72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 72:1–5

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے رسول ! ) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن (مجھ سے قرآن پڑھتے) سن گئے ہیں پھر انہوں نے جا کر کہہ دیا (اپنی قوم سے) کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو نیک راہ بتلا رہا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور ہمارے رب کی شان بلند ہے نہ وہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور ہم میں سے بعض بیوقوف (ایسے بھی گزرے) ہیں جو اللہ پر جھوٹی باتیں بنایا کرتے تھے

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہم سمجھے ہوئے تھے کہ انسان اور جن اللہ پر جھوٹی بات نہیں بنایا کرتے (اس لیے ہم ان کی باتوں کو مانتے تھے) ۔

ترکیب : اوحی من الایحاء ھو القاء المعنی الی النفس فی خفاء کالالھام و انزال الملک و یکون ذلک فی سرعۃ انہ بالفتح الجملۃ فاعل اوحی والضمیر فی انہ للشان ای اخبرت بالوحی من اللہ عجبا مصدر و صف بہ للمبالغۃ۔ یھدی الخ الجملہ صفۃ قرآنا اوحال منہ و انہ تعالیٰ قرء ابن کثیر وغیرہ من اھل البصرۃ بالکسر فی احد عشرموضعا الی قولہ و انہ لماقام عبداللہ الا قولہ و ان لواستقاموا وان المساجد و انہ لمقام عبداللہ فانہا من جملۃ الموحی بہ وافقھم نافع وابوبکر الافی قولہ وانہ لما قام علی انہ استیناف اومقول وجہ الکسرۃ انھا من جملۃ المح کی بعدالقول وقرء الباقون بالفتح فی ھذہ المواضع عطفاً علی محل الجار و المجرور فی آمنا بہ کانہ قیل صدقناہ و صدقنا انہ تعالیٰ جدربنا ای عظمۃ من جدفلاں فی عینی اذاعظم او سلطانہ او غنا ما اتخذ الجملۃ بیان لتعالی جد ربنا ولیس المراد بالجداب الاب وانہ کان اسمھا ‘ سفیھنا ویقول خبرہ ویجوزان یکون سفیہنا فاعل یقول والجملۃ خبر کان واسمھا ضمیر یرجع الی الحدیث اوالامرو یجوزان تکون کان زائدۃ والشطط الغلو فی الکفروقیل الجوروقیل الکذب واصلہ البعدعن القصد کذبا انتصابہ علی المصدریۃ لانہ فرع من القول او علی انہ وصف لمحذوف ای قولا مکذوبافیہ ومن قرء تقول بالتشدید کیعقوب جعلہ مصدراً لان التقول کذب۔ تفسیر : قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ یہی ابن عباس و عائشہ و ابن زبیر ؓ کا قول ہے اور اس پر جمہور کا اتفاق ہے۔ سورة نوح میں یہ بات بتلائی گئی تھی کہ نوح (علیہ السلام) نے سینکڑوں برس وعظ و پند کیا مگر چند اشخاص کے سوا اس شقی قوم نے نہ مانا آخر ہلاک ہوئی۔ اب اے قریش ! تم جو نہیں مانتے اور عذاب کے خواستگار دلیری سے ہوتے ہو جیسا کہ سورة نوح سے پہلے سورة سال سائل میں بیان ہوا تھا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہمارے پیغمبر کی تعلیم میں قصور ہے بلکہ تمہاری استعداد کا فتور ہے ورنہ چند جنوں نے حضرت ﷺ سے قرآن مجید سنا باوجودیکہ ایک بار صبح کے وقت نماز میں آپ پڑھ رہے تھے اور جنوں کا گزر ہوا انہوں نے سن لیا، سنتے ہی ایمان لے آئے اور قرآن کی خوبی کے قائل ہوگئے، اپنے عیوب کا اقرار کرلیا اور اپنی قوم میں جا کر اسلام لانے کی ترغیب دی حالانکہ نہ ان کو ہمارے نبی سے صحبت تھی نہ ہم جنس تھے، عادات بھی جنوں کی سخت اور ہٹ کی ہوتی ہیں۔ تم ہم قوم ‘ ہم زبان ‘ ہم صحبت اور انسان ہو کر نہیں مانتے۔ اور لطف یہ کہ تم جنوں کو پوجتے اور ان سے مدد مانگتے ہو۔
Ayahs 72:6–10

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے اس نے تو ان کا اور بھی مغز چلا دیا

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور وہ بھی سمجھے ہوئے تھے جیسا کہ تم نے سمجھ رکھا ہے اللہ ہرگز کسی کو (رسول بنا کر) نہ بھیجے گا

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو ٹٹول دیکھا تو مضبوط نگہبانوں اور شہابوں (کہ انگاروں) سے بھرا ہوا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور ہم (پہلے) تو آسمانوں کے ٹھکانوں میں سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے پھر اب جو کوئی سننے کا قصد کرتا ہے تو اپنے لیے تارا انگارا تاک لگائے پاتا ہے

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور ہم نہیں جانتے کہ اسے زمین والوں کے لیے برائی مقصود ہے یا ان کے رب نے ان سے کوئی بہتری کرنا چاہا ہے۔

