72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsسراج البیان

Ayahs 72:1–7

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

تو کہہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا ۔ سو انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

وہ بھلائی کی طرف راہ دکھاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز اپنے رب کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے رب کی عزت بلند ہے نہ اس نے کوئی جورو رکھی اور نہ بیٹا

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بیوقوف جن اللہ کب نسبت جھوٹ کہا کرتے تھے

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں یہ خیال تھا کہ آدمی اور جن اللہ پر جھوٹ ہرگز نہ بولیں گے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں کتنے ہی مرد تھے ۔ کہ جنوں کے کتنے ہی مردوں سے پناہ مانگا کرتے تھے سو ان لوگوں نے جنوں کا تکبر (سرچڑھایا) اور بڑھایا

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ جیسے تم جنات (ف 1) خیال کرتے تھے ویسی ہی وہ رہی آدمی خیال کرتے کہ اللہ ہرگز کسی کو نہ اٹھائے گا

جنات ، تاویل اور شہاب ثاقبہ 1: حکمائے یونان کے مقتدین نے جنات کا انکار کیا اور بعد میں یورپ نے حضرات نے اس ضمن میں اتاویلات کو ضروری سمجھا ۔ حالانکہ قرآن حکیم میں احادث میں مذہبی صحائت میں اور مشرقی لٹریچر میں ان کے متعلق اتنا ذخیرہ ہے ۔ کہ انکار ناممکن ہے ۔ اور اب تو وہ عقلی مشکلات بھی درمیان میں نہیں رہی ہیں ۔ اب تو یورپ والے بھی کہہ رہے ہیں ۔ کہ جنات اور ارواح کا وجود برحق ہے ۔ اب ان کی تصویریں لی جارہی ہیں ۔ ان کا وزن دریافت کرلیا گیا ہے ۔ ان سے باتیں کی جاتی ہیں ۔ اور بغیر کسی قریب انفس اور سہود خطاء کے اب ایسا ایک مستقل سائنس ہے ۔ یعنی روحانیت مگر اس وقت بھی بدقسمتی سے کچھ لوگ ایسے موجود ہیں ۔ اور نادانی کی وجہ سے تاویل پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے آج سے پچاس برس پیشتر جو کچھ سنا تھا ۔ اس سے جمے بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ دنیائے معلومات میں بڑا انقلاب واقع ہوچکا ہے ۔ کل کے مسلمان آج مسترد اور مزخرفات فرار پا رہے ہیں ۔ اور کل کے اوہام آج حقائق آج جنات کا وجود صرف مشرق کا وہم ہیں ہے ۔ بلکہ مادہ پرست یورپ کی ایک حقیقت بن گیا ہے ۔ آج جگہ جگہ سیانس روم کھلے ہیں ۔ جہاں روحانین مشق روحانیت کرتے ہیں اور ان ارواح سے گفتگو کرتے ہیں اور ان اسرار و رموز کو معلوم کرتے ہیں ۔ جو عام انسانوں کی دسترس سے باہر ہیں ۔ ہاں یہ درست ہے ۔ کہ آج بھی ان کی حقیقت دریافت نہ ہوسکی ۔ مگر ان کے وجودکیبارہ میں کچھ شبہ باقی نہیں رہا ۔ قرآنی مسائل کے باب میں ایک اصول یاد رکھنا چاہیے ۔ اور وہ یہ ہے کہ قرآن کو بھیجنے والا وہ خدا ہے ۔ جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ اس لئے وہ جو کچھ کہتا ہے ۔ وہ بلا کم وکاست بالکل درست ہے چاہے ہماری سمجھ میں میں آئے یا نہ آئے ۔ کیونکر یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ہر بات کی کنبہ اور حقیقت کو پالیں ۔ بلکہ تجربہ تو یہ ہے ۔ کہ ہم اشیاء میں چند خواض وعوابش کے سوا اور کچھ جانتے ہی نہیں ۔ بنا برین کسی وقت بھی تاویل کی احتیاج محسوس نہیں ہوتی ۔ ہمیں چاہیے ۔ کہ جب ہم دیکھیں ۔ کہ کوئی بات قرآن حکیم کی بظاہر مودودہ عقل رجحان کے خلاف ہے سو بجائے قرآن کے حقائق میں تاویل کرنے کے یہ کہہ دیں ۔ کہ اس عقل رائے میں اور حکیمانہ نظریے میں تاویل کی ضرورت سے ہوسکتا ہے ۔ کہ آج کی عقل اور کل کا سائنس اس کی تائید نہ کرے ۔ یہ نظر ہے ہر آن بدلتے رہتے ہیں اور تغیر پذیر ہیں ۔ حالانکہ قرآن حکیم بالکل غیر متغیر اور غبر متبدل صداقت کا نام ہے ۔ اس میں بھی ترمیم اور اصلاح کی احتیاج محسوس نہیں ہوئی ۔ بہرحال عرض یہ ہے ۔ کہ جن اللہ کی ایک مخلوق ہے ۔ جو سمجھ اور شعور رکھتی ہے ۔ واقعہ یوں ہے ۔ کہ اسلام سے پہلے جنات آسمان کی طرف مقصود کرتے تھے ۔ اور کوشش کرتے تھے ۔ کہ عالم بالا کی کچھ خبریں ان کو معلوم ہوجائیں ۔ جب حضور ﷺ کو مبعوث کیا گیا ۔ تو ایک رات جنات حسب عادات گھات میں بیٹھے منتظر تھے ۔ کہ کچھ معلوم ہو ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ شہاب ثاقب کی بارش ہورہی ہے ۔ اور سلسلہ سماعت بالکل منقطع ہوگیا ہے ۔ یہ چیز ان کے لئے نہایت حیران کن تھی ۔ یہ تجسس اور ٹٹول میں روانہ ہوگئے ۔ اور سوق افکازمین پہنچ گئے وہاں دیکھا کہ پیغبمر اسلام قرآن حکیم کی تلاوش فرما رہے ہیں ۔ انہوں نے اس کو بغور سنا ۔ اور اپنی قوم کو آکر اطلاع دی ۔ اس سورت میں اس سماعت کا تذکرہ ہے ۔ واضح رہے کہ شہاب ثاقت قدیم الایام سے گرتا ہے ۔ اس کو زمانہ بعثت سے صرف اس قدر تعلق ہے ۔ کہ اس زمانہ سے اس کے اثرات میں اس چیز کا اضافہ کردیا گیا کہ وہ ان جنوں کو جو عالم بالا کی ٹٹول میں پرواز کرتے ہیں ۔ روک دے اور سماعت سے محروم کردے ۔ اس لئے کہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ حضور ﷺ کے زمانے میں اور ان کے بعد قیامت تک اب کوئی آسمانی ذریعہ معلومات انسان کے لئے بجز اس کے باقی نہ رہے کہ وہ ختم المرسلین کے باب نبوت پر دستک دیں ۔ اور جو کچھ پائیں یہاں سے پائیں ۔ حل لغات :۔ جد ۔ شان صاجیہ ۔ جورو ۔ بیوی شطقا ۔ حل لغات :۔ رسدا ۔ بھلائی ۔ ہدایت طرائق ۔ طریق کی جمع ہے قدوا ۔ مختلف لجشا ۔ کمی رھقا ۔ زیادتی تحرواتحری سے ہے جس کے معنے قصدوارادہ کے ہیں ۔
Ayahs 72:8–17

