Ayah 72:18وان المساجد للہ فلا تدعوا مع اللہ احدا۔
اس میں چھ مسائل ہیں۔
مساجد سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ اس آیت کا تعلق قل اوحی الی کے ساتھ ہے یعنی کہہ دو ، میری طرف وحی کی گئی ہے کہ مساجد الہ تعالیٰ کے لیے ہیں خلیل نے یوں تقدیر کلام کی ہے، لان المساجد للہ کیونکہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، بیوت سے مراد وہ مقامات ہیں جو ادیان کے حاملین عبادت کے لیے بناتے ہیں سعید بن جبیر نے کہا، ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم مساجد میں آئیں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھیں جب کہ ہم تو آپ سے دور ہوتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی مساجد اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت بجالانے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
حضرت حسن بصری نے کہا : اس سے مراد تمام جگہیں ہیں کیونکہ ساری زمین نبی کریم ﷺ کے لیے مسجد ہے۔ آپ فرماتے ہیں تم جہاں بھی ہو نماز پڑھ لو۔ تم جہاں بھی نماز پڑھو گے وہ مسجد ہے۔ صحیح میں ہے میرے لیے زمین مسجد اور پاکیزگی عطا کرنے والی بنادی گئی ہے، سعید بن مسیب اور طلق بن حبیب نے کہا، مساجد سے مراد وہ اعضاء ہیں جن پر بندہ سجدہ کرتا ہے وہ دو قدم، دو گھٹنے، دوہاتھ، اور چہر ہے۔ یہ اعضاء ایسے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعام کیا ہے تو ان اعضاء کے ساتھ غیر کو سجدہ نہ کر اگر تو ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی نعمت کا انکار کرے گا۔ عطاء نے کہا، مساجدک سے مراد تیرے وہ اعضاء ہیں جن کے بارے میں تجھے حکم دیا گیا کہ تو ان پر سجدہ کرے تو انہیں خالق کے سوا کے لیے ذلیل نہ کر۔ صحیح میں حضرت ابن عباس سے روایت مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، پیشانی اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنے اور دونوں کندھوں کی طرف۔
حضرت عباس نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ سجدہ کرے تو اس کے ساتھ اس کے سات اعضاء سجدہ کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے مساجد سے مراد نمازیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے سجدہ۔ حضرت حسن بصری نے بھی یہی قول کیا ہے اگر مساجد سے مراد مواضع لیے جائیں تو اس کی واحد مسجد ہوگی یہ بھی کہا گیا ہے اس کی واحد مسجد ہوگی، قراء نے اس کی حکایت بیان کی ہے اگر تو اس سے مراد اعضاء لے تو اس کی واحد مسجد ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مسجد کی جمع ہے جس کا معنی سجود ہے، یہ قول کیا جاتا ہے، سجدت سجودا مسجدا جس طرح تو کہتا ہے، ضربت فی الارض ضربا ومضربا۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو رزق کی تلاش میں جائے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یہاں مساجد سے مراد حکم ہے جو قبلہ ہے مکہ مکرمہ کو مساجد کا نام دیا کیونکہ ہر ایک اس کی طرف منہ کرکے سجدہ کرتا ہے پہلاقول ان تمام اقوال سے زیادہ نمایاں ہیں انشاء اللہ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی کی فضیلت۔
مسئلہ نمبر 2۔ للہ میں اضافت شرف اور رتبہ کے اظہار کے لیے ہے، پھر ان مساجد میں سے بیت عتیق کو خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے اور فرمایا میرے گھر کو پاک کرو، اور رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، سواریوں کو تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کے لیے کام میں نہ لایاجائے۔ اس حدیث کو ائمہ نے تخریج کیا ہے اس بارے میں گفتگو پہلے گزرچکی ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، میری اس مسجد میں پڑھی جانے والی ایک نماز مسجد حرام کے سوا باقی تمام مسجدوں میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔ ابن عربی نے کہا، ایک سند سے یہ روایت مری ہے جس میں خوئی کجی نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، میر اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے سوا باقی مساجد میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے کیونکہ مسجد حرام میں پڑھی جانے والی ایک نماز میری مسجد میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے بہتر ہے اگر یہ صحیح ہوتومسجد حرام کی فضیلت میں یہ ایک نص ہوگی۔ میں کہتا ہوں : یہ روایت صحیح ہے جو ایک عادل سے دوسرے عادل سے منقول ہے جس طرح ہم نے سورة ابراہیم میں بیان کیا ہے۔
