73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 73:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ Open ayah 73:1 in the Quran reader

اے محمد ﷺ جو کپڑے میں لپٹ رہے ہو

یا ایہا المزمل۔۔۔ تا۔۔۔۔ ترتیلا۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں۔ مزمل کی لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان، یا ایھا المزمل۔ اخفش سعید نے کہا، المزمل اصل میں متزمل تھا تاء کو زاء میں مدغم کیا گیا یہی المدثر ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے اسے اصل پر المتزمل اور المتدثر پڑھا ہے۔ سعید نے المزمل پڑھا ہے، مزمل کی اصل میں دو قول ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اٹھانے والے ہیں یہ جملہ کہا جاتا ہے، زمل الشئین، جب وہ اس چیز کو اٹھائے اس سے الزاملہ ہے کیونکہ وہ گھر کا سامان اٹھاتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ مزمل سے مراد ہے لپٹنے والا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، تزمل وتدثر بثوبہ، جب وہ کپڑے کو لپیٹ لے وریہ جملہ بولا جاتا ہے، زمل غیرہ جب وہ کسی اور چیز کو ڈھانپ دے ہر وہ چیز جسے لپیٹاجائے تو پس اس کے لیے زمل اور دثر سے تعبیر کرنا درست ہوتا ہے۔ امراء القیس نے کہا، کبیرن اس فی بجاد مزمل۔ بڑے لوگ دھاری دار چادروں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ مزمل سے کون سی ذات مراد ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ یا ایھا المزمل، یہ نبی کریم کو خطاب ہے۔ اس میں تین قول ہیں۔ پہلا عکرمہ کا قول ہے : اے نبوت و رسالت کو لازم پکڑنے والے، انہیں سے ایک قول یہ نقل کیا گیا ہے، اے وہ ذات جس پر یہ امر لازم کیا گیا پھر اسے رخصت دی گئی وہ اسے زاء کی تخفیف، میم کے فتحہ کے ساتھ اور اسے مشدد پڑھا کرتے تھے جب کہ اس کا مفعول محذوف ہے اس طرح المدثر ہے معنی یہ ہوگا اپنے آپ کو کپڑے سے لپیٹنے والے یا جسے غیر نے کپڑا اوڑھایا۔ دوسرا قول : اے قرآن کو لازم پکڑنے والے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ تیسراقول : اپنے کپڑے کو لپیٹنے والے، یہ قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے، امام نخعی نے کہا، آپ ایک چادر لپیٹے ہوئے تھے حضرت عائشہ نے کہا، آپ ایک چادر لپیٹے ہوئے تھے جس کی لمبائی چودہ ہاتھ تھی وہ نصف مجھ پر تھی جب کہ میں سوئی ہوئی تھی اور نصف نبی کریم ﷺ پر تھی جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اللہ کی قسم وہ خز (ریشم جس میں اون ملی ہو) قزر (ریشم) مرغرائ (نرم بالوں) ابرایسم (ریشم) اور اون کی نہ تھی اس کا تانا بکری کے بالوں اور پینا اونٹ کے بالوں کا تھا، یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے انہیں مدینہ طیبہ میں ہی حرم میں داخل کیا تھا اور جو یہ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے درست نہیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ضحاک نے کہا : آپ نے سونے کے لیے اپنے کپڑے کو لپیٹا، ایک قول یہ کیا گیا ہے مشرکوں کی جانب سے آپ کو نازیبابات پہنچی تو وہ بات آپ پر شاق گزری تو آپ نے اپنے اوپر کپڑے لے لیاتویہ آیت نازل ہوئی، یا ایھا المزمل، یا ایھا المدثر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ وحی کی ابتدا میں ہوا کیونکہ جب رسول اللہ نے فرشتے کی بات سنی اور اسے دیکھاتو آپ ﷺ پر کپکپی طاری ہوگئی آپ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے تو ارشاد فرمایا، مجھے کپڑا اوڑھادو، یہ معنی حضرت ابن عباس سے مروی ہے، حکماء نے کہا، آپ کو ابتدا میں المزمل اور المدثر سے خطاب کیونکہ ابھی آپ نے رسالت کاتبلیغ کا فریضہ ادا نہیں کیا تھا۔ ابن عربی نے کہا : یا ایھا المزمل کی تاویل میں اختلاف کیا گیا ہے۔ کچھ علماء نے تو اسے حقیقی معنی پر محمول کیا ہے۔ اے وہ ذات جس نے اپنے آپ کو چادر میں لپیٹا ہوا ہے، اٹھیے یہ ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے، کچھ علماء وہ ہیں جنہوں نے اسے مجاز پر محمول کیا ہے گویا آپ کو کہا گیا، اے وہ ذآت جس نے نبوت کا بار اٹھایا، یہ عکرمہ نے کہا ہے۔ یہ تفسیر اس وقت جائز ہوگی اگر میم مفتوح اور مشدد ہو اور صیغہ اسم مفعول کا ہو، جہاں تک اسے اس فاعل کی صورت میں پڑھنے کا تعلق ہے وہ باطل ہے۔ میں کہتا ہوں : ہم پہلے اس کے مفعول حذف کے اعتبار سے معنی بیان کرچکے ہیں، اسے اس صورت میں پڑھا بھی گیا ہے یہ قرات صحیح المعنی ہے کہا، جس نے یہ کہا کہ آپ نے قرآن کو اوڑھنا بچھونا بنایاتویہ مجازی معنی میں صحیح ہے لیکن ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اسے اس کی ضرورت نہیں۔ مزمل سرکاردوعالم کا اسم نہیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ سبیلی نے کہا، مزمل نبی کریم کے اسماء میں سے نہیں اور نہ ہی اس میں یہ معروف ہے جس طرح بعض لوگ اس طرف گئے ہیں اور اسے نبی کریم کے اسماء میں شمار کیا ہے مزمل اسم مشتق ہے جو اس حالت میں اشتقاق کیا گیا جو خطاب کے وقت آپ کی تھی، اسی طرح مدثر ہے اس نام کے ساتھ خطاب کرنے میں دو فائدے ہیں ایک توشفقت و محبت کا اظہار ہے کیونکہ عرب جب مخاطب کے ساتھ شفقت کرنے اور عتاب کے ترک کرنے کا ارادہ کرے تو اسے ایسے نام کے ساتھ پکارتے جو اس حالت میں مشتق ہوتا جس حالت پر وہ ہوتا۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کو فرمایا، جب وہ حضرت فاطمہ سے ناراض ہوئے تو رسول اللہ حضرت علی کے پاس آئے جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے اور ان کے پہلو پر مٹی لگی ہوگئی تھی، رسول اللہ نے حضرت علی سے فرمایا، ابوتراب، اٹھو، مقصود یہ شعور دلانا تھا کہ رسول اللہ ان پر ناراض نہیں اور ان پر شفقت کا اظہار تھا، اس طرح حضرت حذیفہ کے لیے رسول اللہ کا فرمان ہے، اے نومان، اٹھو، جب کہ حضرت حذیفہ سوئے ہوئے تھے مقصود ان پر شفقت ونرمی کا اظہار تھا اور ناراضگی و عتاب کو ترک کرنا مقصود تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کے لیے یہ جو ارشاد فرمایا ہے، یا ایھا المزمل، قم، اس میں بھی انس اور شفقت کا اظہار ہے تاکہ یہ شعور دلایاجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض نہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ہر وہ آدمی جو چادر لے کر رات کو سویا ہوا ہو اس کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ رات کے وقت عبادت کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے بیدار ہو کیونکہ فعل سے جو اسم مشتق ہوتا ہے اس میں مخاطب کے ساتھ ہر آدمی شریک ہوتا ہے جو ایسا عمل کررہا ہو اور اس صفت کے ساتھ موصوف ہو۔ قُم کی لغوی تشریح۔ مسئلہ نمبر 4۔ قم اللیل عام قراء کی قرات میم کے کسرہ کے ساتھ ہے کیونکہ دو ساکن جمع ہوئے اور اس وجہ سے میم کو نیچے کسرہ دیا ہے، ابوسمال نے میم پر ضمہ پڑھا ہے وجہ قاف کے ضمہ کی اتباع ہے اور میم پر فتحہ بھی پڑھا ہے کیونکہ فتحہ خفیف ترین حرکت ہے۔ عثمان بن جنی نے کہا، میم پر حرکت سے غرض دوساکنوں کے اجتماع سے دور بھاگنا ہے میم پر جو بھی حرکت آئے تو غرض حاصل ہوجاتی ہے یہ فعل لازم ہے اور مفعول بہ کی طرف متعدی نہیں ہوتا جہاں تک اس کے لیے ظرف زمان اور ظرف مکان لانے کا تعلق ہے تو یہ جائز ہے جہاں تک ظرف مکان کا تعلق ہے تعوفعل کے بعد کسی واسطہ کالاناضروری ہوتا ہے تو یہ نہیں کہے گا، قمت الدار، بلکہ تو یہ کہے گا، قمت وسط الدار وخارج الدار، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں قم کا معنی ہے صل یعنی نماز پڑھ۔ صل کو قم سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسے صل سے بطور مجاز ذکر کیا گیا ہے یہاں تک کہ کثرت استعمال کی وجہ سے عرف بن گیا ہے۔ اللیل کی مراد اور رات کی عبادت کن لوگوں پر فرض یامستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 5۔ اللیل۔ رات کی حد سورج غروب ہونے سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ میں گزرچکی ہے اس میں اختلاف ہے کیا رات کا قیام رسول اللہ کے لیے فرض تھا یامستحب تھا ؟ دلائل اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں کہ رات کا قیام حتمی اور فرضی تھا اس کی وجہ یہ ہے مستحب رات کے کچھ حصہ پر واقع نہیں ہوتا اور کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ہوتا، اس بارے میں حضرت عائشہ اور دوسرے راویوں سے تعیین آئی ہے۔ اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے کہ کیا یہ عبادت صرف نبی کریم پر فرض تھی یا آپ ﷺ پر اور آپ سے قبل انبیاء پر بھی فرض تھی، یا آپ پر اور آپ کی امت پر بھی فرض تھی ؟ اس بارے میں تین قول ہیں۔ (1) سعید بن جبیر کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ خطاب صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔ (2) حضرت ابن عباس کی رائے یہ ہے کہ رات کی عبادت نبی کریم ﷺ اور آپ سے قبل کے انبیاء پر بھی فرض تھی۔ (3) حضرت عائشہ کی رائے ہے، یہ حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے اور یہی صحیح ہے جس طرح حضرت زرارہ بن اوفی سے مروی ہے روایت مسلم شریف میں ہے کہ حضرت سعد بن ہشام نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا ارادہ کیا اس میں ہی وضاحت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام نے کہا، میں نے حضرت عائشہ سے عرض کی مجھے رسول اللہ کی رات کی عبادت کے بارے میں بتائیے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کیا تو سورة المزمل کی قرات نہیں کرتا ؟ میں نے کہا کیوں نہیں، میں قرات کرتا ہوں فرمایا، اللہ تعالیٰ نے سورت کے شروع میں رات کا قیام عبادت فرض کیا۔ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا اللہ تعالیٰ نے اس سورت کا اختتام بارہ ماہ تک آسمانوں میں ہی روکے رکھا یہاں کہ سورت کے آخر میں تخفیف کو نازل فرمایا، اس کے بعد رات کا قیام فرض سے نفل ہوگیا۔ وکیع اور یعلی نے یہ روایت نقل کی ہے ہمیں مسعر نے سماک حنفی سے روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا میں نے حضرت ابن عباس کو یہ کہتے ہوئے سنا، جب سورة مزمل کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو صحابہ کرام کو اتنا قیام کیا کرتے تھے جتنا قیام وہ رمضان شریف کے مہینے میں کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اس میں سورت کا آخری حصہ نازل ہو اس کے ابتدائی اور آخری حصہ میں سال کا وقفہ ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا، نبی کریم اور آپ کے صحابہ دس سال تک راتوں کو قیام کرتے رہے تودس سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل۔ تو اللہ نے ان سے اس امر کو خفیف کردیا۔
Ayahs 73:2–3

قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:2 in the Quran reader

رات کو قیام کیا کرو مگر تھوڑی سی رات

نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ Open ayah 73:3 in the Quran reader

یعنی نصف رات یا اس سے کچھ کم

قلیلا سے کیا مرا ہے ؟ مسئلہ نمبر 6۔ الاقلیلا۔ یہ اللیل سے مستثنی ہے یعنی ساری رات کھڑے ہوں مگر تھوڑا حصہ کیونکہ ساری رات کا قیام ہمیشہ کے لیے ناممکن ہے تو تھوڑے حصہ کو قیام سے خارج کرو تاکہ جسم آرام پائے کسی شے کے قلیل سے مراد نصف سے کم ہے۔ وہب بن منبہ سے یہ منقول ہے کہ قلیل دسویں یاچھٹے حصے سے کم کو کہتے ہیں کلبی اور مقاتل نے کہا، ایک تہائی کو قلیل کہتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ یہ تخفیف تھی کیونکہ قیام کا زمانہ محدود نہ تھا لوگوں نے راتوں کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے پھر اسے علم ان لن تحصوہ سے منسوخ کردیا گیا اخفش نے کہا، نصف سے پہلے او کا لفظ محذوف ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، اعصاہ درھما درھمین ثلاثہ۔ اس سے متکلم یہ ارادہ کرتا ہے اسے ایک درہم یا دو درہم یا تین درہم دے دو ، زجاج نے کہا، نصفہ یہ اللیل سے بدل ہے الاقلیلا۔ یہ نصف سے مستثنی ہے اور منہ اور علیہ میں جو ضمیر ہے یہ نصف کے لیے ہے معنی یہ ہوگا نصف رات کا قیام کیجئے یا اس سے تھوڑا کم کرلیجئے یعنی ایک تہائی یا اس سے زیادہ کرلیجئے یعنی دو تہائی، گویا یہ حکم ہوارات کا دوتہائی نصف یا ایک تہائی قیام کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا نصفہ یہ قلیلا سے بدل ہے آپ کو تین امور میں اختیار دیا گیا مکمل نصف، اس سے کم اور اور اس سے زیادہ۔ گویا تقدیر کلام یہ ہے قم اللیل الا نصفہ اواقل من نصفہ اواکثر من نصفہ۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں جو مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں جو مجھ سے سوال کرتا ہے میں اسے عطا کرتا ہوں جو مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے میں اسے بخش دیتا ہوں یہ اسی طرح معاملہ رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہے اس کی مثل حضرت ابوہریرہ اور حضڑت ابوسعید سے مروی ہے یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رات کے دوتہائی کا قیام مرغوب ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، رات کا نصف یا دو تہائی جب گزرجاتا ہے، الخ۔ دوسندوں سے حضرت ابوہریرہ سے اسی طرح او کے لفظ کے ساتھ روایت مروی ہے۔ سنن نسائی میں حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت ابوسعید سے رروایت مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ رات کا پہلانصف گزر جاتا ہے پھر وہ منادی کو حکم دیتا ہے تومنادی کرنے والا کہتا ہے۔ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے جس کی دعا قبول کی جائے ؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے جس کو بخشا جائے ؟ کیا کوئی سائل ہے جس کو عطا کیا جائے ؟ ابو محمد عبدالحق نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہونے کے ساتھ نزول کے معنی کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ نصف رات کو ہوتا ہے۔ ابن ماجہ نے ابن شہاب کی حدیث سے وہ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ اغر سے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، ہر رات جب رات کا تیسرا حصہ باقی ہوتا ہے تو ہمارا رب نزول اجلال فرماتا ہے وہ فرماتا ہے، کون مجھ سے سوال کرتا ہے، کہ میں اسے عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں ؟ یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرام رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ہمارے علماء نے کہا، قرآن و حدیث میں اسی طریقہ پر تطبیق کی جائے گی کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مشکاۃ سے دیکھتے ہیں موطا اور دوسری کتب میں حضرت ابن عباس سے روایت مروی ہے، میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ کے ہاں رات گزاری جب رات نصف گزرچکی تھی یا اس سے تھوڑا پہلے یا بعد کا وقت ہوگا رسول اللہ بیدار ہوئے آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ کی طرف اٹھے آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ ساری رات کی عبادت کا ناسخ حکم۔ مسئلہ نمبر 7۔ رات کے قیام کے ناسخ کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے حضڑت ابن عباس اور حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ رات کے قیام کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، علم ان لن تحصوہ، حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے فرمان، علم ان سیکون منکم مرضی، سے منسوخ ہے، حضرت عائشہ صدیقہ، امام شافعی، مقاتل اور ابن کیسان سے یہ مروی ہے کہ یہ پانچ نمازوں کے ساتھ منسوخ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس حکم کا ناسخ، فاقروا ماتیسر منہ۔ ہے۔ ابوعبدالرحمن سلمی نے کہا، جب یا ایھا المزمل، نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے راتوں کا قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیاں سورج گئیں پھر یہ آیت نازل ہوئی، فاقروا ماتیسر منہ۔ بعض علماء نے کہا یہ ایسافرض ہے جس کے ساتھ فرض منسوخ ہوگیا۔ یہ نبی کریم کی فضیلت کی وجہ سے آپ پر خاص طور پر فرض تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک۔ (الاسرائ 79) ۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول ان تمام اقوال کو شامل ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، واقیموالصلاۃ (بقرہ 110) اس میں اس کا قول بھی داخل ہوجاتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ ناسخ پانچ نمازوں کا حکم ہے حضرت حسن بصری اور حضرت ابن سیرین اس طرف گئے ہیں کہ رات کی نماز ہر مسلمان پر فرض تھی اگرچہ بکری دوہنے کے وقت تک ہو، حضرت حسن بصری سے اس آیت کے بارے میں قول بھی منقول ہے، الحمدللہ، یہ فریضہ کے بعد نفلی نماز ہے انشاء اللہ یہی قول صحیح ہے کیونکہ قرآن وسنت میں رات کے قیام میں ترغیب دلائی گئی ہے اور اس کی فضیلت کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت مروی ہے کہ میں نبی کریم کے لیے ایک چٹائی بچھاتی تھی جس پر رسول اللہ رات کے وقت نماز پڑھا کرتے تھے تو لوگوں نے اس بارے میں ایک دوسرے سے سنا جب رسول اللہ نے لوگوں کے اجتماع کو دیکھا تو اسے ناپسند کیا اور اس امر سے ڈرے کہ ان پر رات کا قیام فرض ہی نہ کردیا جائے تو آپ ناراضگی کے عالم میں گھر میں داخل ہوگئے صحابہ کرام نے کھانسنا شروع کردیا، آپ ان کی طرف نکلے اور فرمایا، اے لوگوں اپنے آپ کو اتنے ہی اعمال کا مکلف بناؤ جس کی تم طاقت رکھتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ بدلہ دینے سے نہیں اکتاتا جب کہ تم عمل سے اکتاجاتے ہو کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔ تو اس وقت یا ایھا المزمل نازل ہوئی تورات کا قیام ان پر فرض کردیا گیا اور اسے فریضہ کا درجہ دیا گیا یہاں تک کہ صحابہ میں سے ایک آدمی رسی باندھتا اور اس کے ساتھ لٹک جاتا آٹھ ماہ تک صحابہ اسی طرح رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا اور یہ حکم نازل کیا، ان ربک یعلم انک تقوم ادنی من ثلثی اللیل، انہیں فرض نماز کی طرف پھیر دیا اور رات کا قیام ان سے ختم کردیا گیا مگر جو وہ نفلی نماز کے طور پر پڑھیں۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ کی اس حدیث کو ثعلبی نے ذکر کیا ہے اس کا معنی (رات تک) صحیح میں بھی ثابت ہے اور اس کا باقی ماندہ حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یا ایھا المزمل مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی وہ آٹھ ماہ تک قیام کرتے رہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں پہلے گزرچکا ہے کہ وہ ایک سال تک قیام کرتے رہے۔ ماوردی نے حضرت عائشہ سے تیسرا قول بھی نقل کیا ہے کہ صحابہ سولہ ماہ تک قیام کرتے رہے کسی اور نے حضرت عائشہ سے یہ قول ذکر نہیں کیا حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسوہ مزمل کی ابتدا اور انتہا میں ایک سال کا عرصہ حائل ہے، کہا جہاں تک کہ رسول اللہ کا تعلق ہے یہ قیام آپ پر فرض تھا ایک نسخہ میں ان سے دو قول مروی ہیں ایک یہ ہے، رسول اللہ ﷺ کے اس جہان فانی سے پردہ فرمانے تک فرض تھا، دوسرا قول یہ ہے یہ حکم آپ سے بھی منسوخ کردیا گیا ہے جس طرح آپ کی امت سے منسوخ کردیا گیا، منسوخ ہونے تک اس کے فرض ہونے کی مدت میں دو قول ہیں ایک قول تو یہ ہے امت پر فرض رہنے والی مدت میں دو قول گزرچکے ہیں حضرت ابن عباس نے ایک سال ذکر کی ہے اور حضرت عائشہ نے سولہ ماہ ذکر کی ہے۔ دوسراقول یہ ہے یہ دس سال کا عرصہ تھا یہاں تک کہ اسے منسوخ کرکے تخفیف کردی گئی مقصود رسول اللہ کے لیے احکام میں زیادتی تھی تاکہ رسالت کے عمل کے ساتھ آپ ممتاز ہوجائیں ابن جبیر نے یہ بتات کہی۔ میں کہتا ہوں، ثعلبی نے سعید بن جبیر سے جو روایت ذکر کی ہے یہ اس کے خلاف ہے پس اس میں غوروفکر کیجئے، سورت کے آخر میں زیادہ وضاحت آئے گی، ان شاء اللہ۔
Ayah 73:4

اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ Open ayah 73:4 in the Quran reader

یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو

ترتیل سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 8۔ ورتل القرآن ترتیلا۔ قرآن کی قرات میں جلدی نہ کرو بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اور معانی میں تدبر کرتے ہوئے پڑھو، ضحاک نے کہا، اسے حرف حرف کرکے پڑھو، مجاہد نے کہا، اللہ تعالیٰ کے ہاں قرات قرآن میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ محبوب ہے جو اسے سب سے زیادہ سمجھ کر پڑھتا ہے ترتیل سے مراد بڑی خوبصورتی سے منظم ومرتب کرنا اس سے، ثغر رتل ورتل یعنی عین کلمہ کے کسرہ کے ساتھ اور فتحہ کے ساتھ پڑھتے ہیں جب کہ دانت خوبصورت اور نمایاں ہوں۔ اس کا بیان کتاب کے مقدمہ میں گزرچکا ہے، حضرت حسن بصری نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک آیت کی تلاوت کررہا تھا اور رو رہا تھا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، کیا تم نی اللہ تعالیٰ کے فرمان کو نہیں سنا، ورتل القرآن ترتیلا، یہ ترتیل ہے۔ علقمہ نے ایک آدمی کو اچھی طرح قرات کرتے ہوئے سناتو انہوں نے کہا اس نے قران حکیم ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں ابوبکر بن طاہر نے ان الفاظ کی یہ تعبیر بیان کی ہے اس کے خطاب کے لطائف میں غوروفکر کیجئے، نفس سے اس کے احکام بجالانے کا مطالبہ کیجئے اپنے دل سے اس کے معانی کے فہم کا مطالبہ کیجئے اور اس کی طرف توجہ کرنے کا مطالبہ کیجئے حضرت عبداللہ بن عمرو نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، قیامت کے روز قرآن کے قاری کو لایاجائے گا اسے جنت کے پہلے زینہ پر کھڑا کیا جائے گا اور اسے کہا جائے گا، پڑھتا جا اور اوپر چڑھتاجا اور اس طرح ٹھہرٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں پڑھا کرتا تھا، بیشک تیرا ٹھکانہ اس آخری آیت کے پڑھنے پر ہوگا جسکوتو پڑھے گا۔ اے ابوداود نے نقل کیا ہے کتاب کے آغاز میں اس کا ذکر ہوچکا ہے حضرت انس نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم قرآن پڑھتے وقت اپنی آواز کو لمبا کیا کرتے تھے۔
Ayah 73:5

اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا Open ayah 73:5 in the Quran reader

ہم عنقریب تم پر ایک بھاری فرمان نازل کرینگے

انا سنلقی علیک قولا ثقیلا۔ اس آیت کا تعلق اس آیت کے ساتھ ہے جس میں رات کا قیام فرض کیا گیا یعنی رات کی نماز فرض کرنے کے ساتھ ہم آپ پر قول ثقیل القا کریں گے جس کا اٹھانا مشکل ہوگا کیونکہ رات سونے کے لیے ہوتی ہے جس کو رات کے اکثر حصہ میں قیام کا حکم دیا گیا ہو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتا مگر اسے نفس پر سختی کرنا پڑتی ہے اور شیطان سے مجاہدہ کرنا پڑھتا ہے یہ چیز بندے پر بڑی بھاری ہوتی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہم آپ کی طرف قرآن وحی کریں گے وہ قول ثقیل ہے جس کے شرعی احکام پر عمل ثقیل ہے قتادہ نے کہا، اللہ کی قسم اس کے فرائض اور اس کی حدود ثقیل ہیں، مجاہد نے کہا، اس کا حلال اور حرام ثقیل ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، اس پر عمل کرنا مشکل ہے، ابوالعالیہ نے کہا، وعدہ، وعید اور حلال و حرام کے اعتبار سے ثقیل ہے محمد بن کعب نے کہا منافقوں پر ثقیل ہے ایک قول یہ کیا گیا کفار پر ثقیل ہے کیونکہ اس میں ان کے خلاف استدلال ہے، ان کی گمراہی کا بیان ہے ان کے معبودوں کے لیے سب وشتم موجود ہے اور اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں جو تحریف کی ہے اس کی وضاحت موجود ہے۔ سدی نے کہا، ثقیل کریم کے معنی میں ہے یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے، فلاں ثقیل علی۔ یعنی وہ میرے لیے معزز ہے۔ فراء نے کہا، ثقیل بمعنی باوقار ہے، یہ خفیف نہیں کیونکہ یہ ہمارے رب کا کلام ہے۔ حسین بن فضل نے کہا، یہ ثقیل ہے اس کا حامل وہی دل ہوسکتا ہے جس کو توفیق تائید نصیب ہو وہی نفس اٹھاسکتا ہے جو توحید سے مزین ہو، ابن زید نے کہا، اللہ کی قسم وہ ثقیل اور بابرکت ہے جس طرح قرآن دنیا میں ثقیل ہے اسی طرح قیامت کے روز میزان میں ثقیل ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا یہ ثبت ہے جس طرح بھاری چیز اس جگہ میں ثبت ہوتی ہے اس کا معنی ہوگا اس کا اعجاز ثابت ہے اس کا اعجاز کبھی زائل نہ ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا اس سے مراد قرآن ہے جس طرح حدیث میں ہے کہ جب نبی کریم کی طرف وحی کی گئی جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو اس اونٹنی نے اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا یا وہ حرکت بھی نہ کرسکتی تھی یہاں تک کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا، موطا اور دوسری کتب میں ہے کہ نبی کریم سے سوال کیا گیا آپ کے پاس وحی کس طرح آتی تھی ؟ فرمایا کبھی میرے پاس دوگھنٹی کی آواز کی صورت میں آتی تھی یہ میرے سب سے شدید ہوا کرتی تھی وہ وحی ختم ہوتی جب کہ میں اسے یاد کرچکا ہوتا کبھی فرشتہ میرے لیے انسانی شکل میں آتا وہ مجھ سے گفتگو کرتا اور جو وہ کہتا میں اسے یاد کرلیتا۔ حضڑت عائشہ نے کہا، میں نے آپ کو شدید سردی میں دیکھا آپ پر وحی نازل ہوتی وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی کنپٹی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ ابن عربی نے کہا یہ تعبیر بہت رہے کیونکہ یہی حقیقت ہے جب کہ قرآن حکیم میں یہ بھی ہے، وماجعل علیکم فی الدین من حرج (الحج 78) اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سورت میں قول سے مراد، لا الہ الا اللہ کا قول ہے کیونکہ حدیث طیبہ میں آیا ہے، زبان پر ہلکا اور میزان میں بھاری ہے، یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔
Ayah 73:6

اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاؕ Open ayah 73:6 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ رات کا اٹھنا (نفس بہیمی کو) سخت پامال کرتا ہے اور اس وقت ذکر بھی خوب درست ہوتا ہے

ان ناشئۃ اللیل۔۔۔ تا۔۔۔۔ طویلا۔ ناشئۃ اللیل سے کیا مرا ہے ؟ اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ ان ناشئۃ اللیل علماء نے کہا : ناشئۃ اللیل سے مراد رات کے اوقات اور گھڑیاں ہیں کیونکہ اسکے اوقات یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے ہیں جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، نشاء الشئی ینشا۔ جب وہ ابتدا کرے اور ایک چیز کے بعد دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو، ناشئۃ یہ نشات سے فاعلہ کا وزن ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، اومن ینشوا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیرمبین (الزخرف) مراد یہ ہوگا رات کی گھڑیاں پروان چڑھ رہی ہیں تو اسم کی بجائے وصف پر اکتفا کیا ناشئۃ کو مونث ساعۃ کے لفظ کی وجہ سے ذکر کیا ہے کیونکہ ہر گھڑی جنم لیتی ہے ایک قول یہ کیا گیا، ناشئۃ مصدر ہے جس کا معنی رات کا قیام ہے جس طرح خاطئۃ اور کاذبۃ مصدر ہیں یعنی رات کا قیام روندنے میں سخت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، ناشئۃ اللیل سے مراد رات کا قیام ہے، حضرت ابن مسعود نے کہا، حبشی کہتے ہیں، نشائ، یعنی اٹھا شاید انہوں نے یہ ارادہ کیا ہو کہ کلمہ توعربی ہے مگر حبشی زبان میں عام اور غالب ہے وگرنہ قرآن میں کوئی ایسی چیز نہیں جو لغت عرب میں نہ ہو کتاب کے مقدمہ میں اس کی مکمل وضاحت گزرچکی ہے۔ رات کی نماز دن کی نماز سے افضل ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رات کی نماز کی دن کی نماز پر فضیلت بیان کی ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ جتنا ممکن ہو رات کی نماز میں زیادہ قرات کرنی چاہیے کیونکہ یہ عظیم اجر اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ ناشئۃ اللیل سے کیا مراد ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے، حضرت ابن عمر اور حضرت انس بن مالک نے کہا، اس سے مراد مغرب اور عشاء کے درمیان کی عبادت ہے وہ اس چیز استدلال کرتے ہیں لفظ نشاء ابتداء کا معنی دیتا ہے تو ابتدائی جز زیادہ حق رکھتا ہے اسی بارے میں شاعر کا شعر ہے : ولولا ان یقال صبا نصیب، لقلت بنفسی النشاء الصغار۔ اگر یہ بات نہ کہی جاتی کہ نصیب بےدین ہوگیا تو میں اپنے آپ کو کہتا یہ تونئی اٹھان ہے۔ علی بن حسین مغرب وعشا کے درمیان نماز پڑھتے اور کہتے، یہ ناشئۃ اللیل ہے، عطا اور عکرمہ نے کہا، اس سے مراد رات کا آغاز ہے حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، اس سے مراد ساری رات ہے کیونکہ یہ دن کے بعد جنم لیتی ہے امام مالک بن انس نے اسے ہی پسند کیا ہے ابن عربی نے کہا، لفظ یہی معنی دیتا ہے اور لغت اس کا ہی تقاضا کرتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، ناشئۃ سے مراد نیند کے بعد رات کا قیام ہے جس نے نیند سے پہلے رات کے پہلے پہر قیام کیا تو اس نے ناشئۃ اللیل کا قیام نہ کیا، یمان اور ابن کیسان نے کہا، رات کے آخری حصہ میں قیام ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، ان کی نماز رات کے ابتدائی حصہ میں ہوا کرتی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب سوتا ہے تو وہ نہیں جانتا کب بیدار ہوگا ؟ صحاح میں ہے، ناشئۃ اللیل سے مراد رات کی ابتدائی گھڑیاں ہیں۔ قتبی نے کہا، یہ رات کی گھڑیاں ہیں کیونکہ یہ یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی ہیں۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے یہ عشاء کے بعد سے لے کر صبح تک کا وقت ہے۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے، عشاء کے بعد کا وقت ناشئۃ ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے اس سے مراد وہ طاعتیں ہیں جو رات کو کی جاتی ہیں یہ جوہری نے بیان کیا ہے۔ وطاً کی لغوی تشریح اور معنی ومفہوم۔ مسئلہ نمبر 3۔ ھی اشد وطا۔ ابوالعالیہ، ابوعمرو، ابن ابی اسحاق، مجاہد، حمید، ابن محیصن، ابن عامر، مغیرہ اور ابوحیوۃ نے اسے وطا، واو کے کسرہ کے ساتھ، طاء کے فتحہ اور الف ممدودہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوعبیدہ نے اسے ہی پسند کیا ہے جب کہ باقی قراء نے وطا، واؤ کے فتحہ اور طاء کے ساکن اور الف مقصورہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابوحاتم نے اسے اختیار کیا ہے جس طرح تیرا قول ہے، اشتدت علی القوم وطاء سلطانھم، جو چٹیاں ان پر لازم کی گئیں وہ ان پر ثقیل ہوگئیں۔ اس معنی میں نبی کریم کا ارشاد ہے، اللھم اشدد وطاتک علی مضر، اے اللہ مضرقبیلہ پر اپنی پکڑ کو سخت کردے، اس کا معنی یہ ہے نمازی پر یہ ساعتیں دن کی ساعتوں سے بھاری ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ رات نیند اور کام کاج چھوڑ نے کا وقت ہے جو آدمی عبادت میں مشغول ہو تو اس نے عظیم مشقت اٹھائی، جب یہ الف ممدودہ کے ساتھ ہو تو واطات ومواطاۃ کا مصدر ہوگا یعنی میں نے اس کی موافقت کی، ابن زید نے کہا، واطاتہ علی الامر مواطاۃ یعنی جب میں نے اس کے ساتھ موافقت کی فلان یواطی اسمہ اسمی، فلاں اپنے نام کو میرے نام کے ساتھ موافق کرتا ہے۔ تواطئوا علیہ۔ انہوں نے آپس میں موافقت کی۔ معنی یہ ہوگا یہ عمل دل، نظر، کان اور زبان کو موافق کرنے والا ہے کیونکہ آوزیں اور حرکتیں ہوچکی ہوتی ہیں۔ یہ قول مجاہد، ابن ابی ملیکہ اور دوسرے علماء نے کیا۔ حضرت ابن عباس نے اس کے معنی کے موافق قول کیا، یعنی یہ قوت سماعت کو دل کے موافق کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لیواطئوا عدۃ ماحرم اللہ۔ (توبہ 37) تاکہ وہ اس کی موافقت کریں ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی ہے تفکر اور تدبر میں تصرف کے لیے سختی سے موافقت کرنے والا ہے۔ وطاء، غطاء کے خلاف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اشد وطا دن کی بنسبت سختی سے ثبت کرنے والا ہے کیونکہ رات ایسا وقت ہوتا ہے جس میں انسان عمل نہیں کرتا تو یہ عمل کو زیادہ مضبوط کرنے والاجوچیز انسان کو غافل کرے اور دل کو مشغول کرے اس سے زیادہ پاک ہوتا ہے۔ الوط کا معنی ـثبات ہے تو کہتا ہے، وطئت الارض بقدمی۔ میں اپنے قدم کے ساتھ زمین پر ثابت ہوا۔ اخفش نے معنی کیا ہے، اشد قیام۔ قیام میں شدید ہے۔ فراء نے کہا، اثبت قراءۃ قیاما۔ قرات اور قیام میں زیادہ ثبت کا باعث ہے انہیں سے اشد وطا کا معنی منقول ہے عمل کو ثبت کرنے والا اور جو زیادہ عبادت کا ارادہ کرے اس کے لیے دوام کا باعث ہے۔ رات کا وقت زندگی کی مصروفیات سے فارغ ہونے کا وقت ہے اس کی عبادت دائمی ہوتی ہے ختم نہیں ہوتی۔ کلبی نے اشد وطا کا معنی کیا ہے، نمازی کے لیے زیادہ نشاط کا باعث ہے کیونکہ وہ اپنی راحت کے زمانہ میں ہوتا ہے عبادہ نے کہا، اشد وطا کا معنی ہے نماز کے لیے نشاط کا باعث ہے زیادہ خفیف اور قرات کو درست کرنے والا ہوتا ہے۔ واقوم قیلا کی تشریح۔ مسئلہ نمبر 4۔ واقوم قیلا، یعنی رات کے وقت کی قرائت دن کی بنسبت درستگی پر استقامت و دوام میں شدید ہوتی ہے کیونکہ آوازیں پرسکون ہوتی ہیں دنیا خاموش ہوتی ہے نماز جو پڑھتا ہے وہ نمازی پر مضطرب نہیں ہوتا قتادہ اور مجاہد نے کہا، قرات کو درست کرنے والا، قول کو ثبت کرنے والا ہوتا ہے۔ کہا یہ وقت سمجھنے کا ہوتا ہے، ابوعلی نے کہا، واقوم قیلا سے مراد ہے رات کے وقت فارغ البال ہونے کی وجہ سے استقامت کو مضبوط بناتا ہے ایک قول یہ کیا گیا، دعا کو جلدی قبول کراتا ہے ابن شجرہ نے یہ بیان کیا ہے عکرمہ نے کہا، رات کی عبادت مکمل نشاط والی کامل اخلاص والی اور زیادہ برکت والی ہوتی ہے۔ زید بن اسلم نے کہا، یہ اس کے زیادہ مناسب ہوتی ہے کہ وہ قرآن میں تفقہ حاصل کرے۔ اعمش سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک نے اصوب قیلاپڑھا تو انہیں کہا گیا، واقوم قیلا تو انہوں نے جواب دیا، اقوم، اصوب اور اھیا، سب برابر ہیں۔ ابوبکر انباری نے کہا، ان کج رو لوگوں میں سلسلہ لگاتار جاری رہایہاں تک کہ انہوں نے یہ کہا، جس نے کسی ایسے حرف کے ساتھ قرآن پڑھا جو قرآن کے حرف کے معنی کے موافق ہو تو وہ درست قرات کرنے والا ہے۔ جب کہ اس نے معنی کی مخالفت نہ کی ہو اور اللہ تعالیٰ کا جو قصد وار ارادہ تھا اس کا غیر نہ لایاہو، ان لوگوں نے حضرت انس کے قول سے استدلال کیا ہے یہ ایسا قول ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور اس کے قائل کی طرف التفات نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس نے اگر ایسے الفاظ سے قرات کی جو قرآن کے الفاظ کے مخالف ہو اور اس کے معانی کے قریب ہو تو اس کے پھر یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ الحمدللہ رب العالمین کی جگہ الشکر للباری ملک المخلوقین پڑھ لے، اس میں معاملہ بہت وسیع ہوجائے گا یہاں تکہ تمام قرآن کے الفاظ باطل ہوجائیں گیا وران الفاظ کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھے گا، رسول اللہ پر جھوٹ بولے گا ان کے لیے حضرت ابن مسعود کے قول میں کوئی دلیل نہیں کہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے یہ تمہارے اس قول کی طرح ہے، ھل، تعال اور اقبل کیونکہ یہ حدیث اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ نبی کریم سے صحیح سندوں سے منقول قرائتیں جب الفاظ مختلف ہوں اور معانی متفق ہوں تو وہ ھلم، تعال، اور اقبل کے معنی میں ہیں مگر جس لفظ کے ساتھ نبی کریم آپ کے صحابہ اور تابعین نے نہیں پڑھا تو جو ایسا ایک حرف بھی قرآن میں لایاتوصحیح مذہب سے نکل گیا۔ ابوبکر نے کہا، وہ حدیث جسے انہوں نے اس گمراہی میں بطور قاعدہ پیش کیا ہے وہ ایسی حدیث ہے جو کسی اہل علم سے ثابت نہیں کیونکہ اس کا انحصار اس سند پر منحصر ہے اعمش، انس سے روایت کرتے ہیں یہ سند مقطوع ہے متصل نہیں کہ اس سے استدلال کیا جاسکے کیونکہ اعمش نے حضرت انس کو دیکھاتو ہے ان سے احادیث نہیں سنیں۔
Ayah 73:7

