72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے) کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو بھلائی کا راستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے

سورة الجن۔ تمام علماء کے نزدیک یہ سورت مکی ہے اس کی اٹھارہ آیات ہیں۔ اللہ کے نام سے شروع جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم کرنے والا ہے اس ارشاد باری تعالیٰ میں پانچ مسائل ہیں : کیا وحی سے پہلے نبی کریم ﷺ کو جنوں کے آنے کی خبر تھی۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، قل اوحی الی۔ اے محمد اپنی امت سے کہو، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کی زبان پر میری طرف وحی کی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے میری قرات کو سنا۔ وحی سے قبل رسول اللہ اس بارے میں آگاہ نہ تھے حضڑت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی کہا ہے کہ جیسا کہ ابھی آئے گا۔ ابن ابی عبلہ نے اسے احی پڑھا ہے کہا ہے، اوحی الیہ ووحی الیہ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ہے اسی کے موافق اللہ تعالیٰ کا فرمان، واذالرسل اقتت۔ (المرسلات) ہر وہ واؤ جو مضموم ہو اس میں قلب کا قاعدہ جاری کرنا جائز ہے مازنی نے واؤ مک سورة میں بھی جائز قرار دیا ہے۔ جیسے اشاح، اسادۃ، وعاء اخیہ (یوسف 76) وغیرہ میں ہے۔ کیانبی کریم ﷺ نے جنوں کو دیکھا یا نہیں۔ مسئلہ نمبر 2۔ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف منقول ہے کیا نبی کریم نے جنوں کو دیکھا تھا یا نہیں ؟ قرآن حکیم کا ظاہر تو اسی امر پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ انہیں نہیں دیکھا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، استمع اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، واذ صرفنا الیک نفرامن الجن یستمعون القرآن (الاحقاف 29 ) ۔ صحیح مسلم اور ترمذی میں حضرت ابن عباس کا قول منقول ہے، رسول اللہ نے نہ توجنوں پر قرآن کو پڑھا اور نہ ہی انہیں دیکھا، رسول اللہ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں عکاظ کی منڈی کے ارادہ سے چلے جب کہ شیاطین اور آسمان کی خبر میں رکاوت پیدا کردی گئی تھی، ان شیاطین پر شہابچے پھینکے گئے اور شیاطین اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے۔ ان کی قوم کے افراد نے پوچھا، تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ شیاطین نے کہا، ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے اور ہمارے اوپر شہابچے پھینکے گئے ہیں قوم کے افراد نے کہا، یہ رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی مگر ایسی چیز سے جو ابھی ابھی واقع ہوئی ہے پس تم مشرق ومغرب میں نکل جاؤ اور دیکھو وہ کیا چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے ؟ وہ مشرق ومغرب میں نکل کھڑے ہوئے۔ جنوں کی وہ جماعت جس نے تہامہ کا رخ کیا تھا وہ نخلہ کے مقام پر تھے اور عکاظ کی منڈی کا ارادہ رکھتے تھے جب کہ نبی کریم اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے جب جنوں نے قرآن کو سنا تو اس کی طرف کان لگائے اور کہا، یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمانی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے۔ ؟ پھر وہ اپنی قوم کی طرف پلٹ آئے انہوں نے کہا، اے ہماری قوم ہم نے عجیب قرآن سنا ہے وہ ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اس وحی کو نازل فرمایا فرمادیجئے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے سنا۔ امام ترمذی نے اسے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہا جنوں کی اپنی قوم سے یہ گفتگوہوئی جب اللہ تعالیٰ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو وہ اس پر تہہ درتہہ جمع ہوگئے۔ کہا : جب جنوں نے رسول اللہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھاجب کہ آپ کے صحابہ، رسول کی نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کررہے تھے تو جن صحابہ کی اس اطاعت کو دیکھ کرمتعجب ہوئے انہوں نے اپنی قوم سے کہا، جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لیے کھڑا ہوتا تو وہ اس پر بھیڑ کرلیتے تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم نے جنوں کو نہیں دیکھا لیکن جن آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کی قراءت کو سنا۔ اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ جن اس وقت شیاطین کے ساتھ تھے جب شیاطین کو شہابچے مارے گئے تو انہوں نے حقیقت حال کو جاننے کی جستجو کی جن کو شہابچے مارے گئے ان میں جن بھی تھے ان جنوں کو بھی شیاطین کہا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، شیاطین الانس والجن (الانعام 112) کیونکہ شیطان ہر سرکش اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلنے والی چیز کو کہتے ہیں۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے جن آسمانوں کی طرف چڑھتے، وحی سنتے جب وہ ایک کلمہ سنتے تو ان میں نوکلمات بڑھالیتے وہ ایک کلمہ تو حق ہوتا اور اس میں جو زائد ملاتے وہ باطل ہوتا جب رسول اللہ مبعوث ہوئے تو انہیں اپنی جگہوں پر بیٹھنے سے روک دیا گیا اس بات کا ذکر انہوں نے ابلیس سے کیا اس سے قبل انہیں ستاروں سے نہیں مارا جاتا تھا۔ ابلیس نے کہا یہ ایسا نہیں ہوامگر زمین میں کوئی واقعہ رونما ہوا ہے اس نے اپنے لشکر بھیجے انہوں نے رسول الہ کو دو پہاڑوں (میراخیال ہے انہوں نے مکہ کہا تھا) کے درمیان نماز پڑھتے ہوئے پایا وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے خبر دی، اس نے کہا یہی وہ واقعہ رونما ہوا ہے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ جنوں کو شہابچے مارے گئے جس طرح شیاطین کو شہابچے مارے گئے۔ سدی کی روایت میں ہے انہیں شہابچے مارے گئے وہ ابلیس کے پاس آئے اور اپنے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے معاملہ کی خبر دی اس نے کہا، ہر علاقہ سے مٹھی بھر مٹی میرے پاس لاؤ جسے میں سونگوں گا وہ مٹی اس کے پاس لے آئے اس نے مٹی کو سونگھا اس نے کہا، تمہارے اس معاملہ کا باعث مکہ مکرمہ میں ہے۔ اس نے جنوں کی ایک جماعت بھیجی، ایک قول یہ کیا گیا وہ جن سات تھے ایک قول کیا گیا وہ نو تھے ان میں زوبعہ تھا۔ عاصم نے زر سے روایت نقل کی ہے کہ زوبعہ کی جماعت اور اس کے ساتھ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے ثمالی نے کہا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے وہ بنی شیصبان سے تعلق رکھتے تھے یہ تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ اور شوکت کے اعتبار سے سب سے قوی تھے عام طور پر یہی ابلیس کے لشکر ہوتے تھے۔ عاصم نے زر سے یہ بھی روایت کیا ہے وہ سات افراد تھے تین اہل حران سے اور چار اہل نصین سے تعلق رکھتے تھے۔ جویر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے وہ نو تھے جو اہل نصیبین سے تعلق رکھتے تھے (یہ یمن کی ایک بستی ہے جو عراق کی بستی سے مختلف ہے) ایک قول یہ کیا گیا جو جن مکہ مکرمہ میں آئے وہ نصیبین کے تھے اور جو جن نخلہ کی مقام پر آئے وہ نینوی کے تھے اس کا ذکر سورة الاحقاف میں گزرچکا ہے۔ عکرمہ نے کہا وہ سورت جسے رسول اللہ پڑھا کرتے تھے وہ اقرا باسم ربک (العلق) تھی سورة الاحقاف میں نفر من الجن کی وضاحت ہوچکی ہے یہاں اس کا اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک قول یہ نقل کیا گیا : نبی کریم نے جنوں والی رات میں جنوں کو دیکھا تھا یہ قول زیادہ صحیح ہے۔ عامر شعبی نے کہا، میں نے علقمہ سے پوچھا کیا جنوں والی رات میں حضرت عبداللہ بن مسعود رسول اللہ کے ساتھ تھے علقمہ نے کہا میں نے حضرت ابن مسعود سے پوچھا میں نے کہا، کیا تم میں سے کوئی جنوں والی رات رسول اللہ کے ساتھ انہوں نے جواب دیا نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول الہ کے ساتھ تھے ہم نے آپ کو گم پایا ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ہم نے کہا، آپ کو کوئی اڑا کرلے گیا ہے یا آپ کو دھوکے سے قتل کردیا گیا ہے انہوں نے کہا، ہم نے وہ رات ایسی بری گزاری جیسی کوئی قوم گزار سکتی ہے۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ غار حراء کی جانب سے آرہے تھے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ہم نے آپ کو گم پایا ہم نے آپ کو تلاش کیا اور نہ پایا تو ہم نے وہ رات ایسی بری گزاری جس اذیت میں کوئی قوم گزار سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جنوں کا داعی آیا تھا میں اس کے ساتھ گیا تو ان پر قرآن حکیم کو پڑھا۔ نبی کریم ہمیں لے گئے آپ نے ہمیں ان کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائے انہوں نے نبی کریم سے زاد راہ کا سوال کیا جب کہ وہ جزیزہ کے جن تھے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہوگا وہ تمہارے ہاتھ لگے تو تمہارے لیے اس پر بہت گوشت ہوگا اور ہر مینگنی تمہارے چوپاؤں کا چارہ ہوگی، رسول اللہ نے صحابہ سے فرمایا، ان دونوں چیزوں کے ساتھ استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں۔ ابن عربی نے کہا، حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس کی بنسبت زیادہ جانتے تھے کیونکہ انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا اور حضرت ابن عباس نے اس کے بارے میں سنا، اور خبر معائنہ جیسی نہی ہوسکتی۔ لیکن قول یہ کیا گیا ہے جن دو دفعہ رسول اللہ کی بارگاہ میں آئے ایک دفعہ مکہ مکرمہ میں آئے حضرت ابن مسعود نے اسی کا ذکر کیا ہے دوسری دفعہ نخلہ میں آئے جس کا ذکر حضرت ابن عباس نے کیا ہے۔ امام بیہقی نے کہا : جس واقعہ کو حضرت ابن عباس نے بیان کیا ہے یہ پہلی دفعہ تھی جب جنوں نے نبی کریم کی آواز کو سنا اور آپ کے احوال سے آگاہ ہوئے اس وقت نبی کریم نے نہ ارادۃ ان پر قرآن پڑھا نہ ہی انہیں دیکھا جس طرح حضرت ابن عباس نے حکایت بیان کی ہے پھر دوسری دفعہ جنوں کا داعی آپ کے پاس آیا، آپ اسی کے ساتھ تشریف لے گئے اور ان کو قرآن سنایا جس طرح حضرت عبداللہ بن مسعود نے حکایت کی ہے۔ امام بیہقی نے کہا، صحیح احادیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابن مسعود جنوں والی رات نبی کریم کے ساتھ نہیں تھے یہ اس وقت آپ کے ساتھ چلے تھے جب رسول اللہ انہیں اور دوسرے لوگوں کو ساتھ لے گئے تھے تاکہ انہیں جنوں کے آثار اور ان کی آگ کے آثار دکھائیں۔ کئی سندوں سے یہ بھی مروی ہے کہ اس رات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ کے ساتھ تھے یہ بحث سورة الاحقاف میں گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جنوں پر قرآن حکیم پڑھوں تم میں سے میرے ساتھ کون جائے گا ؟ صحابہ کرام خاموش رہے پھر دوسری دفعہ فرمایا پھر تیسری فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود نے عرض کی، یارسول اللہ آپ کے ساتھ میں جاؤں گا۔ رسول اللہ چلے یہاں تک کہ حجون کے مقام آئے جو شعب ابی طب کے پاس ہے آپ نے میرے اردگرد ایک خط کھینچا فرمایا، اس سے باہر نہ نکلنا۔ پھر آپ حجون کی طرف چلے گئے تو آپ پر حجلہ عروسی جیسی چیزیں اتریں وہ اپنے قدموں سے نچلی جانب پتھرگرا رہے تھے وہ چل رہے تھے وہ اپنے دفوں کو بجا رہے تھے جس طرح عورتیں دف بجاتی ہیں انہوں نے آپ کو ڈھانپ لیا تو میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا تھا میں کھڑا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ آپ نے قرآن حکیم کی تلاوت کی آپ کی آواز لگاتار بلند ہوتی رہی اور وہ جن زمین کے ساتھ چمٹ گئے یہاں تک کہ میں انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا جب آپ میری طرف لوٹے فرمایا کیا تو نے میرے پاس آنے کا ارادہ کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ۔ فرمایا یہ تیرے لیے مناسب نہیں تھا یہ جن قرآن سننے آئے تھے پھر وہ اپنی قوم کی طرف اس حال میں لوٹے کہ وہ خبردار کرنے والے تھے انہوں نے مجھ سے زاد راہ کا سوال کیا تو میں نے انہیں ہڈیاں اور لیدزاد راہ کے طور پر دیے پس تم میں سے کوئی بھی ہڈی اور لید کے ساتھ استنجاہ کرے۔ عکرمہ نے کہا : وہ جزیزہ موصل کے بارہ ہزار تھے ایک روایت میں ہے نبی کریم مجھے لے گئے یہاں تک کہ جب ہم اس مسجد میں آئے جو بنی عوف کے باغ کے پاس ہے تو آپ نے میرے لیے خط کھینچا تو ان میں سے ایک جماعت آپ کے پاس آئی ہمارے ساتھیوں نے کہا، گویا وہ زطی لوگ ہیں گویا ان کے چہرے مکوک ہیں انہوں نے پوچھا آپ کیا ہیں ؟ رسول اللہ نے فرمایا میں اللہ کا نبی ہوں انہوں نے کہا، اس دعوی پر کون آپ کی گواہی دے گا نبی کریم نے ارشاد فرمایا یہ درخت، حکم دیا، اے درخت، وہ درخت جڑیں گھسیٹا ہوا آیا اس کی شدید آواز آرہی تھی یہاں تک کہ وہ درخت آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا پوچھا، تو کس چیز پر گواہی دیتا ہے ؟ درخت نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ لوٹ گیا جس طرح آیا تھا جب کہ وہ اپنی جڑوں کے ساتھ پتھر بھی کھینچ کرلے جارہا تھا اس کی شدید آواز تھی یہاں تک کہ وہ اسی حالت میں کھڑا ہوگیا جس طرح پہلے تھا۔ پھر روایت کی گئی جب رسول اللہ فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا سر حضرت عبداللہ بن مسعود کی گود میں رکھا اور سو گئے پھر بیدار ہوئے پوچھا، کیا پانی ہے ؟ حضرت ابن مسعود نے عرض کی، نہیں مگر میرے پاس ایک برتن ہے جس میں نبیذ ہے فرمایا، یہ تو کھجور اور پانی ہے تو آپ نے اس سے وضو کیا۔ کس پانی کے ساتھ استنجا کرنا جائز ہے۔ مسئلہ نمبر 3۔ سورة حجر میں پانی کے بارے میں اور سورة براءت میں اس چیز کا ذکر گزرچکا ہے جس سے استنجا کیا جاتا ہے تویہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ جنوں کی حقیقت کے بارے میں علماء کا اختلاف۔ مسئلہ نمبر 4۔ جنوں کی حقیقت کے بارے میں اہل علم کا اختلاف کیا ہے، اسماعیل نے حضرت حسن بصری سے روایت نقل کی ہے کہ جن ابلیس کی اولاد ہیں اور انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ان میں سے مومن اور کافر ہیں وہ ثواب اور عقاب میں شریک ہیں ان میں سے اور ان میں سے جو مومن ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ولی ہے ان میں سے اور ان میں سے جو کافر ہے وہ شیطان ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے جن جان کی اولاد ہیں اوہ شیاطین نہیں وہ ایمان لاتے ہیں ان میں سے کچھ مومن اور کچھ کافر ہیں شیاطین، ابلیس کی اولاد ہیں وہ ابلیس کے ساتھ ہی مریں گے جس طرح جنوں کی اصلیت کے بارے میں اختلاف ہے جنوں میں سے مومنوں کے جنت میں داخل ہونے کے بارے میں اختلاف ہے جس نے یہ گمان کیا کہ وہ جنوں میں سے ہے ابلیس کی نسل سے نہیں اس نے کہا وہ اپنے ایمان کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا جس نے کہا وہ ابلیس کی اولاد ہے اس کے ان کے بارے میں دو قول ہیں۔ (1) یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے، وہ جنت میں داخل ہوں گے (2) یہ مجاہد کی روایت ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے اگرچہ وہ جہنم سے دور کیے جائیں گے ماوردی نے اسے حکایت کیا ہے یہ قول سورة الرحمن میں اللہ تعالیٰ کے فرمان، لم یطمثھن انس قبلھم ولاجان۔ کی تفسیر میں گزرچکا ہے اس میں یہ وضاحت ہے کہ جن جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ جنوں کے کھانے پینے کے بارے میں پایاجانے والا اختلاف۔ مسئلہ نمبر 5۔ بیہقی نے اپنی روایت میں ذکر فرمایا کہ جنوں نے رسول اللہ ﷺ سے زاد کے بارے میں سوال کیا وہ جزیرہ کے جن تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، تمہارے لیے ہر ہڈی زادراہ ہے یہ ارشاد اس امر پر دلیل ہے کہ وہ کھاتے ہیں اطباء اور فلاسفہ میں سے کافروں کی جماعت نے جنوں کا انکار کیا ہے انہوں نے کہا، جن بسیط ہیں ان کا کھانا پینا ثابت نہیں۔ حقیقت میں ان کا یہ قول اللہ تعالیٰ کی ذات پر جرات اور افتراء ہے قرآن وسنت ان کا رد کرتے ہیں مخلوقات میں سے کوئی بھی چیز نہیں جو بسیط، مرکب اور جوڑا بھی ہو، واحد تو صرف سبحانہ وتعالی ہے اس کا غیر مرکب ہے وہ واحد نہیں اس کا حال کیسا بھی ہو۔ یہ کوئی ممتنع امر نہیں کہ نبی کریم انہیں ان کی اصلی صورت میں دیکھیں جس طرح آپ نے فرشتوں کو دیکھا اکثر طور پر وہ ہمارے سامنے سانپوں کی صورت اختیار کرتے ہیں موطا امام مالک میں ہے ایک آدمی کی شادی کو تھوڑا عرصہ گزرا تھا اس نے دوپہر کو اپنے گھرجانے کی اجازت چاہی، اس حدیث میں ہے وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک بڑا سانپ اس کے بستر پر لپٹا ہوا ہے اس صحابی نے نیزہ لے کروار کیا اور اسے نیزے میں پرو لیا اور حدث ذکر کی۔ صحیح میں ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ان گھروں کے عوامر (بڑی عمر والے سانپ) ہیں جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھتا تو تین دفعہ ان پر تنگی کرو اگر وہ چلاجائے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کرو کیونکہ وہ جن کافر ہوگا فرمایا، جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کردو یہی چیز اور ان پر تحریج (تنگ کرو) کا بیان اوپر گزرچکا ہے۔ ایک قوم کا یہ نقطہ نظر ہے کہ یہ حکم مدینہ طیبہ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ صحیح میں حضور ﷺ کا ایک فرمان منقول ہے۔ مدینہ طیبہ کے جن مسلمان ہوچکے ہیں، یہ الفاظ مدینہ طیبہ کے ساتھ خاص ہیں یہ اس کے حکم کے ساتھ بھی خاص ہوگئے۔ ہم کہتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کے علاوہ کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ یہاں علت مدینہ طیبہ کی حرمت بیان نہیں کی گئی کہ یہ حکم اس کے مخصوص ہوتا یہاں اس کی علت اسلام قرار دی گئی ہے یہ اس کے غیر میں بھی عام ہے کیا تم رسول اللہ کا وہ ارشاد نہیں دیکھتے جس میں آپ اس جن کی خبر دیتے ہیں جو آپ سے ملا تھا وہ جزیرہ کے جن تھے یہ واضح ہے کہ جس کی تائید حضور کا یہ ارشاد بھی کرتا ہے، ونھی عن عوامرالبیوت۔ یہ عام ہے اس کے متعلق گفتگو سورة بقرہ میں گزرچکی ہے اس لیے دوبارہ گفتگو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان، فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا۔ میں عجبا سے مراد یہ ہے وہ اپنے کلام کی فصاحت میں عجیب ہے ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنے مواعظ کی بلاغت میں عجیب ہے ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنی برکت کی عظمت میں عجیب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا قرآن غالب ہے اس کی مثل نہیں پائی جاتی۔ ایک قول یہ کیا گیا وہ اسے عظیم خیال کرتے ہیں۔ یھدی الرشد امور کے بہترین پہلوؤں کی طرف راہنمائی کرتا ہے ایک قول یہ کیا گیا وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور یھدی کا فعل ترکیب کلام میں صفت بن گیا یعنی ھادیا کے معنی میں ہے فامنا بہ یعنی ہم اس کے ذریعے ہدایت یافتہ ہوئے اور ہم نے یہ تصدیق کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ ولن نشرک بربنا احدا۔ یعنی ہم ابلیس کی طرف نہ لوٹیں گے اور ہم اس کی اطاعت نہیں کریں گے کیونکہ شیطان نے بھی انہیں بھیجا تھا کہ وہ اس کے پاس خبر لائیں پھر جنوں کو شہابچوں سے مارا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنائیں گے کیونکہ وہ ربوبیت میں یکتا ہے اس میں مومنوں کو اس امر پر تعجب دلایا جارہا ہے کہ قریش میں سے مشرک اس کو نہ سمجھ سکے جس کا ادراک جنوں نے قرآن حکیم میں تدبر کرکے کرلیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : استمع نفر من الجن۔ سے مراد یہ ہے انہوں نے نبی کریم کی آواز کو سنا اور وہ جان گئے کہ جو آپ پڑھ رہے تھے وہ اللہ کا کلام ہے جس کو سنا اس کا ذکر نہ کیا کیونکہ حال اس پر دلالت کرتا ہے۔ نفر کا معنی جماعت ہے خلیل نے کہا، تین سے لے کر دس تک افراد کو نفر کہتے ہیں عیسیٰ ثقفی نے کہا، رشد راء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان) بہت بڑی ہے۔ وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ اولاد

اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانہ تعالیٰ جد ربنا میں علقمہ، یحییٰ ، اعمش، حمزہ، کسائی، ابن عامر، خلف اور سلمی نے ان کو سورت میں بارہ مواقع پر ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ مقامات یہ ہیں، وانہ تعلی جد ربنا، وانہ کان یقول، وانا ظننا، وانہ کان رجال، وانھم ظنوا، وانا لمسناالسمائ، وانا کنا نقعد، وانا لاندری، وانامناالصالحون، وانا ظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض، وانا لماسمعنا الھدی، وانا مناالمسلمون، ان کا عطف انہ استمع نفر، پر ہے اس میں ہمزہ پر فتح کے سوا کوئی صورت دست نہیں کیونکہ یہ اوحی کے نائب فاعل کے محل میں ہے اور اس کا مابعد اس کا معطوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ سب فامنا بہ، میں ھا پر محمول ہے یعنی ان سے پہلے باء حرف جار ہے یہ جائز ہے اور حرف جار کی کثرت کی وجہ سے ان کے ساتھ حرف جار مضمر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے ہم نے یہ تصدیق کی کہ ہمارا رب عظیم ہے۔ باقی قراء نے سب کو ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہی صحیح ہے۔ ابوعبیدہ اور ابوحاتم نے اسے پسند کیا اور اسے فقالو انا سمعنا کا معطوف قرار دیا کیونکہ یہ سب جنوں کا کلام ہے جہاں تک ابوجعفر اور شیبہ کا تعلق ہے ان دونوں نے تین مواقع پر ان کے ہمزہ کو فتحہ دیا ہے وہ یہ مواقع ہیں، وانہ تعالیٰ جد ربنا، وانہ کان یقول، وانہ کان رجال، دونوں نے کہا، یہ وہ جملے ہیں جو اوحی سے متعلق ہیں یعنی وحی سے ہیں ور باقی ماندہ میں ان کے ہمزہ کو کسرہ دیا کیونکہ وہ جنوں کا کلام ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کے فرمان، انہ لما قام عبداللہ کا تعلق ہے سب قراء نے اس میں ان کے ہمزہ کو فتحہ دیا ہے مگر نافع، شیبہ، زر بن حبیش، ابوبکر اور مفضل نے عاصم سے یہی روایت نقل کی ہے انہوں نے ہمزہ کو کسرہ ہی دیا ہے کوئی اور حرکت نہیں دی، انہ استمع نفر من الجن، وان لواستقامو اور وان المساجد للہ، اور ان قدابلغو، میں ہمزہ کو فتحہ دینے میں کوئی اختلاف نہیں اسی طرح قول کے بعد اس کے ہمزہ کو کسرہ دینے میں بھی کوئی اختلاف نہیں جس طرح فقالو، انا سمعنا، قل انما ادعوا ربی، قل ان ادری، اور قل انی لا املک ان مقامات میں ان کے ہمزہ کو کسرہ دیا جاتا ہے اسی طرح وہ مقامات جہاں ان فاجزائیہ کے بعد آیات ہے اس کے ہمزہ کو کسرہ دینے میں کوئی اختلاف نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فان لہ نار جھنم (توبہ 63) فانہ یسلک من بین یدیہ۔ کیونکہ یہ ابتدا کے مواقع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، وانہ تعالیٰ جد ربنا، لغت میں جد سے مراد عظمت اور جلال ہے اس معنی میں حضرت انس کا قول ہے جب ایک آدمی سورة بقرہ اور سورة آل عمران یاد کرلیتا ہے تو ہماری آنکھوں میں عظیم ہوجاتا ہے، جدربنا کا معنی ہے ہمارے رب کی عظمت اور جلال، عکرمہ مجاہد اور قتادہ نے یہ کہا ہے مجاہد سے یہ معنی بھی منقول ہے اور اس کا ذکر بلند ہے۔ حضڑت انس بن مالک، حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے جد کا معنی غنا کیا ہے۔ عکرمہ سے یہ قول بھی منقول ہے کہ حظ کو جد کہتے ہیں رجل مجدد یعنی ایسا آدمی جس کا حصہ معین کردیا گیا ہو حدیث طیبہ میں ہے، لاینفع ذالجد منک الجد، کسی حصہ والے کو تیرے مقابلہ میں حصہ نفع نہ دے گا۔ ابوعبیدہ اور خلیل نے کہا، حدیث میں جد، غنا کے معنی میں ہے یعنی کسی مالدار کو مال تیری پکڑ کے مقابلہ میں نفع نہ دے گا بیشک اس طاعت ہی نفع دے گی حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی قدرت ہے ضحاک نے کہا، اس کا معنی فعل ہے قرظی اور ضحاک نے یہ بھی کہا، اس سے مراد مخلوق پر اس کی نعمتیں اور احسانات ہیں ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا، اس کا معنی اس کی بادشاہی ہے۔ سدی نے کہا، اس کا معنی اس کا امر ہے سعید بن جبیر نے کہا، اس کا مطلب ہے ہمارا رب بلند وبالا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا انہوں نے اس جد سے مراد ادا لیا اور یہ جنوں کا قول ہے جنہوں نے ہر بات جہالت کی وجہ سے کی تو اس پر ان کامواخذہ نہ کیا گیا قشیری نے کہا، لفط جد کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ذکر کرنا جائز ہے اور جائز نہ ہوتا تو قرآن حکیم میں اس کا ذکر نہ ہوتامگر یہ لفظ وہم دلاتا ہے اس سے اجتناب بہتر ہے۔ عکرمہ کی قرات میں یہ جیم کے کسرہ کے ساتھ ہے جو ہنسی مذاق کی ضد ہے۔ اسی طرح ابوحیوۃ اور محمد بن سمیقع نے پڑھا، ابن سمیقع اور ابواشہب نے جداربنا پڑھا ہے جس کا معنی منفعت ہے عکرمہ نے اسے تنوین کے ساتھ جدا پڑھا ہے ربنا کو رفع کے ساتھ مرفوع پڑھا ہے کیونکہ یہ تعالیٰ کا فاعل ہے۔ اور جد تمیز کی حیثیت سے منصوب ہے عکرمہ سے جد مرفوع، تنوین کے ساتھ اور تنوین کے بغیر نقل کیا گیا ہے۔ اور ربنا کو مرفوع نقل کیا گیا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، تعالیٰ جدجد ربنا۔ دوسراجد پہلے جد سے بدل ہے اسے حذف کیا گیا اور مضاف الیہ کو اسی کے قائم مقام رکھ دیا گیا آیت کا معنی یہ ہے ہمارے رب کا جلال اس سے بالا ہے کہ وہ کسی کو بیوی اور بیٹا بنائے تاکہ ان سے مایوسی ہو اور اسے ان کی حاجت ہے رب ند اور نظیر سے ماوراء ہے۔
Ayahs 72:4–7