مساجد کی اضافت غیر کی طرف کرنے کا جواز۔
مسئلہ نمبر 3۔ مساجد اگرچہ ملک اور شرافت کے اظہار کے لی اللہ کی ہیں تاہم علامت کے طور پر غیر کی طرف بھی منسوب ہوتی ہیں تو کہا جاتا ہے، مسجد فلاں، صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم نے ضامر گھوڑوں میں حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی اور جن گھوڑوں کو ضامر نہیں بنایا جاتا تھا اس کی دوڑ ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ یہ اضافت محلیت کے اعتبار سے ہے گویا وہ محل ان کے قبلہ میں ہے بعض اوقات ان کے وقف کرنے کے اعتبار سے ہوتی ہے پل اور قبرستانوں کے خاص کرنے میں امت میں کوئی اختلاف نہیں اگرچہ دوسری چیزوں کی تخصیص میں اختلاف ہے۔
مسجد میں کون سے کام جائز ہیںَ
مسئلہ نمبر 4۔ مساجد اللہ کے لی ان میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی کا ذکر نہیں کیا جاسکتا تاہم ان میں اموال کی تقسیم جائز ہے ان میں صدقات رکھنا بھی جائز ہے یہ سب مساکین میں مشترک ہے اور ان میں جوائے وہ اس سے کھا لیے، اس میں مقروض کو روک لینا بھی جائز ہے اس میں قیدی کو باندھ دینا بھی جائز ہے اس میں سو جائز ہے مریض کا رہنا جائز ہے، پڑوسی کا اس میں دروازہ کھولنا جائز ہے شعر جب باطل سے پاک ہو تو اس کا پڑھنا جائز ہے یہ سب باتیں سورة براءت سورة نور دوسری سورتوں میں گزرچکی ہیں۔
اس آیت کے نزول کا سبب۔
مسئلہ نمبر 5۔ فلاتدعوامع اللہ احدا۔ مسجد حرام میں مشرک جو غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اس پر انہیں شرمندہ کرنا ہے مجاہد نے کہا، یہودی اور نصرانی اپنی عبادت گاہوں میں داخل ہوتے تو اللہ کے ساتھ شرک کرتے اللہ نے اپنے نبی کو اور مومنوں کو حکم دیا کہ وہ جب مساجد میں داخل ہوں تو عبادت کو اللہ کی ذات کے لیے خالص کریں، اسے ہنسی مذاق کی جگہ، تجارتی منڈی، بیٹھنے کی جگہ اور راستہ نہ بنائیں اور ان مساجد میں غیر اللہ کے لی حصہ نہ بنائیں۔ صحیح میں ہے جو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کرے تو تم یہ کہو، اللہ تعالیٰ اسے تم پر نہ لوٹائے کیونکہ مساجد اس کے لیے نہیں بنائی گئیں سورة نور میں ایسی بحث گزرچکی ہے جو مساجد کے احکام کے لیے کافی ہے۔
مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کی دعا۔
مسئلہ نمبر 6۔ ضحاک نے ابن عباس سے روایت نقل کی انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے جب نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو اپنا دایاں پاؤں آگے رکھتے اور یہ آیت پڑھتے، وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔ اور دعامانگتے، اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں تیرا زائر ہوں، ہر زیارت کیے جانے والے پر حق ہے اور توبہترین زیارت کیے جانے والوں میں سے ہے۔ میں تیری رحمت کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری گردن کو آگ سے آزاد کردے اور جب مسجد سے باہرنکلتے تو اپنادایاں پاؤں آگے رکھتے اور یہ دعا کرتے، اے اللہ۔ مجھ پر بھلائی کو انڈیل، جو تو نے مجھے اچھائی عطا کی ہے کبھی بھی مجھ سے نہ چین میری زندگی کو مخصوص مشقت نہ بنادے اور زمین میں میرے لیے غنامقدر کردے۔
Ayah 72:19وانہ لما قام عبداللہ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ رشدا۔
