72. Surah Al-Jinn

الجنThe Jinn · 28 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 72:1–2

قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ Open ayah 72:1 in the Quran reader

کہو (اے پیغمبر ! ) کہ وحی کی گئی ہے میری طرف اس بات کی کہ جنوں کے ایک گروہ نے (مجھے قرآن پڑھتے ہوئے) غور سے سنا پھر انہوں نے (جا کر اپنی قوم سے) کہا کہ ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے1

یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ Open ayah 72:2 in the Quran reader

جو راہنمائی کرتا ہے سیدھی (اور صحیح) راہ کی سو ہم (صدق دل سے) اس پر ایمان لے آئے اور اب ہم کسی کو بھی اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھرائیں گے

3 قرآن حکیم منبع رشد و ہدایت، والحمد للہ جل و علا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے قرآن کے بارے میں مزید کہا کہ جو راہنمائی کرتا ہے سیدھی راہ کی : ایسی سیدھی راہ کی جو کہ انسان کو اس کی حقیقی کامرانی کی منزل تک پہنچاتی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، کہ دنیا میں اس سے اس کو حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم اور ابدی فوز و فلاح سے سرفرازی، جو کہ سب سے بڑی اور اصل اور حقیقی کامیابی ہے اور اس راہ حق کا اس کلام حق پر ایمان و یقین کے بغیر ملنا ممکن ہی نہیں، سو یہ قرآن قرآن حکیم کی اسی اثر انگیزی اور دل پذیری کی وضاحت ہے جس کی طرف لفظ عجب میں اشارہ پایا جاتا ہے۔ بہرکیف انہوں نے قرآن کے بارے میں اپنے تاثر اور اس کی لدپذیری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کلام اس سیدھی راہ کی راہنمائی کرتا ہے جس کو ہر سلیم الفطرت انسان کا دل قبول کرتا ہے۔ سو رشد کا لفظ ان تمام بنیادی عقائد اور نیکیوں کو شامل ہے جن کو قدرت نے انسانی فطرت کے اندر ودیعت فرمایا ہے۔ انسان اگر سوء اختیار سے اپنی فطرت کو بگاڑ نہ دے تو یہ اس کی صحیح سمت ہی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور اگر کبھی غفلت کی بنا پر اس پر کوئی حجاب آ بھی جاتا ہے تو وہ معمولی تنبیہ و تذکیر سے دور ہوجاتا ہے بشرطیکہ انسان خواہشوں کی پیروی میں اس کی ناقدری نہ کرے۔ والعیاذ باللہ العظیم 4 ۔ ایمان باللہ فطرت سلیمہ کی صدا و پکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین جنوں نے کہا ہم اس پر ایمان لے آئے۔ یعنی ہم اس کتاب حق و ہدایت کو سنتے ہی صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے۔ بغیر کسی پس و پیش اور بدوں کسی حیل واللہ تعالیٰ نے ہمیں اس پیغام رشد و ہدایت سے نوازا ہے تو ہم نے اس کا یہ فطری حق سمجھا کہ اس پر ایمان لایا جائے، سو ہم بغیر کسی پس و پیش کے صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے اور اس کی دعوت کو قبول کرلیا سو ایمان باللہ فطرت سلیمہ کی پکار ہے اور یہی تقاضا ہے رشد فطری کا۔ اور ایمان میں سب سے اونچا مقام توحید کا ہے۔ باقی تمام اہم اور بنیاد عقائد و اعمال کا منبع ومصدر بھی یہی ہے اور ان کی صحت کا مدار انحصار بھی اسی پر ہے۔ اس لئے جنوں نے اپنی فطری پکار کا اعلان و اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنی رب کے ساتھ کسی کو بھی کبھی شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ سبحانہ و تعالیٰ سو اس سے کتاب حکیم کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنوں جیسی مخلوق بھی سنتے ہی فوری طور پر اس پر ایمان لے آئی اور وہ بھی اس طور پر شرک اور شرکبات سے صاف اور صریح طور اظہار و اعلان برائت کردیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم اس کتاب حکیم اور اس کی تعلیمات مقدسہ پر ایمان لے آئے اور وہ اپنے رب کے ساتھ کبھی کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہرائیں گے نیز اسی سے اس بات کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ کتنے محروم اور کسقدر شقی و بدبخت ہیں جو اس کتاب حکیم کو بار بار سننے کے باوجود اس پر ایمان کے لئے تیار نہیں ہوتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اس پر ایمان لانے والوں کے راستے عداوت اور دشمنی رکھتے ہیں اور ان کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جعل اللہ کیدھم فی نحور ہم و اعاذ الاسلام والمسلمین من شرورھم اللہ تعالیٰ اس کتاب حکیم سے زیادہ سے ذہنی اور قلبی تعلق نصیب فرمائے اور اس کے سر اس و رموز سے زیادہ سے زیادہ مستفید و فیضیاب ہونے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین یا رب العالمین
Ayah 72:3

وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ Open ayah 72:3 in the Quran reader

اور یہ کہ بڑی بلند ہے شان ہمارے رب کی (سبحانہ و تعالیٰ ) اس نے نہ تو کسی کو بیوی بنایا ہے اور نہ ہی کسی کو اولاد ٹھہرایا ہے

5 ۔ اللہ تعالیٰ کی شان بیوی اور اولاد سے پاک ہے : سبحانہ و تعالیٰ سو ان جنوں نے اپنے قول ولن نشرک بربنا احدا کی مزید وضاحت کے طور پر کہا اور ہمارے رب کی نہ کوئی بیوی ہے نہ اولاد جیسا کہ بہتان باز مشرکوں کا کہنا ہے۔ سو اس کی ذات اقدس و اعلیٰ کی شان اس سب سے ارفع و اعلیٰ ، اور بلند وبالا ہے اور اس کی شان ہے لم یلد ولم یولد کہ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ خود کسی کی اولاد، سبحانہ و تعالیٰ حد کے معنی عظمت شان اور رتبہ کے ہیں، یعنی اس کی ذات اتنی بلند اور اس قدر عظیم الشان ہے کہ کوئی بھی چیز اس کی شریک وسہیم اور اس کی ہم رتبہ نہیں ہوسکتی، وہ اپنی ذات میں بالکل یکتا، بےنیاز اور ہر چیز سے مستغنی ہے، کسی کا یہ درج نہیں کہ وہ اس کا کفو اور ہمسر ہو سکے۔ سو وہ ہر لحاظ سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 72:4

وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ Open ayah 72:4 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے جو احمق ہیں وہ اللہ کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی بات کہتے تھے2

6 ۔ سفیہہ لیڈروں کی سفاہت و حماقت کا ذکر : سو جنوں نے اپنے اس قول میں مزید کہا اور ہم میں کہ بیوقوف اللہ کے بارے میں حد سے بڑی ہوئی بات کہتے تھے۔ اپنی حماقت اور جہالت کی بناء پر، کہ مشرک انسان حضرت خالق جل مجدہ کو مخلوق پر قیاس کر کے اس کی طرف مخلوق کی صفات ہی کی نسبت کرتا اور شرک کا مرتکب ہوتا ہے، والعیاذ باللہ جب کہ وہ وحدہ لاشریک مخلوق کی ہر صفت و شان سے پاک اور اس کے احاطہ و ادراک سے وراء الورا ہے، فتعلی اللہ عما یقولون علوا کبیرا یہاں پر ان جنوں نے سفیہ کا یہ لفظ اپنے سردار کے لئے استعمال کیا، اس لئے کہ قرآن سننے کے بعد جب توحید کی حقیقت ان پر واضح ہوگئی تو اس سے ان کے سردار کی سفاہت ان پر عیاں ہوگئی۔ سو انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہمارا بیوقوف سردار اللہ تعالیٰ کے بارے میں حق سے ہٹی ہوئی باتیں کہنے کے ضمن میں ہم سے کہتا رہا کہ اللہ کی بیوی بھی ہے اور اولاد بھی، فلاں فلاں اس کے بیٹے اور فلاں فلاں اس کی چہتی بیٹیاں، لیکن قرآن سننے کے بعد اب ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ہمارے احمق سردار کی یہ باتیں بالکل بےبنیاد تھیں، چناچہ ہم نے ان خرافات سے توبہ کرلی اور ہم اپنی قوم کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کی باتوں سے توبہ کریں اور ایسے کسی سفیہ کے چکمے میں نہ آئیں۔ سبحان اللہ ! کیسی قوت ہوتی ہے یہ ایمان و یقین کی قوت جس سے سرفراز ہونے کے بعد انسان کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنور الایمان۔ اللہم فزد نامنہ وثبتنا علیہ یا ذوالجلال والا کرام۔
Ayah 72:5

