74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 74:1

یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ Open ayah 74:1 in the Quran reader

اے (محمد ﷺ جو کپڑا لپیٹے پڑے ہو

یا ایھا المدثر۔۔۔ تا۔۔۔۔ فطھر۔ اس میں چھ مسائل ہیں : مدثر کا معنی اور اس سورت کا نزول۔ مسئلہ نمبر 1۔ یا ایھا المدثر۔ اے وہ ذات جس نے اپنے آپ کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا ہے اور نیند کی حالت میں ہے۔ اس کی اصل المتدثر ہے تاء کو دال میں ادغام کردیا کیونکہ وہ باہم نسبت رکھتے ہیں۔ ابی نے اسے اصل پر المتدثر پڑھا ہے۔ مقاتل نے کہا، اس سورت کا اکثر حصہ ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوا۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت مروی ہے یہ رسول اللہ کے صحابی تھے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ فترت وحی کے بارے میں بیان کررہے تھے اسی اثنا میں کہ میں چل رہا تھا تو میں نے آسمان کی جانب سے آواز سنی میں نے اپنا سر اٹھایا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آتا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، میں اس وجہ سے ڈر گیا اور میں لوٹ آیاتو میں نے کہا، مجھے کملی اوڑھا دو ، مجھے کملی اوڑھادو، تو انہوں نے مجھے کملی اوڑھادی، تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، یا ایھالمدثر، قم فانذر، وربک فکبر۔ وثیابک فطھر۔ والرجز فاھجر۔ ایک روایت میں ہے یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے رجز سے مراد بت ہیں کہا، پھر لگاتار وحی آنے لگی امام ترمذی نے بھی اس حدیث کی تخریج کی ہے اور کہا، یہ حدیث حسن صحیح ہے امام مسلم نے کہا، زہیر بن حرب، ولید بن مسلم سے وہ اوزاعی سے وہ یحییٰ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسلمہ سے پوچھا قرآن حکیم کا کون ساحصہ سب سے پہلے نازل ہوا ؟ فرمایا، یا ایھا المدثر، میں نے کہا، اقراء تو انہوں نے کہا میں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے پوچھا قرآن حکیم کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا۔ فرمایا، یا ایھا المدثر۔ میں نے کہا، کیا اقرا تو حضرت جابر نے کہا میں تمہیں وہ بیان کررہا ہوں جو رسول اللہ نے ہمیں بیان فرمایا، فرمایا، میں نے غار حرا میں ایک ماہ اعتکاف کیا جب میں نے اعتکاف کو پورا کیا تو میں وہاں سے نیچے اترا میں وادی کے بطن میں پہنچا تو مجھے آوازدی گئی میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے اپنے دائیں اور اپنے بائیں دیکھاتو میں نے کسی کو نہ دیکھا مجھے پھر ندا کی گئی میں نے دیکھا تو میں کسی کو نہ دیکھ سکا، مجھے پھر ندا کی گئی تو میں نے اپنا سراٹھایا تو وہ ہوا میں عرش پر متمکن تھا یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ۔ مجھے شدید کپکپی نے اپنی گرفت میں لے لیا، میں حضرت خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا، مجھے کمبل اوڑھا دو ، مجھے کمبل اوڑھادو، انہوں نے مجھ پر پانی انڈیلا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا، یا ایھا المدثر۔۔۔ تا۔۔۔ فطھر۔ امام بخاری نے اس روایت کو نقل کیا ہے اس میں کہا، میں حضرت خدیجہ کے پاس آیا میں نے کہا، مجھے کملی اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی بہادو۔ انہوں نے مجھ پر کملی اوڑھادی اور ٹھنڈا پانی مجھ پر انڈیل دیا تو یہ آیات نازل ہوئیں، یا ایھالمدثر۔۔۔ تا۔۔۔ تستکثر۔ علامہ ابن عربی نے کہا : ایک مفسر نے کہا، عقبہ بن ربیعہ کی جانب سے بدسلوکی ہوئی آپ غمگین ہو کر گھرلوٹ آئے آپ مضطرب ہوئے اور لیٹ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی، یہ قول باطل ہے۔ قشیری نے ابونصر نے کہا، ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ کو کفار مکہ کی یہ بات پہنچی کہ تو جادوگر ہے اس وجہ سے آپ کو دکھ ہوا اور بخار ہو تو آپ نے چادر اپنے اوپر لپیٹ لی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، قم فانذر۔ آپ ﷺ ان کی باتوں میں نہ سوچتے رہیں اور انہیں رسالت کا پیغام پہنچائیں، ایک قول یہ کیا گیا ابولہب، ابوسفیان، ولید بن مغیرہ، نضر بن حرث، امیہ بن خلف، عاص بن وائل اور مطعم بنی عدی اکٹھے ہوئے انہوں نے کہا، عرب کے وفود ایام حج میں جمع ہورہے ہیں وہ ایک دوسرے سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں باہم پوچھتے ہیں جب کہ تم ان کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہو کوئی کہتا ہے وہ مجنون ہیں کوئی کہتا ہے وہ کاہن ہیں کوئی کہتا ہے وہ شاعر ہیں سارے عرب جہاں جائیں گے یہ سب ایک آدمی کے بارے میں میں رائے قائم کرنے میں متفق نہیں تم محمد کو ایک نام دو جس پر تم سب متفق ہو اور عرب بھی اسے وہی نام دیں۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا، وہ شاعر ہے ولید نے کہا، میں نے ابن ابرص اور امیہ بن صلت کا کلام سنا ہے، محمد ﷺ کا کلام انمیں سے کسی کے بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا، وہ کاہن ہیں ولید نے کہا، کاہن کبھی سچ بولتا ہے اور کبھی جھوٹ بولتا ہے جب کہ محمد نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ایک اور اٹھا اس نے کہا وہ مجنون ہیں ولید نے کہا، جنون تو لوگوں کے گلے دباتا ہے اور محمد ﷺ کا توگلا نہیں دبایا گیا، ولید اپنے گھر چلا گیا قریش نے کہا، ولید بن مغیرہ بےدین ہوگیا۔ ابوجہل اس کے پاس آیا اور کہا، اے اباعبدشمس، کیا بات ہے یہ قریش تجھے مال دینے کے لیے مال جمع کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے تو محتاج ہوگیا ہے اور بےدین ہوگیا ہے ولیدنے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں لیکن میں نے محمد ﷺ کے بارے میں سوچا میں نے کہا جادوگر کی کیا حقیقت ہوتی ہے ؟ تو کہا گیا وہ باپ بیٹے، بھائی، بھائی، میاں بیوی، جدائی ڈال دیتا ہے تو میں نے کہا، وہ جادوگر ہے یہ بات لوگوں میں عام ہوگئی تو وہ شور مچانے لگے، بیشک محمد ﷺ جادوگر ہیں (نعوذ باللہ) رسول اللہ مغموم گھر آئے اور ایک چادر لپیٹ لی تو یہ آیت نازل ہوئی، یا ایھا المدثر۔ عکرمہ نے کہا، یا ایھا المدثر کا معنی ہے اے نبوت اور اس کی ذمہ داریوں کو اٹھانے والے علامہ ابن عربی نے کہا، یہ مجاز بعید ہے کیونکہ ابھی آپ نے تبلیغ کا سلسلہ شروع نہ کیا تھا جب کہ یہ نزول قرآن کا آغاز تھا رسول اللہ نے اس سورت میں موجود احکام پر شدت سے عمل شروع نہ کیا تھا کیونکہ نازل ہونے والی یہ دوسری سورت تھی۔ صفت کے ساتھ خطاب محبت و شفقت کی دلیل۔ مسئلہ نمبر 2۔ یا ایھا المدثر۔ کریم ذات کی طرف سے اپنے محبوب کے لیے خطاب میں شفقت ونرمی کا اظہار ہوتا ہے جب وہ ذات اسے اس کی حالت سے ندا کرے اور اس کی صف کے ساتھ اسے تعبیر کرے یہ نہیں فرمایا، اے محمد۔ اے فلاں، تاکہ اس کے رب کی جانب سے نرمی اور شفقت کا شعور دلائے جس طرح سورة مزمل میں پہلے گزرچکا ہے اس کی مثل حضرت علی شیر خدا کے لیے سرورکائنات کا ارشاد ہے جب وہ مسجد میں سور رہے تھے، قم اباتراب، اے ابوتراب۔ اٹھو وہ حضرت فاطمہ سے ناراض ہو کر گھر سے نکلے تھے ان کی چادر گرگئی تھی اور ان کے جسم کو مٹی لگ گئی تھی امام مسلم نے اس روایت کو نقل کیا ہے اس کی مثل رسول اللہ نے حضرت حذیفہ کے لیے غزوہ خندق کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا، قم یا نومان اے سونے والے اٹھو۔ یہ پہلے گزرچکی ہے۔
Ayah 74:2

قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ Open ayah 74:2 in the Quran reader

اٹھو اور ہدایت کرو

انذار سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 3۔ قم فانذر۔ اہل مکہ کو ڈرائیے انہیں عذاب سے خبردار کیجئے اگر وہ اسلام نہ لائیں ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں انذار سے مراد اپنی نبوت کا اعلان ہے کیونکہ یہ رسالت کا مقدمہ ہوتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ انہیں توحید کی طرف دعوت دینا ہے کیونکہ نبوت و رسالت سے یہی مقصود ہوتا ہے فراء نے کہا، اٹھیے نماز پڑھیے اور نماز کا حکم دیجئے۔
Ayah 74:3

وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ Open ayah 74:3 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بڑائی کرو

تکبیر کہنے کا حکم اور اس کے اسباب۔ مسئلہ نمبر 4۔ وربک فکبر۔ اپنے سردار، اپنے مالک اور اپنے معاملات کو درست کرنے والے کی عظمت بیان کر اور اس کی یہ صفت بیان کر کہ وہ اسے برتر ہے کہ اس کا کوئی بیٹا یا بیوی ہو، ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ نے پوچھا، نماز کو کیسے شروع کیا جائے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی، وربک فکبر۔ یعنی اس کی اس سے صفت بیان کرو کہ وہ سب سے بڑا ہے۔ علامہ ابن عربی نے کہا، یہ ارشاد اگرچہ اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ نماز کی تکبیر کو بھی شامل ہے تاہم اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنا اور اس کی پاکی بیان کرنا ہے اس کے سواتمام شریکوں اور بتوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا جائے اور اس کے سوا کسی کو اپنا دوست نہ بنا، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کیا کر، اس کی مژیت کے سوا کسی کے لیے فعل کے ثبوت کو نہ دیکھ اور اس کے سوا کسی کی طرف سے نعمت نہ جان۔ روایت بیان کی گئی ہے کہ ابوسفیان نے غزوہ احد کے موقع پر کہا تھا، اعل ھبل تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا، تم کہو، اللہ اعلی واجل (اللہ سب سے بلند اور عظیم ہے) عرف شرع میں یہ لفظ تمام عبادات (نماز، آذان اور ذکر) میں اللہ اکبر کے ساتھ ادا کیا جانے لگا۔ اس پر اسلفظ کو محمول کیا گیا جو نبی کریم کی زبان سے مختلف مواقع پر وارد ہوا جن میں سے ایک یہ ارشاد ہوا، تحریمھا التکبیر وتحلیھا التسلیم۔ نماز کا وہ عمل جو تمام دوسرے امور کو احرام کردیتا ہے وہ تکبیر ہے اور وہ عمل جو دوسرے امور کو حلال کردیتا ہے وہ سلام ہے۔ شرع اس کے عرف کا اس طرح تقاضا کرتی ہے جس طرح اس کی عمومیت کا تقاضا کرتی ہے وہ مواقع جہاں تکبیر کہی جاتی ہے اور ان میں جانور ذبح کرنے کے وقت تکبیر کہنا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ کوئی اس کا شریک نہیں، قربانی میں اس کے نام کا اعلان اور خون بہانے کا جو حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اس امر کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنے کے لیے ہے۔ میں کہتا ہوں : سورة بقرہ کے آغاز میں گزرچکا ہے کہ اللہ اکبر کا لفظ ہی وہ لفظ ہے جس کا نماز میں حکم دیا گیا ہے اور نبی کریم سے منقول ہے تفسیر میں ہے جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا، وربک فکبر۔ رسول اللہ کھڑے ہوئے کہا، اور کہا اللہ اکبر۔ حضرت خدیجہ نے بھی کہا، اللہ اکبر، حضرت خدیجہ کو بھی علم ہوگیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہے۔ کَبّر پر فاء کی لغوی حیثیت۔ مسئلہ نمبر 5۔ وربک فکبر۔ میں فاء جواب جزا کے معنی میں داخل ہوئی ہے جس طرح فانذر میں داخل ہوئی ہے تقدیر کلام یوں ہوگی قم فانذر وقم فکبر ربک۔ یہ زجاج کا نقطہ نظر ہے ابن جنی نے کہا، یہ تیرے قول زیدافاضرب کی طرح ہے یعنی زیدا اضرب۔ یہاں فاء زائدہ ہے۔
Ayah 74:4

وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ Open ayah 74:4 in the Quran reader

اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو

ثیاب کی طہارت سے کیا مراد ہے ؟ مسئلہ نمبر 6۔ وثیابک فطھر۔ اس میں آٹھ قول ہیں۔ ثیاب سے مراد عمل ہے۔ دل۔ نفس۔ جسم۔ اہل، خلق، دین، ظاہری لباس۔ جو پہلے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کی تاویل یہ ہے اپنے عمل کو درست کرو، یہ مجاہد اور ابن زید کا قول ہے، منصور نے ابن رزین سے روایت نقل کی ہے، اپنے عمل کو درست کرو۔ کہا، جب ایک آدمی کا عمل خبیث ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں، ان فلانا خبیث الثیاب۔ جب وہ اچھے عمل والا ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں، ان فلانا طاھر الثیاب، سدی سے اسی طرح مروی ہے، اس معنی میں شاعر کا شعر ہے۔ لاھم ان عامر بن جھم اوذم حجا فی ثیاب دسم۔ اے اللہ تعالیٰ عامر بن جہم نے گناہوں سے لت پت ہوکرحج کیا۔ اس معنی میں وہ روایت بھی ہے جو نبی کریم سے مروی ہے، یحشرالمرء فی ثوبیہ الذین مات علیھما۔ یہاں ثوبیہ سے مراد اس کے اچھے اور برے اعمال ہیں ماوردمی نے یہ ذکر کیا ہے جو دوسرے قول کی طرف مائل ہوئے اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے دل کو پاک کیجئے، یہ حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن جبیر کا نقطہ نظر ہے اس کی دلیل امراء القیس کا شعر ہے : فسلی ثیابی من ثیابک تنسل۔ یعنی قلبی من قلبک، اس میں ثیاب دل کے معنی میں ہے، ماوردی نے کہا، اس آیت کی تعبیر میں اس کے دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے اپنے دل کو گناہ اور نافرمانی سے پاک رکھیں یہ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے، دوسراقول یہ ہے، اپنے دل کو دھوکہ سے پاک کر یعنی دھوکہ نہ کر ورنہ تو گدلے دل والاہوجائے گا، یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے غیلان بن سلمہ ثقفی کے قول سے استدلال کیا گیا ہے۔ فانی بحمداللہ لاثوب فاجر، لبست ولامن غدرۃ اتقنع۔ الحمدللہ میں نے فسق وفجور کالباس نہیں پہنا اور نہ ہی دھوکہ سے پردہ کیا ہے۔ جو تیسرے قول کی طرف گیا اس نے کہا، آیت کا معنی یہ ہے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیجئے۔ عرب نفس کو ثیاب سے تعبیر کرتے ہیں یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، اس معنی میں عشرہ کا قول ہے۔ فشککت باالزمح الطویل ثیابہ، لیس الکریم علی القنا بمحرم۔ میں نے لمبے نیزے سے اسے پھاڑ دیا معزز نیزے پر حرام نہیں۔ امراء القیس نے کہا، فسلی ثیابی من ثیابک تنسل۔ اس مصرعہ میں بھی ثیابک کا لفظ ذات کے معنی میں ہے۔ شاعر نے کہا : ثیاب بنی عوف طھاری نقیہ، واجھھم بیض المسافر غران بنی عوف کے نفس صاف ستھرے ہیں اور ان کے چہرے روشن سفید ہیں۔ یہاں بھی ثیاب سے مراد نفوس ہیں۔ جو چوتھے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے جسم کو پاک رکھو، یعنی ظاہری نافرمانیوں سے پاک رکھو۔ عربوں سے اقول مروی ہے جن سے جس کو ثیاب سے تعبیر کیا ہے ان میں سے ایک لیلی کا قول ہے اس نے اونٹوں کا ذکر کیا۔ رموھا باثیاب خفاف فلاتری، لھا شبھا الا النعام المنفرائ۔ یعنی ان پر وہ سوار ہوئے اور اپنے ہلکے پھلکے جسموں کو ان پر پھینک دیاتوتیز رفتار اونٹوں کے سوا کوئی جسم نہ دیکھے گا۔ جو پانچویں قول کی طرف گئے ہیں اس نے کہا، آیت کا معنی یہ ہے وعظ وادب کے ذریعے اپنے اہل کو گناہوں سے پاک رکھو، عرب گھروالوں کے لیے ثوب (کپڑا) لباس اور ازار (تہبند) کا لفظ استعمال کرتے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ھن لباس لکم وانتم لباس لھن۔ ماوردی نے کہا، ان کے ہاں آیت کی تاویل میں دو صورتیں ہیں، اس کا معنی ہے مومن اور پاک دامن عورتوں کا انتخاب کرکے اپنی بیویوں کو پاک رکھو۔ ان کی دبر سے لطف اندوز نہ ہو ان کی قبل سے لطف اندوز ہوں، ان کے گہر میں ان سے لطف اندوز ہو۔ حیض کے ایام میں ان سے لطف اندوز نہ ہو۔ ابن بحر نے اس کی حکایت بیان کی ہے جو چھٹے قول کی طرف گیا ہے اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے اخلاق کو حسین بناؤ، یہ حضرت حسن بصری اور قرظی کا قول ہے کیونکہ انسان کے اخلاق اس کے احوال کو اس طرح جامع ہوتے ہیں جس طرح کپڑے انسان کو احاطہ کیے ہوتے ہیں شاعر نے کہا : ویحیٰ لایلام بسوء خلق، ویحی طاھر الاثواب حر۔ یحییٰ پر برے اخلاق کی وجہ سے ملامت نہیں کی جاتی اور یحییٰ اچھے اخلاق والاآزاد ہے۔ جوساتویں قول کی طرف گئے ہیں اس نے کہا، آیت کا معنی ہے اپنے دین کو پاک کیجئے۔ صحیحین میں سرور دوعالم ﷺ سے روایت مروی ہے فرمایا، میں نے لوگوں کو دیکھا جب کہ ان پر کپڑے تھے ان میں سے کچھ پستان تک پہنچ رہے تھے اور کچھ اس سے نیچے تک پہنچ رہے تھے میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا جب کہ اس کے جسم پر چادر ہے جسے وہ گھسیٹ رہے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اس کی کیا تاویل کی ؟ فرمایا، دین۔ ابن وہب نے حضرت امام مالک سے روایت نقل کی ہے فرمایا مجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ میں قرآن حکیم کو نماز اور مساجد میں پڑھوں نہ کہ راستہ میں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وثیابک فطھر۔ امام مالک نے فرمایا، یہاں ثیاب سے مراد دین ہے حضرت عبداللہ بن نافع نے ابوبکر بن عبدالعزیزبن عبداللہ بن عمربن خطاب سے وہ حضرت امام مالک بن انس سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، وثیابک فطھر سے مراد ہے کہ دھوکہ نہ اپناؤ، اس معنی میں ابوکبشہ کا قول ہے۔ ثیابک بنی عوف طھاری نقیۃ، اوجھھم بیض المسافر غران۔ یہاں طھارۃ ثیابھم سے مراد ان کی کمینی عادات سے سلامت رہنا ہے اور غرۃ وجوھھم سے مراد محرمات سے ان کی پاکی ہیی یا شکل صورت میں ان کا جمال ہے یا دونون صورتوں میں ان کا جمال ہے یہ علامہ ابن عربی کا قول ہے، حضرت سفیان بن عیینہ نے کہا، تو اپنالباس جھوٹ، ظلم، دھوکہ اور گناہ پر نہ پہن، عکرمہ نے کہا، اس معنی میں شاعر کا قول ہے : او ذم حجا فی ثیاب دسم، یعنی اس نے نافرمانیوں کے ساتھ اسے آلودہ کردیا۔ نابغہ نے کہا : رقاق النعال طیب حجزاتھم، یحبون باالریحان یوم السباسب۔ وہ بادشاہ ہیں پاک دامن ہیں شعانین کے دن انہیں ریحان کے ساتھ سلام کیا جاتا ہے۔ جوآٹھویں قول کی طرف گیا ہے تو اس نے کہا، یہاں ثیاب سے مراد ملبوسات ہیں ان کے نزدیک اس معنی کی چار وجوہ ہیں۔ (1) اس کا معنی ہے اپنے کپڑوں کو پاک رکھو، اسی معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : ثیاب بنی عوف طھاری نقیۃ۔ (2) ۔ اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر رکھ کیونکہ کپڑوں کو سمیٹ کر رکھنا، نجاست سے دوری کا باعث ہوتا ہے۔ جب کپڑے زمین پر گھسیٹیں تو وہ نجاست لگنے سے محفوظ نہیں ہوتے زجاج اور طاؤس نے یہی بات کہی ہے۔ (3) ۔ اپنے کپڑوں کو پانی کے ساتھ پاک کرلو، یہ محمد بن سیرین، ابن زید اور فقہاء کا نقطہ نظر ہے۔ (4) حلال کمائی سے ہی کپڑے پہنوتا کہ وہ حرام سے پاکیزہ ہوں، حضرت ابن عباس سے مروی ہے جو تولباس پہنتا ہے وہ حرام کمائی کا نہ ہو، علامہ ابن عربی نے جو کچھ کہا اور بعض علماء نے جو کچھ کہا جس کا ہم نے ذکر کیا یہ ممتع نہیں کہ آیت کو عموم مراد پر محمول کیا جائے وہ حقیقت ہو یا مجاز ہو۔ جب ہم اسے پاکیزہ، معروف کپڑوں پر محمول کریں گے تو یہ دونوں معنوں کو شامل ہوگا۔ دامنوں کو سمیٹنا کیونکہ جب انہیں ڈھیلا چھوڑاجائے تو وہ آلودہ ہوجاتے ہیں، اس وجہ سے حضرت عمر بن خطاب نے انصار کے ایک نوجوان کو فرمایا جب انہوں نے اس کا دمن ڈھیلا دیکھاتواپنا تہبند اونچا کرلو۔ کیونکہ یہ زیادہ تقوی، زیادہ پاکیزگی اور زیادہ عرصہ باقی رہنے کا باعث ہے۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے اسمیں خوئی حرج نہیں اگر وہ پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان اور جو ٹخنوں سے بھی نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔ نبی کریم تہبند کی انتہا لخنہ معین کی ہے اور جو اس سے بھی نیچے ہو اس پر دھمکی دی ہے ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اپنے دامنوں کو نیچے چھوڑے رکھتے ہیں اپنے کپڑوں کو لمبا کرتے ہیں پھر اپنے ہاتھوں سے انہیں اوپر اٹھاتے ہیں یہ تکبر کی حالت ہے اور عجب (اپنے عمل پر خوشی کا اظہار کرنا) کا طریقہ ہے۔ اس معاملہ میں سب سے شدید معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں کپڑوں کو ناپاک کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے ساتھ جاملاتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے غیر کو نہیں ملایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی کو لاحق کیا ہے۔ نبی کریم کا فرمان ہے : جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو گھسیٹا اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ صحیح کے الفاظ یہ ہیں جس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے تہبند کو گھسیٹا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا، حضرت ابوبکر نے عرض کی یارسول اللہ میرے تہبند کا ایک پہلوڈھیلارہتا ہے مگر اس میں اس صورت میں اگر میں اس کا خیال رکھوں۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، تو ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ رسول اللہ نے نہی کو عام رکھا اور حضرت ابوبکر کو مستثنی قرار دیا توکمینے لوگوں نے اپنے آپ کو بلند مرتبہ لوگوں کے ساتھ ملانے کا قصد کیا یہ ان کے لیے جائز نہیں۔ (2) نجاست لگی ہوتوکپڑوں کو دھونا۔ یہ اس کا ظاہر مفہوم ہے اور صحیح ہے مہدوی نے کہا، بعض علماء نے اس آیت کریمہ سے کپڑے کے پاک ہونے کے وجوب پر استدلال کیا ہے ابن سیرین اور ابن زید نے کہا، تو صرف پاک کپڑے میں نماز پڑھ امام شافعی نے اس آیت کریمہ سے کپڑے کے پاک ہونے کے وجوب پر استدلال کیا ہے امام مالک اور اہل مدینہ کے نزدیک فرض نہیں۔ بدن کی طہارت بھی اسی طرح ہے اس چیز پر یہ اجماع دلالت کرتا ہے جب کوئی آدمی قضائے حجات کرتے تو پتھروں کے ساتھ استنجا کی صورت میں نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ اس نے پانی کے ساتھ استنجا نہ کیا ہو، سورة برات میں یہ بحث مکمل گزرچکی ہے۔
Ayah 74:5

وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ Open ayah 74:5 in the Quran reader

