72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsانوار البیان

Ayah 72:1

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

(72:1) قل ای قل یا محمد ﷺ ۔ اوحی الی : اوحی ماضی مجہول واحد مذکر غائب : ایحاء (افعال) مصدر۔ بمعنی وحی کرنا۔ وحی بھیجنا۔ اشارہ کرنا۔ الی : الی حرف جار اور ی صیغہ واحد متکلم سے مرکب ہے۔ میری طرف۔ (اے محمد ﷺ لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ وحی کے ذریعہ مجھے بتایا گیا ہے : انہ استمع نفر من الجن۔ جملہ نائب فاعل ہے اوحی الی کا۔ انہ میں ان حرف مشبہ بالفعل ہے ہ ضمیر شان اس کا اسم اور باقی جملہ استمع نفر من الجن اس کی خبر ہے۔ استمع واحد مذکر غائب استماع (افتعال) مصدر۔ اس نے گور سے سنا۔ اس نے اچھی طرح متوجہ ہوکر سنا۔ اس نے کان لگا کر سنا۔ نفر اسم جمع۔ جماعت۔ گروہ۔ متعدد افراد کی ٹولی۔ نفر تین سے دن تک کی جماعت کو کہتے ہیں۔ اس سے زیادہ کے لئے بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ نفر و نفور (باب ضرب) جانوروں کا بدک کر یا ڈر کر بھاگنا۔ نفرت کرنا۔ جماعت کی صورت میں جنگ وغیرہ کے لئے نکلنا ۔ من الجن : من تبعیضیہ ہے۔ جنوں میں سے (ایک گروہ) ترجمہ ہوگا :۔ کہ جنوں میں سے ایک گروہ نے (مجھ سے قرآن پڑھتے) سنا ہے۔ فائدہ : الجن ایک مخلوق ہے جو انسانوں کی نگاہ سے پوشیدہ رہتی ہے۔ یہ جن و جنون سے مشتق ہے اس کا واحد جنی اور مؤنث جنیۃ ہے۔ جن (باب نصر) بمعنی رات کی تاریک ہونا (کسی شے کو) چھپا لینا یا کسی چیز کا حواس سے چھپ جانا۔ جن الشیء کے معنی ہیں اس نے اس شی کو چھپا دیا۔ جن علیہ الیل (6:77) رات نے اس کو (اپنی تاریکی ) میں چھپالیا۔ الجنین اس بچے کو کہتے ہیں جو ماں کے پیٹ میں چھپا ہوتا ہے اور الجنین قبر کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ میت کو چھپا لیتی ہے جنان قلب کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ سینہ میں چھپا ہوتا ہے۔ الجنۃ زرہ، بکتر کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ جسم کو چھپا لیتا ہے اسی طرح ڈھال کو بھی الجنۃ کہتے ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی جسم کو چھپا لیتی ہے۔ اسی طرح الجنۃ اس باغ کو کہتے ہیں کہ جس کے درخت اس کی زمین کو ڈھانپ لیں۔ پاگل پن کو جنون کہتے ہیں کیونکہ وہ عقل کو ڈھانپ لیتا ہے۔ لہٰذا جن اس مخلوق کو کہتے ہیں جو انسانی نگاہ سے پوشیدہ رہے۔ قوم کے بڑے آدمی کو بھی جن کہتے ہیں کیونکہ لوگوں نے اس کے گرد حلقہ باندھ کر اسے چھپا رکھا ہوتا ہے (لسان) وحشی کو بھی جن کہتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں سے چھپا رہتا ہے (لسان) تیز طراز آدمی کو بھی جن کہتے ہیں (لین) جن اور مخلوقات کی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل مخلوق ہے ان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے قرآن مجید میں ہے :۔ وخلق الجان من مارج من نار (55:15) اور اس نے جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ لیکن ان کی تخلیق کی تفصیلی کیفیت سے ہم کو آگاہی نہیں ہے اور ہماری طرح یہ بھی احکام شرعیہ کے مکلف ہیں۔ ان میں تو الدو تناسل کا سلسلہ بھی ہے اور ان میں نیک و بد بھی ہیں۔ امام راغب (رح) فرماتے ہیں کہ :۔ لفظ جن کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔ ایک بمقابلہ انسان ان تمام روحانیوں کے لئے جو اس سے پوشیدہ ہیں۔ اس صورت میں فرشتہ اور شیاطین بھی اس میں آجاتے ہیں۔۔ پس ہر فرشتہ جن ہے اور ہر جن فرشتہ نہیں ہے اور اسی طرح ابو صالح نے کہا ہے کہ سب فرشتے جن ہیں اور بعض کا قول ہے کہ نہیں بلکہ جن روحانیوں کی ایک قسم ہیں کیونکہ روحیانیوں کی تین قسمیں ہیں۔ (1) اخیار۔ یعنی نیک ہی نیک یہ فرشتے ہیں۔ (2) اشرار یعنی سر تا سر بد۔ یہ شیاطین ہیں۔ (3) اوسط۔ یعنی درمیانی۔ ان میں نیک بھی ہیں اور بد اور شریر بھی۔ یہ جن ہیں۔ چناچہ ارشاد الٰہی :۔ قل اوحی الی سے لے کروانا منا المسلمون ومنا القسطون (یعنی ہم میں حکم بردار بھی ہیں اور بےانصاف بھی) اس بات کو بتلا رہا ہے۔ تمام ارباب مذاہب کے نزدیک جو کسی آسمانی مذہب کے قائل ہیں جن کو وجود مسلم ہے۔ لیکن بعض دانش فروشوں نے ان کے ماننے سے انکار کردیا ہے حالانکہ عقلا کوئی وجہ نہیں ہے انکار کی۔ سوائے اس کے کہ ان کا وجود ہماری نظروں سے اوجھل ہے اور ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن کسی چیز کو نظر نہ آنا یا اس کی کیفیت کا ہمیں معلوم نہ ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل کب ہے۔ قرآن مجید و احادیث متواترہ کے نصوص جب صراحت کے ساتھ جن کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔ اور بہت سء حدیثوں میں روایت جن کا ذکر بھی ہے تو پھر کسی مسلمان کو جن کے ماننے سے انکار کرنے کے کیا معنی ؟ قادیانیوں نے قرآن مجید میں جہاں جہاں جن کا ذکر ہے اس سے مراد انسان ہی لئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو جگہ جگہ ایسی تاویلیں کرنی پڑیں کہ ان کو پڑھ کر بےاختیار ہنسی آنے لگتی ہے اتنا نہیں سمجھتے کہ قرآن مجید میں ان کی پیدائش شعلہ آتش سے بیان کی گئی ہے تو کیا انسان بھی آتش سے پیدا کئے گئے ہیں۔ حالانکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق صاف صریح ہے خلقہ من تراب (3:59) (اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا) پھر یہ آگ سے پیدا شدہ انسان کون سے آدم کی نسل سے ہیں۔ حافظ الحدیث قاضی بدر الدین شلبی حنفی المتوفی 769 ھ کی کتاب آکام المرجان فی احکام الجان۔ جنوں کے حالات میں ایک مستقل اور مفصل تصنیف ہے (از لغات القرآن) حضرت پیر کرم شاہ صاحب اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں لکھتے ہیں :۔ کتب احادیث میں جنات کی حاضری کے بارے میں متعدد روایات ہیں۔ محدثین کی تحقیق یہ ہے کہ جنات چھ مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت عالیہ مطہرہ میں حاضر ہوئے ہیں۔ پہلی حاضری وہ ہے کہ جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے، صحیح روایت کے مطابق یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب حضور ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جا رہے تھے یہ جگہ مکہ سے رو رات کی مسافت پر ہے یہاں زمانہ جاہلیت میں پہلے لگا کرتے تھے خریدوفرخت ہوتی تھی اور اردگرد کے سارے قبائل وہاں جمع ہوتے تھے۔ نخلہ کے مقام پر صبح کا وقت ہوگیا۔ حضور ﷺ صبح کی نماز ادا کر رہے تھے اور سورة اقراء یا سورة طہ کی تلاوت ہو رہی تھی کہ جنات کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی آواز جب انہوں نے سنی۔ تو وہاں رک گئے بڑہ خاموشی اور توجہ سے اس کو سنتے رہے اس کلام پاک کے سننے روشن ہوگئے۔ دولت ایمان سے مالا مال ہوکر جب وہ اپنے قبیلہ میں پہنچے تو انہوں نے ان کو بھی بتایا کہ ہمارے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا اور ہم نے کفر اور شرک سے توبہ کرلی ہے تمہارے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ تم جن گمراہیوں میں مبتلا ہو ان سے برأت کا اظہار کرو اور اس رسول اکرم ﷺ کی دعوت قبول کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے ان جنات کی آمد ، قرآن کریم کو غور سے سننے اور پھر اس کو اپنے قبیلہ میں جا کر بیان کرنے کے سارے حالات بذریعہ وحی اپنے نبی کریم ﷺ کو بتا دئیے اور حکم دیا کہ آپ سب لوگوں میں اس کا اعلان کردیں۔ فقالوا :کا عطف محذوف پر ہے۔ ای لما رجعوا الی قومہم فقالوا۔ جب وہ واپس اپنی قوم میں گئے تو انہوں نے کہا ۔۔ الخ۔ قرانا عجبا : موصوف و صفت بوجہ سمعنا کے مفعول ہونے کے منصوب ہے، عجبا مصدر ہے اس کو صفت کے صیغہ میں مبالغہ کے لئے لائے ہیں ۔ مطلب یہ کہ :۔ ہم نے قرآن سنا ہے جو نہایت نادر اور عجیب ہے۔
Ayah 72:2