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ Open ayah 72:5 in the Quran reader

اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ انسان اور جن کبھی اللہ کے بارے میں کوئی جھوٹی بات نہیں کہہ سکتے

7 منکرین کے مغالطوں اور دھوکہ وہی پر تنبیہ کا ذکر وبیان : سو جنوں نے اپنے کلام میں مزید کہا اور ہمارا خیال تھا کہ کوئی انسان یا جن اللہ کے بارے میں جھوٹی بات نہیں کہہ سکتا۔ اسی بناء پر ہم ان کی بہت سی شرکیہ باتوں کو بھی مانتے رہے، مگر اب حقیقت کھلی، اور ہم اس سے باز آئے اور ان جھوٹی اور حد سے بڑھی ہوئی باتوں سے تائب ہوئے، سو اس سے انہوں نے اپنی قوم کو آگاہ اور خبردار کردیا کہ تم کہیں ان کے چکموں میں نہیں آجانا، یہ سب اللہ پر تہمتیں باندھنے والے لوگ ہیں۔ بہرکیف اس سے انہوں نے اپنے اس مغالطے کا ذکر کردیا جس میں مبتلا ہونے کی بنا پر وہ اپنے ان گمراہ لیڈروں کے چکر میں پھنسے ہوئے تھے۔ سو انہوں نے کہا کہ ہم یہ گمان بھی نہیں کرسکتے تھے کہ انسان اور جن اللہ پر اس طرح کی تہمتیں باندھنے کی جسارت کرسکتے ہیں۔ سو ہم اپنی سادگی کی بنا پر ان کے چکموں میں آگئے لیکن اب ہم پر حق پوری طرح واضح ہوگیا ہے۔
Ayah 72:6

وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ Open ayah 72:6 in the Quran reader

اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے جس سے ان کی سرکشی (اور بددماغی) اور زیادہ بڑھ گئی تھی

8 انسانوں کی غلط روش سے جنوں کی سرکشی میں اضافہ کا ذکر وبیان : سو ان جنوں نے اپنے کلام میں مزید کہا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے جس سے ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم چناچہ روایات میں وارد ہے کہ مشرکین کو اپنے سفروں کے دوران جب کسی جگہ پڑاؤ کرنا وہتا وہ پکار کر کہتے کہ ہم اس عالقہ کے جنوں کے سردار کی پناہ لیتے ہیں اور پھر وہ مطمئن ہوجاتے کہ اب ہمیں جنوں کے سردار کی پناہ مل گئی ہے، عکرمہ سیر ویات ہے کہ اس سے قبل جن انسانوں سے کر بھاگا کرتے تھے، مگر جب انہوں نے انسانوں کو اس طرح ان سے پناہ مانگتے دیکھا تو وہ مست اور سرکش ہوگئے اور بھاگنے کی بجائے وہ الٹا ان کے سروں پر سوار ہوگئے، والعیاذ باللہ من سوء و شر بہرکیف انہوں نے اپنی قوم سے مزید کہا کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ لیتے تھے۔ جس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی اور وہ اپنے بارے میں زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے کہ وہ واقعی کوئی بڑی چیز ہیں۔
Ayah 72:7

وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ Open ayah 72:7 in the Quran reader

اور یہ کہ انہوں نے بھی یہی سمجھ رکھا تھا جیسا کہ تم نے سمجھ رکھا ہے کہ اللہ کبھی کسی کو بھی نہیں اٹھائے گا (رسول بنا کر)

9 توحید کے بعد رسالت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں نے اپنی قوم سے مزید کہا کہ تمہاری طرح انہوں نے بھی یہ سمجھ رکھا تھا کہ اللہ کسی کو نہیں اٹھائے گا۔ یعنی رسول بنا کر۔ یعنی اب کوئی رسول نہیں آئے گا مگر اب یہ قرآن سننے سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ ان کا یہ کہنا خلاف واقع غلط اور جھوٹ تھا، دوسرا مطلب بیعث کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا، یعنی وہ قیامت کے اور جزا اور سزا کے منکر تھے، سو اب اس قرآن عظیم سننے کے بعد اس پر ایمان لے آئے اور ان کے سامنے واضح ہوگیا کہ اللہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے رسول بھی بھیجتا ہے اور وہ بندوں کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے گا بھی۔ سو ان دونوں میں سے پہلے احتمال پر اس میں توحید کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور دوسرے احتمال میں یہ توحید کے بعد قیامت اور آخرت کا ذکر ہوگا اور یہ دونوں ہی اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہیں۔ سو فرشتوں نے اپنی قوم کے سامنے ان دونوں ہی عقیدوں کا ذکر کیا تاکہ ان کے سامنے حق پوری طرح واضح ہوجائے۔
Ayah 72:8

وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ Open ayah 72:8 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو تو اس کو بھرا ہوا پایا سخت پہرہ داروں اور شہابوں (کی بارش) سے

10 جنوں کے اونے نئے تجربے کا ذکر و حوالہ : سو انہوں نے مزید کہا اور ہم اس سے پہلے آسمان کے کچھ ٹھکانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے۔ جہاں سے سن گن کر کچھ خبریں لے آتے اور وہ کاہنوں تک پہنچاتے جس میں وہ لوگ سو جھوٹ اور شامل کر کے آگے چلتا کردیتے " جس سے ان کا کاروبار چلتا، (کما ورد فی الاحادیث) مگر اب یہ سلسلہ ٹھپ کردیا گیا اور ہمارا اوپر جانا اور وہاں بیٹھنا سننا بند کردیا گیا، سو اب جو کوئی اس طرح سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لئے ایک شعلہ کو گھات میں لگا ہوا پاتا ہے سو اس سے ان جنوں نے اپنے اس نئے تجربے کا حالہ دیا جو ان کو نزول قرآن کے اس ابتدائی دور میں پیش آیا تھا اور جو اس کائنات کے نظام میں پہلی بار اس طرح رونما ہوا تھا سو انہوں نے اپنے اس نئے تجربے کو اپنی قوم کے سامنے پیش کیا سو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کائنات میں رونما ہونیوالی اس تبدیلی کا ذکر تو کیا لیکن اس کا وہ کوئی سبب نہ بتاسکے اور اس کی وجہ آگے والی آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اساہم تبدیلی کی حکمت ان کے سامنے ابھی اچھی طرح واضح نہیں ہوئی تھی تاہم اس واقعے کو نزول قرآن کے واقعے سے ملا کر انہوں نے یہ تاثر دیا کہ آسمان کے نظام میں واقع ہونے والی یہ تبدیلی نزول قرآن ہی سے تعلق رکھنے والی چیز ہے اور اسی کی حفاظت کی غرض سے یہ تغیر اور انقلاب واقع ہوا ہے۔
Ayahs 72:9–10

وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ Open ayah 72:9 in the Quran reader

اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم آسمان کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے (وہاں کی خبروں کے بارے میں) کچھ سن گن لینے کے لئے مگر اب (یہ حال ہے کہ) جو بھی کوئی سننے کے لئے کان دھرتا ہے تو وہ پاتا ہے اپنے لئے ایک شعلہ گھات میں لگا ہوا

وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ Open ayah 72:10 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے

11 ۔ نظام کائنات میں واقع ہونے والی تبدیلی پر اظہار تردد کا ذکر وبیان : سو نظام کائنات میں واقع ہونے والی اس تبدیلی پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا اور ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لئے کسی شرکا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی خیر کا ارادہ فرمایا ہے۔ اس نئی اور انقلابی صورتحال سے، جواب دیکھنے میں آرہی ہے، یہاں پر ان جنوں کا حسن ادب ملاحظہ ہو کہ شر کی نسبت اللہ پاک کی طرف نہیں کی، بلکہ مجہول کے صیغے کے ساتھ اشر ارید کہا جب کہ بھلائی اور خیر (رشد) کی نسبت اس کی طرف کی اور کہا ام ارادبھم ربھم رشدا کہ وہ وحدہ لاشریک حقیقتاً اور فی الواقع ہر قسم کے شر اور اس کے ہر شائبے سے پاک اور بالا و برتر ہے، وہاں خیر ہی خیر ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ان جنوں کے سامنے اس تبدیلی کی اصل علت چونکہ واضح نہیں ہوئی تھی جیسا کہ ہم نے اوپر والے حاشے میں بھی ذکر کیا ہے۔ اس لئے انہوں نے اس بارے اپنے تردد کا اظہار کیا کہ اگرچہ اس کا اصل سبب ہم پر واضح نہیں تاہم یہ زمین میں کسی اہم انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہے۔
Ayah 72:11

وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ Open ayah 72:11 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ اور طرح کے (غرض) ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے تھے1

12 فصل و وصل کی بنیاد ایمان و عمل : سو انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے ہم لوگ مختلف طریقوں پر تھے مگر اب قرآن کی روشنی سے ہمیں معلوم ہوگ یا کہ فصل ووصل کی بنیاد اور اپنے پرائے کے درمیان فرق وتمیز کی حد بندی ایمان و عمل پر ہے۔ سو اس سے پہلے ہمارے اندر کچھ نیک لوگ بھی تھے اور کچھ اور طرح کے بھی۔ یعنی جو بالکل برے ہیں یا پہلوں کی بہ نسبت کم نیک ہیں، مطلب یہ کہ اب تک تو ہماری نگاہوں میں نیکی اور بدی کے درمیان کوئی فرق نہیں تھا، برے اور بھلے دونوں ہی قسم کے لوگ ہمارے یہاں موجود تھے اور دونوں ہی ہمارے نزدیک برابر تھے، لیکن اس قرآن نے ہماری اس غلط فہمی کو دور کردیا اور بتادیا کہ یہ سب لوگ ایک برابر اور ایک ہی راہ پر چلنے والے لوگ نہیں ہیں، بلکہ ہمارے طریقے اور راستے الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ ہم اس فرق کو محلوظ رکھ کر لوگوں سے معاملہ کریں، سو فصل و وصل، فرق و امتیاز اور اپنے پرائے کی تمیز کی بنیاد ایمان و عمل پر ہونی چائے نہ کسی دوسرے رشتہ وتعلق پر، سو اس طرح انہوں نے اپنی قوم کے ان لوگوں سے براءت اور بیزاری کا اعلان کردیا جو دعوت ایمان کے بعد بھی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے تھے۔ سو اسلام میں فصل و وصل اور ولاء و براء کی اصل بنیاد ایمان و عمل ہے اور بس اور قوم و قبیلہ وغیرہ کے دور سے عوارض کی اس ضمن میں کوئی حیثیت نہیں۔
Ayah 72:12

وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ Open ayah 72:12 in the Quran reader

اور یہ کہ اب ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم کسی بھی طرح عاجز نہیں کرسکتے اللہ کو نہ زمین میں (کہیں چھپ کر) اور نہ ہی (اور کہیں) بھاگ کر

13 کوئی اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑے سے باہر نہیں ہوسکتا : سو ان جنوں نے مزید کہا کہ ہم نے یقین کرلیا کہ ہم کسی بھی طرح اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ نہ زمین میں کہیں چھپ کر اور نہ کہیں بھاگ کر۔ یعنی ایمان لانے کے بعد اب ہمارا عقیدہ اور یقین یہ ہوگیا ہے اور دوسرے مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے سے ہی خدا خوفی کی یہ صفت ہم اپنے اندر پاتے تھے اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ قرآن پاک سنتے ہی ہم فوراً ایمان کے شرف سے مشرف ہوگئے، سو اس طرح انہوں نے اپنی قوم کو خبردار کردیا کہ ہم اللہ کی گرفت سے کسی بھی طرح نکل نہیں سکتے۔ بلکہ ہر وقت اس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ سو اللہ تعالیٰ کی قوت وقدرت کا یقین و استخصار اصلاح احوال کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ سو اللہ تعالیٰ وبا التوفیق۔
Ayah 72:13

وَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ Open ayah 72:13 in the Quran reader

اور یہ کہ جب ہم نے سنا اس (کلام) ہدایت کو تو ہم (بلا چون و چرا فوراً اور سچے دل سے) اس پر ایمان لے آئے پس جو کوئی (صدق دل سے) ایمان لائے گا اپنے رب پر تو نہ تو اس کو کوئی (اندیشہ و) خوف ہوگا کسی حق تلفی کا اور نہ کسی طرح کی زیادتی کا

14 ایمان باللہ سلامتی عطبع کا طبعی تقاضا اور منطقی نتیجہ والحمد للہ جل و علا۔ سو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا اور یہ کہ جب ہم نے یہ کلام ہدایت سنا تو ہم اس پر ایمان لے آئے : کہ یہ کلام بلاشبہ اللہ پاک کا نازل فرمودہ کلام برحق ہے اور اس میں جو کچھ ارشاد فرمایا گیا ہے وہ سب حق اور سچ ہے سو اس طرح انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنی مثال پیش کردی کہ جب ہم سنتے ہی اس پر ایمان لے آئے تو تم لوگوں بھی ایسے ہی کرنا چاہتے کہ یہی تقاضاہ سلامتی طبع کا اور اسی میں بھلا ہے سب کا دنیا اور آخرت دونوں میں اور یہی تقاضا ہے نور حق و ہدایت کی قدر دانی کا ایسی اختیار کی ہوی روش ان تمام لوگوں کو اختیار کرنی چاہئے جن کے اندر حق و دایت کے لئے احترام موجود ہے ورنہ وہ اپنا نقصان ہی کریں گے۔ کیونکہ ایمان باللہ سلامتی دارین کی سعادتوں سے سرفرازی کا ذریعہ دستیاب ہے اس کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی ایمان لائے گا اپنے رب پر اس کے لئے نہ کسی کمی کا اندیشہ ہے نہ زیادتی کا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان والوں کے لئے کسی حق تلفی کا کوئی خوف و اندیشہ نہیں کہ اس کی کوئی نیکی ضائع چلی جائے اور وہ اس کے اجر وثواب سے محروم ہوجائے، یا اس کے اس کے استحقاق سے کم ثواب دیا جائے، سو ایسی کوئی بات وہاں نہ ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس حقیقت کی اس طرح تصریح فرمائی گئی فلا یخاف ظلما ولا ہضما (طہ 112) سو اس ارشاد میں ایمان والوں کے لئے بڑا سامان اطمینان ہے بکل حال امن الاحوال کہ ان کے لئے نہ کسی کمی کوئی خدشہ اور نہ کسی زیادہ کا کوئی خطرہ ہوگا کہ کوئی ایس جرم و قصور اس کے کھاتے میں ڈال دیا جائے جو اس نے نہ کیا ہو سو ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوگی، بلکہ پورا پورا انصاف ہوگا، سو اس طرح انہوں نے ایمان لانے والوں کی حوصلہ افزائی کردی کہ اس میں کسی کے لئے کوئی بھی نقصان نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس اس میں دارین کی سعادت و سرخروئی، امن و سلامتی اور فوزو و فلاح سے سرفراز کی ضمانت ہے اور یہ کہ انسان کے کئے کرائے کا ذرہ ذرہ محفوظ و گا اور وہ اس کا پورا پورا صلہ وثمرہ پائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا۔ " فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ " (الزلزال :87) یعنی جس نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھے گا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویریدو علی ما یحث ویریدو ہوا الہادی و المعین سبحانہ و تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین
Ayahs 72:14–16

وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا Open ayah 72:14 in the Quran reader

اور یہ کہ ہم میں سے کچھ فرمانبردار ہیں اور کچھ (حسب سابق منحرف اور) بےراہ بھی پس جو کوئی فرمانبردار ہوگیا اپنے رب کا تو ایسے لوگوں نے ڈھونڈ لیا راستہ ہدایت (و نجات) کا

وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ Open ayah 72:15 in the Quran reader