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افترا کرتا ہے

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور ہمارا (یہ) خیال تھا کہ انسان اور جن خدا کی نسبت جھوٹ نہیں بولتے

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمھار تھا کہ خدا کسی کو نہیں جلائے گا

تفسیر 4 تا 7 اللہ کے فرمان : وانہ کان یقول سفیھنا علی اللہ شططا۔ میں انہ کی ضمیر امر کے لیے ہے یا حدیث کے لیے ہے اور کان میں ضمیر اس کا اسم ہے اور مابعد کان کی خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ کان، زائدہ ہو، مجاہد، ابن جریج اور قتادہ کے قول میں، یہاں سفیہ سے مراد ابلیس ہے، حضرت ابوہریرہ بن ابوموسی نے اپنے باپ سے انہوں نے نبی کریم سے یہی روایت نقل کی ہے ایک قول یہ کیا گیا جنوں میں سے مشرک مراد ہیں قتادہ نے کہا، جنوں کے سفیہ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جس طرح انسانوں کے سفیہ نے اس کی نافرمانی کی، شططا اور اشتطاط سے مراد کفر میں غلو ہے ابومالک نے کہا، اس سے مراد ظلم ہے۔ کلبی نے کہا، اس سے مراد جھوٹ ہے۔ اس کا اصل معنی دوری ہے ظلم کو اس کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ عدل سے دور ہوتا ہے جھوٹ کو اس سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سچائی سے دور ہوتا ہے شاعر کا قول ہے : بایۃ حال حکموا فیک فاشتطوا، وماذالک الا حیث یممک الوخظ۔ کس حال میں انہوں نے تیرے بارے میں فیصلہ کیا اور ظلم کیا اور یہ فیصلہ نہیں تھا مگر اس وقت جب بڑھاپے نے تیرا قصد کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان واناظننا کا معنی ہے ہم نے گمان کیا کہ انسان اور جن اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بولیں گے اسی وجہ سے ہم نے ان کی اس بات میں تصدیق کی اللہ تعالیٰ کی بیوی اور بچہ ہے یہاں تک کہ ہم نے قرآن سنا اور اس کے ذریعے حق کو پہچانا۔ یعقوب، جحدری، اور ابن اسحاق نے لن تقول پڑھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے جنوں سے یہاں خبروں کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وانہ کان رجال من الانس، جس قاری نے ان کے ہمزہ کو فتحہ دیا ہے اس نے اسے انہ استمع کی طرف لوٹایا ہے اور جس نے ہمزہ کسرہ دیا ہے اس نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سی کی گئی کلام قرار دیا ہے اس سے مراد وہ قول ہے جو ایک آدمی اس وقت کرتا جب وہ کسی وادی میں اترتا، اعوذ بسید ھذا الوادی من شرسفھا قومہ۔ میں اس وادی کے سردار کی اس کی قوم کے بیوقوفوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں وہ آدمی اس سردار کی پناہ میں رات گزارتا یہاں تک کہ صبح کرتا۔ یہ تعبیر حضرت حسن بصری، ابن زید اور عدوسرے علماء نے کی ہے، مقاتل نے کہا، سب سے پہلے اہل یمن کی ایک جماعت نے جنوں کی پناہ چاہی، پھر بنوحنیفہ نے جنوں کی پناہ چاہی پھر یہ طریقہ عربوں میں عام ہوگیا، جب اسلام آگیا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہی اور جنوں کو ترک کردیا۔ کردم بن ابی سائب نے کہا، میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ طیبہ جانے کے لیے نکلا یہ پہلا موقع تھا جب نبی کریم کا ذکر ہوا تھا رات نے ہمیں ایک چرواہے کی پناہ لینے پر مجبور کردیا جب نصف رات ہوئی تو بھیڑیا آیا اس نے ایک بکری اٹھائی، چرواہے نے کہا، اے وادی میں طویل عرصہ سے رہنے والے میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایک منادی نے اعلان کیا، اے سرحان : اسے چھوڑ دو تو وہ میمنہ دوڑتا ہوا آیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اپنے رسول پر اس آیت کو نازل کیا تھا۔ وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوھم رھقا۔ یعنی جنوں نے انسانوں کی گمراہی اور گناہ میں اضافہ کیا، یہ حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے، رھق کا لفظ عربی زبان میں گناہ اور محرمات پر چھاجنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور جل رھق اس وقت بولتے ہیں جب کوئی اسی طرح ہو اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وترھقھم ذلۃ (یونس 27) ذلت ان پر چھاجاتی ہے۔ اعمش نے کہا : لاشی ینفعنی من دون رؤیتھا، ھل یشفی وامنق مالم یصب رھقا۔ اس کے دیدار کے بغیر کوئی چیز مجھے نفع نہیں دیتی کیا عاشق شفایاب ہوسکتا ہے جب کہ وہ گناہ کو نہ پہنچاہو۔ یہاں زیادتی کے فعل کو جنوں کی طرف مضاف کیا ہے کیونکہ وہ جن اس کا سبب تھے مجاہد نے بھی یہی کہا ہے کہ انسانوں نے جنوں سے پناہ مانگ کر جنوں کی سرکشی میں اضافہ کیا یہاں تک کہ جنوں نے کہا، ہم انسانوں اور جنوں کے سردار بن گئے۔ قتادہ، ابوعالیہ، ربیع اور ابن زید نے یہ تعبیر کی ہے اس طرح انسان، جنوں سے زیادہ ڈرنے لگے۔ سعید بن جبیر نے اس کا معنی کفر کیا۔ اس میں کوئی خفا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ چھوڑ کر جنوں کی پناہ لینا کفر وشرک ہے ایک قول یہ کیا گیا رجال کے لفظ کا اطلاق جنوں پر نہیں ہوتا انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں کے شر سے بچنے کے لیے انسانوں میں سے ہی کچھ لوگوں کی پناہ چاہتے ہیں مثلاانسانوں میں سے کوئی یہ کہتا ہے، میں اس وادی کے جن کے شر سے حذیفہ بن بدر کی پناہ چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان وانھم ظنو کماظننتم ان لن یبعث اللہ احد۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انسانوں کے لیے کلام ہے کہ جنوں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کو دوبارہ نہیں اٹھائے گا جس طرح تم نے گمان کیا، کلبی نے کہا، معنی ہے جنوں نے گمان کیا کہ جس طرح انسانوں نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف رسول مبعوث نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس رسول کے ذریعے ان پر حجت تمام کرے گا یہ سب قریش پر دلیل قائم کرنے کی تاکید ہے یعنی جب یہ جن حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آتے ہیں تو تم ان پر ایمان لانے کے زیادہ مستحق ہو۔
Ayahs 72:8–10

