71. Surah Nooh

نوحNoah · 28 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 71:1

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 71:1 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کر طرف بھیجا کہ پیشتر اسکے کہ ان پر درد دینے والا عذاب واقع ہو اپنی قوم کو ہدایت کردو

سورة اعراف میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرد ہیں جنہیں رسول بنا کر مبعوث کیا گیا۔ قتادہ نے اسے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : ” پہلے رسول جنہیں مبعوث کیا گیا وہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں اور انہیں تمام اہل زمین کی طرف مبعوث کیا گیا۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے تمام اہل زمین کو ہلاک کردیا۔ ان کا نسب یہ ہے حضرت نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ یہی حضرت ادریس ہیں بن یردبن مہلایل بن انوش بن قینان بن شیث بن آدم (علیہ السلام) وہب نے کہا، یہ سب مومن تھے۔ انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا جبکہ ان کی عمر پچاسسال تھی۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ان کی عمر چالیس سال تھی (1) عبد اللہ بن شداد نے کہا : انہیں مبعوث کیا گیا جبکہ ان کی عمر ساڑھے تین سو سال تھی۔ سورة عنکبوت میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ الحمد اللہ ان انذرقومک اصل میں بان انذر تھا حرف جار کے حذف کی وجہ سے ان محل نصب میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا محل جر ہے کیونکہ ان کے ساتھ یہ عمل کرنے میں قوی ہے۔ یہ جائز ہے کہ ان مفسرہ ہو۔ اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں ہوگا کیونکہ ارسال میں امر کا معنی پایا جاتا ہے اس لئے باء کو مضمر ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حضرت عبداللہ کی قرأت میں ان کے بغیر انذر قومک ہے۔ اس وقت معنی یہ ہوگا ہم نے اسے کہا، اپنی قوم کو ڈرائیے۔ سورة بقرہ کے آغاز میں انداز کا معنی گزر چکا ہے۔ من قبل ان یاتیھم عذاب الیم۔ حضرت ابن عباس نے کہا : مراد آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ (2) کلبی نے کہا : اس سے مراد ہے جو طوفان کی صورت میں ان پر عذاب آیا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر وہ ایمان نہ لائیں تو انہیں درد ناک عذاب سے ڈرائیے۔ آپ اپنی قوم کو دعوت دیتے اور انہیں خبردار کرتے اور ان میں سے کسی فرد کو بھی دعوت قبول کرنے والا نہ پاتے۔ لوگ آپ کو مارت ییہاں تک کہ ان پر غشی طاری ہوجاتی تو وہ کہتے : رب اغفرلقومی فبانھم الا یعلمون (1) اے میرے رب ! میری قوم کو بخش دے بیشک وہ مجھے نہیں جانتے۔
Ayahs 71:2–3

قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 71:2 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ بھائیوں میں تم کو کھلے طور پر نصحیت کرتا ہوں

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ Open ayah 71:3 in the Quran reader

کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

قال یقوم انی لکم نذیر یعنی میں تمہیں ڈرانے والا ہوں۔ مبین۔ میں تمہارے سامنے تمہاری اس زبان میں اظہار کرنے والا ہوں جسے تم پہچانتے ہو۔ ان اعبدواللہ واتقوہ ان مفسرہ ہے جس طرح ان انذر میں گزر چکا ہے۔ اعبدوا اس کی وحدانیت کا اظہار کرو۔ واتقوہ تم ڈرو۔ واطیعون۔ جس چیز کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں میری اطاعت کرو۔ میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یغفرلکم من ذنوبکم جواب ام رکی وجہ سے یغفر کو جزم دی گئی ہ۔ من زائد ہے۔ کلام کا معنی ہے وہ تمہارے لئے تمہارے گناہ بخش دے، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا زائدہ ہونا صحیح نہیں کیونکہ من کا واجب میں اضافہ نہیں کیا جاتا (2) ۔ یہ یہاں بعضیہ ہے۔ اس سے مراد بعض گناہ ہیں جو مخلوق کے حقوق سے متعلق نہ ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جنس کے بیان کے لئے ہے۔ اس میں بعد ہے کیونکہ اس سے پہلے کوئی جنس نہیں گزری جو اس کے مناسب ہو۔ زید بن اسلم نے کہا : معنی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے گناہوں سے نکالے (3) ۔ ابن شجرہ نے کہا : معنی ہے جن گناہوں پر تم استغفار کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ان گناہوں کو بخش دے (4)
Ayah 71:4

یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 71:4 in the Quran reader

وہ تمہارے گناہ بخش دیگا اور (موت کے) وقت مقرر تک تم کو مہلت عطا کرے گا جب خدا کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو تاخیر نہیں ہوتی کاش تم جانتے ہوتے

ویوخرکم الی اجل مسمی حضرت ابن عباس نے کہا : تمہاری عمروں میں مہلت دے گا۔ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق سے پہلے ہی فیصلہ کردیا تھا کہ اگر وہ ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ ان کی عمروں میں برکت ڈال دے گا۔ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان پر عذاب کو جلدی لے آئے گا۔ مقاتل نے کہا : تمہاری عمر کے آخری حص تک صحت و سلامتی کے ساتھ تمہیں ملہت دے گا اور قحط وغیرہ کے ساتھ سزا نہیں دے گا۔ اس تاویل کی بنا پر معنی یہ بنے گا تمہاری عمروں کے اختتام تک تمہیں عقوبات اور شدائد سے محفوظ رکھے گا۔ زجاج نے کہا : عذاب سے تمہیں مہلت دے گا تم کو ایسی موت نہیں مارے گا جو عذاب کے ساتھ جڑ کو ہی ختم کر دے، اس وجہ سے فرمایا : اجل مسمی یعنی ایسی موت تک جس کو تم پہچانتے ہو۔ وہ تمہیں غرق کر کے جلانے کے ساتھ اور قتل کر کے نہیں مارے گا، فراء نے اس کا ذکر کیا۔ پہلے قول کی بنا وہ مدت اللہ تعالیٰ کے ہاں معروف ہے۔ ان اجل اللہ اذا جآء لایوخر جب موت آجاتی ہے اسے موخر نہیں کیا جاتا وہ موت عذاب کی صورت میں ہو یا عذاب کے بغیر ہو۔ اجل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی کیونکہ اسی ذات نے انہیں ثابت کیا۔ بعض اوقات اس کی نسبت قوم کی طرف کی جاتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاذا جآء اجلھم (الاعراف : 34) کیونکہ یہ اجل ان کے لیء بیان کر دیگئی ہے۔ لو، ان کے معنی میں ہے یعنی اگر تم جانتے ہو۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے اگر تم جانتے ہوتے تو اس کو جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین کردہ وقت جب آ جائیتو اس میں تاخیر نہیں کی جاتی (1)
Ayahs 71:5–6

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ Open ayah 71:5 in the Quran reader

جب لوگوں نے نہ مانا تو نوح نے خدا سے عرض کیا کہ پروردگار میں اپنی قوم کو رات دن بلاتا رہا

فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 71:6 in the Quran reader

لیکن وہ میرے بلانے سے اور زیادہ گریز کرتے رہے

لیلاً و نھاراً ۔ کا معنی ہے مخفی طریقہ سے اور اعلانیہ طریقہ سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں نے پے در پے دعوت دی۔ فلم یزدھم دعآئی الافرار۔ میری دعوت ایمان سے دور کرتی ہے۔ عام قرأت دعائی میں یاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ کوفہ کے قراء، یعقوب اور دوری نے ابو عمر سے اس کے سکون کی روایت نقل کی ہے۔
Ayah 71:7

وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ Open ayah 71:7 in the Quran reader

جب جب میں نے انکو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

میں نے جب انہیں سبب مغفرت یعنی تیری ذات پر ایمان اور تیری طاعت کی طرف بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں تاکہ وہ میری دعوت کو نہ سن سکیں، انہوں نے اپنے چہروں کو اپنے کپڑوں سے ڈھانپ لیا تاکہ وہ مجھے دیکھ ہی نہ سکیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، انہوں نے اپنے کپڑے اپنے سروں پر ڈال لئے تاکہ وہ کلام نہ سن سکیں۔ کپڑوں کے استغشاء کا مطلب ہے کہ کانوں کو بند کرنے میں زیادتی کرنا تاکہ وہ اس آواز کو نہ سنیں یا اپنے آپ کو اجنبی بنانے کے لئے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوجائے یا آپ سے اپنے اعراض کو ظاہر کرنے کے لئے ایسا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عداوت و دشمنی سے کنایہ ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : لبس لی فلان ثیاب العداوۃ اس نے میرے لئے عداوت کا لباس پہن لیا۔ اصروا انہوں نے کفر پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی۔ واستکبروا انہوں نے قبول حق سے اپنی بڑائی کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے کہا : انومن لک واتبع الارذلون۔ (الشعرائ) کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں جبکہ کمینے لوگوں نے آپ کی پیروی کی۔ استکبار بہت بڑا تکبر کیا۔
Ayah 71:8

ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ Open ayah 71:8 in the Quran reader

پھر میں ان کو کھلے طور پر بھی بلاتا رہا

ثم انی دعوتھم جھاراً ۔ ان کے لئیدعوت کو ظاہر کرتے ہوئے دعوت دی۔ جھاراً ، دعوتھم کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ دعوت میں جھاراً بھی ایک قسم ہے تو اس کو نصب اسی طرح دی گئی ہے جس طرح قرفصاء کو قعد کے ساتھ نصب دی گی کیونکہ یہ بھی قعود کی ایک قسم ہے یا اس لئے کیونکہ دعوتھم سے مراد جاھرتھم ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ دعا فعل کے مصدر کی صفت ہو، تقدیر کلام یہ ہوگی دعاء جھارا، جھاراً یہ مجاھر کے منی میں ہے۔ یہ مصدر حال کی جگہ پر واقع ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی دعوتھم مجاھدالھم بالدعوۃ میں نے انہیں دعوت دی اس حال میں کہ میں انہیں ظاہر دعوت دے رہا تھا۔
Ayah 71:9

ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ Open ayah 71:9 in the Quran reader

اور ظاہر اور پوشیدہ ہر طرح سمجھاتا رہا

ثم انی اعلنت لھم و اسررت لھم اسراراً ۔ میں نے کوئی صورت نہ چھوڑی۔ مجاہد نے کہا : اعلنت کا معنی ہے میں نے چیخ کر دعوت دی اور میں نے اپنی دعوت کو ان میں سے ایک دوسرے سے مخفی رکھا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسررت لھم میں ان کے گھروں میں گیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے یہ سب کچھ ان کو دعوت دینے میں مبالغہ کے لئے تھا اور دعوت میں نرمی اور مہربانی کے طور پر تھا۔ حرم کے قاریوں اور ابو عمرو نے ان کی یاء کو فتحہ دیا ہے اور باقی قراء نے اسے سکو ندیا ہے۔
Ayahs 71:10–12

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ Open ayah 71:10 in the Quran reader

اور کہا اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے

یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ Open ayah 71:11 in the Quran reader

وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا .

وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ Open ayah 71:12 in the Quran reader

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کریگا (اور ان مییں) تمہارے لئے نہریں بہاوے گا

اس میں تین مسائل ہیں۔ استغفار کی فضیلت مسئلہ نمبر 1 :۔ فقلت استغفروا ربکم ایمان کے اخلاص کے ساتھ اپنے سابقہ گناہوں سے مغفرت کا سوال کرو۔ انہ کان غفاراً ۔ یہ اس کی جانب سے توبہ میں ترغیب ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کی ہے فرمایا : الاستغفار ممعاۃ للذنوب (2) استغفار گناہوں کو مٹانے والی ہے۔ فضیل نے کہا : بندہ کہتا ہے : استغفر اللہ اس کی تفسیر اقلنی ہے یعنی میری غلطیوں سے درگزر فرما۔ توبہ کی فضیلت مسئلہ نمبر 2۔ یرسل السمآء علیکم مدراراً ۔ وہ آسمان کا پانی برساتا ہے۔ اس کلام میں اضمار ہے۔ اصل یہ ہے یرسل ماء السماء۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : السماء کا معنی ہی بارش ہے (1) ۔ شاعر نے کہا : اذا سقط السماء بارض قوم رعیناہ وان کانوا غصاباً جب بارش کسی قوم کے علاقہ میں ہوتی ہے تو ہم اس کے سبزہ کو چرتے ہیں اگرچہ وہغضب ناک ہوں۔ مدراراً کثیر بارش والی۔ یرسل کو جزم دی گی ہے۔ کیونکہ یہ جواب امر ہے۔ مقاتل نے کہا، جب انہوں نے طویل عرصہ تک حضرت نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش کو روک لیا۔ چالیس سال تک ان کی عورتوں کے رحموں کو بانجھ کردیا، ان کے جانور ہلاک ہوگئے اور کھیتیاں برباد ہوگئیں۔ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے بارش کے برسنے کی التجا کی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : اپنے رب سے بخشش طلب کرو، بیشک وہی بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ یعنی جو بھی اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اس کے ساتھ ہمیشہ اسی طرح کا سلوک کرتا ہے۔ پھر ایمان میں ترغیب دیتے ہوئے کہا : وہ تم پر موسلا دھار بارش برسائے گا، بیٹوں اور اموال کے ساتھ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات بنا دے گا اور تمہارے لئے نہریں بنا دے گا (2) قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نبی کو علم تھا کہ وہ دنیا کے بارے بڑیحریص ہیں تو فرمایا : اللہ تعالیٰ کی طاعت کی طرف آئو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں دنیا و آخرت ملتی ہے۔ استغفار پر مترب ہونے والے نتائج مسئلہ نمبر 3۔۔ آیت اور سورة ہود کی آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ استغفار کے ذریعے رزق اور بارش کو طلب کیا جاتا ہے۔ امام شعبی نے کہا : حضرت عمر استقاء کے لئے نکلے تو استغفار سے زائد کچھ عمل نہ کیا یہاں تک کہ واپس آگئے تو لوگوں پر بارش ہوگئی۔ لوگوں نے عرض کی : ہم نے آپ کو استقاء کرتے ہوئے تو نہیں دیکھا ؟ فرمایا : میں نے آسمان کے مجادیح سے بارش طلب کی جن کے ساتھ بارش کے برسنے کو طلب کیا جاتا ہے، پھر پڑھا استغفروا ربکم انہ کان غفاراً ۔ یرسل السمائٓ علیکم مدراراً ۔ امام اوزاعی نے کہا : لوگ بارش کو طلب کرنے کے لئے نکلے۔ ان میں بلال بن سعد بھی نکلے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد ثناء کی پھر یوں گویا ہوئے : اے اللہ ! ہم نے تجھ یہ کہتے ہوئے سنا ما علی المحسنین من سبیل (التوبہ : 91) ہم نے گناہ کا اعتراف کرلیا۔ تیری مغفرت نہیں مگر ہماری مثل لوگوں کے لئے۔ اے اللہ ! ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور اور ہمیں سیراب کر۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے اور لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ اٹھا دیئے تو ان پر بارش کی گئی۔ ابن صبیح نے کہا : ایک آدی نے حضرت حسن بصری کی خدمت میں خشک سالی کا شکایت کی۔ آپ نے اسے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرو۔ ایک اور آدمی نے فقر کی شکایت کی۔ آپ نے اسے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرو۔ ایک اور آدمی نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے حضور التجاء کیجیے کہ وہ بچہ عطا فرمائے۔ آپ نے اسے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حضور بخشش کی التجاء کر۔ ایک اور آدمی نے باغ کے خشک ہونے کی شکایت کی۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کر۔ ہم نے اس بارے میں ان سے عرض کی ؟ فرمایا : میں نے اپنی جانب سے تو کچھ نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کر۔ ہم نے اس بارے میں ان سے عرض کیڈ فرمایا : میں نے اپنی جانب سے تو کچھ نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ سورة نوح میں ارشاد فرماتا ہے : استغفرواربکم انہ کان غفار۔ یرسل السمآء علیکم مدراراً ۔ ویمددکم یاموال دبنین ویجعل لکم جنت ویجعل لکم انھراً ۔ سورة آل عمران میں استغفار کی کیفیت گزر چکی ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ ہو اور گناہوں کو ختم کرنے کی صورت میں ہو۔ قبولیت میں یہی اصل ہے۔
Ayahs 71:13–14

مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ Open ayah 71:13 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ہے کہ تم خدا کی عظمت کا اعتقاد نہیں رکھتے

وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا Open ayah 71:14 in the Quran reader

حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) کا پیدا کیا ہے

ایک قول یہ کیا گیا ہے، رجا یہاں خوف کے معنی میں ہے یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ وہ تم میں سے کسی کو سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے خوف کو ترک کرنے میں تمہارے پاس کیا عذر ہے۔ سعید بن جبیر، ابو العالیہ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا، تمہیں کیا ہوگ یا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب کی امید نہیں رکھتے اور اس کے عقاب سے نہیں ڈرتے (1) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے عقاب سے نہیں ڈرتے اور اس سے ثواب کی امید رکھتے ہو۔ والبی اور عوفی نے ان سے روایت نقل کی ہے : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کو نہیں جانتے (2) حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کا خیال نہیں کرتے۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت کی پرواہ نہیں کرتے۔ قطرب نے کہا : یہ مجازی لغت ہے۔ بنو ہذیل، بنو خزاعہ اور بنو مضر کہیت ہیں لم ارج کا معنی ہے : میں پرواہ نہیں کرتا، وقار کا معنی عظمت ہے، توقیر کا معنی تعظیم ہے۔ قتادہ نے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی جانب سے پکڑ کی امید نہیں رکھتے۔ گویا معنی یوں ہے تمہیں کیا ہوگیا ہے تم اللہ تعالیٰ سے ایمان پر جزا کی امید نہیں رکھتے۔ ابن کیسان نے کہا، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کے بارے میں یہ امید نہیں رکھتے کہ وہ تمہیں اس صورت میں بدلہ دے کہ تمہیں بھلائی عطا کر کے عزت دے۔ ابن زید نے کہا، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی طاعت نہیں کرتے (3) حضرت حسن بصری نے کہا، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا حق نہیں پہچانتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا نہیں لاتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیا وجہ ہے تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اظہار نہیں کیونکہ جو اس کی عظمت کو تسلیم کرتا ہے تو وہ اس کی وحدانیت کا اعلان بھی کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وقار کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت قدم ہونا (4) اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وقرن فی بیوتکن (الاحزاب : 33) اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔ اس کا معنی ہے تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اثبات نہیں کرتے جبکہ وہ تمہارا الہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں (1) کہا قول ابن بحر نے کیا ہے، پھر اس پر دلیل قائم کی۔ فرمایا : و قدخلقکم اطواراً ۔ یعنی تمہاری ذات میں ایسی نشانی بنا دی جو اس کی وحدانیت پر دلیل ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اطواراً یعنی نطفہ جما ہوا خون اور گوشت کا لوتھڑا (2) یعنی خلقت کے مکمل ہونے تک مرحلہ بہ مرحلہ جس طرح سوروہ مومنون میں ہے۔ لغت میں طور سے مراد مرہ (ایک دفعہ) ہے یعنی جس نے یہ عمل کیا اور اس پر قادر ہوا، وہ اس امر کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس کی عظمت بیان کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اطواراً سے مراد ہے بچے، جوان پھر بوڑھے اور ضعیف پھر قوی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اطواراً سے مراد انواع ہے، صحیح مریض، بینا، نابینا، غنی اور فقیر، ایک قول یہ کیا گیا ہے : اطوار سے مراد اخلاق اور فعال میں ان کا مختلف ہونا ہے۔ (3)
Ayah 71:15

اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ Open ayah 71:15 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سات آسمان کیسے اوپر تلے بنائے ہیں

الم تروا کیف خلق اللہ سبع سموت طباقاً ۔ ان کے لئے ایک اور دلیل ذکر کی یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ وہ ذات جو اس پر قادر ہے تو وہی اس امر کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ طباقاً کا معنی ہے ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہو۔ ہر آسمان دوسرے آسمان پر اس طرح ہے جس طرح قبہ ہوتا ہے، یہ حضرت ابن عباس اور سدی کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو سات زمینوں کے اوپر پیدا کیا۔ (4) ہر دو زمینوں اور دو آسمانوں کے درمیان مخلوق اور امر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان الم تروا اخبار کے طریقہ پر ہے، آنکھوں سے مشاہدہ کے طریقہ پر نہیں جس طرح تو کہتا ہے الم ترنی کیف صنعت بفلان کیا تو نہیں جانتا میں نے فلاں کے ساتھ کیا کیا ہے۔ طباقاً اسے مفعول مطلق ہونے کی حیثیت سے نصب دی گئی ہے، تقدیر کلام یہ ہوگی مطابقۃ طباقا یا یہ حال ہے اور ذات طباق کے معنی میں ہے۔ ذات کے لفظ کو حذف کردیا گیا اور طباقکو اس کے قائم مقام رکھ دیا گیا۔
Ayah 71:16

وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا Open ayah 71:16 in the Quran reader