ترکیب : رھقا وعتوا مفعول ثان لزادوا والرھق فی الاصل غشیان الشیء وانھم من کلام الجن بعضھم لبعض اواستیناف من اللہ سبحانہ ٗ و من فتح ان فیھا جعلھما من الموحی بہ ان لن الجملۃ ساومسدمفعولی ظنوا للسمع صلۃ لنقعد اوصفۃ لمقاعد۔ تفسیر : انہوں نے مان لیا جو تمہارے استاد تھے تم نہیں مانتے ‘ افسوس ہے۔ شان نزول : اس سورة کی شان نزول میں امام احمد اور ترمذی اور بخاری و مسلم وغیرہ کبار محدثین نے مختلف طرق سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا خلاصہ مطلب مع اس تشریح کے جو کتب سیر میں ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے برسوں قریش کو مکہ میں سمجھایا اور ان کی سختیوں کی بڑی استقلال سے برداشت کی اور بجز چند لوگوں کے ایمان نہ لائے (اسی لیے سورة نوح میں حضرت نوح ( علیہ السلام) کا قصہ سنا کر اطمینان دلایا گیا) تو یہ خیال کیا گیا کہ یہ نہیں مانتے چلو باہر کے لوگوں کو نصیحت کریں۔ اس غرض سے پہلے طائف تشریف لے گئے، وہاں کے سردار عبدیالیل و مسعودوحبیب تین شخص تھے۔ یہ تینوں بدسلوکی سے پیش آئے اور آپ کو شہر سے نکال دیا۔ تب آپ نے عکاظ کا قصد کیا (یہاں ایک پینٹھ یا منڈی لگا کرتی تھی یہاں عرب کے مختلف ملکوں کے لوگ باہم خریدوفروخت کیا کرتے تھے) آپ رستہ میں بمقام نخلہ ٹھہرے اور صبح کی نماز جماعت سے پڑھانے کھڑے ہوئے۔ شہر نصیبین کے نو جن جو اس تلاش میں نکلے تھے کہ ان پر آسمانی خبریں بند ہونے کا کیا سبب ہے۔ یہاں بھی آ نکلے آپ سے قرآن سن کر ششدر رہ گئے اور کان اور دھیان لگا کر سننے لگے۔ جب سن چکے تو کہنے لگے واللہ یہی چیز ہے جس سے ہم کو اوپر رسائی نہیں ہوتی (اس کی حفاظت کے لیے خدا نے جنوں کو اوپر سے باتیں لا کر کاہنوں سے کہہ دینے سے بند کردیا تھا کہ کہیں یہ بھی کوئی آیت سن کر اس میں کچھ ملا کر کسی سے نہ کہہ دیں اور وہ لوگ قرآن کے برابر بنانے کا دعویٰ نہ کر بیٹھیں) یہ خود بھی ایمان لے آئے اور اپنی قوم کو جا کر ہدایت کی۔ اس واقعہ کی خبر اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آنحضرت ﷺ کو دیتا ہے اور سورة احقاف میں بھی اسی واقعہ کی طرف اشارہ تھا بقولہ واذصرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن۔ اس کے بعد پھر ان جنوں کی قوم آنحضرت ﷺ کی خدمت میں مکہ میں آئی اور آپ عبداللہ بن مسعود ؓ کو لے کر شب کو جنگل میں گئے اور ان لوگوں کو رات بھر تعلیم و تلقین کرتے رہے۔ پھر ایک بار مدینہ منورہ میں بھی حاضر ہوئے تھے۔ بخاری و مسلم وغیرہ محدثین نے بسند صحیح نقل کیا ہے۔ فقال قل اوحی الی انہ اسمع نفرمن الجن۔ اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ مجھے وحی سے بتایا گیا کہ چند جن قرآن سن گئے۔ فقالوا اناسمعنا قرآناً عجباً یہدی الی الرشد فامنا بہ اور سن کر اپنی قوم سے جا کر کہنے لگے کہ ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے کہ کوئی بشر و جن ایسا کلام بنا نہیں سکتا۔ وہ راہ حق بتاتا ہے ہم اس پر ایمان لائے۔ فائدہ (1) : وجودِ جن میں اکثر اختلاف رہا ہے۔ اکثر فلاسفہ انکار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خداوند تعالیٰ کی مخلوقات کا کارخانہ محسوسات میں ہی تمام ہے جس چیز کو وہ حواس خمسہ سے دریافت نہیں کرسکتے ان کے نزدیک محض خیالی چیز ہے۔ اس کا وجود خارج میں نہیں۔ آج کل کا فلسفہ ٔ یورپ بھی اسی کا قائل ہے اور ان کے بعض مقلد مسلمان بھی اسی کے قائل ہیں اور اس قسم کی آیات کی تاویلات کرتے ہیں اور اس کا نام ان کے نزدیک تفسیر دانی اور قرآن فہمی ہے مگر یہ بہت کوتاہ خیال ہے۔ کس لیے کہ ان فلاسفہ کا ایک بڑا گروہ طبعی اور مادی ہے جو خدا تعالیٰ کا قائل نہیں اور عالم کے تمام کائنات کواکب و آفتاب، نباتات و حیوانات کو مادہ اور اس کی حرکت کے آثار بتلاتے ہیں۔ مذہب آریہ آخرکار اسی طرف بہہ کر آجاتا ہے لیکن ان سے جب مادہ کی حقیقت دریافت کی جاتی ہے تو وہ ایسے اجزاء صنعار بتلاتے ہیں جو آج تک نہ کسی کہربائی آلہ سے دریافت ہوئے نہ کسی خوردبین سے دیکھے گئے۔ پھر یہ مادہ جو ان کے نزدیک خالق ہے کس حواس خمسہ سے محسوس ہوا یا ہوسکتا ہے ؟ بعض حکماء غیرمحسوس موجودات کے قائل ہوئے ہیں اور قدماء کا ایک گروہ عظیم وجودِ جن کا قائل ہوا ہے۔ یہ اور اصحاب روحانیات جن کو ارواح سفلیہ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ارواح سفلیہ جلد قبول کرتی ہیں مگر ضعیف ہیں برخلاف ارواح فلکیہ کے کہ وہ دیر میں قبول کرتے ہیں۔ مگر قوی ہیں اسی طرح کل اہل مذاہب اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے اہل اسلام و عیسائی و یہودی بلکہ ہنود وغیرہ جن کے قائل ہیں۔ ہر ایک کی زبان میں جن کا ایک نام ہے۔ انجیل موجود میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا جنوں کا مریض میں سے نکالنا مذکور ہے۔ پھر جو وجودِ جن کے قائل ہیں ان کے دو قول ہیں۔ اول قول یہ کہتے ہیں کہ جن اور ملائکہ نہ اجسام ہیں نہ اجسام میں حلول کئے ہوئے ہیں بلکہ جواہر میں جو بذات خود موجود ہیں پھر ان کے مختلف انواع و اقسام ہیں۔ بعض بزرگ نیکی پسند ہیں اور بعض رذیل خسیس ‘ شروآفات کو پسند کرنے والے ہیں۔ ان کے بہت اقسام ہیں جن کو خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی جان نہیں سکتا۔ وہ افعال قویہ کرسکتے ہیں ‘ علم رکھتے ہیں، دیکھتے سنتے ہیں۔ دوسرا قول یہ کہ جن بھی اجسام ہیں مگر اجسام لطیفہ لطافت کی وجہ سے دکھائی نہیں دیتے مگر وہ خود جس شکل میں چاہیں ظاہر ہوسکتے ہیں۔ پھر بعض گندہ اور سرکش اور ناپاک ہوتے ہیں جن پر شیطان کا بھی اطلاق ہوتا ہے اور بعض میں خیروشر دونوں کی صلاحیت ہے اور وہ بعض اوقات بنی انسان سے مجامعت و مجالست بھی کرتے ہیں۔ بعضے کہتے ہیں بنی آدم کی ارواح مرنے کے بعد جو کثافت کی وجہ سے عالم قدس تک نہیں پہنچتیں وہ جنوں میں مل جاتی ہیں۔ ایسی ہی ناپاک روحیں لوگوں کے سروں پر آتی ہیں اور ادھر ادھر کی خبریں بھی اپنے نذرونیاز کرنے والوں کو دیا کرتی ہیں۔ فائدہ (2): جن کا وجود حیوان اور ملائکہ میں ایک برزخ ہے اسی لیے ان میں دونوں کی باتیں پائی جاتی ہیں۔ شکل باشکال مختلفہ و تدبیرات کلیہ و فہم و شعور ‘ حسن و قبح امور دقیقہ کا ‘ ملائکہ کا وصف ان میں ہے اور اسی لیے وہ بھی مکلف ہیں اور کھانا پینا و جماع و غصہ حیوانات کے اوصاف ان میں ہیں اور اسی لیے ان کی عمر طبعی بھی ہوتی ہے، مرتے بھی ہیں، بیمار بھی ہوتے ہیں۔ توالد و تناسل بھی ہوتا ہے۔ جن گویا عالم ملائکہ کا سفلی سطح ہے۔ اکثر بنی آدم اس سطح سفلانی میں اٹک گئے اور اس پردہ کو پھاڑ کر اوپر تک ان کی عقل کو پرواز نہ ہوئی۔ اسی لیے بنی آدم نے ان میں سے عمدہ جنوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان سے حاجات میں مدد طلب کرنے لگے اور بعض حوادث آیندہ کی ان سے خبریں دریافت کرنے لگے۔ اکثر عرب کے جاہل اس اندھیر میں پڑے ہوئے تھے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو ہنود وغیرہ مشرک قومیں اس وادی ضلالت میں ٹکریں مارتے رہے ہیں بلکہ بعض جہال مسلمان بھی اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بعض جنوں کا نام سید اور بعض کا پیر اور بعض کا پریاں اور کسی کا شیخ سدو کسی کا زین خان کسی کا ہنومان کسی کا بھیرون رکھ چھوڑا ہے۔ ان کی نذرونیاز اور پرستش کے طریقے عمل میں لائے جاتے ہیں، ان کو نافع و ضار سمجھتے ہیں۔ ان سے حاجات طلب کرتے ‘ غیب کی خبریں دریافت کیا کرتے ہیں اور عرب میں تو رات دن انہیں کے کرشمے پائے جاتے تھے اور وہ جن بھی طرح طرح کی تدابیر اپنی حکومت ثابت کرنے کے لیے کرتے تھے۔ کبھی بتوں کے اندر سے آوازیں دیتے تھے اور باتیں کرتے تھے، کبھی کسی درخت میں سے بول اٹھتے تھے اور کہیں کسی کے سر پر آ کر دور دراز کی باتیں بتاتے تھے اور کبھی کسی مشکل کام کے لیے وہ لوگ اپنی چوکی چڑھاتے اور بکرا ذبح کرتے تھے۔ خصوصاً دشمنوں کے مقابلے کے وقت اور بیماری یا وبا کے دفع کرنے کے وقت اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ آ کر ہماری اس کام میں مدد کریں گے اور ان کے خیال کے موافق کبھی کچھ ظہور بھی ہوتا تھا اور کبھی ان کے مخالف کو کچھ مضرت بھی پہنچ جایا کرتی تھی۔ وید کے اشلوکوں میں دیوتائوں کی مدح اور منتر اور ان کے یگ کرنے کے طریقے جو مذکور ہیں خصوصاً فتح و نصرت ‘ ارزانی و بارش و دفع مرض و کثرت اولاد و مال کے لیے وہ یہی باتیں ہیں۔ ہاں یہ فرق ہے کہ ان کے جنوں کے نام ان کی زبان میں اور تھے اور غیرمرئی ارواح کو جو ہر جزوِعالم پر مؤکل سمجھتے تھے جن کو شرع میں ملائک کہتے ہیں، پوجتے تھے اور نیز ستاروں اور آفتاب کو بھی۔ اور کبھی وہ جن کاہنوں کے سر پر آ کر کلام مسجع میں غیب کی خبریں بھی دیا کرتے تھے اور شعراء کے دل پر مضامین کے القاء کرنے میں مدد کرتے تھے۔ الغرض اس طوفانِ بےتمیزی میں دنیا ڈوبی ہوئی تھی اور ارواح بشریہ کی ترقی روحانی میں یہ پتھر حائل تھا۔ اب خدائے پاک کی رحمت نے جلوہ کیا اور دنیا کو اس ورطہ ضلالت سے بچانا چاہا تو بر عرب میں نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا اور آپ کی بعثت سے کسی قدر اول ہی ان جنوں کی بادشاہی چھین لی اور ان کے کرشموں کو روک دیا اور جب آفتاب جلوہ گر ہونے کو ہوتا ہے تو رات کے چور صبح صادق سے پہلے چھپنے لگتے ہیں اس لیے جنوں پر عالم بالا کے اسرار بند کئے گئے۔ اب جو اوپر جاتے ہیں شہاب ثاقب سے مار کر نکالے جاتے ہیں۔ اپنے کاہنوں کو کوئی خبر نہیں لا کردیتے بلکہ شرمندگی کے مارے ان کے پاس آنا بھی کم کردیا۔ ادھر جہاں جہاں ان شیاطین کے جھنڈے گڑے ہوئے تھے وہاں سے بھی الوداع الوداع کہہ کر چلنے لگے۔ چناچہ صحیح روایات سے یہ ثابت ہوا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ کتابوں میں موجود ہے کہ عمربن الخطاب ؓ فرماتے ہیں، ایام جاہلیت میں اپنے بتوں کے پاس میں حاضر تھا کہ ایک شخص نے آ کر بت پر گائے ذبح کی جو اس کی نذر کے لیے لایا تھا۔ اس بت کے پیٹ میں سے یہ آواز اس درجہ بلند ہوئی کہ سب نے سنی۔ وہ کہتا تھا یاجلیح امرنجیح رجل یصیح یقول لا الہ الا اللہ۔ اے مرد قوی ایک بات پیش آئی کہ جس میں کامیابی ہے کہ ایک شخص بآواز بلند کہہ رہا ہے لا الہ الا اللہ کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا۔ امیر المومنین ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ یہ آواز سن کر بھاگ گئے، میں وہیں بیٹھا رہا کہ اس آواز کی حقیقت دریافت کروں۔ دوبارہ پھر وہی بلند آواز پیدا ہوئی۔ تیسری بار پھر وہی آواز بلند ہوئی یہاں تک کہ میں حیرت میں تھا کہ لوگوں نے مجھے خبر دی کہ اس جگہ ایک پیغمبر ظاہر ہوا ہے۔ وہ لوگوں کو کلمہ لا الہ الا اللہ تعلیم فرماتا ہے۔ اسی طرح مجاہد ؓ نے دوسرے شخص کا واقعہ نقل کیا ہے۔ اسی طرح بیہقی نے سوادابن قارب کا قصہ نقل کیا ہے کہ ایام جاہلیت میں ایک جن میرا یار تھا۔ اخبارِآیندہ مجھے بتلایا کرتا تھا۔ میں لوگوں سے کہتا اور خوب چڑھاوا آتا تھا۔ ایک رات میرے خواب میں آ کر کہا اٹھ اور ہوشیار ہو اگر کچھ شعور ہے ایک پیغمبر لویٔ بن غالب کی نسل سے پیدا ہوا ہے۔ پھر اس نے یہ چند اشعار پڑھے۔ عجب الجن وارھاسھا وشدھن العیس باحلاسہا مجھے جنوں کے حال سے اور ان کے اضطراب سے تعجب آتا ہے۔ اور ان کے اونٹوں پر سفر کے لیے کاٹھی باندھنے سے بھی تعجب ہے تحوی الیٰ مکہ تبغی الھدیٰ مامومنوھا مثل ارجاسھا مکہ کی طرف جاتے ہیں ہدایت کے لیے۔ ان کے ایماندار ان کے ناپاک لوگوں کے برابر نہیں فانھض الی صفوۃ من ھاشم واسم بعینیک الی را سھا تو اٹھ برگزیدہ نبی ہاشم کی طرف۔ اور اپنی دونوں آنکھیں اس قبیلہ کے سردار کی طرف اٹھا 1 ؎۔ 1 ؎ یہ جن اسلام لے آیا تھا۔ 12 سواد کہتے ہیں برابر تین راتوں مجھے یہی معاملہ پیش آیا۔ آخر میں مکہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں آ کر مشرف باسلام ہوا اسی طرح اور بھی روایات ہیں۔ فائدہ : جب جنوں پر عالم غیب کا رستہ بند ہوا اور وہ اس کی تحقیق میں نکلے اور آپ کا قرآن پڑھنا سن کر ایمان لائے اور اس کے بعد جو کچھ انہوں نے کہا ان باتوں کو خدا تعالیٰ بذریعہ وحی آنحضرت ﷺ کو بتا کر کفارِمکہ اور عرب کے جاہلوں عجائب پرستوں کو آپ کی نبوت کا اطمینان اور ان کے خیالات کا بطلان کرتا ہے بچند وجوہ (1) یہ کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کی نسبت یہ خیال اور بدگمانی کرتے تھے کہ ایسا عمدہ کلام جو اس سے صادر ہوتا ہے جس کی مثل کوئی بنا نہیں سکتا اس کو کوئی بڑا فصیح وبلیغ جن تعلیم کرتا ہے کس لیے کہ کاہنوں کو ایسی تعلیم جن کرتے تھے اور مقفٰی و مسجع کلام میں خبریں دیا کرتے تھے اس لیے آپ کو کاہن کہتے تھے۔ اب اس سورة میں بتلایا گیا کہ جن کیا تعلیم کریں گے وہ تو خود اس کی خوبی پر ایمان لا کر یہ کہتے ہیں۔ اناسمعنا قرآنا عجبًا یہدی الی الرشد فامنابہ اور نیز آگے چل کر جنوں کی ہجو اور ان کی پرستش و نذرونیاز کی مذمت اور ان کا مخلوقِ الٰہی ہونا اور اس کے بس میں ہونا وغیرہ وہ باتیں بیان ہیں جو جنوں کے خلاف ہیں پھر اگر آپ کو جن تعلیم کرتا تو کیا جن اپنی برائی اور مذمت آپ کرتا۔ اس لیے یہ شبہ بھی بےاصل ہوگیا کہ ہم کو کیونکر معلوم ہو کہ جن ایمان لائے اور انہوں نے یہ کلام کیا۔ کس لیے کہ اگر یہ کلام بھی جن کا ہے یعنی سورة جن تو جن ایسی باتیں اپنی نسبت کہہ نہیں سکتے اور اگر جن کا نہیں تو آپ کاہن نہیں پھر کیا۔ وجہ کہ اس کی مثل بھی تم اور تمہارے مددگار جن نہیں لاسکتے پس ثابت ہوا کہ یہ کلام منزل من اللہ حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) القا کرتے ہیں۔ (2) کہ جنوں کی پرستش اور ان کی نذرونیاز سب لغو ہے ان کا کچھ بھی خدائی کارخانہ میں حصہ نہیں خود جن اس بات کا اقرار کرتے ہیں۔ (3) آنحضرت ﷺ کی نبوت نہ صرف آدمیوں کے لیے ہے بلکہ جن بھی کہ جن کی پرستش اور مدد پر مشرکین نازاں ہیں آپ کی زنجیر اطاعت میں بندھے ہوئے ہیں۔ فائدہ : اس کے بعد اور جنوں کے کلمات نقل کر کے جن پرستوں کو متنبہ کرتا ہے فقال ولن نشرک بربنا احداً کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔ جن بھی مشرک تھے بعض کاملوں کو جیسا کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) یا بعض جن بعض جنوں کو خدا تعالیٰ کا رشتہ دار اور خدائی میں دخیل سمجھتے تھے اسی لیے اس کے بعد اس کی تفصیل کرتے ہیں۔ وانہ تعالیٰ جدربنا کہ ہمارے رب کی شان بلند ہے ما اتخذصاحبۃً ولاولدًا نہ اس نے کسی کو جورو بنایا ہے نہ اولاد۔ کس لیے کہ یہ باتیں عجزوحدوث پر دال ہیں اور اس کی شان بلند کے منافی ہیں۔ اس کے بعد اپنے اعتقادات سابقہ کی (جو لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر مبنی تھے) لغویت بیان کرتے ہیں۔ وانہ کان یقول سفیہنا علی اللہ شططا کہ جن کو ہم پہلے عقلمند اور دانا سمجھ کر ان کی باتوں پر یقین کرتے تھے اور جو کچھ وہ حق سبحانہ ٗ کی نسبت زن و فرزند ہونے کی روایت کرتے تھے اس کو برحق جانتے تھے۔ اب معلوم ہوا کہ وہ احمق اور نادان خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولتے اور غلط باتیں بنایا کرتے تھے اور ہم نے ان کی باتوں کو کسی دلیل وبرہان سے برحق نہیں سمجھ رکھا تھا بلکہ محض تقلید باطل سے بایں طور کہ واناظننا ان لن تقول الانس والجن علی اللہ کذباً ہم سمجھے ہوئے تھے کہ کوئی آدمی اور کوئی جن خدا پر جھوٹ نہیں کہتا۔ اس اعتقاد اور اس سادہ لوحی نے ہم کو گمراہ کر رکھا تھا اب معلوم ہوا کہ سینکڑوں آدمی اور جن اللہ پر جھوٹے ڈھکوسلے بناتے اور اپنی عاقبت برباد کر کے اوروں کی عقبیٰ بھی تباہ کر رہے ہیں۔ حقیقت میں اس سادہ لوحی اور خوش اعتقادی نے دنیا کو شرک و غلطی اور تخیلات پرستی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اگر اب کسی بت پرست وفال و شگن اور ارواح غیرمرئیہ کے پوجنے والے سے پوچھیں گے کہ کون سی دلیل اور برہان تمہارے حق پر ہونے کے لیے ہے تو ہر پھر کر آخرکار یہی کہیں گے کہ ہمارے اگلے یوں کرتے اور کہتے آئے ہیں اگر یہ باتیں غلط ہیں تو وہ کیا اللہ پر جھوٹ بولتے تھے اور ایسا ہم ان کو نہیں سمجھتے۔ آفریں ہے ان صاحبوں پر کہ جن کے دماغ نے ایک صحبت ہادی برحق سے ایسی ترقی کی اور افسوس ہے ان عقلمند آدمیوں پر کہ وہ اس اندھیرے گڑھے سے باہر نہیں نکل سکتے اور اس طوفانِ بےتمیزی میں آدمیوں کی پرستش سے جنوں کے مغز چل گئے، خدائی کے دعوے کرنے لگے۔ وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رھقا کہ بہت سے انسانوں کے مرد (لفظ مرد میں ایک لطیف سی تعریض ہے کہ جب اپنے مثل کو پوجا مردانگی کو کھو دیا مردوں کی یہ باتیں نہیں کہ اپنے مثلوں کے غلام اور بندے ہوجائیں۔ یہ نامردی اور زنانہ پن ہے) جنوں کے مردوں سے پناہ مانگا کرتے تھے اس نے ان کی اور بھی سرکشی اور غرور و نخوت بڑھا دی۔ اس پناہ مانگنے اور مدد طلب کرنے کے کئی طریقے عرب میں مروّج تھے۔ اول یہ کہ جب کسی کو کوئی مرض لاحق ہوتا اس کو جن و پری کی نظر بد کا اثر سمجھ کر اس کے لیے کھانا عمدہ پکاتے اور خوشبو شامل کرتے اور بخور جلاتے اور وہاں جا کر رکھتے کہ جہاں جہاں ان کو جنوں کے گزرنے کا گمان ہوتا تھا تاکہ اس رشوت و نذرانہ میں وہ تکلیف نہ پہنچائے۔ اب بھی ہند کے جاہل کھانا پکا کر کہیں چوراہوں میں ‘ کہیں دریا پر ‘ کہیں کسی قبر پر ‘ کہیں کسی درخت تلے رکھواتے ہیں جس کو اتارا کہتے ہیں اور ایسے صدقات کے لیے برہمنوں، نجومیوں، پنڈتوں، سیانوں، ملائوں، تعویذ گنڈے کرنے والوں کا ارشاد ہوا کرتا ہے۔ دوم یہ کہ مشکل کے وقت ان کے نام کو جپتے اور وظیفہ بنا کر پڑھتے اور نذرونیاز اور بخور وغیرہ شرائط کو عمل میں لاتے۔ ایسا کرنے سے وہ سمجھتے تھے کہ یہ مشکل وہ دیوتا آسان کر دے گا۔ بیر اور مؤکلات کے حاضر کرنے کے لیے اب بھی بڑے بڑے ڈبل لوگ بجائے مراقبہ و اذکارِ الٰہی کے یادروائیل و یارفتمائیل دریا یا جنگل میں بیٹھ کر ہزاروں بار پڑھتے ہیں اور جو کوئی شیطان حاضر ہوجاتا ہے تو اس کو فوزالمرام جانتے ہیں۔ سوم جب کسی آیندہ آنے والی بات پوچھنے کی ضرورت پڑتی تھی تو کاہنوں 1 ؎ کے پاس جا کر ان کے محامد کے منتر پڑھواتے، نذرونیاز مینڈھا بکرا چڑھاتے تب وہ ان کاہنوں کے سر پر آکر وہ باتیں بتلاتا تھا۔ 1 ؎ کاہن بھوت بڈا حاضرات کرنے والے ‘ چڑیلوں پریوں کو بلانے والے۔ 12 منہ (چہارم) جب کسی سفر میں ہوتے اور کسی جنگل و بیابان میں اترتے تھے تو اس وادی کے جنوں سے پناہ چاہتے اور یوں بآواز بلند کہتے (اعوذبسید ھذا الوادی من شرسفھاء قومہ) تاکہ ان کے چھوٹے لوگوں کے شر سے محفوظ رہیں اور بھی بہت طریقے تھے۔ ان سب باتوں کو اسلام نے ممنوع کردیا اور آنحضرت ﷺ نے فرما دیا کہ اللہ ہی کی پناہ مانگا کرو، وہی نذرونیاز کے قابل ہے۔ مالی اور جسمانی عبادتیں اسی کو ہیں اس کے حکم بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہلا سکتا۔ پھر تھوڑے دنوں میں برِّعرب ان سب اوہام پرستی کی نجاستوں سے پاک و صاف ہوگیا۔ جنوں کا مادہ ناری یا ہوائی ہے اس لیے علو وتکبر ان کی طینت میں داخل ہے۔ ایسے اعمال ونذرونیاز اور منتروں سے وہ اترا کر ان کے کام کرنے میں کوشش کرتے ہیں تاکہ ہماری عظمت و وقعت بنی آدم کے دلوں سے نہ نکلے اور اسی لیے لوگوں کے ذہنوں میں سینکڑوں مکروحیلوں سے اپنی عظمت بٹھاتے ہیں۔ کبھی اپنے آپ کو اولیاء و انبیاء کی ارواح طیبات میں محسوب کرتے ہیں اور ان کے نام بتاتے ہیں کہ میں فلاں بزرگ ہوں یا فلاں شخص ہوں تاکہ لوگوں کو اعتقاد پیدا ہو اور پھر رفتہ رفتہ اپنی خباثت ظاہر کرتے ہیں اور کبھی کسی مردہ شخص کا نام اپنا نام رکھ کر اس کے گھر کی خبریں بتلاتے ہیں تاکہ ثواب و عقاب اخروی کا اعتقاد دلوں سے زائل ہوجائے اور جان لیں کہ مر کر یوں ہی اسی دنیا میں سیریں کرتے پھرا کرتے ہیں جس کے سر پر چاہتے ہیں آتے ہیں اسی بات کی طرف ان جملوں میں اشارہ ہے۔ وانہم ظنوا کماظننتم ان لن یبعث اللہ احدا اور ان جنوں نے سمجھ رکھا تھا جیسا کہ اے مخاطب تم نے سمجھ رکھا ہے کہ خدا مرنے کے بعد زندہ نہ کرے گا یعنی حشرونشر کچھ نہیں۔ یہیں مر کر روحیں پھرتی رہتی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ یہ بھی انہیں جنوں کا مقولہ ہے اپنی قوم سے خطاب کر کے کہہ رہے ہیں کہ جیسا تمہارا عقیدہ حشر کی بابت ہے کہ کچھ نہیں ایسا ہی ان جنوں کا بھی تھا جن کو بنی آدم پوجتے اور ان سے پناہ مانگتے تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، ان لن یبعث اللہ احدا کے یہ معنی کہ خدا کسی پیغمبر کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد مبعوث نہ کرے گا کہ وہ آ کر ان جاہلانہ خیالات سے پاک کرے ہماری خدائی ہمیشہ یوں ہی بنی رہے گی یہی جہالت کی گھٹائیں بنی آدم پر چھائی رہیں گی۔ یہاں تک تو ان ایماندار جنوں کا کلام اپنی قوم کے سامنے توحید و حشر کے مسئلہ میں تھا اس کے بعد وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت کرنے کے لیے ایک تمہید بیان کرتے ہیں تاکہ قوم بھی آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے۔ فقالوا وانا لمسنا السماء فوجدناھا ملئت حرساً شدیداً کہ ہم نے آسمان جاچھوا یعنی اسرارِ آسمانی کی بہت تلاش کی اور بہت بلند اڑ کر گئے گویا کہ آسمان کو چھو لیا اور وہاں تک پہنچ گئے تو وہاں بیشمار پہرے ‘ چوکی والے پاسبان پائے جو اسرار آسمان سننے سے منع کرتے ہیں۔ واناکنا نقعد منہا مقاعد للسمع اور اس سے پہلے تو ہم اپنے اپنے ٹھکانوں پر جا بیٹھتے اور آسمانوں کے ملائکہ کی باتیں سنتے اور کاہنوں کو لا کردیتے اور اپنی غیب دانی اور خدائی کا سکہ جمایا کرتے تھے۔ فمن یستمع الآن یجدلہ شہاباً رصدا پھر اب جو کوئی سننے کے لیے جاتا ہے تو اپنے لیے ایک انگارا تیار اور نگہبان پاتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ حاصل یہ کہ پہلے تو یہ حال تھا کہ عالم بالا کے اسرار ہم حاصل کر لاتے تھے اور اب یہ دروازہ بند ہوگیا۔ یہ ایک بڑا حادثہ ہے۔ وانالاندری اشرارید بمن فی الارض ام ارادبہم ربہم رشداً اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس سے خدا نے اپنے بندوں کی بھلائی چاہی ہے یا برائی۔ اس بات کو فھم مخاطبین پر چھوڑ کر یہ کہلانا منظور ہے کہ خدا نے بندوں کی بہتری چاہی ہے کہ جنوں کے بےجا تسلط اور باطل خدائی کو پست کر کے ایک ایسے شخص کو برپا کیا ہے جو نوروہدایت کی جہاں افروز شمع ہاتھ میں لے کر اٹھا ہے۔ جنوں کے لیے اس سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کی صداقت پر اور کوئی دلیل ہو نہیں سکتی کہ انہوں نے آسمانی اسرار کا بند ہونا وغیرہ امور بظہور نبوت آنحضرت ﷺ خود دیکھ لیا۔ اور اس کلام میں طریقہ ادب کہاں تک ملحوظ رکھا ہے کہ شر کی نسبت خدا پاک کی طرف نہیں کی بلکہ صیغہ مجہول بولا گیا اور رشد کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ بندوں کی رہنمائی اور بہتری چاہا کرتا ہے اور شر کے مقابلے میں خیر ہونا چاہیے تھا مگر خیر عام تھی اس کا جو فرد کامل یہاں مقصود تھا اسی کا ذکر کیا تاکہ معلوم ہو کہ اصل خیررشد ہے۔
Ayahs 72:11–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ کچھ تو ہم میں سے نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے۔ ہم بھی مختلف طریقوں پر تھے