اور جو ظالم (و نافرمان) ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے

وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ Open ayah 72:16 in the Quran reader

اور یہ (کہو کہ میری طرف یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان کو ضرور سیراب کرتے بافراغت پانی سے

16 ۔ سیدھی راہ کو اپنا نا سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ سیدھے راستے کو اپنائے ہوتے تو ہم ضرور بالضرور ان کو سیراب کرتے بافراغت پانی سے اور اس کے نتیجے میں ان کی دنیا بھی بنتی اور آخرت بھی سنورتی۔ تو سو جنوں کے تاثرات و اقوال کے ذکر وبیان کے بعد اب یہاں سے کلام کا رخ براہ راست قریش کی طرف مڑ میں خسارے کا سودا نہیں، بلکہ یہ راہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ ہے۔ اس کو اپنانے میں خود انہی کا بھلا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی میں خود انہی کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ الطریقہ سے یہاں پر مراد توحید کی صراط مستقیم ہے اور اس کو الف لام کی تعریف کے ساتھ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ یہ گویا ایک جانی پہچانی راہ ہے اور حقیقت نفس الامری بھی یہی ہے کہ توحید خداوندی کی راہ ایک ایسی جانی پہچانی راہ ہے کہ خود فطرت انسانی بھی اس کی گواہ اور شاہد عدل ہے، انسان کی تخلیق و پیدائش بھی اسی عقیدہ توحید پر ہوئی ہے، اسی لئے دین اسلام کو دین فطرت کہا جاتا ہے، قعل و نقل کے دلائل بھی اسی کی تائید و تصدیق کرتے ہیں، آفاق وانفس بھی اسی کی گاہ دے رہے ہیں اور اللہ کے رسولوں اور کتابوں نے بھی اسی کی دعوت دی ہے۔ سو توحید کی راہ جو کہ فطرت کی راہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ اور واحدہ راہ ہے اور یہی وہ راہ ہے جس کو اختیار کرنا اور اس پر گامزن رہنا حضرت حق جل مجدہ کا اس کے بندوں پر حق ہے اور یہی بندے کی شان عبدیت و بندگی کے لائق ہے اور اسی پر چل کر وہ حقیقی عزت پاسکتا ہے اور اپنے رب کے حضور شرف باریابی سے سرفراز ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر حضرت ودو کی زبان سے اس حقیقت کا اس طرح اعلان کروا دیا گیا۔ " ان ربی علی صراط مستقیم " (ہود :56) او اس صراط مستقیم کا حاصل و خلاصہ یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر حضرت عیسیٰ کی زبان سے اس حقیقت کا اعلان اس طرح کروایا گیا۔ " وان اللہ ربی و ربکم فاعبدہوہ ہذا صراط مستقیم " ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ سیدھی راہ کو اپناتے تو ہم ان کو اصل ہے اور اسی پر ہر چیز کی زندگی کا مدارو انحصار ہ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا وجعلنا من الماء کلشی حی (الانبیاء 30) اور اس طرح یہ مشرکین مکہ اس عذاب اور قحط سالی سے رہائی پالیتے، جس میں اپنے کفر و استکبار کی بناء پر یہ اس وقت مبتلا ہیں، سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان و عقیدہ اور عمل صالح کی برکت سے انسان کو آخرت کی حقیقی اور دائمی نعمتوں سے پہلے اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور برکتوں سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ولو ان اھل القریٰ آمنوا و اتقوا لفتحانا علیھم برکت من السماء والارض الایۃ (الاعراف۔ 96) سو اس ارشاد سے مشرکین مکہ کے اس مشرکانہ وہم کا ازالہ فرما دیا گیا کہ اگر انہوں نے قرآن کی دعوت قبول کرلی، تو مال و دولت کی اس فراوانی سے محروم ہوجائیں گے، جس سے وہ بہرہ مند ہیں کیونکہ وہ اپنی اس خوشحالی کو اپنے بتوں کا فیض اور ان کی مہربانی سمجھتے تھے، اسی بنئا پر ان کا کہنا اور ماننا تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کی دعتو قبول کرلی تو ان کے وہ خود ساختہ بت اور ان کی وہ من گھڑت دیویاں اور دیوتا ان سے ناراض ہوجائیں گے اور اس کے نتیجے میں یہ اس رفاہیت اور خوشحالی سے محروم ہوجائیں گے جو ان کو حاصل ہے سو اس ارشاد سے اس حقیقت کہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ ان عقل کے اندھوں کی مت ماری اور اندھے اور اوندھے پن کا ایک مظہر ہے کہ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو ان خود ساختہ و من گھڑت بتوں اور فرضی و وہی دیویوں دیوتاؤں سے منسوب کر رکھا ہے، ورنہ حقیقت میں یہ سب نعمتیں تو اللہ تعالیٰ ہی کی بخشی ہوئی ہیں اور اگر یہ کفر و شریک اور ناشکری کو ترک کر کے ایمان و یقین اور شکر گزاری کی روش کو اپنائیں گے تو ان کی ان نعمتوں کو وہ نہ صرف باقی رکھے گا بلکہ ان میں افزوئی فرمائے گا، سبحانہ و تعالیٰ کیونکہ اس کا ارشاد ہے اور صاف اور واضح ارشاد ہے لئن شکر تم لا زیدنکم یعنی اگر تم لوگ شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا۔ فلک الحمد والشکریاربی حئی ترضی ولک الحمد والشکر بعد ماتروضی والی یوم العرض علیک واللقاء
Ayah 72:17

لِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ Open ayah 72:17 in the Quran reader

تاکہ اس (ارزانی و فراوانی) میں ہم ان کی آزمائش کریں اور جو کوئی منہ موڑے گا اپنے رب کے ذکر (اور اس کی یاد دلشاد) سے تو وہ ڈال دے گا اس کو ایک (بڑھتے) چڑھتے ہولناک عذاب میں2

17 دنیاوی مال و دلوت ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان کو فراوانی رزق عطا کریں گے تاکہ اس کے ذریعے ان کی آزمائش کریں کہ اس پر یہ لوگ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری سے کام لیتے ہیں والعیاذ باللہ العظیم سو اس ارشاد سے برسر موقع پر ایک تنبیہ فرما دی گئی کہ اس دنیا میں مال و دولت، رزق و روزی اور جاہ منصب وغیرہ جو بھی کچھ کسی کو ملتا ہے، اس سے کسی کو اس غلط فہمی اور دھوکے کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ وہ خدا کا منظور نظر ہے بلکہ یہ سب کچھ دراصل ابتلاء و آزمائش کا سامان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں پا کر اس کا شکر گزارو فرمانبردار بنتا ہے، یا ناشکرا اور مغرور و متکبربن جاتا ہے، والعیاذ باللہ مشرکین مکہ اور قریش کے یہ مغرور و متکبر لیڈر اس واضح حقیقت کو بھول گئے اور اس کے نتیجے میں انہوں نے اللہ کی ہدایت و تذکیر سے منہ موڑ لیا، والعیاذ باللہ اور یہی حال ابنائے دنیا کا ہمیشہ رہا اور وہ ہمیشہ اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ جس کو دنیائے دوں کے کچھ ٹکے مل گئے وہ خدا کا منظور نظر ہے۔ کل بھی ان کا یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگ راہ حق و ہدایت سے محروم رہتے ہیں کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ الا ماشاء اللہ حالانکہ یہاں پر جس کو بھی جو بھی کچھ ملتا ہے وہ دراصل اس کی آزمئاش کا سامان ہوتا ہے اور بس کہ کون شکر ادا کرتا ہے اور کون ناں کی العیاذ باللہ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اغراض و انکار باعث محرومی و عذاب ہے اور یہ کہ اغراض و انکار باعث محرومی و عذاب والعیاذ باللہ 18 ۔ اعراض وانکار باعث محرومی والعیاذ باللہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جس نے اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑ ا وہ اس کو ایک بڑھتے چڑھتے عذاب میں ڈالے گا، والعیاذ باللہ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جس میں کسی طرح کی راحت کا کوئی سوال نہ ہو اور اس کو صعد اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ عذاب، عذاب پانے والے شخص پر ایسا سوار ہوجائے گا اور اس پر اس طرح مسلط ہوجائے گا کہ اس کے لئے اس سے چھوٹنے اور نکل بھاگنے کی کوئی صورت ممکن نہیں رہے گی، والعیاذ باللہ العظیم (ابن کثیر جامع البیان، صفوۃ البیان، ماغی، اور خازن وغیرہ) اس لفظ کا اصل مادہ چونکہ صعود ہے جس کے معنی چڑھنے اور ترقی کرنے کے ہیں، اس لئے اس کے مفہوم میں بڑھنے چڑھنے اور ترقی کرنے کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے، سو اس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اپنی کتاب کی تکذیب کی پاداش میں جن کو پکڑتا ہے ان کا عذاب وقتی اور ہنگامی نوعیت کا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں برابر ترقی اور بڑھوتری ہوتی رہتی ہے، اس دنیا میں ایسے لوگ جس عذاب سے دوچار ہوتے ہیں اس سے بڑے عذاب میں وہ آخرت میں مبتلا ہوں گے اور اس میں بھی ترقی ہوتی رہے گی، والعیاذ باللہ۔ سو رب کے ذکر سے اعراض و روگردانی برتنے والوں کے لئے ایک ایسا سخت اور اس قدر ہولناک عذاب ہوگا جس کی شدت اور سختی میں اضافہ اور ترقی ہی ہوتی جائے گی۔ اس کے ختم ہونے یا اس میں بالتدریج کمی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوگا سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کے ذکر سے اعراض و روگردانی برتنے کا جرم کس قدر ہولناک اور کتنا سخت جرم ہے۔ والعیاذ باللہ من کل شائبتہ من شوائب الاعراض عن ذکر جل و علا
Ayah 72:18

وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ Open ayah 72:18 in the Quran reader

اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں پس تم لوگ مت پکارو اللہ (وحدہ لاشریک) کے ساتھ کسی کو بھی

19 سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسجدیں اللہ ہی کے لئے ہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسجدیں سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں ان کی بناء اور بنیاد ہی اللہ پاک کی یاد دلشاد اور اس کے ذکر پر ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پوری روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور طہور (پاکی کا ذریعہ) بنادیا گیا ( جعلت الارض مسجداً وطھورا) اس لئے پوری روئے زمین میں کہیں بھی اللہ پاک وحدہ لاشریک کے ساتھ کسی بھی اور ہستی کو پکارنا جائز نہیں، جیسا کہ حضرت حسن بصری وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور بعض حضرات مفسرین کے نزدیک یہاں پر مساجد سے مراد اعضاء سجدہ ہیں، یعنی دونوں پاؤں، دونوں گھٹنے، دونوں ہاتھ، اور پیشانی، مطلب یہ کہ جب یہ سب اعضاء اللہ پاک ہی کے بخشے ہوئے اور اسی کے پیدا کردہ اور عطاء فرمودہ ہیں تو ان کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کے آگے مت جھکاؤ کہ یہ شرک بھی ہے اور عقل و فطرت تقاضوں کے خلاف بھی، مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج مسلمان کہلانے والی اس امت میں سے جہالت کا مارا ہوا ایک بڑا طبقہ شرک کی اسی غلاظت میں مبتلا اور اس کی دلدل میں بری طرح سے لت پت ہے، قبروں، آستانوں پر، پیروں، اور فقیروں کے آگے رکوع و سجود ہو رہے ہیں، ان کے پھیرے مانے جاتے اور ان کے گرد طواف کئے جاتے ہیں ان کے نام کی نذریں مانی جاتیں اور نیازیں دی جاتی ہیں اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور طرح طرح کے شرکیہ نعرے لگائے جاتے ہیں یہاں تک کہ مسجدوں کے اندر لاؤڈ سپیکروں پر غیر اللہ سے مانگنے کی تعلیم و تربیت کی جاتی ہے، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری اور نعرہ غوثیہ وغیرہ جیسے خد ساختہ اور شرکیہ نعرے علی الاعلان اور علی رؤوس الاشہاد لگائے جاتے ہیں، قرآن تو کہتا ہے کہ مسجدیں اللہ کی ہیں پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو، مگر افسوس اور صد افسوس کہ قرآن و سنت کی ان صاف وصریح تعلیمات کے باوجود اور ان کے بالکل برعکس آج کا کلمہ گو مشرک نہ صرف یہ کہ غیر اللہ کو پکارتا اور دھڑلے سے پکارتا ہے، بلکہ وہ الٹا اس سے روکنے اور منع کرنے الوں کو کوستا اور برا بھلا کہتا اور ان کو طرح طرح سے بدنام و مطعون کرتا ہے اور مسجدوں کی دیواروں پر بلکہ ان کی محرابوں کے اندر اللہ تعالیٰ کے نام پاک کے ساتھ اس کی عاجز مخلوق کے ناموں کو شرکیہ انداز میں او ندائیہ کلمات کے ساتھ اس طرح لکھتا ہے جس طرح کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے کوئی برابر کی ہستیاں ہیں، والعیاذ باللہ العظیم کہاں ہے روزم مکافات اے خدائے دیرگیر، بہرکیف مساجد کے یہاں پر یہ تینوں معنی کئے گئے ہیں اور تینوں ہی صحیح ہیں یعنی معروف مسجدیں، اعضاء سجدہ اور پوری روئے زمین، پس کہیں بھی اور کسی بھی طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو پکارنا درست نہیں، (طبری، قرطبی مراغی، ابن کثیر، محاسن، معالم، مدارک، خازن، معارف اور صفو، وغیرہ) والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 72:19

وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ Open ayah 72:19 in the Quran reader

اور یہ کہ جب کھڑا ہوتا ہے اللہ کا بندہ خاص اسی (وحدہ لاشریک) کو پکارنے کے لئے تو یہ لوگ تیار ہوجاتے ہیں اس پر ٹوٹ پڑنے کو