اور ناپاکی سے دور ہو

آیت۔ والرجز فاھجر۔ والرجز فاھجر۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : یہاں رجز سے مراد بت ہیں اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان، فاجتنبوالرجس من الاوثان (الحج 30) حضرت ابن عباس اور ابن زید نے بھی یہی کہا ہے، حضرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے گناہوں کو چھوڑ دیجئے۔ مغیرہ نے ابراہیم نخعی سے اس طرح روایت کیا ہے کہ رجز سے مراد گناہ ہے قتادہ نے کہا، رجز سے مراد اوصاف اور نائلہ دوبت ہیں جو بیت اللہ کے قریب نصب تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد عذاب ہے جب کہ مضاف مقدر ہے معنی ہوگا عذاب کے عمل کو چھوڑ دے یا مراد ہے ایسے عمل کو چھوڑ دے جو عذاب کی طرف لے جانے والا ہے رجز کا اصل معنی عذاب ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لئن کشفت عناالرجز لنومن لک (الاعراف 134) اگر تم ہم سے عذاب کو دور کردے تو ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان، فارسلنا علیھم رجزامن السماء (الاعراف 162) اور ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا۔ بتوں کو رجز کا نام دیا گیا کیونکہ بت عذاب کی طرف لے جاتے ہیں عام قراء رجز کو راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ حسن، عکرمہ، مجاہد، ابن محیصن، اور حفص نے عاصم سے رجز کو راء کے ضمہ کے ساتھ روایت کیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جیسے ذکر اور ذکر ہے، ابوالعالیہ، ربیع اور کسائی نے کہا، رجز کا معنی بت ہے اور رجز کا معنی نجاست اور معصیت ہے کسائی نے بھی کہا، رجز کا معنی بت ہے اور رجز کا معنی عذاب ہے۔ سدی نے کہا : رجز جب راء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی وعید ہے۔
Ayah 74:6

وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ Open ayah 74:6 in the Quran reader

اور (اس نیت سے) احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہو

ولاتمنن تستکثر اس میں تین مسائل ہیں۔ استکثار کے وصف کے ساتھ احسان نہ کرنے کی صورتیں۔ مسئلہ نمبر 1۔ ولاتمنن تستکثر۔ میں گیارہ تاویلیں ہیں۔ (1) جو آپ ﷺ نبوت کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں ان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ پر احسان نہ جتلائیے جس طرح وہ آدمی جو غیر کی وجہ سے کوئی چیز اٹھاتا ہے تو اسے کثیر خیال کرتا ہے۔ (2) غیر کو عطیہ نہ دو کہ اس کے عوض میں زیادہ کے طالب ہو یہ حضرت ابن عباس عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے، ضحاک نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے رسول اللہ پر حرام کیا کیونکہ رسول اللہ کو آداب میں سب سے شرف والے اور اخلاق میں سب سے جلیل کا حکم دیا گیا ہے جب کہ آپ کی امت کے لیے مباح قرار دیا، یہ مجاہد کا نقطہ نظر ہے۔ (3) یہ بھی مجاہد سے مروی ہے زیادہ بھلائی کرنے سے کمزور نہ ہوجائیے جس طرح تیرا قول ہے، حبل منین یہ ترکیب اس وقت بولتے ہیں جب وہ رسی کمزور ہو اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات ہے۔ ولاتمنن تستکثر من الخیر۔ (4) مجاہد اور ربیع سے مروی ہے، اپنے عمل کو اپنی آنکھ میں عظیم نہ جانو کہ تومزیدبھلائی کرے کیونکہ وہ یہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر انعام کیا ہے، ابن کیسان نے کہا، تو اپنے عمل کو زیادہ خیال نہ کر کہ تو اسے اپنی طرف سے دیکھے بیشک تیرا عمل تجھ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اپنی عبادت کی راہ بنادی ہے۔ (5) حضرت حسن بصری نے کہا، اپنے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر احسان نہ کرو کہ تو اسے زیادہ خیال کرے۔ (6) قرظی نے کہا، تو اپنا مال مصانعہ پر نہ دے (7) نبوت اور قرآن کے ساتھ لوگوں پر احسان نہ جتلاؤ کہ تو ان سے اجر لے جس کے ذریعے تو زیادہ کا خواہش مند ہو۔؎ (8) زید بن اسلم نے کہا، جب تو کسی کو عطیہ دے تو وہ اپنے رب کی رضا کے لیے دے۔ (9) تو یہ نہ کہہ، میں نے دعوت دی تو میری دعوت قبول نہ کی گئی۔ (10) ایسانہ ہونا چاہیے کہ تو طاعت کا عمل کرے اور ثواب کا طالب ہو بلکہ صبر کیجئے تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر بدلہ دے۔ (11) تو بھلائی کا کام نہ کر کہ تو اس کے ذریعے لوگوں میں ریاکاری کرے۔ ان مختلف اقوال میں سے صحیح ترین قول اور اس کی وجہ۔ مسئلہ نمبر 2۔ اگر یہ اقوال مراد ہیں تو ان میں سے نمایاں ترین حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ تو مال نہ دے تاکہ اس کے ذریعے لوگوں سے زیادہ مال لے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، مننت فلانا کذا یعنی میں نے اسے عطا کیا، عطیہ کو منہ کہتے ہیں، گویا آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کے عطیات صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونے چاہییں نہ کہ مخلوقات کی طرف سے بدلے کا انتظار ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہ دنیا جمع نہیں کرتے تھے اسی وجہ سے فرمایا، اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطا فرماتا ہے اس میں سے میرے لیے خمس کے سوا کچھ بھی نہیں اور خمس (پانچواں حصہ) بھی تم پرل وٹا دیا جاتا ہے، آپ کے عیال کے نفقہ سے جو مال بچ جاتا ہے اسے مسلمانوں کے مصالح پر صرف کردیا جاتا اسی وجہ سے کوئی آپ کے مال کا وارث نہ ہواکیون کہ آپ اپنے حق میں ذخیرہ اور مال جمع کرنے کا حق نہ رکھتے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیاوی اشیاء کی رغبت سے محفوظ رکھا تھا اسی وجہ سے صدقہ آپ پر حرام تھا اور ہدیہ مباح تھا رسول اللہ ہدیہ کو قبول فرماتے تھے اور اس پر بدلہ عطا فرماتے تھے اگر مجھے پائے کھانے کی دعوت دی گئی تو میں اسے قبول کروں گا اگر مجھے بازو تحفہ کے طور پر دیا گیا تو میں اسے قبول کروں گا۔ علامہ ابن عربی نے کہا : رسول اللہ ہدیہ کو سنت کے طریقہ پر قبول کرتے تھے اور شرعی حکم کے طور پر زیادہ کی خواہش نہیں رکھتے تھے جب وہ زیادہ کی خواہش میں عطیہ نہیں دیتے تھے تو اغنیاء اس سے اجتناب کرنے کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ یہ ذلت ورسوائی کے باب میں سے ہے اس طرح اس آدمی کا قول ہے جو یہ کہتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ آپ عطیہ نہ دیں جس کے ثواب کے آپ منتظر ہوں کیونکہ انتظار طمع کے ساتھ متعلق ہے۔ یہ رسول اللہ کے حق میں ممتنع ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا، ولاتمدن عینک الی۔۔ تا۔۔ خیروابقی۔ (طہ) اور مشتاق نگاہوں سے نہ دیکھیے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے لطف اندوز کیا ہے کافروں کے چندگروہوں کو یہ محض زیب وزینت ہے دنیوی زندگی کی اور انہیں اس لیے دی ہے تاکہ ہم آزمائیں انہیں ان سے اور آپ کے رب کی عطا بہتر اور ہمیشہ رہنے ولی ہے۔ یہ باقی مخلوق کے لیے جائز ہے کیونکہ وہ دنیا کے سامان، روزی کی کمائی اور اس کے ذریعے باہم فخر کرنے میں سے ہے رہا وہ شخص جس نے اس کے عمل کا ارادہ کیا یعنی اپنے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر احسان نہ جتلاؤ کہ آپ زیادہ کی خواہش رکھیں تو وہ صحیح ہے کیونکہ انسان اگر زندگی بھر بغیر کسی کوتاہی کے عمل کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر تھوڑے سے شکر کے درجے میں بھی نہیں پہنچے گا۔ تمنن کی قراءت اور معنی۔ مسئلہ نمبر 3۔ ولاتمنن، عام قرات دونوں نونوں کے اظہار کے ساتھ ہے، ابوسمال عدوی، اشہب عقیلی اور حضرت حسن بصری نے یہ قرات کی، ولاتمنن ان میں ادغام کیا اور اسے مفتوح پڑھا، تستکثر عام قرات تورفع کے ساتھ ہے یہ حال کے معنی میں ہے تو کہتا ہے : جاء زید یرکض یعنی زیددوڑتا ہوا آیا یعنی کسی کو کوئی چیز عطا نہ کیجئے یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ تو اس کے بدلے میں زیادہ چیز لے گا۔ حضرت حسن بصری نے نہی کے جواب میں مجزوم پڑھا ہے، یہ درست نہیں کیونکہ یہ جواب نہیں۔ یہ جائز ہے یہ تمنن سے بدل ہو گویا ارشاد فرمایا، لاتستکثر۔ ابوحاتم نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا کیونکہ احسان کثرت طلب کرنے کے ساتھ نہیں ہوتا کہ اس سے بدل بنایاجائے یہ احتمال موجود ہے کہ اس کو ساکن تخفیف کی وجہ سے پڑھاجائے جس طرح عضد پڑھتے ہیں یا وقف کی حالت میں اعتبار کیا جائے، اعمش اور یحییٰ نے تستکثر نصب کے ساتھ پڑھا ہے ان کے نزدیک لام کی کے معنی میں ہے گویا فرمایا، لاتمنن تستکثر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہاں ان مضمر ہے۔ جیسے الا ایھذا الزاجی احضر الوغی۔ حضرت ابن مسعود کی قرات اس امر کی تائید کرتی ہے ولاتمنن تستکثر۔ کسائی نے کہا، جب ان کو حذف کیا گیا تو فعل مضارع کو رفع دیا گیا معنی ایک ہی ہے کبھی من سے مراد یہ ہوتا ہے جس پر نعمتیں کی گئیں ان پر نعمتوں کا شمار کرنا یہ بھی دوسرے قول کی طرف لوٹتا ہے اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے، لاتبطلواصدقاتکم بالمن والاذی۔ اپنے صدقات احسان جتلانے اور اذیت دینے کے ساتھ باطل نہ کرو۔
Ayah 74:7

وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ Open ayah 74:7 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کیلئے صبر کرو

ولربک فاصبر۔ اپنے آقا اور اپنے مالک کے لیے اس کے فرائض اور اس کی عبادت پر صبر کیجئے، مجاہد نے کہا، آپ کو جو اذیت دی گئی اس پر صبر کیجئے، ابن زید نے کہا، آپ ﷺ پر عظیم امر ڈالا گیا یعنی عربوں اور عجمیوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر صبر کیجئے ایک قول یہ کیا گیا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر قضا پر صبر کیجئے ایک قول یہ کیا گیا آزمائش پر صبر کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور منتخب افراد کا امتحان لیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اپنے اہل اور وطن کے فراق پر صبر کیجئے۔
Ayahs 74:8–10

فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ Open ayah 74:8 in the Quran reader

جب صور پھونکا جائے گا

فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ Open ayah 74:9 in the Quran reader

وہ جو مشکل کا دن ہوگا

عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ Open ayah 74:10 in the Quran reader

یعنی کافروں پر آسان نہ ہوگا۔

فاذا نقر فی الناقور۔۔۔ تا۔۔۔۔ غیریسیر فاذا نقر فی الناقور۔ جب صور پھونکا جائے گا، ناقور، نقر سے فاعول کا وزن ہے گویا یہ ایسی چیز ہے جس کی شان یہ ہے کہ آواز پیدا کرنے کے لیے جسے کھٹکھٹایاجائے بلکہ عرب میں نقر کا معنی آواز ہے، اس معنی میں امراء القیس کا شعر ہے : اخفضہ بالنقر لما علوتہ، ویرفع طرفا غیر خاف غضیض۔ عرب کہتے ہیں : نقر باسم الرجل یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے بلائے جب کہ اپنی دعوت کو اس کے لیے خاص کرے۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا، یہ بگل جیسی کوئی چیز ہے اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے پہلا نفخہ مراد ہے کیونکہ یہ پہلی ہولناک سختی ہوگی اس کے بارے میں مفصل گفتگو سورة النمل، سورة الانعام اور کتاب التذکرہ میں گزرچکی ہے۔ الحمدللہ۔ ابوحبان سے مروی ہے : حضرت زرارہ بن اوفی نے ہمیں امامت کروائی، جب وہ فاذا نقر فی الناقور۔ تک پہنچے توگر پڑے اور فوت ہوگئے۔ فذالک یومئذ یوم عسیر۔ وہ دن بڑا سخت ہے۔ علی الکافرین، یہاں الکافرین سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کا انکار کرنے والے ہیں۔ غیریسیر۔ وہ آسان نہیں ہوگا، یعنی ان کی گرہیں نہیں کھلیں گی مگر اگلی گرہ پہلے سے بھی شدید ہوگی، عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے میں گناہ گاروں کا معاملہ مختلف ہوگا کیونکہ ان کی شدت کی گرہ کھلے گی تواگلامرحلہ آسان ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجائیں گے یومئذ اس تقدیر کلام میں فذالک یوم عسیر یومئذ کی صورت میں منصوب ہے یعنی عسیر نے اسے نصب دی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، حرف جر کے مقدر ماننے کے ساتھ اسے جر دی گئی ہے اس کی تقدیر یہ ہوگی، فذالک فی یومئذ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ مرفوع ہو مگر کیونکہ غیر منصرف کی طرف مضاف ہے اس لیے مبنی بر فتحہ ہے۔
Ayah 74:11

ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ Open ayah 74:11 in the Quran reader

ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیا

ذرنی ومن خلقت۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ صعودا۔ ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ ذرنی یعنی مجھے چھوڑ دو یہ وعید اور دھمکی کا کلمہ ہے یعنی مجھے اور جسے میں نے تنہا پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دے۔ وحیدا اس صورت میں ضمیر محذوف سے حال ہے، جو ضمیر مفعول بہ ہے یعنی میں نے اسے پیدا کیا تو وہ تنہا تھا اس کے پا کوئی مال نہ تھا اور نہ اس کی اولاد تھی اس کے بعد میں نے اسے عطا کیا جو عطا کیا مفسرین کا خیال ہے اس کا مصداق ولیدبن مغیرہ ہے اگرچہ تمام لوگ اس کی مثل پیدا کیے گئے اس کا خصوصی طور پر اس لیے ذکر کیا گیا کیونکہ وہ نعمت کی ناشکری اور سول اللہ کو اذیت دینے میں خصوصیت رکھتا تھا اور وہ اپنی قوم میں وحید کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ولید کہا کرتا تھا میں وحید بن وحید ہوں عربوں میں میری مثل نہیں نہ ہی میرے باپ مغیرہ کی کوئی مثل ہے اسے وحید کا نام دیا جاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ اسے وحید اس کے گمان کے اعتبار سے کہا گیا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق کی کہ وہ وحید ہے۔ ایک قوم کی یہ رائے ہے : وحیدا کا لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہے اس کے پھر دو معنی ہوسکتے ہیں، اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دیجئے میں اس سے انتقام لینے میں کسی بھی منتقم کی جانب سے تجھے بہتر بدلہ دوں گا۔ دوسرا میں نے اسے تنہاپیدا کیا ہے اس کی تخلیق میں میرے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوا میں اسے ہلاک کروں گا اور اس کے ہلاک کرنے میں کسی مددگار کا محتاج نہیں اس صورت میں وحید اضمیر فاعل سے حال ہوگا، وہ خلقت میں تاء ہے، پہلاقول مجاہد کا ہے، میں نے اسے اس کی مان کے پیٹ میں تنہاپیدا کیا اس کے پاس کوئی مال اور اولاد نہ تھی میں نے اس پر انعام کیا تو اس نے کفر کیا اس صورت میں وحید ولید کی طرف لوٹے گا یعنی اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا میں نے اسے ہر چیز کا مالک بنایا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے یہ ارادہ کیا ہے کہ اس امر پر دلالت کرے وہ اسے تنہا اٹھائے گا جس طرح اسے تنہاپیدا کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وحید سے مراد وہ شخص ہے جس کا باپ معلوم نہ ہو۔ ولید کے بارے میں معروف یہ تھا کہ وہ بداصل تھا جس طرح ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان، عتل بعد ذالک زنیم (القلم) وہ ترش رو ہے اس سے بڑھ کر وہ بداصل ہے یہ بھی ولید کی صفت میں ہے۔
Ayah 74:12

وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ Open ayah 74:12 in the Quran reader

اور مال کثیر دیا۔

وجعلت لہ مالاممدودا۔ میں نے اسے لمباچوڑا مال عطا کیا یہ ولید کا مکہ مکرمہ اور طائف میں مال تھا جس میں اونٹ، گھوڑیاں، جانور، باغات، غلام اور لونڈیاں تھیں، حضرت ابن عباس یہی کہا کرتے تھے مجاہد نے کہا، اس کا نفع ایک ہزار دینار تھا، یہ سعیدبن جبیر اور حضرت ابن عباس کا قول ہے، قتادہ نے کہا، چھ ہزار دینار، سفیان ثوری اور قتادہ نے کہا، چار ہزار دینا، ثوری نے کہا، دس لاکھ دینار، مقاتل نے کہا، اس کا ایک باغ تھا جس کا پھل موسم سرما اور موسم گرما میں ختم نہیں ہوتا تھا، حضرت عمر نے فرمایا، اس سے مراد مہینہ بمہینہ نفع، نعمان بن سالم نے کہا، اس سے مراد ہے ایسی زمین جس میں فصل کاشت کی جاتی، قشیری نے کہا، زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا رزق ختم نہ ہوگا بلکہ پے درپے جاری رہے گا جس طرح کھیتی جانور، اور تجارت۔
Ayah 74:13

وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ Open ayah 74:13 in the Quran reader

