73. Surah Al-Muzzammil

المزملThe Enshrouded One · 20 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 73:18

اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا Open ayah 73:18 in the Quran reader

(اور) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ یہ اس کا وعدہ (پورا) ہو کر رہے گا۔

السماء منفطربہ۔ اس دن کی شدت کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، بہ میں باء فی کے معنی میں ہے یعنی اس دن میں اس کی ہولنکای کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، اس کی تعبیر میں جو بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں یہ ان میں سے سب سے اچھا ہے اس کی تاویل میں یہ قول بھی کیا جاتا ہے اس پر ایسا بوجھ ڈالاجائے گا جو اسے شق ہونے کی طرف لے جائے گا کیونکہ وہ اس بوجھ اس پر بہت بھاری ہوگا اور آسمان اس بوجھ کے واقع ہونے کی وجہ سے ڈرجائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ثقلت فی السماوات والارض۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ بہ، لہ کے معنی میں ہے یعنی اس دن کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، فعلت کذا بحرمتک ولحرمتک، میں نے اس طرح تیرے احترام کی وجہ سے کیا ہے، بائ، لام اور فی اس جیسی جگہوں میں قریب المعنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ (الانبیاء 47) ہم قیامت کے روز انصاف کے میزان رکھیں گے، یہاں بھی لیوم القیامۃ فی یوم القیامۃ کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، بہ کی ضمیر امر کے معنی میں ہے یعنی آسمان اس امر کی وجہ سے پھٹ جائے گا جو بچوں کو بوڑھا بنادے گا ایک قول یہ کیا گیا ہے آسمان اللہ تعالیٰ کے امر سے پھٹ جائے گا۔ ابوعمرو بن علاء نے کہا، منفطر نہیں کہا، کیونکہ سماء کا مجازی معنی، سقف، چھت ہے تو کہتا ہے، ھذا سماء البیت، یہ کمرے کی چھت ہے۔ شاعر نے کہا : فلورفع السماء الیہ قوما لحقنا بالسماء وباالسحاب۔ اگر چھت قوم کو اس کی طرف اٹھاتا تو ہم آسمان اور بادل تک جاپہنچے۔ قرآن حکیم میں ہے، وجعلنا السماء سقفا محفوظا (الانبیاء 32) ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا فراء نے کہا، السماء مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، ابوعلی نے کہا، اس کا استعمال الجراد المنتشر، الشجر الاخضر اور اعجاز نخل منقعر کے باب سے ہے، ابوعلی نے کہا، اس کا معنی ہے آسمان پھٹنے والا ہے جس طرح وہ کہتے ہیں، امراہ مرضع یعنی دودھ پلانے والی عورت، اسم فاعل کا صیغہ نسبت کے معنی میں ہے۔ کان وعدہ مفعولا۔ یعنی قیامت، حساب اور جزا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہوکر رہے گا اس میں کوئی شک اور خلاف ورزی نہ ہوگی، مقاتل نے کہا، اس کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔
Ayah 73:19

اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا۠ Open ayah 73:19 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصحت ہے سو جو چاہے اپنے پروردگار تک (پہنچنے کا) راستہ اختیار کرلے

ان ھذہ تذکرۃ، ھذہ سے مراد سورت ہے، آیات ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے قرآن کی آیات مراد ہیں کیونکہ وہ سورة واحدہ کی طرح ہے۔ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا۔ جو یہ ارادہ رکھتا ہے کہ وہ ایمان لائے اور اپنے رب کی رضا اور رحمت تک پہنچنے کا راستہ بنائے تو وہ رغبت کرے پس یہ اس لیے ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دلائل ظاہر کردیے ہیں پھر ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ آیت، آیت سیف سے منسوخ ہوگئی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی اسی طرح ہے، فمن شاء ذکرہ (المدثر) ثعلبی نے کہا، زیادہ مناسب یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں۔
