہ بسم اللہ دوسری رکعت میں بھی پہلی رکعت کی طرح واجب ہے اور حسن لولوی کی روایت میں ان دونوں کے نزدیک امام ابوحنیفہ رحمت ہ اللہ علیہ سے یہ روایت ہے کہ وہ واجب نہیں ہے مگر شروع میں اور اگر دوسری رکعتوں میں بھی پڑھ لے تو اچھا ہے پھر حسن نے کہا کہ بسم اللہ ہر رکعت میں واجب ہے۔ (انتھی مترجما) اور علماء نے احتیاط کی دلیل یہاں سے لی ہے کہ علماء میں اس امر میں اختلاف ہے کہ بسم اللہ فاتحہ کی آیت ہے یا نہیں ؟ پس احتیاط اسی میں ہے کہ اختلاف سے نکلنے کے لئے اسی کو پڑھ ہی لے۔ حاصل کلام کیا ہوا ؟ یہ کہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ لعیہ کا محقق مذہب یہی ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن ہر رکعت میں سورة فاتحہ کی باقی آیتوں کی طرح واجب ہے اور اکثر مشائخ حنفیہ کا یہی قول ہے اور جو روایت پہلی رکعت کے بعد دیگر رکعات میں نہ پڑھنے یا واجب نہ ہونے کی ہے وہ حسن بن زیاد کی ہے جو محمد ثین کے نزدیک معتبر نیں ہے جیسا کہ پیچھے وضاحت سے گزر چکا باوجود اس کے کہ حسن بن زیاد خود وجوب کے قائل ہیں جیسا کہ کبیری شرح منیہ سے منقول ہوچکا ہے اور امام صاحب سے جو روایت بسم اللہ ہر رکعت میں پڑھنے کی ہے اوہ امام ابویوسف کی ہے جو محدثین کے نزدیک ثقہ اور معتبر ہیں اور وہ خود بھی اس کے قائل ہیں اور اس روایت اور اس قول میں امام محمد (رح) بھی ان کے ساتھ ہیں بلکہ وہ فاتحہ اور دوسری صورت کے درمیان میں بھی پڑھنے کے قائل ہیں اگرچہ سری نمازوں میں کہتے ہیں۔ پس جب امام ابوحنیفہ (رح) سے اور ان کے دو لائق شاگردوں امام ابو یوسف اور ام محمد سے پڑھنے کی روایتیں ثابت ہیں جن پر فقہ حنفی کا دار و مدار ہے اور حسن بن زیاد جن کی روایت سے بعض لوگ غلطی میں پڑھ گئے ہیں وہ خود وجوب کے قائل ہیں تو اب حضرات حنفیہ کو اس پر عمل کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں ! رواج عام ایک دوسری بات ہے اور تحقیق مسئلہ اور چیز ہے والحق احق ان یتبع۔ والحمد للہ ملھم الحقائق و مفھم الدقائق۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

بلاشبہ ہم آپ پر ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں

بلاشبہ ہم آپ ﷺ پر ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں ۔ 5 مخاطب محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم آپ پر عنقریب ایک بہت بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں گویا بتایا جا رہا ہے کہ نبوت و رسالت کا جو پیغام آپ کو پہنچایا ہے یہ اتنا آسان کام نہیں بلکہ لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے اس میں احکام و فرائض کا ایک طویل سلسلہ ہو گا جس کے مطابق آپ کو چلنا ہوگا اور آپ کے ماننے والوں کو ان کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اس بوجھ کا اندازہ کوئی معلولی بات نہیں ہے یہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے کیونکہ یہ انفرادی طور پر اٹھانے کی چیز نہیں ہے اس کے لئے اجتماع لازم و ضروری ہے اور پھر یہ بھی کہ شغل شغل کا اجتماع تو خیر ایک الگ بات ہے اور اس کا کرنا کوئی مشکل امر بھی نہیں ہے لیکن عقل و فکر اور سجھ و سوچ کر ایک راستہ متین کرنا اور پھر سب کو ساتھ لے کر اس راستہ پر رواں دواں ہوتا اتنا آسان کام نہیں ہے نہ چلنے والے کے لئے اور نہ ہی چلانے والوں کے لئے۔ وحی الٰہی کے بوجھ کی تفسیر میں ہمارے مفسرین نے وحی اترنے کی کیفیت اور سردی کے موسم میں بھی آپ پر پسینہ آجانے کی روایات کا زیادہ تر ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اگر آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ کی کیفیت کیا ہوجاتی اور اگر کسی جانور پر سوار ہوتے جیسے بغلہ اور اونٹنی تو وہ جانور وحی الٰہی کے بوجھ سے آپ کے بوجھ کی طاقت برداشت کرنے سے جواب دینے لگتا اور بعض اوقات تو و کھڑا کھڑا گر جاتا یا یہ کہ گرنے کے قریب ہوجاتا۔ اس طرح کی بہت سی روایات بیان کی گئی ہیں لیکن حقیقت میں قول ثقیل کا مطلب بہت اور بھاری ذمہ داری ہے جس کا پورا کرنا بہت مشکل امر ہے اور خصوصاً جب کہ اس کے پورا کئے بغیر کوئی چارہ بھی نہ ہو اور یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح اور درست ہے کہ قبل ازیں آپ خلوت میں ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے اور اس کائنات کے متعلق ایک جگہ بیٹھ کر غور و فکر کرتے تھے اور اب خلوت سے نکل کر جلوت میں جانے سے بوجھ آپ کو برداشت کرنا پڑا۔ اس کو قول ثقیل کہا گیا ہے کیونکہ اب انفرادی ذمہ داری نہیں رہی بلکہ ایک بہت بڑے اجتماع کا راستہ روک کر دوسری راہ کی طرف گامزن کرنے کا فریضہ سونپا گیا ہے اور اس کے لئے کوئی مادی وسائل بھی آپ کو نہیں دیئے گئے صرف کلام الٰہی کے دلائل پیش خدمت ہیں اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دعوت و تبلیغ اسلام ایک بہت ہی بھاری ذمہ داری کا کام ہے جو بچوں کا کھیل نہیں ہے جیسا کہ آج کل اس کو سمجھ لیا گیا ہے۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