اور چاند کو ان میں (زمین) کا نور بنایا ہے اور سورج کو چراغ ٹھیرایا ہے

وجعل القمر فیھن نوراً چاند کو دنیا کے آسمان میں نور بنا دیا (5) جس طرح کہا جاتا ہے : اتانی بنوتمیم و اتیت بنی تمیم مراد بنو تمیم کا بعض ہیں ایہ اخفش کا قول ہے۔ ابن کیسان نے کہا، جب ان آسمانوں میں سے ایک آسمان میں ہو تو وہ ان سب میں ہے۔ قطرب نے کہا، فیھن معھن کے معنی میں ہے، یہ کلبی کا قول ہے یعنی سورج اور چاند کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے ساتھ پیدا کیا۔ اکثر علماء لغت نے امراء القیس کیق ول میں فی کو مع کے معنی میں لیا ہے، ثلاثین شھرا فی ثلاثۃ احوال تین مہینے تین احوال کے ساتھ۔ نحاس نے کہا، میں نے ابو الحسن بن کیسان سے اس آیت کے بارے میں پوچھتا تو فرمایا : نحویوں کا جواب تو یہ ہے کہ جب چاند کو ان میں سے ایک میں بنایا تو اسے ان سب میں بنایا جس طرح تو کہتا ہے : اعصنی الثیاب المغلمۃ اگرچہ وہ کپڑا جس میں نشانات ہوں، وہ ایک ہی کیوں نہ ہ۔ دوسرا جواب یہ ہے : یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ چاند کا چہرہ آسمان کی طرف ہے۔ جب وہ آسمان کے اندر کی جانب ہے تو چاند آسمانوں سے متصل ہے۔ نوراً بل زمین کے لئے نور بنا دیا (1) یہ سدی کا قول ہے۔ عطا نے کہا : اہل آسمان اور اہل زمین کے لئے نور بنا دیا (2) حضرت ابن عباس اور حضتر ابن عمر نے کہا، اس کا چہرہ اہل زمین کو روشنی دیتا ہے اور اس کی پشت آسمان والوں کو روشن کرتی ہے۔ (3) وجعل الشمس سراجاً یعنی اہل زمین کے لئے مصباح بنا دیا تاکہ وہ اپنی ضروریات زندگی کے لئے امور سر انجام دے سکیں۔ اہل آسمان کو روشسنی دینے کے حوالے سے دو قول ہیں، ماوردی نے اسے بیان کیا ہے (4) قشیری نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ سورج کا چہرہ آسمان میں اور اس کی پشت زمین میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے پوچھا گیا : کیا وجہ ہے کبھی سورج ہمیں بھون کر رکھ دیتا ہے اور کبھی ہم پر ٹھنڈا ہوجاتا ہے (5) ؟ فرمایا : یہ چوتھے آسمان میں ہوتا اور موسم سرما میں ساتویں آسمان میں رحمن کے عرش کے پاس ہوتا ہے۔ اگر یہ آسمان دنیا میں ہوتا تو کوئی چیز قائم نہ رہتی (٭) واللہ اعلم بالصواب۔
Ayahs 71:17–18

وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ Open ayah 71:17 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے

ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا Open ayah 71:18 in the Quran reader

پھر اسی میں تمہیں لوٹا دیگا اور (اسی سے) تم کو نکال کھڑا کرے گا

یعنی حضرت آدم علیہ اسلام کو تمام روئے زمین سے پیدا کیا (6) یہ ابن جریج کا قول ہے۔ سورة الانعام اور البقرہ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ خالد بن معدان نے کہا، انسان کو کیچڑ سے پیدا کیا، اسی وجہ سے موسم سرما میں دل نرم ہوجاتا ہے۔ نباتاً یہ مفعول مطلق ہے مگر فعل کا اپنا مصدر نہیں کیونکہ اس کا مصدر یوں آتا ہے۔ انبت انباتاً تو اسم جو نبات ہے اسے مصدر کی جگہ رکھا۔ اس کی وضاحت سورة آل عمران اور دوسری آیات میں گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مصدر ہے جو معنی پر محمول ہے کیونکہ انبتکم کا معنی ہے تمہیں بنایا کہ تم نباتات اگاتے ہو، یہ خلیل اور زجاج نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہارے لئے زمین سے نبات کو اگیا۔ اس عتبیر کی بنا پر نباتاً مصدر صریح کے طور پر منصوب ہے۔ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ ابن جریج نے کہا، تمہیں زمین میں چھوٹا ہونے کے بعد بڑا اور لمبا بنایا (7) ثم یعید کم فیھا جب تمہیں موت آئے گی تو دفن کرنے کے ساتھ تمہیں زمین میں لوٹا دے گا۔ ویخرجکم اخراجاً ۔ قیامت کے روز حساب و کتاب کے لئے دوبارہ زمین سے نکالے گا۔
Ayahs 71:19–20

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ Open ayah 71:19 in the Quran reader

اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فرش بنایا

لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ Open ayah 71:20 in the Quran reader

تاکہ اس کے بڑے بڑے کشادہ راستوں میں چلو پھرو

بساط کا معنی مبسوط ہے پھیلائی ہو (1) السبل کا معنی راستے ہیں۔ فجاج یہ فج کی جمع ہے۔ اس سے مراد کھلا راستہ ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فج سے مراد ایسا راستہ ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان ہو۔ سورة الانبیاء اور سورة الحج میں بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 71:21

قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ Open ayah 71:21 in the Quran reader

(اسکے بعد) نوح نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار یہ لوگ میرے کہنے پر نہیں چلے اور ایسوں کے تابع ہوئے ہیں جن کو انکے مال اور اولاد نے نقصان کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیا

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی شکایت کی کہ ان لوگوں نے ان کی نافرمانی کی اور آپ نے انہیں ایمان کے بارے میں جو حکم دیا اس کی اتباع نہ کی۔ اہل تفسیر نے کہا، حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال تک انہیں دعوت دیتے رہے جبکہ وہ کفر اور نافرمانی پر قائم رہے (2) حضرت ابن عباس نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) آباء کے بعد بیٹوں سے امید رکھتے رہے، اولاد کے بعد اولاد آتی رہی یہاں تک کہ سات نسلوں تک معاملہ جا پہنچا۔ میاوس ہونے کے بعد ان کے حق میں بد دعا کی۔ طوفان کے بعد آپ ساٹھ سال زندہ رہے یہاں تک کہ لوگوں کی تعداد کثیر ہوگئی اور لوگ عام ہوگئے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم مہینہ میں دو دفعہ فصل کاشت کرتی تھی (3) ماوردی نے اس کو ذکر کیا۔ واتبعوا من لم یزدہ مالہ و ولدہ الاخساراً ۔ انہوں نے اپنے ان معزعزین اور اغنیاء کی پیروی کی جن کے کفر، اموال اور اولاد نے اضافہ نہیں کیا مگر دنیا میں گمراہی اور ہلاکت کا۔ اہل مدینہ، اہل شام اور عاصم نے دولدہ وائو اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ باقی قرئا نے وائو کے ضمہ اور لام کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ولد میں ایک لغت ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ولد کی جمع ہو جس طرح فلک یہ واحد اور جمع ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہو۔
Ayah 71:22

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ Open ayah 71:22 in the Quran reader