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور (اب) ہم سمجھ گئے کہ ہم اللہ کو زمین پر نہ تھکا سکیں گے اور نہ ہم اللہ سے بھاگ کر جاسکیں گے

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے ہدایت کی بات سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے پھر جو اپنے رب پر ایمان لے آیا تو نہ اس کو نقصان کا ڈر رہے گا اور نہ ظلم کا

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور کچھ تو ہم میں سے فرمانبردار ہیں اور کچھ نافرمان پھر جس نے مان لیا تو انہوں نے اچھا رستہ تلاش کرلیا

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو نافرمان ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

ترکیب : القد و القطعۃ من الشیء وصارالقوم قددا اذا تفرقت احوالھم والمعنی کناذوی۔ طرائق قددا اوکانت طرائقنا طرقاقددافی الارض ای کائنین فی الارض حال من الفاعل ھربامصدر فی موضع الحال اے ولن نعجزہ ھاریین فلایخاف الجملۃ جواب الشرط وھوفمن فالجملۃ جواب ولولاذاک قیل لایخف۔ تفسیر … جنوں کی دوسری دلیل آنحضرت ﷺ کی نبوت پر : اب مسئلہ نبوت کی بابت ایک عمدہ پیرایہ سے تقریر کرتے ہیں۔ وانا منا الصالحون و منادون ذلک کناطرائق قددا کہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اور بد بھی۔ مختلف طریقوں کے لوگ ہیں پھر اس کا فیصلہ کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر بجز نبوت اور الہامِ الٰہی کے کون کرسکتا ہے ؟ (2) وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض و لن نعجزہ ھربا کہ ہم کو یقین ہوگیا ہے کہ جن گوقوی اور زبردست اور جاہل دماغ انسانوں پر حکمران ہیں مگر خدا تعالیٰ کے آگے کچھ حقیقت اور زور نہیں رکھتے، صرف آسمانی راز ہی کے بند کرنے پر دیکھ لیا کہ کسی کی تدبیر اور زور کارگر نہ ہوا اوپر چڑھتے ہیں تو انگارے برستے ہیں پھر جو تم نے اس کے طریقہ کا خلاف کیا اور ہم پر اس کا قہر نازل ہوا تو ہم اس کے بس سے نہیں نکل سکیں گے۔ اور نہ بھاگ کر کہیں پناہ گزیں ہو سکیں گے اسی لیے نبی آخرالزماں ﷺ کا ماننا ضرور ہوا اب اے قوم ! تم مانو یا نہ مانو لیکن وانا لماسمعنا الہدیٰ آمنا بہ ہم نے جب ہدایت یعنی قرآن سن لیا تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ فمن یؤمن بربہٖ فلایخاف بخساً ولارھقا پھر جو تم سے بھی کوئی اپنے رب پر ایمان لے آئے گا تو اس کو دنیا و آخرت میں کسی نقصان کا خوف نہ رہے گا نہ اس کو خداوندی انتقام و سزا کا ڈر باقی رہے گا۔ اب رہی یہ بات کہ قوم کی حالت یکساں ہے تاکہ عذاب وثواب میں یکساں سمجھی جائیں سو یہ تو ہرگز نہیں۔ کس لیے کہ انامنا المسلمون ومنا القاسطون کہ ہم میں سے اس کے فرمانبردار بھی ہیں اور جفاکار بھی ہیں پھر دونوں مساوی کیونکر ہوسکتے ہیں ؟ بہرطور قوم میں سے ایک گروہ پر مصائبِ دنیا و آخرت کا نازل ہونا یقینی ہے پھر اس کے بچاؤ کا اور اس کی عدالت سے رست کاری کا یہی قانون ہے کہ فمن اسلم فاولئک تحروا رشدا کہ جو ایمان لے آیا اور اس کا حکم بردار ہوگیا تو اس نے دنیا و آخرت کے لیے عمدہ رستہ تلاش کرلیا اور ہر ایک مصیبت سے بچنے کے لیے امن الٰہی کا مستحکم قلعہ ڈھونڈ لیا۔ واما القاسطون فکانوا لجہنم حطبا اور جو جفاکار ‘ بدکار ہے ایمان نہ لائے آخر وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ فائدہ (1): پہلے جو منا الصالحون ومنادون ذلک کہا وہ اسلام سے پہلے کی حالت بیان تھی کس لیے کہ اسلام سے پہلے بھی نیک و بند ہوسکتے ہیں کیونکہ ظلم و بدکاری کی برائی عاقل عقل سے بھی دریافت کرسکتا ہے اور لطف یہ کہ صالحون کے مقابلہ میں دون ذٰلک اشارہ مہذبانہ الفاظ میں کردیا تاکہ ان بدکاروں کی صراحۃ سے رنج نہ معلوم ہو۔ اب منا المسلمون ومنا القاسطون میں عہد نبوت کا ذکر ہے اور بدکاروں کی بدی جہنم سے بچنے کے لیے صاف صاف بیان کرنے کی ضرورت پڑی۔ فائدہ (2): قسط عدل مگر جب اس کا استعمال ثلاثی مجرد سے ہوگا تو اس کے معنی ظلم کے ہوں گے اور جب باب افعال میں لائیں گے تو انصاف و عدل کے معنی پیدا ہوں گے اس لیے قاسط ظالم ‘ مقسط عادل نیک۔ فائدہ (3): یہاں تک ان جنوں کی گفتگو تمام ہوگئی اب بعد کا قصہ بیان نہیں فرمایا کہ قوم ایمان لائے یا نہیں۔ احادیث سے ثابت ہے کہ لائے اور ان جملوں میں کفار مکہ پر تعریض 1 ؎ ہے۔ 1 ؎ اس لیے کہ جن جنوں کو تم پوجتے مانتے ہو جب ان کا یہ حال اور یہ مقال ہے تو تم ان کے گھمنڈ اور بےجا زوروں پر کیوں تکیہ کر کے گمراہی میں پڑے ہو اور ان کو پکارتے ہو اور پیغمبر پر ایمان نہیں لاتے، توحید کا لباس نہیں پہنتے۔ 12 منہ
Ayahs 72:16–19

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور یہ بھی (میری طرف وحی کیا گیا) کہ اگر وہ (اہل مکہ) سیدھے رستہ پر چلتے تو ہم ان کو پانی کی ریل پیل سے سیراب کردیتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس (ارزانی) میں ان کا امتحان کریں اور جس نے اپنے رب کی یاد سے منہ موڑا تو وہ اس کو سخت عذاب میں پھنسا دے گا

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ بھی وحی کیا گیا کہ سجدہ اللہ ہی کے لیے ہے۔ پھر اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ جب اللہ کا بندہ (نبی) اس کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اس پر جمگھٹا کرنے لگتے ہیں۔