بلاشبہ رات کا اٹھنا (نفس کو) سختی سے روندتا ہے اور (منہ سے اس وقت) سیدھی بات نکلتی ہے

بلاشبہ رات کا اٹھنا سختی سے روند ڈالتا ہے اور بات کو سیدھا کردیتا ہے ۔ 6 (ناشتۃ) مصدر بروزن اسم فاعل رات کو خواب بستر سے اٹھ کھڑا ہونا جب کہ نیند ایک بہت پیاری چیز ہوتی ہے اور اس سے وہی چیز جگا سکتی ہے جو اس سے بھی بھاری ہو اور سونے والا اس کی اہمیت کو سمجھتا ہو۔ (وطا) اسم تکلیف مشقت ، دشواری ، فرمایا جا رہا ہے کہ رات کا جاگنا ایک بہت ہی بھاری چیز ہے اور یہ بھی کہ صرف نیند سے بیدار رہی نہیں ہونا ہے بلکہ بستر کو چھوڑنا ہے ، حالات کے مطابق گرمی ہو یا سردی وضو کرنا ہے ، نماز میں کھڑا ہونا ہے اور تن تنہا رہ کر غور و فکر کرنا ہے اور وہ بھی اس ذات اقدس کے متعلق جو انسان کی دسترس سے دراء الوراء ہے نہ کوئی شکل و صورت ہے اور نہ ہی دیکھی اور ٹٹولی جانے والی چیز ہے۔ اس لئے جو شخص بھی شب بیداری کرتا ہے اور اس کی غرض وغایت رضائے الٰہی ہے وہ شخص یقینا نفس کی سرکوبی میں مصروف ہے اور نفس انسانی ایک ایسی چیز ہے کہ اس کو قابو میں لانا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل ہے اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ نفس کے غرور کو کچلنے کے لئے ، اس کی سرکشی کو ختم کرنے کے لئے یہ نسخہ بہت ہی کارگر ہے اور سب سے زیادہ اور اہم بات یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات کریمات پر علیحدگی میں غور و فکر نصیب ہوتا ہے اور قرآن کریم دراصل شے ہی یہ ہے کہ اس میں غور و فکر کیا جائے۔ اندھی تقلید سے اگر قرآن کریم پڑھا جائے تو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس میں ایک بات قابل غور یہ بھی ہے کہ ابھی تک نماز فرض نہ ہوئی تھی اور نہ ہی پانچ پتیوں کا پھول کھلا تھا۔ ابھی ابتداً وقتوں کی نمازیں الگ الگ ہوگئیں اور پانچویں او قات نے تہجد سے اپنا اپنا حصہ نکال لیا اور اب تہجد کی حیثیت امت کے لئے نقل کی رہ گئی لیکن فضائل میں یہ اب بھی باقی تمام نمازوں پر بھاری ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرائض کا ایک اپنا مقام ہے لیکن نوافل کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ حلوے جیسی میٹھی اور شیریں چیز تیار کرنا مطلوب ہو تو چار چیزیں لازم ہیں سوجی (آٹا) ، گھی ، چینی اور پانی جب یہ چار چیزیں ایک خاص ترتیب سے ملا دی جائیں تو حلوا شریف تیار ہوجائے گا اس کی ایک پلیٹ تیار کرنا ہو تو چار پانچ روپے میں ابھی تیار ہو سکتی ہے لیکن وہ چیزیں جو حلوے کے لئے لازم نہیں ہیں اگر ان کو اس میں داخل کریں گے تو وہ پانچ روپے کے بجاے پچاس یا سو روپے تک کی ہوجائے گی لیکن جو کچھ تیار ہوگا وہ حلوے کا حلواہی رہے گا جو فرق ہوگا اس کے مزے اور فائدہ میں ہوگا یہی اس نقل نماز کی کیفیت و حقیقت ہے کہ ایک نمازی تو نمازی ہی رہے گا لیکن اس سے جو نماز کا اثر پیدا ہوگا وہ بغیر اس کے ممکن نہیں ہے لیکن اس کا ادا کرنا بھی (Procticol) کو آج کوئی نیں سمجھتا اور ان دونوں کو لازم و ملزوم ہونے سے کوئی انکار کرسکتا ہے۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کو دن میں بہت سی مشغولیتیں (بھی) ہوں گی