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسکو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کیلیے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا انکے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

تفسیر 8 تا 10 اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لمسناالسماء یہ جنوں کا قول ہے یعنی ہم نے اس کی خبر جاننا چاہی جس طرح ہماری عادت تھی تو ہم نے اسے پایا کہ وہ فرشتوں سے بھرا ہے۔ حرس، حارس کی جمع ہے اور شھب، شھاب کی جمع ہے وہ ستاروں کاٹوٹنا ہے جو انہیں چوری چھپے باتیں سننے پر جلاتے ہیں اور اس بارے میں گفتگو سورة حجر اور صافات میں گزرچکی ہے وجد کے بارے میں یہ جائز ہے کہ اسے دو مفعولوں کی طرف متعدی مانا جائے ان دو میں سے پہلامفعول ھاضمیر ہے اور ملئت اس کے دوسرے مفعول کے محل میں ہے یہ بھی جائز ہے کہ وہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہو اور ملئت، قد کے مضمر ماننے کے ساتھ حال ہو، حرسا، ملئت کا مفعول ثانی ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے اور شدیدا حرس کی صفت ہے یعنی وہ طاقتور فرشتوں سے بھرا ہوا ہے۔ حرس کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے شدید کو واحد ذکر کیا ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے، السلف الصالح، صالحین کے معنی میں ہے سلف کی جمع اسلاف اور حرس کی جمع احراس ہے امراء القیس کا قول ہے : تجاوزت احراسا واھوال معشر۔ میں نگہبانوں اور جماعت کی خوفناک چیزوں سے آگے گزر گیا۔ یہ بھی جائز ہے کہ حرس مصدر ہو اور یہ حراسۃ شدیدۃ کے معنی میں ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع، فمن یستمع الان یجد لہ شھابارصدا۔ میں ھاضمیر سے مراد السماء ہے اور مقاعدان جگہوں کو کہتے ہیں جن کی مثل میں اس لیے بیٹھا جاتا ہے کہ آسمان کی خبروں کو سنا جائے یعنی سرکش جن یہ کام اس لیے کرتے تھے تاکہ فرشتوں سے آسمان کی خبریں سنیں یہاں تک کہ وہ خبریں کاہنوں خوالقاء کریں جیسے اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مبعوث کیا تو اللہ نے جلانے والے شہابچوں کے ساتھ ان کی نگہبانی کا اہتمام فرمایا، جنوں نے اس وقت کہا، فمن یستمع الان یجد لہ شھابارصدا۔ شہاب سے مراد جلانے والا ستارہ ہے اس کا بیان پہلے گزرچکا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے، ستاروں کاٹوٹنا، یہ نبی کریم کی بعثت کے بعد ہوا۔ یہ آپ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔ سلف صالحین میں اس بارے میں اختلاف ہے کیا شیاطین کو رسول اللہ کی بعثت سے پہلے بھی شہابچے مارے جاتے تھے یا ایسا امر تھا جو نب یکریم کی بعثت کے لیے ہوا ؟ کلبی نے کہا، ایک قوم نے کہا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم کی بعثت کے درمیانی عرصہ یعنی فترت کا زمانہ میں جو تقریبا پانچ سو سال پر محیط ہے آسمان کی نگہبانی نہیں کی جاتی تھی جب حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تو تمام آسمانوں کو ممنوعہ قرار دے دیا گیا اور فرشتوں اور شہابچوں سے اس کی حفاظت کی گئی۔ میں کہتا ہوں : اسے عطیہ عوفی نے حضڑت ابن عباس سے روایت کیا، بیہقی نے اس کا ذکر کیا اور حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا، جب رسول اللہ کی بعثت کا دن آیاتو شیاطین کو روک دیا گیا اور ان کو شہابچے مارے گئے۔ عبدالملک بن سابور نے کہا، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیانی عرصہ یعنی فترت کے دور میں آسمان کی نگہبانی کی جاتی تھی جب حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو آسمان کی نگہبانی کی گئی اور شیاطین کو شہابچوں سے مارا گیا اور آسمان کے قریب ہونے سے انہیں روک دیا گیا۔ نافع بن جبیر نے کہا، فترت کا دور میں شیاطین سنا کرتے تھے اور انہیں شہابچوں سے نہیں مارا جاتا تھا جب رسول اللہ مبعوث ہوئے تو انہیں شہابچوں سے مارا گیا اسی قسم کا قول حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے کہا، جب سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمانوں پر اٹھایا گیا تو کسی کو شہابچے نہیں مارے گئے یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو ان شیاطین کو ماراجانے لگا ایک قول یہ کیا گیا یہ سلسلہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی تھا اور رسول اللہ کی بعثت کے ساتھ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اضافہ کردیا گیا اللہ تعالیٰ کے فرمان، ملئت کا یہی معنی ہے یعنی اس کی نگہبانی میں اضافہ کردیا گیا اوس بن حجر نے کہا، جب کہ وہ دور جاہلیت کا شاعر ہے : فانقض کالدری یتبعہ نقع یثور تخالہ طنبا۔ یہ اکثر لوگوں کا قول ہے جاحظ نے اس شعر کا انکار کیا اور کہا، ہر وہ شعر جو اس بارے میں روایت کیا گیا ہے وہ من گھڑت ہے اور اس نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ بعثت سے قبل شیاطین کو نہیں مارا جاتا تھا جب کہ شیاطین کو مارنے کا قول صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : فوجدنھا ملئت حرسا شدیدا وشھبا۔ یہ جنوں کی جانب سے خبر ہے کہ آسمان کی نہگداشت میں اضافہ کردیا گیا یہاں تک کہ وہ آسمان شہابچوں اور ان سے بھر گئے یہ قول اس لیے صحیح ہے کہ اس اثنا میں نبی کریم صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ ستارے سے کسی کو مارا گیا پوچھا، تم دور جاہلیت میں اس بارے میں کیا کہتے تھے صحابہ نے عرض کیا ہم کہا کرتے تھے کوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے یا کسی عظیم شخص نے جنم لیا ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں پھینکے جاتے بلکہ ہمارا رب سبحانہ وتعالی جب آسمان میں کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو حاملین عرش اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں پھر تمام آسمان والے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں یہاں تک کہ تسبیح کا سلسلہ اس آسمان تک آ پہنچتا ہے آسمان والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا، تو حاملین عرش اس آسمان کے فرشتوں کو خبر دیتے ہیں پھر یہ آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو خبر دیتے ہیں آخرکار خبریں اس آسمان تک آپہنچتا ہے آسمان والے حاملین عرش سے پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا، تو حاملین عرش اس آسمان کے فرشتوں کو خبر دیتے ہیں پھر یہ آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو خبر دیتے ہیں آخرکار خبر اس آسمان تک آپہنچتی ہے جس اس خبر کو اچک لیتے ہیں تو انہیں شہابچوں سے مارا جاتا ہے جو خبروہ جن لاتے ہیں وہ سچی ہوتی ہے لیکن وہ اس خبر میں زیادتی کردیتے ہیں۔ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ شہابچے مارنے کا سلسلہ بعثت سے قبل بھی تھا۔ زہری نے اسی کی مثل حضرت علی بن حسین بن علی بن طالب سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت نقل کرتے ہیں اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں ان سے پوچھا گیا کیا دور جاہلیت میں انہیں شہابچوں سے مارا جاتا تھا ؟ جواب دیا ہاں۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں دیکھا، وانا کنا نقعد منھا مقاعد للسمع، فمن یستمع الان یجد لہ شھابا رصدا۔ کہا، جب نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو معاملہ سخت کردیا گیا اس کی مثل قتبی نے کہا، ابن قتیبہ نے کہا، بعثت کے بعد نگہبانی کا معاملہ سخت ہوگیا اس سے قبل وہ چوری چھپے باتیں سن لیا کرتے اور کسی وقت انہیں شہابچوں سے مارا بھی جاتا تھا جب حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو انہیں سننے سے مطلقا روک دیا گیا اس کی وضاحت سورة الصافات میں ویقذفون من کل جانب۔ دحورا ولھم عذاب واصب۔ آیت میں گزرچکی ہے۔ حافظ نے کہا، اگر کوئی کہنے والا یہ کہے، جب جنوں کو معلوم ہوچکا تھا تو وہ خبر سننے کے لیے کیا اپنے آپ کو جلانے کے لیے پیش کردیتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر چیز بھلا دیتا ہے یہاں تک کہ آزمائش بڑی ہوجاتی ہے جس طرح ابلیس کو ہر لمحہ یہ بات بھلادی جاتی ہے کہ وہ محفوظ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا، ان علیک اللعنۃ الی یوم الدین (الحجر) اگر یہ نہ ہو تو احکام کا مکلف ہونا ہی درست نہ ہو۔ رصدا کے بارے میں یہ کہا گیا، یہ فرشتوں کی طرف سے ہوگا۔ رصد کا معنی ہے کسی شی کی حفاظت کرنے والا۔ اس کی جمع ارصاد ہے اس مقام کے علاوہ میں ممکن ہے کہ وہ جمع ہو جس طرح حرس کا صیغہ ہے اس کی واحد راصد ہے ایک قول یہ کیا گیا، رصد شہابچہ ہے یعنی شہابچہ اس کی تاڑ میں ہوتا ہے تاکہ اس کے ساتھ شیطان کو رجم کیا جائے۔ یہ فعل کا وزن ہے جو مفعول کے معنی میں ہے جس طرح خبط اور نفص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا لاندری اشر ارید بمن فی الارض ام ارادبھم ربھم رشدا۔ کا مفہوم ہے آسمانوں کی ان نگہبانوں سے جو نگہبانی کی گئی ہے کیا اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ہے یابھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ ابن زید نے کہا، ابلیس نے کہا ہم نہیں جانتے کیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اہل زمین پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ کیا ہے یا ان کی طرف رسول بھیجنے کا ارادہ کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ جنوں کی آپس میں اس وقت کی گفتگو ہے جب کہ ابھی نبی کریم کی قرات نہیں سنی تھی یعنی ہم نہیں جانتے کہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ اہل زمین کے لیے عذاب کا ارادہ کیا گیا ہے کیونکہ اہل زمین آپ کو جھٹلاتے ہیں اور جھٹلانے کے ساتھ ہلاک ہوجاتے ہیں جس طرح وہ لوگ ہلاک ہوئے جنہوں نے سابقہ امتوں میں سے انبیاء کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور ہدایت پائیں وہ شر اور رشد اسی کفر و ایمان پر منحصر تھا اس قول کی بنا پر انہیں نبی کریم کی بعثت کا علم تھا جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قرات کو سنا تو انہیں علم ہوگیا کہ وحی کی حفاظت کی خاطر انہیں آسمان کے قریب جانے سے روکا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے نہیں بلکہ یہ ایسا قول ہے جوان جنوں نے اس قت اپنی قوم سے کہا تھا جب وہ انہیں خبردار کرنے کے لیے واپس گئے تھے یعنی جب وہ ایمان لائے تو انہیں خوف ہوا کہ اکثر اہل زمین ایمان نہیں لائیں گے تو انہوں نے کہا، ہم نہیں جانتے کہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کیا اہل زمین اس کا انکار کریں گے یا وہ ایمان لائیں گے ؟۔
Ayahs 72:11–12

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں) خدا کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اسکو تھکا سکتے ہیں