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان (کی خبروں) کی تلاشی (موافق عادت سابقہ کے) لینا چاہا سو ہم نے اس کو سخت پہروں (یعنی محافظ فرشتوں) اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم آسمان کے بعض ٹھکانوں میں بات سننے کو بیٹھ جایا کرتے تھے ۔ پر جو کوئی اب سننا چاہے وہ اپنے لئے آگ کا انگارا تیار پاتا ہے

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین کے رہنے والوں کے ساتھ برا ارادہ کیا گیا ہے یا انکے رب نے انکے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ بعض ہم میں نیک ہیں اور بعض کے سوا ہیں (سو) ہم مختلف راہوں پر ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے جان لیا کہ ہم اللہ کو زمین پر ہرگز عاجز نہ کرسکیں گے اور نہ بھاگ کر عاجز کرسکیں گے

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لائے ۔ سو جو کوئی اپنے رب پر ایمان لائے گا وہ نہ کسی نقصان سے ڈرے گا اور نہ کسی ستم (زبردستی) سے

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ بعض ہم میں مسلمان ہیں اور بعض ظالم ہیں ۔ سو جو کوئی مسلمان ہوا ۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے نیکی کا قصد کیا ہے

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور وہ ظالم ہیں وہ ہی جہنم کا ایندھن ہوئے

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور یہ (وحی کی گئی ہے) کہ اگر لوگ طریقہ پر قائم رہتے تو ہم انہیں بہت پانی پلاتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ ہم انہیں اس پانی میں آزمائیں اور جو کوئی اپنے رب کی یاد سے منہ موڑیگا اسے وہ چڑھتے (ف 1) عذاب میں داخل کریگا