20 ۔ پیغمبر کمال عبدیت کے کامل نمونے ۔ (علیہ السلام) : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ جب کھڑا ہوتا اللہ کا بندہ خاص اسی کو پکارتا ہوا تو یہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ عبداللہ سے یہاں پر مراد اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جو کہ کمال عبدیت کے ایسے عمدہ کامل اور بےمثل و اعلیٰ نمونے تھے کہ اس کی کوئی نظیر و مثال چشم فلک نے نہ آج تک کبھی دیکھی اور نہ ہی آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی، کہ وہ خداوند قدوس کی ساری خدائی اور پوری مخلوق میں اپنی مثال آپ ﷺ ہی تھے، اسی لئے ہم نے ترجمہ میں اس اضافت تشریفی کے مفہم کو ظاہر و واضح کرنے کے لئے عبد اللہ کا ترجمہ " اللہ کا بندہ خاص " کے الفاظ سے کیا ہے اور کمال عبدیت کا یہ وصف ہی دراصل وہ حقیقی کمال ہے، جو کہ حضرت حق جل مجدہ کے یہاں اصل مطلوب و محمود ہے اسی لئے قرآن حکیم میں اس کا ذکر کئی جگہ فرمایا گیا ہے جیسا کہ سورة بقرہ میں فرمایا گیا علی عبدنا اور سورة اسراء میں فرمایا گیا بعیدہ اور یہاں یعنی سورة جن کی اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا عبداللہ مگر افسوس کہ اہل بدعت کا جاہل ٹولہ اور ان کے متجاہل پیشوا اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور وہ اسی محمود و مطلوب و صف کے خلاف طرح طرح سے تاویل و تحریف سے کام لیتا ہے اور نصوص کتاب و سنت میں قسما قسم کی تاویلات وتلبیسات کا ارتکاب کر کے پیغمبر ﷺ کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتا ہے اور ایسے لوگ اپنے طور پر اس کو عشق و محبت کا تقاضا قرار دیتے ہیں، فالی المشتکی وھوالمستعان وعلیہ التکلان جل جلالہ وم نوالہ بہرکیف اس ارشاد کا مدا یہ ہے کہ جو گھر خلاص اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے تعمیر کیا گیا تھا اس میں بھی جب اللہ تعالیٰ کا بندہ خلاص اس کی عبادت و بندگی کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو مخالفین اس کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں اور یہ اس لئے کہ مشرک کو سب سے زیادہ چڑ توحید ہی سے ہوتی ہے، پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے اور کھلے مشرک کی طرح کلمہ گو مشرک کا بھی یہی حال ہے جس کے مظاہر جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھنے میں آتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم 21 منکرین کی عقیدہ توحید سے چڑھ کی تصویرکا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ کا بندہ اللہ ہی کو پکارنے کھڑا ہوتا ہے تو منکرین کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ اس پر پل پڑیں گے : اپنے غیظ و غضب کی بناء پر تاکہ وہ اس نور کو بجا دیں جو آپ ﷺ دنیا کے سامنے پیش فرما رہے ہیں مگر انی لھم ذالک ؟ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ویابی اللہ الا ان یتم نورہ آیت کریمہ کا یہ مفہوم ابن جریر طبری وغیرہ کئی حضرات نے اختیار فرمایا ہے اور یہی حضرت حسن بصری قتادہ ؓ اور ابن زید غیرہ سے مروی و منقول ہے اور دوسرا مطلب اس کا یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ایسے موقع پر جن حرص اور تعجب کی بناء پر اس کے سننے کے لئے آپ ﷺ پر ہجوم کرتے ہیں، تاکہ اس کے سماع کی لذت سے شاد ام ہوں، اور تیسرا ایک اور لطیف مطلب اس کا وہ ہے جو حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے بیان فرمایا کہ لوگ اللہ کے اس کامل اور خاص بندے کو اللہ کے حضور کھڑا دیکھنے سے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی خدائی میں شریک وسہیم ہوگیا اور خدائی اختیار کا مالک ہوگیا اس لئے وہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑتے ہیں کوئی اولاد مانگتا ہے کوئی روزی کی درخواست کرتا ہے اور کوئی کسی اور طرح کی حاجت روائی اور مشکل کشائی چاہتا ہے اسی لئے اگلی آیت میں آپ کو یہ اعلان فرمانے کا حکم دیا گیا کہ میں تمہارے لئے کسی طرح کے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، بہرکیف " کا دوا " کی ضمیر جمع کا مرجع کفار و مشرکین بھی ہوسکتے ہیں اور جن بھی، اور جن وانس دونوں بحیثیت مجموعی بھی اور یہ سب ہی معانی و مطالب اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور یہ اس کتاب حکیم قرآن مجید کی عظمت شان اور جامعیت بیان کا ایک خاص امتیازی وصف اور اعجازی پہلو ہے، سو جنوں نے جب اس کلام معجز نظام کو سنا اور حضرت رسالت مآب ﷺ کو اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کو آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھتے دیکھا تو وہ ٹھٹھ کے ٹھٹھ اس کلام حق ترجمان کو سننے اور ان قدسیوں کی اجتماعی عبادت کے اس دلبریا منظر کو دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے کہ یہ سب کچھ ان کے لئے بالکل نیا تھا، اور اس طرح وہ قبول حق کی سعادت سے بہرہ ور اور نور ایمان کی دولت سے منور اور مالا مال ہوگئے اور کفار و مشرکین نے سنا تو وہ اس نور مبین کو بجھانے کے لئے بھیڑ کر کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح انہوں نے خود اپنی شقاوت و بدبختی کو اور پکا کردیا، والعیاذ باللہ اور لبدلبدۃ کی جمع ہے، جیسے کسر جمع ہے کسرہ کی، اور لبدۃ کے معنی گروہ اور جماعت وغیرہ کے ہیں (صفوۃ البیان، جامع البیان، ابن جری، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، محسان، اور مدارک وغیرہ وغیرہ)
Ayah 72:20

قُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 72:20 in the Quran reader

کہو (ان سے اے پیغمبر ! ) کہ میں تو بہرحال اپنے رب ہی کو پکارتا رہوں گا اور اس کے ساتھ کسی کو بھی (کسی بھی درجے میں) شریک نہیں ٹھہراؤں گا

22 ۔ پیغمبر ﷺ کو توحید کا فیصلہ کن اعلان کرنے کی ہدایت کا ذکر وبیان : سو پیغمبر کو عقیدہ توحید کے بارے میں فیصلہ کن اعلان کی ہدایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں تو بہرحال اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں اور تم مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی میں تو بہرحال اسی کو پکارتا ہوں اور پکارتا رہوں گا، کہ یہی حق اور حقیقت بھی ہے اور عقل و نققل کا تقاضا بھی، فطرت سلیمہ کا مقتضا بھی، اور میری منصبی ذمہ داری بھی، اور جو کوئی اس طریق کو اپنائے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا، اور جس نے اس سے اعراض و انحراف کیا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، دین حق کا کچھ نہیں بگاڑے گا، ولعیاذ باللہ جل وعلا بہر کیف اس سے حضور ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی کہ ان سے کہو کہ خواہ تم لوگ کتنے ہی بدکو، بھڑکو اور تم کتنے ہی کان کھڑے کرو، اور برامانو میں تو بہرحال اپنے رب ہی کو پکارونگا اور میں کسی بھی طرح اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہراؤنگا، کہ معبود برحق تو بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کا کوئی بھی اور کسی بھی درجے میں شریک نہیں۔ نہ اس کی ذات وصفات میں اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں۔ وہ شرک کے ہر شائبے سے پاک اور بری ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ومن یدع مع اللہ الھا اخرلابرھان لہ بہ فانما حسابہ عندربہ یعنی جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو بھی پکاریگا جس کے لئے اس کے پاس کوئی برھان اور دلیل ہیں تو اس کے سوائے اس کے نہیں کہ اس کا حساب اس کے رب ہی کے پاس ہے سو میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کسی بھی اور معبود کو کبھی نہیں پکارونگا اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کو ہی پکارنا اور شرک سے بیزاری کا اعلان کرنا کوئی جرم نہیں کہ اس وجہ سے تم لوگ میری دشمنی پر کمر بستہ ہوجاؤ، والعیاذ باللہ سو اس وحدہ لاشریک کا کوئی بھی شریک نہیں، نہ اس کی ذات وصفات میں اور نہ اس کے حقوق و اختیارات میں، پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے، سبحانہ و تعالیٰ اس لئے اس کی توحید کے عالان کے ساتھ ساتھ شرک کی نفی بھی ضروری ہے۔ اسی لئے دوسرے مقام پر ایمان باللہ کے ساتھ کفر بالطاغوت کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے بلکہ کفر بالطاغوت کا ذکر پہلے فرمایا گیا ہے اور ایمان باللہ کا بعد ہے۔ سو ارشاد ہے " ومن یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوقفی لا انفصام لہا " (البقرہ :256) اور اسی حقیقت کا اظہار و اقرار ہر مومن اپنے کلمہ شہادت میں کرتا ہے۔ جس میں وہ کہتا ہے اشہدان لا الہ الا اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں سو اس پاکیزہ کلمے کے اندر شرک کی نفی پہلے ہی اور توحید خداوندی کا اعلان و اقرار بعد میں۔
Ayah 72:21

قُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا Open ayah 72:21 in the Quran reader

(نیز ان سے یہ بھی) کہہ دو کہ میں نہ تو تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا1