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کا راستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

(72:2) یہدی الی الرشد۔ یہ جملہ قرآن کی صفت ہے۔ یھدی مضارع معروف واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ یہ ہدایت کرتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ الرشد، بھلائی۔ نیک راہ، راستی، راہ راست۔ فامنا بہ :تعلیل کا ہے۔ امنا ماضی جمع متکلم ایمان (افعال) مصدر سے۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ سو (اس لئے) ہم اس (قرآن) پر ایمان لے آئے۔ ولن تشرک۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف امنا بہ پر ہے۔ لن نشرک مضارع منفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع متکلم اشراک (افعال) مصدر۔ ہم ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ احد (کسی کو) منصوب بوجہ مفعول ہونے لن نشرک کے۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے۔ وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ اولاد

(72:3) وانہ تعالیٰ جد ربنا۔ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان (اسم ان) جس کا مرجع رب ہے اور تعالیٰ جد ربنا اس کی خبر ۔ تعالیٰ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر۔ وہ بلندو برتر ہے۔ باب تفاعل کی ایک خاصیت تکلف ہے لیکن یہاں اس کا استعمال تکلف کے لئے نہیں بلکہ مبالغہ کے لئے آیا ہے۔ جد ربنا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ جد کا۔ ہمارے رب کی بزرگی و عظمت مجاہد، عکرمہ ، قتادہ نے بھی جد کے معنی (بزرگی و عظمت) کئے ہیں۔ حضرت انس کا قول ہے :۔ کان الرجل اذاقرؤ بقرۃ وال عمران جدفینا۔ (جب کوئی آدمی سورة بقرہ اور آل عمران پڑھ لیتا تو ہم میں اس کا مرتبہ بڑھ جاتا۔ اس قول سے بھی مجاہد کی تفسیر کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن سدی نے جد کا معنی امر اور حسن نے غنا یعنی بےنیازی۔ حضرت ابن عباس نے قدرت اور ضحاک نے فعل، قرطبی نے نعمتیں اور اخفض نے حکومت اور اقتدار بیان کیا ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور یہ کہ ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے۔ ما اتخذ صاحبۃ ولا ولدا : ما نافیہ ہے اتخذ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتخاذ (افتعال) مصدر بمعنی اختیار کرنا پسند کرنا صاحبۃ ساتھ رہنے والی۔ جورو، بیوی۔ صحبۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے منصوب بوجہ اتخذ کے مفعول ہونے کے ہے۔ ولدا۔ اسم جنس، نکرہ۔ (منصوب بوجہ مفعول ہونے کے) کوئی بچہ ایک ہو یا چند۔ (ایک سے زیادہ) لڑکا ہو یا لڑکی۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس کی بیوی اور نہ کوئی اولاد۔ یہ جملہ ان کی خبر دوم ہے۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افترا کرتا ہے

(72:4) وانہ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ وانہ تعالیٰ ۔۔ الخ پر ہے واؤ حرف عطف ۔ ان حرف مشبہ بفعل ہ ضمیر شان و اسم ان باقی جملہ اس کی خبر۔ ہ ضمیر کا مرجع سفیہنا ہے کان یقول : ماضی استمراری صیغہ واحد مذکر غائب۔ سفیہنا مضاف مضاف الیہ۔ صیغہ سے مراد نادان ہے یا بقول قتادہ مجاہد ۔ اس سے مراد ابلیس ہے اذ لیس فوقہ سفیہ کہ اس سے بڑھ کر کوئی نادان اور جاہل نہیں ہے۔ بیضاوی اور خازن نے بھی اس سے مراد ابلیس ہی لیا ہے۔ اور بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد سرکش جنات ہیں اور سفیہنا کا ترجمہ ہوگا :۔ ہم میں سے کا جاہل و نادان۔ شططا۔ یہ مصدر ہے (باب نصر و ضرب) اس کے اصل معنی افراط بعد کے ہیں۔ یعنی حد سے زیادہ دور ہونے کے ہیں اور چونکہ حد سے بڑھنا جور وستم ہے اس لئے اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اسی لئے اس بات کو جو حق سے دور ہو شططا کہتے ہیں ۔ اور جگہ قرآن پاک میں آیا ہے :۔ فاحکم بیننا بالحق ولا تشططا (38:22) تو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی سے کام نہ لیجئے گا۔ آیت ہذا کا ترجمہ ہوگا :۔ اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف (ایسے بھی ہو گزرے) ہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹی اور دور از حق باتیں بنایا کرتے تھے (یعنی یہ کہ اللہ کے بیوی بچے ہیں) ۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے

(72:5) وانا ظننا۔ اس کا عطف بھی جملہ وانہ تعالیٰ جد رہنا پر ہے ظننا ماضی جمع متکلم فلن (باب نصر) سے مصدر۔ ہم سمجھے ہوئے تھے۔ ہمارا گمان تھا۔ ان لن تقول : ان مصدریہ بمعنی کہ ” لن تقول “ مضارع منفی تاکید بلن منصوب صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کذبا۔ صفت ہے موصوف محذوف کی۔ ای قولا کذبا۔ جھوٹی بات۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انسان اور جن اللہ پر چھوٹی بات نہیں بنایا کرتے۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