وانا مناالصالحون۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ھربا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منالصالحون ومنا دون ذالک۔ یہ جنوں کے قول کی حکایت ہے جب جنوں نے اپنے ساتھیوں کو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو اس وقت انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ قرآن سننے سے پہلے ہم میں سے کچھ صالح تھے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے ایک قول یہ کیا گیا کہ منادون ذالک کا معنی ہے کہ ؟ صالحین سے صالحیت میں کم ہیں۔ یہ کلام اس کے زیادہ مشابہ ہے جس نے اسے ایمان اور شرک پر محمول کیا ہے۔ کنا طرائق قددا یعنی ہم مختلف جماعتیں تھیں، سدی نے یہ تعبیر کی ہے۔ ضحاک نے کہا، مختلف دین رکھنے والے تھے۔ قتادہ نے کہا، متضاد خواہشات رکھنے والے تھے، اس معنی میں شاعر کا قول ہے : القابض الباسط الھادی بطاعتہ فی فتنۃ الناس اذا اھواء ھم قدد۔ وہ قابض، باسط اور اس کی اطاعت کرنے والا ہے جب کہ لوگ فتنہ میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کی خواہشات مختلف ہیں۔ معنی یہ ہے کہ تمام جن کافر نہیں تھے بلکہ مختلف تھے ان میں سے کچھ کفار تھے اور کچھ صالح مومن اور کچھ غیر صالح مومن تھے۔ مسیب نے کہا، ہم مسلمان، یہودی، نصرانی اور مجوسی تھے۔ سدی نے اللہ تعالیٰ کے فرمان، کنا طرائق قددا۔ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، جنوں میں بھی تمہاری طرح قدریہ، مرجفہ، خوارج، رافضیہ، شیعہ اور سنی تھے۔ ایک قوم نے یہ تعبیر کی کہ قرآن سننے کے بعد ہم مختلف تھے ہم میں سے کچھ مومن اور ہم میں سے کچھ کافر تھے یعنی ہم میں سے کچھ صالح اور کچھ ایسے مومن تھے جو صالحیت میں انتہاء تک پہنچے تھے یعنی ہم میں سے کچھ صالح اور کچھ ایسے مومن تھے جو صالحیت میں انتہا تک نہیں پہنچے ہوئے تھے پہلی تعبیر اچھی ہے کیونکہ جنوں میں سے کچھ ایسے تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی کہ انہوں نے کہا، (ہم نے ایسی کتاب سنی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نازل کی گئی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے) یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان میں سے کچھ لوگ تورات پر ایمان رکھتے تھے جن کو انہوں نے ایمان کی دعوت دی تھی یہ ان کی طرف سے مبالغہ ہے نیز اس قول میں کوئی فائدہ نہیں کہ ہم اب مومن اور کافر میں منقسم ہوئے ہیں۔ طرائق، طریقہ کی جمع ہے۔ یہ انسان کا مذہب ہے یعنی ہم مختلف جماعتیں تھیں، یہ قول کیا جاتا ہے، القوم طرائق، یعنی مختلف مذاہب پر ہے۔ قدد سے مراد راستوں کی مثل ہے یہ طرائق کے لیے تاکید ہے اس کا واحد قدۃ ہے کہا جاتا ہے : بکل طریق قدۃ اس کی اصل قد السیور ہے جس کا معنی تسموں کا کاٹنا ہے لبید اپنے بھائی اربد کا مرثیہ کہتا ہے : لم تبدغ العین کل نھم تھا لیلۃ ثمسی الجیاد کالقدد۔ آنکھ تمام خواہش کے باوجود اس رات تک نہ پہنچی جس رات گھوڑؤں نے تسموں کی طرح رات گزار دی۔ اور ایک نے یہ شعر کہا : ولقد قلت وزید حاسر یوم ولت خیل عمرو قددا۔ میں نے کہا جب کہ زید تھکا ماندہ تھا، جس روز عمرو کے گھوڑے ٹکڑے ٹکڑے لوٹے۔ قد جب کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ایسا تسمہ ہے جو ایسے چمڑے سے کاٹا جاتا ہے جس کو ابھی رنگانہ گیا ہو ایک جملہ بولا جاتا ہے۔ مالہ قد ولاتخف۔ قد چمڑے کا برتن اور قحف لکڑی کے برتن کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : واناظننا ان لن نعجز اللہ فی الارض میں ظن کا علم اور یقین کے معنی میں ہے یہ ظن اس ظن کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے۔ اناظننا ان لن تقول اور وانھم ظنوا۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات میں استدلال اور غوروفکر سے جان لیا کہ ہم اس کے قبضہ اور حکومت میں ہیں ہم بھاگنے یا کسی اور طریقہ سے اس کی قدرت سے باہر نہیں جاسکتے۔ ھربا یہ مصدر ہے جو حال کے معنی میں ہے یعنی ھاربین کا معنی دے رہا ہے۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور جب ہم نے ہدایت (کی کتاب) سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا

وانا لما سمعنا الھدی امنابہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ حطبا۔ آیت میں الھدی سے مراد قرآن ہے۔ امنا بہ میں ضمیر مجرور سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہم نے حضرت محمد ﷺ کے رسول ہونے پر آپ کی تصدیق کی۔ رسول اللہ ﷺ انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کو انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث کیا اللہ تعالیٰ نے جنوں، بادیہ نشینوں اور عورتوں میں سے کبھی کوئی رسول مبعوث نہیں کیا اس کا معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وما ارسلنا من قبلک الارجالانوحی الیھم من اھل القری (یوسف 109) یہ بحث پہلے گزرچکی ہے صحیح میں ہے، بعثت الی الاحمر والاسود۔ یعنی جنوں اور انسانوں کی طرف مجھے مبعوث کیا گیا (جو اپنے رب پر ایمان لاتا ہے تو وہ جزا میں کمی اور ظلم کا خوف نہیں رکھتا) ۔ حضرت ابن عباس نے کہا، وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی اور نہ ہی اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا کیونکہ بخس کا معنی کمی اور رھق کا معنی حد سے تجاوز کرنا اور حرام کردہ چیزوں کو بجالانا ہے۔ اعمش نے کہا : لاشئی ینفعنی من دون روئتھا ھل یشتفی وامق مالم یصب رھقا۔ اس کے دیدار کے سوا مجھے کوئی چیز نفع نہیں دیتی کیا عاشق جب تک محبوب پر رسائی نہیں پائے گا وہ شفایاب ہوگا۔ وامق کا معنی محب ہے، ومق یمق کا معنی محبت کرنا ہے یہ جنوں کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کی حکایت بیان کی ہے کہ وہ ایمان کے قوی اور صحیح اسلام والے تھے عام قراء کی قرات فلایخاف ہے تقدیر کلام یوں ہے، فانہ لایخاف، اعمش یحییٰ اور ابراہیم نے اسے فلایخف مجزوم پڑھا ہے کیونکہ یہ جواب شرط ہے اور فاء لغو ہے۔
Ayahs 72:14–15

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں بعض فرماں بردار ہیں اور بعض (نافرمان) گنہگار ہیں تو جو فرماں بردار ہوئے وہ سیدھے راستے پر چلے

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

اللہ تعالیٰ کا فرمان : وانا منا المسلمون ومناالقاسطون۔ یعنی قرآن کے سننے کے بعد ہم ایک دوسرے سے مختلف تھے ہم میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہوگئے اور ہم میں سے کچھ کافر تھے۔ قاسط کا معنی ظالم ہے کیونکہ وہ حق سے روگردانی کرنے والا ہوتا ہے۔ مقسط کا معنی عادل ہے کیونکہ وہ حق کی طرف پھرنے والا ہوتا ہے کہا جاتا ہے، قسط یعنی ظلم کیا اور اقسط یعنی اس نے عدل کیا شاعر نے کہا : قوم ھم قتلوا ابن ھند عتوۃ، عمرا وھم قسطوا علی النعمان۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ابن ہند یعنی عمرو کو ظلم کے ساتھ قتل کیا اور انہوں نے نعمان پر ظلم کیا۔ فمن اسلم فاو لئک تحرو رشدا۔ (جواسلام لائے انہوں نے ہدایت کا قصد کیا) یعنی حق کے راستہ کا قصد کیا اسی سے تحری القبلہ یعنی قبلہ کو تلاش کیا ہے رہے وہ لوگ جو حق اور ایمان کے راستے سے اعراض کرنے والے ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔
Ayahs 72:16–17

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) یہ (بھی ان سے کہہ دو ) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر رہتے تو ہم انکے پینے کو بہت سا پانی دیتے

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس سے انکی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیر لے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گا