اِنَّ لَكَ فِی النَّهَارِ سَبْحًا طَوِیْلًاؕ Open ayah 73:7 in the Quran reader

دن کے وقت تو تمہیں اور بہت سے شغل ہوتے ہیں

سبحا طویلا کا معنی مفہوم۔ مسئلہ نمبر 5۔ ان لک فی النھار سبحا طویلا۔ عام قرات میں حاء غیر معجمہ کے ساتھ ہے یہاں آپ کو ضروریات کے لیے آناجانا پڑتا ہے۔ سبح کا معنی دوڑنا اور چکرلگانا ہے اسی سے پانی میں تیرنے والا ہے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں مارتا اور فرس سابح ہے جو گھوڑا بہت تیز دوڑتا ہے۔ امراء القیس کا شعر ہے۔ مسح اذا ما السابحات علی الونی، اثرن الغبار بالکدید المرکل۔ وہ بہت تیز دوڑنے والا ہوتا ہے جب کہ تیز رفتار گھوڑے تھکاوٹ کے وقت سخت جگہ غباراڑاتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، سبح سے مراد فراغت ہے یعنی دن کے وقت کام کاج کے لیے آپ کے پاس فراغت ہوتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ دن کے وقت آرام کرتے ہیں تسبح کا معنی لمبا ہوتا ہے یہ خلیل نے ذکر کیا ہے حضرت ابن عباس اور عطا سے مروی ہے، سبحاطویلا، یعنی آپ کی نیند اور آپ کے آرام کے لیے طویل فراغت ہوتی ہے پس رات کا وقت عبادت کے لیے بنالیجئے، زجاج نے کہا، اگر رات کے وقت کوئی شے فوت ہوجائے تو دن میں آپ کے لیے آرام کے لیے فراغت ہوتی ہے۔ یحیی بن یعمر اور ابو وائل نے سبحا پڑھا ہے، مہدوی نے کہا، اس کا معنی نیند ہے اس قرات کے قاریوں سے یہ مروی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی خفت وسعت اور استراحت ہے اسی معنی میں حضرت عائشہ کے لیے نبی کریم کا ارشاد ہے جب کہ حضرت عائشہ نے چادر چوری کرنے والے کے لیے بددعا کی تھی، لاتسبحی بدعائک علیہ۔ یعنی اس کے گناہ کو اس سے ہلکانہ کرو، شاعر نے کہا، فسبح علیک الھم واعلم بانہ، اذا قدر الرحمن شئیا فکائن۔ اپنے غم کو ہلکا کردو اور یہ جان لو جب اللہ تعالیٰ کسی شی کو مقدر کرتا ہے تو وہ ہوکررہتی ہے۔ اصمعی نے کہا، یہ قول کیا جاتا ہے، سبح العر یعنی گرمی ہلکی پڑگئی تسبیح سے مراد سخت نیند ہے تسبیح کا معنی ہ بھی ہے روئی، کتان، اور اون کے اجزا کو الگ الگ کرنا، عورت کو کہا جاتا ہے، سبخی قطنک اور سبیح من القطن، سے مراد یہ ہوتا ہے اسے لپٹاجائے تاکہ عورت اسے کا تے، اس کے ایک حصہ کو سبیخہ کہتے ہیں، اسی طرح بھیر بکریوں کی اون اور اونٹ کی اون میں ہوتا ہے روئی کے ان حصوں کو سبائخ کہتے ہیں اخطل شکاریوں اور کتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے، فارسلون یذرین التراب کما، یذری سبائخ قطن ندف اوتار۔ شکاریوں نے کتوں کو چھوڑا اور وہ مٹی کو یوں اڑ رہے تھے جس طرح روئی کا دھنکنا روئی کے اجزاء کو اڑاتا ہے۔ ثعلب نے کہا، سبخ کا معنی تردد اور اضطراب ہے، سبخ کا معنی سکون بھی ہے اس معنی میں نبی کریم کا ارشاد ہے، الحمی من فیح جھنم فسبحوھا بالمائ، بخار جہنم کی لپک ہے اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو، ابوعمرو نے کہا، سبخ سے مراد نیند اور فراغت ہے میں کہتا ہوں اس لحاط سے تو یہ لفظ اضداد میں ہوا اور یہ سبح کے معنی میں ہے۔
Ayah 73:8