وانہ کے ہمزہ پر فتحہ پڑھنا جائز ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی اور جملہ مستانفہ کے طریقہ پر۔ ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھنا بھی جائز ہے یہاں عبداللہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں جب کہ آپ بطن نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن حکیم پڑھ رہے تھے جیسے سورت کے آغاز میں گزرچکا ہے۔ یدعوہ یعنی اس کی عبادت کرتے ہوئے ابن جریج نے کہا، یدعوہ کا معنی ہے اللہ کا بندہ انہیں اللہ تعالیٰ کی دعوت دینے کے لیے کھڑا ہوا۔
کادوا یکونون علیہ لبدا۔ کی تعبیر کرتے ہوئے حضرت زبیر بن عوام نے کہا، اس سے مراد جن ہیں جب انہوں نے نبی کریم ﷺ سے قرآن سنا، یعنی وہ بھیڑ کرتے ہوئے ایک دوسرے پر سوار ہونے لگے اور گرنے لگے وجہ قرآن حکیم سننے کی حرص تھی، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ حرص کی وجہ سے ایک دوسرے پر سوار ہونے لگے، یہ ضحاک کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، وہ ذکر کے سماع میں رغبت کرنے لگے، برد نے مکحول سے روایت نقل کی ہے اس رات جنوں نے رسول اللہ کے ہاتھوں پر بیعت کی اس وقت ان کی تعداد ستر ہزار تھی اور فجر کے طلوع ہونے کے وقت بیعت سے فارغ ہوئے۔ حضرت ابن عباس کا یہ بھی قول ہے کہ یہ جنوں کا قول ہے جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو وہ کچھ بتایا جو انہوں نے صحابہ کو نبی کریم ﷺ کی اطاعت اور رکوع و سجود میں اقتدا کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک قول یہ کیا گیا مشرک نبی کریم پر ناراضگی کی وجہ سے ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہیں۔
حضرت حسن بصری، قتادہ اور ابن زید نے کہا، کب حضرت محمد ﷺ نے دعوت دینا شروع کی تو انسان اور جن سب اس امر پر متفق ہوگئے کہ اس نور کو بجھادیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ارادہ کا انکار کیا اور رسول اللہ کی مدد کی، اور طبری نے یہ معنی اختیار کیا ہے تمام عرب نبی کریم ﷺ پر جمع ہوتے ہیں اور جو نور آپ لاتے ہیں اس کو بجھانے کے لیے باہم تعاون کرتے ہیں۔
مجاہد نے کہا : لبد کا معنی جماعتین ہیں یہ تلبد الشئی علی الشئی سے مشتق ہے یعنی جمع ہونا اسی سے لبدہ ہے جسے بچھایا جاتا ہے تاکہ اس کی اون جمع ہوجائے ہر وہ چیز جس کو تو ایک دوسرے کے ساتھ سختی سے ملائے تو تونے اسے لبدہ بنادیا۔ لبدہ کی جمع لبد ہے جس طرح قربہ کی جمع قرب ہے وہ بال جو شیر کی پشت پر ہوتے ہیں اسے لبدہ کہتے ہیں اس کی جمع لبد ہے زہیر نے کہا :
لدی اسد شاکی السلاح مقذف لہ لبد اظفارہ لم تقلم۔
شیر کے پاس جو مسلح ہے گوشت پھینکنے والا ہے اس کی گردن پر لمبے بال ہیں اس کے ناخن نہیں کاٹے گئے۔ بہت زیادہ ٹڈی کو بھی لبد کہتے ہیں اس میں چار لغات ہیں اور قرات ہیں۔ باء کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ، یہ عام لوگوں کی قرات ہے۔ 2۔ لام کو ضمہ اور باء کو فتحہ، یہ مجاہد ابن محیصن اور ہشام کی قرات ہے، اس کی واحد لبدۃ ہے۔ 3۔ لام اور باء دونوں مضموم ہوں، یہ ابوحیوۃ محمد بن سمیقع، ابی الاشہب عقیلی، اور جحدری کا نقطہ نظر ہے اس کی واحد لبد ہے جس طرح سقف کی جمع سقفُ اور رھن کی جمع رھن ہے۔ 4۔ لام کو ضمہ اور باء مشددہ مفتوحہ، یہ حسن، ابوالعالیہ، اعرج، اور جحدری کی قرات ہے اس کی واحد لابد ہے جیسے راکع کی جمع رکع، ساجد کی جمع سجد ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے لبد لام کے ضمہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ یعنی دائمی چیز۔ اس معنی میں یہ قول ہے کہ لقمان کی گدھ کو لبد کہتے ہیں کیونکہ اس میں دوام اور بقاء کی خصوصیات تھیں۔
نابغہ نے کہا، اخنی علیھا الذی اخنی علی لبد۔ اس کے ساتھ اس نے خیانت کی جس نے لبد کے ساتھ خیانت کی۔ قشیری نے کہا، اسے لبد لام اور یام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ لبید کی جمع ہے جس کا معنی اون کی چھوـٹی گون ہے۔ صحاح میں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان، اھلکت مالالبدا۔ (البلد) یعنی میں نے سب کا سب مال خرچ کردیا۔ یہ بھی جملہ بولا جاتا ہے۔ الناس لبد لوگ جمع ہیں۔ اور لبد اس آدمی کو بھی کہتے ہیں جو سفر نہیں کرتا اور ہمیشہ اپنے گھر میں رہتا ہے۔ شاعر نے کہا :