ترکیب : وان لو استقا مواقرء الجمہور بکسر الوائومن لولا لتقاء الساکنین وقریٔ تشبیھنا بوا والضمیر۔ وھذا معطوف علی جملۃ انہ استمع فیکون من جملۃ الموحی الیہ ولیس من قول الجن والتقدیر اوحی الی انہ استمع وان لواستقاموا فیکون ھذا ھوا النوع الثانی مما اوحی الیہ وان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہ ضمیر الشان محذوف ای انہ والشرط والجزاء الجملۃ خبر ان یسل کہ مجزوم علی انہ جواب الشرط ای من یعرض یسل کہ ای یدخلہ یقال سل کہ واسلکہ وقیل الجار محذوف ای فی عذاب۔ والصعد مصدر یقال صعداد صعود اوصف بہ العذاب لانہ یصعد طاقۃ المعذب ای یعلوہ ویغلبہ و ان المساجد معطوف علی ان لو استقاموا من جملۃ الموحی الیہ وھو النوع الثالث والمساجد علی قول الاکثرین المواضع التی بنیت للصلٰوۃ وذکر اللہ ویدخل فیھا الکنائس والبیع و مساجد المسلمین وقال الحسن البقاع کلھا وقیل الجوارح والاعضاء التی یسجدعلیھا العبد وھی القدمان والرکبتان والیدان والجبھۃ والانف فعل ھذا جمع مسجد بکسرا لجیم وھو موضع السجود وقال الحسن ایضا المساجدھی الصلوٰت فعلی ھذا جمع مسجد بفتح الجیم مصدر بمعنی السجود وانہ لما قام معطوف علی وان المساجد ھوا النوع الرابع من الموحی الیہ یدعوہ الجملۃ حال من فاعل قام ای قام موحدًا للہ کادوا الجملۃ جواب لما لبدا جمع لبدۃ وھو ماتلبد بعضہ علی بعض وارثکم و ازوحم بعضہ علی بعض ومنہ اللبود والتی تفرش ویقال لبدۃ الاسد لایتلبدمن الشعربین کتفیہ وقریٔ لبد البضم اللام وقریٔ لبداجمع لابد کمسجد فی ساجد و قریٔ بضم اللام والباء جمع لبود کصبر فی صبور۔ (کبیر) تفسیر : جنوں کا کلام نقل کر کے جو آنحضرت ﷺ کو وحی کے طور پر بتلایا گیا تھا تین اور باتیں ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! لوگوں سے کہہ دے کہ جس طرح مجھے جنوں کا کلام وحی کے طور پر بتایا گیا یہ باتیں اور بھی وحی کی گئیں ازانجملہ یہ کہ (1) وان لواستقاموا علی الطریقۃ لاسقیناھم ماء اغدقاً لفتنھم فیہ ومن یعرض عن ذکرربہ یسل کہ عذابا صعدا کہ اگر لوگ سیدھے رستہ پر قائم رہیں تو ہم ان کو بہت پانی پلائیں یعنی مال و اولاد، کھیتی باڑی، تندرستی، عافیت عطا کریں۔ (اس کو ماء غدقاً سے تعبیر کرنا عرب کا محاورہ ہے) اور جو ہماری یاد سے منہ موڑے گا ہم سے توڑ کر شیاطین سے جوڑے گا تو ہم اس کو سخت عذاب میں داخل کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس جملہ میں یہ بھی بتلایا گیا کہ جن و انس اطاعتِ الٰہی اور نیک چلنی پر مامور ہیں، نیکی کی جزا ‘ بدی کی سزا پاتے ہیں۔ پھر ان میں شان معبودیت کیا ہے اور ان کی پرستش محض بےجا ہے۔ استقاموا کے جملہ میں بعض مفسرین کہتے ہیں جنوں کی طرف ضمیر پھرتی ہے اس لیے کہ انہیں کا ذکر چلا آتا ہے اور انہیں کی حقیقت کا اظہار بھی مقصود ہے کہ اے مشرکین ! تمہارے مبعود خود مامور و محکوم ہیں۔ بعض کہتے ہیں آدمیوں کی طرف کس لیے کہ اہل مکہ اس وقت سات برس کے قحط میں مبتلا تھے پانی اور رزق کی تنگی سے جان لبوں پر آرہی تھی۔ ان کو بتلایا جاتا ہے کہ یہ تمہاری بت پرستی اور جنوں سے مدد مانگنے اور بدکاری کا نتیجہ بد ہے اگر تم راستی اختیار کرتے اور ہمارے آگے جھکتے تو ہم تم کو بہت پانی پلاتے اور ارزانی کرتے لیکن یہ بھی تمہاری آزمائش کے لیے کہ شکریہ کرو نہ کہ اترائو، سرکشی کرو۔ ربیع بن انس اور زید بن اسلم اور ابن کیسان وغیرہ کہتے ہیں آیت کے معنی یہ ہیں کہ کفار اگر اپنے اس طریقہ کفر پر رہتے جس پر کہ ہیں اور سب کفار ہوتے تو ان کی آزمائش کے لیے دنیا میں ان کو فراغدستی دیتا اور پھر آخرت میں عذاب دیتا اور دلیل ان کی یہ آیت ہے۔ فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیہم ابواب کل شیء وقولہ لولا ان یکون الناس امۃً واحدۃً لعجلنا لمن یکفربالرحمن لییوتہم سقفاً من فضۃٍ الآیہ اور لنفتنہم فیہ قرینہ ہے۔ تیسری بات جو وحی کی گئی ہے وان المساجد للہ فلاتدعوامع اللہ احداً کہ سب عبادت گا ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اس کے سوا ان میں اور کوئی پکارے جانے، عبادت کیے جانے کا مستحق نہیں، اسی کو پکارو۔ مساجد کے کئی معنی ہیں ایک تو مسجدیں عبادت گاہیں، گرجا کنیسہ مسجد اہل اسلام سب کو شامل ہے یعنی دنیا میں کوئی عبادت خانہ اس کے سوا اور کے لیے نہ ہونا چاہیے۔ (2) سعید بن جبیر کہتے ہیں جنوں نے عرض کیا کہ آپ کے ساتھ کس طرح سے مسجد میں آ کر نماز میں شریک ہوا کریں حالانکہ ہم دور دراز رہتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہر جگہ اس کے لیے عبادت ہوسکتی ہے اور نبی ﷺ نے بھی فرمایا کہ تمام زمین میرے لیے عبادت گاہ بنائی گئی کسی خاص جگہ پر منحصر نہیں۔ (3) سعید بن المسیب کہتے ہیں مساجد سے مراد وہ اعضا جو سجدے میں کام آتے ہیں، ہاتھ پائوں، پیشانی، گھٹنے، ناک۔ کہ یہ نعمت الٰہی ہیں اور کے لیے نہ جھکنے چاہییں۔ (4) بعضے کہتے ہیں مساجد سے مراد سجدے ہیں کہ سجدہ اس کے سوا اور کے لیے نہ ہونا چاہیے۔ بعض کہتے ہیں یہ معنی ہیں کہ مساجد خاص عبادت کے لیے ہیں اور کام وہاں نہ ہونے چاہییں جیسا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ جو کوئی مسجد میں گم شدہ چیز کو ڈھونڈنے آئے تو کہہ دو کہ خدا کرے کہ نہ ملے کس لیے کہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ ہر ایک معنی آیت میں سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ چوتھی بات وانہ لماقام عبداللہ یدعوہ کا دوایکونون علیہ لبداً کہ جب اللہ کا بندہ محمد ﷺ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس پر اژدھام کرلیتے ہیں۔ کون اژدھام کرلیتے ہیں اور کس لئے ؟ اکثر مفسرین کہتے ہیں کفار مکہ جب آپ کو اللہ کی عبادت کرتے اور اسی کو پکارتے دیکھتے تو گرداگرد جمع ہو کر تمسخر کرتے تھے۔ اس بات کو خدا تعالیٰ اپنے نبی سے کفار کو سنواتا ہے کہ یہ کیسی بات ہے اوروں کی عبادت کرنے والے پر تو یہ اژدھام اور تمسخر نہ ہو اور ہماری عبادت کرنے والے کے لیے یہ ہو ‘ یہ بہت نازیبا اور ناحق شناسی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ مراد کہ جب ہمارا بندہ محمد ﷺ اللہ کو پکارنے قرآن سنانے جنوں کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے سننے کے لیے ہر طرف سے آ کر اژدھام کرلیتے ہیں جیسا اس رات کو ہوا کہ جس رات آپ مکہ سے باہر عبداللہ بن مسعود ؓ کو لے کر جنوں کو قرآن سکھانے گئے تھے مگر اے قریش مکہ ! تم پر افسوس ہے کہ تم قرآن سننے سے بھاگتے ہو۔ لبدا کو جمہور بکسر اللام وفتح الباء پڑھتے ہیں۔ لبدا اور بعض نے لام کے ضمہ اور بائے کے فتح سے پڑھا ہے۔ لبداً اور بضم ب و لام و تشدید بائے مفتوحہ بھی پڑھا ہے۔ پہلی قرأۃ پر وہی معنی ہیں اور دوسری پر لبد کے معنی بہت کے ہیں جیسا کہ اس آیت میں اھلکت مالالبداً کہ بہت ہوجاتے تھے۔ مجاہد کہتے ہیں اس کے معنی ہیں جماعتوں کے کہ جماعت پر جماعت آ کر گھیرتی ہیں۔
Ayahs 72:20–23

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہہ دو میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

کہہ دو نہ میرے ہاتھ تمہاری برائی ہے اور نہ راہ پر لانا۔

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہہ دو مجھ کو میرے اللہ سے کوئی نہ بچا سکے گا اور نہ مجھے اس کے سوا پناہ ملے گی۔

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

مگر اللہ کا پیغام اور اس کا حکم پہنچانا ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ سدا رہا کریں گے۔

ترکیب : قل قراء العامۃ علی الغیبۃ اے قال حملوا ذلک علی ان القوم لماقالوا ذلک اجابھم النبی ﷺ بقولہ انما ادعواربی فح کی اللہ ذلک عنہ بقولہ قال اویکون ذاک من مقولات الجن و قرء عاصم و حمزۃ قل بصیغۃ الامرلیکون موافقا لمابعدہ وہو قولہ قل انی لا املک وھوا لاظہر والاقوی ملتحدا ملجاوحرائر بمثل السرب الذاہب فی الارض فی القاموس الحدالیہ مال و فی المصباح الملتحد بالفتح اسم الموضع وھوالملجائ۔ الا بلاغاً قال الفراء استثناء من قولہ لا املک فان التبلیغ ارشاد وانفاع وقولہ قل انی لن یجیرنی الخ جملۃ معترضۃ وقعت فی البین لتاکید نفی الاستطاعۃ عنہ وبیان عجز و قیل الاھنا لیست کلمۃ الاستثناء بل معناہ ان لاومعناہ ان لا ابلغ بلاغالم اجد من دونہ ملتحداً فماقبلہ دلیل الجواب ای کلام بدل بلی جواب الشرط وعلی ھذا امن اللہ لیس صلۃ للتبلیغ لان صلۃ تکون بعن کقولہ (علیہ السلام) بلغوا عنی ولوآیۃً ۔ انماھی بمنزلۃ من فی قولہ براءۃ من اللہ ومعناہ بلاغاکائنا من اللہ ورسالۃ عطف علی بلاغا کانہ قال لا املک لکم الا التبلیغ والرسالات خالدین حال من ضمیر من والجمع لرعایۃ معنی من والمعنی یدخلونھا مقدارا خلودھم۔ تفسیر : کفار مکہ جب آپ کے اردگرد (قرآن پڑھنے اور خالص اللہ کو پکارنے میں) جمگھٹا کرتے تھے تو یہ بھی کہتے تھے کہ اے محمد ﷺ ! تو اس بات سے باز آ اور ہمارے الہ کی ہجو نہ کر ‘ نہ ان کی پرستش سے منہ موڑ۔ وہ نفع و ضرر کے مالک ہیں پھر آپ میں بھی یہ بات ہے ؟ اور ہمارے معبود آپ کو مصائب سے پناہ دیں گے اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو حکم ہوا کہ قل ان کافروں سے کہہ دے انما ادعوا ربی میں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور آیندہ بھی اسی کو پکاروں گا۔ ولا اشرک بہ احدا اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کروں گا۔ تمہارے معبود خواہ روحانیات ملائکہ ہوں یا جن ہوں خواہ اس کے برگزیدہ لوگ ہوں خواہ ستارے ہوں خواہ خیالی چیزیں ہوں خواہ پتھروں کے تراشیدہ بت ہوں خواہ عناصر و نباتات و حیوانات ہوں کسی کو بھی اس کی خدائی میں کچھ بھی دخل نہیں۔ وہی جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا نہ اس کے حکم بغیر نفع و ضرر دے سکتا ہے۔ میں باوجودیکہ نبی مرسل ہوں اور مراتب قریب میں اس نے میرے لیے اعلیٰ مرتبہ تجویز کیا ہے مگر میں بھی تمہارے ضرر یعنی گمراہی اور رہنمائی کا مالک نہیں کہ جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں اور باتوں کا تو کیا ذکر ہے۔ ہاں میرے سبب سے وہ خود جس کو چاہتا ہے گمراہی اور ہدایت دیتا ہے اور اسی لیے دنیا میں مجھے بھیجا ہے اور یہ بھی کہہ دے قل انی لن یجیرنی من اللہ احدا کہ اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور مجھ پر کوئی مصیبت آئے تو خود مجھے اس کے سوا کوئی پناہ نہیں پھر تمہارے معبود تو کیا پناہ دیں گے جن کے بھروسہ پر تم گمراہی میں پڑے ہو۔ الغرض میں بھی بشر ہوں اور جمیع مخلوقات خواہ وہ کوئی کیوں نہ ہو اس کی ذات وصفات اور قدرت والوہیت میں شریک نہیں میں اور جس قدر دنیا میں ہدایت کے لیے اس نے رسول بھیجے ہیں کسی چیز کے مالک نہیں کئے گئے الابلاغامن اللہ ورسالاتہ مگر اللہ کے پیغام و احکام پہنچانے کے لیے۔ ہاں یہ اختیار ان کو دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ نبوت تبلیغ من اللہ ہے الوہیت میں نبی کو کوئی شرکت نہیں اس کی ذات پاک سب سے ممتاز ہے۔ بعض مفسرین نے الابلاغاو ملتحدا کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اگر میں حکم پہنچانے میں کوئی کمی کروں تو مجھے اس کے عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ نہ ملے گی۔ پھر احکام پہنچانے کے بعد جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا کفروبت پرستی سے باز نہ آئے گا ابداً جہنم میں جلے گا۔
Ayahs 72:24–28