اور (ہر وقت اس کے پاس) حاضر رہنے والے (بیٹے) دیئے

وبنین شھودا۔ یعنی ایسے بیٹے جو اسکے پاس حاضر رہتے کسی کام کی وجہ سے غائب نہ ہوتے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا، وہ دس تھے ایک قول یہ کیا گیا وہ بارہ تھے یہ سدی اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے ضحاک نے کہا، سات مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور پانچ طائف میں پیدا ہوئے۔ سعید بن جبیر نے کہا وہ تیرہ تھے، مقاتل نے کہا وہ سات تھے سب کے سب بہادر تھے ان میں سے تین مسلمان ہوئے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید۔ کہا ولید اس آیت کے نازل ہونے کے بعد لگاتار مال اور اولاد کے بارے میں نقصان میں رہا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا یہاں شھودا سے مراد ہے جب اس کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کا بھی ساتھ ہی ذکر کیا جاتا۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں شھودا سے مراد یہ ہے جن مجالس میں وہ حاضر ہوتا یہ بھی اس کی طرح حاضر ہوتے اور جو کام وہ کرتے یہ بھی وہ کرتے، پہلاقول سدی کا ہے وہ مکہ مکرمہ میں رہتے تھے تجارت کے لیے وہ اس کے پاس سے دور نہ جاتے اور نہ ہی غائب ہوتے۔
Ayah 74:14

وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ Open ayah 74:14 in the Quran reader

اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی

ومھدت لہ تمھیدا۔ میں نے اسے زندگی میں فراخی عطا کی یہاں تک کہ وہ اپنے شہر میں ہی مطمئن، خوشحال قیام کرتا تھا، اس کی رائے سے فائدہ اٹھایا جاتا، عربوں کے ہاں تمہید کا معنی ہے تیار کرنا، بچھانا، اسی سے بچے کا پنگھوڑہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی ہے میں نے اسے یمن اور شام میں وسعت عطاکی ہے، یہی مجاہد کا قول بھی ہے۔ مجاہد سے یہ بھی قول مروی ہے کہ اس کا مال اوپر نیچے پڑا ہے جس طرح بستر کو نیچے بچھایا جاتا ہے۔
Ayah 74:15

ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ Open ayah 74:15 in the Quran reader

ابھی خواہش رکھتا ہم کہ اور زیادہ دے

ثم یطمع ان ازید۔ یعنی ولید اس کے بعد بھی طمع کرتا ہے کہ میں اس سے زیادہ اسے مال اور اولاد عطا کروں۔ کلا وہ نعمتوں کا جو انکار کرتا رہا اس کے ساتھ یہ نہیں ہوسکتا۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا، پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں ولید کہا کرتا تھا، اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو جنت تو پھر صرف میرے لیے پیدا کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرنے اور اس کو جھٹلانے کے لیے کلا کا ذکر کیا یعنی میں اس کے مال میں اضافہ نہیں کروں گا وہ لگاتار مال اور اولاد میں نقصان دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ ثم یطمع میں ثم عاطفہ نہیں بلکہ تعجب کا اظہار کرنے کے لیے ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وجعل الظلمت والنور، ثم الذین کفروا بربھم یعدلون۔ الانعام) اس نے تاریکیاں اور نور بنایا پھر بھی کافر اس کا شریک ٹھہراتے ہیں یہ اس طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے میں نے تجھے عطا کیا پھر بھی تو مجھ پر ظلم کرتا ہے۔ یہ بات وہ کرتا ہے جو تعجب کا اظہار کرتا ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ طمع کرتا تھا کہ میں اس کے وارثوں میں بھی یہ مال اسی طرح چھوڑے رکھوں۔ کیونکہ وہ کہا کرتا تھا : بیشک محمد ﷺ کی نسل نہیں۔ ان کی موت کے ساتھ ہی ان کا ذکر ختم ہوجائے گا، وہ گمان رکھتا تھا کہ اسے جو رزق دیا گیا ہے وہ اس کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوگا، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اس کے کفر پر اس کی مدد کروں گا، کلا، ہر اس کی امید کو ختم کرنے کے لیے ہے جو وہ زیادہ مال کی طمع کرتا تھا، یہ پہلی کلام کے ساتھ متصل ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کلایہ حق کے معنی میں ہے یہاں سے کلام کی ابتداء ہوگی۔
Ayah 74:16

كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ Open ayah 74:16 in the Quran reader

ایسا ہرگز نہیں ہوگا یہ ہماری آیتوں کا دشمن کا رہا ہے۔

انہ کان لایتینا عنیدا۔ یعنی ولید نبی کریم اور جو وہ پیغام حق لائے ہیں اس سے عناد رکھتا تھا جس طرح یہ کہا جاتا تھا، عائد، عنید جیسے جالس، جلیس، یہ مجاہد کا قول ہے، عند یعند کسرہ کے ساتھ ہو اس کا معنی حق کی مخالفت کرنا ہے اورس کا رد کرنا ہے جب کہ وہ حق کو پہچانتا ہو اس سے اسم فاعل عنید اور عائدا استعمال ہوتا ہے عائد اس اونٹ کو بھی کہتے ہیں جو راستہ سے بھٹک جائے اس کی جمع عند آتی ہے جس طرح راکع کی جمع رکع آتی ہے، ابوعبیدہ نے حارثی کا شعرذکر کیا ہے۔ اذا رکبت فاجعلانی وسطا، انی کبیر لا اطیق العند۔ جب میں کوچ کرتا ہوں تو وہ دونوں مجھے درمیان میں رکھ لیتے ہیں میں بوڑھا ہوچکا ہوں میں راستہ نہیں بھٹکتا۔ ابوصالح نے کہا، عنید کا معنی مباعد ہے شاعر نے کہا، ارانا علی حال تفرق بیننا نوی غربۃ ان الفراق عنود۔ اس نے ہمیں ایسی حالت میں دکھایا جب کہ دوری ہمارے درمیان جدائی ڈال رہی تھی بیشک فراق بہت دوری کا ہے، قتادہ نے کہا، اس کا معنی انکار کرنے والا ہے، مقاتل نے کہا، اس کا معنی ہے اعراض کرنے والا، حضرت ابن عباس نے کہا، بہت زیادہ انکار کرنے والا، ایک قول یہ کیا گیا وہ اپنی دشمنی کو ظاہر کرنے والا ہے، مجاہد نے بھی یہی کہا ہے اس کا معنی ہے حق سے پہلوتہی کرنے والا، اس سے دشمنی رکھنے والا اور اس سے اعراض کرنیوالا، سب کا معنی قریب قریب ہے۔ عرب کہتے ہیں، عندالرجل۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ حد سے تجاوز کرجائے۔ اونٹوں میں سے عنودا سے کہتے ہیں جو اونٹوں کے ساتھ ملتاجلتانہ ہو بلکہ وہ ایک میں رہتا ہو، رجل عندوا سے کہتے ہیں جب وہ تنہا پڑاؤ ڈالتا ہو اور لوگوں کے ساتھ میل جول نہ رکھتاہ و، عنید یہ تجبر (اپنے آپ کو سرکش سمجھنا) کا پیکر ہے، عرق عائد اس رگ کو کہتے ہیں جس کا خون نہ رکے۔ یہ سب ایک ہی قیاس ہے، سورة ابراہیم میں اس کی بحث گزرچکی ہے۔ عنید کی جمع عند ہے جس طرح رغیف کی جمع رغف آتی ہے۔
Ayah 74:17

سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ Open ayah 74:17 in the Quran reader

ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے

سارھقہ صعودا۔ میں اسے صعودا پر چڑھنے کا مکلف بناؤں گا حضرت ابن مسعود کہا کرتے تھے میں اسے مجبور کروں گا کلام عرب میں ارقا سے مراد یہ ہے کہ انسان کو کسی شی پر مجبور کیا جائے، صعودا جہنم میں ایک پہاڑ ہے جہنمی ستر سال تک اس پر چڑھتا رہے گا پھر اتنا عرصہ نیچے گرتا رہے گا یہ ہمیشہ اسی طرح ہوگا۔ حضرت ابوسعید نبی کریم سے روایت نقل کرتے ہیں امام ترمذی نے اسے نقل کیا ہے اس بارے میں انہوں نے کہا، یہ حدیث غریب ہے۔ عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ صعود جہنم میں ایک چٹان ہے جب جہنمی اس پر اپنا ہاتھ رکھیں گے تو ان کے ہاتھ پگھل جائیں گے اور جب اسے اٹھائیں گے تو وہ ہاتھ ٹھیک ہوجائیں گے، کہا جہنمی اس کی بلندی تک چالیس سال تک پہنچے گا اسے سامنے سے زنجیروں سے کھینچا جارہا ہوگا اور پیچھے سے انہیں گرز مارے جارے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جب وہ اس کی بلندی تک پہنچے گا تو اسے اس کی پستی کی طرف پھینک دیا جائے گا، ہمیشہ اس کے ساتھ یہی سلوک جاری رہے گی، یہی بحث سورة قل اوحی میں گزرچکی ہے تفسیر میں ہے یہ ایک ملائم چٹان ہے جس پر چڑھنے کا اسے احکم دیا جائے گا جب وہ اس کی بلندی پر پہنچیگا تو اسے جہنم میں گرا دیا جائے گا تو جہنم کی گہرائی تک پہنچنے تک ہزار سال تک گرتا ہی رہے گا ہر ستر دنوں میں اسے ایک بار جلایاجائے گا پھر اسے نئے سرے سے پیدا کردیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کا معنی ہے میں اسے عذاب کی مشقت میں ڈالوں گا جس میں اس کے لیے کوئی راحت نہ ہوگی، اس کی مثل حضرت حسن بصری اور قتادہ سیمروی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی روح نکلنے کے لیے بلند ہوگی اگرچہ اسے موت واقع نہ ہوگی اسے جسم کے اندر سے اسی طرح عذاب دیا جائے گا جس طرح اسے خارج سے عذاب دیا جائے گا۔
Ayahs 74:18–24

اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:18 in the Quran reader

اس نے فکر کیا اور تجویز کی

فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:19 in the Quran reader

یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ Open ayah 74:20 in the Quran reader

پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی

ثُمَّ نَظَرَۙ Open ayah 74:21 in the Quran reader

پھر تامل کیا

ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ Open ayah 74:22 in the Quran reader

پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑ لیا

ثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ Open ayah 74:23 in the Quran reader

پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا

فَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ Open ayah 74:24 in the Quran reader

پھر کہنے لگا یہ تو جادو ہے جو (اگلوں سے) متصل ہوتا آیا ہے

انہ فکر وقدر۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ قول البشر۔ انہ فکر وقدر۔ ولید نے نبی کریم اور قرآن کے متعلق غوروفکر کیا اور اپنے دل میں کلام کو سوچا۔ عرب کہتے ہیں، قدرت الشئی۔ جب تو اسیتیار کرے یہ اس وجہ سے ہوا، جب، حم، تنزیل الکتاب من اللہ العزیز۔۔۔ تا۔۔۔۔ الیہ المصیر۔ (المومن) تک نازل ہوئی۔ ولید نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا اس نے کہا، اللہ کی قسم، میں نے ان سے ایسی کلام سنی ہے جو نہ انسانوں کی کلام ہے اور نہ ہی جنوں کی کلام ہے۔ اس میں مٹھاس ہے، اس کا ظاہر حسین ہے اس کا اوپر والاحصہ پھل دار ہے اس کا نیچے والا حصہ گہرا ہے اور وہ خود بلند ہے اس پر غلبہ نہیں پایاجاسکتا کوئی انسان ایسی کلام نہیں کرسکتا۔ قریش نے کہا، ولید بےدین ہوگیا، تمام قریش اپنا دین چھوڑ جائیں گے، ولید کو ریحانہ قریش کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، ابوجہل نے کہا، میں تمہاری جانب سے اسے کافی ہوں وہ اس کے پاس غمگین بن کرگیا ولید نے اسے کہا کیا وجہ ہے میں تجھے غمگین دیکھتا ہوں ؟ ابوجہل نے ولید سے کہا، میں کیوں نہ غمگین نہ ہوں، یہ قریشی تیرے لیے روزانہ جمع کررہے ہیں وہ تیرے بڑھاپے میں تیری مدد کرنا چاہتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں تو نے محمد کے کلام کو زینت والا قرار دیا ہے اور تو ابن ابی کبشہ اور ابن ابی قحافہ کے پاس جاتا ہے۔ تاکہ تو ان کے بچے ہوئے کھانے کو کھائے، ولید غضب ناک ہوگیا اور تکبر کا اظہار کیا، اور کہا میں محمد ﷺ اور اس کے ساتھی کے ٹکروں کا محتاج ہوں جب کہ تم تو میرے مال کی قدرومنزلت کو جانتے ہو، لات وعزی کی قسم مجھے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں، تم گمان کرتے ہو کہ محمد مجنون کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ ان کا گلابند ہو ؟ لوگوں نے کہا، نہیں اللہ کی قسم اس نے کہا تم گمان کرتے ہو کہ وہ شاعر ہے ؟ کیا تم نے کبھی اسے دیکھا ہو کہ اس نے شعر کہا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس نے کہا تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ جھوٹا ہے کیا تم نے اسے کبھی جھوٹ بولتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس نے کہا، تم گمان کرتے ہو کہ وہ کاہن ہے کیا تم نے اسے کہانت کرتے ہوئے دیکھا ہے ہم نے کاہنوں کو سجع والی گفتگو کرتے ہوئے اور باتوں کو خلط ملط کرتے ہوئے دیکھا ہے کیا تم نے انہیں بھی کبھی ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم۔ نبی کریم کو صادق امین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے قریش نے ولید سے کہا، بتاؤ پھر وہ کیا ہے ؟ اس نے دل میں سوچا پھر غوروفکر کیا پھر چیں بجبیں ہو اور کہا صرف جادوگر ہے (نعوذ باللہ) کیا تم نے اسے نہیں دیکھا کہ وہ میاں بیوی، اس کے بچوں اور اس کے غلاموں میں جدائی ڈال دیتا ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان کا بھی یہی معنی ہے اس نے حضرت محمد ﷺ اور قرآن کے بارے میں سوچا، اس نے دل میں اندازہ لگایا جو وہ زیادہ سے زیادہ ان دونوں کے متعلق کہہ سکتا تھا، فقتل اس پر لعنت ہو، بعض علماء اس کی تاویل میں کہتے ہیں اس کا معنی وہ مقہور مغلوب ہو کیونکہ ہر وہ شخص جسے مغلوب ومسخر کرلیاجائے وہ قتل کیا گیا ہی ہوتا ہے، شاعر نے کہا : وماذرفت عیناک الالتقدحی، بسھمیک فی اعشار قلب مقتل۔ تیری آنکھیں نہیں بہیں مگر اس لیے کہ تو اپنے دوتیروں سے مغلوب کے دل میں زخم لگا دے۔ زہری نے اس کا معنی کیا ہے اسے عذاب دیا جائے گا تو یہ بددعا ہوگی۔ کیف قدر۔ لوگوں نے کہا : کیف تعجب کے اظہار کے لیے ہے جس طرح ایسے آدمی کو کہا جاتا ہے جس کے عمل پر تعجب کا اظہار کیا جائے : کیف فعلت ھذا تو نے یہ کام کیسے کرلیا، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ بھی ہے، انظر کیف ضربوالک الامثال (فرقان 9) دیکھ تو اس نے تیرے بارے میں کیسی مثالیں ذکر کی ہیں، ثم قتل اس پر لعنت کے بعد لعنت ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ ایک سزا سے قتل ہو پھر دوسرے عذاب سے قتل ہو، کیف قدر اس نے کس حال پر اندازہ لگایا، ثم نظر۔ کس شے کے ساتھ وہ حق کو لوٹاتا ہے۔ ثم عبس اس نے مومنوں کے سامنے اپنی آنکھوں کے درمیان بل ڈالا اس کی وجہ یہ بنی جب ولید نے حضرت محمد کے بارے میں قریش کو جس قسم کی گفتگو پر ابھارا کہ وہ جادوگر ہے تو ولید مسلمانوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزر انہوں نے ولید کو اسلام کی طرف دعوت دی توچیں بجیں ہوا ایک قول یہ کیا گیا ہے جب نبی کریم ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس پر ناراض ہوا اور چہرے پر درشتگی کے آثار لایا، عبس کو جب تخفیف کے ساتھ پڑھاجائے تو یہ عبس، یغبس، عبسا، عبوسا کا مصدر ہوگا یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ ماتھے پر بل لائے، عبس اس پیشاب اور گوبر کو کہتے ہیں جو اونٹ کی دم کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔ ابوالنجم نے کہا : کان فی اذنابھن الشئول، من عمس الصیف قرون الابل۔ گویا ان کی اٹھی ہوئی گردنوں میں موسم گرما کی سختی میں بارہ سنگا کے سینگ ہیں۔ وبسر۔ اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا اور اس کا رنگ بدل گیا، یہ قتادہ اور سدی کا قول ہے اس معنی میں بشر بن ابی حازم کا قول ہے : صبحنا تمیما غداۃ الجفار بشھباء ملمومۃ باسرہ۔ ہم نے جفار کی صبح بنوتمیم پر حملہ کیا مسلح جماعتوں والے ترش رو لشکروں کے ساتھ۔ ایک اور شاعر نے کہا : وقد رابنی منھا صدود رایتہ، واعراضھا عن حاجتی وبسورھا۔ مجھے شک میں ڈال دیا اس کے رکنے نے جو میں نے دیکھا، میری ضرورت کے اعراض نے اور اس کی ترش روئی نے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے چہرہ میں عبوس کا ظہور گفتگو کے بعد ہوتا ہے اور چہرے میں بسور کا ظہور گفتگو سے پہلے ہوتا ہے یعنی عبوس اور بسور چہرے پر درشتگی کے آثار ہیں۔ ایک قوم نے کہا : بسر وہ رک گیا نہ وہ آگے ہوتا ہے اور نہ پیچھے ہوتا ہے، انہوں نے کہا، اس طرح اہل یمن کہتے ہیں قد بسر المرکب۔ سواری رک گئی نہ آتی ہے نہ جاتی ہے، ابسر کا معنی بھی رکنا ہے، قد ابسرنا ہم رک گئے عرب کہتے ہیں : وجہ باسربین البسور۔ جب وہ متغیر ہوا اور سیاہ ہوجائے۔ ثم ادبر وہ مڑا اور اپنے گھر جانے کے لیے منہ پھیرلیا۔ واستکبر۔ ایمان لانے سے اس نے اپنے آپ کو بڑا جان، ایک قول یہ کیا گیا ہے ایمان سے اس نے رخ پھیرلیا اور جب اسے ایمان کی طرف دعوت دی گئی تو اس نے تکبر کیا، فقال ان ھذا الاسحر یوثر۔ یعنی جو محمد ﷺ یہ نہیں ہے مگر ایسا جادو جو کسی دوسرے سے بیان کرتے ہیں، سحر کا معنی دھوکہ ہے اس کا بیان سورة بقرہ میں گزرچکا ہے ایک قوم نے کہا، سحر کا مطلب ہے حق کی صورت میں باطل کو ظاہر کرنا، اثرہ یہ تیرے اس قول کا مصدر ہے، اثرت الحدیث اثرہ۔ جب تو اس بات کو غیر سے بیان کرے، اس معنی میں حدیث ماثور ہے یعنی جسے بعد میں آنے والا پہلے آنے والوں سے بیان کرتا ہے، امراء القیس نے کہا، لقلت من القول مالایزال یوثر عنی ید المسند۔ میں نے ایسی بات کہی جو مجھ سے ہمیشہ بیان کی جاتی رہے گی، اعشی نے کہا : ان الذی فیہ تماریتما بین للسماع والاثر۔ وہ چیز جس میں تم شک کا اظہار کررہے ہو وہ سامع اور بعد میں آنے والوں کے لیے واضح ہے۔
Ayah 74:25