Ayah 73:20

اِنَّ رَبَّكَ یَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ طَآئِفَةٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ یُقَدِّرُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَیْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَیَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ اٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۖ٘ فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ١ۙ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 73:20 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ تم اور تمہارے ساتھ کے لوگ (کھبی) دو تہائی رات کے قریب اور (کھبی) آدھی رات اور (کھبی) تہائی رات قیام کیا کرتے ہو۔ اور خدا تو رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کو نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر مہربانی کی۔ پس جتنا آسانی سے ہو سکے (اتنا) قرآن پڑھ لیا کرو۔ اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں۔ اور بعض خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو جتنا آسانی سے ہو سکے اتنا پڑھ لیا کرو اور نماز پڑہتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور خدا کو نیک (اور خلوص نیت سے) قرض دیتے رہو اور جو نیک عمل تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اس کو خدا کے ہاں بہتر اور صلے میں بزرگ ترپاؤ گے اور خدا سے بخشش مانگتے رہو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

ان ربک یعلم انک۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔ غفوررحیم۔ اس میں تیرا مسائل ہیں : رات کا ثلث، اس کا نصف اور دو ثلث میں قیام کرنے کی شرعی حیثیت۔ مسئلہ نمبر 1۔ ان ربک یعلم انک تقوم۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے فرمان، قم الیل الاقلیلا۔ نصفہ اونقص منہ قلیلا۔ اوزد علیہ۔ کی تفسیر ہے جس طرح پہلے گزرچکا ہے یہ رات کے قیام کی فرضیت کے لیے ناسخ ہے جس طرح پہلے گزرچکا ہے تقوم کا معنی (آپ نماز پڑھتے ہیں) ہے۔ ادنی کا معنی کم ہے، ابن سمیقع، ابوحیوہ اور ہشام نے اہل شام سے ثلثی لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، نصفہ وثلثلہ کو مجرور پڑھا ہے، یہ عام قراء کی قرات ہے اس کا عطف ثلیثی پر ہے اس کا معنی یہ ہے آپ رات کے دوتہائی اس کے نصف اور ایک تہائی سے کم قیام کرتے ہیں، ابوعبید اور ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے جس طرح اللہ کا فرمان ہے، علم ان لن تحصوہ (المزمل 20) تو صحابہ کرام اس کا نصف، ایک تہائی کیسے قیام کرتے جب کہ وہ شمار نہ کرسکتے تھے، ابن کثیر اور کوفہ کے قراء نے نصفہ وثلثہ کو منصوب پڑھا ہے، انہیں ادنی پر معطوف کیا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی تقوم ادنی من ثلثی اللیل وتقوم نصفہ وثلثہ، آپ رات کے دوتہائی سے کم قیام کرتے ہیں اور اس کا نصف اور ایک تہائی قیام کرتے ہیں فراء نے کہا، یہ درست ہونے کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ دو ثلث سے کم ارشاد فرمایا پھر قلت کا ذکر کیا اور قلت سے کم ذکر نہیں کیا قشیری نے