بلاشبہ اب آپ ﷺ کو ان میں بھی بہت ہی مشغولیتیں ہوں گی ۔ 7 (سبحا) مشغول ہونا۔ تیزی سے تیرنا۔ یہ سبح یسبح کا مصدر ہے۔ امام راغب فرماتے ہیں سبح کے معنی پانی اور ہوا میں تیز گزرنے کے ہیں جیسے بولا جاتا ہے سبح سبحار سباحۃ اور حسب ذیل معافی میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ (1) آسمان میں ستاروں کی گردش کے لئے جیسے (وکل فی فلک یسبحون) ” اور ہر کوئی اپنے چکر میں تیر رہا ہے۔ “ (2) گھوڑے کے دوڑنے کے لئے جیسے (والسبحت سبحاً ) ” اور قسم ہے ان گھوڑوں کے رب کی جو تیزی سے پیرنے والے ہیں۔ “ (3) کسی کام جلد لگ جانے کے لئے جیسے (ان لک فی النھار سبحا طویلاً ) ” بلاشبہ آپ کو ان میں بہت مشغول رہنا ہوگا۔ “ زیر نظر آیت کے بارے میں محمد آلوسی لکھتے ہیں کہ ” یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی ہیں دن میں فراغت ہے تم اس کی تلافی کرسکتے ہو۔ “ اگر ایسا ہو تو سب کے معنی فراغت کے ہوں گے اور لغت میں یہ لفظ ان معنوں میں مستعمل ہے لیکن پہلے معنی محاورہ اور عام بول چال کے زیادہ موافق ہیں۔ ان سات آیتوں میں نماز تہجد کی ترغیب دی گئی ہے اور تہجد کے فضائل بہت ہیں۔ نماز تہجد کے لئے مخصوص دعائیں اور نماز ادا کرنے کا خاص طریقہ ایک ہی وقت میں آٹھ رکعت کی ادائیگی کے بعدصلوۃ الوتر سے نماز کی تکمیل مختلف طریقوں سی نماز کی ادائیگی میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن ان باتوں کے بیان کرنے کی اس جگہ گنجائش نہیں ہے البتہ برکت کے لئے ایک احادیث کا ذکر کرنا مناسب خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بیان بالکل ہی خالی نہ رہ جائے۔ (11) (عن ابی ہریرہ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ینزل ربنا کل لیلۃ الی السماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الخر یقول من یدون فاستجیب ، من یسالئی فاعطیہ ومن یستغفرنی فاغفرلہ) (بخاری ، مسلم) ’ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا پروردگار پہلے آسمان پر نزول اجلال فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا مانگ رہا ہے تاکہ میں اس کی دعا کو قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے سوال کر رہا ہے تاکہ میں اس کو دوں ، کون ہے جو گناہوں کی بخشش چاہتا ہے تاکہ میں اس کو بخش دوں۔ “ اس طرح آپ نے امت کو کتنا شاندار سبق سکھایا ہے اور کس طرح توحید الٰہی کا درس دیا تاکہ انسان خواہ وہ کسی درجہ کا بھی ہے اس کے ذہن و دماغ میں بات اتر جائے کہ انسان کو جس چیز کی طلب ہو خواہ دنیا کی طلب ہو یا دین کی چھوٹی چیز کی طلب یا بڑی چیز کی وہ تن تنہا بغیر کسی وسیلہ اور آسرا کے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوجائے اور بعد از نماز اپنے پروردگار حقیقی سے اپنی طلب کو بےجھجھک مانگ لے اور اللہ تعالیٰ کو بہت دور نہ سمجھے بلکہ بہت ہی قریب سمجھے اور یہ بھی کہ وہ ذہن نشین کرلے کہ بس اس کے مانگنے کی دیر ہے وہ تو پہلے ہی اپنے بندوں کو دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ یہ بات عام فہم استعاروں اور اشاروں میں کرنے سیان کا لطف ودوبالا ہوجاتا ہے اور کرنے والے کو اس طرح بات کرنے اور سمجھنے والے کو اس طرح بات سمجھنے سے بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہے اور جارحین اپنا سامنہ لے کر بیٹھے رہتے ہیں اور چاہنے والے بقدر حصہ حاصل کرلیتے ہیں۔ (2) عن ابی امامۃ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ علیکم بقیام اللیل فانہ داب الصالحین قبلکم و ھو قریۃ لکم الی ربکم و مکفر للسیات (رواۃ الترمذی) ” ابی امام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نیارشاد فرمایا تم کو رات کا جاگنا ضروری ہے پہلے زمانہ کے نیک لوگوں کا بھی یہ دستور تھا اور رات کو جاگنا اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے اور اس گناہوں کو ملیا میٹ کرنے والا ہے۔ “ کون نہیں جانتا کہ انسان اور خطاء و نسیان لازم و ملزوم ہیں اور پھر کسی چیز کے ہوجانے کے بعد اس کا واپس ہونا کسی حال میں بھی ممکن نہیں لیکن اخلاقیات کا ایک اصول ہے کہ بات کرنے والا اتنی بات مزید کہہ دے کہ میں نے اپنی بات واپس لی تو اس کے یہ کہہ دینے سے قانون الٰہی گرفت ڈھیلی کرلے گا بشرطیکہ اس نے ایسے وقت میں کہا کہ اس کو ایسا کہنے سے کچھ ندامت ہوئی اور اس کی سبکی دوسروں کی نظر میں واضح ہوگئی کہ توبہ اسی چیز کا نام ہے ورنہ ہوچکا کام تو کبھی واپس نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کمزور بندوں کو ان کی کمزوریوں کے باعث جو رعایت اور چھوٹ دی ہے اس کو حاصل کرنے ہی میں لطف ہے اور تنقید برائے تنقید بالکل لاحاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو نمازی اور تہجد خواں بنا دے اور ہم اپنی نمازوں اور اپنی تہجدوں میں قرآن کریم پر براہ راست غور و فکر کرنے اور حقیقت حال کو سمجھنے کے لئے رات کو جاگنے کی عادت کو اپنا لیں اور اسی میں ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرما دے۔ رب یسرو لا تعسر و تمم بالخیر۔ بس اس کی ہے زندگی جس نے آپ اپنے پہ فتح پائی ہے آسان نہیں جہد مسلسل سے گزرنا ہر گام یہی مرحلہ خود شکن ہے
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