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ Open ayah 74:25 in the Quran reader

(پھر بولا) یہ (خدا کا کلام نہیں بلکہ) بشر کا کلام ہے

ان ھذا الاقول البشر۔ یہ نہیں ہے مگر مخلوق کا کلام۔ دل اس سے دھوکہ کھاجاتے ہیں جس طرح جادو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں سدی نے کہا، وہ یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ سیار کا کلام ہے، جو بنی حضری کا غلام تھا وہ نبی کریم کی مجلس میں بیٹھا لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ رسول اللہ نے اس غلام سے سیکھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے انہوں نے اہل بابل سے اسے سیکھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مسیلمہ سے اسے سیکھا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے عدی حضر کاہن سے اسے سیکھا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ اس سے سیکھا ہے جس نے ان سے پہلے نبوت کا دعوی کیا تو کلام انہیں کے انداز میں کی گئی۔ ابوسعید ضریر نے کہا، یہ نہیں ہے مگر ایسا عمل جو نسل درنسل چلاآرہا ہے۔
Ayah 74:26

سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ Open ayah 74:26 in the Quran reader

ہم عنقریب اس کو سقر میں داخل کرینگے

ساصلیہ سقر۔۔۔ تا۔۔۔ للبشر ساصلیہ سقر۔ میں اسے سقر میں داخل کروں گا تاکہ اس کی گرمی تاپے۔ اس کا نام سقر رکھا، یہ سقرۃ الشمس سے مشتقل ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب سورج اسے پگھلا دے، اس کو سیاہ کردے اور اس کے چہرے کی جلد کو جلا دے، یہ غیر منصرف ہے کیونکہ علمیت اور عجمہ کا سبب موجو ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، یہ جہنم کا چھٹا طبقہ ہے، حضرت ابوہریرہ نے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے سوال کیا اے میرے رب تیرے بندوں میں سے کون سب سے زیادہ محتاج ہے، فرمایا سقر کا مستحق، یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 74:27–28

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ Open ayah 74:27 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ سقر کیا ہے ؟

لَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ Open ayah 74:28 in the Quran reader

(وہ آگ ہے کہ) نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی

وما ادراک ماسقر۔ یہ اس کے وصف میں مبالغہ کے لیے ہے تجھے کس چیز نے بتایا کہ وہ کیا چیز ہے ؟ یہ کلمہ تعظیم ہے پھر اس کی تفسیر بیان کی، ارشاد فرمایا، لاتبقی ولاتذر، وہ انکی ہڈی، گوشت اور خون نہیں چھوڑے گا، وہ سب کچھ جلادے گی تاکید کے طور پر اسے مکرر ذکر کیا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی، پھر انہیں تازہ جسموں کے ساتھ لایاجائے گا وہ انہیں چھوڑے گی یعنی دوبارہ اسی طرح جلادے گی، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا مجاہد نے کہا، ان میں سے جو زندہ ہوگا انہیں باقی نہ رکھے گی اور نہ اسے مردہ چھوڑے گی جب بھی انہیں نئے جسم عطا کیے جائیں گے آگ انہیں جلاتی رہے گی، سدی نے کہا، وہ ان کے گوشت کو باقی نہ رکھے گی اور ان کی ہڈی کو نہ چھوڑے گی۔
Ayah 74:29

لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ Open ayah 74:29 in the Quran reader

(اور) بدن کو جھلس کر سیاہ کر دیگی

لواحۃ للبشر۔ چمڑے کو بدل دے گی، یہ لاحہ سے مشتق ہے یہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ اسے تبدیل کرے۔ عام قراء کی قرات لواحۃ رفع کے ساتھ ہے یہ سقر کی صفت ہے جو وما ادراک ماسقر۔ میں ہے عطیہ عونی، نصر بن عاصم اور عیسیٰ بن عمر نے لواحۃ نصب کے ساتھ پڑھا ہے یہ اختصاص کے طریقہ پ منصوب ہے مقصود ہولناکی بیان کرنا ہے۔ ابورزین نے کہا، ان کے چہروں پر ایک لپک پڑے گی جوان کے چہروں کو رات سے بھی زیادہ سیاہ کرکے چھورے گی یہ مجاہد کا قول ہے۔ عرب کہتے ہیں، لاحہ البرد والحر، والسقم والحزن۔ سردی، گرمی، بیماری اور غم نے اسے سیاہ کردیا، اور اس کے چہرے کو بدل دیا، اس معنی میں شاعر کا قول ہے : تقول مالاحک یا مسافر، یابنۃ عمی لاحنی الھواجر۔ وہ کہتی ہے : اے مسافر ! کس چیز نے تیرے چہرے کی رنگ کو بدل دیا ہے اے چچازاد بہن، دوپہر کی لپکوں نے میرے چہرے کو سیاہ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوح کا معنی سخت پیاس ہے کہا جاتا ہے، لاحۃ العش ولوحہ۔ پیاس نے اس کے چہرے کے رنگ کو بدل دیا، معنی یہ ہوگا کہ وہ انسانوں یا جہنمیوں کے لیے پیاس ہوگی، یہ اخفش کا قول ہے، اس نے یہ شعر پڑھا ہے : سقتنی علی لوح من الماء شربۃ، سقاھا بھا اللہ الرھام الغوادیا۔ اس نے مجھے شدیدپیاس میں پانی کا ایک گھونٹ پلایا اللہ تعالیٰ اسے ہلکی بارش سے سیراب کرے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، لواحۃ یعنی وہ انسان کے لیے پانچ سو سال کی مسافت سے ظاہر ہوجائے گی۔ حضرت حسن بصری اور ابن کیسان نے کہا : جہنم ان کے لیے ظاہر ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، وبرزت الجحیم للغوین۔ الشعرائ) جہنم سرکشوں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ بشر کی دو توج ہیں ہیں۔ اس سے مراد جہنمی انسان ہیں، یہ اخفش اور اکثر لوگوں کا خیال ہے۔ یہ بشرہ کی جمع ہے یہ انسان کی ظاہری جلد ہے، یہ مجاہد کا قول ہے، بشر کی جمع ابشار ہے پہلی تفسری کی بنا پر درست ہوسکتا ہے، جہاں تک کہ حضرت ابن عباس کی تفسیر کا تعلق ہے اس میں لوگ ہی درست ہوسکتے ہیں جلدیں درست نہیں ہوسکتے، یہ لاح الشئی یلوح سے مشتق ہے جس کا معنی چمکنا ہے۔