(72:6) وانہ اور یہ کہ ۔۔ من الانس میں من تبعیضیہ ہے انسانوں میں سے بعض کچھ آدمی۔ یعوذون۔ مضارع جمع مذکر غائب عوذ ومعاذ (باب نصر) مصدر۔ پناہ طلب کرتے تھے۔ من الجن میں بھی من تبعیضیہ ہے۔ جنات میں سے چند مردوں کی۔ رجال رجل کی جمع ، مرد۔ مطلب :۔ اور یہ کہ انسانوں میں سے بعض مرد بعض جنات مردوں کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ فزادوھم رھقا :تعقیب کی زادوا ماضی جمع مذکر غائب اس میں ضمیر فاعل کا مرجع رجال من الانس ہے زیادۃ (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی زیادہ کرنا۔ بڑھانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکرغائب جس کا مرجع رجال من الجن ہے۔ انہوں نے ان کو زیادہ کیا۔ انہوں نے ان کو بڑھایا۔ رھقا۔ سرکشی ، تکبر۔ سرچڑھنا۔ ستم۔ زیادتی۔ زبردستی۔ رھق یرھق (سمع) سے مصدر ہے۔ اصل میں اس کے معنی ایک شے کے دوسری شے پر چھا جانے کے ہیں اور چونکہ اس کا نتیجہ تباہی ہئ۔ اس لئے تباہ ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور آیت ہذا میں اس کے معنی سرکشی و تکبر کے مراد ہیں۔ ترجمہ :۔ پس بڑھا دیا انہوں نے (یعنی بنی آدم نے) ان کو (جناب کو) ازراہ تکبر و غرور یعنی بنی آدم کے اس فعل سے جنات مردوں کا غرور اور تکبر اور بڑھ گیا۔ فائدہ : کان الرجل من العرب اذا امسی فی وادقفر وخاف علی نفسہ نادی باعلی صوتہ یا عزیز ھذا الوادی اعوذ بک من السفہاھ الذین فی طاعتک یرید الجن و کبیرہم فاذا اسمعوا بذلک اسکتبروا۔ قالوا اسدنا الجن والانس (روح المعانی) ۔ یعنی :۔ اہل عرب میں سے کسی کو اگر کسی غیر آباد بیابان وادی میں رات پڑجاتی اور اسے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوتا تو وہ بلند آواز سے پکارتا اے و اس وادی کے سردار ! میں ان تمام ظالموں و جاہلوں سے جو تیری اطاعت میں ہیں (یعنی جن اور ان کے کبائر) تیری پناہ مانگنا ہوں۔ جب جن یہ پکار سنتے تو وہ اور غرور و نخوت سے بھر جاتے اور کہتے کہ ہم جنوں اور انسانوں سب کے سردار بن گئے ہیں۔
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمھار تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا

(72:7) وانھم ظنوا کما ظننتم : واؤ عاطفہ، انھم میں ان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ سب لوگ ہم ضمیر کا مرجع بنی آدم ہیں۔ ظنوا ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے گمان کیا۔ انہوں نے خیال کیا۔ انہوں نے سمجھا کما میں ک تشبیہ کے لئے ہے تم نے خیال کیا۔ تم ضمیرجمع مذکر حاضر کا مرجع وہ جن ہیں کہ جن کو مخاطب کرکے قرآن سن کر آنے والے جنات اپنے تاثرات بیان کر رہے تھے : وہ بتا رہے تھے کہ انسانوں نے بھی وہی سمجھ رکھا تھا جو اے جنات تم نے سمجھ رکھا تھا۔ یعنی اللہ کسی کو رسول مبعوث نہیں کرے گا ان لن یبعث اللہ احدا : ان مصدریہ۔ لن یبعث مضارع منصوب نفی تاکید بلن۔ وہ ہرگز نہیں اٹھائے گا۔ وہ ہرگز نہیں بھیجے گا (رسول بنا کر) کسی کو بھی منصوب بوجہ مفعول ہے۔ کہ اللہ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔
Ayah 72:8

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

(72:8) وانا لمسنا السماء واؤ حرف عاطفہ، انا حرف مشبہ بفعل نا ضمیر جمع متکلم بیشک ہم۔ لمسنا السمائ : لمسنا ماضی جمع متکلم لمس باب نصر، ضرب۔ مصدریہ۔ ہم نے ٹٹولا۔ ہم نے ڈھونڈا۔ ہم نے قصد کیا۔ اور باب مفاعلۃ سے بمعنی عورت سے جماع کرنے کے آتا ہے مثلاً قرآن مجید میں آتا ہے او لمستم النساء (5:6) یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو۔ (ایک قرأت میں لمستم النساء بھی آیا ہے) لمس کے اصل معنی مس کی طرح اعضاء کی بالائی کھال کے ساتھ کسی چیز کو چھوکر اس کا ادراک کرلینے کے ہیں۔ اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹول ڈالا۔ ٹٹول دیکھا۔ فوجدھا :ما قبل کے انجام کے لئے بمعنی تو۔ ھا ضمیر کا مرجع السماء ہے۔ تو ہم نے اس کو پایا۔ ملئت : ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ملا (باب فتح) مصدر بمعنی بھرنا۔ حرسا شدیدا۔ موصوف و صفت۔ حرس۔ پاسبان، چوکیدار۔ حارس کی جمع خدم یا خرم کی طرح اسم جمع ہے۔ شدیدا : مضبوط۔ زبردست۔ شھبا شھاب کی جمع ہے یعنی ستاروں سے ٹوٹ کر نکلنے والا آگ کا شعلہ۔ حرسا اور شھبا بوجہ منصوب ہیں۔ مطلب یہ کہ ہم نے آسمان کو قوی نگرانوں سے یعنی ان ملائکہ سے جو آسمان تک پہنچنے سے روکتے ہیں ٹوٹنے والے شعلوں سے بھرا ہوا پایا۔
Ayah 72:9

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کیلیے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے

(72:9) وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع واؤ عاطفہ، انا تحقیق ہم۔ یہ کہ ہم کنا نقعد ماضی استمراری صیغہ جمع متکلم قعود (باب نصر) مصدر۔ ہم بیٹھتے تھے۔ ہم بیٹھا کرتے تھے۔ منھا : من حرف جار ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مجرور۔ کا مرجع السماء ہے۔ مقاعد جمع مقعد کی۔ بیٹھنے کی جگہ۔ اسم ظرف مکان نقعد کا مفعول ۔ قعود (باب نصر) مصدر۔ اور یہ کہ ہم (پہلے) تو آسمانوں کے بعض ٹھکانوں میں (بیٹھنے کی جگہوں پر) سننے کیلئے بیٹھ جایا کرتے تھے۔ فمن :عاطفہ، من شرطیہ جو کوئی۔ یستمع۔ مضارع مجزوم۔ مکسور بالوصل۔ واحد مذکر۔ استماع (افتعال) مصدر۔ بمعنی سننے کے لئے کوشش کرنا۔ الئن : اب۔ اسم ظرف زمان ہے مینہ برفتحہ، ال بعض کے نزدیک تعریف کا ہے زائدہ اور بعض کے نزدیک لازم۔ یجد : مضارع مجزوم واحد مذکر غائب وجد (باب ضرب) مصدر۔ وہ پاتا ہے وہ پائے گا۔ شھابا رصدا۔ موصوف و صفت۔ شھاب انگارہ۔ وہ چمکدار شعلہ جو بھڑکتی ہوئی آگ میں سے نکلتا ہے۔ فضاء میں جو تارا ٹوٹا ہوا نظر آتا ہے۔ رصدا : چوکیدار۔ نگہبان، گھات، رصد یرصد (باب نصر) کا مصدر ہے جس کے معنی گھات لگانے اور نگاہ رکھنے کے ہیں۔ مصدر مذکور اسم فاعل اسم مفعول دونوں کے معنی میں مستعمل ہے نیز تثنیہ، واحد، جمع سب کے لئے آتا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں لفظ رصد استعمال ہوا ہے ان سب کا احتمال ہے۔
Ayah 72:10

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا انکے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