23 پیغمبر نفع و نقصان کے اختیار کے مالک نہیں ہوتے : سو اس اہم اور بنیادی حقیقت کے اعلان کے لئے پیغمبر کو حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ میں نہ تمہارے لئے کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ نقصان کا : کہ یہ سب کچھ خدائی صفات اور اسی کے حقوق و اختیار سے متعلق ہے، جس میں اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تمہارے لئے تو کیا خود اپنے لئے بھی کسی نفع نقصان کا کوئی اختیار نہیں رکھتا، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا قل لا املک لنفسی نفعا ولاضرا (الاعراف 188) یعنی کہو کہ میں اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتا ہوں نہ تن من کا، مگر جو اللہ چاہے سو ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا کہ مشیت سب پر اسی کی حاوی ہے، سبحانہ و تعالیٰ مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے، خدا کے پاس وحدت کے سوا ادھر کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہوا لے لیں گے محمد سے، والعیاذ باللہ العظیم نصوص قرآن و سنت کیا کہتی ہیں، دین نیف کی تعلیمات مقدسہ کیا ہیں اور یہ لوگ کیا کہتے ہیں اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے اس طرح کے خدائی اختیارات آنحضرت ﷺ کی امت میں سے بھی کئی ہستیوں کے لئے یہی مان رکھے ہیں، چناچہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کے بارے میں انہی غالیوں کا کہنا ہے ساڈا عبدالقادر قادر سانوں ہور کسے دی لوڑ نہیں یعنی ہمارا عبدالقادر قادر ہے ہمیں اور کسی کی کوئی ضرورت نہیں، والعیاذ باللہ العظیم وانا للہ وانا الیہ راجعون فالی المشتکی وھوالمستعان وعلیہ الاعتماد و التکلان پھر کوئی بتائے کہ شرک اور کس بلا کا نام ہے ؟ مشرک اور کس کو کہتے ہیں ؟ اور تحریف اور کیا ہوتی ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم بہر کیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر نفع اور نقصان کے اختیار کے مالک نہیں ہوتے۔ پس جو لوگ اس کے خلاف کہتے اور مانتے ہیں وہ جھوٹ کہتے اور شرک کا ارتکاب کر رہے ہیں والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 72:22

قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ Open ayah 72:22 in the Quran reader

کہو (میرا تو خود یہ حال ہے) کہ نہ تو مجھے کوئی اللہ سے بچا سکتا ہے اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ گاہ پاسکتا ہوں

24 اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا : سو اس حقیقت کے اعلان و اظہار کے لئے پیغمبر سے فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہو کہ مجھے اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی میں اس کے سوا کوئی پناہ گاہ پاسکتا ہوں۔ یعنی نہ تو از خود کوئی مدد کو آسکتا ہے اور نہ ڈھونڈے سے کوئی مددگار مل سکتا ہے، کہ ہر کسی کی مدد کرنے والا، اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدۃ لاشریک ہے، سبحانہ تعالیٰ سو اس سے اوپر والی بات کی مزید وضاحت فرما دی گئی کہ اگر بالفرض میں تم لوگوں کی ناز برادری میں یا تم سے مرعوب ہو کر کسی کو خدا کا شریک مان لوں تو یہ اللہ تعالیٰ پر افتراء ہوگا جو کہ سب سے بڑا جرم ہے اور جس کی سزا سے نہ تو کوئی دوسرا مجھے پناہ دے سکے گا اور نہ ہی خود اپنے لیے کوئی مادی وملجا اس کے مقابل میں پا سکوں گا۔ سو اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا۔ سوائے اس کی اپنی رحمت و عنایت کے کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے فلا ملجا منہ الا الیہ بحالہ وتعالیٰ
Ayah 72:23

اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ Open ayah 72:23 in the Quran reader

میرا کام تو بس اتنا (اور صرف اتنا) ہے کہ میں پہنچا دوں (بغیر کسی کمی و بیشی کے) اللہ کی بات اور اس کے پیغاموں کو اور جو کوئی نافرمانی کرے گا اللہ کی تو (وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا کہ) بیشک اس کے لئے جہنم کی (دہکتی) آگ ہے جس میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ ہمیش رہنا ہوگا

25 پیغمبر کا کام پیغام حق پہنچا دینا اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ میرا کام تو صرف اللہ کے پیغام کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے نہ کچھ میرے بس اور اختیار میں ہے اور نہ ہی میری ذمہ داری ہے تم اگر میری ات مانو گے تو تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا، ورنہ اپنا ہی نقصان کرو گے والعیاذ باللہ، اس آیت کا تعلق " لا املک لکم اجراولا رشدا " اوپر والی آیت سے ہے یعنی میں نہ تو تمہارے مطالبے پر تمہیں عذاب دکھا سکتا ہوں اور نہ تمہارے دلوں میں ہدایت اتار سکتا ہوں، میرا کام تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے وہ میں بلا کم وکاست تمہیں پہنچا دوں اور اس کے حکموں سے تم لوگوں کو آگاہ کردوں اور بس سو نہ تو بلاغ کے سوا تمہاری ہدایت و ضلالت سے متعلق مجھ پر کوئی ذمہ داری ہے اور نہ ہی مجھے اس طرح کا کوئی اختیار حاصل ہے کہ میں تمہاری خاطر خدا کے احکام میں سرمو کوئی رد و بدل کرسکوں۔ سو " بلاغا " پر " ورسالاتہ " کے عطف سے اس حقیقت کو وضاح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا فریضہ منصبی صرف پیغام حق کو جوں کا توں پہنچا دینا ہے اور بس آگے اس پیغام کو منوا لینا اور حق اور ہدایت کو لوگوں کے دلوں میں اتار دینا نہ ان کے ذمے ہے اور نہ ہی ان کے بس میں۔ اس کا تعلق خدا وند قدوس کی قدرت اور اس کی مشیت سے ہے کہ دلوں کے حال کو وہی جانتا ہے۔ پس جس کو وہ ہدایت سے نوازے گا وہی دلوت ہدایت سے سرفراز ہو سکے گا۔ جیسا کہ اس نے صاف اور صریح طور پر اس بارے ارشاد فرمایا۔ " من یہد اللہ فہو المتہد ‘ ومن یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشدا " (الکہف :17) یعنی جس کو اللہ ہدایت سے نوازے گا وہی ہدایت پانے والا اور جس وہی ڈال دے گمراہی میں (اس کے اپنے سوء اختیار اور خبث باطن کی بناء پر) تو تم اس کے لئے کوئی ایسا کارساز نہیں پاس کو گے جو اس کو رشد و ہدایت سے نوازدے، سو اپنے قلب وباطن اور اپنی نیت و ارادہ کو درست رکھنا ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی اور اصلاح احوال کی اصل اور اساس ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید، بکل حال من الاحوال 26 ۔ نافرمانوں کیلئے جہنم کی آگ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے یقیناً جہنم کی آگ ہے۔ اپنے اس کفر اور انکار مسلسل کے نتیج میں جس کا ارتکاب انہوں نے زندگی بھر کیا اور اپنے خالق ومالک کی نازل فرمودہ تعلیمات مقدسہ اور ارشادات عالیہ سے اعراض و روگردانی کر کے وہ باغی و سرکش بن گئے اور کفر و بغاوت والی زگند گزاری، یہاں تک کہ ایسے لوگ زندگی کی پونجی کفر اور انکار کی اپنی اسی باغیانہ روش میں گنوا بٹھے، جس کے تدارک کی اس کے بعد کوئی صورت ممکن نہ ہوگی اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے، والعیاذ باللہ العظیم سو پیغمبر کا کام تو پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس اس کے بعد جو لوگ اس سے منہ موڑ کر اعراض برتیں گے ان کا انجام دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہے، لہٰذا وہ اپنے انجام کے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس یہاں پر معصیت سے مراد عام اور معمولی قسم کی معصیت نہیں بلکہ معصیت سے یہاں پ مراد اعراض و انکار کی وہ مصیت ہے جو تمام معاصی کی بنیاد اور منبع ومصدر ہے اور جو اس سیاق وسباق میں زیر بحث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 72:24

حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا Open ayah 72:24 in the Quran reader

(یہ لوگ اپنی اس ہٹ دھرمی ہی پر اڑے رہیں گے) یہاں تک کہ جب یہ خود دیکھ لیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں

27 ۔ منکرین کیلئے تنبیہہ و تذکیر کا ذکر وبیان، سو اس سے منکرین کو ان کے انجام کے بارے میں تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی ہے : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسے ہی رہیں گے یہاں تک کہ جب یہ دیکھ لیں اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ یعنی قیامت کا وہ حقیقی اور دائمی عذاب جس سے آج ان کو خبردار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت سب کچھ ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گا اور ان کو معلوم ہو جئایگا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کے جتھے کی تعداد کم ہے۔ تو اس وقت ان کی پاس و حسرت اور ان کے پچھتاوے کی کوئی حد اور انتہاء نہیں ہوگی۔ مگر اس وقت ان کے پچھتانے سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے، اس لئے خدائے رحمٰن کے اس کلام رحمت نظام کے ذریعے ان کو پیشگی خبردار کیا جا رہا ہے، تاکہ یہ ایمان و اطاعت کی دولت سے سرفراز و سرشار ہو کر اس سے بچنے کی فکر و سعی کرسکیں اور حیات مستعار کی اس فرصت محدود و مختصر میں اپنی اصلاح کرسکیں جو کہ ہر لمحہ ان کے ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے، نیز مایوعدون کے عموم میں وہ عذاب بھی داخل ہے جو رسول کی تکذیب کی پاداش میں ایسی قوموں پر اس دنیا میں بھی آتا ہے اور وہ عذاب بھی جو ان کو آخرت میں ہوگا کہ تکذیب حق کا نتیجہ و انجام بہرحال عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہر کیف اس ارشاد سے منکرین و مکذبین یہ تنبیہ و تذکیر فرما دی گئی کہ جب کشف حقائق اور ظہور نتائج کا وہ وقت ان کے سامنے آجائے گا تب ان کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ جب کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں می، حقیقت حال ان کے سامنے پوری طرح کھل کر واضح ہوجائے گی، اور یہ مارے افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال بیت چکی ہوگی اور اس کا وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اس وقت ان کا وہ نشہ سب ہرن ہوچکا ہوگا جو آج دنیاوی مال و دولت اور جتھا بندی وغیرہ جیسے ظواہر کی بناء پر ان کے سروں پر سوار ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آج تو ان لوگوں کو اپنی قوت اور جمعیت پر بڑا ناز ہے اور اس بناء پر یہ نہ کسی کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ہی داعی حق کی بات کو سننے اور ماننے کیلئے تیار ہوتے ہیں، لیکن جب یہ لوگ اپنے اس عذاب کو دیکھ لیں گے، جس کی وعید آج ان کو سنائی جا رہی ہے، تو اس وقت ان کو اچھی اور پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ قوت اور جمعیت کے اعتبار سے کمزور اور ناتواں کون ہے، یہ لوگ، یا اللہ کا رسول ؟ جو ان کو ان کے اس انجام سے خبردار کر رہا ہے اور جس کے انداز و تبلیغ پر انہوں نے کان نہیں دھرے۔ سو آج تو یہ لوگ اپنے مددگاروں کی قوت و طاقت اور اپنے جتھے اور جماعت کی کثرت کے زعم اور گھمنڈ میں حق بات کو سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتے مگر اس روز جبکہ حقائق اپنی اصل حقیقی شکل میں سامنے آ جائینگے تو ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں۔ اہل ایمان موحدین کے، یا ان کفار و مشرکین کے، جب کہ فیصلے کی گھڑی آپہنچے گی اور یہ لوگ اپنے کئے کرائے کے نتیجے او انجام سے دوچار ہوں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے حتی اذا راواما یوعدون اما العذاب و اما الساعۃ فسیعلمون من ھو شرمکانا واضعف جندا (مریم۔ 75) اور ظاہر ہے کہ اس وقت ان کفار و مشرکین کا حامی و مددگار کوئی بھی نہ ہوگا اور اہل ایمان اپنے خالق ومالک کی نصرت و امداد سے مشرف ہوں گے اور اس کے حکم و ارشاد سے اس کے فرشتے بھی ان کی مدد کریں گے اور آگے بڑھ بڑھ کر ان کا استقبال کریں گے اور وہ اپنے خوش کن ترجیبی الفاظ و کملات سے ان کے کف و سرور کو دوبالا کریں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا، سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الرار (الرعد -24) نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا، یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون (النحل -32) یعنی فرشتے ان کی جان قبض کرتے وقت ان سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سلام ہو تم پر، داخل ہوجاؤ تم جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے اپنی دنیاوی زندگی میں، سوا بناء کفر و باطل نے جو اپن دنیاوی مال و ماتع کی بناء پر اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ رکھا ہے، وہ سراسر دھوکے کا سامان ہے، عزت اور سچی اور حقیقی عزت اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کیلئے ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " وللہ العزۃ ولرسولہ و للمومنین ولکن المنافقین لا یعلمون " (المنافقون :8) ۔ یعنی " عزت تو اصل میں اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کے لئے ہے لیکن منافق (اور کافر) لوگ اس حقیقت کو جانتے نہیں۔ سو ایمان و یین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی دولت ہے جبکہ کفر و نفاق ہر خیر سے محرومی اور دنیا و آخرت کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کی وعید ان کو سنائی جا رہی ہے، تو اس وقت ان کو خود معلوم ہوجائے گا کہ قوت و جمعیت اور جتھے کے اعتبار سے کمزور کون تھا، یہ لوگ یا اللہ کے رسول ؟ سو ان کے یہ جتھے اور جمعیتیں وغیرہ جن پر ان کو اس دنیا میں بڑا زعم اور گھمنڈ تھا۔ سب کچھ یہیں رہ جائے گا اور ان کو وہاں پر تنہا ہی پیش ہونا ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورة انعام میں ارشاد فرمایا گیا۔ " ولقد جئتمونا فرادی کماخلقنا کم اول مرۃ وترکتم ماخولناکم و راء ظہور کم ومانری معکم شفعاء الذین زعتم انہم فیکم شرکائ " یعنی اس روز ان سے کہا جائیگا کہ یقینا تم ہمارے پاس اسی طرح اکیلے اکیلے آگئے جس طرح کہ ہم تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ (الانعام :65) یعنی " تم لوگ ہمارے پاس اسی طرح تنہا آئے ہو جس طرح کہ ہم نے تم پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور وہ سب کچھ اپنے پیچھے چھوڑ دیا جو ہم نے تم لوگوں کو دیا بخشا تھا اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان خود ساختہ شریکوں کو بھی نہیں دیکھ رہے جن کے بارے میں تمہارا زعم اور گھمنڈ تھا کہ وہ تمہارے شریک ہیں " اور ایک اور مقام پر اس بارے اس طرح ارشاد فرمایا گیا۔ " لقد جئتمونا کما خلقنا کم اول مرۃ " الایۃ (الکہف :48) یعنی " تم لوگ ہمارے پاس اسی طرح تنہا آئے ہو جس طرح کہ ہم نے تم پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا سو جتھے اور پارٹی کی کثرت وقوت وغیرہ کا کوئی گھمنڈ بھی وہاں پر کچھ نہیں آسکے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم
Ayah 72:25

قُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا Open ayah 72:25 in the Quran reader

اور کس (کے جتھے) کی تعداد کم ہے (ان سے صاف صاف) کہہ دو کہ میں نہیں جانتا کہ قریب ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے یا اس کے لئے مقرر فرما رکھی ہے میرے رب نے کوئی لمبی مدت

28 ۔ قیامت یا عذاب کا علم کسی کو نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یا میرے رب ن اس کے لئے کوئی لمبی مہلت ٹھہرا رکھی ہے۔ پس عذاب یا قیامت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ اس نے کب آنا ہے ؟ : کہ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص اور اسی کے پاس ہے، اس کے بارے میں بہت سی نشانیاں تو میں نے اپنے رب کے بتانے سے تم لوگوں کو بتادی ہیں۔ لیکن اس کے وقت کی تعیین، کہ اس کا وقوع کب اور کتنے عرصے کے بعد ہوگا، یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، جیسا کہ حدیث جبریل میں فرمایا گیا ما المسؤل عنھا باعلم من السائل اس لئے جمہورائمہ و محدثین کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ قیامت کے وقوع کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں، مثلاً ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی، ابن کثیر، ابن جریر، مدارک، معالم، بیضاوی، مراغی، ابولسعود اور جامع البیان وغیرہ وغیرہ پس اہل بدعت کا اس کے خلاف کہنا اور اس کے لئے نصوف کتاب و سنت میں طرح طرح سے تاویل و تحریف سے کام لینا، جمہور امت کے خلاف، نصوص صریحہ کے منافی اور باطل و مردود ہے، والعیاذ باللہ العظیم بہرکیف اس سے صاف کردیا گیا کہ قیامت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا وقت بالکل قریب آ لگا ہو اور ہوسکتا ہے کہ میرے رب نے اس کے لئے ایک لمبی مدت مقرر کر رکھی ہو اور جب پیغمبر کو اس کا علم نہیں تو اور کس کو ہوسکتا ہے ؟ سو قیامت کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