جنوں کی رپورٹ 1: جنات کے وفد کے جو رپورٹ اپنی قوم کے سامنے رکھی ۔ وہ یہ تھی ۔ کہ ہم نے قرآن حکیم کو سنا ہے ۔ وہ ایک عجیب کتاب سے رشدوہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔ ہم نے اس کو تسلیم کرلیا ہے ۔ اب یہ ناممکن ہے ۔ کہ ہم خدا کے ساتھ کسی دوسری شخصیت کو اس کا شریک اور ساجھی ٹھہرائیں ۔ وہ شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہے ۔ نہ اس کی کوئی جورو ہے ۔ نہ اولاد ۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے ۔ یہ بالکل احمقانہ عقیدہ ہے ۔ جس کو ہم نے اس کی ذات کی طرف منسوب کررکھا تھا ۔ ہم میں بہت سی غلط باتیں بطور عقیدہ کے موجودتھیں ۔ اور وہ اس بنا پر کہ ہم کو یہ گمان نہ تھا ۔ کہ انس وجن میں سے کسی کو بھی اللہ کی شان میں جھوٹ پیھلانے کی جرات ہوسکے گی ۔ اور اصل میں یہ غلط عقیدے اور اس ملی بھگت کا نتیجہ تھا ۔ کہ اب اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مامور بناکر نہیں بھجیں گے ۔ مگر یہ عجیب واقعہ سنو ۔ کہ ہم جب حسب دستور آسمان کی طرف پرواز کرنے لگے تاکہ ملا اعلیٰ کے اسرار کو سن پائیں ۔ تو کیا دیکھتے ہیں ۔ کہ آسمان کی کڑی نگرانی ہورہی ہے ۔ اور شہاب ثاقب اس پر گرتا ہے ۔ جو سماعت کے قصہ سے گھاٹ میں بیٹھتا ہے ۔ اس لئے کہ اب یہ غیر یقینی ذرائع مسدور ہوگئے ہیں اب جو کچھ شریعت واخلاق کے متعلق پوچھتا ہے ۔ اور حضرت محمد ﷺ سے پوچھا جائے ۔ کہ وہی آسمانی اطلاعات کا آخری ذریعہ ہیں ۔ ہم نہیں جانتے آیا ان کی بعثت سے مقصود گمراہوں کو مٹانا ہے با پاکبازوں کو بڑھانا ۔ تم لوگ جانتے ہو کہ ہم میں سے پہلے بھی نیک ہوتے آئے ہیں اور پہلے بھی کئی طرح کے لوگ تھے ۔ ہماری رائے یہ ہے کہ اب بھی اسلام کو قبول کرلینا چاہیے ۔ اور سابقہ پاکبازوں کی روایت کو زندہ کرنا چاہیے ۔ کیونکہ ہماری قدرت میں نہیں ہے ۔ کہ اللہ کا مقابلہ کرپائیں اور اس کو شکست دیدیں ۔ ہم نے سچی بات سن لی ہے ۔ اس لئے ہم تیار ہیں ۔ کہ اسے تسلیم کریں اور ایمان کی نعمت سے مشرف ہوں یارو یاد رکھو ۔ جو اپنے رب پر ایمان لاتا ہے ۔ وہ نہ کسی سے خائف ہوتا ہے اور نہ زیادتی سے ڈرتا ہے ۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے کھلم کھلا رفیقہ اسلامی کو اپنی گردن میں ڈال لیا ہے ۔ بعض ابھی تک بدستور نہ کرئیں ۔ ہمارا یقین ہے ۔ کہ وہی لوگ راہ راست پر گامزن ہیں ۔ اور جو منکر ہیں ۔ جہنم کا ایندھن بنایا ۔ اس کے بعد مکہ والوں سے خطاب فرمایا : کہ ایک طرف تو جنان ایمان کی دولت سے مالا مال ہورہے ہیں ۔ اور ایک یہ ہیں کہ محروم ہیں ۔ اگر یہ لوگ استقامت کے ساتھ اور حق وصداقت پر گامزن ہوجائیں ۔ تو ہم ان کو افراط کے ساتھ آب شیریں سے سیراب کریں اور ان کی تسنگی دور کریں ۔ مبونہ اعتراض کرنے والوں کے لئے عذاب شدید تو مقرر ہے ۔ حل لغات :۔ القاسطون ۔ ظالم غدما ۔ آپ ۔ مکہ میں مدت سے بارش نہیں ہوتی تھی ۔ اس لئے فرمایا کہ گو یہ لوگ اللہ کی جانب اخلاق کے ہاتھ جھک جائیں ۔ تو مکہ کی ۔
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی ہیں سو تم اللہ کے ساتھ کسی (ف 2) کہ نہ پکارو

ف 2: یعنی مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے مختص ہیں ۔ ان میں اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا درست نہیں ہے ۔ مسجد کے معنی بعض اہل سنت کے نزدیک جبینا اور پیشانی کے بھی ہیں ۔ اس صورت میں معنے یہ ہونگے ۔ کہ انسان جین کو شرف ومجد کا یہ رتبہ حاصل ہے ۔ کہ وہ سوائے اللہ کے اور کسی کے سامنے نہیں جھک سکتی ۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ لوگ (یا جن) اس پر ٹھٹھہ (ف 3) کے ٹھٹھہ گر پڑیں