وان الواستقاموا علی۔۔۔۔ تا۔۔۔ صعدا۔ وان الوستقاموا علی الطریقۃ۔ یہ فرمان جنوں کے قول کی حکایت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یعنی اگر یہ کفار ایمان لاتے تو دنیا میں ہم انہیں وسعت عطا کرتے اور انہیں فراخ رزق عطا کرتے۔ یہ وحی پر محمول ہوگا یعنی میری طرف وحی کی گئی کہ اگر جن استقامت کا مظاہرہ کرتے۔ ابن بحر نے ذکر کیا اس سورت میں جہاں ان ہے وہ ان جنوں کے قول کی حکایت ہے جنہوں نے قرآن سنا اور اپنی قوم کو خبردار کرنے کے لیی لوٹے اور جہاں بھی ان (مفتوحہ مخففہ) ہے تو وہ رسول اللہ کی طرف وحی ہے یعنی (اس کا تعلق اوحی فعل کے ساتھ ہے) ابن انباری نے کہا : جس نے ماقبل مقامات پر ہمزہ کو کسرہ دیا اور وان لواستقاموا میں ہمزہ کو فتحہ دیا تو اس نے مکمل قسم کو مضمر مانا۔ اس کی تاویل کی ہے، واللہ ان لواستقاموا علی الطریقۃ جس طرح گفتگو میں یہ کہا جاتا ہے، واللہ ان قمت لقمت اور واللہ لوقمت قمت۔ شاعر نے کہا : اما واللہ ان لو کنت حرا وما بالجر انت ولا العتیق۔ اللہ کی قسم ! کاش تو آزاد ہوتا نہ تو اصلاآزاد ہے اور نہ ہی بعد میں آزاد کیا گیا ہے۔ جس نے نون مخففہ سے قبل کو فتحہ دیا اس نے اسی کلام کو اوحی الی انہ، وان لواستقامو اور آمنا بہ پر عطف کیا ہے تقدیر کلام یوں ہے بان لواستقاموا۔ جس نے تمام حروف ان مخففہ تک کو کسرہ دیا تو اس پر لازم ہوگا کہ وہ مخففہ کو اوحی الی اور فامنا بہ پر عطف کرے اور قسم کو مضمر ماننے سے مستعفی ہوجائے اور عام قراء کی قرات لواستقاموا ہے کیونکہ دوساکن جمع ہوگئے ہیں ابن وثاب اور اعمش نے واؤ کو مضموم پڑھا ہے۔ ماء غدقا۔ یعنی کثیر پانی۔ ان سے سات سال تک بارش روک لی گئی تھی یہ جملہ بولا جاتا ہے، غدقت العین تفدق ھی غدقۃ۔ جب چشمہ کا پانی بہت زیادہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں اس مراد تمام مخلوق ہے اگر ساری مخلوق حق، ایمان اور ہدایت کے راستہ پر استقامت کا مظاہرہ کرتی اور وہ مطیع و مومن ہوتی تو ہم اسے کثیر پانی سے سیراب کرتے تاکہ ہم آزمائیں کہ ان نعمتوں پر ان کا شکر کیسا ہے۔ حضرت عمر نے اس آیت کی تفسیر میں بیان فرمایا جہاں کہیں ماء کا ذکر ہے اس سے مراد مال ہے اور جہاں کہیں مال کا ذکر ہے اس سے مراد آزمائش ہے، لاسقینھم ماء غدقا۔ کا معنی ہے ہم دنیا میں ان پر وسعت کردیتے۔ ماء غدق کو مال کثر کے لیے بطور ضرب المثل ذکر کیا کیونکہ خیر اور رزق سب بارش کی وجہ سے ہوتا ہے اس وجہ سے بارش کو خیر اور رزق کی جگہ رکھ دیا جسطرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بارش مراد ہے۔ ولوان اھل القری آمنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض (الاعراف 96) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان، ولوانھم اقامو التورات والانجیل وماانزل الیھم من ربھم لاکلوا من فوقھم من تحت ارجلھم (مائدہ 66) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سعید بن مسیب، عطاب نابی رباح، ضحاک، قتادہ، مقاتل عطیہ، عبید بن عمیر اور حسن بصری نے کہا، اللہ کی قسم، نبی کریم ﷺ کے صحابہ احکام کے سننے والے اور اطاعت کرنے والے تھے ان پر کسری، قیصر مقوقس اور نجاشی کے خزانے کھول دیے گئے تو اسی مال کی وجہ سے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا تو وہ اپنے امام پر جھپٹ پڑے اور انہیں (حضرت عثمان ذی النورین) کو شہید کردیا۔ کلبی اور دوسرے علماء نے کہا : وان الوستقاموا علی الطریقۃ کا معنی یہ ہے جس کفر پر وہ پہلے تھے اگر وہ اسی پر استقامت کا مظاہرہ کرتے اور وہ سب کے سب کافر ہوتے تو ہم خفیہ تدبیر کی بنا پر ان سے استدراج کا طریقہ اپناتے ہوئے ان پر رزق فراخ کردیتے یہاں تک کہ وہ وسیع رزق کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوجاتے تو ہم انہیں دنیا وآخرت میں عذاب دیتے یہ وہ تعبیر ہے جس ربیع بن انس، زید بن اسلم، ان کے بیـٹے، کلبی، ثمالی، یمانین رباب، ابن کیسان اور ابومجلز نے کی ہے انہوں نے ان آیات سے استدلال کیا ہے، فلما نسوا ماذکروابہ فتحنا علہیم ابواب کل شی (انعام 44) اور ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم من فضۃ۔ (الزخرف 33) پہلی تعبیر زیادہ مناسب وموزوں ہے کیونکہ الطریقہ معرف باللام ہے پس زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس کا راستہ ہدایت کا راستہ ہو اور استقامت، ہدایت کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں حضڑت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جن چیزوں سے میں تمہارے بارے میں خوف کھاتا ہوں ان میں سے سب سے خوفناک امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر زہرۃ الدنیا نکالے گا، صحابہ نے پوچھا یہ زہرۃ الدنیا کیا چیز ہے ؟ فرمایا، زمین کی برکات، ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ کی قسم، میں تمہارے بارے میں فقر سے نہیں ڈرتا میں تمہارے بارے میں اس چیز سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر فراخ کردی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کی گئی تھی تم اس میں باہم مقابلہ کرو گے جس طرح انہوں نے باہم مقابلہ کیا تو وہ تمہیں ہلاک کردے گی جس طرح اس نے انہیں ہلاک کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : ومن یعرض عن ذکرربہ۔ میں ذکر سے مراد قرآن ہے یہ قول ابن زید کا ہے قرآن سے اس کے اعراض کی دو صورتیں ہیں۔ ایک قبول کرنے سے اعراض۔ اگر یہ کہا جائے گا کہ یہ اہل کفر میں تھی۔ دوسرے عمل سے اعراض، اگر یہ کہا جائے کہ یہ مومنوں میں تھی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر نہ کیا اللہ تعالیٰ اسے چھاجانے والے عذاب میں داخل کرے گا۔ کوفی قراء اور عیاش نے ابوعمرو سے یسل کہ (یا کے ساتھ) پڑھا ہے یہ قرات ابوعبید اور ابوحاتم کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نام پہلے مذکور ہے کہا، ومن یعرض عن ذکر ربہ۔ جب کہ باقی قراء نے اسے نسلکہ پڑھا ہے۔ مسلم بن جندب سے نسلکہ مروی ہیی، طلحۃ اور اعرج نے اسی طرح قرات کی ہے یہ دونوں لغتیں ہیں سل کہ اور اسل کہ دونوں (مجرد مزیدفیہ) کا ایک ہی معنی ہے یعنی ہم اسے سخت مشکل عذاب میں داخل کریں گے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہ جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس بھی وہ اس پر اپنے ہاتھ رکھیں گے تو ہاتھ پگھل جائیں گے حضرت ابن عباس سے یہی بھی مروی ہے اس کا معنی مشغۃ من العذاب ہے لغت میں بھی یہ معلوم ومشہور ہے کہ، صعد کا مشقت ہے تو کہتا ہے، تصعدنی الامر۔ یہ جملہ تو اس وقت بولتا ہے جب معاملہ تجھ پر مشکل ہوجائے اس معنی میں حضرت عمر کا قول ہے، ماتصعد فی شئی ماتصعدتنی خطبۃ النکاح۔ یعنی مجھے جتنا مشکل خطبہ نکاح ہے میرے لیے اتنی مشکل کوئی چیز نہیں۔ عذاب صعد کا معنی ہے سخت عذآب۔ صعد، صعد کا مصدر ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے صعد صعدا وصعودا۔ اس لفظ کے ساتھ عذاب کی صفت ذکر کی گئی ہے کیونکہ یہ عذاب معذب پر بلند ہوجاتا ہے جس کو برداشت کرنے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔ ابوعبیدہ نے کہا، الصعد مصدر ہے تقدیر کلام یوں ہوگی عذابا ذا صعد بلندی کی طرف چلنے میں مشقت ہوتی ہے صعود سے مراد پیچدہ گھاٹی ہے۔ عکرمہ نے کہا : جہنم میں ملائم چٹان ہے جس پر چڑھنے کا انہیں مکلف بنایاجائے گا جب وہ اس کی بلندی تک پہنچے گا تو اسے جہنم کی طرف گرا دیا جائے گا۔ کلبی نے کہا، ولید بن مغیرہ کو جہنم میں ایک پہاڑ پر چڑھنے پر مجبور کیا جائے گا جو پہاڑ ملائم چٹان کا ہوگا اسے زنجیروں کے ساتھ سامنے سے کھینچا جائے گا اور پیچھے سے گرزوں کے ساتھ ماراجائے گا یہاں تک کہ اس کی چوٹی پر پہنچے گا وہ چالیس سال تک اس کی بلندی پر نہیں پہنچے گا جب وہ اس کی بلندی پر پہنچے گا تو اسے اس کی پستی کی طرف گرا دیا جائے گا پھرا سے اس کی چوٹی پر چڑھنے پر مجبور کیا جائے گا ہمیشہ اس کا یہی طریقہ ہوگا اللہ تعالیٰ کے فرمان، سارھقہ صعودا۔ کا یہی معنی ہیی۔