من امری ذی سماح لاتزال لہ۔۔۔۔۔۔ بزلاء یعیا بھا الجثامہ للبد۔ سخی آدمی کی جانب سے اس کی رائے ہمیشہ عمدہ ہوتی ہے جس کے ساتھ اپنی جگہ سے نہ ہلنے والا تھک ہارجاتا ہے۔ انی اذا شغلت قوما فروجھم۔۔۔۔ رحب المسالک نھاص ببزلائ۔ جب لوگوں کو ان کے بچے مشغول کردیتے ہیں تو میں کھلے راستوں والا اور عظیم کام کرنے والا ہوتا ہوں۔
لبد لقمان کی گدھوں میں سے آخری ہے یہ منصرف ہے کیونکہ یہ معددل نہیں عربوں کا گمان ہے کہ لقمان وہ ہے جسے عاد نے اپنے وفد میں حرم کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے بارش کی دعا کرے۔ جب وفد کے لوگوں کو ہلاک کردیا گیا تولقمان کو اختیار دیا گیا کہ وہ سات سفید ہر نیوں کے درمیان رہے جو مٹیالے ہر نوں میں سے ہوں اور ایسے پہاڑ میں جو پربیچ ہو، جہاں بارش نہ ہوئی ہو یا ان سات گدھوں کے درمیان کے درمیان رہے جب بھی ایک گدھ ہلاک ہو تو اس کے بعد ایک گدھ نائب ہوگی تو آپ نے گدھوں کو پسند کیا ان کی آخری گدھ کا نام لبد تھا شعراء نے بھی اس کا ذکر کیا ہے نابغہ نے کہا : اخنی علیھا الذی اخنی علی لبد۔ اس شعر میں لبد سے مراد وہی گدھ ہے۔ لبید سے مراد اون کی چھوٹی گون ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، البدت القربہ۔ جب تو اسے گون میں رکھ لے۔ لبید، بنی عامر کے شاعر کا نام بھی ہے۔
Ayah 72:20قل انما ادعواربی، رسول اللہ ﷺ نے کہا، میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا اکثر قراء نے یہاں قال کی قرات کی ہے جب کہ حمزہ اور عاصم نے قل امر کا صیغہ پڑھا ہے اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ قریش کے کفار نے آپ کو کہا تم بہت بڑی بات لاتے ہو، ہم نے تمام لوگوں سے دشمنی مول لے لی ہے اس سے باز آجاؤ ہم تمہیں پناہ دیتے ہیں۔
Ayah 72:21قل انی لا املک لکم ضرا ولارشدا۔ فرمادیجئے میں اس پر قادر نہیں کہ میں تم سے مصیبت کو دور کردوں اور نہ اس پر قادر ہوں کہ تمہارے لیے بھلائی لاؤں ایک قول یہ کیا گیا ہے، ضرا سے مراد کفر اور رشدا سے مراد ہدایت ہے یعنی میرے ذمہ تبلیغ کرنا ہے ایک قول یہ کیا گیا، ضر سے مراد عذاب اور رشد سے مراد نعمت ہے یہ بعینہ پہلا معنی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ضر سے مراد موت اور رشد سے مراد زندگی ہے۔
Ayah 72:22قل انی لن یجیرنی من اللہ۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ربی امدا۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان، قل انی لن یجیرنی من اللہ احد۔ کا معنی یہ ہے کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور سے حفاظت چاہوں گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مجھ دور کرنے والا نہیں۔ یہ اس لیے فرمایا کیونکہ انہوں نے کہا تھا جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو اس کو چھوڑ دو ہم تجھے پناہ دیتے ہیں، ابوجوزاء نے حضرت ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے میں جنوں والی رات نبی کریم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ حجون کے مقام پر آئے تو آپ نے میرے لیے ایک خط لگایا، پھر آپ ان کی طرف بڑھے جنوں نے حضور ﷺ پر بھیڑ کرلی جنوں کے سردار جسے وردان کہتے ہیں نے کہا، میں آپ سے انہیں دور بھگادوں گا تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے گا۔ ماوردی نے یہ ذکر کیا ہے یہ کلام دو معنوں کا احتمال رکھتی ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی پناہ جیسی پناہ مجھے کوئی نہیں دے سکتا (2) اللہ تعالیٰ نے میرے حق میں جو مقدر کیا ہے اس سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔
ولن اجد من دونہ ملتحدا۔ یعنی میں اس کی بارگاہ کے بغیر کوئی ایسی پناہ نہیں پاؤں گا یہ قتادہ کا قول ہے، قتادہ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ ملتحدا کا معنی مددگار ہے سدی نے اس کا معنی پناہ گاہ ذکر کیا ہے کلبی نے کہا، اس کا معنی زمین میں ایسا راستہ جو کھوہ کی مانند ہے ایک قول یہ کیا گیا اس کا معنی ہے نہ دوست اور نہ آقا پاؤں گا، ایک قول یہ کیا گیا کوئی راستہ نہیں پاؤں گا ابن شجرہ نے اس کی حکایت بیان کی ہے معنی ایک ہی ہے اس معنی میں شاعر کا قول ہے : یالھف نفسی ولھفی غیر مجدیہ عنی وما من قضاء اللہ ملتحدا۔ ہائے میرے افسوس، جب کہ میرا افسوس کرنا مجھے کچھ نفع دینے والا نہیں اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں۔
Ayah 72:23الابلغا من اللہ ورسالتہ۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں ہی امان اور نجات ہے۔ یہ حضرت حسن بصری کا نقطہ نظر ہے قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کا پیغام حق پہچانا ہی ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مالک ہوں۔ جہاں تک کہ کسی کے لیے کفر ایمان کو پیدا کرنے کا تعلق ہے میں ان کا مالک نہیں اس تعبیر کی صورت میں اس کلام کا تعلق قلی انی لا املک لکم ضراولارشدا۔ کے ساتھ ہوگا معنی یہ بنے گا کہ میں اس بات کا مالک ہوں کہ تمہیں پیغام حق پہنچادوں۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ کلام، لا املک لکم ضرا ولارشدا۔ سے مستثنی منقطع ہے تو معنی یہ ہوگا کہ لیکن میں تمہیں وہ پیغام حق پہنچادوں جس کے ساتھ کوئی پناہ گاہ نہیں پاؤں گا مگر یہ کہ جو پیغام حق مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے وہ آگے پہنچادوں یا یہ معنی ہوگا جن پیغامات کی تبلیغ کا مجھے حکم ہوا وہ پہنچادوں یا اس کا معنی یہ ہوگا کہ مگر یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے پیغام کو پہنچاؤں اس کے ارشادات کے مطابق عمل کروں اور غیر کو جس کا حکم دیتا ہوں اس پر اپنے آپ کو پابند کروں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بلغا، مفعول مطلق ہے لالو کے معنی میں ہے اور حرف ان شرط کا معنی دے رہا ہے معنی یہ بنے گا اگر میں اس کے پیغام کو نہ پہنچاؤں تو میں اس کے سوا کوئی پناہ نہ چاہوں گا۔
جوتوحید اور عبادت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے تو بیشک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، فان، کے ہمزہ کو کسرہ دیا ہے کیونکہ جزا کا مابعد یہ ابتدا کا محل ہے یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ خالدین یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے، خالدین کو جمع ذکر کیا ہے کیونکہ معنی یہ ہے جس نے بھی یہ کیا ہے پہلے من کے لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے ضمیر واحد ذکر کی پھر معنی کا اعتبار کرتے ہوئے خالدین کو جمع ذکر کیا ابدا کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں عصیان سے مراد شرک ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں شرک کے علاوہ معاصی مراد ہیں یہاں ان کے ہمیشہ رہنے سے مراد یہ ہے اگر میں ان کو معاف نہ کروں یا انہیں شفاعت نصیب نہ ہو تو یہ ضروری بات ہے جب وہ دنیا سے ایمان کی حالت میں نکلے ہیں تو انہیں عفو ضرور لاحق ہقگی یہ معنی سورة النساء اور دوسری صورتوں میں بڑا واضح گزرا ہے۔
Ayah 72:24اللہ تعالیٰ کا فرمان : حتی اذا روا مایوعدون۔ یہاں تک کہ جب وہ اس آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے جن کی انہیں دھمکی دی گئی ہے یا وہ دنیا کے عذاب کو دیکھیں گے جس کی انہیں دھمکی دی گئی ہے وہ بدر کے میدان میں ان کا قتل ہے اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون مددگاروں کے اعتبار سے کمزور ہے وہ یا مومن اور کس کی تعداد کم ہے، واقل عددا یہ معطوف ہے۔
Ayah 72:25قل ان ادری اقریب ماتوعدون۔ اس سے مراد قیامت کا واقع ہونا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے یعنی میں نہیں جانتا کیونکہ ان، لا، یاما، کے معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا عذاب کے نازل ہونے کا وقت اور قیامت کے برپا ہونے کا وقت کوئی نہیں جانتا۔ وہ وقت غیب ہے میں اتنا ہی غیب جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے۔ مایوعدون میں جو ما ہے اس کے بارے میں یہ جائز ہے کہ وہ اپنے فعل کے ساتھ مل کر مصدر ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ الذی کے معنی میں ہوتوضمیر عائد کو مقدر ماناجائے گا اور امدا کا معنی انتہا اور مدت ہے عام قراء نے ربی کی یاء کو ساکن پڑھا ہے حرم کے دونوں قاریوں اور ابوعمرو نے فتحہ کے ساتھ اسے پڑھا ہے۔