اور وہ بڑی بڑی چالیں چلے

ومکروا مکر اکباراً ۔ ” اور انہوں نے بڑے مکر و فریب کئے۔ “ کباراً یعنی بہت بڑا۔ یوں کہا اجتا ہے : کبیر، کبار، کبار جس طرح عجیب، عجاب اور عجاب سب کا ایک معنی ہے۔ اس کی مثل طویل، طوال اور طوال ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، رجل حسن، رجل حسان، رجل جمیل، رجل جمال، قراء قاری کے لئے بولا جاتا ہے اور وصناء روشن چہرے والے کے لئے بولا جاتا ہے۔ ابن کسی ت نے یہ شعر پڑھا : بیضاء تصاد القلوب وتستبی بالحسن قلب المسلم القزاء وہ سفید رگن والی ہے، دلوں کا شکار کرتی ہے اور حسن کے ساتھ مسلمان قاری کے دل کو قیدی بناتی ہے۔ محل استدلال القراء ہے۔ مرد نے کہا : کبار جب تشدید کے ساتھ ہو تو یہ مبالغہ کے لئے آتا ہے۔ ابن محیصن، حمید اور مجاہد نے کبارا جب تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ان کے مکر میں اختلاف ہے کہ وہ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کمینے لوگوں کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے قتل پر برانگیختہ کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ صاحب مال اور صاحب اولاد کی جو عزت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ کمزور لوگوں نے کہا، اگر یہ لوگ حق پر نہ ہوتے تو انہیں یہ نعمتیں نہ دی جاتیں۔ کلبی نے کہا : انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے جو بیوی اور بچے بنائے تھے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے مکر سے مراد ان کا کفر ہے۔ مقاتل نے کہا، اس سے مراد ان کے بڑوں کو چھوٹوں کا یہ کہنا تھا۔ لاتذرون الھتکم ولاتذرن ودا ولا سواعاً ولایغوث ویعوق ونسراً ۔ (نوح : 23 )
Ayah 71:23

وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ Open ayah 71:23 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