(72:10) وانا۔ اور یہ کہ۔ لا ندری مضارع منفی جمع متکلم درایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہم نہیں جانتے تھے اور ہم اس سے پہلے واقف نہ تھے کہ ۔۔ اشر ارید بمن فی الارض۔ ہمزہ استفہامیہ۔ شر مفعول مالم یسلم فاعلہ، (نائب فاعل) ۔ ارید ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ ب (حرف جر) الصاق کے لئے۔ من موصولہ فی الارض اس کا صلہ۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ ؤیحسراسۃ السماء رومی الشھاب ارید شر بمن فی الارض کیا آسمانوں کی نگہبانی میں اور آگ کے انگاروں کی بوچھاڑ سے زمین والوں کو کوئی عذاب دینا مقصود ہے ؟ رشدا : رشد یرشد باب نصر کا مصدر ہے جس کے معنی راہ پانے کے ہیں راپ یابی۔ بھلائی۔ راستی۔ نیکی ، بہتری ، یا ان کا پروردگار ان سے کوئی بہتری کرنا چاہنا ہے۔ علامہ ثناء اللہ پانی پتی (رح) تحریر فرماتے ہیں : ۔ اچھائی ہو یا برائی۔ خیر ہو یا شر، سب اللہ کے ارادہ سے ہوتی ہے اور اسی کی پیدا بھی کی ہوئی ہے۔ لیکن ادب کا تقاضا تھا کہ ارادہ شر کی نسبت صراحۃ خدا کی طرف نہ کی جائے اور ارادہ خیر کا فاعل صراحۃ اللہ کو قرار دیا جائے اسی لئے شر کے ساتھ لفظ ارید بصیغیہ مجہول اور شر کے ساتھ اراد بصیغہ معروف ذکر کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے :۔ کہ پروردگار عالم جب کسی کا حکم جاری کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے ملائکہ سبحان اللہ کہتے ہیں ۔ پھر ان سے متصل آسمان والے سبحان اللہ کہتے ہیں یہاں تک کہ اس نچلے آسمان والوں تک تسبیح کی نوبت آتی ہے عرش کو اٹھانے والے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا۔ دوسرے بتاتے ہیں اسی طرح آسمانوں والے باہم پوچھتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بات اس آسمان تک پہنچتی ہے۔ (مسلم ۔ از مظہری) یہاں آسمان دنیا کے نیچے مختلف ٹھکانوں پر جنات اس گھاٹ میں چھپ کر بیٹھے ہوتے کہ کوئی بات ملائکہ سے یہ بھی سن لیں۔ جب یہ کوئی بات مائ کہ سے سن پانے میں کامیاب ہوجاتے تو اسے اپنے دیگر جنات کو نیچے کی طرف منتقل کردیتے۔ تاآنکہ وہ بات ان کے سب سے نیچے زمین پر موجود جنات تک پہنچ جاتی جو آگے اپنے دوست کاہنوں اور ساحروں کو دے دیتے ۔ اور یہ کاہن اور ساحر اس میں مبالغہ کرکے اور کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر انسانوں سے بیان کردیتے۔ ایسی باتوں میں جھوٹ اور سچ کا عجیب اختلاط ہوتا۔ یہ طریقہ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے تک کاہنوں اور ساحروں نے اپنایا ہوا تھا۔ جب رسول کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو جنات نے دیکھا کہ عالم بالا میں یکلخت ایک عظیم تبدیلی آگئی ہے جو نہی وہ آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہر طرف سخت گیر پہرے دار متعین پاتے اور ہر طرف ان پر شہابوں کی بارش ہونے لگتی۔ جنات باہمی مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے کہ ان جدید انتظامات کی وجہ معلوم کریں۔ کہنے لگے کہ یا تو اہل زمین پر عذاب نازل کرنے کے انتظامات ہو رہے ہیں اور اس پروگرام کو صیغہ راز میں رکھنے کے لئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کوئی نبی مبعوث فرمانے والا ہے تاکہ ان خفتہ بخت انسانوں کو بیدار کرکے انہیں راہ ہدایت پر گامزن کرے۔ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لئے متعدد دستے تشکیل دئیے گئے کہ روئے زمین پر گشت لگائیں اور اس کی وجہ معلوم کریں۔ انہیں میں سے ایک گروہ جو تہامہ کی چھان بین کے لئے مقرر ہوا تھا نخیلہ کے پاس سے اس وقت گزرا جب سرور عالم ﷺ نماز صبح میں قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے۔ وہاں ہی سماع قرآن کا واقعہ پیش آیا۔ اس سارے قصہ میں تمام تفصیلات کا تعلق غیر مرئی اور حواس انسانی کی دسترس سے بالاتر واقعات سے ہے۔ اس لئے بعض اس پر یقین کرنے میں تامل کرتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کائنات کی ماہیت کا انسان کو علم ہے ہی کیا۔ ہزاروں صدیوں سے وہ اس کو سمجھنے کی کدوکاوش ہے لیکن ہنوز وہ اس بچے کی طرح ہے جو ایک بحربے کراں کے کنارے کنکریوں سے کھیل رہا ہے اور اس کے سامنے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں بیحد و حساب موتیوں کے خزانے چھپے پڑے ہیں۔ جب ہمارے علم ناقص کی یہ حلت ہے تو ہمیں خالق کائنات کے فرمودات پر بلاچون وچرا یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہ جاتا۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

(72:11) وانا مما الصلحون اور یہ کہ ہم میں سے بعض نیک بھی ہیں۔ علامہ پانی پتی (رح) تعالیٰ لکھتے ہیں :۔ صالحون سے مراد ہیں وہ جنات جو گزشتہ انبیاء اور آسمانی کتابوں ہر خصوصا تورات پر ایمان رکھتے تھے۔ ومنا دون ذلک : دون فوق فوق کی نقیض ہے ظرف ہوکر استعمال ہوتا ہے بمعنی جو کسی سے نیچے ہو۔ دون مضاف ذلک مضاف الیہ۔ اور بعض ہم میں سے اس وجہ سے نیچے ہیں۔ یعنی صالحین کے درجے سے نیچے ہیں صالح نہیں ہیں۔ اس کے سوا ہیں۔ فتنہ پرور، شرارتی ، فسادی و گمراہ ہیں۔ کنا طرائق قددا : طرائق جمع ہے طریقۃ کی۔ راہیں۔ طریقے۔ آسمان کے طبقے۔ یہاں اس آیت میں مسلک ، مشرب نیز درجات کا اختلاف مراد ہے۔ قددا جمع ہے قدۃ کی۔ مختلف راہیں۔ جدا جدا ارادے رکھنے والے لوگ۔ یا گروہ ۔ کنا طرائق قدرا : ای کنا ذوی طرائق قددا : ہمارے بھی کئی مسلک ہیں۔ ہم بھی کئی متفرق راستوں پر گامزن ہیں۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اسکو تھکا سکتے ہیں

(72:12) واذا ظننا۔ اور یہ کہ اب ہم سمجھ گئے۔ ان لن نعجز اللہ فی الارض : ان مصدریہ لن نعجز مضارع منفی منصوب تاکید بہ لن۔ صغیر جمع متکلم۔ اللہ مفعول ۔ ہم زمین پر بھی اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کرسکتے۔ ھربا مصدر موضع حال میں ہے بمعنی ھاربین منھا اور نہ ہی ہم بھاگ کر اسے ہراسکتے ہیں۔ ھرب (باب نصر) بھاگنا۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا

(72:13) لما کلمہ ظرف۔ جب۔ الھدی : ای القران۔ فمن یؤمن بربہ :سببیہ۔ من شرطیہ۔ یؤمن مضارع مجزوم واحد مذکر غائب ایمان (افعال) مصدر سے جملہ شرطیہ ہے پس جو اپنے رب پر ایمان لاتا ہے ۔ فلا یخاف بخسا۔جواب شرط کے لئے ہے بخسا، بخس (باب سمع) کے معنی کوئی چیز ظالما کم کرنا کے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے وہم فیہا لا یبخسون (11:15) اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ البخس والیاخس حقیر اور ناقص چیز۔ آیت ہذا میں بخسا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے تو نہ اس کو گھاٹے کا خوف ہے ۔ ولا رھقا : جملہ کا جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ اس کو ظلم کا ڈر ہے۔ رھقا سرکشی، تکبر سرچڑھنا۔ ستم ۔ ظلم۔ زیادتی۔ زبردستی۔ یہاں مصدر بمعنی مفعول ہے نیز ملاحظہ ہو 72:6 ۔
Ayah 72:14

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں تو جو فرماں بردار ہوئے وہ سیدھے راستے پر چلے