Ayahs 72:26–27عالم الغیب فلایظہر۔۔۔ تا۔۔۔ رصدا۔
اللہ تعالیٰ کس پر غیب کو ظاہر فرماتا ہے ؟
مسئلہ نمبر 1۔ عالم الغیب میں عالم کو مرفوع پڑھیں تو یہ ربی کی صفت ہوگی ایک قول یہ کیا گیا ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی، ھوعالم الغیب، غیب اسے کہتے ہیں جو بندوں سے غائب ہو اس کا بیان سورة بقرہ کے شروع میں گزرچکا ہے۔ وہ کسی پر اپنا غیب ظاہر نہیں کرتا مگر رسولوں میں سے جس پر راضی ہوتا ہے کیونکہ اس پر غیب میں سے جو چاہتا ہے ظاہر کرتا ہے کیونکہ رسولوں کی معجزات کے ساتھ تائید کی جاتی ہے ان معجزات میں سے بعض غیبت کی خبریں بھی ہوتی ہیں قرآن حکیم میں ہے، وانبئکم بماتاکلون وماتدخرون فی بیوتکم (آل عمران 49) ابن جبیر نے کہا، من رسول سے مراد حضڑت جبرائیل امین ہیں، یہ تعبیر حقیقت سے بہت ہی بعید ہے زیادہ مناسب یہ ہے کہ معنی کیا جائے کہ وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا مگر جسے نبوت کے لیے منتخب کرتا ہے کیونکہ اسے جس غیب پر چاہتا ہے مطلع کرتا ہے تاکہ یہ چیز اس کی نبوت پر دلیل ہو۔
نجومیوں سے غیب جاننے کی نفی۔
مسئلہ نمبر 2۔ علماء نے ارشاد فرمایا، جب اللہ تعالیٰ نے علم غیب کے واسطہ سے اپنی مدح فرمائی مخلوق کی بجائے اسے اپنی ذات کے ساتھ خاص کیا تو اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ پھر ان رسولوں کو اس سے مستثنی کردیا جن پر وہ راضی ہے تو انہیں اپنے غیب میں سے جو چاہا وہ وحی کے ذریعے ودیعت کردیا، ان کے لیے اسے معجزہ بنادیا اور ان کی نبوت پر سچی دلیل بنادیا۔ منجم اور جوان کے مشابہ ہوتے ہیں جو کنکری پھینکتے ہیں، کتابوں میں فال دیکھتے ہیں اور پرندے کو جھڑکتے ہیں ان میں سے نہیں، جو من ارتضی من رسول کا مصداق ہو کہ انہیں اپنے غیب پر مطلع فرمائے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والا ہے فکر کی تیزی، ظن وتخمین اور جھوٹ کے ذریعے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھنے والا ہے۔ ایک عالم نے کہا، کاش میں جانتا جو منجم ایک کشتی کے بارے میں کہتا ہے کہ ایک ہزار انسان سوار ہوتے ہی جن کے احوال مختلف ہیں اور مراتب مختلف ہیں ان میں کوئی بادشاہ، بازاری، عالم، جاہل، غنی، فقیر، بڑا اور چھوٹا ہے ان کے طالع مختلف ہیں، ولادت کا وقت الگ ہے اور ستاروں کے درجات بھی مختلف ہیں سب پر غرق کا حکم ایک وقت میں ہوسکتا ہے۔ اگر نجومی کہے (اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے) انہیں اس طالع (زائچہ) نے غرق کیا ہے جس میں یہ سوار ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہے اس طالع (زائچہ) نے تمام طوالع (زائچوں) کے احکام کو باطل کردیا ہے جب کہ ہر ایک کی ولادت کا وقت مختلف ہے اور اس کے مخصوص طالع (زائچہ) کا تقاضا بھی مختلف ہے تو ولادت کے اوقات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اس میں شقی اور سعید پر کوئی دلالت نہ ہوگی اور اس میں قرآن عظیم کے ساتھ دشمنی کے سوا کوئی چیز باقی نہ بچے گی اس قسم کا عمل کرنے پر اس کا خون حلال ہوجائے گا جب شاعر نے کہا توکتنا اچھا کہا : حکم المنجم ان طالح مومدی، یقضی علی بمیتۃ الغرق۔ منجم نے فیصلہ کیا کہ میری ولادت کا زائچہ میرے بارے میں غرق ہونے کی موت کا فیصلہ کرتا ہے۔ قل للمنجم صبحۃ الطوفان ھل، ولد الجمیع بکوکب الغرق۔ طوفان کی صبح منجم سے پوچھا کیا تمام غرق والے ستاروں کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔
امیرالمومنین حضرت علی شیر خدا سے اس وقت کہا گیا جب آپ نے خارجیوں سے جنگ کا ارادہ کیا تھا، کیا آپ ان سے جنگ کریں گے جب چاند برج عقرب میں ہے ؟ تو حضرت علی نے فرمایا، ان کا چاند کہاں ہے ؟ وہ وقت مہینے کے اختتام کا تھا حضرت علی نے جو جواب دیا اس کے اس کلمہ کی طرف دیکھو اور ستارہ شناسی کے علم کے حوالے سے جو قول کرتا ہے اس کو کتنا بلیغ جواب دیا اور جو آدمی ستاروں کی چال کے حوالے سے احکام کو ثابت کرنے کا دعوی کرتا ہے اس کو کس طرح خاموش کردیا۔ مسافر بن عوف نے آپ سے عرض کی اے امیر المومنین اس گھڑی روانہ نہوں جب دن کے تین پہر گزر جائیں اس وقت روانہ ہوں، حضرت علی شیر خدا نے اسے فرمایا کیوں ؟ اس نے عرض کی، اگر آپ اس وقت چلے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بہت بڑی مصیبت پہنچے گی اور اگر آپ اس وقت چلے جس میں چلنے کے لیے میں نے آپ کو کہا ہے تو آپ کامیاب وکامران ہوں گے اور جو آپ کا مطلب ہے اس پالیں گے۔ حضرت علی نے کہا، نہ تو حضور ﷺ کا کوئی منجم تھا اور نہ ہی ہمارا کوئی منجم ہے آپ طویل گفتگو کرتے ہیں جس میں وہ قرآن حکیم کی آیات سے استدلال کرتے ہیں جو اس بارے میں تیری تصدیق کرے میں اس کے بارے میں بےخوف نہیں کہ وہ اس آدمی کی طرح ہوجائے جس نے اللہ تعالیٰ کا مد مقابل بنالیاہو اسے اللہ کوئی فال نہیں مگر وہ تیرے قبضہ قدرت میں ہے اور تیری خیر کے سوا کوئی خیر نہیں پھر آپ نے متکلم سے فرمایا ہم تجھے جھٹلاتے ہیں تیری مخالفت کرتے ہیں اور ہم اسی وقت چلیں گے جس میں چلنے سے تو نے ہمیں منع کیا ہے۔
پھر حضرت علی لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا، اے لوگو علم نجوم حاصل کرنے سے بچو مگر اتنا علم نجوم حاصل کرو جس کے ذریعے تم بحروبر کی تارکیوں میں ہدایت حاصل کرسکو، بیشک منجم جادوگر کی طرح ہے اور جادوگر کافر کی طرح ہے اور کافر جہنم میں ہے اللہ کی قسم اگر مجھے خبر پہنچتی کہ توستاروں کی چال میں نظر رکھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو میں تمہیں ہمیشہ کے لیے قید میں ڈال دوں گا جب تک تو اور میں باقی رہیں جب تک میری حکومت ہوگی میں تیرا عطیہ روک لوں گا۔ پھر حضرت علی نے اسی وقت میں سفر کیا جس وقت میں سفر کرنے سے روکا تھا آپ کا دشمنوں سے آمناسامنا ہوا آپ نے دشمنوں کو قتل کیا یہی نہروان والا واقعہ ہے۔ جو صحیح مسلم میں ثابت ہے پھر فرمایا اگر ہم اس گھڑی چلتے جس میں چلنے کا اس منجم نے ہمیں حکم دیاہم کامیاب ہوجاتے اور غالب آجاتے تو کوئی کہنے والا کہتا، حضرت علی اس وقت چلے جب منجم نے حکم دیا، نہ تو رسول اللہ کا کوئی منجم تھا اور نہ ہی ہمارا کوئی منجم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسری اور قیصر اور دوسرے شہروں پر فتح دی پھر فرمایا، اے لوگو اللہ تعالیٰ پر توکل کرو اور اسی پر بھروسہ کروکیون کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غیروں کے مقابلہ میں کافی ہے۔ بیشک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے تاڑنے والے نگہبان بھیجتا ہے۔ رصدا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو شیطان کو قریب سے روکتے ہیں، وحی شیطان کے چوری کرنے سے محفوظ رہتی ہے اور کاہنوں کو القا کرنے سے محفوظ رہتی ہے۔
ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث کیا اس کے ساتھ فرشتے تھے وہ شیاطین سے اس کی حفاظت کرتے ہیں کہ وہ فرشتوں کی صورت بناسکیں جب شیطان اس کے پاس فرشتے کی صورت میں آئے تو وہ کہتے اٹھیں یہ شیطان ہے اس سے بچو، اگر فرشتہ آئے تو وہ کہیں یہ تیرے رب کا رسول ہے۔ حضرت ابن عباس اور ابن زید نے کہا، رصدا کا معنی نگہبان ہے جو نبی کریم ﷺ کے آگے اور پیچھے جنوں اور شیاطین سے ان کی حفاظٹ کرتے ہیں، قتادہ اور سعید بن مسیب نے کہا، وہ چار فرشتے ہیں، فراء نے کہا، اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں جب جبرائیل امین اللہ تعالیٰ کا پیغام لاتے ہیں تو ان کے ساتھ فرشتے بھی آتے ہیں جوان کی حفاظت کرتے ہیں کہ جن وحی کو سن نہ لیں اور اپنے کاہنوں کو نہ پہنچا دیں اور وہ رسول پر سبقت نہ لے جائیں سدی نے کہا، رصدا سے مراد محافظ ہیں جو وحی کی حفاظت کریں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہوتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور جسے شیطان القاء کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے رصدا مفعول ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے صحاح میں ہے، رصدا ان لوگو کو کہتے ہیں جو نگہبانی کرتے ہیں جس طرح حرس کا لفظ ہے اس میں واحد جمع، مذکر اور مونث برابر ہوتے ہیں بعض اوقات وہ جمع کے لیے ارصاد کے لفظ ذکر کرتے ہیں اور کسی شی کے راصد سے مراد اس کا نگہاب ہے یوں باب چلایا جاتا ہے، رصدہ، یرصدہ، ورصدا اور ترصد سے مراد تاڑنا ہے مرصدا سے مراد تاڑنے کی جگہ ہے۔