اور آپ ﷺ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے رہیے اور سب کو چھوڑ کر (صرف) اسی کے ہو جائیے

اپنے رب کے نام کا ذکر کرتے ہوئے اور سب سے کٹ کر صرف اسی کے ہو جائیے ۔ 8 (تبتل) کا اصل مادہ ب ت ل ہے اور اس مادہ کے صرف دو لفظ (تبتل) اور (تبتیلاً ) صرف اسی ایک ہی جگہ استعمال ہوئے ہیں اور علاوہ ازیں یہ مادہ قرآن کریم میں کہیں استعمال نہیں ہوا۔ بتلہ من باب نصر و ضرب بتلا قطعہ و تبتل تبتیلا انفطع الی اللہ عما سواہ بالعبادۃ و مثلہ۔ بتل تبتیلا (معجم) (تبتل) تو اخلاص نیت اور عبادت میں سب سے منقطع ہوجا۔ سب سے الگ ہوجا نیتل “ سے جس کے منی سب سے الگ ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کی عبادت اور نیت خالص کرنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ واحد مذکر اور تقریباً یہی معنی (تبتیلاً ) کے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ مصدر ہے بروزن تفصیل ۔ آپ نے سات گز کپڑا خریدا اور اس کو ایک دو نہیں بہت سے حصوں میں کاٹ کاٹ کر الگ الگ کردیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو خوبصورت طریقہ سے صحیح ماپ کے ساتھ سی کر صحیح کام میں لایا جائے ورنہ اگر صرف الگ الگ کر کے رکھ دیا جاتا تو اس کا نام بےعقیہ اور بیوقوفی کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ بس یہی حال (تبتل) کا ہے یہ الگ ہونا جز وقتی ہے اور اس لئے الگ ہونا ہے کہ وقت آنے پر اس طرح جڑ جائے کہ اس کے جڑنے سے حسن و خوبی پیدا ہوجائے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ دنیا سے لاتعلق ہو کر قطع تعلق ہونے کا کوئی جواز اسلام میں نہیں ہے یہ کٹنا ہے تو محض جڑنے کے لئے ہے صرف کٹ کر رہ جانے کے لئے نہیں۔ اب اس کی وضاحت آپ چاہے جتنی بھی کرتے جائیں اور تفصیل میں صفحات کے صفحات لکھ دیں ، لکھے جاسکتے ہیں لیکن اس اشارہ میں جب سب کچھ سمجھ میں آ رہا ہے تو آخر اس کی تفصیل سے فائدہ کیا ہے۔ تفصیل کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں بات مجمل سے سمجھ میں نہ آرہی ہو لیکن جہاں مجمل خود مفصل ہو کر رہ جائے اور اس کو مجمل محض الفاظ اور مضمون کی کمی کے باعث کہا جا رہا ہو تو اس کے حسن کو ضائع کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بس ماسویٰ اللہ سے تعلق منقطع کردیتا اور دنیا کے اندر رہتے ہوئے دنیا کی ضروریات حاصل کرتے ہوئے دنیا کی اغراض و مقاصد کو سمجھتے ہوئے اس سے اس طرح لاتعلق ہوجائے کہ اگر مل جائے تو زیادہ خوش نہ ہوجائے اور اگر کچھ کھو جائے تو غم سے نڈھال نہ ہوجائے بس خوف ورجاء کے درمیان درمیان چلتا رہے تو ایسے (تبتل) کا حکم دیا جا رہا ہے وہ تصنع اور بناوٹ کا (تبتل) نہیں جو شیطان نے انسان کو سکھایا ہے اور بڑے بڑے نامور لوگ اس کے جال میں او اس کے دام فریب میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بہت سے نام ہیں اور نناویں (99) ناموں کا ذکر اکثر احادیث میں ہے اور اسی نسبت سے اس جگہ تلقین کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی ناموں یا صفاتی ناموں میں سے اللہ کو یاد رکھو اور صرف اور صرف دنیا کے ہو کر نہ رہ جائو بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا داروں میں بستے ہوئے اپنی آخرت کی فکر کے دنیا کی فکر سے مقدم کر دو اگر تم نے ایسا کرلیا تو ان شاء اللہ گوہر مقصود حاصل ہوگیا اور اس عارضی زندگی کا راز تم نے سمجھ لیا اور اب تم بےخطر کہو کہ کہ ” پا لیا ، پا لیا “ بلاشبہ تم نے ” پا ہی لیا۔ “
Ayah 73:9