ف 3: حضور ﷺ کو عبداللہ کے لفظ سے تعبیر کرنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ کو جو ادا سب سے زیادہ پسند ہے ۔ اور یہ کہ پیغمبر باوجود مراتب علیاء کے دائرہ بندگی سے باہر نہیں ہوتا ۔
Ayahs 72:20–28

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

تو کہہ میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں کرتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

تو کہہ میں تمہارے لئے برائی اور بھلائی (یعنی دکھ سکھ) کا اختیار نہیں رکھتا

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

تو کہہ مجھے اللہ کے ہاتھ سے کوئی نہ بچائیگا ۔ اور میں اس کے سوا کوئی رہنے کی جگہ نہ پاؤں گا

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

مگر اللہ کی طرف سے پہنچانا اور اس کا پیغام دینا (میرا ذمہ ہے) اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اسے دکھیں گے جس کا ان سے وعدہ ہوا ہے ۔ تب جانیں گے کہ کس کی مددکمزور اور کون شمار میں کمتر ہے

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے ایک مدت کی حد ( مقرر) کرے گا

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ غیب کا جاننے والا ہے سو اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر جس کو رسولوں سے مطلع کرتا ہے تو وہ اس کے بھی آگے اور پیچھے چوکیدار چلاتا ہے

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ وہ جانے کہ ان کے رسولوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچائے ہیں ۔ اور ان کے پاس ہے قابو میں رکھا ہے اور ہر شئے کی (ف 1) شمار گن رکھی ہے

انبیا کی حدود معرفت 1: جہاں تک علی الاطلاق عالم الغیب ہونے کا تعلق ہے ۔ یہ خاصہ ذات خداوندی ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بات ڈھکی چھپی یا اوجھل نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ہر بات کو اول سے جانتا ہے ۔ اور کوئی شخص اس کے سوا ایسا نہیں ۔ جو ان معنوں میں غیب بانی کا دعویٰ کرسکے ۔ ہاں بعض دفعہ مصالح رشدوہدایت کے ماتحت وہ انبیاء کو بعض غیوب پر مطلع کردیتا ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ہر آن ہر بات کو اس کی پوری تفصیلات کے ساتھ جانتے ہیں ۔ آدم کو دیکھئے ۔ علم الاسماء کلھا کا تاج فرق مبارک پر رکھا ہے ۔ اور پھر تھنسی آدم کی تصریح موجود ہے ۔ حضرت نوح جلیل القدر پیغمبر ہیں ۔ مگر اللہ کی رضا کے خلاف بیٹے مغفرت کرتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) خلت کی قبائے فخر زینت بحکم ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود شرک بات کے لئے خواہش ہے ۔ کہ خدا ان کو اپنی آغوش رحمت میں لے لیں ۔ حضرت مسیح کلمۃ اللہ ہیں ۔ اور یہ نہیں جانتے کہ انجیر کے درخت میں پھل کب آتا ہے ۔ اور یونس صاحب الحوت غضب وغصہ میں یہ بھول جاتے ہیں ۔ کہ قوم کی نگرانی کتنی ضروری چیز ہے ۔ حضور ﷺ کو دیکھئے ۔ عبس ولولی عن جاء کا الاغمی کی فہمائش کو ستنے ہیں اور چپ ہو رہتے ہیں ۔ کیا یہ وہی انبیاء نہیں ہیں ۔ جن کو اللہ نے رسالت کے لئے چن لیا ہے ۔ اور جس کے متعلق تصریح ہے کہ ان کو غیب سے مشرف کیا جاتا ہے ۔ اور باوجود اس کے یہ حضرات ہیں کہ غیب کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے نہ انسانی فطرت میں یہ نقص ہے کہ یہ اپنی محدودیت کی وجہ سے معارف الٰہیہ کے کسب حصول کی استعداد کاملا اپنے اندر نہیں رکھتی اگر یہ ممکن ہے ۔ کہ حقیر ذرہ آفتاب ہوجائے ۔ اور قطرہ سمندر وسعتیں اپنے اندر چھپالے ۔ تو پھر یہ بھی ممکن ہے ۔ کہ کوتاہ عقل وبصیرت شان خدائے ذوالجلال کے پورے علم کو حاصل کرلے ۔ یہ یاد رہے ۔ کہ اس عقیدہ میں انبیاء کی معاذ اللہ توہین نہیں ہے ۔ بلکہ علم خداوندی کی بےپناہی کا ذکر مقصود ہے ۔ اور یہ بتایا ہے ۔ کہ اسکا علم کتنا وسیع ہے ۔ اور کس درجہ ہے ۔