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ Open ayah 73:8 in the Quran reader

تو اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بےتعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ

واذکراسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا۔ اس میں تین مسائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کرنے سے کیا مراد ہے۔ مسئلہ نمبر 1۔ واذکراسم ربک۔ یعنی اسے اسمائے حسنی سے یاد کرو تاکہ نماز کے ساتھ اچھا انجام حاصل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے عمل کے ساتھ اپنے رب کی ذات کا قصد کر۔ سبیلی نے کہا، اپنی نماز کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھ اس کی قرات کی برکت تجھے تیرے رب تک پہنچا دے گی اور اس کے غیر سے تجھے قطع کردے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے وعدہ اور وعید میں اپنے رب کے نام کا ذکر کیجئے تاکہ تو زیادہ اطاعت کرے اور معصیت سے اعراض کرے۔ کلبی نے کہا، دن کے وقت اپنے رب کی نماز پڑھیے، میں کہتا ہوں یہ بہت اچھی تاویل ہے کیونکہ جب رات کا ذکر کیا تو دن کا بھی ذکر کیا، کیونکہ دن رات کا قسیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وھوالذی جعل اللیل والنھار خلفۃ لمن ارادان یذکر (فرقان 62 ) ۔ تبتل کا معنی ومفہوم۔ مسئلہ نمبر 2۔ وتبتل الیہ تبتیلا۔ تبتل کا معنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہوکررہ جانا، یعنی اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو یہ جملہ بولا جاتا ہے، بتلت الشئی، یعنی میں نے اس چیز کو کاٹا۔ اس معنی میں ان کا قول ہے۔ طلقھا بتۃ بتلۃ۔ اس نے اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دی، ھذہ صدقۃ بتتۃ بتلۃ یہ صدقہ بائنہ ہے اپنے مالک سے منقطع ہے یعنی مالک کی صدقہ سے ملکیت ختم ہوچکی ہے۔ اس معنی میں مریم بتول ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہورہی تھیں راہب کو متبتل کہتے ہیں کیو کہ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہوجاتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔ حدیث طیبہ میں تبتل سے نہی کی گئی ہے وہ لوگوں اور جماعتوں سے الگ تھلگ ہونا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے عربوں کے ہاں اس کا اصل معنی الگ تھلگ ہے۔ ابن عرفہ نے یہی کہا ہے جب کہ پہلا معنی ان آثار کی وجہ سے زیادہ قوی ہے جو آثار ہم نے ذکر کیے ہیں یہ سوال کیا جاتا ہے، تبتیلا، کیوں کہا، تبتلا نہیں کہا ؟ تو اسے جواب دیا جائے گا، تبتل کا معنی بتل نفسہ ہے یعنی اپنے نفس کو الگ تھلگ کرنا توآیات کے سروں کی موافقت کی وجہ سے تبتل کی جگہ تبتیلا کا لفظ ذکر کیا ہے۔ رہبانیت اختیار کرنے کی ممانعت۔ مسئلہ نمبر 3۔ سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان، یا ایھا الذین آمنوالاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم (86) کی تفسیر میں یہ بات گزرچکی ہے جو آدمی الگ تھلگ ہوتا ہے اور رہبانیت کی راہ اختیار کرتا ہے وہ مکروہ ہے تو وہ بحث کافی ہے۔ ابن عربی نے کہا، جہاں تک اس دور کا تعلق ہے تو لوگوں کے عہدوپیمان فاسد ہوچکے ہیں امانت داری کا جذبہ ضعیف ہوچکا ہے اور حرام، دنیاوی اموال پر غالب آچکا ہے اس لیے تنہائی میل جول سے بہتر ہے، اور مجرد زندگی شادی سے افضل ہے لیکن آیت کا معنی ہے بتوں اور غیر اللہ کی عبادت سے دستکش ہوجاؤ، مجاہد نے اسی طرح کی بات کی ہے جس کا معنی یہ ہے اس کے لیے عبادت کو خالص کرو، تبتل کا ارادہ نہیں کیا، تبتل کا قرآن حکیم میں حکم دیا گیا سنت میں اس سے نہی کی گئی امر کا تعلق، نہی کا متعلق نہیں تو یہ دونوں چیزیں آپس میں متناقض نہیں، کیونکہ نبی کریم کو اسی لیے مبعوث کیا گیا تاکہ لوگوں کے لیے نازل شدہ احکام کی وضاحت کریں، پس وہ تبتل جس کا قرآن حکیم میں حکم دیا گیا وہ عبادت کو خالص کرتے ہوئے اللہ کے لیے ہوکررہنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وما امروا الا لیعبدواللہ مخلصین لہ الدین (البینہ 5) جس تبتل سے منع کیا گیا ہے وہ نکاح کو ترک کرنے اور عبادت گاہوں میں الگ تھلگ رہنے میں نصاری کا طریقہ اپنانا ہے، لیکن جب زمانہ فساد کا شکار ہوجائے تو مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہیں جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں چراتا ہے اور اپنے دین کی حفاظت کی خاطرفتنوں سے دوربھاگتا ہے۔
Ayahs 73:9–11

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا Open ayah 73:9 in the Quran reader

وہی مشرق اور مغرب کا مالک (ہے اور) اسکے سوا کوئی معبود نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بناؤ

وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا Open ayah 73:10 in the Quran reader

اور جو جو (دل آزار) باتیں یہ لوگ کہتے ہیں انکو سہتے رہو اور اچھے طریق سے ان سے کنارہ کش رہو

وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا Open ayah 73:11 in the Quran reader

اور مجھے ان جھٹلانے والوں سے جو دولتمند ہیں سمجھ لینے دو اور انکو تھوڑی سی مہلت دیدو

رب المشرق والمغرب۔۔۔ تا۔۔۔۔ قلیلا۔ اہل حرمین، ابن محصین، مجاہد، ابوعمرو، ابن اسحاق، اور حفص نے لفظ رب کو مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے، اس کی خبر لا الہ الاھو ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے پہلے ھومضمر ہے، باقی قراء نے لفظ رب کو مجرور پڑھا ہے، کیونکہ یہ واذکر اسم ربک، اور رب المشرق کے لفظ رب کی صفت ہے جو آدمی یہ جان لیتا ہے کہ وہ مشارق اور مغارب کا رب ہے تو اس کا عمل اور آرزو اور اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی، فاتخذوہ وکیلا۔ یعنی تو اسے یوں بنالے کہ وہ تیرے امور کی نگہبانی کرنے والا ہے، اور اسی نے تیرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس پر اسے ضامن بنالے۔ کفار جو آپ کو اذیت دیتے ہیں سب وشتم کرتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں اس پر صبر کیجئے ان کی باتوں سے نہ گھرائیں اور ان کو دعوت دینے سے نہ رکیں، انہیں بدلہ دینے میں مشغول نہ ہوں کیونکہ اس صورت میں آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کو ترک کرنے والے ہوں گے یہ امر جہاد سے قبل کا تھا اس کے بعد کفار کے ساتھ قتال کا حکم نازل ہوا تو جہاد والی آیت نے ماقبل کو ترک کے حکم کو منسوخ کردیا، قتادہ اور دوسرے علماء کا یہی نقطہ نظر ہے حضرت ابودرداء نے کہا، ہم کچھ لوگوں کے لیے ہنستے ہیں جب کہ ہمارے دل ان پر ناراض ہوتے ہیں اور ان پر لعنت کررہے ہوتے ہیں۔ وذرنی والمکذبین۔ یعنی انہیں سزا دینے کے لیے میری سزا پر راضی ہوجائے یہ قریش کے ان سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی جو استہزاء کیا کرتے تھے مقاتل نے کہا، یہ ان دس افراد کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے غزوہ بدر میں مشرک فوج کو کھانا کھلانے کی ذمہ داری لی تھی، ان کا ذکر سورة انفال میں ہوچکا ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، وہ بنومغیرہ ہیں، سعید بن جبیر نے کہا، مجھے خبر دی گئی کہ وہ بارہ افراد ہیں، اولی النعمۃ وہ مالدار، خوشحال اور دنیا میں لذتوں کے مالک ہیں، ومھلھم قلیلا، یعنی ان کی وفات کی مدت تک مہلت دیں، حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو تھوڑا وقت ہی گزر تھا کہ واقعہ بدر ہوگیا، ایک قول یہ کیا گیا انہیں دنیا کی مدت تک مہلت دیجئے۔
Ayah 73:12

اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ Open ayah 73:12 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہے

ان لدینا انکالاوجحیما۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ مھیلا۔ ان لدینا انکالاوجحیما۔ انکال کا معنی بیڑیاں ہیں یہ حضرت حسن بصری، مجاہد اور دوسرے علماء سے مروی ہے، اس کا واحد نکل ہے نکل اسے کہتے ہیں جو انسان کو حرکت سے روک دے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، اسے نکل اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ اس کے ساتھ عبرت حاصل کی جاتی ہے امام شعبی نے کہا، کیا تمہاری یہ رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنمیوں کے پاؤں میں بیڑیاں اس لیے ڈالی ہیں کہ کہیں بھاگ نہ جائیں ؟ نہیں اللہ کی قسم، لیکن جب انہوں نے اوپر آنے کا ارادہ کیا تو ان بیڑیوں نے انہیں نیچے کردیا، کلبی نے کہا، انکال کا معنی طوق ہے، پہلا معنی لغت میں بہت معروف ہے اس معنی میں خنساء کا قول ہے، دعا ک فقطعت انکالہ وقد کن قبلک لاتقطع۔ اس نے تجھے بلایاتوتونے اس کی بیڑیاں توڑ دیں جب کہ تجھ سے قبل انہیں نہیں توڑا جاتا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا یہ شدید عذاب کی انواع ہیں، یہ مقاتل کا قول ہے، نبی کریم کا ایک ارشاد ہے، ان اللہ یحب النکل علی النکل، اللہ تعالیٰ ایسے تجربہ کار بہادر سوار کو پسند کرتا ہے جو زورآور آزمودہ گھوڑے پر سوار ہو۔ جوہری نے کہا، نکل کاف کے فتحہ کے ساتھ ہے پوچھا گیا نکل کیا ہوتا ہے جواب دیا، طاقت ور تجربہ کار آدمی، طاقتور تجربہ کار گھوڑے پر، یہ ماوردی نے ذکر کیا کہا، اسی وجہ سے بیٹری کو نکل کہتے ہیں کیونکہ وہ قوی ہوتی ہے اس طرح غل ہے اور ہر سخت عذاب اور جہنم کی آگ۔
Ayah 73:13

وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ Open ayah 73:13 in the Quran reader

اور گلوگیر کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب (بھی) ہے

وطعاما ذاغصۃ، جو خوشگوار نہ ہوجوحلق کو پکڑلے نہ نیچے اترے اور نہ ہی باہر نکلے وہ غسلین، زقوم اور ضریع ہے، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، انہیں سے یہ بھی مروی ہے وہ کانٹا ہے جو حلق میں داخل ہوتا ہے نہ وہ نیچے جاتا ہے اور نہ ہی نکلتا ہے۔ زجاج نے کہا، ان کا ٹھکانا ضریع ہوگا جس طرح ارشاد فرمایا، لیس لھم طعام الامن ضریع (غاشیہ) ۔ یہ عوسج جیسا کانٹا ہے۔ مجاہد نے کہا، وہ کھانا زقوم ہے، جس طرح ارشاد فرمایا، ان شجرت الزقوم۔ طعام الاثیم (الدخان) دونوں کا معنی ایک ہے حمران بن اعین نے کہا، نبی کریم ﷺ نے، ان لدینا انکالاوجحیما۔ وطعاما ذاغصۃ۔ کو پڑھا تو آپ بےہوش ہوگئے خلید بن حسان نے کہا، حضرت حسن بصری نے ہمارے ہاں روزے کی حالت میں شام کی تو میں کھانا لایاتوان کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی، ان لدینا انکالا وجحیما۔ تو حضرت حسن بصڑی نے کہا، اپناکھانا اٹھالو جب دوسرا دن ہوا تو میں کھانالایاتوان پر یہ آیت پیش کی گئی تو آپ نے کہا، اسے اٹھالو اور تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا، ان کا بیٹا ثابت بنانی، یزید جی اور یحییٰ بکاء کے پاس گیا اور ان سے گفتگو کی وہ ان کے پاس آئے اور ان کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ حضرت حسن بصری نے ستوکا ایک گھونٹ پی لیا۔ غصہ کا معنی شجا (حلق میں اٹک جانے والی ہڈی) ہے یہ وہ چیز ہے جو حلق میں اٹک جاتی ہے وہ ہڈی ہو یا کوئی اور۔ اس کی جمع غصص آتی ہے، غصص فتح کے ساتھ ہوتویہ اس باب سے مصدر ہوگا، غصصت تغص، اسی طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، انت غاص بالطعام، انت غصان، تیرے گلے میں کھانا اٹک گیا ہے۔ اغصصتہ انا (میرے گلے میں کوئی چیز اٹک گئی ہے) المنزل غاص بالقوم، یعنی منزل لوگوں کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔
Ayah 73:14

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا Open ayah 73:14 in the Quran reader

جس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں اور پہاڑ ایسے بھربھرے (گویا) ریت کے ٹیلے ہوجائیں

یوم ترجف الارض والجبال۔ جو کوئی ان پر ہوگا ان کے ساتھ زمین اور پہاڑ مضطرب ہوں گے، یوم کا لفظ ظرف ہونے کی حیثیت سے منصوب ہوتا ہے یعنی انہیں عذاب دیا جائے گا جس دن زمین کا نپے گی، ایک قول یہ کیا گیا ہے یوم سے پہلے حرف جار تھا، اس کے حذف کی وجہ سے یہ منصوب ہے تقدیر کلام یوں ہوگی، ھذہ العقوبۃ فی یوم ترجف الارض والجبال۔ ایک قول یہ کیا گیا، اس کا عامل ذرنی ہے معنی یہ ہوگا جس روز زمین اور پہاڑ کا نپیں گے اس دن مجھے جھٹلانے والوں کو چھوڑ دینا۔ وکانت الجبال کثیبا مھیلا۔ کثیب سے مراد جمع شدہ ریت ہے، حضرت حسان نے کہا : عرفت دیار زینب بالکثیب، کخط الوحی فی الورق القشیب۔ میں نے ریت کے ٹیلے پر زینب کے گھروں کو پہچان لیاجس طرح نئے کاغذ پر لکھائی کی لکیریں ہوتی ہیں۔ مھیل اس ریت کو کہتے ہیں جو پاؤں کے نیچے سے نکل جاتی ہے ضحاک اور کلبی نے کہا، مھیل اسے کہتے ہیں جب اس پر قدم رکھے تو وہ نیچے سے سرک جائے اور جب تو اس کا نیچے والاحصہ پکڑے تو وہ گرپڑے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، مھیل سے مراد بہنے اور بکھرنے والی ہے اس کی اصل مھیل ہے یہ تیرے اس قول سے اسم مفعول کا صیغہ ہے، ھلت علیہ التراب اھیلہ ھیلا۔ جب تو اسے بہائے جس طرح کہا جاتا ہے، مھیل، مھول، مکیل، مکیول، مدین، مدیون، معین، معیون۔ شاعر نے کہا : قد کان قومک یحسبونک سید، واخال انک سید معیون۔ تیری قوم تجھے سردار گمان کرتی ہے اور میرا خیال ہے تو آنکھوں دیکھاسردار ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ کی بارگاہ میں خشک سالی کی شکایت کی تو فرمایا، اکیلون ام تھیلون۔ کیا تم کیل کرتے ہو یا انڈیلتے ہو ؟ عرض کی ہم انڈیلتے ہیں، فرمایا، اپنے کھانوں کا کیل کیا کرو اس میں تمہارے لیے برکت رکھ دی جائے گی، ھلت میں ایک لغت اھلت الدقیق بھی ہے اسی سے مھال اور مھیل آتا ہے واؤ کو حذف کردیا گیا کیونکہ یاء پر ضمہ ثقیل ہوتا ہے ضمہ کو حذف کیا گیا تو یاء ساکن ہوگئی پھر یاء اور واؤ ساکن ہوگئے تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے واؤ حذف کردیا گیا۔
Ayahs 73:15–16

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ Open ayah 73:15 in the Quran reader

(اے اہل مکہ) جس طرح ہم نے فرعون کے پاس (موسی کو) پیغمبر (بناکر) بھیجا تھا (اسی طرح) تمہارے پاس (محمد ﷺ رسول بیجھے ہیں جو تمہارے مقابلے میں گواہ ہونگے

فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا Open ayah 73:16 in the Quran reader