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

(وہی) مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو آپ اس کو اپنا کارساز بنائے رکھئے

اللہ ہی مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی کو کار ساز سمجھو ۔ 9 اس کائنات ہست و بود میں جو کچھ ہے وہ مغرب میں ہے یا مشرق میں ، جنوب میں ہے یا شمال میں ، فضائوں میں ہے یا آسمانوں پر یا زمین میں ہے مختصر یہ کہ تحت الشریٰ سے لے کر ثریا تک جو کچھ ہے وہ اس کے لئے ہے کیونکہ سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس کا بنایا ہوا ہے۔ اسی کا بسایا ہوا ہے او پھر سب نظام اسی کا چلایا ہوا ہے۔ ہر کام ہی اس کی کرشمہ سازی سے ہو رہا ہے ہوتا رہے گا۔ تمہارے لئے پہلی اور آخری ہدایت یہی ہے کہ تم ہر حال میں اس ذات الہ کو اپنا کار ساز بنائو اور اسی کے سامنے اپنی ضرورتوں ، حاجتوں اور خواہشوں کو پیش کرو کہ اس کے سوا کوئی نہیں ہے جو ان کو پورا کرنے اولا ہو۔ دین و دنیا کی سب ھبلائیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہی ہے جو سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔
Ayah 73:10

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور شریفانہ طور پر ان سے الگ تھلگ رہیے

اور جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور شریفانہ طور پر الگ تھلگ رہو ۔ 10 لوگوں کی راہوں سے ہٹ کر جب تم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن ہو گے تو تمہاری مخالفت ہونا یقینی ہے کیونکہ پیچھے سے اسی طرح ہوتا چلا آ رہا ہے اور اسی طرح ہوتا رہے گا تم ان حالات کو دیکھ کر دلبرداشتہ نہ ہونا بلکہ صبر و ثبات کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن رہنا۔ ہم کو معلوم ہے کہ وہ دل جو ان کے لئے ہمدردی اور خلوص کے جذبات سے لبریز ہے وہ بغیر کسی حیل و حجت کے اس کو دکھانے پر لگے ہوئے ہیں اور لگے رہیں گے جو دعوت حق دینے والا ہے اس کو وہ کاہن ، شاعر ، ساحر ، سحر زدہ اور مجنون کے ناموں سے ید کرتے ہیں اور اس طرح نازیبا الفاظ میں ان کا پکار نا ہم سے بھی کوئی پوشیدہ نہیں ہے اس لئے ہم آپ کو پہلی اور آخری تلقین کرتے ہیں کہ ان لوگوں سے بالکل الگ ہو جائو یعنی ذہن و فکر میں ان کا غم نہ کھائو اور جب ہم نے ان کی باگیں ڈھیلی کر رکھی ہیں تو تم کو بھی ان کے کسنے کی ضرورت نہیں۔ اگر یہ لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں ، مذاق اڑاتے ہیں ، جھوٹے الزام تراشتے ہیں ، غلط تہمتیں لگانے ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اور جو کچھ بھی بکتے ہیں ان کو بکنے دو ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دو ۔ ان تک بات پہنچانا آپ کا کام تھا وہ آپ نے کردیا۔ اب آگے اس کو اس پر لگا دینا آپ کے اختیار کی چیز نہیں ہے۔ اس لئے آپ نہایت خاموشی کے ساتھ ان سے اپنے آپ کو الگ کرلیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں لگے رہیں۔ یہی آپ کے سارے ہموم و غموم کا علاج ہے اور اسی میں آپ کی ساری کامیابیوں کا راز پنہاں ہے۔
Ayah 73:11

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں کو جو دنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہیں چھوڑ دیجئے اور ان کو کچھ ڈھیل دے دیجئے

مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو بس چھوڑ دو اور تھوڑی ڈھیل مزید ان کو دے دو ۔ 11 گزشتہ آیت کے مضمون کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹا لیں ، ان کی گستاخیوں اور اذیت رسانیوں کا انتقام لینے کا خیال تک نہ کریں اور آپ ان سارے کاموں کو میرے سپرد کردیں کیونکہ یہ کام آپ کے کرنے کے نہیں ہیں آپ بھی وہی کام کریں جس کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیا ہے میں ان جھوٹے بولنے والوں اور بکواس کرنے والوں سے خود نمٹ لوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ ان کو اس طرح کی جرأت کیسے پیدا ہوگئی جس طرح کی یہ آپ سے باتیں کر رہے ہیں یہ محض اس لئے کر رہے ہیں کہ میں نے ان کو مال دیا ہے اور اولاد دی ہے اور ڈھیروں دولت عطا کردی ہے اور پھر ان ساری چیزوں کے ساتھ ان کو ڈھیل بھی دے دی ہے اور آپ بھی اس میری دی ہوئی ڈھیل کو ڈھیل سمجھ کر گوارا کریں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں پھر جس طرح یہ لوگ مال مست ہیں حال مست بھی ہوں اور اسی نشہ میں رہتے ہوئے ان کا کام تمام کردیا جائے۔
Ayah 73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

بلاشبہ ہمارے پاس قسم قسم کی بیڑیاں ہیں اور جہنم ہے

بلا شبہ ہمارے پاس قسم قسم کی بیڑیاں ہیں اور جہنم بھی ہے ۔ 12 (انکالا) بیڑیاں ، قید ، نکل کی جمع جس کے معنی سخت قید اور آہنی لگام کے ہیں۔ لگام یا لجام اکثر جانوروں کے منہ میں دی جاتی ہے اور بیڑیاں پائوں میں پہنائی جاتی ہیں اور انسانوں کے حق میں یہ دونوں ہی بڑی سزائیں ہیں۔ دنیوی لحاظ سے بھی وہ ان قیدیوں کو پہنائی جاتی ہیں جن کو مقدمہ قتل میں یا کسی دوسرے معاملہ میں موت کی سزا سنائی گئی ہو اور ابھی سزا سنا نہ دی گئی ہو بلکہ اس کے لئے تاریخ مقرر کردی جائے تو پھر ایسے قیدیوں کو بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں گویا یہ سزا دنیا کی سزائوں میں سے بہت سخت سزا سمجھی جاتی ہے۔ فرمایا ہمارے پاس ان کو جکڑنے کے لئے بیڑیاں بھی ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ بھی ، جب ان کو دی گئی مہلت پوری ہوگئی تو اس کا انجام جو کچھ بھی ہوگا وہ دوزخ کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلے میں پھنسنے والا کھانا ہے اور دردناک عذاب بھی ہے

گلے میں پھنسنے والا کھانا بھی ہے اور درد ناک عذاب بھی ہے ۔ 13 (ذاغصۃ) ایسی چیز جو گلے میں جا کر اس طرح اٹک جائے کہ نہ وہ نگلی جاسکے اور نہ ہی باہر لائی جاسکے (غصہ) دراصل گلے کی اس ہڈی کو کہا جاتا ہے یا کوے کو جو گلے کو ضرورت کے مطابق بند کردیتا ہے اور یہ عمل خود بخود طے پا جاتا ہے۔ اس کھانے کی تشریح پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ اہل دوزخ کو دوزخ میں کھانے کے لئے کیا کچھ دیا جائے گا جیسے غسلین زقوم اور حمیم وغیرہ جو عذاب دوزخ میں جلائے جانے کے علاوہ ہوگا اور بلا شبہ یہ عذاب بھی درد ناک عذاب ہے۔ دوزخ میں کیا کچھ دوزخیوں کو پیش کیا جائے گا اس کا ذکر بڑی وضاحت کے ساتھ سورة الرحمٰن اور الواقعہ میں گزر چکا ہے اور یہ دونوں سورتیں عروۃ الوثقی جلد ہشتم میں آ چکی ہیں۔
Ayah 73:14