حضرت ابن عباس اور ان کے علاوہ دوسرے علماء کا نقطہ نظر ہے : یہ بت اور تصاویر تھیں۔ پہلے حضتر نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کی عبادت کرتی تھی پھر عربوں نے ان کی پوجا کی، یہ جمہور کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ عربوں کے بت تھے۔ کسی اور نے ان کی عبادت نہیں کی۔ یہ ان کے بڑے اور ظعیم بت تھے، اسی وجہ سے لاتذرون الھتکم کے بعد ان کا ذکر کیا۔ کلام کا معنی وہی بنتا ہے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے پیروکاروں سے کہا : لاتذرون الھتکم عربوں نے اپنی قوم، اولاد سے کہا، تم ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو نہ چھوڑانا۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق ہے۔ عروہ بن زبیر اور دوسرے علماء نے کہا، حضرت آدم (علیہ السلام) بیمار ہوئے جبکہ آپ کے یہ بیٹے آپ کے پاس موجود تھے (3) ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر ود ان سے بڑا اور سب سے نیک تھا۔ محمد بن کعب نے کہا، حضرت آدم (علیہ السلام) کے پانچ بیٹے تھے۔ ود، سواع، یغوث، یعقوب اور نسر، یہ سب بڑے عبادت گزار تھے۔ ان میں سے ایک فوت ہوگیا تو وہ اس پر غمگین ہوئے۔ شیطان نے کا، میں اس جیسی تمہارے لئے تصویر بنا دیتا ہوں۔ جب تم اسے دیکھو گے تو تم اسے یاد کرو گے۔ انہوں نے کہا، اس طرح بنا دو ۔ شیطان نے پیتل اور س کے سے مسجد میں اس کی تصویر بنا دی، پھر دوسرا فوت ہوا تو شیطان نے اس کی تصویر بھی نبا دی یہاں تک کہ وہ سب فوت ہوگئے تو اس نے ان سب کی تصویریں بنا دیں۔ اشیاء میں کمی آتی رہی جس طرح آج اشیاء میں کمی آتی ہے یہاں تک کہ کچھ عرصہ بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ترک کردیا۔ شیطان نے ان سے کہا، کیا وجہ ہے تم کسی شی کی عبادت نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : ہم کس کی عبادت کریں ؟ اس نے کہا، اپنے معبودوں کی اور اپنے آباء کے معبودوں کی، کیا تم نماز پڑھنے کی جگہ میں نہیں دیکھتے ؟ تو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ انہوں نے کہا، تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور تم ود اور سواع کو نہ چھوڑنا۔ محمد بن کعب اور محمد بن قیس نے کہا : وہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان صالح لوگ تھے۔ ان کے کچھ لوگ پیرو کار تھے جو ان کی اقتدا کیا کرتے تھے جب وہ فوت ہوگئے ابلیس نے ان کے لئے اس امر کو مزین کیا کہ وہ ان کی صورتیں بنائیں تاکہ ان تصویروں کی مدد سے ان کی کاوشوں کو یاد کرتے رہیں اور انہیں دیکھ کر تسلی حاصل کرتے رہیں تو شیطان نے ان کی تصویریں بنا دیں۔ جب وہ لوگ مر گئے اور دوسرے لوگ آئے انہوں نے کہا، کاش ! ہم جانتے کہ ہمارے آباء ان تصویروں کے ساتھ کیا کچھ کرتے تھے ؟ شیطان ان کے پاس آیا اور کہا، ان کے آباء ان کی عبادت کیا کرتے تھے تو یہ ان پر رحم کرتے اور ان پر بارش برساتے۔ ان لوگوں نے ان تصتویروں کی عبادت کی تو بتوں کی عبادت اس وقت سے شروع ہوگئی۔ میں کہتا ہوں : مسلم شریف میں جو حدیث حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے وہ اس معنی کی تفسیر بیان کرتی ہے، حضرت ام حبیبہ اور حضتر ام سلمہ نے ایک کنیسہ کا رسول اللہ کے سامنے ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جسے ماریہ کہتے تھے جس میں تصاویر تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب ان میں کوئی صالح آدمی ہوتا تو اس کی قبر پر وہ مسجد بنا دیتے اور اس میں وہ تصویریں بنا دیتے تھے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں وہ تمام مخلوق سے برے لوگ ہوں گے۔ “ (1) ثعلبی نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ بت حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے صالح افراد کے نام ہیں جب یہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی قوم کی طرف الہام کیا جب مجلسوں میں وہ بیٹھا کرتے تھے کہ ان مجلسوں میں کوئی نشان کھڑا کر دو اور انہیں ان کے نام دے دو ۔ ان کے ذریعے تم انہیں یاد رکھو گے تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ ان کی عبادت نہ کی گئی یہاں تک کہ یہ لوگ ہلاک ہوگئے اور علم ناپید ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کی عبادت کی جانے لگی۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ہند کے ایک پہاڑ پر حضرت آدم (علیہ السلام) کے جسد اطہر کی حفاظت کرتے تھے اور کافروں کو ان کی قبر کا طواف کرنے سے منع کرتے تھے۔ شیطان نے انہیں کہا : یہ لوگ تم پر فخر کرتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ صرف یہ حضرت آدم علیہ اسلام کی اولاد ہیں تم ان کی اولاد نہیں ہو۔ یہ تو صرف جسم ہے۔ میں اسی جیسی تمہارے لئے تصویر بنا دیتا ہوں جس کا تم طواف کرلینا۔ اس نے ان کے لئے ان پانچ بتوں کی تصویر بنا دی اور ان کی عبادت پر انہیں برانگیختہ کیا، جب طوفان کے دن آئے تو کیچڑ، مٹی اور پانی نے انہیں دفن کردیا۔ یہ دفن ہی رہے یہاں تک کہ شیطان نے انہیں مشرکین عرب کے لئے باہر نکالا۔ ماوردی نے کہا : جہاں تک ود کا تعلق ہے تو وہ پہلا بت ہے جس کی عبادت کی گی اسے ود کا نام دیا گیا کیوں لوگ اس سے محبت کرتے تھے (1) قوم نوح کے بعد یہ دومۃ الجندل میں بنو کلب کا بت تھا، یہ حضرت ابن عباس، عطا اور مقاتل کا قول ہے، اسی کے بارے میں ان کا شاعر کہتا ہے : حیاک وذ فانا لا یحل لنا لھو النساء وان الذین قد عزماً (2) ود تجھے زندہ رکھے ہمارے لئے عورتوں کے ساتھ لہو و لعب حلال نہیں، بیشک دین پختہ ہوچکا ہے۔ جہاں تک سواغ کا تعلق تھا تو یہ ساحل سمندر پر بنو ہذیل کا بت تھا (3) ۔ یہ ان کا قول ہے۔ جہاں تک یغوث کا تعلق ہے یہ مراد میں سے غطیف کا بت تھا جو سبا کے علاقہ میں جفو کے مقام پر تھا، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مہدوی نے کہا، یہ پہلے مراد قبیلہ کا بت تھر پھر بنو غطفان کا وہ گیا۔ ثعلبی نے کہا : بنو علی، بنو انعم جو طے سے تعلق رکھتے تھے اور الہ جرش نے مذحج سے یغوث کو لیا اور اس سے مراد قبیلہ کی طرف لے گئے اور طویل زمانہ تک اس کی عبادت کرتے رہے۔ پھر بنوناجیہ نے اعلیٰ اور انعم سے یہ بات چھیننے کا ارادہ کیا اور اسے حصین کی طرف لیگئے جو خزاعہ سے بنی حارث بن کلاب سے تعلق رکھتا تھا۔ ابو عثمان نہید نے کہا، میں نے یغوث کو دیکھا جو سکے سے بنا ہوا تھا۔ وہ اسے ایسے اونٹ پر لادتے جس میں حرد کی بیماری ہوتی۔ وہ اس کے ساتھ چلتے وہ اسے جھڑکتے نہیں تھے یہاں تک کہ وہ خود ہی بیٹھ جاتا۔ جب وہ بیٹھ جاتا تو وہ ڈیرہ ڈال لیتے اور کہتے اس نے تمہارے لئے منزل کو پسند کرلیا ہے۔ وہ اس پر عمارت بنا لیتے اور خود اس کے اردگرد پڑائو ڈال لیتے۔ جہاں تک یعقوب کا تعلق ہے تو یہ بلخض کے مقام پر ہمدان کا بت تھا، یہ عکرمہ، قتادہ اور عطا کا قول ہے۔ ماوردی نے اس کا ذکر کیا ہے (4) ثعلبی نے کہا : جہاں تک یعقوب کا تعلق ہے یہ سبا کے کیلان قبیلہ کا تھا۔ پھر ان کی اولاد اس کی وارث بنتی رہی۔ بڑا پھر بڑا یہاں تک کہ ہمدان تک سلسلہ پہنچا۔ جہاں تک نسر کا تعلق ہے یہ حمیر قبیلہ کی ذی الکلاع شاخ کا بت تھا (5) یہ قتادہ کا قول ہے۔ اسی کی مثل مقاتل سے مروی ہے۔ واقدی نے کہا، وہ انسان کی صورت میں تھا، سواع ایک عورت کی صورت میں تھا۔ یغوث شیر کی صورت پر تھا، یعقوب گھوڑے کی صورت پر تھا، نسر یہ گدھ کی صورت پر تھا، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ نافع نے لاتذرون ودا پڑھا ہے یعنی وائو کو ضمہ دیا ہے باقی نے اسے فتحہ دیا ہے۔ لیث نے کہا، ود (وائو کے فتحہ کے ساتھ) ایک بت تھا جو قوم نوح کا تھا۔ ودیہ قریش کا ایک بت تھا، اسی کے نام پر عمرو بن ود نام رکھا گیا۔ صحاح میں ہے الودا بل نجد کی لغت میں الوتد تھا گویا انہوں نے تاء کو ساکن کیا اور اسے دال میں مدغم کردیا۔ امراء القیس کے شعر میں الود کا لفظ ہے جس سے مراد التود ہے ، تظھر الود اذا ما اشجذت وتواریہ اذا ماتعتکر وہ ود کو ظاہر کرتا ہے جب وہ بادل چھٹ جائے اور جب سخت ہوجائے تو اسے چھپا لیتا ہے۔ ابن درید نے کہا، یہ ایک پہاڑ کا نام ہے۔ ود ایک بت تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی ایک قوم کا تھا۔ پھر یہ بنی کلب کے لئے ہوگیا۔ یہ دومۃ الجندل کے مقام پر نصب تھا۔ اسی مناسبت سے انہیں عبدود نام رکھا۔ اور فرمایا : لاتذرون الھتکم پھر فرمایا : لاتذرون ودا ولا سواعاً اس کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذا خذنا من النبین میثا قھم ومنک ومن نوح (الاحزاب : 7) وقد اضلوا کثیراً یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا قول ہے یعنی ان میں سے بڑوں نے بہت سے پیروکاروں کو گمراہ کیا۔ اس کا عطف و مکروا مکراً کباراً پر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا، یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوگئے، اسی کی مثل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول کا تذکرہ ہے، رب انھن اضللن کثیراً من الناس (ابراہیم : 36) اے میرے رب ! انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ ذوی العقول کا وصف ان پر جاری کیا گیا ہے کیونکہ کفار ان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے۔
Ayah 71:24

وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا Open ayah 71:24 in the Quran reader

(پروردگار) انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور تو ان کو اور گمراہ کر دے

ولا تزد الظلمین الا ضلاً ۔ ضلال سے مراد عذاب ہے (1) یہ ابن بحر کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل قائم کی گئی ہے۔ ان المجرمین فی ضلل وسعر۔ (القمر) ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں ضلال سے مراد خسارہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد مال اور اولاد کا فتنہ ہے۔ اس کا احتمال موجود ہے۔
Ayah 71:25

مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا Open ayah 71:25 in the Quran reader

(آخر) وہ اپنے گناہوں کے سبب ہی غرقاب کردیے گئے پھر آگ میں ڈال دیئے گئے تو انہوں نے خدا کے سوا کسی کو اپنا مددگار نہ پایا