(72:14) المسلمون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ المسلم فرماں بردار۔ مسلمان۔ القاسطون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ قاسط واحد۔ اگر قسط واقسط (باب ضرب و نصر) مصدر سے آتے تو اس کے معنی ہوں گے انصاف کرنے والا۔ اور اگر مصدر قسط وقسوط سے (باب ضرب) سے آئے تو اس کے معنی ہوں گے ظلم کرنے والا۔ ناانصافی کرنے والا۔ یہاں چونکہ القاسطون کے مد مقابل المسلمون آیا ہے لہٰذا یہ مصدر قسط وقسوط (باب ضرب) سے بمعنی ظلم کرنے والا۔ کج روی کرنے والا ہوگا۔ اسی مادہ (قسط) سے باب افعال سے اسم فاعل المقسط کا مطلب ہے انصاف کرنے والا۔ قرآن مجید میں ہے ان اللہ یحب المقسطین (49:9) بیشک خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ فمن اسلم :بمعنی سو۔ پس ۔ من شرطیہ ۔ جملہ شرطیہ ہے پس جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ (من بمعنی) جمع آیا ہے۔ جیسا کہ اولئک سے ظاہر ہے۔ فالئک تحریرا رشدا : جملہ جواب شرط ۔جواب شرط کے لئے ہے۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر تحروا ماضی جمع مذکر حاضر۔ تحری (تفعل) مصدر جس کے معنی عمدہ اور مناسب ترین رائے کو ڈھونڈھنے اور اچھی چیز کا قصد کرنے کے ہیں ۔ قصد کیا۔ رشدا واحد مذکر اسم مفعول۔ راستی، بھلائی، نیکی، راہ حق، رشد یرشد (باب نصر) کا مصدر ہے جس کا معنی راہ راست پانا۔ راہ راست تلاش کرنا۔ یا ڈھونڈھنا ہے۔ تو انہوں نے راہ حق تلاش کرلی۔ یہ جملہ سابقہ جملہ سے جواب شرط ہے۔
Ayah 72:15

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

(72:15) واما القاسطون واؤ عاطفہ، اما حرف شرط۔ اما القاسطون جملہ شرطیہ ہے اور جو کج روی کرنے والے ہیں ۔ فکانوا لجھنم حطبا :جواب شرط کے لئے کانوا فعل ناقص ماضی جمع مذکر غائب، ضمیر فاعل اسم کانوا حطبا اس کی خبر، جملہ جواب شرط ہے۔ تو وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ حضور ﷺ سے فجر کی نماز میں قرآن سن کر آنے والے جن استماع قرآن اور اپنے تاثرات کا جو ذکر اپنے قبیلہ کے جنوں سے بیان کر رہے ہیں جو کہ انا سمعنا قرانا عجبا سے (آیت نمبر 1) شروع ہوا تھا۔ یہاں ختم ہوگیا۔ بعد کا قصہ بیان نہیں فرمایا کہ مخاطب جنوں کی جماعت ایمان لائی یا نہیں، احادیث سے ثابت ہے کہ لائی، ان جملوں کی زبانی کلام بیان کرکے کفار مکہ کو سمجھانا مقصود ہے
Ayah 72:16

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو ) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم انکے پینے کو بہت سا پانی دیتے

(72:16) وان لو استقاموا علی الطریقۃ اس جملہ کا عطف انہ استمع (آیت نمبر 1 متذکرہ بالا) پر ہے۔ تقدیر کلام ہے : اوحی الی انہ استمع ۔۔ وان لو استقاموا ۔۔ ان مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوکر ان بن گیا ہے ان کا اسم جو ضمیر شان ہے (استفعال) مصدر۔ قائم رہنا۔ سیدھا رہنا۔ ثابت قدم رہنا۔ الطریقۃ۔ اللہ کا پسندیدہ راستہ، یعنی دین اسلام۔ مطلب یہ کہ :۔ میرے پاس اس بات کی بھی وحی ہے کہ اگر جن و انس دین اسلام پر قائم رہیں گے ۔۔ یہ جملہ شرطیہ ہے اگلا جملہ اس کی جزاء ہے۔ لاسقینہم ماء غدقا۔ جملہ سابقہ سے جواب شرط ہے لام تاکید کا ہے۔ اسقینا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ اسقاء (افعال) مصدر بمعنی پلانا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ماء مفعول ثانی۔ غدقا صفت اپنے موصوف ماء کی۔ الغدق کے معنی بہت زیادہ اور افراط کے ہیں۔ اصل میں یہ باب سمع سے مصدر ہے بمعنی پانی کا بہت ہونا۔ مبالغہ کے طور پر ” بہت پانی “ کے معنی میں آتا ہے۔ تو ہم ان کو پانی کی ریل پیل سے سیراب کردیں گے۔ (مال و اولاد کھیتی باڑی، تندرستی، عافیت کو ماء غدقا سے تعبیر کرنا عرب کا محاورہ ہے)
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس سے انکی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیر لے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

(72:17) لنفتنھم فیہ : لام علت کا ہے۔ نفقن مضارع منصوب جمع متکلم، فتنۃ وفتون (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی امتحان لینا۔ آزمائش میں ڈالنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب فیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع فراوانی (ماء غدقا) ہے تاکہ ہم ان کی آزمائش کریں۔ ای نختبرہم ایشکرون ام یکفرون (ایسر التفاسیر، اضواء البیان، بیضاوی، مظہری) بعض کے نزدیک ہم کی ضمیر کا مرجع جنوں کے لئے ہے لیکن جمہور کے نزدیک اصح یہی ہے کہ یہ کفار مکہ کے لئے ہے جیسا کہ استقاموا (آیت نمبر 16) میں ہے۔ ومن یعرض عن ذکر ربہ واؤ عاطفہ ہے من شرطیہ یعرض مضارع مجزوم واحد مذکر۔ غائب اعراض (افعال) مصدر بمعنی روگردانی کرنا۔ اعراض کرنا۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اور جس نے اپنے رب کی یاد سے منہ موڑا۔ جملہ شرطیہ ہے۔ یسئل کہ عذابا صعدا۔ یہ جملہ جواب شرط ہے۔ یسلک مضارع مجزوم واحد مذکر غائب ضمیر فاعل رب کی طرف راجع ہے۔ سلک و سلوک (باب ضرب) مصدر سلک فعل لازم ماضی۔ وہ چلا۔ متعدی اس نے چلایا۔ اس نے داخل کیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جو من کی طرف راجع ہے۔ عذابا صعدا۔ موصوف و صفت صعد مصدر ہے مصدر کو موصوف کی صفت میں مبالغہ کے لئے لائے ہیں۔ صعدا سخت۔ شاق، کہ جو معذب کے اوپر چھا جائے۔ ترجمہ :۔ وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا۔ بعض کے نزدیک عذاب صعدا سے پہلے حرف جار فی محذوف ہے۔ اس صورت میں عبارت یسل کہ فی عذاب ہونی چاہیے لیکن بعض کے قول کے مطابق سلکت فلانا فی طریقہ کی بجائے سلک فلانا طریقا بھی کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یسل کہ فی عذاب کی بجائے یسل کہ عذابا بھی درست ہے صعدا کا اعراب اپنے موصوف کے مطابق ٹھیک ہے۔ (ملاحظہ ہو المفردات)
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

(72:18) وان المساجد للہ اس جملہ کا عطف جملہ ان لوا ستقاموا پر ہے یعنی یہ بھی میری طرف وحی کیا گیا کہ مسجدیں یعنی وہ مقامات جو نماز کے لئے بنائے جاتے ہیں اللہ ہی کے لئے مخصوص ہیں (اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک قرار دینے کے لئے نہیں ہیں) ان حرف مشبہ بالفعل المساجد اس کا اسم اور للہ اس کی خبر ہے المساجد بوجہ عمل ان منصوب ہے۔ فلا تدعوا مع اللہ احداسببیہ ہے لا تدعوا فعل نہی جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر۔ تم پکارومت۔ تم نہ پکارو۔ احدا۔ (کوئی) ایک۔ لا تدعوا کا مفعول۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور جب خدا کے بندے (محمد ﷺ اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھے

(72:19) وانہ لما قام عبد اللہ یدعوہ۔ اس کا عطف بھی جملہ ان لو استقاموا پر ہے یعنی اور مجھے یہ بھی وحی کی گئی ہے کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پا کرنے کھڑا ہوتا ہے۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہ ضمیر شان واسم ان باقی جملہ اس کی خبر۔ لما ظرف زمان۔ جب۔ عبد اللہ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا بندہ۔ یعنی نبی کریم ﷺ ۔ یدعو مضارع واحد مذکر غائب ۔ دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ عبادت کرنا۔ پکارنا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ یدعوہ حال ہے قام کے فاعل سے ۔ کادوا یکونوں علیہ لبدا یہ جملہ لما کے جواب میں ہے کادوا ماضی جمع مذکر غائب کود (باب سمع) مصدر۔ راغب اور سیبویہ کے نزدیک (باب سمع و نصر) دونوں سے آتا ہے۔ کاد افعال مقاربہ میں سے ہے فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے۔ کاد اگر بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع ہی نہیں ہوا۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسے یکاد البرق یخطف ابصارھم (2:20) قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ یعنی بجلی کی چمک نے ان کی آنکھوں کی بینائی کو اچک نہیں لیا تھا لیکن اچک لینے کے قریب تھی۔ اور اگر بصورت نفی ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن عدم وقوع کے قریب تھا۔ جیسے فذبحوھا وما کادوا یفعلون ۔ (2:71) انہوں نے (بڑی مشکل سے) اس (گائے) کو ذبح کیا۔ اور وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ یعنی انہوں نے گائے تو ذبح کردی لیکن ذبح نہ کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے۔ کود کے معنی ارادہ اور خواہش بھی ہے مثلا قرآن میں ہے اکاد اخفیہا (20:15) میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں۔ یکونون مضارع جمع مذکر غائب۔ کون (باب نصر) وہ ہوں گے۔ کا دو یکونون قریب ہے کہ وہ ہوجائیں گے علیہ اس پر لبدا : لبد، لبدۃ : کی جمع ہے۔ لبد کا اصل معنی ہے ایسی جماعتیں جن میں کچھ لوگ اوپر ہوں کچھ نیچے۔ (ٹھٹ کے ٹھٹ) ہجوم بھیڑ، جماعت در جماعت۔ علامہ پانی پتی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ حسن، قتادہ، ابن زید نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ توحید کی دعوت دینے کے لئے جب اللہ کا بندہ کھڑا ہوا تو جن و انس سب کے سب دعوت توحید کو باطل کرنے کے لئے اکٹھے ہوگئے وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے تھے مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ وہ اپنا نور پورا (پھیلا) کر رہے گا۔ اور تمام دشمنوں کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ کو کامیابی عطا فرمائے گا۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ یکونون علیہ مجتمعین لابطال امرہ۔ وہ اس کے گرف۔ ٹھٹ کے ٹھٹ لگا دیتے اس کی بات کو جھٹلانے کے لئے۔
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا

(72:20) ادعوا ربی : ادعوا مضارع واحد متکلم دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ میں پکارتا ہوں۔ ربی مضاف مضاف الیہ۔ میرا رب، اپنے رب کو۔ ترجمہ :۔ آپ کہہ دیں میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں۔ یعنی صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ لااشرک۔ مضارع منفی واحد متکلم۔ میں شریک نہیں ٹھہراتا۔ احدا کسی کو۔ مفعول لا اشرک کا۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا

(72:21) لا املک : مضارع منفی واحد متکلم ملک (باب ضرب) مصدر سے۔ میں مالک نہیں ہوں۔ میں اختیار نہیں رکھتا ہوں۔ ضرا۔ مصدر ہے۔ ضر یضر (باب نصر) سے ۔ بمعنی ضرر پہنچانا۔ میں اختیار نہیں رکھتا تمہیں ضرر پہنچانے کا ۔ ولا رشدا۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ رشدا مصدر ہے رشد یرشد (باب نصر) سے بمعنی راہ راست پر چلنا۔ اور نہ (میں اختیار رکھتا ہوں تمہارے) راہ راست پر چلنے کا۔
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ خدا (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سواء کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا

(72:22) لن یجیرنی : لن یجیر مضارع منفی تاکید بلن (منصوب) صیغہ واحد مذکر غائب۔ اجارۃ (افعال) مصدر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ کوئی مجھے ہرگز نہ بچا سکے گا۔ ولن اجد۔ واؤ عاطفہ لن اجد مضارع منفی تاکید بلن (منصوب) وجود (باب ضرب) مصدر۔ اور نہ ہی میں ہرگز پاسکوں گا۔ من دونہ : من حرف جار۔ دونہ مضاف مضاف الیہ ۔ مل کر مجرور۔ اس کے سوا ۔ ملتحدا : اسم ظرف مکان بروزن مفعول التحاد (افتعال) مصدر۔ پناہ کی جگہ۔ یا مصدر میمی ہے باب افتعال سے بمعنی پناہ۔ جملہ میں ان عصیتہ مقدرہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اس کی (اللہ کی) نافرمانی کی تو میں اس کے سا ہرگز پناہ نہ پاسکوں گا۔ لحد ولحد زمین کے اندر بغلی گڑھا (جو قبر میں کھودا جاتا ہے) ۔
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

ہاں خدا کی طرف سے احکام کا اور اسکے پیغاموں کا پہنچا دینا (ہی) میرے ذمے ہے اور جو شخض خدا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

(72:23) الا بلغا من اللہ ورسلتہ : بلغ مصدر (باب نصر) سے جس کے معنی پہنچا دینا۔ یا کافی ہونے کے ہیں۔ قرآن مجید میں بمعنی تبلیغ آیا ہے یا کافی کے معنی میں جیسے کہ :۔ ان فی ھذا لبلاغا لقوم عبدین (22:106) اس میں کفایت ہے عبادت کرنے والی جماعت کے لئے (لغات القرآن) ۔ آیت زیر غور کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) الا استثنائیہ نہیں ہے بلکہ ان شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ معنی ہوں گے ان لا ابلغ بلاغا لن اجد من دونہ ملتحدا۔ اگر میں (خدا کے احکام و پیغام کی کما حقہ) تبلیغ نہیں کروں گا تو اس کے سوا مجھے کہیں بھی پناہ نہیں ملے گی۔ (حقانی) ۔ اس میں الا بلغا من اللہ جملہ شرطیہ ہوگا۔ اور لن اجد من دونہ ملتحدا جواب شرط۔ (جزاء کو شرط سے قبل لایا گیا ہے) ۔ (2) حسن اور مقاتل نے اس طرح مطلب بیان کیا ہے کہ میں نہ خیر کا مالک ہوں نہ شرکا نہ ہدایت کا۔ ہاں تبلیغ احکام اور پیام رسانی کا فرض خدا کی طرف سے مجھ پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ الا استثنائیہ نہیں بلکہ لکن کے معنی میں ہے۔ (مظہری) (3) قولہ تعالیٰ : الا بلغا من اللہ ورسلتہ ای لا املک لکم ضرا ولا رشدا الا بلغا من اللہ ورسلتہ فانی ابلغکم عنہ ما امرنی بہ وارشدکم الی ما ارسلنی بہ من الھدی والخیر والفوز (السیر التفاسیر) ۔ نہ میرے ہاتھ میں تمہاری برائی ہے اور نہ راہ پر لانا (میرے ہاتھ میں) سوائے اللہ کی طرف سے احکام کی تبلیغ کے (اور کچھ نہیں ہے) پس میں جو وہ حکم دیتا ہے تم تک پہنچا دیتا ہوں اور ہدایت و بھلائی اور نجات کے متعلق (تمہارے لئے) جو احکام وہ مجھے دیتا ہے میں ان کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں۔ ورسلتہ واؤ عاطفہ رسلتہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا عطف بلغا پر ہے اور اس کے پیغام (کا تم تک پہنچانا) ۔ ومن یعص اللہ ورسولہ واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف جملہ محذوف پر ہے ۔ من شرطیہ یعص مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ اصل میں یعصی تھا۔ شرط کی وجہ سے مجزوم ہے عصیان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی نافرمانی کرنا۔ ورسولہ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ فان لہ نار جھنم۔ جملہ جواب شرط ہے۔ پس اس کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ خالدین فیہا ابدا۔ لفظ من کی رعایت سے یعص اور لہ کی مفرد ضمیریں لائی گئیں اور معنی کے لحاظ سے لفظ خلدین بصورت جمع ذکر کیا گیا ہے۔ خلدین خلود سے بحالت نصب اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ہمیشہ رہنے والے ، جملہ من یعص اللہ کی ضمیر فاعل سے حال ہے
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ (دن) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب انکو معلوم ہوجائے گا کہ مددگار کس کے کمزور ہیں اور شمار کن کا تھوڑا ہے