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے بھر بھرے تودے ہوجائیں گے

جس روز زمن اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے تودے ہوں گے ۔ 14 یہ بیانات اس بات پر دال ہیں کہ یہ جو کچھ ہوگا اچانک نہیں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تبدیلی اچانک نہیں بلک آہستہ آہستہ نمودار ہوگی اور حالات بدلتے رہیں گے اور سب کو نظر آئے گا کہ حالات پہلے جیسے نہیں ہیں بلکہ خاص تبدیلیاں آرہی ہیں اور تھوڑا تھوڑا کر کے کچھ نہ کچھ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ وہ خاص وقت آجائے گا جس کا نام قیامت ہے اور وہ بلاریب اچانک ہوگی۔ جس طرح کوئی چیز بنتے بنتی ہے اسی طرح ہرچیز بگڑتے بگڑتے بگڑ جاتی ہے لیکن یہ بننا اور بگڑنا بہت کم لوگوں کو یاد رہ جاتا ہے اکثر لوگ اس سے وہ اثر قبول نہیں کرتے جو اثر قبول کرنا چاہئے اور یہ سب کچھ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھا ہوتا ہے۔ اس وقت حالات نہایت تیزی سے مختلف ہو رہے ہیں۔ انسان دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قوت برداشت اس میں نہیں ہی ، قوت مدافعت اس کی کمزور ہو رہی ہے ، غذائیں تبدیل ہونے کے باعث ان میں وہ پہلے سا اثر باقی نہیں رہا ، اکثر و بیشتر انسان محض اس لئے کھاتے ہیں کہ کھانے کا وقت ہوچکا ہے بغیر بھوک کے کھایا جانا ، بغیر پیاس کے پیا جانا جیسی بد احتیاطیوں نے بہت سے انسانوں کے حالات کو بالکل بدل دیا ہے۔ گرمی ، سردی ، بارش اور بادل اور ہوا نے اپنا رخ پہلے کی نسبت کافی حد تک بدل دیا ہے۔ موسم میں تبدیلیاں آرہی ہیں۔ گرمی ہے تو وہ اچانک ، سردی ہے تو وہ بھی بالکل اچانک ، غلوں اور پھلوں کی بہتات ہے لیکن کسی چیز میں وہ پہلے والی طاقت ، وہ پہلے والا مزہ بالکل نہیں رہا۔ اشیائے خوردنی کی بہتات اور علم کی کمی نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا بلکہ حیوان بنا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی پیدائش کا سلسلہ مکمل طور پر بدل کر رہ گیا ۔ قدرتی طریقوں کے علاوہ مصنوعی طریقے (Test Tube) تیزی کے ساتھ بڑھتے چلے آ رہے ہیں۔ اسلام سے دوری نے ہم مسلمانوں کو محض نام کے لحاظ سے مسلمان بنا رکھا ہے ورنہ اخلاق و کردار اسلام کا مکمل طور پر مبدل ہوچکا ہے۔ زمین کی قوت نمو مصنوعی طریقوں سے بڑھائی جا رہی ہے جو یکے بعد دیگرے فیل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ زہروں کی بہتات نے حشرارت الارض میں ایک حد تک اضافہ کردیا ہے۔ زمین آہستہ آہستہ کمزور ہو رہی ہے ، زلزلوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، زمین کے کانپنے کی صورت حال پہلے سے بالکل مختلف ہے اور آہستہ آہستہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ان پہاڑوں کی سختی بھی نرمی میں تبدیل ہو رہی ہے اور ہوتے ہوتے ان کو ریت کے تو دوں کی صورت میں تبدیل کردیا جائے گا۔ (کثیباً ) ریت کا ٹیلا یا تودا جو ہوا کے ساتھ اڑنا شروع ہوجائے گا یا پانی کی طرح ہوا کے ساتھ اڑنے لگے گا۔ ان پہاڑوں کی سختی ختم ہو کر رہ جائے گی خواہ یہ بات فی الواقعہ ہوگی اور خواہ کشش ثقل سے کچھ اس طرح کی تبدیلیاں آنا شروع ہوجائیں گی۔ گویا اس وقت جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں ان کی مزید وضاحت ہوجائے گی اور ان کے نتائج اسی طرح نکلنے لگیں گے۔
Ayah 73:15

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر (قیامت کے دن) گواہ ہوگا جیسا ہم نے فرعون کی طرف بھیجا تھا

ہمارا رسول تم پر اس روز گواہ ہوگا جیسے فرعون کی طرف رسول بھیجا گیا تھا ۔ 15 اہل مکہ فرعون مصر کے حالات سے واقف ہوں گے اس لئے ان کو محمد رسول اللہ ﷺ کا تعارف کرایا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی اور اس کا انجام کیا نکلا تھا ؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں تھی اس لئے انکو گویا تقابل کر کے بات سمجھائی جا رہی ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے جس طرح موسٰی (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا اور پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ ہم نے اپنے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کی اور فرعن کو دریا یا سمندر میں غرق کر کے رکھ دیا اور اس طرح فرعون کے دکھ اور تکلیف سے بنی اسرائیل کو آزاد کردیا گیا تھا اسی طرح انجام کار اگر تم نے بھی ہمارے رسول کی مخالفت رکھی تو ہم ایک دن تمہاری مخالفت کا مزا تم کو چکھا دیں گے اور اپنے رسول کی مدد کرتے ہوئے اس کو تمہارے چنگل سے آزاد کر ادیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اگر تم سمجھ جائو گے تو بات اچھی ہوگی ورنہ ہمارا قانون بڑوں بڑوں کو سیدھا کردیتا ہے تم تو ان لوگوں کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتے اس لئے تم کو عذاب سے تہ وبالا کرنا تو کوئی اتنا بڑا کام نہیں ہے اور جب ہمارا حکم آئے گا تو تم اس کی تاب نہیں لائو گے۔ فرعون موسیٰ کے سامنے تمہاری آخر حیثیت ہی کیا ہے ؟
Ayah 73:16

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

پھر (ایسا ہوا کہ) فرعون نے اس رسول کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو پوری طرح پکڑ لیا