مما خطیئتھم اغرقوا مازائدہ ہے، برائے تاکید ہے اس کا معنی ہے ان کی خطائوں کے باعث۔ فراء نے کہا، ان کی خطائوں کی وجہ سے ما نے یہ معنی دیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما مجازات پر دال ہے۔ ابو عمرو کی قرأت خطایاھم جمع مکسر کے طور پر ہے۔ اس کا واحد خطیہ ہے۔ جمع میں اصل طریقہ تو یہ تھا کہ وہ خطائی ہوتا جو فعائل کے وزن پر ہے جب دو ہمزے جمع ہوگئے تو دوسرے ہمزہ کو یاد سے بدل دیا کیونکہ اس سے قبل کسرہ ہے پھر اس میں ثقل پیدا ہوگیا اور جمع ثقیل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معتل بھی ہے تو یاء کو ان سے بدل دیا، پھر پہلے ہمزہ کو یاء سے بدل دیا کیونکہ دو ہمزوں کے درمیان میں خفاء ہوتا ہے۔ باقی قراء نے اسے خطیئاتھم جمع سالم کے طریہ پر پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے کہا، یہ ایسی قوم تھی جنہوں نے ہزار سال تک کفر کیا تو ان کی خطائوں کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی۔ اس سے یہ ارادہ کیا کہ خطایا، خطیات سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ایک قوم نے کہا، خطایا اور خطیات ایک ہی ہیں۔ دونوں جمع کے صیغے ہیں، کثرت اور قلت میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان سے استدلال کیا ہے : مانفدت کلمت اللہ (لقمان : 27) شاعر نے کہا : لنا الجفنات الغریلمعن بالصحی وسیافنا یقطرن من نجدۃ وما ہمارے لئے سفید بڑے پیالے ہیں جو چاشت کے وقت چمکتے ہیں اور ہماری تلواریں معزز لوگوں کے خون کے قطرے ٹپکاتی ہیں۔ اسے خطیئاتھم بھی پڑھا گیا ہے اور اسے خطیاتھم بھی پڑھا گیا ہے ہمزہ کو یاء سے بدل دیا گیا اور ایک یاء کو دوسری یاء میں ادغام کردیا گیا۔ حجدری، عمرو بن عبید، اعمش، ابوحیرہ اور اشہب عقیل نے خطیئتھم واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ مراد شرک ہے۔ فادخلوانا راً انہیں غرق کرنے کے بعد آگ میں داخل کردیا گیا۔ قشیری نے کہا، یہا یٓت عذاب قبر پر دلالت کرتی ہے۔ عذاب قبر کے منکرین یہ کہتے ہیں : وہ آگ میں داخل ہونے کے مستحق بن چکے ہیں یا جہنم میں ان کی جو جگہ ہے اسے ان پر پیش کیا گیا جس طرح فرمایا : النار یعرضون علیھا غدواً و عشیاً (غافر : 46) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں اس مر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر ایک روایت میں ہے : البحرنار فی نار سمندر بھی جہنم میں ایک آگ ہے۔ ابو روق نے ضحاک سے اللہ تعالیٰ کے فرمان : اغرقوافا دخلواناراً کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے یعنی انہیں آگ کے ساتھ عذاب دیا گیا جبکہ انہیں دنیا میں غرق کیا گیا تھا۔ یہ ایک ہی حالت میں ہیں۔ وہ ایک جانب میں غرق ہوتے تھے اور پانی میں ایک جانب سے جلتے تھے (1) ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوالقاسم جیبی، ابو سعید احمد بن محمد بن میح سے وہ ابوبکر بن انباری سے یہ اشعار نقل کرتے ہیں : الخلق مجتمع طوراً و مفترق والحادثات فنون ذات اطوار لاتعجبن لاضداد ان اجتمعت فاللہ یجمع بین الماء والنار مخلقو کسی مرحلہ میں جمع ہوتی ہے اور کسی مرحلہ میں جدا ہوجاتی ہے۔ حادثات مختلف انداز کے ہیں اور کئی مراحل میں واقع ہوتے ہیں۔ اگر ضداد جمع ہوجائیں تو تو تعجب نہ کر، اللہ تعالیٰ پانی اور آگ کو جمع فرما دیتا ہے۔ فلم یجدوالھم من دون اللہ انصارًا۔ وہ کوئی ایسی ذات نہیں پائیں گے جو ان سے عذاب کو دور کر دے۔
Ayahs 71:26–27

وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا Open ayah 71:26 in the Quran reader

اور (پھر) نوح نے (یہ) دعا کی کہ اے میرے پروردگار کسی کافر کو روئے زمین پر بسا نہ رہنے دے

اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا Open ayah 71:27 in the Quran reader

اگر تو انکو رہنے دے گا تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان سے جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکار اور ناشکر گزار ہوگی