Ayah 72:28لیعلم ان قدابلغوا۔۔۔ تا۔۔۔ عددا۔
لیعلم سے مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جان لیں خہ ان سے قبل آنے والے رسولوں نے پیغام حق پہنچایا جس طرح آپ نے یہ پیغام حق پہنچایا ہے اس کلام میں کچھ کلام محذوف ہے، لیعلم کا جار مجرور جس کے متعلق ہے تقدیر کلام یوں ہوں گی، اخبرناہ بحفظنا الوحی لیعلم ان الرسل قبلہ کانو علی مثل حالتہ من التبلیغ بالحق والصدق یعنی ہم نے آپ کو اپنی جانب سے وحی کی حفاظت کی خبر دی تاکہ آپ جان لیں کہ ان سے قبل کے رسول بھی حق اور سچائی کی تبلیغ میں آپ کی حالت پر ہی تھے، ایک قول یہ کیا گیا کہ آیت کا معنی یہ ہے تاکہ حضرت محمد ﷺ جان لیں کہ حضڑت جبرائیل امین اور ان کے ساتھ جو فرشتے انہوں نے آپ کے رب کا پیغام پہنچادیا ہے یہ ابن جبیر کا قول ہے کہا، رسول اللہ کی طرف وحی نازل نہیں ہوتی تھی مگر اس کے ساتھ چار فرشتے آتے تھے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رسول جان لیں کہ فرشتوں نے پہلے رب کا پیغام پہنچادیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رسول جان لے کہ باقی ماندہ رسولوں نے پیغام حق پہنچادیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تاکہ ابلیس جان لے کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات کو کسی آمیزش اور اس میں سے کسی چوری کے بغیر حق پہنچادیا ہے ابن قتیبہ نے کہا، تاکہ جن جان لیں خہ رسولوں نے وہ پیغام حق پہنچادیا ہے جوان پر نازل کیا گیا تھا وہ اس پیغام کو پہنچانے والے نہیں جن میں سے کوئی چیز چوری نہیں کی گئی، مجاہد نے کہا، تاکہ وہ لوگ جان لیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا کہ رسولوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے عام قراء کی قرات تولیعلم ہے یعنی علامت مضارع مفتوح ہے اس کی تاویل وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے حضرت ابن عباس، مجاہد، حمید اور یعقوب نے اسے یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ کردے کے رسولوں نے یہ پیغام حق پہنچا دیا ہے۔ زجاج نے کہا، تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کے رسولوں نے اس کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ویعلم الصابرین۔ آل عمران) معنی یہ ہوگا کہ تاکہ اللہ تعالیٰ اسے بطور علم مشاہدہ جان لے جس طرح اسے بطور غیب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم نے ہر اس چیز کا احاطہ کررکھا ہے جو رسولوں کے پاس ہے اور جو فرشتوں کے پاس ہے۔ ابن جبیر نے کہا، معنی یہ ہے کہ تاکہ رسول جان لیں کہ ان کے رب کے علم نے ہراس چیز کا احاطہ کررکھا ہے جو کچھ ان کے پاس ہے پس وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام حق کو پہنچائیں۔
واحصٰی کل شئی عددا۔
اس نے ہر چیز کے عدد کا احاطہ کررکھا ہے وہ اسے پہچانتا ہے اور اسے جانتا ہے اس پر کوئی خفی چیز نہیں عددا یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی اس نے ہر چیز کا عدد کی حالت میں احاطہ کررکھا ہے چاہے تومفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب قرار دے یعنی اس نے ہر چیز کو شمار کررکھا ہے تو یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر شے کو شمار کرنے والی، عالم، حافظ ہے، ہم نے یہ سب چیزیں الکتاب الاسنی میں جمع کردی ہیں جو اسماء حسنی کی شرح میں ہے۔ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے ہی حمد ہے۔