سو فرعون نے (ہمارے) پیغمبر کا کہا نہ مانا تو ہم نے اسکو بڑے وبال میں پکڑ لیا۔

انا ارسلنا الیکم رسولا۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ ربہ سبیلا۔ اناارسلناالیکم رسولا، یہاں رسولا سے مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قریش کی طرف بھیجا، کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ اس میں رسولا سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ فعصٰی فرعون الرسول۔ یعنی فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ایمان نہ لایا۔ مقاتل نے کہا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا ذکر کیا کہا، کیونکہ اہل مکہ نے حضرت محمد ﷺ کی شان کا لحاظ نہ کیا اور آپ کی تحقیر کی کیونکہ آپ کی ولادت ان میں ہوئی تھی جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کی شان کا لحاظ نہ کیا کیونکہ فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اور حضر تموسی انہیں میں پروان چڑھے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے قول کی حکایت بیان کی ہے۔ الم نربک فینا ولیدا (شعراء 18) مہدوی نے کہا، الرسول میں الف لام اس لیے آیا ہے کیونکہ رسول کا پہلے ذکر ہوچکا تھا، اس وجہ سے خطوط کے آغاز میں سلام علیکم اور ان کے اختتام میں، السلام علیکم کو اختیار کیا جاتا ہے، وبیلا سخت بوجھل، اس معنی میں ضرب وبیلا و عذاب وبیل بمعنی شدید بولا جاتا ہے، یہ حضرت ابن عباس اور مجاہد کا قول ہے، اس سے مطرد ابل کہتے ہیں یعنی سخت بارش، یہ اخفش کا قول ہے، زجاج نے اس کا معنی ثقیلا غلیظا کیا ہے بھاری بھرکم۔ اس معنی میں بارش کے لیے وبیل کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا معنی مھلکا ہے معنی یہ ہے ہم نے اسے تباہ کن سزا دی۔ شاعر نے کہا : اکلت بنیک اکل الضب حتی، وجدت مرارۃ الکلا الوبیل۔ تو نے اپنی اولاد کو گوہ کے کھانے کی طرح کھالیا یہاں تک کہ تو نے ہلاک کردینے والی گھاس کی کڑواہٹ کو پالیا۔ استوبل فلان کذا، اس کے انجام کی تعریف نہ کی، ماء وبیل ایسا پانی جو خوشگوار نہ ہو، کلا مستوبل وطعام وبیل ومستوبل۔ جب وہ گھاس کھانا خوشگوار نہ ہو اور ہضم نہ ہو، زہیر نے کہا، فقضوا منایا بینھم ثم اصدورا، الی کلا مستوبل متوخیم۔ انہوں نے آپس میں موتوں کا فیصلہ کیا پھر وہ ایسی گھاس کی طرف گئے جو ناخوشگوار تھی۔ خنساء نے کہا : لقد اکلت بجیلۃ یوم لاقت فوارس مالک اکلا وبیلا۔ بجیلہ نے اس روز نامناسب کھانا کھایا جس روز وہ مالک کے شہسواروں سے ملی۔ وبیل کا معنی موٹا ڈنڈا بھی ہے، شاعر کا شعر ہے : لواصبح فی یمنی یدی زمامھا، وفی کفی الاخری وبیل تحاذرہ کاش، میرے دائیں ہاتھ میں اس کی نکیل ہوتی اور دوسرے ہاتھ میں موٹا ڈنڈا ہوتاجوا سے ڈراتا۔ اسی طرح موبل کا لفظ ہے اور موبلہ بھی اسی طرح ہے اس کا معنی لکڑیوں کا گھٹا ہے اسی طرح وبیل بھی اسی معنی میں ہے جس طرح اس شعر میں ہے، طرفہ نے کہا : عقیلۃ الشیخ کالوبیل یلتندد۔
Ayah 73:17

فَكَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَاۗۖ Open ayah 73:17 in the Quran reader

اگر تم بھی (ان پیغمبر کو) نہ مانو گے تو اس دن سے کیونکر بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

فکیف تتقون ان کفرتم یومایجعل الولدان شیبا۔ یہ توبیخ اور تقریع کے لیے ہے، یعنی اگر تم نے کفر کیا تو تم کیسے عذاب سے بچو گے، اس میں تقدیم وتاخیر ہے، یعنی اگر تم نے کفر کیا تو تم اس دن کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنا دیتا ہے، عبداللہ اور عطیہ کی قرات اسی طرح ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، تم کون سی نماز کے ساتھ عذاب سے بچو گے ؟ کون سے روزے کے ساتھ بچوگے ؟ اس میں اضمار ہے یعنی تم کیسے اس دن کے عذاب سے بچو گے، قتادہ نے کہا، اللہ تعالیٰ کی قسم، جس نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا اس دن کسی بھی چیز کے ساتھ عذاب سے نہیں بچے گا اور یوما تتقون کا مفعول بہ ہے، یہ ظرف نہیں ہے اگر کفر کو انکار کے معنی میں مقدر کیا جائے تو یوم کا لفظ کفرتم کا مفعول ہوگا۔ بعض مفسرین نے کہا، اللہ تعالیٰ کے فرمان کفرتم پر وقف تام ہے اور یوما سے ابتدا ہورہی ہے تو یہ صورت اس طرف جاتی ہے، کہ یوم یجعل کا مفعول ہے اور یجعل فعل کا فاعل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے گویا یہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک دن میں بچوں کو بوڑھا کردیتا ہے ابن انباری نے کہا، یہ درست نہیں کیونکہ دن ہی اپنی ہولناکی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ مہدوی نے کہا، یجعل کی ضمیر کے بارے میں یہ جائز ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ یوم کے لیے ہو جب ضمیر یوم کے لیے ہوگی تو یہ صحیح ہوگا کہ جملہ یوم کی صفت ہو اور جب ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتویہ صفت بننے کی صلاحیت نہ رکھے مگر اس صورت میں کلام میں حذف تسلیم کیا جائے، گویا ارشاد فرمایا، یوم یجعل اللہ الولدان فیہ شیبا۔ ابن انباری نے کہا، علماء میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے یوما کو کفرتم فعل سے نصب دی ہے یہ بہت ہی قبیح ہے کیونکہ یوما کو جب کفرتم کے ساتھ متعلق کریں گے تو یہ صفت کا محتاج ہوگا تقدیر کلام یوں ہوگی، کفرتم بیوم۔ اگر کوئی استدلال کرنے والا یہ استدلال کرے کہ صفت بعض اوقاف حذف ہوجاتی ہے اور فعل مابعد کو نصب دیتا ہے تو ہم اس کے خلاف حضرت عبداللہ کی قرات سے استدلال کریں گے۔ میں کہتا ہوں : یہ (حضرت عبداللہ کی) قرات متواتر نہیں یہ تو تفسیر کے طریقہ پر آئی ہے جب کفر جحود (انکار) کے معنی میں ہوتویوما بغیر کسی صفت اور اس کے حذف کے صریح مفعول ہوگا یعنی تم کیسے اللہ تعالیٰ سے تقوی اختیار کرو گے اور اس سے ڈرو گے اگر تم قیامت اور جزا کے دن کا انکار کرو گے، ابوسمال قعنب نے فکیف تتقون نون کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الولدان سے مراد بچے ہیں، سدی نے کہا، اس سے مراد زنا کی اولاد ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد مشرکین کی اولاد ہے جب کہ عمومی معنی مراد لینا زیادہ صحیح ہے یعنی اس دن میں چھوٹے بچے کے بال بڑھاپے کے بغیر سفید ہوجائیں گے یہ اس وقت ہوگا جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا جائے گا، اے آدم، اٹھیے جہنم کا حصہ نکالیے جس طرح سورة حج کے آغاز میں گزرچکا ہے، قشیری نے کہا، پھر اللہ تعالیٰ جس طرح ارادہ فرمائے گا جنتیوں کے احوال اور اوصاف بدل دے گا ایک قول یہ کیا گیا گیا، یہ اس دن کی شدت کو بیان کرنے والی ضرب المثل ہے یہ مجاز ہے کیونکہ قیامت کے روز کوئی بچہ نہ ہوگا، بلکہ اس کا معنی یہ ہے اس دن کی ہیبت ایسی حالت میں ہوگی اگر وہاں کوئی بچہ ہوا توہیبت کی وجہ سے اس کے سر کے بال سفید ہوجائیں گے ایک قول یہ کیا جاتا ہے یہ نزع کا وقت ہوگا اور صور پھونکے جانے سے قبل ہوگا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ زمخشری نے کہا، کسی کتاب میں میری نظروں کی سامنے یہ حکایت گزری ہے کہ ایک آدمی نے شام کی جب کہ اس کے بال کوے کی طرح سیاہ تھے اس نے صبح کی تو اس کا سرسفید ہوچکا تھا اور واڑھی ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہوچکا تھی اس نے کہا مجھے خواب میں قیامت، جنت اور دوزخ دکھائی گئی، میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہیں زنجیروں سے جکڑ کر آگ کی طرف لے جایا جارہا ہے تو اس کی ہولناکی کی وجہ سے میں اس طرح ہوگیا جس طرح تم مجھے دیکھتے ہو، یہ بھی جائز ہے کہ دن کی طوالت کے ساتھ صفت بیان کی جائے کہ اس دن میں بچے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں گے۔