اس میں چار مسائل ہیں : حضرت نوح (علیہ السلام) نے کب بد دعا کی مسئلہ نمبر 1۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے بارے میں اس وقت بد دعا کی جب آپ مایوس ہوگئے کہ وہ لوگ آپ کی اتباع کریں گے۔ قتادہ نے کہا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کے بعد بد دعا کی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی انہ لن یومن من قومک الا من قدامن (ھود : 36) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کیا اور ان کی امت کو غرق کردیا۔ یہ بھی اسی طرح ہے جس طرح نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اللھم منزل الکتاب سریع الحساب و ھازم الاحزاب اھزمھم و زلزلھم (1) اے اللہ ! اے کتاب کو نازل فرمان والے، اے جلد حساب لینے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے ! انہیں شکست دے دے اور ان میں زلزلہ برپا کر دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ کی بد دعا کا سبب یہ بنا کہ آپ کی قوم کا ایک آدمی اپنے چھوٹے بچے کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھا (2) وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس سے گزرا اور اپنے بچے سے کہا، اس سے بچ کر رہنا یہ تجھے گمراہ کر دے گا۔ اس بچے نے کہا، اے میرے ابا ! مجھے نیچے اتارنا : اس کے باپ نے اسے نیچے اتارا۔ اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو پتھر مارا اور آپ کو زخمی کردیا۔ اس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) غضب ناک ہوئے اور لوگوں کے خلاف بد دعا کی۔ محمد بن کعب، مقاتل، ربیع، طعیہ اور ابن زید نے کہا، اس وقت بد دعا کی جب اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کو ان کی پشتوں اور ان کی عورتوں کے رحموں سے نکال لیا تھا اور عذاب سے ستر سال پہلے ان کی عورتوں کی رحموں اور مردوں کی پشتوں کو بانجھ کردیا تھا (3) ایک قول یہ کیا گیا تھا، چالیس سال پہلے بانجھ کردیا تھا۔ قتادہ نے کہا، عذاب کے وقت ان میں کوئی بچہ نہیں تھا۔ حضرت حسن بصری اور ابوالعالیہ نے کہا، اگر اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی ہلاک کردیتا یو ہان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عذاب ہوتا اور ان میں عدل ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے بچوں اور ان کی اولادوں کو عذاب کے بغیر ہلاک کردیا، پھر عذاب کے ساتھ ان کو ہلاک کردیا (4) اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے وقوم لوح لما کذبوا الرسل اغرقنھم (الفرقان : 37) کن لوگوں کے لخاف دعا جائز ہے مسئلہ نمبر 2۔ ابن عربی نے کہا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے کافروں کے خلاف بد دعا کی (5) اور بنی کریم ﷺ نے ان کے خلاف بد دعا کی جنہوں نے مومنوں کے خلاف اکٹھ کیا تھا۔ فی الجملہ یہ بھی کافروں کے لخفا ہی دعا تھی جہاں تک معین کافر کا تعلق ہے تو اس کا خاتمہ معلوم نہیں ہوتا، اس لئے اس کے خلفا بد دعا نہیں کی جاتی کیونکہ اس کا انجام ہمارے نزدیک مجہول ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا خاتمہ سعادت کے ساتھ معلمو ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عتبہ، شیبہ اور ان دونوں کے ساتھیوں کے بارے میں بد دعا کی کیونکہ ان کے انجام کا آپ کو علم تھا اور ان کے حال کے بارے میں پردے کو ہٹا دیا گیا تھا۔ میں کہتا ہوں : یہ مسئلہ سورة برقہ میں تفصیلی گزر چکا ہے۔ الحمد اللہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بد دعا کی وجہ بیان کرنا۔ مسئلہ نمبر 3 ابن عربی نے کہا، اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے خلاف دعا کو آخرت میں مخلوق کی شفاعت سے توقف کا سبب کیوں بنایا ہے (1) ؟ ہم عرض کریں گے : لوگوں نے اس بارے میں دو ج ہیں ذکر کی ہیں۔ (1) وہ دعا غضب اور سختی کی وجہ سے پیدا ہوئی جبکہ شفاعت تو رضا اور نرمی کی وجہ سے ہوتی ہے تو آپ کو خوف ہوا کہ کیں اس پر عتاب نہ ہو اور یہ نہ کہا جائے تو نے کل (دنیا میں) کفار کے خلا بد دعا کی اور آج ان کے حق میں شفاعت کرتے ہو۔ (2) انہوں نے نص اور واضح اجازت کے بغیر ناراضگی کے عالم میں بد دعا کی تھی تو قیامت کے روز اس پر وبال کا خوف محسوس ہوا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، انی قتلت نفسالم او مر بقتلھا میں نے ایک ایسے نفس کو قتل کیا جس کے قتل کا مجمے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ کہا، میں بھی یہی قول کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں : اگرچہ بد دعا کرنے کا صریح حکم نہیں تھا تاہم آپ کو یہ کہا گیا تھا : انہ لہ یومن من قومک الا من قد امن (ہود : 36) اس نے آپ کو ان کے انجام سے آگاہ کردیا تو آپ نے ان کے خلاف ہلاکت کی بد دعا کی جس طرح ہمارے نبی ﷺ نے شیبہ، عتبہ اور ان جیسے لوگوں کے لخفا بد دعا کی اور یہ الفاظ کہے : اللھم علیک بھم جب ان کے انجام کا علم ہوگیا۔ اس تعبیر کی بنا پر اس میں بد دعا کرنے کے امر کا معنی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 4 دیاراً ، انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولایلدوآ الا فاجراً کفارا۔ یعنی جو گھروں میں رہتا ہے (2) یہ سری کا قول ہے۔ ال میں یہ دیوار تھا۔ یہ فیعال کا وزن ہے۔ یہ دار، یدور سے مشتق ہے، وائو کیا یاء سے بدل دیا اور ان میں سے ایک یاء کو دسوری یاء میں ادغام کردیا جس طرح قیام، اصل میں یہ قیوام تھا۔ اگر یہ فعال کا وزن ہوتا تو یہ دوار ہوتا۔ قتبی نے کہا : اصل میں یہ دار ہے یعنی گھر میں فروکش ہونے والا یہ جملہ بولا جاتا ہے : مابالدار دیار عینی کوئی بھی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الدیار سے مراد گھر والا ہے۔
Ayah 71:28

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ Open ayah 71:28 in the Quran reader

اے میرے پر دوردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لا کر میرے گھر میں آئے اسکو اور تمام ایمان والے مردوں اور ایمان ولی عورتوں کو معاف فرما۔ اور ظالم لوگوں کے لیے اور زیادہ تباہی بڑھا۔

رب اغفرلی ولوالدی حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے لئے اور اپنے والدین کے لئے دعا کی۔ وہ دونوں مومن تھے۔ لمک بن متوشلخ وسمخی بنت انوش، قشیری اور تعلبی نے اسے ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے آپ کی والدہ کا نام منجل بتایا ہے۔ (1) سعید بن جبیر نے کہا، والدیہ سے انہوں نے باپ اور دادا امراد لیا ہے سعید بن جبیر نے لوالدی دال کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ واحد کا صیغہ ہے۔ کلبی نے کہا، ان کے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان دس آباء ہیں۔ سب کے سب مومن تھے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، حضرت نوح اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان کسی فرد (والد) نے کفر نہیں کیا۔ ولمن دخل بیتی مومنا بیت سے مراد مسجد، مصلی ہے، اس حال میں کہ وہ نماز پڑھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتا ہو۔ انبیاء کے گھروں میں وہی داخل ہوتا جو ان میں سے مومن ہوتا تو مسجد کو مغفرت کی دعا کا سبب بنا دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : الملائکۃ تصلی علی احد کم مادام فی مجلسہ الذی صلی فیہ مالم یحدث فیہ تقول اللھم اغفرلہ اللھم ارحمہ (2) فرشتے تم میں سے ہر ایک کیلئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس مجلس میں رہے جس میں اس نے نماز پڑھی ہو جب تک اسے حدث لاحق نہ ہو۔ اے اللہ ! اے بخش دے۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ بیتی سے مراد میری مسجد ہے (3) ثعلبی نے یہی حکایت بیان کی ہے اور ضحاک نے یہی کہا ہے حضتر ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے : جو میرے دین میں داخل ہوا۔ یہاں بیت دین کے معنی میں ہے قشیری نے اس کی حاکیت بیان کی ہے اور جو یبر نے بھی یہی کہا ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھیمروی ہے، میرا وہ دوست جو میرے گھر میں داخل ہو (4) ماوردی نے اس کی حکایت بیان کی ہے (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : بیتی سے مراد میرا گھر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس سے مراد میری کشتی ہے۔ وللمومنین والمومنت قیامت تک مومنوں اور مومنات کو عام ہے (6) ضحکا کا قول۔ کلبی نے کہا، حضرت محمد ﷺ کی امت میں سے ممنین اور ممونات مراد ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آپ کی قوم کے ممونین اور مومنات مراد ہیں جبکہ پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ ولا تزد الظلمین ظالمین سے مراد کافر ہیں۔ (7) الاتباراً ۔ مگر ہلاکت۔ یہ ہر کافر اور مشرک کو عام ہے (8) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی قوم کے مشرک مراد ہیں۔ تبار کا منی ہلاکت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خسران مراد ہے (9) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی قوم کے مشرک مراد ہیں۔ تبار کا معنی ہلاکت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خسران مراد ہے (9) دونوں معانی سدی نے بیان کئے ہیں، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان ھولآء متبرما ھم فیہ (اعراف : 139) ایک قول یہ کیا گیا ہے : تبار کا معنی دھمار یعنی ہلاک کردینا ہے۔ معنی ایک ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ وہی صحیح امر کو جاننے کی توفیق دینے والا ہے۔ الحمد اللہ اولاو آخراً