فرعون نے ہمارے رسول کا کہا نہ مانا تو ہم نے اس کو بری طرح پکڑ لیا ۔ 16 اے قریش مکہ ! تمہاری طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا اور ہم نے فرعون کو تباہ و بربدا کرنے کے لئے بنی اسرائیل کے پیچھے لگا دیا اور جب اس نے اور اس کے لکشر نے بنی اسرائیل کو دیکھ کر دور سے للکارا اور میرے رسول کی دعوت کی ذرا پروا نہ کرتے ہوئے اس کا اور بنی اسرائیل کا پیچھا شروع کردیا اور عین اس وقت جب وہ بزعم خویش بنی اسرائیل کو پکڑنے ہی والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو پکڑ لیا اور پھر ان میں سے ایک بھی نہ بچا اور ان کو اس طرح سختی سے پکڑ لیا گیا کہ ان کا نام و نشان ہی نہ چھوڑا۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ خدا کی لاٹھی بےآواز ہے کہ جس پر برستی ہے اس کا نام و نشان ہی ختم کر کے رکھ دیتی ہے۔
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

پھر اگر تم بھی (اپنے رسول کا) انکار کرتے رہو گے تو (اس عذاب سے) کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کردینے والا ہے

تم بھی اگر انکار کرتے رہو گے تو کیسے بچو گے اس دن سے جو بچوں کو بوڑھا کردینے والا ہے ۔ 17 کفار مکہ سے بات کہی جا رہی ہے کہ تم نے جو ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی قسم کھائی ہے اور ہر معاملہ میں مخالفت ہی کرتے چلے جا رہے ہو اور مخالفت میں اس حد تک اندھے ہوچکے ہو کہ اپنے آپ کا خیال بھی نہیں رہا کہ اگر تم کو پکڑ لیا گیا تو تمہارا مددگار کون ہوگا ؟ گویا تمہارے مخالفت اندھی ہوچکی ہے۔ اب تم ہی بتائو کہ اگر اللہ نے تم کو پکڑ لیا تو تم کس طرح بچو گے خصوصاً اس دن کے عذاب سے جو دن بچوں کو بوڑھا کردینے والا ہے اور اس کی ہولناکیاں اتنی سخت ہیں کہ اس کے خوف سے بچے بوڑھے نظر آئیں گے۔
Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

جس دن آسمان پھٹ جائیں گے اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا

جس دن آسمان پھٹ جائیں گے اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ۔ 18 (منقطر) اسم فاعل واحد مذکر انفطار مصدر باب انفعال۔ پھٹ جانے والا یعنی پھٹ جائے گا۔ اسم فاعل بمعنی مستقبل۔ اس دن کی ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا اور یہ وہی وقت ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ جو اس نے قیامت کے بپا کرنے کا لوگوں سے کر رکھا ہے وہ پوا ہوجائے گا یعنی قیامت بپا ہوجائے گی اور ہر ایک انسان اپنے اعمال کے نتیجے سے دوچار ہوجائے گا۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

بلاشبہ یہ ( قرآن کریم) نصیحت ہے پھر جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرے

بلاشبہ قرآن کریم ایک نصیحت ہے جو چاہے نصیحت اختیار کر لے ۔ 19 آنے والے وقت کے بارے میں ہم نے اس قرآن کریم میں تم کو بار بار نصیحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تم نصیحت حاصل کرلو اور خواب غفلت سے بیدا رہو جائو۔ دیکھ لو کتنے ہی لوگ ہیں کہ تم اپنے ہاتھوں ان کو رخصت کر آئے ہو اور پھر جو گیا ہے ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا اس لئے اس دار فانی سے نکل جانے کے بعد دوبارہ دار عمل کی طرف تم کو لوٹایا نہیں جائے گا۔ اب تو تمہارے لئے وہ وعدہ کا دن جو مقرر کیا گیا ہے اس کی انتظار کے سوا چارہ نہیں ہے اور ابھی تمہارا وقت ہے جو چلے گئے وہ تو چلے گئے لیکن تم کو سنبھلنے کے لئے جو مہلت دی گئی ہے اگر تم نے بھی اس کو اس طرح ضائع کردیا تو پھر کف افسوس ملتے رہو گے۔ اے لوگو ! آنکھیں کھولو اور صاف اور سیدھا راستہ دیکھو پھر اس پر گامزن ہو جائو اور اپنی زندگی کی اصلاح کرلو اس سے پہلے پہلے کہ تم کو پکڑ لیا جائے اور تمہارے زندگی کا خاتمہ کر کے رکھ دیا جائے۔ ایک بار پھر غور کرلو کہ یہ قرآن کریم تمہارے لئے سراسر نصیحت ہی نصتحی ہے تم اس کو جھٹلا کر اس کا کچھ نقصان نہیں کر رہے بلکہ جو نقصان کر رہے ہو وہ سرا سر تمہارا اپنا ہے پھر سن لو کہ اگر تم چاہو تو تمہاری زندگی تک تم کو سنبھلنے کا موقع دیا گیا ہے اگر تم چاہو تو اپنے پروردگار کی طرف سیدھا راستہ اختیار کرسکتے ہو پھر جب یہ وقت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا تو تم بھی ویسے ہی پچھتاتے رہ جائو گے جیسے گزشتہ لوگ پچھتاتے رہے۔