کہا، اس قرات کی بنا پر یہ احتمال موجود ہے، کہ وہ ایک تہائی اور نصف تک پہنچ جاتے تھے کیونکہ اتنی مقدار کا قیام ان کے لیے خفیف تھا وہ اس میں زیادتی کرتے تھے اور زیادتی میں مقصود کو پالیتے جہاں تک دوتہائی کا تعلق ہے اس کا قیام ان پر مشکل تھا وہ اسے حاصل نہ کرپاتے اور اس میں کمی کردیتے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ انہیں نصف رات کے قیام کا حکم دیا گیا اور کمی بیشی میں انہیں رخصت دی گئی زیادتی کی صورت میں دوتہائی کو جاپہنچے اور کم کی صورت میں ایک تہائی تک پہنچ جاتے یہ بھی احتمال ہے کہ ان کے لیے نصف ہے اس سے کم یعنی ایک تہائی تک اور زیادتی کی صورت میں دو تہائی مقدر کیا گیا ان میں سے کچھ وہ بھی تھے جو اسے پورا کرتے اور ان میں سے کچھ وہ بھی تھے جو اس کو ترک کردیتے یہاں تک کہ حکم ان سے منسوخ ہوگیا، ایک قوم نے کہا، اللہ تعالیٰ نے ایک چوتھائی کو ان پر لازم کیا اور ایک چوتھائی سے کمی کرتے یہ قول مرضی کا فیصلہ ہے۔ رات کے پہروں کا صحیح حساب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مسئلہ نمبر 2۔ واللہ یقدراللیل والنھار، اللہ تعالیٰ رات اور دن کی مقدار کو حقیقت میں جانتا ہے جب کہ تم تلاش اور اجتہاد سے جانتے ہو جس میں غلطی بھی ہوسکتی ہے علم ان لن تحصوہ تم اس کے حقائق کی معرفت اور اسے بجالانے کی طاقت نہیں رکھتے ایک قول یہ کیا گیا ہے تم رات کے قیام کی طاقت ہرگز نہیں رکھو گے جب کہ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ رات کا قیام کبھی بھی پورا فرض نہیں کیا گیا، مقاتل اور دوسرے علماء نے کہا، جب قم اللیل الاقلیلا۔ نصفہ اونقص منہ قلیلا، اوزد علیہ، نازل ہوئی تو ان پر معاملہ مشکل ہوگیا کوئی آدمی نہیں جانتا تھا کہ رات کا نصف اور ایک تہائی کب ہوتا ہے وہ صبح تک قیام کرتے کہ کہیں خطا نہ ہوجائے تو اس کے پاؤں میں سو جن آجاتی اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا، اور حکم میں تخفیف کردی اللہ تعالیٰ نے فرمایا، علم ان لن تحصوہ، ان مثقلہ سے مخففہ ہے یعنی اسے علم ہے کہ تم اس کا شمار نہ کرسکو گے کیونکہ اگر تم زیادہ قیام کرو گے تو تم پر مشکل ہوجائے گا اور ایسی تکلیف کے تم محتاج ہوگے جو تم پر فرض نہیں اگر تم کمی کرو گے تو تم پر معاملہ شاق گزرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے کس وجہ سے ان کی توبہ قبول کی۔ مسئلہ نمبر 3۔ فتاب علیکم، اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف فرما کر تمہاری طرف رجوع فرمایا، اس میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ ان میں ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے بعض ان امور کو ترک کررکھا تھا جن کا انہیں حکم دیا گیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قیام کی فرضیت میں تخفیف فرمائی کیونکہ تم عاجز آگئے تھے توبہ کا اصل معنی لوٹنا ہے جس طرح پہلے گزرا ہے معنی یہ ہوگا اس لیے تمہارے لیے سختی سے نرمی کی طرف، مشکل سے آسانی کی طرف رجوع کیا، انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ تلاش کی صورت میں اوقات کی حفاظت کریں تو ان سے تلاش کرنے کے حکم میں تخفیف کردی، ایک قول یہ کیا گیا ہے، واللہ یقدراللیل والنھار، کا معنی ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو خاص مقدار میں پیدا فرماتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وخلق کل شئی فقدرہ تقدیرا۔ ابن عربی نے کہا، خلقت کی تقدیر کے ساتھ حکم متعلق نہیں اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اس کے ساتھ مکلف بنائے جانے کے فرائض وابستہ کردیتا ہے۔ کتنی تلاوت کرنا مقصود ہے اور کیا اس کا مقصد تلاوت قرآن سے یا نماز ؟ مسئلہ نمبر 4۔ فاقروا ماتیسر من القرآن۔ اس میں دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ اس سے مراد قرات ہے رات کے بارے میں جس امر میں تم پر تخفیف کردی گئی اس میں نماز ادا کرتے وقت قرآن حکیم کی تلاوت کرو سدی نے کہا، یہ سو آیات ہیں حضرت حسن بـصری نے کہا، جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں قرآن حکیم اس کے ساتھ جھگڑا نہیں کرے گا کعب نے کہا، جس نے ایک رات میں سو آیات پڑھیں تو وہ عبادت گزاروں میں لکھ لیاجائے گا سعید نے کہا، پچاس آیات پڑھیں۔ میں کہتا ہوں کعب کا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ رسول اللہ کا ارشاد ہے جو آدمی دس آیات پڑھے تو وہ غافلوں میں سے نہیں لکھا جاتا جس نے سو آیات کے ساتھ قیام کیا وہ قانتین میں لکھ لیا جاتا ہے اور جو ہزار آیات پڑھے تو مقنطرین (جنہیں خزانہ دیاجائے) میں لکھ لیا جاتا ہے۔ اسے ابوداؤد اور طیالسی نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت نقل کی ہے، الحمدللہ، ہم نے اس کا ذکر کتاب کے مقدمہ میں کیا ہے۔ دوسراقول ہے : جتناآسنا ہواتنی نماز پڑھو نماز کو قرآن کا نامدیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، قرآن الفجر (الاسرائ 78) یعنی صبح کی نماز، ابن عربی نے کہا، یہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس نے نماز کے بارے میں ہی خبر دی اور قول نماز کی طرف ہی راجع ہے۔ میں کہتا ہوں : پہلاقول صحیح ہے کلام کا ظاہری معنی یہی ہے اور دوسراقول مجاز ہے کیونکہ اس میں کل کو جز کا نام دیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ نے کون سے حکم کو منسوخ کیا ؟ مسئلہ نمبر 5۔ بعض علماء نے کہا، اللہ تعالیٰ کے فرمان فاقروا ماتیسر منہ۔ نے رات، اس کے نصف، نصف سے کم اور اس سے زیادہ کے قیام کو منسوخ کردیا ہے۔ پھر فاقروا ماتیسر منہ، دو معنی کا احتمال رکھتا ہے، یہ دوسرافرض ہو کیونکہ اس کے ذریعے دوسرافرض زائل کیا گیا ہے، یہ فرض منسوخ ہے جسے دوسرے فرض کے ساتھ منسوخ کیا گیا ہے جس طرح اسکے ساتھ غیر کو زائل کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، ومن اللیل فتھجد بہ نافلتہ للک، عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (الاسرائ) تو اس میں اللہ تعالیٰ کا فرمان، ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک۔ یہ احتمال رکھتا ہے وہ نماز جو آپ پر فرض نہیں کی گئی اور وہ آسانی سے ادا ہوسکتی ہے اسے آپ رات کو اٹھ کر ادا کرتے ہیں امام شافعی نے کہا، ضروری یہ تھا کہ دونوں معنوں میں سے ایک پر سنت سے استدلال کرتے تو ہم نے رسول اللہ کی سنت کو پایا جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف پانچ وقت کی نمازیں ہی فرض ہیں۔ اس آیت سے رات کا قیام امت سے منسوخ ہوا نبی کریم ﷺ سے نہیں۔ مسئلہ نمبر 6۔ قشیری ابونصر نے کہا، مشہور یہ ہے کہ رات کا قیام جو منسوخ ہوا ہے وہ صرف امت کے حق میں ہے اور نبی کریم کے حق میں فرض باقی ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے مخصوص مقدار کا اندازہ منسوخ ہوا اور اصل وجوب باقی رہا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فما استیسر من الھدی (بقرہ 196) تو ہدی ضروری ہے اس طرح رات کی نماز ضروری ہے لیکن اس کی مقدار نمازی کے اختیار کی طرف سپردکردی گئی ہے اس وجہ سے ایک قوم نے کہا، رات کا تھوڑا قیام