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب تک وہ اس عذاب کو دیکھ لیں گے کہ جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تب بہت جلد معلوم کرلیں گے کہ کس کی مدد کمزور ہے اور گنتی میں کم ہے ؟

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

تو کہہ دو کہ مجھے خبر نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا اس کے لیے میرا رب کوئی مدت ٹھہراتا ہے۔

عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:26 in the Quran reader

وہ غیب جاننے والا ہے اپنے غیب کی باتوں پر کسی کو واقف نہیں کیا کرتا

اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ Open ayah 72:27 in the Quran reader

مگر اپنے پسندیدہ رسول کو پھر اس کے آگے اور پیچھے پاسبان مقرر کردیتا ہے (کہ شیطان آمیزش نہ کرنے پائے)

لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ Open ayah 72:28 in the Quran reader

تاکہ جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور اللہ نے تمام کاموں کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے اور ہر چیز کی گنتی رکھی ہے۔

ترکیب : حتی الشیء الذی جعل مابعد حتی غایۃ لہ فیہ قولان (الاول) انہ متعلق بقولہ یکونون علیہ لبد او التقدیر انھم یتظاہرون علیہ بالعدادۃ حتی اذاراو مایوعدون من یوم بدرا وفتح مبین اویوم القیامۃ او وقت الموت فحینئذ یعلمون من ھوا ضعف ناصراواقل عددا (والثانی) انہ متعلق بمحذوف کانہ قیل الکفار لایزالون علی ماھم علیہ حتی اذاکان کذاوکذا کان کذا ونظیر ھذہ الآیۃ آیۃ فی سورة مریم وھی حتیٰ اذاروا مایوعدون اما العذاب واما الساعۃ اذاشرطیۃ فستعلمون جو ابھا ویفھم من کلام القرطبی ان حتی لمجرد الابتداء من غیرملاحظۃ معنی الغایۃ فتکون جملۃ مستقلۃ بالاستفادۃ۔ عالم الغیب خبرمبتداء محذوف ای ھوا الجملۃ مستانفہ مقررۃ لما قبلھا من عدم الدرایۃ والفاء لترتیب عدم الاظہار علی تفردہ تعالیٰ بعلم الغیب علی الاطلاق الاستثناء من احدامن رسول بیان لمن فانہ تقریر و تحقیق للاظہارالمستفاد من الاستثناء وبیان لکیفیۃ ای فانہ یسلک من جمیع جوانب الرسول (علیہ السلام) عند اظہارہ علی غیبہ حرسامن الملائکہ یحرسونہ من تعرض الشیاطین لما اظہرہ علیہ من الغیوب لیعلم متعلق بیسلک غایۃ لہ من حیث انہ مترتب علی الابلاغ المرتب علیہ اذالمرادبہ العلم المتعلق بالابلاغ الموجود بالفعل وان مخففۃ من الثقیلۃ و اسمھا محذوف وھو ضمیر الشان و الجملۃ خبرھا و احاط الخ الجملۃ فی محل النصب علی الحال من فاعل بسلک باضمار قداوبغیر ھو احصی معطوف علی احاط عددا انتصابہ علی التمتییز محولامن المفعول بہ ویجوزان یکون علی المصدریۃ واللہ اعلم۔ تفسیر : ان نصائح و دلائل کے بعد بھی کفار مکہ سرکشی اور پیغمبر خدا ﷺ کی توہین اور ان کے اردگرد جاہلانہ ہجوم کرنے سے باز نہ آتے تھے اور مسلمانوں کی تھوڑی جماعت پر نظر کر کے اپنی قوت و شوکت کا گھمنڈ کر کے طرح طرح سے آنحضرت ﷺ اور ایمانداروں کو ایذائیں دیتے تھے، اس لیے ایمانداروں کی تسلی اور کفار کی تنبیہ کے لیے یہ فرما دیا گیا حتٰی اذارأ ومایوعدون فسیعلمون من اضعف ناصراً واقل عددا کہ یہ لوگ جب تک نہیں مانیں گے کہ ان کو وہ چیزیں نہ دکھائی جائیں کہ جن کا ان سے وعدہ ہوا ہے (بدر کے دن کا قتل و مغلوب ہونا یا مرنے کے بعد عذاب اور مصائب کا دیکھنا یا قیامت جن کا آنحضرت ﷺ نے من اللہ باربار ان سے وعدہ کیا تھا) پھر جب یہ چیزیں دیکھ لیں گے انہیں آپ معلوم ہوجائے گا کہ کس کی مدد کمزور اور قلیل ہے ؟ اس وقت ان کی آنکھیں کھل جائیں گی مگر پھر کیا فائدہ ہوگا توبہ اور ایمان لانے کا وقت باقی نہ رہے گا۔ اس کو سن کر کفار مکہ تمسخر کی راہ سے کہنے لگے کہ ان چیزوں کا کہ جن کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں یعنی عذاب و مصائب کون ساوقت ہے اور ٹھیک وقت بتلائیے۔ یہ سوال محض جاہلانہ اور گستاخانہ ہے کس لیے کہ آنے والی مصیبت جبکہ یقینی ہو تو اس کے وقت دریافت کرنے سے کیا فائدہ بلکہ اس سے بچنے کی تدبیر میں مصروف ہونا دلیل سعادت ہے۔ اس لیے وقت نہ بتلایا گیا جو اس سے پہلے ان کے نڈر ہونے کا باعث تھا بلکہ اپنے نبی کو یہ کہہ دیا کہ قل ان ادری اقرب ماتوعدون ام یجعل لہ ربی امداً کہ ان سے کہہ دے مجھے معلوم نہیں کہ اس کا وقت بہت قریب ہے یا میرا رب اس کو دیر میں بھیجے گا۔ یہ جواب سعادت مندوں کے لیے نہایت مستعدی اور سرگرمی کا باعث ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے عالم الغیب وہی غیب کی باتیں جاننے والا ہے ہر آیندہ آنے والی بات کا وقت اسی کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہے فلایظہر علی غیبہ احداً اس لیے کہ وہ اپنے غیب پر کسی کو واقف نہیں کرتا کیونکہ یہ اسی کا خاصہ ہے۔ الامن ارتضی من رسول مگر جس پسندیدہ اور برگزیدہ رسول کو چاہتا ہے واقف کردیتا ہے اور اس کو بھی اس احتیاط اور محافظت سے واقف کرتا ہے کہ فانہ یسلک من بین یدیہ و من خلفہ رصداً کہ اس رسول کے آگے اور پیچھے یا اس غیب کی بات کے آگے اور پیچھے ملائکہ کی ایک چوکی مقرر کرتا ہے جو اس کو شیاطین کے لے اچکنے سے بچاتے ہیں یعنی خداوندی غیب کا خریطہ جب رسول کے پاس آتا ہے تو اس کے آگے پیچھے فرشتوں کے باڈی گارڈ کا ایک دستہ ہوتا ہے تاکہ کوئی شیطان و جن اس غیب کی بات سے کچھ واقف نہ ہوجائے۔ وہ ملائکہ شیاطین کو مار کر بھگا دیتے ہیں اور یہ کس لیے لیعلم ان قدابلغوا رسالات ربہم تاکہ خدا تعالیٰ معلوم کرلے کہ فرشتوں نے رسول تک بحفاظت اس کے احکام پہنچا دیے۔ فائدہ : خدا تعالیٰ کو ہر بات معلوم ہے مگر شے کے ظہور کے بعد جو علم کا اطلاق ہوتا ہے تو اس سے علم تفصیلی مراد ہوتا ہے جو بعد وجود اشیاء ہوتا ہے یا یہ معنی کہ محمد ﷺ کو معلوم ہوجائے کہ فرشتوں نے اللہ کے پیغام بحفاظت پہنچائے ہیں (سعید بن جبیر) ۔ یا یہ معنی کہ رسولوں کو معلوم ہوجائے کہ فرشتوں نے احکام و پیغام پہنچا دیے۔ اس تقدیر پر یعلم کا فاعل اللہ، یامحمد یا رسل ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس کا فاعل کلواحد۔ وابلیس و جن بھی ہوسکتا ہے تاکہ ہر ایک کو معلوم ہوجائے یا ابلیس کو معلوم ہوجائے یا جنوں کو معلوم ہوجائے کہ فرشتوں نے وہ غیب بحفاظت پہنچا دیا۔ اور ابلغوا کا فاعل ان چھ صورتوں میں فرشتے ہیں۔ اب ان چھ صورتوں میں ابلغوا کا فاعل رسولوں کو قرار دیا جائے تو یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ تاکہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ رسولوں نے اللہ کا پیغام جو ان کے پاس خزانہ غیب سے آئے تھے اور ان میں کچھ چوری نہیں ہوئی تھی بحفاظت لوگوں کو پہنچائے یا یہ کہ محمد ﷺ کو معلوم ہو کہ اگلے رسولوں نے جو اللہ کے احکام و پیغام پہنچائے وہ ٹھیک ٹھیک پہنچائے یا لوگوں کو معلوم ہو وقس علی ہذا۔ یہ بارہ احتمال ہیں ہر ایک کی طرف ایک نہ ایک مفسر گیا ہے لیکن اول اقوٰی ہے۔ علم غیب کی تحقیق اور اس کے اقسام : اس کے بعد فرماتا ہے کہ فرشتوں کی چوکی معین کرنا اور بحفاظت اس غیب کا رسولوں تک پہنچنا ایک عادت اللہ کے موافق ہے ورنہ واحاط بمالدیہم اس کے احاطہ علمی میں ہے جو کچھ بندوں کے پاس ہے کوئی بات اس کے علم سے باہر نہیں اور علم بھی کیسا علم واحصٰی کل شیٔ عدداً اس نے ہر ایک چیز کو گن رکھا ہے۔ دریا کے قطرے، ریگستان کے ذرے، درختوں کے پتے، ہر ایک کی گنتی اور تعداد اس کو معلوم ہے۔ یہ کمال احاطہ علمی کی علامت ہے۔ فائدہ : غیب کے معنی پوشیدہ کے ہیں۔ اب یہ پوشیدگی کئی قسم کی ہے۔ قسم اول : اضافی کہ ایک چیز ہمارے سامنے ہے اور جو کوس دو کوس دور ہے اس سے غائب اور غیب ہے یہاں تک کہ عالم ناسوت کی جمیع چیزیں اگر ایک سے غیب میں ہیں تو دوسرے کے نزدیک موجود ہیں۔ کیا اس قسم کا غیب بھی خاصہ خدا ہے ؟ عقل صافی فوراً کہہ دے گی کہ ہرگز نہیں کس لیے کہ یہ غیب مطلق مگر من وجہ مشہود ہے اس کو ایک جانتا ہے تو دوسرا نہیں جانتا۔ جن اکثر اسی قسم کے غیب کو کاہنوں سے بیان کردیتے تھے اور اب بھی بیان کردیں تو کچھ بات نہیں۔ قسم دوم : عالم ناسوتی سے غیب یعنی عالم مثالی کی چیزیں عام ہے کہ ابھی اس عالم میں نہیں آئی ہیں بلکہ آنے والی ہیں یا اگر چلی گئی ہیں نہ اب وہ ان آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں نہ ان کانوں سے سنی جاسکتی ہیں نہ ان ہاتھوں سے ٹٹولی جاسکتی ہیں نہ ناک سے سونگھی جاسکتی ہیں نہ زبان سے چکھی جاتی ہیں۔ اس قسم کا غیب اول غیب سے بلند ہے مگر یہ بھی غیب مطلق نہیں جس کو غیب الغیب کہتے ہیں کیونکر یہ چیزیں عالم ملکوت کے لوگوں کے سامنے ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کبھی روح خواب میں جبکہ اس کو کثافت جسمانیہ سے نورانیت حاصل ہوتی ہے تو ان چیزوں میں سے بعض یا کل کو دریافت کرلیتی ہے اور اسی طرح اہل کشف صادق بحالت بیداری اپنی روحانی تجلی میں دریافت کرلیتے ہیں جیسا کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) و اولیائِ کرام۔ چناچہ صحیح بخاری میں حدیث کسوف ہے جس میں روایت ہے کہ نبی ﷺ کو نماز میں اس عالم غیب کی چیزیں دکھائی گئیں 1 ؎ اور اس لیے اشراقی اور اہل ریاضت بھی کبھی کبھی بعض چیزوں سے واقف ہوجاتے ہیں اور کاہن اور رمال و جفار اور نجومی بھی کبھی کبھی اپنے قواعد سے کچھ اڑتی ہوئی بات معلوم کر کے اپنی قوت متوہمہ سے ایک قالب میں ڈھالتے ہیں مگر خود ان قواعد کی غلطی یا ان سے استنباط کی لغزش اور اسی طرح خواب مکاشفہ میں قوت وہمیہ کی آمیزش اس علمی مرتبے کو ظن کے مرتبے میں کردیتی ہے یعنی بجز کشف انبیاء (علیہم السلام) کے اور جس قدر طریقے ہیں علیٰ قدر اور مراتب ان میں غلطی کا احتمال باقی رہتا ہے۔ اس لیے ان کے جاننے کو علم بمعنی یقینی نہیں کہہ سکتے۔ اس قسم کا غیب بھی اس کی طرف سے خاص حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو عطا ہوتا ہے جس کی یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ آگے اور پیچھے ملائکہ کا پہرہ رہتا ہے تاکہ شیاطین اور قوت فکریہ و قوت وہمیہ و خیالیہ آگے سے اور عادات و طبائع سامنے سے اس میں کچھ بھی دست اندازی نہ کرسکیں اور بعد کی چوکی سے علوم مخزونہ عادات و اخلاق متروکہ اس میں آمیزش کرنے نہیں پاتے۔ رمالوں ‘ جفاروں ‘ نجومیوں ‘ کاہنوں وغیرہ کے غیب میں تو ہزاروں من کوڑا کرکٹ ہوتا ہے اور حضرات اولیاء کرام کے مکاشفات میں بھی یہ محافظت نہیں ہوتی۔ قوائے متوہمہ و متخیلہ کی آمیزش سے امن نہیں اس لیے ان کو بھی آخر الامر کتاب و سنت پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے جو اقسام وحی کے ہیں اور اسی لیے اور مکلفین کو بھی ان کے الہامات کا پابند نہیں کیا گیا اور نہ وہ الہامات حجت قاطعہ ٹھہرائے گئے۔ یہ بات خاص الہام انبیاء (علیہم السلام) کو حاصل ہے کہ جن کے حاصل ہونے سے پہلے بھی حفاظت ہوتی ہے کہ وحی کے وقت ان کے قوٰی کو معطل کردیا جاتا ہے اور بعد میں بھی حفاظت ہوتی ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنے رب ہی کے پیغام و احکام پہنچائے اس میں کچھ آمیزش اور کمی زیادتی تبدیل و تغیر نہیں ہوئی۔ 1 ؎ رسول اللہ ﷺ نے ان غیب کی باتوں کو جو بذریعہ الہام و وحی آپ کو خدا پاک نے بتائی تھیں اپنی امت کو بتایا اس لیے بہت سے صحابہ کو آیندہ آنے والے واقعات بتائے جیسا کہ احادیث صحاح سے ثابت ہے۔ پھر ان مغیبات کا انحصار رسول پر نہ ہوا بلکہ افراد امت میں بھی اس سے مطلع ہوئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگوں کو علم تصدیق نبوت سے حاصل ہوا۔ یہ علم استدلالی ہے نہ کہ غیب پر مطلع ہونے سے اس لیے انحصار صحیح ہوا کذاقیل۔ 12 منہ قسم سوم : تیسری قسم غیب الغیب اور غیب مطلق جس کو حق سبحانہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر اس کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ بعض وہ ہیں کہ جن کے جاننے کی کسی ممکن میں قدرت ہی نہیں اور یہ ایک بےانتہا غیب ہے۔ لایعلمہ الاھو اور بعض ایسی بھی ہیں جن کو ملائکہ مقربین و حاملان عرش جان تو سکتے ہیں مگر نہیں بتلائی جاتیں اور بعض ایسی ہیں کہ کبھی کبھی بتلائی بھی جاتی ہیں اور جب بتلائی جاتی ہیں تو عالم ملکوت میں ایک ہیبت اور دہشت ہوتی ہے جس سے مقربین ماتحت کے ملائکہ سے پوچھتے ہیں۔ اور علی غیبہ میں اضافت اسی غیب کی طرف اشارہ ہے نہ غیب من وجہ کی طرف۔ فائدہ : من ارتضیٰ من رسول سے کیا سب رسول مراد ہیں ؟ جمہور اسی کے قائل ہیں کس لیے کہ من رسول میں من بیانیہ ہے نہ تبعیضیہ پھر کیا اس سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) بالخصوص مراد ہیں یا ملائکہ بھی ؟ جمہور کے نزدیک ملائکہ بھی رسول ہیں جیسا کہ حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ہیں اور ان کو اور ملائکہ پر فوقیت ہے۔ معتزلہ اس سے ابطال کرامات اولیاء اللہ پر استدلال کرتے ہیں کہ وہ کسی آیندہ آنے والے واقعہ کی خبر بطور پیشین گوئی نہیں دے سکتے مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے کس لیے کہ غیبہ یعنی اپنے غیب پر بجز رسول کے اور کسی کو مطلع نہیں کرتا اس طرح سے کہ اس میں کسی قسم کا اشتباہ واقع نہ ہو اور اسی کو اظہار غیب کہتے ہیں۔ اس سے اس کی نفی نہیں ہوتی کہ قسم اول و دوم کے بعض غیوب کا بطریقِ ظن کسی پر اظہار کیا جائے جس کو اظہار الغیب کہتے ہیں۔ امام فخرالدین رازی (رح) غیبہ سے مراد صرف قیامت کی خبر لیتے ہیں اس اعتراض سے اور ان شبہات سے بچنے کے لیے کہ بعض غیب کاہن اور اہل خواب بھی جانتے ہیں۔