(72:24) حتی : حرف جار ہے انتہا وقت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اس کے متعلق دو قول ہیں :۔ (1) یہ یکونون علیہ لبدا (لوگ اس پر جھمگٹا کرنے لگتے ہیں) کے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہے :۔ انھم یتظاھرون علیہ بالعداوۃ حتی اذا راوا ما یوعدون من یوم بدر و فتح مبین او یوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھو اضعف ناصرا واقل عدوا۔ وہ اس کے خلاف یعنی رسول اکرم ﷺ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے جیسے یوم بدر، فتح مبین، یوم قیامت یا وقت موت پس اس وقت وہ جان لیں گے کہ کس کی مدد کمزور ہے اور گنتی میں کون کم ہے۔ (2) یہ محذوف کے متعلق ہے مثلاً کہا جائے :۔ الکفار لایزالون علی ما ہم علیہ حتی اذا کان کذا وکذا۔ (کافر لوگ جس بات پر وہ ہیں وہ اس پر اڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے) ۔ اس کی نظیر سورة مریم کی آیت ہے۔ حتی اذا راوا ما یوعدون اما العذاب واما الساعۃ فسیعلمون من ھو شر مکانا واضعف جندا (19:75) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت تو اس وقت جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور شکر کس کا کمزور ہے (اس میں اذا شرطیہ ہے اور فسیعلمون اس کا جواب ہے) ۔ آیت زیر مطالعہ میں بھی اذا رأوا ما یوعدون جملہ شرطیہ ہے اور فسیعلمون ۔۔ الخ اس کا جواب) ما یوعدون : ما موصولہ یوعدون مضارع مجہول جمع مذکر غائب اس کا صلہ جس کا ون سے وعدہ کیا گیا ہے۔ من اضعف ناصرا : من استفہامیہ ہے بمعنی کون ؟ اضعف۔ ضعف (باب نصر) مصدر۔ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ کمزور، ناصرا، نصر (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر۔ منصوب بوجہ تمیز ہونے کے ہے۔ ازراو مددگار۔ یعنی مددگاروں کی حیثیت سے کون زیادہ کمزور ہے۔ کس کی مدد کمزور ہے۔ واقل عددا۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اقل ، قلۃ (باب ضرب) مصدر سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی کم سے کم۔ عددا بلحاظ تعداد کے۔ گنتی میں۔ القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل و ضع کے صفات اور عظم و صغر میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ کے استعمال ہونے لگا۔ چناچہ قلیل عرصہ، قلیل نفع۔ مقدار کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (دن) کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ (عن) قریب (آنیوالا ہے) یا میرے پروردگار نے اس کی مدت دراز کردی ہے

(72:25) قل ان ادری : ان نافیہ ہے ادری فعل مضارع واحد متکلم درایۃ (باب ضرب) مصدر۔ میں نہیں جانتا ہوں۔ مجھے خبر نہیں۔ اقریب : میں ہمزہ استفہامیہ ہے آیا قریب ہے قریب خبر مقدم ہے اور ما توعدون مبتدا مؤخر۔ یا قریب از قسم فعل مشبہ اور ما توعدون اس کا فاعل ہے۔ ما توعدون : ما موصولہ توعدون مضارع مجہول کا صیغہ جمع مذکر حاضر وعد (باب ضرب) مصدر سے۔ صلہ۔ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس وعدہ سے مراد دنیوی عذاب یا قیامت ہے۔ ام۔ حرف عطف ہے بمعنی یا۔ یجعل مضارع واحد مذکر غائب فعل باب فتح مصدر، وہ مقرر کرتا ہے۔ وہ مقرر کر دیگا۔ اس نے مقرر کردی ہے۔ لہ میں ضمیر ہ کا مرجع ما توعدون ہے۔ امدا : مدت، حد، انتہاء اس کی جمع اماد ہے۔ امدا مدت مقرر کرنا ۔ ترجمہ ہوگا :۔ یا میرے رب نے اس عذاب (یا قیامت) کی (لمبی) مدت مقرر کردی ہے۔ امدا منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ صاحب تفہیم القرآن اس آیت کے تحت رقمطراز ہیں :۔ انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے وہ یہ کہ اوپر کی بات سن کر مخالفین نے طنز اور مذاق کے طور پر سوال کیا کہ وہ وقت جس کا ڈراوا آپ دے رہے ہیں آخر کب آئے گا ؟ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ :۔ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اس وقت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کی تاریخ مجھے نہیں بتائی گئی یہ بات اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے کہ آیا وہ جلدی آنے والا ہے یا اس کیلئے ایک طویل مدت مقرر کی گئی ہے۔
Ayah 72:26

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

(وہی) غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا

(72:26) علم الغیب مضاف مضاف الیہ۔ غیب کا جاننے والا۔ مبتدا محذوف کی خبر ہے ای ھو عالم الغیب۔ فلا یظھر :ترتیب کا ہے۔ لا یظھر مضارع منفی واحد مذکر غائب اظھار (افعال) مصدر سے۔ وہ ظاہر نہیں کرتا ہے۔ وہ واقف نہیں کرتا ہے۔ غیبہ مضاف مضار الیہ۔ اس کا غیب۔ یعنی اپنے غیب کو۔ اپنے غیب کی باتوں کو۔ احدا۔ منصوب بوجہ مفعول ۔ کسی کو بھی۔ وہ اپنی غیب کی باتوں کو ظاہر نہیں کرتا ہے۔ فائدہ : غیب کیا ہے اس کے متعلق علامہ پانی پتی رقمطراز ہیں :۔ غیب سے مراد وہ چیز جو ابھی تک نہیں آئی۔ جیسے معاد (عالم آخرت) کی خبریں۔ یا وہ چیز جو موجود ہونے کے بعد معدوم ہوگئی ہو جیسے آغاز آفرینش کی اطلاعات اور وہ گزشتہ واقعات جو صفحات تاریخ پر بھی موجود نہیں۔ یا غیب سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ اسماء اور صفات جو بندوں کو معلوم نہیں اور کسی دلیل سے بھی ان کا پتہ نہیں ملتا۔ لیکن جن صفات و اسماء پر برہان قائم اور دلیل موجود ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کا ناقابل زوال ہونا۔ اس کا واحد ہونا اس کے اندر صفات کمال کا موجود ہونا۔ اور صفات نقص و زوال سے اس کا پاک ہونا۔ تو یہ چیزیں عالم شہادت کی ہوگئیں ۔ ان کا شمار غائب میں نہیں ہے کیونکہ ان کے دلائل موجود ہیں اسی طرح حدوث عالم (وقوع عالم) کا مسئلہ بھی غیبی مسیلہ نہیں ہے بلکہ عالم شہادت کا ہے کیونکہ عالم کا تغیر پذیر ہونا محسوس ہے اور تغیر حدوث پر دلالت کرتا ہے۔ ان تمام اقسام غیب کا علم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ممکن ہے۔
Ayah 72:27