باقی ہے، یہ حضرت حسن بصری کا نقطہ نظر ہے ایک قوم نے کہا، کلی طور پر منسوخ ہے پھر رات کی نماز بالکل ہی فرض نہیں، یہ امام شافعی کا مذہب ہے شاید نبی کریم کے حق میں جو فرضیت باقی ہے وہ یہی ہے وہ قیام ہے اس کی مقدار اختیار کے سپرد ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ قیام فرض نہیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان، فاقروا ماتیسر منہ کا معنی یہ ہوگا کہ اگر تمہارے لیے آسان ہوتوا سے پڑھو اور اگر چاہو تو نماز پڑھو، ایک قوم اس طرف گئی کہ کلی طور پر نسخ نبی کریم کے حق میں ثابت ہے۔ رات کی نماز آپ پر واجب نہیں تھی اللہ تعالیٰ کا فرمان، نافلۃ للک، نفل کے معنی حقیقی پر محمول ہے، جس نے یہ کہا مقدار منسوخ ہے اور رات کے قیام کے وجوب کا اصل باقی رہا پھر اسے منسوخ کردیا گیا تو یہ نسخ نماز کے اوقات کے بیان کے ساتھ واقع ہوا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اقم الصلوۃ لدلوک الشمس (الاسراء 78) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون۔ الروم) احادیث میں ہے کہ پانچ نمازوں سے زائد نفل ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے نسخ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ثابت ہوا ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ للک۔ یہ خطاب نبی کریم کے لیے ہے جس طرح نماز کی فرضیت آپ کے لیے اور دوسرے لوگوں کے لیے ہے جب کہ خطاب صرف نبی کریم کے لیے ہے ارشاد باری ہے، یا ایھا المزمل، قم اللیل۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا فریضہ ہجرت کے بعد جاری رہا، اور یہ حکم مدینہ طیبہ میں منسوخ ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، علم ان سیکون منکم مرضی، واخرون یضربون فی الارض، یبتغون من فضل اللہ، واخرون یقاتلون فی سبیل اللہ، جہاد تو مدینہ طیبہ میں فرض ہوا اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے اوقات مکہ مکرمہ میں ہی جاری ہوگئے تھے اور رات کا قیام ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ للک۔ کے ساتھ منسوخ ہوا حضرت ابن عباس نے فرمایا، جب رسول اللہ تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ کے فرمان، ان ربک یعلم انک تقوم، نے رات کے وجوب کو منسوخ کردیا۔ رات کا قیام منسوخ کرنے کی علت۔ مسئلہ نمبر 7۔ علم ان سیکون منکم مرضی، اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے رات کے قیام میں تخفیف کی علت کو بیان کیا ہے کیونکہ مخلوقات میں مریض لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر رات کا قیام شاق گزرتا ہے اور ان کے لیے یہ چیز بھی تکلیف دہ ہوتی ہے کہ ان کی نماز فوت ہوجائے اسی طرح تجارت کی غرض سے سفر کرنے والا رات کے قیام کی طاقت نہیں رکھتا، مجاہد بھی اسی طرح ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کی وجہ سے سب سے حکم میں تخفیف کردی ہے ان سیکون میں، ان مثقلہ سے مخففہ ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ تم میں سے مریض ہوں گے۔ رزق حلال کمانا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی قیام کی طرح ہے۔ مسئلہ نمبر 8۔ اس آیت میں مجاہدین اور اپنی ذات، اپنے عیال کے نفقہ اور فضل و احسان کے لیے حلال مال کمانے والوں کے درجہ میں برابری کی ہے تو یہ اس امر دلیل ہوگی کہ مال کمانا جہاد کا درجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے فی سبیل اللہ جہاد کے ساتھ جمع کیا ہے، ابراہیم نے علقمہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فمرایا، جو غلہ لانے والا ایک شہر سے دوسرے شہر میں غلہ لاتا ہے وہ اس غلہ کو اس دن کے بھاؤ کے مطابق بیچ دیتا ہے، اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں شہداء کے مقام جتنا ہے، پھر رسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی، واخرون یضربون فی الارض۔۔۔ تا۔۔۔ سبیل اللہ۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : جو انسان مسلمانوں کے شہروں میں سے ایک شہر کی طرف کوئی چیز صبر کے ساتھ اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے لایا، اسے اس دن کے بھاؤ کے ساتھ بیچ دیا، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مقام شہداء جیسا ہوگا، اور اس آیت کی تلاوت کی واخرون یضربون فی الارض۔ حضرت ابن عمر نے کہا، اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی موت پیدا نہیں کی جو شہادت کی موت کے بعد میرے لیے اس موت سے زیادہ پسندیدہ ہوجوکجاوے کے دواجزاء کے درمیان مجھے آئے جب کہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل چاہتا ہوئے سفر کررہا ہوں۔ طاؤس نے کہا، بیواؤں اور مسکینوں کے لیے تگ دو کرنے والا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی طرح ہے، سلف صالحین میں سے ایک مروی ہے کہ وہ واسط میں تھے انہوں نے بصرہ کے لیے گندم کی ایک کشتی لے جانے کا ارادہ کیا اور اپنے وکیل کو خط لکھا جس روز یہ گندم والی کشتی بصرہ پہنچے اسی روز گندم بیچ دینا اور اگلے روز کے لیے موخر نہ کرنا، اور بھاؤ میں سہولت کو پیش نظر رکھنا، تاجروں نے وکیل سے کہا : اگر توگندم کی فروخت کو جمع تک موخر کرے تو کئی گنا منافع حاصل کرے گا اس نے مال کے مالک کو خط لکھا توگندم کے مالک نے اسے جواب دیا، اے فلاں، ہم اپنے دین کی سلامتی کے ساتھ تھورے نفع پر قناعت کرتے تھے تو نے ہم پر زیادتی کی ہے جب میرا یہ خط پہنچے تو مال لے اور اسے فقراء پر صدقہ کردے کاش میں ذخیرہ اندوزی سے بچ جاتا جب کہ مجھے نہ نقصان ہوتا اور نہ مجھے نفع ہوتا، ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ اہل مکہ کا ایک نوجوان مسجد میں رہتا ایک دفعہ حضرت ابن عمر نے اسے نہ پایاتو آپ اس کے گھر کی طرف گئے اس کی والدہ نے کہا وہ اپنے کھانے پینے کے سامان کو بیچ رہا ہے حضرت ابن عمر اسے ملے اور اسے فرمایا اے بیٹے تجھے اشیاء خوراک کے سامان سے کیا غرض تو نے اونٹوں کے مال میں تجارت کیوں نہ کی تو نے گائیوں میں تجارت کیوں نہ کی تو نے بھیڑ بکریوں کیوں نہ پالیں کیونکہ کھانے کے مال کی تجارت کرنے والا خشک سالی چاہتا ہے اور جانوروں کا مالک بارش چاہتا ہے۔ فرض نماز پڑھنے کی اہمیت اور چھوڑنے پر سخت وعید۔ مسئلہ نمبر 9۔ فاقروا ماتیسر منہ۔ جتنا ممکن ہو نماز پڑھو اللہ تعالیٰ نے رات کی نماز اتنی فرض کی ہے جتنی آسان ہو پھر پانچ نمازوں کے وجوب کے ساتھ اس کو منسوخ کردیا، ابن عربی نے کہا، ایک قوم نے کہا، رات کے قیام کی فرضیت اس آیت میں دو رکعتوں میں مسنون ہوگئی ہے یہ امام بخاری اور دوسرے علماء کی رائے ہے انہوں نے ایک باب باندھا ہے جس میں یہ حدیث ذکر کی ہے، شیطان تم میں سے ایک کے سر کے نصف پر تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر یہ کہتا ہے تجھ پر لمبی رات ہے تو سو جا اگر وہ بیدا رہو اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتای ہے اگر وضو کرے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اگر نماز پڑھے تو اس کی تمام گرہیں کھل جاتی ہیں تو وہ صبح چست و چالاک اور پاکیزہ نفس کے ساتھ کرتا ہے بصورت دیگروہ خبیث نفس اور سست صبح کرتا ہے۔ حضرت سمرہ بن جندب نے نبی کریم ﷺ نے خواب کے بارے میں روایت نقل کی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس کا سر پتھر سے کچلاجائے گا وہ وہ ہے جو قرآن حکیم کو یاد کرتا ہے پھر اسے بھلا دیتا ہے اور فرض نماز پڑھے بغیر سوجاتا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو تمام رات سوتا ہے تو رسول الہ نے ارشاد فرمایا وہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان پیشاب کردیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ ایسی احادیث ہیں جو مطلق صلوۃ کو فرض نماز پر محمول کرنے کا تقاضا کرتی ہیں تو اس احتمال کی وجہ سے مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا اور جس نے اسے راستے کے قیام کے ساتھ معین کیا ہے اس کا دعوی ساقط ہوجاتا ہے، صحیح ہے جب کہ الفاظ بخاری کے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اے عبداللہ فلاں کی مثل نہ ہوجاوہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے رات کا قیام ترک کردیا، اگر یہ فرض ہوتا تو نبی کریم نہ اس پر یہ ثابت کرتے اور نہ اس قسم کی خبردیتے بلکہ اس کی حددرجہ مذمت کرتے، صحیح میں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم کی ظاہری زندگی میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتاتوا سے نبی کریم ﷺ پر بیان کرتا میں ایک مجرد نوجوان تھا میں رسول اللہ کے دور میں مسجد میں سو جایا کرتا تھا میں نے خواب میں دیکھا گویا دو فرشتے ہیں ان دونوں نے مجھے پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے وہ یوں لپیـٹی گئی تھی جس طرح کنویں کو لپیٹا جاتا ہے، اس کے دو سینگ تھے جہنم میں کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں میں پہچانتا تھا میں کہنے لگا، میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہا، ہمیں ایک اور فرشتہ ملا اس نے مجھ سے کہا، تجھ پر کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے میں نے یہ خواب حضرت حفصہ پر بیان کیا انہوں نے رسول اللہ پر بیان کیا تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، عبداللہ کتنا ہی اچھا آدمی ہے کاش وہ رات کی نماز پڑھا کرتا۔ نماز میں کتنی قراءت فرض ہے ؟ مسئلہ نمبر 10۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رات کا قیام فرض نہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان، فاقروا ماتیسر من القرآن اور فاقروا ماتیسر منہ، اپنے ظاہر معنی یعنی نماز میں قرات میں محمول ہے علماء نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ نماز میں کس قدر قرات کرنا لازم ہے امام مالک اور امام شافعی رحمہا اللہ نے فرمایا، سورة فاتحہ سے عدول اور اس کے بعض پر اکتفا جائز نہیں، امام ابوحنیفہ نے ایک آیت کی قرات کو فرض قرار دیا ہے وہ قرآن کے کسی حصہ سے بھی ہو، ان سے یہ قول بھی مروی ہے کہ تین آیات کی تلاوت فرض ہے پہلاقول علامہ ماوردی نے ذکر کیا اور دوسراقول ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ صحیح وہ ہے جو امام مالک اور امام شافعی کا نقطہ نظر ہے جس طرح ہم نے کتاب اللہ کے آغاز میں سورة فاتحہ میں بیان کردیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد نماز کے علاوہ قرآن حکیم کی قرات ہے ماوردی نے کہا، اس وجہ سے مطلق امروجوب پر محمول ہوگا یا وجوب کی بجائے استحباب پر محمول ہوگا یہ اکثر علماء کا قول ہے کیونکہ اگر اس پر قرات واجب ہے تو اس پر اس کا حفظ بھی واجب ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اسے وجوب پر محمول کیا جائے تاکہ اس کی قرات کے ساتھ اس کے اعجاز، اس میں موجود جو دلائل توحید ہیں اور ان پر اور رسل کی بعثت کا جو ذکر ہے اس پر آگاہ ہو۔ جب وہ اسے پڑھے اورس کے اعجاز اور دلائل توحید کو پہچانے تو اس پر یاد کرنا لازم نہیں کیونکہ قرآن حکیم کا حفظ مستحب عبادات میں سے ہے واجب عبادات میں سے نہیں یہ امر قرات کی جتنی مقدار کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے اس کے بارے میں پانچ قول ہیں۔ (1) تمام قرآن حکیم کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اسے آسان کردیا ہے، یہ ضحاک کا نقطہ نظر ہے۔ (2) قرآن کا ایک تہائی، یہ جویر کا نقطہ نظر ہے۔ (3) دوسوآیات، یہ سدی کا قول ہے۔ (4) ایک سو آیات، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے (5) تین آیات جس طرح سب سے چھوٹی سورت ہوتی ہے یہ ابوخالد کنانی نے کہا۔ نماز کے قیام اور اداء زکوۃ کے معانی ومفاہیم۔ مسئلہ نمبر 11۔ واقیموالصلوۃ۔ یعنی فرض نمازیں پڑھو وہ پانچ نمازیں ہیں۔ واتوالزکواۃ۔ یعنی اپنے مال میں سے فرض زکوۃ ادا کرو یہ عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے، حارث عکلی نے کہا، صدقہ فطر ادا کرو کیونکہ اموال میں زکوۃ بعد میں واجب ہوئی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد نفلی صدقہ ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے تمام بھلائی کے کام ہیں حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے لیے اخلاص۔ قرض حسن کا معنی و مراد۔ مسئلہ نمبر 12۔ واقرضو اللہ قرضاحسنا۔ قرض حسن سے مراد وہ چیز ہے جس کو صدقہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد کیا جائے اور پاکیزہ مال سے اسے دیاجائے۔ سورة حدید میں اس کا بیان گزرچکا ہے زیدبن اسلم نے کہا، قرض حسن سے مراد اپنے خاندان پر خرچ کرنا ہے، حضرت عمر بن خطاب نے کہا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر 13۔ وماتقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عنداللہ۔ حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ آپ نے کھجور اور دودھ کو ملا کر حلوہ بنایا ایک مسکین آیا حضرت عمر نے وہ لیا اور مسکین کو دیا، کسی نے عرض کی یہ مسکین کیا جائنے کہ یہ کیا چیز ہے ؟ حضرت عمر نے فرمایا مسکین کا رب جانتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے ؟ گویا انہوں نے اس آیت کا یہ معنی لیا ہے جو تم اپنے فسوں کے لیے آگے بھیجتے ہو تم اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں پاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو تم نے پیچھے چھوڑا ہے اور وہ بخل اور کوتاہی سے بھی بہتر ہے۔ و اعظم اجرا۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا، اس سے مراد جنت ہے یہ بھی احتمال ہوسکتا ہے اعظم اجرا سے مرادیہ ہے کہ وہ نیکی کے بدلے میں دس گنا عطا فرماتا ہے۔ خیرا اور اعظم پر نصب تجدون کے مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے ہے ھوضمیر بصریوں کے نزدیک ضمیر فصل ہے اور کو فیوں کے نزدیک عماد ہے جس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔ اجرایہ تمیز ہے واستغفرواللہ اس سے اپنے گناہوں کو بخشش طلب کرو، ان اللہ غفور توبہ سے پہلے جو گناہ ہوتے ہیں ان کو بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ رحیم اور توبہ کے بعد تم پر رحم فرمانے والا ہے، یہ حضرت سعید بن جبیر کی رائے ہے۔