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتادیتا ہے اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہے

(72:27) الا من ارتضی : الا حرف استثناء ہے۔ من موصولہ۔ ارتضی صلہ ، صلہ موصول مل کر مستثنیٰ احدا (آیۃ متذکرہ بالا) مستثنیٰ منہ۔ (ای احدا من مخلوقاتہ) ۔ ارتضی ماضی واحد مذکر غائب ارتضاء (افتعال) مصدر سے جس کے معنی راضی ہونا پسند کرنا کے ہیں۔ یعنی ما سوا اس کے جس کو وہ پسند کرے ۔ جس پر وہ راضی ہو۔ من رسول متعلق من ارتضی۔ اس کا بیان ہے۔ اور کسی کو اپنے غیب پر آگاہ نہیں کرتا۔ ماسوائے اس رسول کے جس کو وہ پسند فرمائے۔ مدارک التنزیل میں ہے :۔ الامن ارتضی من رسول۔ ای الا رسولا قد ارتضاہ لعلم بعض الغیب، سوائے اس پیغمبر کے جسے وہ غیب کے کسی امر پر آگہی کے لئے پسند فرمائے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے :۔ رسول خواہ انسانوں میں سے ہوں خواہ فرشتوں میں سے ہوں جسے خدا جتنا چاہتا ہے بتلا دیتا ہے بس وہ اتنا ہی جانتے ہیں۔ فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا : فاء عاطفہ ہے یعنی جب اپنے کسی برگزیدہ و مرتضی رسول کو غیب کا کوئی علم عطا کرتا ہے تو وہ اس رسول کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر کردیتا ہے۔ یسلک۔ مضارع واحد مذکر سلوک (باب نصر) مصدر۔ وہ مقرر کرتا ہے وہ چلاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو آیت 17 متذکرۃ الصدر) من بین یدیہ : من حرف جار بین مضاف یدیہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ بین کا۔ جب بین کی اضافت ایدی کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب ہوتے ہیں۔ من بین یدیہ اس کے سامنے کی طرف سے۔ ومن خلفہ واؤ عاطفہ۔ من حرف جار خلفہ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور اور اس کے پیچھے کی طرف سے۔ رصدا۔ چوکیدار، نگہبان، محافظ۔ رصد یرصد (باب نصر) کا مصدر ہے جس کے معنی نگاہ رکھنے اور گھات لگانے کے ہیں۔ مصدر مذکور اسم فاعل ، اسم مفعول دونوں کے معنی میں مستعمل ہے نیز واحد تثنیہ جمع سب کے لئے آتا ہے۔ فائدہ : مقاتل وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ کسی پیغمبر کو مبعوث فرماتا تھا تو ابلیس فرشتہ کی شکل میں نمودار ہوکر اس پیغمبر کو (کچھ اپنی طرف سے) اطلاع دیدیا کرتا تھا اس کی روک کے لئے اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتے مقرر کر دئیے جو شیطان کو مار بھگاتے تھے۔ اور حامل وحی فرشتہ کے پاس بھی نہیں آنے دیتے تھے اب اگر شیطان فرشتہ کی شکل میں اس پیغمبر کے پاس آتا تھا تو یہ ملای کہ پیغمبر سے کہہ دیتے تھے یہ شیطان ہے اس سے احتیاط رکھو۔ اور اگر اصل فرشتہ آتا تھا تو بتا دیتے تھے کہ یہ اللہ کافر ستادہ ہے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 72:28

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ معلوم فرمائے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دئیے ہیں اور (یوں تو) اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے

(72:28) لیعلم : لام حرف علت یعلم مضارع (منصوب بوجہ عمل لام علت) صیغہ واحد مذکر غائب (باب سمع) مصدر۔ تاکہ وہ جان لے فائدہ : یوں تو ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو پہلے سے ہے یہاں جاننے سے مراد ہے علمی تعلق کا کسی موجود کے ساتھ ظاہر ہونا۔ یہی مراد آیت لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب میں ہے (5:94) (تاکہ معلوم کرے اللہ کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے) شیاطین سے حفاظت کرنے کے لئے ملائکہ کو مامور کرنے کی یہ علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حفاظت وحی کے بعد اللہ کو یہ معلوم ہوجائے کہ پیغمبروں نے اپنے رب کے پیام بلا کم و بیش پہنچا دیئے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پیغمبر اللہ کے پیام کو بغیر تبدیل و تغیر اور آمیزش کے پہنچا سکیں اسی غرض کے لئے اللہ نے حفاظت وحی کے لئے فرشتوں کو مقرر کردیا ہے۔ (تفسیر مظہری) انہ قد ابلغوا رسلت ربھم : ان مخففہ ہے ان ثقیلہ سے مخفف کیا گیا ہے۔ قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے۔ ابلغوا ماضی جمع مذکر غائب ابلاغ (افعال) مصدر۔ انہوں نے پہنچایا۔ انہوں نے پہنچا دیا ۔ رسلت ربھم : رسلۃ کی جمع ہے بمعنی پیغام، مضاف، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر رسلت کا مضاف الیہ۔ ان کے رب کا پیام۔ ترجمہ ہوگا :۔ کہ انہوں نے اپنے رب کے پیام پہنچا دیئے۔ ان قد ابلغوا رسلت ربھم : ان مخففہ ان سے۔ ان حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ اس کا اسم ضمیر ہ محذوف ہے جو ضمیر شان ہے۔ قد ابلغوا ۔۔ اس کی خبر ہے۔ فائدہ : مولانا دریا بادی اپنی تفسیر ماجدی میں رقمطراز ہیں :۔ لیعلم کی ضمیر فاعل کی جانب راجع ہے ؟ اس پر بہت قیل و قال ہوئی ہے۔ لیکن راقم اثم کو اپنے بعض اکابر کے اتباع میں وہی ترکیب مناسب معلوم ہوئی جو یہاں اختیار کی گئی ہے۔ یحمل ان یکون الضمیر عائدا الی اللہ عزوجل وھو قول حکاہ ابن الجوزی فی زار المسیر۔ (ابن کثیر) ای لیعلم اللہ (مدارک) وھو اختیار اکثر المحققین (کبیر) ابلغوا سے مراد وہی جماعت انبیا ہے ای الرسل (معالم، المدارک) بعض نے فرشتے بھی مراد لئے ہیں۔ ترجمہ یوں ہوگا :۔ تاکہ اسے معلوم ہوجائے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیامات پہنچا دئیے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر حقانی) واحاط بما لدیہم۔ یہ جملہ یسلک کے ضمیر فاعل سے حال ہے۔ احاط ماضی واحد مذکر غائب احاطۃ (افعال) مصدر۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے احاطہ کرلیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ احاطہ کرنے کے معنی ہیں کسی شے پر اس طرح چھا جانا کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو ما لدیہم : ما موصولہ۔ لدی پاس ، نزدیک، اسم ظرف۔ مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ دونوں مل کر صلہ اپنے موصول کا۔ جو ان کے پاس ہے۔ ان کی ہر چیز ان کے سب حالات۔ ان کے سب کام۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور حقیقت یہ ہے کہ (حال یہ ہے کہ) ان کے تمام حالات اس کے قبضہ میں ہیں اور ان کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے واحصی کل شیء عددا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور یہ بھی یسلک کے فاعل سے حال ہے۔ احصی ماضی واحد مذکر غائب احصاء (افعال) مصدر۔ اس نے گن لیا۔ اس نے گن رکھا ہے۔ کل شیء مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول احصی کا عددا منصوب بوجہ تمیز۔ بمعنی شمار کی رو سے ۔ تعداد کے لحاظ سے۔ اور اس نے ہر شے کا شمار کر رکھا ہے۔